مسواک، رمضان اور رسول مقبول علیہ الصلاة و السلام

عبد الرحمن یحیی نے 'ماہِ رمضان المبارک' میں ‏جولائی 30, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,318
    مسواک ،رمضان اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

    رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں کثرت سے مسواک کیا کرتے تھے

    سیدنا عامربن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت صیام میں اتنی مرتبہ مسواک کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ میں شمار نہیں کر سکتا۔

    مسند احمد:جلد ششم:حدیث نمبر 1529 حدیث مرفوع

    مسواک ہی کے حوالے سے چند احادیث

    مسواک منہ کی پاکیزگی اور اللہ کی رضا کا موجب ہے


    رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے :

    السواك مطهرة للفم مرضاة للرب
    الراوي: سیدہ عائشة المحدث: المنذري - المصدر: الترغيب والترهيب - الصفحة أو الرقم: 1/133
    خلاصة حكم المحدث: صحيح

    ” مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا موجب ہے “




    ام المومنین رضی اللہ عنہا کا رسول مقبول کی مسواک استعمال کرنا

    سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسواک کرنے اور دھونے کی غرض سے مجھ کو مسواک دیتے مگر پہلے میں وہ خود مسواک (حصول برکت کی خاطر) استعمال کرتیں اور اس کے بعد دھو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوٹا دیتی۔
    سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 51


    رسول مقبول صلی للہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں داخل ہوکر سب سے پہلے مسواک کیا کرتے تھے

    سیدناشریح سے روایت ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوال کیا جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآئے وسلم گھر میں داخل ہوتے تو کون سا کام سب سے پہلے کرتے تو انہوں نے فرمایا مسواک ۔
    صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 590

    رسول مقبول سو کر اٹھنے کے بعد سب سے پہلے مسواک کیا کرتے تھے

    سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تہجد کے لئے اٹھتے تو منہ مبارک کو مسواک سے صاف کرتے تھے۔

    صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 593

    اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا ڈر نہ ہوتا

    سیدنا ابوامامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مسواک کیا کرو اس لیے کہ مسواک منہ کو صاف کرنے والی اور پروردگار کو راضی کرنے والی ہے۔ جب بھی میرے پاس جبرائیل آئے مجھے مسواک کا کہا حتی کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ مسواک مجھ پر اور میری امت پر فرض ہو جائے گی اور اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں مسواک کو اپنی امت پر فرض کر دیتا اور میں اتنا مسواک کرتا ہوں کہ مجھے خطرہ ہونے لگتا ہے کہیں میرے مسوڑھے چھل نہ جائیں ۔
    سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 289 ​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    جزاک اللہ خیرا.
     
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا شیخ!
     
  4. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,848
    بہت بہت شکریہ
    کچھ احادیث کے ساتھ استفادہ ہوا۔ بارک اللہ لکم
     
  5. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
Loading...
Similar Threads
  1. شفقت الرحمن
    جوابات:
    1
    مشاہدات:
    358
  2. فرهاد أحمد سالم
    جوابات:
    1
    مشاہدات:
    249
  3. شفقت الرحمن
    جوابات:
    1
    مشاہدات:
    344
  4. شفقت الرحمن
    جوابات:
    1
    مشاہدات:
    335
  5. فرهاد أحمد سالم
    جوابات:
    2
    مشاہدات:
    418

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں