کیا معاویہؓ نے علیؓ پرسب و شتم کا حکم دیا تھا؟

ابوعکاشہ نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏اپریل 14, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,438
    کیا معاویہؓ نے علیؓ پرسب و شتم کا حکم دیا تھا؟
    تحریر: شیخ صلاح الدین یوسف حفظ اللہ
    (خلافت و ملوکیت کی شرعی حیثیت:صفحہ 497)

    مولانا مودودی نے اپنی مشہور زمانہ متنازعہ کتاب '' خلافت و ملوکیت '' میں کاتب وحی ، جلیل القدر صحابی ،ام المؤمنین حبیبہ بنت سفیان رضی اللہ عنہا کے بھائی معاویہ رضی اللہ عنہ پر یہ گھناؤنا الزام عائد کیا کہ ان کے دورِخلافت میں علی رضی اللہ عنہ اور آل بیت پر سب و شتم کی بدعت ایجاد ہوئیں ، معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے گورنروں کو حکم دیا تھا کہ وہ خطبے میں علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا کریں ـ شیخ صلاح الدین یوسف حفظ اللہ نے اپنی کتاب (خلافت و ملوکیت کی شرعی حیثیت)میں مسکت جواب دیا ہے ـ لکھتے ہیں :
    تیسری مثال مولانا نے جو دی وہ یہ ہے کہ :
    ''ایک اور نہایت مکروہ بدعت معاویہؓ کے عہد میں شروع ہوئی کہ وہ خود اور ان کے حکم سے ان کے تمام گورنر خطبوں میں برسرِ منبرعلیؓ پر سب و شتم کی بوچھاڑ کرتے تھے ـ حتٰی کے مسجد نبوی میں منبر رسول پر عین روضہ نبوی کے سامنے اللہ کے نبی کے محبوب ترین عزیز کو گالیاں دی جاتی تھیں ـ اور علیؓ کی اولاد اور ان کے قریب ترین رشتہ دار اپنے کانوں سے سنتے تھے ـ کسی کے مرنے کے بعد اس کو گالیاں دینا شریعت تو درکنار انسانی اخلاق کے بھی خلاف تھا ـ اور خاص طور پر جمعہ کے خطبے کو اس گندگی سے آلودہ کرنا تو دین واخلاق کے لحاظ سخت گھناؤنا فعل تھا ـ عمربن عبدالعزیز نے آکر اس روایت کو بدلا''(خلافت و ملوکیت ص: 147)
    گویا معاویہؓ اور دوسرے ان کے کئی صحابی گورنر ، دین واخلاق اور شریعت تو درکرنا ، انسانی اخلاق سے بھی عاری تھے ـ انا للہ وانا الیہ راجعون ـ افسوس اتنا سنگین اور گھناؤنا الزام عائد کرنے سے پہلے جن مضبوط دلائل کی ضرورت تھے ـ اس کا اہتمام نہیں کیا گیا اور انتہائی مبالغہ آمیزی کے ساتھ رائی کا پہاڑ بنا دیا گیا ہے ـ
    مولانا مودوی نے اس کتاب پر جن کتابوں کے حوالے دئیے ہیں ان میں کسی میں ادنیٰ اشارہ بھی اس امر کے ثبوت میں نہیں ملتا بلکہ معاویہؓ بھی برسرِ منبر علیؓ پر سب و شتم کی بوچھاڑ کرتے تھے
    دوسرا الزام کہ انھوں نے اپنے تمام گورنروں کو بھی ایسا کرنے کا حکم دیا ـ یہ بھی افترا کے ضمن میں آتا ہے ، اس کا کوئی ثبوت بھی محولہ صفحات میں نہیں ـ مولانا کے دئیے ہوئے حوالوں میں تین افراد کا نام ملتا ہے جو ایسا کرتے تھے ـ ان میں سے ایک گورنر ولید بن عبدالملک کے زمانے کے ہیں ، جو یمن کے گورنر تھے ـ یہ واقعہ 90ھـــ کے ہیں جو یمن کے گورنر تھے ـ یہ واقعہ 90ھــ یعنی معاویہؓ کی وفات سے تیس سال بعد کا ہے ، انہیں بھی معاویہؓ کے گورنروں میں شمار کرنا تعجب خیز امر ہے ، نیز ان صاحب کے متعلق وہیں یہ صراحت بھی ہے کہ انہوں نے اپنے ماتحت صوبے کے ایک حاکم کوبھی ایسا کرنے کا حکم دیا لیکن اس نے ایسا کرنے سے نہ صرف انکار کردیا بلکہ بَرملاکہا '' جو علیؓ پر طعن کرتا ہے وہ ملعون ہے "(البداية والنهاية ج 8،ص 80)
    دوسرے صاحب جو ایسا کرتے تھے وہ مروان ہیں ، جو واقعی معاویہؓ کے مقرر کردہ گورنر تھے لیکن محولہ صفحات میں کہیں بھی یہ نہیں کہ معاویہؓ نے انہیں علیؓ پر سب و شتم کا حکم دیا تھا ، ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ اپنے زمانہ گورنری میں علیؓ پر سب و شتم کرتے تھے ـ ظاہر ہے ، اگریہ صحیح ہے تو معاویہؓ کے حکم سے نہیں بلکہ از خود ایسا کرتے تھے ـ جس پر واضح قرینہ یہ ہے کہ معاویہؓ نے انہیں معزول کر کے ان کی جگہ سعید بن العاص کو مقرر کیا ـ انہوں نے کبھی علیؓ پر سب و شتم نہیں کیا(البداية والنهاية ج 8،ص 84) اگر معاویہؓ کی طرف سے گورنروں کویہ حکم ہوتا تو یہ بھی ایسا کرنے پر مجبور ہوتے ـ
    ثانیا: بعض علمائے اہل سنت نے صراحت کی ہے کہ مروان کے متعلق جو اس قسم کی روایات آتی ہیں کہ وہ علیؓ پر یا اہل بیت پر سب و شتم کرتے تھے ـ ان میں سے کوئی بھی صحیح نہیں ـ لم یصح شی من ذلک (تطهير الجنان .ص 54)ـ
    ثالثا : اس کی صحت اگر کسی درجے تسلیم کرلی جائے ، تب یہ چیز وضاحت طلب ہے کہ سب و شتم کی نوعیت کیا ہے ـ سب و شتم ایک عام لفظ ہے جو کئی موقعوں پر استعمال ہوتا ہے اس کی حقیقی معنی گالی دینے کے ہیں ـ اس میں بھی یہ استعمال ہوتا ہے ـ کسی کو گالی نہ دی جائے ـ لیکن اس پر نارواء تنقید کی جائے یا اپنے مخالفین کی پالیسیوں کو مضوع بحث بنایا جائے اس پر بھی سب و شتم کا اطلاق کردیا جاتا ہے ـ خود مولانا مودودی نے صحابہ کرامؓ کے اقدامات کو جو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ، اہل سنت کے حلقوں میں تو اس کو صحابہ پرسب و شتم قراردیا ہی گیا ہے ـ خود شیعوں نے بھی اسے صحابہؓ پر سب و شتم قرار دیا ہے (هفت روزه : رضاكار لاهور ، 16 جولائى 1965)
    ظاہر ہے مولانا نے صحابہؓ کو گالیاں نہیں دی ہیں ، ان کے بہت سے اقدامات کو غلط کہا ہے ، بلکل یہی کیفیت مروان کے متعلق سمجھی جانی چاہے ، کتب تاریخ میں اس کی صراحت ہوتی تب تو اس کی نوعیت بلکل واضح ہوتی ، کتب تاریخ اس بارے میں خاموش ہیں تو یہی سمجھنا چاہے کہ وہ علیؓ پر اس انداز کی تنقید ان کے بعض اقدامات کی وجہ سے کرتے ہونگے ـ جیسے خود مولانا نے عثمانؓ ،عمروبن العاصؓ ،عائشہؓ اور معاویہؓ کے اقدامات پر تنقید کی ہے ، یا وہ ان کا نام اس عزت و احترام کے ساتھ نہ لیتے ہونگے جن کے فی الواقع وہ مستحق تھے ـ جیسے خود مولانا نے ان صحابہؓ کو کہیں بھی عزت و احترام کے لفظ سے یاد نہیں کیا جنہیں عثمانؓ نے گورنر بنایا تھا ـ ظاہر ہے یہ بھی ان کی ایک گونہ اہانت ہے ، جس کو سب و شتم سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ـ صحیح بخاری کی ذیل کی روایت سے مروانؓ کے '' سب و شتم '' کی یہی نوعیت معلوم ہوتی ہے ـ
    '' ایک آدمی سہیل بن سعدؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ، فلاں امیرِ مدینہ برسرِ منبر علیؓ کا ذکر غیر مناسب الفاظ میں کرتا ہے ـسہیل نے اس سے پوچھا کہ اس نے کیا کہا ـ اس نے کہاکہ '' وہ انہیں '' ابوتراب'' کہتا ہے '' سہیلؓ یہ سب کرہنس پڑے اور فرمایا : بخدا یہ نام تو ان کا خود نبیؓ نے رکھا ہے اور آپ کو ان کے اس نام سے زیادہ اور کوئی نام پیارا نہ تھا "(صحيح بخاري ، باب : مناقب علي)
    اس روایت سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت مسلمانوں ضمیر بیدار تھا اور صحابہ کرامؓ کی عزت و ناموس کا انہیں بخوبی احساس تھا ـ کھلم کھلا سب و شتم تو درکرنا ، ان کا نام بھی اگر کوئی اس عزت و احترام کے ساتھ نہ لیتا تو جس کے وہ مستحق تھے ، تو یہ چیز بھی ان پر گراں گزرتی تھی ـ جس پر وہ نکیر ضروری سمجھتے تھے ـ
    تیسرے صاحب جن پر علیؓ پر سب و شتم کا الزام منسوب ہے ، مولانا کے دیے ہوئے حوالوں کی رو سے مغیرہ بن شعبہؓ ہیں ـ یہ وہ واحد گورنر ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ معاویہؓ نے ان کو ایسا کرنے کا حکم دیا تھا ـ روایت کے اہم حصے ملاحظہ فرمائیں ،معاویہؓ نے مغیرہؓ کو تاکید کی کہ :
    "علیؓ پر سب و شتم اور ان کی مذمت میں اور عثمانؓ کے لیے دعائے رحمت و مغفرت کرتے رہنا ـ علیؓ کے طرفداروں کے عیوب کی نشاندہی اور ان کو اپنے سے دور رکھنا ـ اصحاب عثمانؓ کی تعریف اور ان کو اپنے قریب رکھنا ـ ابومخنف کہتا ہے کہ مغیرہؓ کوفے میں سات سال اور کچھ مہینے گورنر رہے ـ سیرت و کردار میں سب سے بہتر اور سب زیادہ عافیت پسند تھے البتہ وہ علیؓ کی مذمت اور ان پر تنقید اور قاتلینِ عثمان کی عیب گری نیز عثمانؓ کے لیے دعائے رحمت و مغفرت اور ان کے اصحاب کی پاکیزگی بیان کرنا نہیں چھوڑتے تھے ـ ہمیشہ ان کا یہی طرزِ رہا ، اپنے آخری دورِ امارت میں ایک مرتبہ وہ کھڑے ہوئے اور علیؓ و عثمانؓ کے متعلق وہی کچھ کہا جو پہلے کہا کرتے تھے ـ انہوں نے کہا کہ '' ائے اللہ ! عثمانؓ پر رحم فرما اور ان سے درگزر فرما اور ان کو ان کے بہتر عمل کی جزا دے ـ انہوں نے تیری کتاب پر عمل کیا ، تیرے نبی کی سنت کی پیروی کی ـ ہمارے کلمہ کو جمع کیا اور ہمارے خونوں کی حفاظت کی اور خود مظلومانہ قتل ہو گئے ـ یا اللہ ! ان کے مددگاروں ، دوستوں ، ان سے محبت کرنے والوں اور ان کے خون کا مطالبہ کرنے والوں پر رحم فرما ـ اس کے بعد قاتلینِ عثمان کے لیے بددعا کی "(الطبري : ج ، 5- ص 253 -254)
    اس روایت میں ضرور یہ صراحت ہے کہ معاویہؓ نے مغیرہؓ کو علیؓ پر سب و شتم کرنے کی تاکید کی ـ اور مغیرہؓ نے ایسا کرتےتھے ، لیکن ہمیں سوچنا چاہے کہ یہ دونوں حضرات ممتاز صحابی ہیں ـ دونوں سے یہ مستبعد ہے کہ وہ اپنے ہی ایک جلیل القدر ساتھی کے ساتھ اور وہ بھی اس کے مرنے کے بعد ایسا سلوک کرتے ـ اگر معاویہؓ سیاسی کش مکش کی بناء پر مغیرہؓ کو ایسا کرنے کا حکم دیتے تو مغیرہؓ یقننا ایسا کرنے سے انکار کردیتے ـ وہ فطرتا صلح جو اور عافیت پسند تھے ـ ان کے اس مزاج کی وضاحت اس روایت میں موجود ہے اور اس سے قبل بھی ان کی زندگی سے ثبوت ملتا ہے ـ جنگ جمل اور صفین کے معرکہ آرائیوں میں یہ مجتنب رہے ـ دونوں فریقوں میں سے کسی فریق کا انہوں نے ساتھ نہیں دیا ـ ایسے شخص کے متعلق یہ باور کرنا کہ ایک دم ان کے مزاج میں اتنی تبدیلی آگئی وہ برسرِ منبر علیؓ پر سب و شتم کی بوچھاڑ کرتے رہے نا ممکن ہے ـ
    دوسرے خود اس روایت میں علیؓ کی مذمت اور ان پر سب و شتم کی حقیقت موجود ہے ـ روایت کے آخری کشیدہ فقرے راوی نے اسی طرزِ عمل کی وضاحت میں ذکر کیے ہیں ـ جو انہوں نے علیؓ و عثمان کے متعلق اختیار کئے رکھا ـ اس میں کہیں علیؓ پر سب و شتم نہیں ،صرف عثمانؓ اور ان کے طرفداروں کا ذکر ہے اور آخر میں قاتلینِ عثمان کے لیے بددعا ہے ـ
    تیسرے قاتلینِ عثمان کے سلسلے میں علیؓ نے جوغیر واضح طرزِ عمل اختیار کیا تھا ـ اکابرصحابہؓ کی ایک معقول تعداد اسے پسند نہیں کرتی تھی ، جن میں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ مطہرہؓ ،طلحہؓ ، زبیرؓ اور معاویہؓ نمایاں تھے ـ معاویہؓ نے فی الواقع یہ حکم دیا تھا تو اس مطلب یہی تھا کہ علیؓ کی اس پالیسی کی وضاحت کرتے رہنا ـ اس لیے ساتھ انہوں نے علیؓ کے طرفداروں کے عیوب کی نشاندہی کرنے کے بھی تاکید کی کیونکہ ایک شرپسند گروہ علیؓ کا نام لے کر انتشار و تخریب کی روش اختیار کئے ہوئے تھا ـ خود علیؓ کی حیات میں ان کی خلافت پر جو لوگ چھائے ہوئے تھے ، وہ وہی باغی تھے ، جنہوں نے عثمانؓ کو شہید کیا تھا ـ یہ لوگ چونکہ علیؓ کی زندگی میں بھی ان سے متعلق رہے اور ان کی شہادت کے بعد بھی بظاہر ان کی عقیدت و محبت کا دم بھرتے رہتے تھے ـ اس بناء پر ان کی مذمت کو راویوں نے علیؓ کی مذمت کو مستلزم سمجھ لیا ـ
    مزید براں اس الزام کی تغلیط خود علیؓ کے قریب ترین اعزاز و اقارب کے طرزِ عمل سے ہو جاتی ہے ـ تاریخ میں نمایاں طور پر موجود ہے کہ حسنؓ ، حسینؓ ، علیؓ کے بیٹے ، عبد اللہ بن جعفرؓ ، عبداللہ بن عباسؓ وغیرہ معاویہؓ و یزید سے ہزارواں بلکہ لاکھوں روپے کے باقاعدہ سالانہ وظائف اور ہر آمدو رفت کے موقع پر الگ عطیات و تحائف وصول کرتے تھے ـ علیؓ کے ایک اور صاحبزادے '' محمد بن حنفیہ '' یزید کے پاس جا کر قیام کرتے ـ عبدالمطلب بن ربیعہ دمشق میں ہی جا کر اقامت پذیر ہوگئے تھے ـ ان کے اور یزید کے مابین خوشگوار تعلقات کا اندازا اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ مرتے وقت انہوں نے یزید کو اپنا وصی بنایا ـ حسینؓ کے صاحبزادے زین العابدین کا یزید کے ساتھ تعلق کا یہ حال تھا کہ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا تناول فرماتے ،اسی طرح ان کا تعلق یزید رحمہ اللہ کے بعد بننے والےخلفاء مروان اور عبدالملک بن مروان کے ساتھ رہا۔((البداية والنهاية ج 8،ص 37،41،137,138,150،151،213،214،230،233،258،ج9، ص104،106))
    یہ سمجھنا بہت ہی مشکل ہے کہ یہ تمام حضرات ایمانی غیرت اور خاندانی حمیت سے عاری تھے ـ ان کے خاندان کے سربراہ اور معزز ترین فرد علیؓ پر پوری مملکت میں '' سب و شتم کی بوچھاڑ '' ہوتی رہی ـ لیکن ان میں سے کسی نے معاویہؓ سے جا کر یہ نہیں کہا کہ آپ کے حکم سے یہ کیا بیہودگی ہو رہی ہے یا کم ازکم بطور احتجاج ان سے اپنے تعلقات منقطع اور وظائف لینے سے انکار کر دیا ہوتا ـ کچھ اور نہیں تو یہ تو وہ کر ہی سکتے تھے ،اور ایسی صورت میں ان کے ایمان ، کردار اور خاندانی غیرت کی طرف سے ایسا کرنا ضروری تھا ـ لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا تو اب دو ہی صورتیں ہیں یا تو وہ لوگ ہی اتنی اخلاقی جرات ، ایمانی غیرت اور خاندانی عصبیت و حمیت سے نعوذ باللہ عاری تھے ، یا یہ تمام افسانہ ہی طبع زاد ہے جس میں کوئی حقیقت نہیں ، پہلی صورت میں جس کوقبول ہو ـ وہ سب و شتم کا افسانہ صحیح سمجھتا ہے ، ہمارے نزدیک دوسری صورت ہی قابل قبول اور قرین صحت ہے ـ
    ان تمام حقائق کے باوجود الزام کی صحت پر ہی اگر کسی کو اصرار ہو ، تو اس کو یاد رکھنا چاہے کہ اس کا آغاز دورِ ملوکیت سے نہیں ، خلافتِ راشدہ سے ہوا ہے ، معاویہؓ کے طرزِ عمل سے نہیں خود علیؓ نے سب سے پہلے اس '' مکروہ بدعت '' کا آغاز کیا ہے ـ کتبِ تاریخ میں موجود ہے کہ تحکیم کے بعد علیؓ نے معاویہؓ ،عمروبن العاصؓ وغیرہ پر لعنت کی بوچھاڑ کردی ـ صبح کی نماز میں علیؓ بایں طور پر دعائے قنوت پڑھتے :''ائے اللہ ! معاویہ، عمروبن العاص ، ابوالاعور السلمی ، حبیب ، عبدالرحمن بن خالد ،ضحاک بن قیس اور ولید ان سب پر لعنت فرما"معاویہؓ کو جب یہ اطلاع پہنچی تو اسکے جواب میں انہوں نے قنوت میں علیؓ ، ابن عباسؓ ، حسنؓ ، حسین ؓ پر لعنت کہنی شروع کردیـ(الطبري : ج5،ص 71-الكامل ،ج3، 333-ابن خلدون ج2، ص-1117)
    ظاہر ہے یہ روایت مولانا کے نزدیک صحیح ہونی چاہے ، اس کے بعد یہ مکروہ بدعت ملوکیت کا نتیجہ قراردی جا سکتی ہے ـ اس کانمایاں ثبوت خود خلافت راشدہ میں ہی پایا جاتا ہے یا مولانا کے الفاظ میں یوں کہ لیجئے سیاسی اغراض کی خاطر علیؓ نے شریعت کی عائد کردہ پابندی کو توڑ ڈالنے اور اس کی باندھی ہوئی حد کوپھاند جانے میں کوئی تامل نہ کیا اور حرام و حلال کی کوئی تمیز انہوں نے روا نہ رکھی '' اگر مولانا مودوی تاریخ کی بعض ضعیف روایات کو بنیار بنا کر معاویہؓ کے لیے اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرتے تو دوسرے حضرات یہی الفاظ خود خلفائے راشدینؓ کے حق میں بھی استعمال کر سکتے ہیں ان کو اس سے روکنے کی کوئی معقول دلیل نہیں دی جا سکتی ـ


    انتخاب و طباعت/ابوعُكاشة
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
  2. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    حدثنا عبد الله بن مسلمة حدثنا عبد العزيز بن أبي حازم عن أبيه أن رجلا جائ إلی سهل بن سعد فقال هذا فلان لأمير المدينة يدعو عليا عند المنبر قال فيقول ماذا قال يقول له أبو تراب فضحک قال والله ما سماه إلا النبي صلی الله عليه وسلم وما کان له اسم أحب إليه منه
    جزاکم اللہ خیرا
     
  3. الطائر

    الطائر رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2012
    پیغامات:
    273
    مودودی صاحب کی تصنیفات، ان کی تعلیم کے بارے، میرے والد نے مجھے ہوشیار کیا تھا کہ ایک وقت، میں جماعتِ اسلامی کو ''معتبر'' سمجھتا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ، اگر غور کیا جائے، تو مودودی صاحب، اور ان کی جماعت، کا جھکاؤ، ایران کی جانب زیادہ ہے۔ اور ان کے عقائد اور وفاداریاں مشکوک ہیں۔ سرِ دست اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ مزید، میری استعاطت علمی سے باہر ہے۔ مزید کہ، موضوع پیچیدہ ہے لیکن، مودودی صاحب کے الزامات کچھ اور ہی طرف داریاں بیان کرتے ہیں۔

    اگر میری فہم میں غلطی ہے، تو براہ کرم اصلاح و رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ
     
  4. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    جزاکم اللہ خیرا
     
  5. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    جزاک اللہ خیرا
     
  6. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,614
    جزاک اللہ خیرا
     
  7. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    زبردست پوائنٹ ہے جزاک اللہ خیرا۔ رافضہ کے جھوٹے ذاکروں پر اللہ کی لعنت ۔
     
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جزاک اللہ خیرا۔ سید مودودی کی تصنیفات سے مستفید ہونے والوں کو بہرحال یاد رکھنا چاہیے کہ وہ باقاعدہ عالم تھے نہ ہی علوم اسلامیہ کے ماہر، اس لیے ان کے یہاں ایسے علمی مغالطے ہونا لازمی بات ہے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں