اولاد کی خوشی کیسی ؟

ساجد تاج نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏جولائی 2, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    [​IMG]


    [​IMG]

    اولاد کی خوشی کیسی ؟

    [​IMG]


    السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ:۔


    اُس اللہ کی کس کس نعمت کا شکر ادا کروں جو ہمیں ہر لمحے کسی نہ کسی خوشی سے نواز ہی رہا ہے۔ جہاں بھی نظر گھمائو اُس کی رحمتیں اور نعمتیں نظر آتی ہیں‌۔ جب جب اُس سے مناگتے ہیں وہ تب تب عطا کرتا ہے اگر اُس کی نعمتوں کا حساب لگانے بیٹھیں تو شاید زبان تھک جائے، الفاظ ختم ہو جائیں مگر وہ اُس کی عطا کی گئی نعمتوںکا حساب نہ لگایا جا سکے جو وہ اپنے بندوں‌ نواز رہا ہے۔

    انسان جب پیدا ہووتا ہے تو اُس کا سارا بچپن دوسروں کے سہارے پر ہی گزرتا ہے چاہے کھانا پینا ہو ، سونا جاگنا ہو، اُٹھنا بیٹھنا ہو یا چلنا پھرنا ہو اُسے ہر موڑ پر سہارے کی ضرورت پڑتی ہی ہے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے انسان خود ، اُس کی سوچ اور اُس کے خیالات بڑے ہوتے جاتے ہیں اور اس طرح انسان بچپن سے نکل کر اپنی جوانی میں قدم رکھتا ہے جہاں اُسے کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں پڑتی وہ اپنا ہر کام خود کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جوانی کی عمر میں ‌ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جب اُسے ایک ایسے انسان کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جس کے ساتھ رہ کر وہ اپنی باقی کی زندگی خوشیوں اور آرام سے گزار سکے، اپنی ہر بات اُس سے شیئر کر سکے ، ایسے انسان کی خواہش کرنے لگتا ہے جو دکھ سکھ اور خوشی و غم میں اُس کا ساتھ دے۔ ایسے میں اللہ تعالی کی رحمت سے دو انسان مل کر ایک رشتہ بناتے ہیں اور ایک ایسے بندھن میں‌بندھ جاتے ہیں جن میں کوئی پردہ نہیں ہوتا۔ اُس رشتے کو دنیا والے مختلف ناموں سے پکارتے ہیں مثال کے طور پر “میاں بیوی“ “ ہسبینڈ وائف “ “ لائف پارٹنر“ “بیٹر ہالف“۔

    اس خوبصورت رشتے کو نبھاتے نبھاتے ایک وقت ایسا بھی آجاتا ہے جب اللہ تعالی ان رشتے میں بندھے مرد اور عورت کو ایک بہت بڑی نعمت سے نوازتا ہے اور وہ نعمت اللہ تعالی کی طرف سے انسان کو ایک انمول تحفہ ہے اور اُس تحفے کا نام ہے “اولاد“۔ اس نعمت کے ملنے کے بعد وہ ایک اعلی مقام پر فائز ہو جاتے ہیں جس پر پہنچنے کی خواہش سب کی ہوتی ہے اور اس طرح وہ اپنی اولاد کے لیے ماں باپ کا کردار ادا کرنے لگ جاتے ہیں۔

    انسان جب کنوارہ ہوتا ہے تو وہ سب سے زیادہ اپنے آپ سے پیار کرتا ہے شادی کے بعد یہ پیار اپنے لائف پارٹنر کے ساتھ تقسیم ہو جاتا ہے لیکن جب اللہ تعالی مرد اور عورت کو اولاد سے نوازتا ہے تو اُن کا سارا پیار اپنی اولاد کے لیے نچھاور ہونے لگتا ہے۔ شادی کے بعد انسان کی سب سے بڑی خوشی اولاد ہوتی ہے جسے پاکر انسان خود کو سب سے خوش نصیب سمجھتا ہے۔ اولاد ہونے کے بعد ماں باپ کا سارا دھیان اُن کی پروش ، اُن کی خواہشات اور اُن کو سنبھالنے میں لگ جاتا ہے۔ اُس کے کپڑے خریدنا ، اُس کے لیے کھلونے لانا ، وغیرہ وغیرہ ۔ ماں باپ کا بس نہ چلے تو اپنی اولاد کی خوشی کے لیے ساری دنیا اُن کے قدموں میں لاکر رکھ دے۔

    اولاد ہونے کے بعد انسان کی زندگی بدل سی جاتی ہے۔ “ماں“ جو اولاد پراپنا سارا پیار اور وقت نچھاور کردیتی ہے، اپنے منہ میں نوالہ ڈالنے سے پہلے اپنی اولاد کا پیٹ بھرتی ہے،خود کو تکلیف میں رکھ کر اپنی اولاد کو آرام دیتی ہے، اپنی نیندوں کو حرام کرکے اپی اولاد کو سکون کی نیند سُلاتی ہے، کس طرح گرمیوں اور سردیوں میں‌اُس کی حفاظت کرتی ہے۔

    “باپ“ جو سارا دن کام کاج کرتا ہے اپنی ضرورت کو پورا کرنے کی بجائے اپنی اولاد کی ضرورت کو پورا کرتا ہے، اپنے لیے کچھ خریدنے کی بجائے اپنی اولاد کی ضرورت کی اشیاء خریدتا ہے۔ سخت سردی و گرمی میں محنت کرتا ہے تاکہ اپنی اولاد کا پیٹ پال سکے۔ سارا دن کام کاج کرنے کے بعد تھک ہار کر جب وہ گھر آتا ہے تو اپنی اولاد کو سامنے دیکھ کر ساری ٹینشن اور ساری تکھاوٹ کو بھول جاتاہے۔ عجیب چمک ہوتی ہے اُس وقت باپ کی آنکھوں میں جب وہ اپنی اولاد کو اپنے سامنے ہنستا کھیلتا دیکھتا ہے۔ اولاد کی ایک شرارت پر ماں باپ کا دس بار ہنسنا ، اُس کی غلطیوں پر اُس کو پیار سے سمجھانا، اُس کی تکلیف میں بوکھلا سا جانا یہ سب چیزیں ماں باپ کی محبت میں شامل ہوتی ہیں۔اولاد کی تکلیف برداشت کرنا شاید ماں باپ کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اولاد کی تکلیف دیکھ کر والدین کے اوپر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے کبھی کسی ڈاکٹر کے پاس تو کبھی کسی کے پاس ساری ساری رات جاگ کر گزار دیتے ہیں کہ کہیں اُن کی اولاد تکلیف میں تو نہیں۔

    دورِ جہالت میں عورتوں کو بہت حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ رواج کم ہو گیا مگر مکمل طور پر ختم نہ ہوا آج بھی لڑکی کے پیدا ہونے پر لوگ غم و مایوسی اور ناشکری کا اظاہر کرتے ہیں، آج بھی لڑکوں کو لڑکیوں پر زیادہ ترجیح دی جاتی ہے، آج بھی لوگ لڑکا پیدا ہونے پر مغروری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں اللہ تعالی نے اولاد کو جس کے پیٹ سے پیدا کرتا ہے وہ بھی ایک عورت ہوتی ہے۔ لڑکی کے پیدا ہونے ہر اتنی مایوس کا اظہار کرتے ہیں تو عورت ذات سے شادی کیوں کرتے ہیں؟ اگر شادی کرتے ہیں تو لڑکی ہونے پر غم و مایوسی کا اظہار کیوں کرتے ہیں؟

    اگر ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالی ایک ہے اور ہم اُسی کا حکم مانتے ہیں اور اُسی کی عبادت کرتے ہیں تو پھر یہ کیوں بھول جاتے ہیں جو اللہ تعالی سورہ الشورے میں فرماتا ہے۔

    آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ تعالی کے لیے ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتاہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے (49)

    یا انہیں جمع کر دیتا ہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جسے چاہے بانجھ کر دیتا ہے وہ بڑے علم والا اور کامل قدرت والا ہے۔ (50)

    یہ بات واضح ہے کہ لڑکا لڑکی دینے کا اختیار صرف اللہ تعالی کے پاس ہے بلکہ اولاد کا ہونا نہ ہونا بھی صرف اللہ تعالی کے ہاتھ میں‌ہے تو پھر ہم اولاد کے ہونے نہ ہونے ، یا لڑکی ہونے پر نا شکری کا اظہار کیوں کرتےہیں؟

    موجودہ دور شاید کچھ زیادہ ہی ماڈرن ہو چُکا ہے صرف کھانے اور پینے میں ہی نہیں بلکہ شادی اور اولاد کے بارے میں بھی بڑے بڑے خیالات ظاہر ہونے لگے ہیں۔ کوشش کریں گے کہ جو لائف پارٹنر ملے وہ تمام بُرائیوں سے پاک ہو چاہے خود میں بڑائیوں گھرا ہو۔ شادی ہو جانے کے بعد جلد اولاد کرنے سے گریز کرتے ہیں کہ ابھی تو لائف کو انجوائے کرنا ہے ہمیں کیا ضرورت ہے اتنی جلدی اولاد کی۔ اگر شادی کے پہلے سال اولاد ہوجائے تو عجیب سی مایوسی چہرے پر دکھائی دیتی ہے پوچھنے پر کہتے ہیں کہ یار ہم ابھی کرنا نہیں چاہتے تھے اویں بچہ پیدا ہو گیا۔ ایسے لوگوں کو اللہ کے خوف سے ڈرنا چاہیے اولاد نہ ہونے کا دکھ کیا ہوتا ہے یہ اُن سے جا کر پوچھو جو ساری زندگی اولاد کی طلب کرتے رہتے ہیں مگر اولاد نصیب نہیں ‌ہوتی۔

    اولاد کی خوشی کو لفظوں میں بیاں کرنا شاید میرے بس کی بات نہیں ہے یہ احساس وہی بخوبی بتلا سکتا ہے جنہیں اللہ تعالی اولاد جیسی نعمت سے نوازہ ہے۔ اللہ تعالی سے دُعا کرتا ہوں کہ وہ ہم سب کو نیک اور صالح اولاد عطا کرے اور ایسے لوگوں کو ہدایت دے جو اس خوبصورت نعمت کی ناشکری کرتے ہیں اور اولاد کو اپنے اوپر بوجھ محسوس کرتے ہیں آمین۔

    تحریر: ساجد تاج​


    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,855
    السلام علیکم

    چھوٹے بھائی مبارک ہو آپکو؟

    والسلام
     
  3. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    ماشاءاللہ ساجد بھائی ۔۔۔۔۔ کیا کہنے ۔۔۔ آپ کے جذبات و احساسات کے ۔۔۔۔۔
    اللہ کرئے شعور ایماں اور بھی زیادہ ۔۔۔۔ آمین
    واقعی بہت زبردست مضمون ہے ۔۔۔۔ سادہ الفاظ میں ۔۔ سادہ اسلوب میں ۔۔۔ کتنی زبردست باتیں آپ نے شیئر کی ہیں ۔۔۔۔
    اللہ ہم سب کو نیک سوچ اور صحیح سمجھ سے نوازئے آمین

    ایک دعاء ۔۔۔
    وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَ‌بَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّ‌يَّاتِنَا قُرَّ‌ةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا ﴿٧٤﴾سورة الفرقان
    ترجمہ
    اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اوﻻد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا (74)
    (محمد جوناگڑھی)
     
  4. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    جزاک اللہ خیرا.
    ماشاءاللہ اچھی تحریر ھے.
     
  5. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,614
    ماشااللہ، بہت زبردست تحریر ہے.
     
  6. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,318
    [font="al_mushaf"]جزاك اللہ خیرا
    جو اس نعمت سے محروم ہیں
    اللہ اُن کو جلد یہ نعمت عطا فرمائے
    آمین
    اور جن کے پاس یہ نعمت موجود ہے اللہ اُن کو قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے
    آمین
    یہاں ایک بات کرطرف توجہ دلانا چاہوں گا
    مائیں اکثر اپنےبچوں کو غصے میں آکر کر بدعائیں دینا شروع کر دیتی ہیں
    اس سے بچنا چاہیے
    احسان الٰہی ظہیر شہید رحمہ اللہ نے
    ایک دفعہ سورہ یوسف کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا :
    سید نا یعقوب علیه السلام نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا
    [font="al_mushaf"]''قَالَ إِنِّي لَيَحْزُنُنِي أَن تَذْهَبُوا بِهِ وَأَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ وَأَنتُمْ عَنْهُ غَافِلُونَ ﴿١٣''[/font]
    (یعقوب علیہ السلام نے) کہا اسے تمہارا لے جانا مجھے تو سخت صدمہ دے گا اور مجھے یہ بھی کھٹکا لگا رہے گا کہ تمہاری غفلت میں اسے بھیڑیا کھا جائے (13)

    بیٹے پہلے ہی یوسف علیه السلام سے جان چھڑانا چاہتے تھے اُن کے ہاتھ میں بات آگئی
    اور سیدنا یعقوب علیه السلام کو پریشان ہونا پڑا

    اس لیے اپنی اولاد کے لیےزبان سے الفاظ نکالتے ہوئے محتاط رہیں
    [/font]
     
  7. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,692
    السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ:
    جزاك اللہ خیرا
     
  8. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,848

    فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ۝۰ۭ اِنَّہٗ كَانَ غَفَّارًا يُّرْسِلِ السَّمَاۗءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا وَّيُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَيَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّيَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْہٰرًا
    اور کہا کہ اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے لگاتار مینہ برسائے گا۔ اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں باغ عطا کرے گا اور ان میں تمہارے لئے نہریں بہا دے گا۔
    ان آیات سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ اللہ رب العزت کے لئے روزانہ ’’استغفار‘‘ کرنے والے کو مندرجہ بالا تمام بھلائیاں حاصل ہو جاتی ہیں۔
    بخاری و مسلم کی حدیث کے مطابق روزانہ 100 مرتبہ استغفار کریں۔ اس سے زیادہ نہ کریں۔
    استغفار کے الفاظ مختلف احادیث میں مختلف وارد ہوئے ہیں۔ مثلاً صرف ’’استغفراللہ‘‘۔ یا صرف ’’استغفراللہ و اتوب الیک‘‘۔ یا پھر سب سے بہتر دُعا: استغفراللہ الذی لا الہ الا ھو و علیہ توکلت و ھو رب العرش العظیم۔
    آخری دعا کے متعلق ایک حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ اگر کوئی سچے دل کے ساتھ ان کلمات کو تین دفعہ پڑھ لے تو اُس کے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں بھلے و سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔
    اے اللہ! بے اولادوں کو صالح اولاد عطا فرما۔ ہمیں بھی صالح ایماندار بنا۔ ہماری اولادوں کو بھی صالح بنا دے۔ تیرے دین کو نافذ کرنے کے لئے ہمیں ’’صالح، ایماندار، مجاہد‘‘ قسم کی اولاد عطا فرما دے۔ جو تیرے دین کو بھی جانتی ہو، اپنے معاشرے کی بھی خبر رکھتی ہو اور اس پر بھی عمل کرے کہ دین اللہ کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے مطابق ہی نافذ ہو گا۔ اے اللہ! اپنے دین کی سربلندی کے لئے ہمیں صالح اولاد عطا فرما دے۔ آمین یارب العالمین۔
     
  9. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,702
    جزاک اللہ خیرا ساجد بھائی بہت عمدہ تحریر

    اس میں کوئی شک نہیں کہ نیک اولاد بہت بڑی نعمت ہے لیکن اولاد کے دکھ بھی بڑے خطرناک ہوتے ہیں.اللہ ہم سب کو اولاد کے غموں سے محفوظ فرمائے.آمین
     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 3, 2012
  10. المسافر

    المسافر --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اپریل 10, 2007
    پیغامات:
    6,262
    جزاك اللہ خیر
     
  11. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ:

    بھائی مبارک کس بات کی :00039:

    آمین
    پسند کرنے کا شکریہ بھائی

    پسند کرنے کا شکریہ بھائی

    پسند کرنے کا شکریہ

    جزاک اللہ خیرا بھائی

    وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ:۔

    آمین

    پسند کرنے شکریہ بھائی
    [/FONT]
     
  12. مجیب منصور

    مجیب منصور -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 29, 2008
    پیغامات:
    2,151
    جزاک اللہ
     
  13. ام احمد

    ام احمد محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 7, 2008
    پیغامات:
    1,333
    جزاک اللہ خیر بھای۔۔۔۔۔۔۔جن کے پاس اولاد ہے اللہ انکی اولاد کو نیک بناے جو بے اولاد ہیں اللہ انکو نیک سیرت اولاد نصیب فرماے۔۔۔آمین یا رب
     
  14. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    آمین
    اللہ تعالی بڑی شان والا ہے وہ دل سے کی دُعا میں‌ دیری کر سکتا ہے مگر قبول ضرور کرتا ہے اگر قبول نہ ہو تب بھی اُس میں کچھ نہ کچھ مصلحت ہوتی ہے۔ اللہ تعالی بہتر جاننے والا ہے ۔ بس اللہ تعالی ہمیں سوچنے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
     
  15. abrarhussain_73

    abrarhussain_73 --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اپریل 6, 2009
    پیغامات:
    371
    بہت خوب۔ ماشا ء اللہ
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں