اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی۔ روایت کی تحقیق

محمد اسد حبیب نے 'حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون' میں ‏جولائی 18, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمد اسد حبیب

    محمد اسد حبیب -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 3, 2011
    پیغامات:
    411
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا،اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ یہ لیلۃ القدر ہے، تو میں کیا پڑھوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ دعا پڑھو:
    اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی (جامع الترمذی:3513)
    فضیلۃ الشیخ زبیر علی زئی حفظہ اللہ اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں:
    اسنادہ ضعیف

    عبداللہ بن بریدہ لم یسمع من عائشہ کما قال الدارقطنی (السنن233/3،ح3517) والبیہقی (118/7) ودفاع ابن الترکمانی باطل لان الخاص مقدم علی العام۔وللحدیث شاھد ضعیف عندالنسائی فی الکبری (10714) فیہ سفیان الثوری مدلس وعنعن۔وشاھد آخر موقوف عندہ (10707) وسندہ ضعیف، فیہ ۔۔۔۔۔ عبداللہ بن جبیر وفیہ نظر ویقال: حنین ویقال:حسن۔!
    (انوار الصحیفہ فی الاحادیث الضعیفہ من السنن الاربعہ مع الادلۃ،ص297)
     
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,131
    تخريج حديث: ((اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني))
    بهاء الدين الزهري
    مقالات متعلقة
     
  3. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    عبد اللہ بن بریدہ کا عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع کا انکار کرنا امام دارقطنی رحمہ اللہ کا وہم ہے ۔
    یہ حدیث صحیح ہے ۔ والحمد للہ رب العالمین .
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,131
    جزاکم اللہ خیرا شیخ ۔ الحمد للہ ۔
     
  5. محمد اسد حبیب

    محمد اسد حبیب -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 3, 2011
    پیغامات:
    411
    اس عبارت میں جہاں سماع ثابت کیا گیا ہے اگر اس کا ترجمہ مل جائے تو مزید تحقیق میں آسانی ہوسکے گی۔
     
  6. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    مختصر یہ کہ عبد اللہ بن بریدہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں پیدا ہوئے ہیں اور اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل تک وہ مدینہ میں ہی رہے ہیں اور اسوقت انکی عمر تقریبا بیس سال تھی ۔ اور ایسے تابعین کا کبار صحابہ امہات المؤمنین اور بالخصوص سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ کیونکہ یہ لوگ مدینہ میں تھے اور مدینہ کے تمام تر لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سمیت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسائل دریافت کرتے اور احادیث سنتے تھے ۔ تو ایک ایسا شخص جس نے اپنی زندگی کے بیس سال مدینہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں گزارے ہوں جبکہ مدینہ کوئی بڑا شہر نہ تھا تو اسکے سماع کا انکار کرنا کسی مضبوط دلیل کا محتاج ہے ۔
     
  7. محمد اسد حبیب

    محمد اسد حبیب -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 3, 2011
    پیغامات:
    411
    جزاک اللہ خیرا’’
     
  8. محمد اسد حبیب

    محمد اسد حبیب -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 3, 2011
    پیغامات:
    411
    شیخ محترم اس تھریڈمیں آپ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ کیا آپ کا موقف تبدیل ہو گیا ہے؟
     
  9. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    نہیں ‘ میں بھول گیا تھا ‘ لکھنے کے کچھ بعد اسکی اصلاح کردی ہے ۔
    فسبحان ربی من لا یضل ولا ینسى
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,055
    بحث مکمل ہو چکی ہے اور نتیجہ عنوان کے برعکس ہے ۔ میرے خیال میں اب اس کا عنوان اور سیکشن بدل دینا چاہیے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں