سعودی عرب میں کیا تبدیلیاں دیکھنا چاہوں گی: سعودی شہزادی

منہج سلف نے 'اسلامی ذرائع ابلاغ' میں ‏اپریل 9, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,050
    سعودی عرب میں کیا تبدیلیاں دیکھنا چاہوں گی‘


    شہزادی بسمہ سعودی عرب کے دوسرے بادشاہ کی سب سے چوٹی بیٹی اور موجودہ شاہ کی بھتیجی ہیں۔
    سعودی شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی شہزادی بسمہ بنت سعود بن عبدالعزیز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک سعودی عرب میں بہت سی تبدیلیاں دیکھنا چاہتی ہیں مگر ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ خواتین کو گاڑیاں چلانے کی اجازت دی جائے۔
    میں سعودی عرب کے سابق بادشاہ شاہ سعود کی بیٹی کی حیثیت سے بات کر رہی ہوں۔ میرے والد نے خواتین کی پہلی یونیورسٹی قائم کی، غلامی کو ممنوع کیا اور ایک آئینی بادشاہت بنانے کی کوشش کی جس میں بادشاہ اور وزیرِ اعظم کے عہدوں میں فرق واضح ہو۔ لیکن مجھے افسوس ہے کہ میرے پیارے وطن میں ایسا ہو نہ سکا۔

    مجھے اپنی پُر وقار اور فراغ دلی سے بھرپور ثقافت پر فخر ہے لیکن ہمارے پاس معاشرے کے ضابطے کے لیے سول قوانین نہیں ہیں اور ہمیں ان کی اشد ضرورت ہے۔
    ایک بیٹی، بہن، سابقہ بیوی، ماں، کاروباری خاتون اور ایک صحافی کی حیثیت سے میں مندرجہ ذیل تبدیلیاں اپنے ملک میں دیکھنا چاہتی ہوں۔

    آئین

    میں ایک مکمل آئین دیکھنا پسند کروں گی جو کہ تمام مردوں اور عورتوں کے ساتھ قانونی طور پر برابری کا برتاؤ کرے اور ساتھ میں ہمارے سول قوانین اور سیاسی ثقافت کا بھی خیال رکھے۔
    مثال کے طور پر اس وقت سعودی عدالتوں میں تمام فیصلے ججوں کی قرآن کریم کی انفرادی تشریح پر کیے جاتے ہیں۔ یہ عالمی طور پر متفقہ اصولوں یا کسی تحریری آیئن کے بجائے ان کے ذاتی عقائد پر مبنی ہوتا ہے۔
    شہزادی بسمہ بنت سعود بن عبد العزیزبرطانیہ اور موئٹزرلینڈ میں تعلیم یافتہ لندن میں اپنے بچوں کے ساتھ رہائش پزیرشہزادی بسمہ طلاق کے مشکل مراحل سے گزر چکی ہیں-
    میں یہ نہیں کہ رہی کہ مغربی نظام کو اپنا لیا جائے مگر ہمیں اس نظام کا ایسا طرز ضرور لانا چاہیے جو ہماری ضروریات اور ثقافت کے مطابق ہو۔ چنانچہ ہمارا آئین قران کے فلسفے پر بننا چاہیے جس کے قوانین پتھر پر لکیر ہوں اور ججوں کے مزاج پر منحصر نہ ہو۔
    خصوصی طور پر آئین کو فرقے، جنس یا معاشری حیثیت سے قطع نظر ہو کر ہر شہری کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے۔ قانون کی نظر میں ہر کسی کو برابر ہونا چاہیے۔

    طلاق کے قوانین

    میرا ماننا ہے کہ طلاق کے قوانین شدید طور پر ظالمانہ ہیں۔
    اس وقت اگر سعودی عرب میں کسی عورت کو طلاق چاہیے تو وہ صرف ’خالی یا دھالی‘ کے تحت ہی لے سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یا تو اس کو ایک بڑی رقم ادا کرنی ہوگی یا پھر اسے طلاق مانگنے کی وجوہات پر کسی کو گواہ بنا کر پیش کرنا ہوگا۔ یہ دوسری شرط پوری کرنا تو تقریباً ناممکن ہے کیونکہ اکثر اوقات یہ وجوہات شادی کی چار دیواری کے پیچھے ہی پوشیدہ ہوتی ہیں۔
    خواتین کے لیے طلاق کو مشکل بنانے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ طلاق کے کسی بھی موقعے پر چھ سال سے زیادہ عمر کے کسی بھی بچے کو ازخود ہی باپ کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔
    قرآنِ کریم (جس پر یہ سارے قوانین مبنی ہونے چاہیے ہیں) اس سے بلکل منافی ہے۔ قرآن نے خواتین کو صرف شدید اختلافات کے باعث بھی طلاق لینے کا مکمل حق دیا ہے۔

    تعلیمی نظام کی ازسرِنو ترتیب

    سعودی عرب میں خواتین کے برتاؤ ہمارے بچوں کو سکولوں میں دی جانے والی تعلیم کا نتیجہ ہیں۔
    "بجائے اس کے کہ ہم اپنے نوجوانوں کی ذہانت ایسے جملے یاد کرنے پر لگائیں جن کی اصلیت پر بھی شک ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم انہیں آزادانہ اور جدت آمیز سوچ پر مجبور کریں اور ان کو اپنے معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کریں۔"

    ہمارے نصاب کا مواد انتہائی خطرناک ہے۔ سب سے پہلے تو ہمارے بچوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ خواتین کی معاشرے میں حیثیت کم تر ہے۔ اس کا کام صرف اپنے خاندان کی خدمت کرنا اور بچے پالنا ہے۔ انہیں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ اگر انہیں خدا کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرنی پڑے تو وہ ان کا شوہر ہونا چاہیے۔ انہیں پڑھایا جاتا ہے کہ ’اگر خواتین اپنے شوہروں کی فرمانبرداری نہیں کریں گی تو فرشتے ان پر لعنت بھیجیں گے۔‘ یہ سب قرآن کی غلط تشریحوں کا نتیجہ ہے۔ میں ان عقائد کو بنیادی طور پر ظالمنانہ سمجھتی ہوں۔

    اس کے علاوہ ہمارے تعلیمی نظام کی توجہ دینی مضامین جیسے کہ حدیث، فقہ، تفسیر اور قرآن پر مرکوز ہے۔ وہاں سوچ یہ ہے کہ دین کے علاوہ کچھ بھی پڑھنے سے آپ کو جنت میں جانے کے لیے مدد نہیں ملے گی تو اپنا وقت برباد نہ کیا جائے۔ میرے خیال میں دینی تعلیم صرف قرآن و سنت تک محدود ہونی چاہیے جہاں اسلام کی اصل اخلاقیات ہیں۔ باقی سب کچھ صرف بغیر سمجھے فقط حافظے پر مبنی علمیت ہے جو انتہائی خطرناک ہے۔ اس نے ہمارے نوجوانوں کو بنیاد پرستی اور دہشتگردی کی جانب دھکیل دیا ہے۔
    بجائے اس کے کہ ہم اپنے نوجوانوں کی ذہانت ایسے جملے یاد کرنے پر لگائیں جن کی اصلیت پر بھی شک ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم انہیں آزادانہ اور جدت آمیز سوچ پر مجبور کریں اور ان کو اپنے معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کریں۔ اسلام کے آغاز کے دن بڑے تخلیقی تھے۔ علماء سائنس اور ادب میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ ہمارا دین وہ ڈھال نہیں ہونا چاہیے جس کے پیچھے ہم دنیا سے چھپیں بلکہ یہ وہ طاقت ہونی چاہیے جو ہمیں اپنے اردگرد کے ماحول کو بہتر اور جدت پسند بنانے میں مدد کرے۔ یہی اسلام کی اصل روح ہے۔

    سماجی خدمات کی مکمل اصلاحات

    وزارتِ سماجی امور، خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے ان پر ہونے والے مظالم کو نظرانداز کر رہی ہے۔ مظلوم خواتین جن پناہ گاہوں میں جا سکتی ہیں وہاں ان کو بار بار کہا جاتا ہے کہ پناہ مانگنے سے انہوں نے اپنے خاندانوں کی بے عزتی کروائی ہے۔
    اگر وہ کسی بااثر خاندان سے تعلق رکھتی ہوں تو انہیں ایک طاقتور مرد کے خوف سے فوراً واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ نتیجاتاً ہمارے سامنے ایسی بہت سی مثالیں ہیں جہاں پڑھی لکھی خواتین کو ان پر ظلم کرنے والوں کے پاس واپس بھیجا گیا اور انہوں نے خود خوشی کر لی۔

    ہمیں آزادانہ خواتین کی پناہ گاہیں بنانا ہوں گی جہاں ان کے حقوق کو خاندانی روایات سے زیادہ طاقتور قوانین کا تحفظ حاصل ہو۔
    وزارتِ نہ صرف خواتین کے حقوق کو پامال کرتی ہے بلکہ ملک میں بڑھتی ہوئی غربت کی بھی ایک وجہ ہے۔ یہ ایک بے ایمان نظام ہے اور اس میں شفافیت کی کمی کی وجہ سے ہماری تقریباً آدھی آبادی غریب ہے حالانکہ ہم دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک ہیں۔

    محرم کا کردار

    سعودی عرب میں خواتین محرم کے بغیر پھر نہیں سکتیں۔
    نبی کے وقت پر خواتین کے ساتھ کسی مرد کو بھیجا جاتا تھا مگر اس وقت کا عرب ایک قزاقوں سے لدے ہوئے دشت سے کم نہیں تھا۔
    آج کی دنیا میں اس قانون کا مقصد صرف خواتین کی آمد و رفت کو محدود کرنا ہے۔ اس سے نہ صرف خواتین کی سوچ بچگانہ رہ جاتی ہے بلکہ وہ مردوں پر بھی بلا وجہ بوجھ بنتی ہیں۔

    اس وقت سعودی عرب میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت بھی نہیں ہے۔
    بظاہر مغربی مبصرین کے لیے یہ سب سے زیادہ تشویش کی بات ہے تاہم ابھی دوسرے اہم حقوق ہیں جن کی وصولی ضروری ہے۔
    میں یقینی طور پر خواتین کے گاڑی چلانے کے حق میں ہوں لیکن میرا خیال ہے کہ اس قانون کی تلفی کا یہ صحیح وقت نہیں۔ موجودہ حالات میں اگر کوئی خاتون گاڑی چلائے گی تو اس کو سبق سکھانے کے لیے بلا وجہ روکا یا مارا بھی جا سکتا ہے۔
    یہی وجہ ہے کہ میں تب تک خواتین کے گاڑی چلانے کے خلاف ہوں جب تک ہم اتنے پڑھے لکھے نہ ہوں اور جب تک ہمارے پاس اس طرح کے پاگلپنے سے تحفظ کے لیے ضروری قوانین نہ ہوں۔ ورنہ تو یہ بلکل اس کے مترادف ہے کہ شدت پسندوں کو اجازت دے دی جائے کہ وہ ہمیں مزید تنگ کریں۔ اگر خواتین کے گاڑی چلانے پر انہیں تنگ کیا گیا تو وہ اسلامی دنیا سے کہیں گے کہ دیکھا خواتین کے گاڑیاں چلانے سے کیا ہوتا ہے، انہیں چھیڑا اور تنگ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد خواتین کو قابو کرنے کے لیے سخت تر قوانین کا مطالبہ آجائے گا اور یہ وہ چیز ہے جس کو ہم فی الوقت برداشت نہیں کر سکتے۔ چنانچہ اس اقدام سے پہلے قانون اور قوانین کی نظر میں خواتین کے بارے میں بنیادی تبدیلی ضروری ہے۔
    بنیادی طور پر سعودی عرب میں تمام شہریوں کے حقوق اہم ہیں اور ان میں سے ہی خواتین کے حقوق رونما ہوں گے۔

    بی بی سی/اردو
     
  2. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,050
    السلام علیکم!
    پہلی بات تو شہزادی کی کچھ باتیں بالکل درست ہیں اور کچھ باتوں میں انہوں نے زیادتی کا اضافہ کیا ہے۔
    طلاق کے معاملے اور عورتوں کے ساتھ ظلم کے معاملے تو سعودی عرب میں ویسے بھی بہت حد تک آگے نکل چکے ہیں اور شریعت سے متضاد بھی ہوگئے ہیں اسی وجہ سے سعودی علماء بھی کچھ پریشان ہیں کہ سعودی مرد عورتوں کے ساتھ ظلم میں زیادتی کرجاتے ہیں۔
    اس وجہ سے سعودی علماء و حکمرانوں کو اس بات پر زور دینا پڑے گا کہ کس طرح سعودی مرد کو کنٹرول کیا جائے مگرنہ مغربی دنیا تو ویسے بھی سعودی عرب کے اسلامی سسٹم پر بری نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ (اللہ ان کی بری نگاھ کو ہمیشہ کے لیے ختم کردے)۔ آمین
    اور باقی باتوں میں اس شہزادی نے لندن میں رہتے ہوئے یہاں کی نمک حلالی کی ہے جوکہ کم از کم مجھے بالکل پسند نہیں ہے کہ ان کو خوش کرنے کے لیے بندہ اسلام کے احکامات پر تنقید کرنا شروع کردے۔ استغفراللہ
    انا للہ وانا الیہ راجعون
    والسلام علیکم
     
  3. ابوعمر

    ابوعمر محسن

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 23, 2007
    پیغامات:
    171
    بی بی سی اپنی اسلام دشمنی کے پروپیگنڈے میں معروف ہے اس لیے ان کی باتوں کو ہم سنجیدگی سے نہیں لیتے ۔
     
  4. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,855

    السلام علیکم

    شہزادی بسمہ کی سٹیٹمنٹس اور الطاف بھئی (ایم۔کیو۔ایم) لیڈر کی سٹیٹمنٹس میں کوئی فرق نہیں۔

    یقیناً شہزادی بسمہ کو اس کام کی بہت بھاری قیمت ادا کی گئی ہو گی اور ہو سکتا ھے وہ اب شائد اسطرح کے بیانات دیتی رہے گی۔

    والسلام
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,432
    انتہائی عجیب بات یہ ہے کہ سب کو ہجرت کے بعد تبدیلیاں یاد آ جاتی ہیں‌۔۔۔۔۔۔۔
     
  6. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    اسطرح کی باتیں تو احادیث میں ملتی ہیں ۔ سمجھ نہیں آرہی ہے کہ بی بی سی والوں نے گڑبڑ کیا ہے یا پھر شہزادی نے مغرب کا تاج پہنا ہے!!

    یہ بات بالکل غلط ہے لگتا ہے شہزادی نے سرے سے تعلیمی نصاب پر نظر ہی نہیں ڈالی ۔میں سمجھتا ہوں کہ سعودی عرب کا تعلیمی نصاب دنیا کا بہترین تعلیمی نصاب ہے۔ اگر دینی نصاب نکالا جائے تو پھر ان کو مدرسہ بھیجنا پڑے گا پھر بی بی سی والےچیخیں گے کہ مدارس میں دہشت گردی سکھائی جاتی ہے۔ اگر بچپن سے طالب علم دنیاوی علوم کے ساتھ دینی تعلیم بھی سیکھے تو یہ دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔
    میں افسوس کررہا ہوں کہ ابو نے مجھے سعودی اسکول میں داخل کیوں نہیں کرایا۔ قرآن، تفسیر، حدیث، سیرۃ، تجوید ،فقہ اور دیگر مضامین جن میں سائنسی بھی شامل ہیں یہ پڑھائی جاتی ہیں۔ فرقہ پرستی سے بچنے کا یہی حل ہے کہ شروع ہی سے قرآن و حدیث پڑھایا جائے۔
    بہرحال اگر بات اصلاحات کی ہے تو پھر اسطرح تو بہت برائیاں برطانیہ میں بھی پائی جاتی ہیں جن میں سرفہرست نسل پرستی ہے!
     
  7. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    اس نیوز کے حوالے سے تو مزید حقائق سامنے آنے چاہئے، لیکن مغرب نے اسلامک ورلڈ میں ، آزادی نسواں اور خواتیں‌پر تشدد انکے ساتھ زیادہ، انکی حقوق تلفی وغیرہ کا سلو پائیزن عرب میں‌بہت اچھی طرح سے انجکٹ کیا ہوا ہے، جسکی واضح شکل ہم آجل کا عرب کلچر دیکھتے ہیں، یہاں تک کہ سعودی عرب جہاں‌بہت سے اسلامی قوانین موجود ہیں، لیکن یہاں‌کی خواتیں‌کی اکثریت کا معاملہ، پیور اسلامک اسلامک باقی نہیں‌رہا، صرف خواتین کی ڈراونگ وغیرہ کی بات نہیں، بہت سے آرٹیکلز ایسے لکھے جارہے ہیں جہاں، سعودی میں‌، محرم نامحرم، حجاب وغیرہ کے حوالے سے سعودی خواتین، خواتین کے ساتھ آزادی وغیرہ پر کھل کر سامنے آرہی ہیں، کہ دوسرے معنوں‌میں‌اسلام نے انکی شخصی آزادیاں‌سلب کرلی ہوں، جبکہ اسلام ہی نے ساری دنیامیں ہر انسان کو اسکے متعین حقوق تفویض‌کیے، خاص طورپر جو تحفظ اسلام نے خواتین کو دیا وہ دوسرے مذاہب تصور نہیں‌کرسکتے، لیکن نیتوں‌کی خرابی کو لیکر خواتین کو انکے تفویض‌کردہ متحفظ مقام سے، بازار میں لاکر کھڑا کردینے کی سوچ نے ایسے بہت سے فتنوں‌کو جنم دیا ہے۔ ویسے بھی میرا اپنا یہ تجربہ ہے کہ، یوروپ اور انگلش کنٹریز میں جابسنے کے بعد، بہت سے برصغیر اور عرب کے لوگوں‌کے اسلام کی تعبیر کچھ اور ہی ہوجاتی ہے (کنڈیشنل) اور وہ مغربی تہذہب کی اچھائیوں‌کے دروس کے ساتھ وہاں‌کے عدل و انصاف کی باتیں‌کرتے نظر آتے ہیں، لیکن اصل اسلام اگر نافذ ہوجائے تب اسلامک ہسٹری پر ایک سرسری نظر سے تصویر واضح‌ہوسکتی ہے۔
     
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں