اپنی محبوب چیزیں اللہ کی راہ میں دیں، ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظہا اللہ

آزاد نے 'تفسیر قرآن کریم' میں ‏جولائی 20, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. آزاد

    آزاد ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 21, 2007
    پیغامات:
    4,564
    [font="al_mushaf"]بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ ()​

    [لَن تَنَالُوا الْبِرَّ‌ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّـهَ بِهِ عَلِيمٌ ﴿٩٢﴾]


    تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے یہاں تک تم وہ چیزیں خرچ کرو جنہیں تم محبوب رکھتے ہو، عزیز رکھتے ہو۔اور جو کچھ تم خرچ کرو گے ، اللہ اس سے بےخبر نہ ہوگا۔
    پچھلے پارے میں بھی انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا گیا اور کافی وضاحت کے ساتھ اس بارے میں تعلیمات دی گئیں۔یہاں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کےلیے محبوب ترین ، پسندیدہ ترین چیز خرچ کرنے کےلیے کہا جارہا ہے۔ ایک مؤمن کی پہچان یہ ہے کہ : [وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّـهِ ۗ ] وہ لوگ جو ایمان لائے، وہ اللہ کی محبت میں سب سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔سب سے شدید ہوتے ہیں۔ محبتیں ہمیشہ قربانی مانگتی ہیں۔جو شخص اللہ سے محبت کرتا ہو اور اللہ کے راستے میں اپنی محبوب چیز نہ دے سکتا ہو، اس کی محبت جھوٹی ہے۔ جو شخص بھی یہ دعویٰ کرے کہ میں اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہوں تو اس کےلیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے، خیر کامل کو نہیں پاسکتے، رحمت اور رضائے الہٰی کو نہیں پاسکتے، جنت کو نہیں پاسکتے، جب تک کہ تم اپنی پسندیدہ چیزوں کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرسکو۔ ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرام نے جب یہ آیت سنی توانہوں نے اپنی اپنی پسندیدہ چیزوں کا جائزہ لیا اور ان میں سے ہر ایک نے اپنی حیثیت کے مطابق اللہ کی راہ میں ضرور خرچ کیا۔حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ ان کا مسجد نبوی کے سامنے ہی بیرحاء نام کا ایک باغ تھا، جس میں آپﷺ کبھی کبھی تشریف لے جایا کرتے تھے اور یہاں کا خوش ذائقہ پانی پیاکرتے۔ جب یہ آیت اتری تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! میرا تو سب سے پیارا مال میرا یہ باغ ہے۔ میں آپ کو گواہ کرکے کہتا ہوں کہ میں اسے فی سبیل اللہ صدقہ کررہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ مجھے بھلائی عطا کریں اور اسے اپنے پاس میرے لیے ذخیرہ کریں۔ آپ کو اختیار ہے کہ آپ اس کو جس طرح چاہیں تقسیم کردیں۔ آپﷺ بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے:مسلمانوں کو اس سے بہت فائدہ پہنچے گا۔ تم اسے اپنے قرابت داروں میں، عزیز، رشتہ داروں میں تقسیم کردو۔ تو اس سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ اللہ کی راہ میں دینے میں عزیز اور رشتہ دار بھی آتے ہیں۔کیونکہ نبیﷺ نے ان کے مال کو خود انہی کے خاندان کی طرف پلٹا دیا۔
    پھر اسی طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ یہ آیت سن کر حاضر ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! مجھے اپنے تمام مال میں سب سے زیادہ مرغوب چیز خیبر کا حصہ ہے۔ میں اسے اللہ کی راہ میں دینا چاہتا ہوں۔آپﷺ نے فرمایا: اسے وقف کردو۔ اصل روک لو اور پھل وغیرہ صدقہ کردیا کرو۔یعنی زمین اپنے ہی نام رکھو اور اس کی ساری پیداوار صدقہ کردیا کرو۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اس آیت کی تلاوت کی تو سوچا۔ مجھے کوئی چیز ایک کنیز سے زیادہ پیاری نہ تھی۔ میں نے اسے آزاد کردیا۔ اب تک میرے دل میں اس کی ایسی محبت ہے کہ اگر کسی چیزکو اللہ کے نام پر دے کر لوٹانا جائز ہوتا تو میں اس سے کم ازکم نکاح کرلیتا۔اسی طرح حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ آیت سنی تو کہا: اے اللہ! تو جانتا ہے، میرے مال میں میرا گھوڑا مجھے سب سے زیادہ پیارا ہے۔ ان کا ایک گھوڑا تھا، جس کا نام ‘سبل ’تھا۔ اسے لے کر حضورﷺ کے پا س پہنچ گئے اور عرض کی:اے اللہ کے رسولﷺ! یہ گھوڑا فی سبیل اللہ قبول کیجئے۔آپ نے اسامہ بن زید یعنی انہی کے بیٹے سے کہا کہ تم اسے لے لو۔ زید نے اس بات کو اپنے دل میں محسوس کیا کہ شاید میرا مال قبول نہیں ہوا۔ توآپﷺ نے فرمایا: بےشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس مال کو قبول کرلیا۔
    اس میں آپ دیکھ رہے ہیں تمام مثالوں میں کہ ایک طرف خرچ کرنے کا حکم دیا جارہا ہے اور خرچ کرنے والے خرچ بھی کررہے ہیں اوردوسری طرف وہی مال ان کے کسی عزیز، قریبی کو لوٹایا جارہا ہے۔ بات یہ ہے کہ اسلام میں جو انفاق فی سبیل اللہ کا حکم ہے۔ انفاق کا لفظ نفق سے ہے۔ نفق کہتے ہیں: سرنگ کو، ٹنل کو۔ ٹنل میں کیا ہوتا ہے؟کوئی چیز ٹھہرتی نہیں ہے۔ وہاں کوئی چیز رکتی نہیں ہے۔ ایک طرف سے داخل ہوتی ہے اور دوسری طرف سے نکل جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح اسلام میں مال کو روک رکھنا اور صرف چند لوگوں کے پاس ہونا اور باقی لوگوں کا منہ دیکھنا اور ضرورت مند رہنا ، یہ پسندیدہ نہیں۔اسلامی معاشرے کی خوبصورتی کیا ہے کہ اس کے اندر مال سرکولیٹ کرتا رہے۔صرف ایک جگہ جاکر جم نہ جائے۔کیونکہ مال کی حیثیت ایک معاشرے کے اندر ایسی ہی ہے جیسے خون کی حیثیت ایک جسم کے اندر ہے۔ اگر خون سرکولیٹ کرتا رہے تو جسم زندہ رہتا ہے۔ جس حصے کی بھی سرکولیشن رک جاتی ہے، وہ مردہ ہوجاتا ہے، ڈیڈ ہوجاتا ہے، بالکل اسی طرح معاشرے کے جس حصے کی بھی، یا جس سوسائٹی کا جو بھی حصہ یا جو بھی عضو مال کے بغیر ہوتا ہے، فقر وفاقہ میں مبتلا ہوتا ہے ، اس حصےکا فنکشن رک جاتا ہے ۔ ان کی ذہنی صلاحیتیں صحیح طور پر کام نہیں کرتیں۔ وہاں پر اکنامک گروتھ رک جاتی ہے۔اور آن دا ہول معاشرہ ایک لاس میں چلا جاتا ہے۔اس لیے اسلام کیا چاہتا ہے کہ [كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ ۚ] مال صرف اغنیاء کے درمیان ہی گھومتا پھرتا نہ رہے۔بلکہ سارے طبقات کو اس سے فیض پہنچے۔اسی لیے یہاں پر کیا حکم دیا گیا کہ تم نیکی کو پا ہی نہیں سکتے۔یعنی نیکی محض چند ظاہری کام کرنے کا نام نہیں۔بلکہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا نیکی ہے اوراس میں بھی کیا ؟ جو تمہیں پسندیدہ ہو۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیشہ ہی ایسا کرنا ہوگا۔ ایک جگہ پر فرمایا: [قُلِ الْعَفْوَ ۗ ]جو چیز زائد ہو، وہ خرچ کرو۔ اور یہاں پر فرمایا: جو چیز محبوب ہو، وہ خرچ کرو۔یعنی کبھی زائد از ضرورت چیز خرچ کی جائے گی اور کبھی انتہائی محبوب ترین چیز بھی۔یعنی دونوں طرح ہی خرچ کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن زندگی میں کچھ موقع تو ایسے ضرور آنے چاہییں۔ ہم میں سے ہر ایک اپنا اپنا جائزہ لے ۔ جیسے اور بھی اس میں مثالیں ہیں لیکن وقت کی کمی ہے ۔ ہم میں سے ہر شخص اپنا اپنا جائزہ لے کہ جس طرح صحابہ کرام نے یہ آیت سنی یا پڑھی تو اس پر عمل کیا ۔ اسی طرح ہم جب اس آیت کو سن رہے یا پڑھ رہے ہیں تو ہم کب عمل کریں گے؟ جب بھی اللہ تعالیٰ توفیق دے۔ لیکن اپنے آپ سے یہ عہد ضرور کیجئے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو پانے کےلیے مجھے یہ کام ضرور کرنا ہے۔
    [لَن تَنَالُوا الْبِرَّ‌ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ ]اور یہاں [مِمَّا]کا جو لفظ آیا ہے[مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ ]تو اس سے مراد صرف مال ہی نہیں ، بلکہ اس سے مراد اپنی پسندیدہ ترین دلچسپیاں بھی ہیں، ہابیز بھی ہیں، شغل بھی ہیں، مشغلے بھی ہیں ، اپنی محبوب ترین دیگر چیزیں بھی، مثلاً اپنی اولاد بھی ہے، اپنی نیند بھی ہے کیونکہ بعض اوقات ہم نیک کام کرنا چاہتے ہیں لیکن مال دے دیں گے، لیکن اپنا آپ نہیں دیں گے۔اپنا وقت نہیں دیں گے دین کےلیے۔ اپنی نیند،آرام، اپنی خواہشات کو قربان نہیں کریں گے۔ فرمایا: اس وقت تک نیکی کی روح کو پا نہیں سکتے جب تک کہ پسندیدہ ترین چیزوں میں سے خرچ نہ کرو۔تو ہم میں سے ہر شخص کی پسندیدہ ترین چیزیں مختلف ہوسکتی ہیں۔ان کی لسٹ بنائیے اور دیکھئے کہ ان میں سے کیا، کتنا، کب اللہ کی راہ میں دے سکتے ہیں۔ اور پھر ہوتا یہ ہے کہ جو چیز انسان کی پسند کی ہوتی ہے ، اس کو وہ اتنا ہی سنبھال سنبھال کر، چھپا چھپا کر،بند کرکے رکھتا ہے۔ بعض اوقات وہ ساری زندگی بند ہی رہ جاتی ہے اور اس سے ہم خود بھی فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔ بعض اوقات یہ ڈر ہوتا ہے کہ کہیں یہ چوری نہ ہوجائے، ٹوٹ نہ جائے، ضائع نہ ہوجائے۔ جب ایک انسان ایسی پیاری چیزوں کو اللہ کے پاس ڈیپوزیٹ کرا دیتا ہے ، تو وہ ہر نقصان اور ہر خطرے سے محفوظ ہوجاتی ہے۔اس لیے اصل بھلائی اور اصل خیر اس میں ہے کہ انسان اپنے دل کی خواہشات اور اپنی محبتوں کو قربان کرنا جانے۔
    پھر فرمایا: [وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ ] اور جو بھی تم خرچ کرو گے، کسی بھی چیز میں سے [مِنْ شَيْءٍ]میں مال نہیں ہے صرف۔ کسی بھی چیز میں سے، کوئی بھی چیز[مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّـهَ بِهِ عَلِيمٌ ﴿٩٢﴾]توبےشک اللہ اس کو جاننے والا ہے۔اللہ کو اس کا پتہ چل جاتا ہے کہ ایک بندے نے کیا خرچ کیا، کتنا خرچ کیا، کس جذبے سے، کتنی خوشی سے؟

    آڈیو لنک
    فیس بک پر
    [/FONT]
     
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,483
    جزاك اللہ خيرا وبارك فيك ۔
     
  3. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,582
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,848
    جزاکم اللہ خیر و احسن الجزا
     
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,483
    بارک اللہ فیک ووفقنا للعمل ۔
     
  6. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,466
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں