تعلیم قرآن یا تفسیرقرآن؟

محمد آصف مغل نے 'قرآن - شریعت کا ستونِ اوّل' میں ‏جون 1, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,848
    تعلیم کتاب کیوں اور تفسیر قرآن کیوں نہیں؟ کیاعام فرد کے لئے تفسیر کی ضرورت ہے یا تعلیم کی؟ نیز تفسیر قرآن تو ہوگئی مگر کیا اس سے تعلیم قرآن ہورہی ہے؟ کیاتفسیر کے بعد طالب علم کے لئے قرآن پڑھنا ، اس کے الفاظ کے معنی ومفہوم کو سمجھنا ممکن ہوگیا؟ کیا الفاظ کی معنوی وضاحت کے بعد اسے شرعی مسائل اور اسلامی عقائد سمجھ آگئے؟ تعلیم قرآن کے مقاصد یہی تھے مگر تفسیر میں یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا۔کیونکہ تفسیرعموماً لوگ دروس میںسنتے ہیں جس میں لفظ کی پہچان یاقراءت کی صحیح ادائیگی کی مشق نہیں کرائی جاتی۔محض ترجمہ اور اس کی وضاحت پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔مگر قرآن کریم کی تعلیم یہ ہے کہ الفاظ قرآن اور مطالب قرآن طالب علم پر اس طرح واضح ہوں کہ وہ نص کو بخوبی سمجھ جائے۔اور اسے کوئی مشکل یا ابہام نہ رہے۔یہ سادہ ودل نشین اندازتعلیم، قرآن کریم کو طالب علم کی روح میں اتار دے گا جس سے وہ عمر بھر مستفید ہوتا رہے گا۔نیز غلط رجحانات اورمن مانے مفاہیم سے اس کا ذوق سلیم بھی مجروح نہ ہوسکے گا۔ معلم قرآن ربانی ہو تو لوگ بھی اللہ کی مرضی والے بنیں گے ۔ روح صرف اسی منہج سے جاگے گی اور نور ہدایت بھی اسی سے ہی نصیب ہوگا۔
    ٭…یہ سعادت قرآن سے محبت، اسے سیکھنے اور قبول کرنے کی سچی لگن سے ہی نصیب ہوتی ہے۔ تلاوت ، ترجمہ اور مفہوم سب جانا جاسکتا ہے مگرہمارے اندر کیا تبدیلی آئی؟ ہم کتنا بدلے؟ عقیدہ وعمل درست ہوا؟ ان کا جواب اسی مقصدمیں مضمر ہے۔ اسی لئے تو اسلام نے اس کا سیکھنا ہر مسلمان مرد وعورت کے لئے واجب قرار دیا ہے۔ یہ منہج بہت آسان ہے بس معلم پر منحصر ہے کہ وہ تعلیم قرآن کس طرح دینا چاہتا ہے۔اس سلسلہ میں اس کے لئے اصل راہنما رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات ومنہج ہی ہیں جن سے فیض یاب ہو کر وہ قرآن کی تعلیم دے سکتا ہے۔ آپ ﷺ نے اسی منہج کی تعلیم پر زور دیتے ہوئے فرمایا:

    {تَکَفَّلَ اللہُ لِمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَعَمِلَ بِمَا فِیْہِ، أَنْ لَّا یَضِلَّ فِی الدُّنْیَا، وَلَا یَشْقٰی فِی الْآخِرَۃِ ثُمَّ قَرَأَ ہَذِہِ الْآیاتِ ۔۔۔ فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّيْ ہُدًى۝۰ۥۙ فَمَنِ اتَّبَعَ ہُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقٰي۝۱۲۳ وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِيْشَۃً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُہٗ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ اَعْمٰى۝۱۲۴ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِيْٓ اَعْمٰي وَقَدْ كُنْتُ بَصِيْرًا۝۱۲۵ قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَہَا۝۰ۚ وَكَذٰلِكَ الْيَوْمَ تُنْسٰى۝۱۲۶}۔طہ: ۱۲۳۔۱۲۶) اللہ تعالیٰ نے کا یہ ذمہ ہے کہ جو بھی قرآن پڑھے اور جوکچھ اس میں ہے اس پر عمل کرتا رہے ، دنیا میں اللہ اسے گمراہ نہ کرے اور آخرت میں وہ رسوا نہ ہو۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیات تلاوت فرمائیںپھراگر تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آجائے تو جس نے اس کی پیروی کی وہ گمراہ ہوگا اور نہ بدبختی اس کے قریب پھٹکے گی۔ اور جو میرے اس ذکر سے اعراض کرے گا تو یقیناً ہم اس کی معیشت تنگ کردیں گے اور روز قیامت ہم اسے اندھا اٹھائیں گے۔وہ کہے گا: مولی! مجھے تو نے اندھا کیوں اٹھایا جب کہ میں تو دنیا میں بینا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اسی طرح ہماری آیات تمہارے پاس آئی تھیں تو تو انہیں بھلا بیٹھا اور اسی طرح آج تو بھلایا جائے گا۔
    یہ بھولنا محض سننے سے ہوتا ہے مگر بار بار پڑھنے اور سیکھنے سے بھولا سبق یاد آجاتا ہے۔سنن ترمذی میں سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے ۔ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا:

    اِنَّہَا سَتَکُوْنُ فِتَنٌ، قُلْتُ: فَمَا الْمَخْرَجُ مِنْہَا یَارَسُوْلَ اللہِ؟ قَالَ: کِتَابُ اللہِ، فِیْہِ نَبَأُ ما قَبْلَکُم، وَخَبَرُ مَا بَعْدَکُمْ، وَحُکْمُ مَا بَیْنَکُمْ، ہُوَ الْفَصْلُ، لَیْسَ بِالْہَزْلِ، مَنْ تَرَکَہٗ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَہُ اللہُ، وَمَنِ ابْتَغَی الْہُدٰی فِی غَیْرِہٖ أَضَلَّہُ اللہُ، وَہُوَ حَبْلُ اللہِ الْمَتِیْنُ، وَہُوَ الذِّکْرُ الْحَکِیْمُ، وَہُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِیْمُ، وَہُوَ الَّذِیْ لَا تَزِیْغُ بِہِ اْلأَہْوَائُ، وَلَا تَلْتَبِسُ بِہِ اْلأَلْسُنُ، وَلا َتَنْقَضِیْ عَجَائِبُہٗ، وَلَا تَشْبَعُ مِنْہُ الْعُلَمَائُ، مَنْ قَالَ بِہٖ صَدَقَ، وَمَن عَمِلَ بِہِ أُجِرَ، وَمَنْ حَکَمَ بِہٖ عَدَلَ، وَمَنُ دَعَا إِلَیْہِ ہُدِیَ إِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔ عنقریب بہت فتنے ہوں گے۔
    میں نے عرض کی: ان سے کیسے بچا جاسکتا ہے، اللہ کے رسول؟ فرمایا: کتاب اللہ کو پیش نظر رکھو۔ اس میں تم سے پہلوں کی اہم خبریں ہیں اور جو بعد میں بیش آنے والا ہے اس کی اطلاعات ہیں۔جو تمہارے درمیان مسائل ہیں ان کے بارے میں بھی اس میں فیصلے ہیں۔ یہ قول فیصل ہے کوئی کھیل مذاق نہیں۔۔۔۔جو اس کے مطابق عمل کرے گا اسے انعام دیا جائے گا اور جو اس کے مطابق فیصلے کرے گا وہ منصف ہوگا اور جو اس کی طرف بلائے گا وہ سیدھی راہ دکھا دیا جائے گا۔
    ٭… یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ تمام انسان یکساں قابلیت کے حامل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بات یا کلام کو سمجھنا چند لوگوں کے لئے تو آسان ہوتاہے مگر بہتوں کے لئے مشکل۔ اس لئے دانا وعقل مند نیز اچھی شخصیت والے لوگ اسے سیکھ کر عام انسانوں کو اس کی تعلیم دیں۔آپ ﷺ نے فرمایا:

    خَیْرُکُمْ مَّنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہٗ۔ تم میں بہترین آدمی وہ ہے جو قرآن سیکھتا اور سکھاتا ہے۔
    سیکھنے والے یعنی طالبعلم کو آپﷺ نے اپنے بیان میں پہلے رکھا۔ اس لئے کہ وہ اسے سیکھنے کی بہت سی کوششیں کررہا ہوتا ہے۔استاذ کے پاس اپنا شوق لئے آتا ہے، نیز اسے سمجھنے اور پڑھنے میں اس کی محنت وغیرہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قدر شے ہے ۔معلم کو آپ ﷺ نے بعد میں رکھا۔ کیوں؟اس لئے کہ وہ سیکھ کر خیر پاچکا اب وہ اپنے مقام پر دوسروں کو لانے کا ذریعہ بننا چاہتا ہے۔ نیزطالب علم کی فضیلت پر احادیث زیادہ تر ہیں بہ نسبت معلم کے۔ وجہ یہی ہے کہ سیکھنے والے بھی کم ملتے ہیں۔ انہیں بھی وقت اور کام کی قربانی دینا پڑتی ہے۔تعلیم بعض اوقات بہت مشکل بھی لگتی ہے دل نہیں مانتا۔ نیز قرآنی تعلیم میں دنیاوی فائدہ تو ہے ہی نہیں تو کون اس کے لئے اپنا وقت اور صلاحیت لگائے۔ان حالات میں جوبھیڑ چال سے اجتناب کرکے اور وقتی لہروں سے متأثر ہوئے بغیر اپنا شوق وجذبہ کو تسلسل دے دے کہ میں نے قرآن کریم سیکھنا ہے اور اس کے لئے جو ہوسکا میں کرنے کو تیار ہوں تو وہ معلم کے پاس پڑھنے کے لئے آجائے تو اللہ کی نظر میں بہترین انسان ہے ۔علماء کا یہ فرض بھی بنتا ہے کہ وہ عام لوگوں کو قرآن مجیدکی تعلیم کتابت ،حفظ اورمفہوم کی وضاحت کے ذریعے سے دیں ،یہی تبیین ہے جو اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد ہے :

    {وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِيْثَاقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُوْنَہٗ ۔۔۔} (آل عمران: ۱۸۷)ور جب اللہ تعالیٰ نے ان سے پختہ عہد لیا جو کتاب دئے گئے تھے کہ تم ضرور اسے کھول کھول کر بیان کرو گے اور اسے نہیں چھپاؤگے۔
    سبھی تدبر کریں۔ اس کی آیات میں غور وفکر کریں اور جو کچھ اس میں کہا گیا ہے اس سے نصیحت پکڑیں۔یہی غور کرنا ہی اس کا سیکھنا ہے۔ورنہ وہ الفاظ کا مجموعہ ہے اور بے اثر بھی۔ا سی طرح یہ ارشاد بھی:

    {اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا۝۲۴} (محمد:۲۴) کیا یہ قرآن پر غور نہیں کرتے یا دلوں پر تالے پڑگئے ہیں۔
    {كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْٓا اٰيٰتِہٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۝۲۹ }( ص:۲۹)یہ ایسی عظیم کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف اتاری ہے بڑی بابرکت، تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور وفکر کریں اور تاکہ صاحب عقل اس سے نصیحت حاصل کریں۔
    عمل سے خالی غور وفکربھی کام کا نہیں۔ یہی دلوں پر تالے پڑنا ہے۔ اسے سمجھ کرہی بھلائی مل سکتی ہے ورنہ محرومی ہے۔نیز انجانی شے سے محبت گہری نہیں ہوتی۔اور بغیر شعور کے اندھی عقیدت بھی مضر ہے۔ سیاسی یا مذہبی کتابیں وقتی جوش توپیدا کردیتی ہیں مگر روح وبدن کا حصہ نہیں بنتیں۔ اس لئے قرآن پاک کو اپنی جز وقتی سیاست یا مخصوص رجحانات کاہدف نہیں بنانا چاہئے بلکہ اسے ہر شخص کی ضرورت سمجھ کر عام کرنا چاہئے۔کیونکہ اس میں اصلاحی پیغام ہے۔بگاڑ ، تفریق اور کھینچاتانی کا نہیں۔
    ٭…رہی تفسیر تویہ قرآن فہمی کا ایک ذریعہ ہے اور جس میں مفسر عموماً اس مقام پر حاشیہ آرائی کرتا ہے جہاں اسے دلچسپی ہوتی ہے مگر جہاں اس کا دل نہیں چاہتا یا سمجھانے سے وہ قاصر رہتا ہے وہاں بیشتر آیات کی تفسیروہ سابقہ حاشیے کی طرف اشارہ کرکے اس لئے ترک کردیتا ہے کہ یہ تکرار ہے جبکہ قرآن کریم میںجہاں ہر لفظ و آیت تعلیم کی متقاضی ہے وہاں اس کا تکرار اپنا فائدہ و حکمت بھی رکھتاہے۔اس لئے ہم تفسیری طوالت کی بجائے متن فہمی پر اگر توجہ دیں تو قلیل وقت میں یہ تعلیم سینے میں اتارکر مسلمان کو روحانی خوشی پہنچا سکتے ہیں۔ خَیْرُ الْکَلاَمِ مَا قَلَّ وَدَلَّ پر عمل کریں تو اس کی تعلیم لوگوں کے لئے مشکل نہیں بلکہ آسان ہوجائے گی۔ورنہ قرآن کریم سے جہالت بدستور رہے گی۔
    ٭…چنانچہ تعلیم قرآن کے لئے ہر وہ کوشش کرنا فرض ہوگی جس سے قرآن فہمی آسان ہوجائے۔حفظ وتجوید کے مناہج کے ساتھ جدید ترین وسائل کو اختیار کرنااور طلبہ کے لئے انہیں مہیا کرنا ضروری ہے۔ آڈیو، ویڈیو سسٹم، کارڈز، کتب، جیسے تمام وسائل قرآن کی تعلیم کے لئے استعمال میں لانا دور حاضر کی اشد ضرورت ہیں۔
    ٭… تعلیم قرآن کے آج الحمد للہ بے شمار حلقے ، ادارے، زاویے، اور معاہد ہیں۔کورسز اور مناہج ہیں۔ تراجم وتفاسیر ہیں۔لیکچرز اور آڈیو ویڈیوز ہیں۔اورماشاء اللہ بہت سے خیرخواہ بھی ہیں۔خواتین میں بھی یہ ذوق جاگ اٹھا ہے۔وہ بھی قرآن کریم کو سیکھنے اور سمجھنے کا سچا جذبہ رکھتی ہیں۔ تقریباً ایک کروڑ سے زائد پاکستانی مسلمان روزانہ قرآن پاک سے مستفید ہوتے ہیں۔قرآن کریم سیکھنے سمجھنے کی ایسی پیاس ہے جو بجھتے نہیںبجھتی ۔ایک خواہش ہے جو کم نہیںہوتی۔ہر ایک محسوس کرتا ہے کہ کچھ خلا ہے جو باقی رہ گیا ہے۔ مگرکچھ ایسے بھی ہیں کہ جتنا سیکھا اسے ہی کافی سمجھ کر الگ ہوجاتے ہیں۔ اور کچھ مزید سیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ وجہ یہی ہے کہ قرآن کریم کوجتنا بھی سیکھیں یہ علم کو ترقی دیتا اور خود کو سمجھنے کے لئے مزیدتڑپ پیدا کردیتا ہے۔مگر جہاں معلم کی بس ہوجاتی ہے وہاں یہ تڑپ بھی ماند پڑجاتی ہے۔اس محدودیت کی کیا وجہ ہے؟ کیا علماء اس سے سیر ہوگئے ہیں؟
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں