سماع موتیٰ،کیا مردے سنتے ہیں؟پروفیسر عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ

آزاد نے 'اردو یونیکوڈ کتب' میں ‏اگست 10, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. آزاد

    آزاد ركن مجلس علماء

    پیغامات:
    4,564
    [table="table"]
    نام کتاب | سماع موتیٰ، کیا مردے سنتے ہیں؟
    مصنف | پروفیسر حافظ محمد عبداللہ بہاولپوری
    تحقیق وتخریج | محمد سرور عاصم
    ناشر | مکتبہ اسلامیہ، لاہور و فیصل آباد
    اشاعت | اگست 2004ء​
    [/table]​

    عرض ناشر​

    عقیدہ توحید اسلام اور ایمان کی بنیاد ہے۔ قرآن مجید میں سب سے زیادہ اسی کا تذکرہ ملتا ہے۔ اگر اس بنیاد میں فرق آگیا اور یہ عقیدہ کمزور ہوگیا تو انسان کے تمام اعمال رد کردیئے جائیں گے۔ توحید کا معنیٰ ومفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت والوہیت میں کوئی شریک نہیں ہے۔ وہی ساری کائنات کا رازق ہے۔ آسمانوں سے بارش برساتا ہے ، زمین سے کھیتیاں اگاتا ہے۔ زندگی موت اسی کے قبضہ ٔ قدرت میں ہے۔ وہ واحد ہے، اس جیسا کوئی نہیں۔ وہی کارساز، بگڑی بنانے والا، فریاد سننے والا، روزی دینے والا، مصیبت میں کام آنے والا ہے۔ شاہ وگدا، امیر وغریب سب اسی کے در کے محتاج ہیں۔
    اللہ رب العالمین کی صفات میں کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا اتنا بڑا گناہ ہے جسے قرآن پاک نے ظلم عظیم کہا ہے۔ اس گناہ کی شدت کا یہ عالم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شان غفاری نے بھی معاف نہ کرنے کا اعلان ِ عام کیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    [إِنَّ اللّهَ لاَ يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَاءُ [النساء : 48]
    بے شک اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرتا۔ اس کے ماسوا دوسرے جس قدر گناہ ہیں، وہ جس کےلیے چاہتا ہے، معاف کردیتا ہے۔
    [إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّهُ عَلَيهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ [المائدة : 72]
    جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا، اس پر اللہ نے جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
    سماع موتیٰ کا مسئلہ شرک کا سب سے بڑا چور دروازہ ہے۔ اس لیے قرآن پاک نے اس کے تمام ممکنہ راستے مسدود کردیے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    [وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاء وَلَا الْأَمْوَاتُ إِنَّ اللَّهَ يُسْمِعُ مَن يَشَاءُ وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ [فاطر : 22]
    زندے اور مردے مساوی نہیں ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے، سنا دیتا ہے ، مگر (اے نبیﷺ) تم ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں مدفون ہیں۔
    [وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ لاَ يَخْلُقُونَ شَيْئاً وَهُمْ يُخْلَقُونَ 0 أَمْواتٌ غَيْرُ أَحْيَاء وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ [النحل : 21-20]
    اور جنہیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ، وہ کچھ پیدا نہیں کرسکتے بلکہ وہ خود پیدا شدہ ہیں۔ وہ لاشیں ہیں بےجان، ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے۔
    ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ غائب، فوت شدہ لوگ کسی کی بات کا جواب دینا تو درکنار ان کی بات بھی نہیں سنتے البتہ استثنائی صورت میں اللہ تعالیٰ ان کو سنوا سکتے ہیں۔
    موجودہ دور میں یہ مسئلہ انتہائی سنگین صورت اختیار کرچکا ہے کہ قائلین سماع موتیٰ نہ صرف مردوں کے سننے کے قائل ہیں بلکہ یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ مردے سن کر جواب بھی دیتے ہیں اور حاجات بھی پوری کرتے ہیں۔
    پروفیسر حافظ محمد عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ کا مشن شرک کا استحصال اور اس شجرہ ٔ خبیثہ کو جڑ سے اکھیڑنا تھا۔ چنانچہ موصوف ببانگ ِدہل شرک کا رد کرتے اور کتاب وسنت کے دلائل سے توحید کی دعوت دیتے تھے۔ زیر مطالعہ رسالہ ’’سماع موتیٰ‘‘ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔
    یہ کتابچہ سوال وجواب کی صورت میں مرتب کیا گیا ہے جو افہام وتفہیم کا آسان ترین ذریعہ ہے۔ معمولی پڑھا لکھا آدمی بھی بآسانی مستفید ہوسکتا ہے۔
    وَمَا عَلَيْنَا إِلاَّ الْبَلاَغُ الْمُبِينُ

    محمد سرور عاصم
     
    عبد الرحمن یحیی اورعائشہ نے اس کا شکریہ ادا کیا
  2. آزاد

    آزاد ركن مجلس علماء

    پیغامات:
    4,564
    مسئلہ سماع موتیٰ​

    پہلے اسے پڑھیے: اس کتاب میں سوال وجواب کی شکل میں ’’الف‘‘ اور ’’ب‘‘ دو حروف کو ’’اہل حدیث‘‘ اور ’’بریلوی‘‘ کے مخفف کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

    ب: السلام علیکم
    ا: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ کہیے! کیسے تشریف لائے؟
    ب: ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے۔
    ا: فرمائیے! کیا مسئلہ ہے؟
    ب: مردے سنتے ہیں یا نہیں؟
    ا: ارے بھئی! یہ بھی کوئی مسئلہ ہے۔ یہ تو مشاہدے کی بات ہے۔ آپ کسی مردے سے بات کرکے دیکھ لیں، آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ مردہ سنتا ہے یا نہیں۔ وہ مردہ ہی کیا ہوگا جو سنے؟ سننا تو زندوں کا کام ہے نہ کہ مردوں کا۔ جو مر جاتا ہے وہ اس جہان سے چلا جاتا ہے اور برزخ میں پہنچ جاتا ہے۔ اس جہان یعنی دنیا کے اعتبار سے وہ مردہ ہے۔ نہ سنتا ہے، نہ بولتا ہے۔ اگلے جہان یعنی برزخ میں وہ زندہ ہے۔ لیکن اس زندگی کو ہم نہیں سمجھ سکتے کہ ہم ان کو پکاریں اور وہ ہماری سنیں۔
    ب: کیا مردہ بالکل نہیں سنتا؟
    ا: مردہ جو ہوا، اس لیے بالکل نہیں سنتا۔ اگر یقین نہ آئے تو بات کرکے دیکھ لیں۔
    ب: وہ بولے گا تو نہیں۔
    ا: بولے گا کیوں نہیں؟ اگر سنتا ہے تو ضرور بولے گا۔
    ب: مردے بولتے تو نہیں۔
    ا: بولتے کیوں نہیں؟
    ب: ان میں کوئی جان ہے جو بولیں؟
    ا: جب جان نہیں ہے تو سن کیسے لیتے ہیں؟ کیا بولنے کےلیے جان کی ضرورت ہے، سننے کےلیے نہیں؟
    ب: ضرورت تو سننے کےلیے بھی ہے، لیکن سنا ہے کہ مردے سنتے ہیں، بولتے نہیں۔
    ا: اگر بولتے نہیں تو سنتے کس لیے ہیں؟ اللہ نے انسان میں سننا رکھا ہی اس لیے ہے کہ سن کر جواب دے ۔ اگر جواب نہ دینا ہوتو سننے کا کیا فائدہ؟ قرآن میں ہے:
    [إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ [الأنعام : 36]
    یعنی جواب تو وہ دیں جو سنتے ہوں (اور مردے نہ سنتے ہیں ، نہ جواب دیتے ہیں) ان کو اللہ قیامت کو اٹھائے گا، پھر اللہ کے سامنے پیشی ہوگی۔
    درحقیقت سننا ہے ہی بولنے کےلیے اور بولنا سنانے کےلیے۔ اگر ایک نہ ہو تو دوسرے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ یہ دونوں لازم وملزوم ہیں۔
    ب: یہ فلسفہ تو میں نہیں جانتا، البتہ میں نے سنا ہے کہ مردے سنتے ہیں۔
    ا: کس سے سنا ہے؟
    ب: اپنے مولوی صاحب سے۔
    ا: کیا آپ کے مولوی صاحب نے کسی مردے سے بات کی ہے؟
    ب: یہ تو مجھے معلوم نہیں ، وہ کہتے ہیں کہ مردے سنتے ہیں۔
    ا: آپ مولویوں کے کہنے پر نہ رہیں، وہ تو شاید کہہ ہی دیں۔ اس لیے کہ مردوں کے فیوض پر ان کا گزارہ ہے، ایصال ثواب ان کا سہارا ہے، مردوں کے ثوابوں کے سارے پارسل اور منی آرڈر ان کی معرفت جاتے ہیں۔ ختم اور قل شل کی بلٹیاں وہ کرتے ہیں۔ مردوں کی روحیں ان کے پاس آتی رہتی ہیں۔ ان سے کیا بعید ہے کہ وہ یہ بھی کہہ دیں کہ مردے ہم سے باتیں کرتے ہیں۔ اس لیے آپ ان کے کہنے پر نہ رہیں۔ اگر تحقیق کرنی ہے تو خود کسی مردے سے بات کرکے دیکھ لیں۔ آپ کومعلوم ہوجائے گا کہ وہ سنتے ہیں یا نہیں۔
    ب: ہمارے مولوی صاحب تو بہت بڑے عالم ہیں۔ بڑے بڑے مدرسوں سے فارغ ہیں۔
    ا: فارغ تو وہ بالکل ہیں۔ جبھی تو وہ ایسی بات کہتے ہیں۔
    ب: وہ کہتے ہیں کہ حدیثوں میں آتا ہے کہ مردے سنتے ہیں۔
    ا: حدیثوں میں تو یہ بھی آتا ہے کہ مردے بولتے ہیں بلکہ مردے کا بول کر بتانا تو قرآن مجید سے بھی ثابت ہے۔ کیا وہ مردوں کے بولنے کے قائل ہیں؟
    ب: قرآن مجید میں مردوں کے بولنے کے بارے میں کہاں ہے؟
    ا: سورۃ یٰس میں : [قَالَ يَا لَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ 0 بِمَا غَفَرَ لِي رَبِّي وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ [يس : 27-26] مردے ہی کا تو قول ہے۔ اس کے علاوہ پہلے پارے میں بھی مردے کے بولنے کا واقعہ ہے ، جہاں گائے کے ذبح کرنے کا ذکر ہے۔
    ب: وہ تو گائے کے گوشت کا ٹکڑا مارا تھا، جس سے مردے نے زندہ ہوکر اپنے قاتل کے بارے میں بتایا تھا۔
    ا: کیا گائے کا گوشت لگانے سے مردہ زندہ ہوجاتا ہے اور بولنے لگ جاتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو آپ بھی تجربہ کرکے دیکھ لیں۔
    ب: یہ تو اللہ کی قدرت ہے، ہم یہ کیسے کرسکتے ہیں؟
    ا: اگر مردے کو بلانے کا کام اللہ کا ہے تو مردے کا سنانے کا کام بھی اللہ ہی کا ہے، ورنہ مردہ خود کیسے سن سکتا ہے؟
    ب: سن تو خود لیتا ہے، حدیث میں نہیں آتا مردہ جوتیوں کی آواز سنتا ہے، حدیث میں یہ تو نہیں آتا کہ اللہ سناتا ہے، حدیث میں تو یہ ہے کہ مردہ سن لیتا ہے۔
    ا: جس حدیث میں مردے کے بولنے کا ذکر ہے، اس میں بھی تو یہ نہیں کہ اللہ بلاتا ہے، اس میں بھی یہ ہے کہ اگر مردہ نیک ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ ’’مجھے جلدی لے چلو‘‘ اگر نیک نہیں ہے تو کہتا ہے: ’’ہائے! مجھے کہاں لیے جارہے ہو؟‘‘
    ب: اس کو مردے کا بولنا نہیں کہتے، یہ تو اس کا ’’حال‘‘ ہے ’’قال‘‘ نہیں۔ اس کی حالت کو حضورﷺ نے اپنے الفاظ میں بیان کردیا ہے، ورنہ یہ نہیں کہ وہ زبان سے یہ الفاظ کہتا ہے اور اگر اس کے اپنے الفاظ بھی ہوں تو یہ اس کی برزخی زندگی کا معاملہ ہے، اس کا اس دنیا سے کیا تعلق؟ اس کو مردے کا بولنا نہیں کہتے۔ برعکس اس کے اس کے سننے کا معاملہ اس دنیوی زندگی سے متعلق ہے، کیونکہ وہ زندوں کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے، یعنی اس دنیا کی آواز سنتا ہے، اس کو مردے کا سننا ہی کہیں گے۔
    ا: جیسے وہ اس دنیا کی آواز سنتا ہے، ایسے ہی جب وہ بولتا ہے یا چیخ وپکار کرتا ہے تو سوائے انسان کے دنیا کی ہر چیز اس کی آواز کو سنتی ہے ۔ چنانچہ اس حدیث میں یہ الفاظ موجود ہیں: [[font="al_mushaf"]یَسْمَعُ صَوْتَہَا کُلُّ شَیْئٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ
    ][font="al_mushaf"](بخاری، کتاب الجنائز، باب قول المیت وہو علی الجنازۃ: قدمونی، رقم: 1316)[/font]
    ب: انسان اس کی آواز کو کیوں نہیں سنتا؟
    ا: حدیث میں حضورﷺ نے اس کی وجہ بھی بیان فرمائی ہے کہ اگر لوگ سن لیں تو بےہوش ہوجائیں اور مردوں کو قبر وں میں دفن ہی نہ کریں۔
    ب: ہمیں مردے کے بولنے اور شور مچانے کا پتہ تو نہیں لگتا۔
    ا: آپ کو اس کے سننے کا پتہ لگ جاتا ہے؟
    ب: پتہ تو سننے کا بھی نہیں لگتا۔
    ا: پھر آپ کیسے کہتے ہیں کہ مردے سنتے ہیں؟
    ب: حدیث ہی کہتی ہے۔
    ا: حدیث تو بولنے کے بارے میں بھی بتاتی ہے۔ پھر جب دونوں کے بارے میں حدیث ہی کہتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ آپ سننے کو مانتے ہیں اور بولنے کو نہیں مانتے؟
    ب: تو پھر کیا دونوں کو ماننا چاہیے؟
    ا: جب یہ ہے ہی مشاہدے کے خلاف تو آپ کیسے مان سکتے ہیں؟
    ب: آپ نے ہی تو بولنا ثابت کیا ہے، اب آپ دونوں کا انکار کرتے ہیں۔
    ا: اللہ کے بندے میں تو الزاماً بات کی تھی، ورنہ کون کہہ سکتا ہے کہ مردے سنتے ہیں یا بولتے ہیں۔ آپ نے پوچھا تھا: مردے سنتے ہیں یا نہیں؟ میں نے کہا: بات کرکے دیکھ لیں۔ آپ نے کہا: وہ تو بول نہیں سکتے۔ میں نے کہا: پھر وہ سن بھی نہیں سکتے۔ آپ نے کہا: سننا تو حدیث سے ثابت ہے۔ میں نے کہا: ایسے ہی بولنا بھی قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ اب اگر آپ قرآن وحدیث کی رو سے ان کا سننا مانتے ہیں تو ان کا بولنا بھی مانیں، ورنہ دونوں کا انکار کریں۔
    ب: جب حدیث میں آگیا تو انکار کیسے کرسکتے ہیں؟
    ا: حدیث میں یہ تو نہیں کہ مردے سنتے یا بولتے ہیں۔ حدیث میں تو خاص خاص موقعوں کا ذکر ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کسی وقت مردے کو سنا دیتا ہے یا بلا دیتا ہے۔ مردہ ازخود ایسا نہیں کرسکتا۔ آپ مردے کی حقیقت کو تو دیکھیں۔ کیا وہ بول یا سن سکتا ہے؟
    ب: مردے کی حقیقت کیا ہے؟
    ا: حقیقت یہ ہے کہ جب مردے کی جان ہی نکل گئی، نبض بند ہوگئی، تمام طاقتیں ختم ہوگئیں، احساس جاتا رہا، اب وہ کیسے سن سکتا ہے؟ مردہ وہ تو نہیں ہوتا جس میں سننے کی طاقت ہو، بولنے کی نہ ہو۔ مردہ تو وہ ہوتا ہے جو کچھ بھی نہ کرسکے۔ قرآن مجید نے اس آیت میں مردوں ہی کا تو نقشہ کھینچا ہے:
    [أَلَهُمْ أَرْجُلٌ يَمْشُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ أَيْدٍ يَبْطِشُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ أَعْيُنٌ يُبْصِرُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا [الأعراف : 195]
    کیا اب ان کے ایسے پاؤں ہیں جن کے ساتھ وہ چل پھر سکیں؟ ایسے ہاتھ ہیں جن کے ساتھ وہ پکڑ سکیں؟ ایسی آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھ سکیں؟ ایسے کان ہیں جن کے ساتھ وہ سن سکیں؟
    مطلب یہ کہ مرنے کے بعد آدمی یہ اعضاء رکھتے ہوئے بھی کچھ نہیں کرسکتا، کیونکہ جسم میں جان نہیں ہوتی اور اگر اعضاء بھی نہ رہیں ، آگ یا مٹی کھاجائے تو پھر سننے اور بولنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ پھر سنے گا تو کس چیز سے؟ بولے گا تو کس چیز سے؟ اللہ تو اس حالت میں بھی سنا سکتا ہے، لیکن مردے کے بولنے یا سننے کا سوال ختم ہوجاتا ہے، کیونکہ نہ کان، نہ زبان۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
    [فَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاء إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ [الروم : 52]
    اے نبیﷺ! اور تو کوئی مردے کو کیا سنائے گا، آپ بھی مردوں کو نہیں سنا سکتے جیسا کہ بہروں کو نہیں سنا سکتے۔
    بہرے کے کان تو ہوتے ہیں ، لیکن سننے کی طاقت نہیں ہوتی۔ جب وہ نہیں سن سکتا تو مردہ کیا سنے گا جس میں نہ سننے کی طاقت رہی اور نہ سننے کا آلہ؟ ہاں! اللہ تعالیٰ اس حالت میں بھی اس کے ذرات کو سنا سکتا ہے۔ کسی اور کی طاقت نہیں کہ ایسا کرسکے۔ چنانچہ فرمایا:
    [إِنَّ اللَّهَ يُسْمِعُ مَن يَشَاءُ وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ [فاطر : 22]
    اللہ تو جسے چاہے سنا دے، کا ن ہوں یا نہ ہوں، لیکن اے پیغمبرﷺ! آپ ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں۔
    یعنی مردہ ہیں۔ اب اس قدر وضاحت کے بعد کوئی کہہ سکتا ہے کہ مردے سنتے ہیں؟

    [/font]
     
    ابن حسیم نے شکریہ ادا کیا ہے.
  3. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    پیغامات:
    3,848
    جزاکم اللہ خیرا و احسن الجزا۔

    شیخ کی ایک کتاب ''اسلام اور جمہوریت'' شیئر کرنے کا ارادہ ہے۔ اللہ تعالی جلد از جلد یہ کام بھی مکمل کروا دے آمین
     
  4. آزاد

    آزاد ركن مجلس علماء

    پیغامات:
    4,564
    ب: میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ جب یہ مسئلہ اتنا صاف اور واضح ہے تو ’’اہلسنت‘‘ کی اتنی اکثریت کیوں اس کی مخالف ہے؟
    ا: اکثریت اور اقلیت سے حق کو نہیں جانچا کرتے۔ حق کو تو دلیل اور عقل سے جانچتے ہیں۔
    ب: کیا اتنی اکثریت کو آپ غلط کہیں گے؟
    ا: عیسیٰ علیہ السلام کو خدا یا خدا کا بیٹا بنانے والوں کی تعداد آپ کی اکثریت سے کہیں زیادہ ہے۔ آپ اتنوں کو غلط کہیں گے؟ اللہ کے بندے! حق کے مقابلے میں اکثریت کو نہیں دیکھا کرتے۔
    ب: آپ تو صرف آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ آپ حق پر اور ہم جو کہ پچانوے فیصد ہیں، غلطی پر۔ آپ نے بھی خوب کہی۔
    ا: آپ بتائیے! قوموں پر عذاب اکثریت کے بگاڑ سے آتا ہے یا اقلیت کے ؟
    ب: اکثریت کے۔
    ا: اب مسلمانوں پر اقبال ہے یا ادبار؟ مستقل عذاب کی سی صورت ہے یا نہیں؟
    ب: ہیں تو مسلمان ساری دنیا میں ذلیل۔
    ا: تو پھر کیا یہ ذلت آپ کی وجہ سے ہے جو اکثریتی ہیں یا ہماری وجہ سے آٹے میں نمک کے برابر ہیں؟
    ب: ذمہ داری تو اکثریت پر ہی آتی ہے۔
    ا: جب ہی تو میں نے کہا ہے کہ آپ اکثریت کو نہ دیکھیں۔ اگر اکثریت کے عقائد درست ہوتے تو مسلمانوں کی یہ حالت نہ ہوتی۔ آپ سوچیں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اکثریت کے عقائد واعمال درست ہوں اور پھر مسلمانوں کی یہ درگت ہو۔ مسلمانوں کا یہ زوال اس بات کی دلیل ہے کہ اکثریت بگڑی ہوئی ہے۔ عقائد بھی خراب ، اعمال بھی برباد۔ قرآن مجید نے ٹھیک کہا ہے:
    [وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُ فَاتَّبَعُوهُ إِلَّا فَرِيقاً مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ [سبأ : 20]
    شیطان نے انسانوں پر اپنے خیال کو سچا ثابت کردیا، سوائے تھوڑے سے ایمان والوں کے باقی سب اس کے پیچھے ہولیے۔
    ب: شیطان کا کیا خیال تھا جس کو اس نے سچا ثابت کردیا؟
    ا: اس نے کہا: میں اکثریت کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا: [لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ 0 إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [صـ : 83-82] چنانچہ اکثریت گمراہ ہوگئی۔
    ب: اس نے گمراہ کیسے کیا؟
    ا: اس عقیدے کے ساتھ کہ مردے سنتے ہیں۔
    ب: اس عقیدے کا گمراہی سے کیا تعلق؟
    ا: یہ عقیدہ شرک کی بنیاد ہے اور شرک اصل گمراہی ہے۔
    ب: یہ عقیدہ شرک کی بنیاد کیسے ہوگیا؟
    ا: اللہ کے سوا نبیوں، ولیوں، پیروں اور فقیروں کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھ کر جو پکارا جاتا ہے تو یہ اسی عقیدے کے تحت ہے کہ وہ سنتے ہیں۔ اگر عقیدہ یہ ہو کہ وہ مر چکے ہیں اور جو مرجائے، وہ نہیں سنتا تو ان کو کون پکارے ؟ اور یہ پکارنا ہی اصل شرک ہے۔
    ب: شرک کسے کہتے ہیں؟
    ا: اللہ کی ذات ، صفات یا افعال میں کسی کو شریک سمجھنا شرک ہے۔
    ب: اس کا کیا مطلب ہے؟
    ا: اس کا مطلب یہ ہے کہ کبھی شرک ذات کا ہوتا ہے ، کبھی صفات و افعال کا۔ ذات کا شرک یہ ہے کہ کسی کو اللہ کی ذات میں شریک سمجھنا، اسی طرح کہ کوئی اللہ کا جزو ہے یا اللہ کسی کا جزو ہے۔ کوئی اللہ کی اولاد ہے یا اللہ کسی کی اولاد ہے۔ کوئی اللہ سے نکلا ہے یا اللہ کسی میں سے نکلا ہے۔ یعنی اللہ میں اور کسی میں جزو کل یا کسی رشتے ناتے کا تعلق ہے۔ جیسے باپ بیٹے یا آدم وحوا یا ’’[font="al_mushaf"]نُوْرٌ مِّنْ نُوْرِ اللہِ
    ‘‘ کا۔صفات کا شرک یہ ہے کہ اللہ جیسی صفات کسی اور میں ثابت کرنا۔ کسی کو عالم الغیب یا مختارکل یا حی و قیوم سمجھنا۔ افعال کا شرک یہ ہے کہ جیسے کام اللہ کرتا ہے ، اور بھی کرسکتا ہے۔ مثلاً اولاد دینا، صحت دینا، زندہ کرنا وغیرہ۔
    ب: آپ نے تو شرک کو بہت لمبا چوڑا بنا دیا ہے۔ ہم نے تو سنا ہے کہ شرک بتوں کی عبادت کو کہتے ہیں۔
    ا: شرک تو اللہ کا شریک بنانے کو کہتے ہیں، خواہ نبی ، ولی کو بنایا جائے یا پیر فقیر کو۔ زندوں کو بنایا جائے یا مردوں۔ بتوں کو بنایا جائے یا مزاروں کو۔ جب بندہ کسی کو بھی اللہ کی ذات وصفات اور افعال میں شریک سمجھتا ہے تو وہ مشرک ہوجاتا ہے۔ شرک ایک عقیدہ ہے۔ عبادت بتوں کی ہو یا کسی اور کی۔ اس عقیدے کا نتیجہ ہے کہ آدمی مشرک پہلے بنتا ہے، عبادت غیر کی بعد میں کرتا ہے۔ جیسے اللہ پر ایمان پہلے لایا جاتا ہے اور نماز بعدمیں پڑھی جاتی ہے۔
    ب: ہم تو آج تک یہ سمجھتے رہے ہیں کہ غیر اللہ کو سجدہ کرنا ہی شرک ہے۔
    ا: غیر اللہ کی عبادت کوئی بھی ہو، سب شرک ہے۔ عبادت صرف اسی کی ہوسکتی ہے ہے جو خالق ورازق ہو ، مالک و قادر ہو، حی و قیوم ہو، محی و ممیت (زندہ کرنے والا اور مارنے والا) ہو۔ چونکہ اللہ کے سوا کوئی بھی ایسی صفات کا مالک نہیں، اس لیے عبادت کا مستحق بھی اس کے سوا کوئی نہیں۔ بندگی بندے کے مالک کا ہی حق ہے۔ نوکر کسی کا ہو، چاکری کسی کی کرے، یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ شیطان نے انسان کو چونکہ گمراہ کرنا ہے، اس لیے وہ خدا کی مخلوق میں خدائی صفات کا تصور دلاتا ہے، تاکہ شرک ہو۔ وہ کہتا ہے: انبیاء اور اولیاء مرتے نہیں، وہ صرف پردہ کرتے ہیں۔ وہ مرنے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔ وہ سب کچھ سنتے ہیں، دیکھتے ہیں۔ جب یہ عقیدہ ٔ شرک راسخ ہوجاتا ہے تو پھر ان کی عبادت شروع ہوجاتی ہے اور غائب کو حاجت روا سمجھ کر پکارنا سب سے بڑی عبادت ہے۔ عبادت بدنی ہو یامالی، قولی ہو یا فعلی، کسی قسم کی بھی ہو، جبھی ہوتی ہے جب ان میں خدائی صفات مان لی جاتی ہیں۔ اگر عقیدہ یہ ہو کہ وہ مر گیا ہے اور اب کچھ نہیں کرسکتا، حتیٰ کہ سن بھی نہیں سکتا تو شرک کبھی نہیں ہوسکتا۔ اللہ نے موت رکھی ہی اس لیے ہے کہ سب کی بےبسی اور عاجزی ظاہر ہوجائے اور شرک نہ ہو۔ یہ عقیدہ کہ مردے سنتے ہیں، موت کی تاثیر کو ختم کردیتا ہے۔ پھر شرک پیدا ہوتا ہے۔ اللہ انبیاء اور اولیاء کو موت دے کر شرک مٹاتا ہے۔ مشرکین ان کو زندہ ثابت کرکے کہ وہ سنتے ہیں، دیکھتے ہیں، فیض پہنچاتے ہیں، شرک پھیلاتے ہیں۔ اگر یہ شیطانی مفروضات نہ ہوں تو شرک کا کاروبار چل ہی نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مشرکین اس عقیدے کا دفاع کرتے ہیں اور قرآن اس کا رد کرتا ہے۔ قرآن مردوں کے بولنے، چلنے، پھرنے ، کھانے پینے یا کسی اور فعل کی نفی پر اتنا زور نہیں دیتا جتنا سننے کی نفی پر زور دیتا ہے کیونکہ دوسرے تمام افعال نظر آتے ہیں، ان کا جھوٹ نہیں چل سکتا، سننے کا جھوٹ چل سکتا ہے۔ کیونکہ اس کا پتہ نہیں لگتا۔ اس لیے قرآن سننے کی تردید بہت کرتا ہے۔ زندہ اور مردے کے فرق تو کئی لحاظ سے ہے لیکن قرآن سننے کے فرق کو ہی نمایاں کرتا ہے۔ چنانچہ فرمایا:
    [وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاء وَلَا الْأَمْوَاتُ إِنَّ اللَّهَ يُسْمِعُ مَن يَشَاءُ وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ [فاطر : 22]
    زندے اور مردے برابر نہیں۔ ان میں بڑا فرق ہے۔ فرق یہ ہے کہ زندہ سنتا ہے ، مردہ سنتا نہیں، زندہ کو ہر کوئی سنا سکتا ہے، مردے کو اللہ سنائے تو سنائے، اور کوئی نہیں سنا سکتا ، حتیٰ کہ اے نبیﷺ آپ بھی مردے کو نہیں سنا سکتے۔
    اگر کوئی سمجھے تو موت ہے ہی شرک کی کمر توڑنے کےلیے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہر نبی، ولی پر موت وارد کی تاکہ لوگ ان کو اللہ کا شریک نہ بنائیں۔ وہ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے مرے اور دفن ہوئے۔ اس طرح اللہ نے ان کی بےبسی اور عاجزی کو خوب ظاہر کردیا کہ جو خود مر گئے ، وہ کسی کو کیا بچا یا فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ وہ تو اب سننے بولنے سے بھی عاجز ہیں، فائدہ کیا پہنچائیں گے۔لہٰذا ان کو سہارا سمجھنا اور مشکل کشا جاننا حماقت ہے۔ پکارنے اور سہارا بنانے کے لائق صرف اللہ کی ذات ہے، جس کو موت نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    [هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ [غافر : 65]
    وہ زندہ ہے، وہی الہٰ ہے، اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ عقیدہ درست کرکے اسی کو پکارو۔
    یعنی پکارے جانے کے لائق وہ ذات ہے، جو زندہ ہے، جسے موت نہیں۔ پھر فرمایا:
    [وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ [الفرقان : 58]
    بھروسا بھی اسی زندہ پر کرو جسے موت نہیں۔
    جس کےلیے موت ہو، اس پر کیا بھروسا؟ شرک کروانے کےلیے شیطان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ نبیوں ولیوں کو مردہ نہ ہونے دے بلکہ ان کو زندہ ثابت کرے۔ اس لیے کبھی وہ کہتا ہے:
    [font="al_mushaf"]أَلَا إِنَّ أَوْلِیَآءَ اللہِ لَا یَمُوْتُوْنَ[/font]
    اولیاء مرتے ہی نہیں، بلکہ دنیا سے پردہ کرلیتے ہیں۔
    کبھی وہ کہتا ہے:
    بزرگ مرنے کے بعد بھی اپنی قبروں میں دنیا کی طرح زندہ ہوتے ہیں اور سب کچھ کرتے ہیں۔
    کبھی وہ کہتا ہے:
    مردے سارے ہی سنتے ہیں۔ جب سارے ہی سنتے ہیں تو انیباء اور اولیاء تو بطریق اولیٰ سنتے ہوں گے۔ جب وہ سنتے ہیں تو ان کو پکارنے میں کیا حرج؟ ان کو تو دنیا میں بھی اللہ کا قرب حاصل تھا۔ مرنے کے بعد تو اور قرب حاصل ہوجاتا ہے۔ اس لیے ان کی طاقتوں میں بہت اضافہ ہوجاتا ہے۔ جو کام پہلے دنیاوی زندگی میں وہ نہیں کرسکتے تھے، اب کرسکتے ہیں۔ وہ خود بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ اللہ سے بھی بذریعہ سفارش بہت کچھ کروا سکتے ہیں۔ لہٰذا ان کو پکارنا چاہیے۔
    مشرکوں کو مردوں کے سننے کے عقیدہ کی اصل میں ضرورت تو انبیاء اور اولیاء کےلیے تھی تاکہ ان کو خدا کا شریک بنایا جاسکے۔ لیکن چونکہ ان کےلیے کوئی خاص دلیل نہ تھی، انہیں عام نصوص سے کام لینا پڑتا ہے جو بطور اعجاز خداوندی عام مردوں کےلیے تھیں، اس لیے مسئلہ یہ بنایا کہ مردے سنتے ہیں، ورنہ عام مردوں کے سننے سے مشرکوں کو کوئی دلچسپی نہیں۔ چونکہ عام مردوں کے سننے سے خواص کا سننا بطریق اولیٰ ثابت ہوتا ہے اور علیحدہ ان کے سننے کی کوئی دلیل نہیں ، اس لیے عام مردوں کے سننے پر زور دیا جانے لگا اور استدلال ان نصوص سے کیا جانے لگا جو اللہ کی قدرت پر دال ہیں نہ کہ مردوں کے سننے پر۔ اگرچہ شیطان اپنی ان چالوں میں بہت کامیاب ہے، اس نے مسلمانوں کی اکثریت کو گمراہ کرلیا ہے، کیونکہ یہ عقیدہ بہت عام ہے ۔لیکن عقل والا سمجھ سکتا ہے کہ یہ عقیدہ بالکل بےبنیاد ہے۔ ایک طرف مردہ کہنا اور دوسری طرف یہ کہنا کہ وہ سنتا ہے، صریح تضاد ہے۔ وہ مردہ ہی کیا ہوگا جو سنے؟ سننا زندوں کا کام ہے، نہ کہ مردوں کا۔
    ب: یہ عقیدہ بےبنیاد کیسے ہے؟ قبرستان میں جاکر جب سلام کیا جاتا ہے تو مردے سنتے ہیں؟
    ا: کہاں سنتے ہیں؟
    ب: اگر نہیں سنتے تو قبرستان جاکر السلام علیکم کیوں کہا جاتا ہے؟
    ا: جب آپ کسی کو خط لکھتے ہیں تو السلام علیکم خطاب کے صیغے سے کیوں لکھتے ہیں؟ کیا وہ اس وقت سنتا ہے؟
    ب: سنتا تو نہیں لیکن ہم خط میں اس سے مخاطب ہوتے ہیں، اس لیے ان کو حاضر سمجھ لیتے ہیں۔
    ا: ایسے ہی ہم دعا میں مردوں کو سمجھ لیتے ہیں، اگر وہ سنتے نہیں۔
    ب: لیکن خط تو اس کو پہنچنا ہی ہوتا ہے۔
    ا: ہمارا سلام بھی مردوں کو بذریعہ خدائی ڈاک پہنچنا ہی ہوتا ہے۔
    ب: کیا مردے ہمارے سلام کا جواب نہیں دیتے؟
    ا: صحیح تو یہ ہے کہ جواب نہیں دیتے۔ کیونکہ ہمارا سلام سلام تحیہ نہیں ہوتا جس کے جواب کی ضرورت ہو بلکہ سلام دعا ہوتا ہے، جو بطور دعا ان کو پہنچ جاتا ہے۔لیکن اگر مان لیا جائے کہ وہ جواب دیتے ہیں تو اس کی صورت وہی ہوتی ہے جو خط کے سلام اور اس کے جواب کی ہوتی ہے، جس میں سننا سنانا مقصود نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ ایک دوسرے سے دور ہوتے ہیں، بلکہ پہنچانا مقصود ہوتا ہے۔مردے کا سلام وجواب بھی کلام کی قسم سے نہیں ہوتا کہ مردہ زندے کا سلام سنے اور زندہ مردے کا، کیونکہ ان میں بہت بُعْد (فاصلہ) ہوتا ہے۔ایک اس جہان میں ہوتا ہے ، دوسرا اگلے جہان میں، سوائے خدائی ذریعے کے ارسال وترسیل کی صورت نہیں ہوتی۔ جب خدائی ڈاک سے زندے کا سلام مردے کو پہنچتا ہے جیسے اور دعائیں پہنچتی ہیں تو وہ جواباً دعا دیتا ہے۔ یہ نہیں کہ وہ زندے کا السلام علیکم سن کر وعلیکم السلام کہتا ہے۔ (جیسا کہ کلام کیا جاتا ہے)

    [/font]
     
  5. ranaawaiss

    ranaawaiss -: معاون :-

    پیغامات:
    20
    رسائل بہاولپوری


    رسائل بہاولپوری

    عناوین صفحہ نمبر

    عرض ناشر
    6

    کچھ کتاب کے بارے میں
    8

    کچھ مصنف کے بارے میں
    9

    بہاول پور اداس ہے
    10

    پروفیسر حافظ عبداللہ بہاولپوری
    23

    پروفیسر حافظ عبداللہ بہاولپوری کی یاد میں(نظم)
    27

    اصلی اہل سنت
    29

    ہم نماز میں رفع الیدین کیوں کرتے ہیں؟
    109

    مسنون تراویح
    117

    نماز عید اور مسائل قربانی
    153

    تقلید کے خوفناک نتائج
    209

    مسئلہ رفع الیدین
    257

    الاستفتاء
    355

    مولوی بشیر احمد قادری کے آمدہ خط کا جواب
    361

    اویسی صاحب مسجد سیرانی کے نام
    395

    اہل سنت کی دعوت
    413

    اہل سنت کا امتحان
    419

    جمہوریت اسلامی کیسے؟
    425

    جمہوریت اسلامی کی نظر میں
    445

    اسلام اور جمہوریت میں فرق
    469

    مفتی محمود اور اتحادیوں کےنام
    509

    صدر پاکستان سے اسلامیان پاکستان کا مطالبہ
    533

    دعوت حق واتحاد
    543

    ہر اہل حدیث کے نام
    575

    جماعت المسلمین پر ایک نظر
    655

    رکوع کے بعد ہاتھ باندھنا
    773

    مولانا حق نواز جھنگوی کے آمدہ خط کا جواب
    870


    مولانا عبداللہ بہاولپوری کا شمار مسلک اہل حدیث کے نامور خطبا اور واعظین میں ہوتا ہے۔ آپ نے اپنی زندگی کو سلف صالحین کے ساتھ تمسک اور اس کے پرچار کے لیے وقف کر دیا۔ مسلک اہل حدیث کی حقانیت ثابت کرنے کے حوالے ان کی بے شمار خدمات ہیں۔ آپ ایک صاحب ورع و تقوی شخصیت اور درد دل رکھنے والے انسان تھے۔ مولانا نے اپنی زندگی میں مختلف رسائل و مضامین لکھے۔ انہی رسائل کو افادہ عام کے لیے یکجا کتابی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ جس میں رفع الیدین، قربانی، روزہ اور تراویح کے مسائل کے علاوہ تقلید کے نتائج کے حوالے سے خصوصی مضمون شامل کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ جمہوریت کے حوالے سے اپنی نگارشات پیش کرتے ہوئے اہل حدیث حضرات کے نام بھی بہت سارے رسائل لکھ کر ان کو دعوت فکر و عمل دی ہے جس سے اہل حدیث عاری ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
     
  6. آزاد

    آزاد ركن مجلس علماء

    پیغامات:
    4,564
    ب: کیا مردے سلام خود نہیں سنتے؟
    ا: اللہ کے بندے ! وہ مردے ہیں، وہ کیا سنیں گے؟
    ب: ہم نے تو یہی سنا ہے کہ وہ سلام سنتے ہیں اور جواب دیتے ہیں۔
    ا: کبھی آپ نے ان کا جواب سنا ہے؟
    ب: سنا تو کبھی نہیں۔
    ا: پھر اس جواب کا فائدہ کیا جو آپ کو سنائی نہ دے؟
    ب: ہم ان کا جواب کیسے سن سکتے ہیں؟
    ا: جیسے وہ ہمارا سن لیتے ہیں، وہ مرے ہوئے سن لیں ، آپ زندہ نہیں سن سکتے؟
    ب: موت کے بعد تو مردے میں بہت طاقت آجاتی ہے۔ اس لیے وہ سن سکتا ہے، ہم نہیں سن سکتے۔
    ا: جب ان میں بہت طاقت آجاتی ہے تو پھر وہ ہمیں کیوں نہیں سنا دیتے؟ یا تو سلام کا جواب نہ دیں اور اگر جواب دیتے ہیں تو پھر ہمیں سنائیں۔ وہ جواب ہی کیا ہوا جو سنائی نہ دے۔
    ب: انہیں ہمیں سنانے کی کیا ضرورت ہے؟
    ا: جو ضرورت انہیں سننے کی ہے۔ اگرمردوں کو سلام کا جواب سنانے کی ضرورت نہیں تو ہمارا سلام سننے کی بھی ضرورت نہیں۔ ہمارا سلام دعا ہے، جو اللہ خودبخود پہنچا دیتا ہے۔ اس میں سننے سنانے کے تکلف کی کیا ضرورت ؟
    ب: مردوں کا تو حق ہے کہ ہم ان کو سلام بھیجیں اور مختلف عمل کرکے ان کو ثواب پہنچائیں۔
    ا: جب وہ زندہ ہیں تو ان کو ثواب پہنچانے کی کیا ضرورت؟ ایصال ثواب تو مردوں کو کیا جاتا ہے، نہ کہ زندوں کو۔ زندہ تو خود عمل کرلیتا ہے، عمل تو مردہ نہیں کرسکتا۔ حدیث میں ہے:
    [font="al_mushaf"]إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ اِنْقَطَعَ عَنْہٗ عَمَلُہٗ

    مرنے کے بعد آدمی کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے۔ [font="al_mushaf"](مسلم، کتاب الوصیہ، باب ما یلحق الإنسان من الثواب بعد وفاتہ، رقم: 14-4223)[/font]
    وہ کوئی عمل نہیں کرسکتا، حتیٰ کہ سلام کا جواب بھی نہیں دے سکتا کیونکہ یہ بھی ایک عمل ہے جس کا ثواب مرتب ہوتا ہے۔
    ب: آپ کہتے ہیں: مردہ کوئی عمل نہیں کرسکتا، حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے موسیٰ علیہ السلام کو قبر میں نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
    ا: حدیث میں تو یہ بھی آتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے موسیٰ علیہ السلام کو لبیک لبیک پکارتے ٹیلے سے اترتے ہوئے، حج کو جاتے دیکھا ہے۔ اسی طرح یونس علیہ السلام کو سرخ اونٹنی پر لبیک لبیک پکارتے ہوئے دیکھا ہے۔
    ب: جب موسیٰ علیہ السلام کو قبر میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو فوت شدگان کا عمل کرنا تو ثابت ہوگیا۔
    ا: جب تلبیہ پکارتے ہوئے حج کو جاتے دیکھا تو حج کرنا ثابت نہ ہوا؟
    ب: حضورﷺ نے دیکھا تو حج کرنا بھی ثابت ہوگیا۔
    ا: اگر وہ حج کرتے ہیں تو حج کرتے ہوئے لوگوں کو نظر کیوں نہیں آتے؟
    ب: جب وہ اس جہان سے چلے گئے تو اب نظر کیسے آسکتے ہیں؟
    ا: یہی تو ہم کہتے ہیں کہ جب وہ اس جہان سے چلے گئے ہیں اور برزخ میں پہنچ چکے ہیں تو اب وہ حج کیسے کرسکتے ہیں؟ حج تو زندوں پر ہے جو اس جہان کے باشندے ہیں، نہ کہ مردوں پر جو کہ برزخی زندگی گزار رہے ہیں۔
    ب: جب حضورﷺ نے ان کو حج کرتے دیکھا تو وہ حج کرتے ہیں۔
    ا: اگر وہ حج کرتے ہیں تو صحابہ رضی اللہ عنہم جو حضورﷺ کے ساتھ تھے، ان کو وہ نظر کیوں نہ آئے؟
    ب: ممکن ہے اس وقت صحابہ رضی اللہ عنہم ساتھ نہ ہوں۔
    ا: حج بھی کبھی اکیلے ہوتا ہے؟ حج تو نویں تاریخ کو دن میں ہوتا ہے اور سب اکھٹے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسلم شریف کی حدیث میں صراحت ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم آپ کے ساتھ تھے۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ یہ کون سی پہاڑی ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے بتایا ۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: گویا کہ میں موسیٰ علیہ السلام کو تلبیہ پکارتے ہوئے ٹیلے سے اترتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اس طرح سرخ اونٹنی پر یونس علیہ السلام کو تلبیہ کہتے ہوئے دیکھا۔ جب حضورﷺ نے ہی دیکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو نظر نہ آیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ حضورﷺ کا معجزہ تھا جو اللہ نے ان کو ان نبیوں کی دنیوی زندگی کی ایک جھلک دکھا دی۔ یہ نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام حقیقتاً اس وقت قبر میں نماز پڑھ رہے تھے یا لبیک لبیک پکارتے حج کو جارہے تھے۔ اس لیے حضورﷺ نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے کہا: گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں: ’’[font="al_mushaf"]کَأَنِّيْ أَنْظُرُ[/font]‘‘ [font="al_mushaf"](مسلم، کتاب الایمان، باب الإسراء برسول اللہ ﷺ إلی السماوات وفرض الصلوات، رقم: 420)[/font]
    یعنی فی الواقع وہ اس وقت نماز نہیں پڑھ رہے تھے، وہ مثالی صورت تھی۔
    ب: جب آپ ﷺ نے دیکھا تو یہ ضرور حقیقت ہوگی۔
    ا: حقیقت تو تھی لیکن حقیقت دنیوی زندگی کی تھی جو اللہ نے اس وقت دکھائی۔
    ب: حضورﷺ نے جب موسیٰ علیہ السلام کو قبر میں نماز پڑھتے دیکھا تو وہ موسیٰ علیہ السلام ہی ہوں گے۔
    ا: تھے تو وہ موسیٰ علیہ السلام ہی، لیکن وہ منظر ان کی دنیوی زندگی کا تھا۔ وہ اس وقت موجود نہ تھے بلکہ عالم مثال تھا۔ جیسے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو آپﷺ نے معراج کی رات جوتوں سمیت جنت میں چلتے پھرتے دیکھا۔ حالانکہ وہ اس وقت دنیا میں زندہ موجود تھے، ابھی فوت نہیں ہوئے تھے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا عالم آخرت کا نقشہ حضورﷺ کو دکھا دیا، ایسے ہی موسیٰ علیہ السلام کی دنیوی زندگی کا نقشہ دکھا دیا۔ ایسے واقعات سے یہ استدلال کرنا کہ فوت شدگان زندہ ہیں اور عمل کرتے ہیں، صحیح نہیں کیونکہ یہ برزخی زندگی کے معاملات ہیں جو کہ خرق عادات ہیں۔ ان سے کوئی عموم کشید کرنا زیادتی ہے۔ مردے مردے ہیں، نہ سنتے ہیں، نہ بولتے ہیں، نہ نماز پڑھتے ہیں، نہ حج کرتے ہیں۔ اللہ جس حالت میں چاہے ان کو دکھا دے یا جو چاہے کروا دے، لیکن جو وہ کریں گے، وہ ان کا فعل نہ ہوگا، بلکہ اللہ کا فعل ہوگا۔ جیسے اگر کوئی کسی کو اتفاق سے کہیں مل جائے تو یہ نہیں کہیں گے کہ وہ وہاں رہتا ہے۔ اگر کسی کو راستے میں کوئی روپیہ پیسہ مل جائے تو یہ نہیں کہیں گے کہ فلاں جگہ پیسے ملتے ہیں۔ یہ تو اتفاق ہے جس کےلیے عموم نہیں ہوسکتا۔ آپ جو کہتے ہیں کہ مردے سلام سنتے ہیں اور جواب دیتے ہیں۔ پھر اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ مردے سنتے ہیں تو آپ یہ بتائیں کہ اگر ان سے کچھ اور پوچھا جائے تو کیا وہ سنیں گے اور جواب دیں گے؟
    ب: میں یہ تو نہیں کہہ سکتا۔
    ا: پھر آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مردے سنتے ہیں۔ اگر مردے سنتے ہوں اور جواب دیتے ہوں تو سب کچھ سنیں اور جواب دیں۔یہ تو نہیں کہ صرف سلام سنیں اور سلام کا ہی جواب دیں۔ نہ اور کچھ سنیں اور نہ کسی بات کا جواب دیں۔ اگر وہ اپنی طاقت سے سلام سنتے اور جواب دیتے ہیں تو وہ سب کچھ سنیں اور جواب دیں۔ لیکن اگر وہ صرف سلام ہی سن سکتے ہوں اور صرف اس کا ہی جواب دے سکتے ہوں تو پھر ظاہر ہے کہ وہ زندہ نہیں اور سلام سننا اور جواب دینا ان کافعل نہیں بلکہ اللہ کا فعل ہے۔ جسے خرق عادت کہیں گے۔ خرق عادت یا معجزہ اسی جزئی یا خاص واقعہ پر بند رہتا ہے۔ اس سے عام استدلال نہیں کیا جاسکتا۔
    ب: مردہ جوتیوں کی آہٹ تو سنتا ہے۔ جب اسے قبر میں بند کرکے جاتے ہیں یا وہ بھی نہیں سنتا؟
    ا: وہ تو سنتا ہے۔
    ب: پھرمردوں کا سننا تو ثابت ہوگیا۔
    ا: مردوں کا سننا ثابت نہ ہوا، اللہ کا سنا دینا ثابت ہوا، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور خاص موقع کا ذکر ہے۔ اس سے یہ کیسے ثابت ہوگیا کہ مردے سنتے ہیں۔ اس سے تو بلکہ یہ ثابت ہوا کہ مردہ نہیں سنتا۔ اگر مردہ سنتا تو حدیث میں یہ ذکر نہ ہوتا کہ جب مردے کو دفن کرکے جاتے ہیں تو وہ جانے والوں کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے بلکہ عام بات ہوتی کہ انسان مرنے کے بعد بھی ہر آواز ہر وقت سنتا ہے۔ اس میں جانے والوں کے جوتوں کی آواز بھی آجاتی اور آنے والوں کی بھی اور عام باتیں بھی۔ کیونکہ خاص سے عام ثابت نہیں ہوتا بلکہ عام سے خاص ثابت ہوجاتا ہے۔ جب حدیث میں عام ذکر نہیں ہے بلکہ خاص ذکر ہے کہ وہ جانے والوں کے صرف جوتوں کی آواز سنتا ہے تو ان کی باتیں نہیں سنتا۔
    ب: جب سنتا ہے تو سب کچھ ہی سنتا ہوگا۔
    ا: بھئی! حدیث کو تو دیکھو جو آپ نے پیش کی ہے۔ اس میں تو صرف جانے والوں کی آہٹ کے سننے کا ذکر ہے ۔ اگر وہ سب کچھ ہی سنتا ہوتا تو پھر اس کو خاص کرنے کا فائدہ؟
    ب: یہ خاص موقع کی بات نہیں بلکہ حدیث کا مطلب ہے کہ مردہ جوتیوں کی آہٹ تک سنتا ہے۔ جس سے دلالتاً ثابت ہوگیا کہ وہ سب کچھ اور ہر وقت سنتا ہے۔
    ا: جوتیوں کی آہٹ تو آنے والوں اور جانے والوں کی برابر ہے، پھر جانے والوں کو خاص کرنے کا کیا فائدہ؟
    ب: اس فائدہ کا مجھے پتہ نہیں، لیکن فی الجملہ یہ تو ثابت ہوگیا کہ وہ سنتا ہے۔ مقید کے ضمن میں مطلق آ ہی جاتا ہے۔
    ا: حدیث کا مقصود یہ بتانا نہیں کہ مردے سنتے ہیں بلکہ یہ بتانا ہے کہ جب لوگ میت کو دفن کرکے جاتے ہیں تو اسے احساس دلایا جاتا ہےکہ دیکھ جن کی وجہ سے تو مارا مارا پھرتا تھا، حلال حرام، جائز ناجائز کی بھی کوئی تمیز نہیں رکھتا تھا۔ اب تجھے تنہا چھوڑ کر جارہے ہیں۔ کوئی تیرا ساتھ نہیں دے سکتا۔ اس لیے چھوڑ کر جانے والوں کے جوتوں کی آہٹ سنائی جاتی ہے، نہ آنے والوں کی آہٹ، نہ جانے والوں کی باتیں کیونکہ اکیلے رہ جانے اور چھوڑ جانے کا احساس اسی سے ہوسکتا ہے۔
    ب: حدیث کا مقصود کچھ بھی ہو، سننا تو ثابت ہوگیا۔ کسی وقت سننے سے ہر وقت سننے کی نفی تو نہیں ہوتی۔
    ا: اس سے ہر وقت سننا بھی تو ثابت نہیں ہوتا۔
    ب: جب ایک دفعہ سننا ثابت ہوگیا تو ثابت ہوا کہ مردے سنتے ہیں۔ آپ جب اب سنتے ہیں تو پھر بھی سن سکیں گے۔ یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ پھر آپ نہیں سنیں گے۔ جو ایک وقت سن سکتا ہے، وہ ہر وقت سن سکتا ہے۔
    ا: ارے! میں تو زندہ ہوں اور سننا میرا فعل ہے، اس لیے میں تو ہر وقت سن سکتا ہوں۔ لیکن بات تو مردے کی ہورہی ہے۔ آپ مردے کو زندے پر قیاس کرتے ہیں۔ سوتے اور جاگتے میں بہت فرق ہے۔ جاگتا سنتا ہے اور سویا ہوا نہیں سن سکتا۔ زندہ اور مردہ میں تو اس سے بھی زیادہ فرق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
    [وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاء وَلَا الْأَمْوَاتُ إِنَّ اللَّهَ يُسْمِعُ مَن يَشَاءُ وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ [فاطر : 22]
    زندے اور مردے برابر نہیں۔ ان میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ زندہ سنتا ہے، مردہ نہیں سنتا۔ اللہ تو جسے چاہے، سنا دے۔ وہ تو مردے کو بھی سنا سکتا ہے۔ لیکن اے نبیﷺ! آپ مردے کو نہیں سنا سکتے، آپ صرف زندے کو ہی سنا سکتے ہیں۔
    ثابت ہوا کہ زندہ تو خود سنتا ہے، لیکن مردہ نہیں سن سکتا۔ مردے کو تو جب سنائے، اللہ ہی سنائے۔
    ب: جب اللہ سناتا ہے ،پھر تو سنتا ہے؟
    ا: ہاں! پھر تو سنتا ہے۔
    ب: سننا تو پھر بھی ثابت ہوگیا۔
    ا: اللہ اگر پتھر کو سنائے تو وہ نہیں سنے گا؟
    ب: تو پھر، پتھر کےلیے بھی سننا ثابت ہوگیا۔
    ا: کیا آپ کہیں گے کہ پتھر بھی سنتے ہیں؟
    ب: پتھر اور بندے میں تو بہت فرق ہے۔
    ا: پتھر اور بندے میں تو بہت فرق ہے لیکن پتھر اور مردے میں تو سننے اور دیکھنے کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ جیسے پتھر میں سننے کی طاقت نہیں، ایسے ہی مردے میں بھی سننے کی صلاحیت نہیں۔
    ب: جب مردے میں سننے کی صلاحیت نہیں تو پھر مردہ جوتیوں کی آہٹ کیسے سن لیتا ہے؟
    ا: وہ تو اللہ سناتا ہے۔ اس کو مردے کا سننا نہیں کہتے۔
    ب: سنتا تو مردہ ہی ہے۔ مردے کا سننا کیوں نہیں کہتے؟
    ا: یہ نسبت مجازی ہے۔ حقیقت میں یہ فعل مردے کا نہیں ہوتا، اللہ کا ہوتا ہے۔ چونکہ مردہ اللہ کے اس فعل کےلیے محل ہوتا ہے، اس لیے مجازاً نسبت مردے کی طرف کردیتے ہیں،جیسے ہم کہتے ہیں کہ فلاں اسٹیشن آگیا، حالانکہ آنے کا کام گاڑی کرتی ہے۔ نسبت اسٹیشن کی طرف کردیتے ہیں۔ اسی طرح ریڈیو ، ٹیپ ریکارڈ اور گراموفون ہیں۔ ہم کہتے ہیں: ریڈیو بولتا ہے، حالانکہ بولنا اس کا فعل نہیں، مجازاً اس کی نسبت اس کی طرف کردیتے ہیں کیونکہ بظاہر فعل کا ظہور اس سے ہوتا ہے۔ کوئی فعل کسی کا اس وقت کہلاتا ہے جب وہ اس کو اپنے شعور اور ارادے اور اپنی طاقت سے کرے جو اللہ نے اس میں مستقل طور پر ودیعت کر رکھی ہے۔ مردہ چونکہ مردہ ہے، اس میں احسان اور ارادہ نہیں ہوتا،اس لیے اس کے کسی فعل کو اس کا فعل نہیں کہتے۔ وہ حقیقت میں اللہ کا فعل ہوتا ہے۔ جسے اعجاز کہتے ہیں اور اعجاز میں عموم نہیں ہوتا کہ آپ اس پر قیاس کریں۔ موسیٰ علیہ السلام کا عصا جب اللہ چاہتا تھا، سانپ بن جاتا تھا۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ لاٹھیاں سانپ بن جاتی ہیں۔ حضورﷺ معراج میں آسمانوں پر گئے، ہم نہیں کہہ سکتے کہ انسان آسمانوں پر جا سکتے ہیں۔ لہٰذا یہ نتیجہ نکالنا غلط ہے کہ جب مردہ جوتیوں کی آہٹ سنتا ہے تو وہ سب کچھ سنتا ہوگا۔ جیسا کہ ہم سب کچھ سنتے ہیں۔ ہم زندہ ہیں، وہ مردہ ہیں۔ زندے اور مردے میں یہی فرق ہے کہ زندہ اپنی طاقت سے سنتا ہے اور مردے میں وہ طاقت نہیں ہوتی۔ اس لیے وہ نہیں سن سکتا۔ زندہ بھی اس وقت تک سن سکتا ہے جب تک اس میں وہ طاقت رہتی ہے۔ آپ بتائیں کہ جب آدمی سو جاتا ہے تو پھر بھی سنتا ہے؟
    ب: پھر تو وہ نہیں سنتا۔
    ا: جب سویا ہوا آدمی نہیں سن سکتا تو مردہ کیسے سنے گا؟
    ب: شہداء تو سنتے ہوں گے، وہ تو زندہ ہیں۔
    ا: شہید کسے کہتے ہیں؟
    ب: جو اللہ کی راہ میں قتل ہوجائے۔
    ا: قتل ہونے کے بعد شہید بنتا ہے یا پہلے؟
    ب: بنتا تو قتل ہونے کے بعد ہی ہے۔
    ا: جان نکلنے سے پہلے تو کوئی شہید نہیں ہوسکتا؟
    ب: نہیں۔
    ا: پھر شہید زندہ کیسے ہوا؟ زندہ تو غازی ہوتا ہے، شہید نہیں ہوتا۔
    ب: سنا ہے کہ شہید تو مرتے ہی نہیں۔
    ا: اگر مرتے نہیں تو شہید کیسے ہوجاتے ہیں؟ شہید تو ہوتا ہی وہ ہے جو اللہ کی راہ میں مر جائے، یعنی شہادت ملتی ہی موت کے بعد ہے۔
    ب: کیا قرآن مجید نہیں کہتا کہ شہید زندہ ہیں؟
    ا: قرآن مجید کہاں کہتا ہے کہ شہید زندہ ہیں؟ قرآن مجید تو پہلے شہداء کےلیے موت ثابت کرتا ہے،پھر برزخی زندگی کی خبر دیتا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے:
    [وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتاً بَلْ أَحْيَاء عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ [آل عمران : 169]
    جو جہاد میں مارے جاتے ہیں، ان کو مردہ خیال نہ کرو۔ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، رزق دیے جاتے ہیں۔
    قرآن شہید کو دنیا کے اعتبار سے مردہ اور اگلے جہان کے اعتبار سے زندہ بتاتا ہے۔ قرآن یہ نہیں کہتا کہ شہید دنیا میں زندہ ہیں، سنتے ہیں، دیکھتے ہیں یا کوئی اور کام کرتے ہیں۔
    ب: اگلے جہان میں تو سارے ہی زندہ ہیں، پھر شہیدوں کی کیا خصوصیت؟
    ا: کیا شہیدوں کی خصوصیت اسی میں ہے کہ وہ دنیا میں واپس آجائیں گے؟
    ب: آخر یہ خصوصیت تو ہے کہ وہ مر کر بھی زندہ ہیں۔
    ا: کہاں؟ دنیا میں یا برزخ میں؟
    ب: دونوں جگہ۔ دنیا میں بھی اور برزخ میں بھی۔
    ا: دونوں جگہ کیسے ہوسکتے ہیں؟ آپ جانتے ہیں کہ برزخی زندگی کب شروع ہوتی ہے؟
    ب: جب آدمی مر جاتا ہے۔
    ا: یعنی دنیوی زندگی ختم ہونے پر؟
    ب: ہاں!
    ا: جب برزخی زندگی دنیوی زندگی کے ختم ہونے پر شروع ہوتی ہے تو دونوں جمع کیسے ہوسکتی ہیں؟ کیا دن رات جمع ہوسکتے ہیں؟ کیا جوانی اور بڑھاپا جمع ہوسکتے ہیں؟ جب ایک چیز کی ابتدا دوسری کی انتہا ہو تو ایسی چیزیں کبھی جمع نہیں ہوسکتیں۔ جیسے دن رات جمع نہیں ہوسکتے۔ دن ختم ہوگا تو رات آئے گی۔ جیسے بچپن، جوانی اور بڑھاپا جمع نہیں ہوسکتے کیونکہ ایک ختم ہو گا تو دوسرا آئے گا۔
    اسی طرح یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک شخص دنیا میں بھی زندہ ہو اور برزخ میں بھی ۔ اگر دنیا میں زندہ ہے تو برزخ میں نہیں۔ اگر برزخ میں زندہ ہے تو دنیا میں نہیں، کیونکہ دنیوی زندگی ختم ہونے کے بعد برزخی زندگی شروع ہوتی ہے۔ انسانی زندگی کا سفر پیدائش سے شروع ہوتا ہے۔ پہلے بچپن، پھر جوانی، پھر بڑھاپا۔ پھر موت کے دروازے سے برزخ۔ پھر آخرت، پھر اصلی ٹھکانا: جنت یا دوزخ۔ اس پر یہ سفر ختم ہوجاتا ہے۔ جب سے یہ سفر شروع ہوتا ہے، آدمی کا رُخ آگے کی طرف ہی رہتا ہے۔ آگے کی طرف قدم سست یا تیز ہوسکتا ہے، پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔یہ تو ہوسکتا ہے کہ بچپن میں ہی موت آجائے، جوانی اور بڑھاپے کی نوبت ہی نہ آئے، لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ جوان پھر بچہ بن جائے یا بوڑھا پھر جوان ہوجائے۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ برزخ میں ہی اخروی لذتیں حاصل ہونے لگ جائیں، جیسا کہ شہداء کو حاصل ہوتی ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی شہید برزخ سے واپس دنیا میں آجائے۔ کیونکہ یہ دنیا قید خانہ ہے اور موت اس سے نکلنے کا دروازہ ہے۔ چونکہ موت سے ہی آدمی اس قید خانے سے نکلتا ہے، اس لیے موت سے ہی مؤمن کی ترقی ہے۔ اس لیے نبی، ولی، خاص ، عام سب پر موت آتی ہے اور وہ اس دروازے سے نکل کر جومدارج اللہ نے ان کےلیے تیار کیے ہیں، ان کے حصول کےلیے آگے بڑھتے ہیں۔ شہید اور نبی تو درکنار کوئی مؤمن بھی نہیں چاہتا کہ ایک دفعہ قید خانے سے نکل کر پھر اس قید خانے میں واپس آجائے اور اپنی منزل مقصود سے دور ہو۔
    [/FONT]
     
  7. آزاد

    آزاد ركن مجلس علماء

    پیغامات:
    4,564
    ب: سنا ہے شہید تو اس دنیا میں واپس آنے کی آرزو کرتے ہیں۔
    ا: دنیا میں آنے کی آرزو نہیں کرتے، دوبارہ شہید ہونے کی آرزو کرتے ہیں۔
    ب: آخر شہید تو اس دنیا میں آکر ہی ہوسکتے ہیں۔
    ا: تو پھر کیا اللہ ان کو بھیج دیتا ہے؟
    ب: آخر بھیجتا ہی ہوگا۔ اللہ ان کی بات رد تو نہیں کرتا ہوگا۔
    تو پھر کیا آپ نے کسی شہید کو دنیا میں آکر رہتے اور دوبارہ شہید ہوتے دیکھا ہے؟
    ب: دیکھا تو نہیں۔
    ا: آپ نے دیکھا بھی نہیں اور آتا بھی کوئی نہیں۔ اللہ ان کی اس خواہش کو پورا نہیں کرتا جیسا کہ حدیثوں میں آتا ہے۔ اس لیے کہ یہ فعل عبث ہے، اللہ کی حکمت کے خلاف ہے۔ مر کر پھر دنیا میں آنا تنزل ہے، ترقی نہیں۔ ترقی آگے جانے میں ہے، کیونکہ جنت آگے ہے اور جنت کا مل جانا فوز ِ عظیم ہے۔ اس لیے مؤمن آگے ہی جاتا ہے، دنیا میں واپس نہیں آتا۔
    ب: عیسیٰ علیہ السلام جن مردوں کو زندہ کرتے تھے، وہ تو دنیا میں واپس آئے۔
    ا: اس کو واپس آنا نہیں کہتے۔ واپس آنا تو وہ ہے جو اپنی مرضی سے ہو اور ایسے کوئی واپس نہیں آیا۔
    ب: مرضی سے آیا یا اللہ لایا، دنیا میں آ تو گیا۔ دنیوی زندگی تو مل گئی۔
    ا: اس کو دنیوی زندگی نہیں کہتے۔ دنیوی زندگی تو اس وقت تک ہے جب تک موت نہ آئے۔ جب موت آجاتی ہے تو دنیوی زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ پھر اگر معجزانہ طور پر اللہ کسی کو زندہ بھی کردے تو وہ دنیوی زندگی نہیں کہلائے گی۔ کیونکہ دنیوی زندگی ایک خاص زمانے کا نام ہے جو پیدائش سے شروع ہو کر موت پر ختم ہوجاتا ہے۔ جیسے زمانہ لوٹ کر نہیں آتا، ایسے ہی یہ زندگی بھی لوٹ کر نہیں آتی۔ اللہ کسی مردے کو زندہ بھی کردے تو وہ برزخی زندگی ہی کہلائے گی کیونکہ اس پر دنیا کی زندگی کے احکام مرتب نہیں ہوتے۔ ایسے ہی اللہ کسی بندے کو جس کی عمر ابھی باقی ہو، معجزانہ طور پر مار دے یا جتنی دیر چاہے، مردہ رکھے اور پھر زندہ کرکے چھوڑ دے تاکہ وہ اپنی عمر پوری کرے تو یہ دنیوی زندگی ہی کہلائے گی۔ جب تک اس کی عمر پوری نہ ہوجائے ۔ جیسا کہ حضرت عزیر علیہ السلام کے ساتھ یا بنی اسرائیل میں کئی مرتبہ ہوا۔ اس کو یوں سمجھیں قرآن میں کچھ سورتیں مکی ہیں، کچھ مدنی۔ مکی وہ کہلاتی ہیں جو ہجرت سے پہلے نازل ہوئیں اور مدنی وہ جو ہجرت کے بعد۔ اگر ہجرت کے بعد کوئی سورت یا آیت مکے میں نازل ہوئی تو اس کو مدنی ہی کہتے ہیں کیونکہ یہ اس زمانے سے تعلق رکھتی ہے جو ہجرت کے بعد کا ہے۔ یہی حساب دنیوی اور برزخی زندگیوں کا ہے۔ موت سے پہلے کی زندگی دنیوی ہے اور موت کے بعد کی برزخی۔ اگرچہ عارضی طور پر اللہ دنیوی زندگی میں کچھ عرصہ مردہ رکھے یا برزخی زندگی میں کچھ عرصہ زندہ رکھے۔ اس کے علاوہ عیسیٰ علیہ السلام جن مردوں کو زندہ کرتے تھے، وہ یہ نہیں کہ زندہ ہی رہتے تھے، وہ تو معجزہ ہوتا تھا۔ جتنی دیر اللہ کو منظور ہوتا، اللہ ان کو زندہ رکھتا، پھر ان کو مردہ کر دیا جاتابغیر موت کی تکلیف کے۔ معجزات کا یہی حال ہوتا ہے، ان کو دکھانے کے بعد اشیاء کو اصلی حالت میں لوٹا دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام کا عصا سانپ بننے کے بعد پھر عصا بن جاتا تھا۔
    [سَنُعِيدُهَا سِيرَتَهَا الْأُولَى [طه : 21]
    عیسیٰ علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کرنا ان کا معجزہ تھا، جو اللہ کا فعل تھا۔ معجزہ نبی کی نبوت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی دلیل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر مردوں کو زندہ کرکے دکھایا کہ میں عدم سے وجود میں لاسکتا ہوں تو میں مردوں کو بھی زندہ کرسکتا ہوں۔ میرے لیے ایک جہان سے دوسرے جہان میں لایا، لے جانا کوئی مشکل نہیں۔لیکن معجزہ ایک خاص چیز ہوتی ہے، اس پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کیا۔ اس سے نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ بچے بغیر باپ کے بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح یہ نہیں کہہ سکتے کہ مردے زندہ بھی ہوجاتے ہیں کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں کوئی مردے زندہ ہوئے ، یا مردے کلام بھی کرلیتے ہیں کیونکہ حضورﷺ نے بدر کے مقتولین سے کلام کیا تھا یا مردہ جب اس کو قبر میں رکھ کر جاتے ہیں تو وہ جوتوں کی آہٹ سنتا ہے۔ یہ سب اللہ کے کام ہیں، وہ جو چاہے کردے، اس کو ایک کلیہ نہیں بنا سکتے۔
    ب: انبیاء علیہم السلام بھی نہیں سنتے؟
    ا: انبیاء علیہم السلام کیسے سن سکتے ہیں؟ کیا ان پر موت نہیں آتی؟
    ب: موت تو آتی ہے۔
    ا: جب موت آتی ہے تو پھر وہ کیسے سن سکتے ہیں؟ موت تو موت ہے جس پر بھی آتی ہے، مردہ کردیتی ہے۔ مرنے والا کوئی بھی کیوں نہ ہو، نہ سن سکتا ہے، نہ بول سکتا ہے، نہ دیکھ سکتا ہے، نہ کچھ کرسکتا ہے۔
    ب: نبیوں اور انسانوں میں تو بہت فرق ہے۔
    ا: فرق تو بہت ہے، لیکن موت تو ایک ہے۔ موت میں تو کوئی فرق نہیں۔
    ب: نبی کی ذات تو بہت بڑی ہوتی ہے۔
    ا: کتنی بڑی ہو، موت سے مفر نہیں ۔ موت تو لازمی ہے۔ موت تو صرف اللہ کے لیے نہیں، باقی سب کےلیے ہے۔
    ب: لیکن انبیاء علیہم السلام اور غیر انبیاء میں فرق تو ضرور ہونا چاہیے۔
    ا: موت میں کیا فرق ہوسکتا ہے؟ یہ تو ہوسکتا ہے کہ ان کی جان اوروں کی نسبت آسانی سے نکلے، لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ ان پر موت نہ آئے یا ان کی جان پوری نہ نکلے، آدھی نکلے۔ موت تو کہتے ہی پوری جان نکلنے کو ہیں۔ جس پر موت آتی ہے، وہ مرجاتا ہے۔ جس کے معنیٰ یہ ہوتے ہیں کہ اس کی روح جسم سے علیحدہ ہوجاتی ہے۔ احساس، ادراک سب کچھ ختم ہوجاتا ہے۔ مرنے والا خواہ کوئی ہو، اس جہان یعنی برزخ میں چلا جاتا ہے۔
    ب: نبیوں علیہم السلام اور انسانوں میں کیا فرق ہوا؟
    ا: آپ بتائیے کہ نبی جب دنیا میں رہتے ہیں تو ان کی زندگی میں اور انسانوں کی زندگی میں کیا فرق ہوتا ہے؟
    ب: انبیاء علیہم السلام پر فرشتے اترتے ہیں اور اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے۔
    ا: یہ فرق تو نبوت کا ہے، زندگی کا تو کوئی فرق نہیں ہوتا۔ نبی بھی زندہ ، کھاتے پیتے اور چلتے پھرتے ہیں اور عام آدمی بھی زندہ ، کھاتے پیتے اور چلتے پھرتے ہیں۔ وہ بھی روح مع الجسم، وہ بھی روح مع الجسم۔ فرق نبوت کا ہوتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کو نبوت کی وجہ سے جو قرب حاصل ہوتا ہے، وہ غیر انبیاء کو نہیں ہوتا۔ یہی حال مرنے کے بعد ہوتا ہے۔ برزخی زندگی سب کی یکساں ہوتی ہے، فرق صرف درجے کا ہوتا ہے۔ جیسے دنیا میں انبیاء علیہم السلام کا درجہ سب سے زیادہ اور اس کی وجہ سے اللہ کا قرب زیادہ، اس طرح سے برزخی زندگی میں ان کا درجہ بھی سب سے زیادہ اور قرب بھی زیادہ۔ زندگی میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ زندگی سب کی ایک ہی طرح کی ہوتی ہے۔
    ب: انبیاء علیہم السلام دنیا میں رہتے ہوئے عالم بالا کی روحانی اور جسمانی سیریں نہیں کرتے؟
    ا: کیوں نہیں! اللہ جب چاہتا ہے، سیر کروا دیتا ہے۔ چنانچہ حضورﷺ کو معراج ہوئی۔
    ب: جس طرح وہ دنیا میں رہتے ہوئے عالم بالا کی سیر کرلیتے ہیں، اسی طرح وہ برزخ میں ہوتے ہوئے دنیا کی سیر کرلیں تو کیا بعید ہے؟
    ا: دنیا میں رہتے ہوئے عالم بالا کی سیر تو ترقی ہے۔ عالم برزخ سے دنیا میں آنا تنزل ہے۔ اس لیے معراج تو ہوسکتا ہے، تنزل نہیں ہوسکتا۔ اس کے علاوہ دنیا قید خانہ ہے۔ یہاں آنا سزا ہے۔ آدم علیہ السلام کو بطور سزا ہی یہاں بھیجا گیا تھا۔ آگے جانا یا عالم بالا کی سیر عروج ہے۔ لہٰذا یہ ہوسکتا ہے ، وہ نہیں ہوسکتا۔ انبیاء علیہم السلام برزک میں ہوتے ہوئے عالم آخرت کے نظارے تو کرسکتے ہیں، واپس دنیا میں نہیں آسکتے۔
    ب: ہم نے سنا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو قبروں میں بھی دنیوی زندگی حاصل ہوتی ہے۔
    ا: دنیوی زندگی موت کے بعد کیسے حاصل ہوسکتی ہے؟ موت کے بعد تو برزخی زندگی ہوتی ہے، نہ کہ دنیوی زندگی۔
    ب: مطلب یہ ہے کہ وہ قبروں میں ایسے ہی زندہ ہیں جیسے دنیا میں تھے۔
    ا: دنیا کی طرح سے قبر میں وہ کیسے زندہ رہ سکتے ہیں؟ دنیا میں تو وہ کھاتے پیتے تھے، حوائج ضروریہ ان کے ساتھ تھیں۔ کیا قبر میں بھی وہ یہ سب کچھ کرتے ہیں؟
    ب: کھانے تو ان کو جنتوں کے ملتے ہیں، جن کے کھانے سے بول وبراز کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
    ا: یہی تو ہم کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد انبیاء علیہم السلام کی زندگی برزخی ہوتی ہے، دنیوی نہیں ہوتی۔ وہ برزخ میں آخرت کی نعمتوں سے محظوظ ہوتے ہیں، نہ کہ دنیا کی۔ آپ سوچیں دنیوی زندگی قبر میں ہو بھی کیسے سکتی ہے؟ آپ کسی زندے کو قبر میں دفن کرکے دیکھ لیں، کیا وہ زندہ رہ سکتا ہے؟ اصل میں ’’دنیا مؤمن کےلیے قید خانہ ہے۔‘‘موت اس سے رہائی دلانے والی ہے۔ مار کر قبر میں لے جاکر پھر دنیوی زندگی، دنیا؟ یہ ڈبل سزا ہے جو نیکوں کےلیے خصوصاً انبیاء علیہم السلام کےلیے نہیں ہوسکتی۔ جب ایک عام مؤمن مرنے کے بعد کہتا ہے :
    [font="al_mushaf"]قَدِّمُوْنِیْ، قَدِّمُوْنِیْ

    مجھے جلدی لے چلو، مجھے جلدی لے چلو [font="al_mushaf"](بخاری، کتاب الجنائز، باب قول المیت وہو علی الجنازۃ : قدمونی، رقم: 1316)[/font]
    تو ایک نبی کو قبر میں دنیوی زندگی کیسے پسند آسکتی ہے؟ جب ایک شہید مرنے کے بعد اپنے رب کے پاس جاکر رزق کھاتا ہے اور اس کی زندگی [وَلَكِن لاَّ تَشْعُرُونَ [البقرة : 154] والی برزخی ہوتی ہے تو پیغمبر کی زندگی دنیوی کیسے ہوسکتی ہے؟
    ب: کیا خدا ان کو قبر میں زندہ نہیں رکھ سکتا؟
    ا: اللہ تو سب کچھ کرسکتا ہے، لیکن وہ لایعنی کام کبھی نہیں کرتا۔ وہ حکیم ہے، اس کے سب کام حکمت کے ہوتے ہیں۔ اگر اللہ نے پیغمبروں کو زندہ ہی رکھنا ہو تو قبروں میں کیوں رکھے؟ باہر دنیا میں زندہ کیوں رکھے؟ کوئی فائدہ تو ہو۔ آخر نبی کے قبر میں زندہ رکھنے سے فائدہ کیا ہوتا ہے، جو اسے وہاں زندہ رکھا جائے؟ نبی دنیا میں تبلیغ کےلیے آتے ہیں۔ جب تک وہ زندہ رہتے ہیں، تبلیغ کرتے ہیں۔ قبر میں زندہ ہوں اور کر بھی کچھ نہ سکیں، اس زندگی کا ان کو یا ان کی امتوں کو کیا فائدہ؟
    ب: حضورﷺ کے بارے میں تو سب کا یہی عقیدہ ہے کہ وہ قبر میں دنیا کی طرح زندہ ہیں۔
    ا: دنیوی زندگی کوئی کمال ہے جو حضورﷺ قبر میں بھی دنیا کی طرح زندہ ہوں؟ مرنے کے بعد تو برزخی زندگی ہی ترقی ہے اور یہی حضورﷺ کو حاصل ہے۔ اور آپ کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ سب کا یہی عقیدہ ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اور ائمہ رحمہم اللہ میں سے کوئی اس عقیدے کا قائل نہیں تھا کہ حضورﷺ اپنی قبر میں زندہ ہیں۔ اگر صحابہ رضی اللہ عنہم کو اس کا علم ہوجاتا تو وہ کبھی حضورﷺ کو قبر میں نہ چھوڑتے، فوراً نکال لیتے۔ یہ تو آپ لوگ ہیں کہ حضورﷺ کو قبر میں دنیا کی طرح سے زندہ بھی کہتے ہیں اور نکالتے بھی نہیں۔ آپ جو کہتے ہیں کہ حضورﷺ قبر میں زندہ ہیں تو کیا ان کو زندہ ہی دفن کردیا گیا تھا؟
    ب: دفن تو مرنے کے بعد کیا گیا تھا۔
    ا: پھر وہ زندہ کب اور کیسے ہوگئے؟
    ب: جب ان کو قبر شریف میں اتار دیا گیا تو وہ زندہ ہوگئے۔
    ا: اگر ان کو باہر ہی رکھا جاتا، دفن نہ کیا جاتا تو کیا پھر بھی وہ زندہ ہوجاتے؟ یا اگر اب نکال لیا جائے تو باہر آکر وہ زندہ رہیں گے یا پھر مردہ ہوجائیں گے؟
    ب: اس بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں۔ یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
    ا: موت سے لے کر تدفین تک تقریباً 32 گھنٹے حضور ﷺ باہر رہے۔ اس عرصے میں آپ زندہ رہے یا مردہ؟
    ب: مردہ ہی رہے ہوں گے کیونکہ آپﷺ کو جب دفن کیا گیا تو مردہ ہی تھے۔
    ا: جب آپ اس عرصے میں مردہ ہی رہے تو اب باہر کر پھر زندہ کیسے ہوجائیں گے؟ آپ سوچیں کیا اس زندگی کو دنیوی زندگی کہیں گے کہ باہر ہوں تو مردہ ، قبر میں جائیں تو زندہ۔ آپ کا یہ کہنا بھی بالکل غلط ہے کہ آپﷺ قبر میں جاکر زندہ ہوگئے اور اب بھی زندہ ہیں۔ کیونکہ ولید بن عبدالملک کے زمانے میں، جیسا کہ بخاری شریف میں ہے، جب حجرے کی دیوار گر گئی تو ایک قدم ننگا ہوگیا۔ اکثر کا خیال تھا کہ یہ قدم رسول اللہﷺ کاہے لیکن حضرت عروہ رحمہ اللہ نے کہا: یہ قدم حضرت عمررضی اللہ عنہ کا ہے۔ اس وقت وہ تینوں پیارے اسی طرح پڑے تھے جیسے دفن کیے گئے تھے۔ دنیوی زندگی کا کوئی اثر نظر نہیں آتا تھا۔ اگر اس وقت بھی دنیوی زندگی کے کچھ آثار نظر آتے تو پہلی صدی تھی، وہ لوگ ضرور باہر نکال لیتے۔ معلوم ہوا کہ خیر القرون میں یہ عقیدہ نہیں تھا کہ حضورﷺ قبر میں زندہ ہیں۔ وہ لوگ تو حضورﷺ کی برزخی زندگی کے ہی قائل تھے۔
    آپ لوگ جو کہتے ہیں کہ حضورﷺ قبر میں زندہ ہیں تو آپ کو اتنے عرصے بعد کیسے پتہ لگ گیا؟
    ب: حضور ﷺ کی ہی تو حدیث ہے:
    [[font="al_mushaf"]نَبِیُّ اللہِ حَیٌّ یُرْزَقُ[/font]] نبی زندہ ہوتے ہیں اور رزق کھاتے ہیں۔ [font="al_mushaf"](ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ذکر وفاتہ ودفنہﷺ، رقم: 1637)[/font]
    ا: اللہ کے بندے اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ نبی قبر میں جاکر زندہ ہوجاتے ہیں اور زندگی دنیوی ہوتی ہے۔ حدیث کا مطلب تو یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہوتے ہیں اور رزق کھاتے ہیں۔ زندگی ان کی برزخی ہے،جیسا کہ قرآن مجید شہداء کے بارے میں بتاتا ہے:
    [بَلْ أَحْيَاء عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ [آل عمران : 169] تو جب شہداء اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور رزق کھاتے ہیں تو انبیاء علیہم السلام جو شہید گر ہوتے ہیں، ان کی زندگی دنیوی کیسے ہوسکتی ہے؟ کیا دنیوی زندگی برزخی زندگی سے اعلیٰ ہوتی ہے یا انبیاء علیہم السلام شہداء سے ادنیٰ ہوتے ہیں کہ شہداء تو مرنے کے بعد اللہ کے پاس برزخی زندگی میں ہوں اور انبیاء علیہم السلام دنیوی زندگی میں؟
    [/FONT]
     
  8. آزاد

    آزاد ركن مجلس علماء

    پیغامات:
    4,564
    ب: اگر رسول اللہﷺ قبر میں زندہ نہیں تو سلام کیسے سن لیتے ہیں؟
    ا: وہ سلام سنتے نہیں، انہیں فرشتوں کے ذریعے سلام پہنچایا جاتا ہے۔
    ب: حدیث میں تو آتا ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: جو میری قبر پر آکر سلام پڑھتا ہے، میں اس کا سلام خود سنتا ہوں۔ آپ کہتے ہیں: وہ سنتے نہیں۔ کیا آپ اس حدیث کو نہیں مانتے؟
    ا: آپ اس حدیث کو مانتے ہیں؟
    ب: کیوں نہیں۔۔۔۔!
    ا: اس حدیث میں تو یہ بھی ہے کہ حضورﷺ قبر کا سلام سنتے ہیں، دور کا نہیں سنتے۔ پھر آپ اپنے گھروں اور مسجدوں میں ہی بیٹھے [[font="al_mushaf"]اَلصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ
    ] کیوں پکارتے ہیں؟
    ب: آپ بھی تو تشہد میں [[font="al_mushaf"]اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ[/font]] کہتے ہیں، کیا اس وقت حضورﷺ آپ کا سلام سنتے ہیں؟
    ا: ہمارے نزدیک تو وہ کسی وقت بھی نہیں سنتے، نہ سنانے کےلیے ہم[[font="al_mushaf"]اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ[/font]] کہتے ہیں۔ ہم تو اسے بطور حکایت پڑھتے ہیں جیسا کہ قرآن پڑھتے ہیں اور اس میں [يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ (یعنی اے ایمان والو!)] بھی آجاتا ہے، جس سے ہماری مراد مؤمنوں کو بلانا یا سنانا نہیں ہوتی بلکہ صرف تلاوت قرآن ہوتی ہے۔ اسی طرح تشہد ہے۔ اس کو پڑھتے ہوئے بھی[[font="al_mushaf"]اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ[/font]] آجاتا ہے۔ اس سے ہمارا مقصد حضورﷺ کو پکار کر سلام کہنا نہیں ہوتا بلکہ صرف تشہد پڑھنا ہوتا ہے، جس میں حکایۃً سلام بھی آجاتا ہے۔
    ب: اگر آپ سلام خطاب کے طور پر نہیں پڑھتے تو [[font="al_mushaf"]اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ[/font]] کیوں کہتے ہیں؟
    ا: آپ یہ بتائیں کہ حضورﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا یہی تشہد تھا جو آپ پڑھتے ہیں یا کوئی اور تھا؟
    ب: تشہد تو یہی تھا۔
    ا: اگر ان کا تشہد بھی یہی تھا اور اس میں [[font="al_mushaf"]اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ[/font]]خطاب کےلیے ہے تو رسول اللہﷺ جب [[font="al_mushaf"]اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ[/font]] پڑھتے تو نماز میں کس سے خطاب کرتے تھے؟ اور صحابہ رضی اللہ عنہم جب حضورﷺ کی موجودگی میں [[font="al_mushaf"]اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ[/font]] کہتے تو کیا رسول اللہﷺ ان کو جواب دیتے تھے؟
    ب: جواب تو نہیں دیتے تھے۔
    ا: کیا سلام کا جواب دینا فرض نہیں؟
    ب: فرض تو ہے لیکن نماز میں فرض نہیں۔
    ا: پھر کیا جائز ہے؟
    ب: جائز بھی نہیں۔
    ا: جب نماز میں رسول اللہﷺ سلام کا جواب نہیں دیتے تھے ،جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سلام کہا اور آپ نے جواب نہیں دیا اور نماز میں سلام کا جواب دینا جائزبھی نہیں تو پھر نماز میں حضورﷺ کو سلام کہنا کیسے جائز ہوسکتا ہے؟ اور آپ کیسے کہتے ہیں کہ [[font="al_mushaf"]اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ[/font]] سے خطاب ہے۔ حالانکہ نماز اللہ کی عبادت ہے اور اس میں کسی سے تخاطب جائز نہیں۔ اگر تشہد والے سلام کا جواب حضورﷺ نماز میں نہیں دیتے تھے تو کیا بعد از نماز دیتے تھے؟
    ب: سنا پڑھا تو نہیں کہ آپﷺ نے نماز کے بعد کبھی جواب دیا ہو۔
    ا: جس سلام کو رسول اللہ ﷺ زندگی میں نہ سنتے تھے، نہ سن کر جواب دیتے تھے تو اب جب کہ حضورﷺ فوت ہوچکے ہیں، یہ کہنا کہ حضورﷺ سنتے ہیں اور سن کر جواب دیتے ہیں ، کس قدر غلط ہے!! جب صحابہ رضی اللہ عنہم حضورﷺ کی زندگی اور موجودگی میں [[font="al_mushaf"]اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ[/font]] حضورﷺ کو سنانے کےلیے نہیں کہتے تھے تو ہم اب جب کہ حضورﷺ فوت ہوچکے ہیں [[font="al_mushaf"]اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ[/font]] سنانے کےلیے کیسے کہہ سکتے ہیں۔ جس سلام کا جواب قطعاً دیا ہی نہ جائے، نہ نماز میں ، نہ نماز کے بعد، نہ زندگی میں، نہ زندگی کے بعد، وہ سلام دعا تو ہوسکتا ہے، سلام تخاطب اور سلام تحیہ نہیں ہوسکتا، کیونکہ سلام تحیہ کا جواب فرض ہے۔ قرآن مجید میں ہے:
    [وَإِذَا حُيِّيْتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّواْ بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا [النساء : 86]
    یعنی سلام کا جواب دو۔ اول تو زیادہ ،ورنہ اتنا تو ضرور ہو۔
    جب تشہد والے سلام کا جواب حضورﷺ نے کبھی دیا ہی نہیں تو معلوم ہوا کہ یہ وہ سلام ہی نہیں کہ حضورﷺ سنیں اور جواب دیں۔ اگر [[font="al_mushaf"]اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ[/font]] سلام کےلیے ہے تو صحابہ رضی اللہ عنہم جو حضورﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے، نماز کے آخر ’’التحیات‘‘ میں یہ سلام کیوں کہتے تھے؟ ابتدائے نماز یعنی ثناء کے ساتھ یہ سلام کیوں نہیں کہتے تھے؟ سلام تو شروع میں بوقت ملاقات کیا جاتا ہے نہ کہ گفتگو کے دوران یا آخر میں۔ جب [[font="al_mushaf"]اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ[/font]] شروع نماز میں نہیں بلکہ آخر نماز میں ہے تو ظاہر ہے یہ حضورﷺ سے خطاب نہیں بلکہ اللہ کی جناب میں اللہ کے پہلے کسی خطاب کی حکایت ہے جس کو برکت کےلیے ہم بطور دعا پڑھتے ہیں، پھر اس کے بعد درود شریف ہے۔اس میں بھی حضورﷺ سے خطاب نہیں بلکہ اللہ سے حضورﷺ کےلیے رحمت وبرکت کی دعا ہے۔ پھر نماز کی اپنے لیے دعا ہے جس پر نماز کا اختتام ہے اور یہ ترتیب بڑی معقول اور تعلیم نبوی کے عین مطابق ہے، کیونکہ سب سے پہلے [فَادْعُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ [غافر : 14] کے تحت التحیات پڑھی جاتی ہے، جس کا منشا اظہارِ اخلاص دین ہے ، کہ میری سب عبادتیں اللہ ہی کےلیے ہیں، میں مشرک بالکل نہیں۔ اس کے بعد رسول اللہﷺ کے لیے دعا ہے کیونکہ ان کا حق مقدم ہے۔ وہ بڑے محسن ہیں۔ پھر نمازی اپنے لیے دعا کرتا ہے اور اس پر نماز کو ختم کردیتا ہے۔ اس تشریح سے ثابت ہوا کہ ہم [[font="al_mushaf"]اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ[/font]] نہ حضورﷺ کو سنانے کےلیے کہتے ہیں اور نہ وہ سنتے ہیں۔ [[font="al_mushaf"]اَلصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ[/font]] کہنے کےلیے [[font="al_mushaf"]اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ[/font]] سے استدلال کرنا صحیح نہیں۔
    ب: جب عام مردوں کو[ [font="al_mushaf"]اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَہْلَ الْقُبُوْرِ[/font]] کہہ سکتے ہیں تو حضورﷺ کو [[font="al_mushaf"]اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ[/font]] کیوں نہیں کہہ سکتے؟
    ا: [ [font="al_mushaf"]اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَہْلَ الْقُبُوْرِ[/font]] تو قبرستان جاکر کہتے ہیں نہ کہ گھر بیٹھے۔ آپ ہی بتائیں: گھر سے ہی مردوں کو [ [font="al_mushaf"]اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَہْلَ الْقُبُوْرِ[/font]] کہنا ٹھیک ہے؟
    ب: [ [font="al_mushaf"]اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَہْلَ الْقُبُوْرِ[/font]] تو قبرستان میں جاکر ہی کہا جاتا ہے۔
    ا: پھر آپ [[font="al_mushaf"]اَلصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ[/font]] گھر بیٹھے ہی کیوں کہتے ہیں؟
    ب: حضورﷺ میں اور عام مردوں میں تو بہت فرق ہے۔ عام مردوں میں تو اتنی طاقت نہیں کہ وہ ہر جگہ سے سن لیں۔ حضورﷺ تو ہر جگہ سے سن لیتے ہیں، بلکہ وہ تو حاضر ناظر ہیں۔
    ا: پھر ثابت ہوگیا ناں کہ جس حدیث کو آپ پیش کرتے ہیں، اس کو آپ نہیں مانتے۔ اس حدیث میں تو صاف ہے کہ قبر پر سلام تو میں سن لیتا ہوں اور دور کامجھے پہنچایا جاتا ہے۔ یعنی دور کا میں نہیں سنتا۔جب حضورﷺ دور کا سلام نہیں سنتے تو گھر بیٹھے [[font="al_mushaf"]اَلصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ[/font]] کہنا یا ان کو حاضر ناظر سمجھنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے؟
    ب: آپ بھی تو اس حدیث کو نہیں مانتے۔ اس میں صاف ہے کہ جو میری قبر پر آکر سلام کہتا ہے، میں اسے سنتا ہوں۔ آپ کہتے ہیں : وہ نہیں سنتے۔
    ا: ہم تو اس کو حدیث ہی نہیں مانتے کیونکہ یہ صحیح نہیں۔ ہم آپ کی طرح نہیں کہ آدھی جو مطلب کی ہے، اسے مان لیں اور آدھی جو خلاف پڑتی ہے، اسے چھوڑ دیں۔
    ب: اگر آپ اس حدیث کو نہیں مانتے تو پھر حضورﷺ کی قبر پر جاکر [[font="al_mushaf"]اَلصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ[/font]] کیوں کہتے ہیں؟
    ا: جیسے قبرستان میں [ [font="al_mushaf"]اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَہْلَ الْقُبُوْرِ[/font]] عام مردوں کو کہہ سکتے ہیں، اسی طرح حضورﷺ کی قبر پر جاکر[[font="al_mushaf"]اَلصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ[/font]] حضورﷺ کو کہہ سکتے ہیں۔
    ب: جب حضورﷺ کی قبر پر جاکر [[font="al_mushaf"]اَلصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ[/font]] کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ سنتے ہیں۔ اگر وہ سنتے نہ ہوں تو کیوں [[font="al_mushaf"]اَلصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ[/font]] کہا جاتا ہے؟
    ا: [[font="al_mushaf"]اَلصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ[/font]] حضورﷺ کو سنانے کےلیے نہیں کہا جاتا، نہ ہی [ [font="al_mushaf"]اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَہْلَ الْقُبُوْرِ[/font]] عام مردوں کو سنانے کےلیے کہا جاتا ہے۔ سنتے نہ عام مردے ہیں،نہ رسول اللہﷺ۔
    ب: پھر انہیں پکار کر سلام کیوں کیا جاتا ہے؟
    ا: پکار کر سلام ان کو سنانے کےلیے نہیں کیا جاتا بلکہ اپنے دل کو متوجہ اور نرم کرنے کےلیے کیا جاتا ہے۔ ہم ان کو زندہ فرض کرکے سلام دعاا کہتے ہیں تاکہ دل حاضر ہو۔ فوت شدہ کو مخاطب کرکے سلام کہنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی اپنے فوت شدہ عزیز کی لاش سے باتیں کرے۔ بیٹا مر جاتا ہے تو باپ اسے کہتا ہے: بیٹا! مجھے تم اکیلا چھوڑ گئے۔ اب میں کسے بیٹا کہوں گا؟ تم ہی تو میرے بڑھاپے کا سہارا تھے، وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ باپ کو یقین ہوتا ہے کہ بیٹا میری کوئی بات نہیں سنتا، لیکن پھر بھی وہ اسے مخاطب کرکے اپنے دل کی بھڑاس نکالتا ہے۔ اس لیے حکم ہے کہ ہم بھی فوت شدگان کو مخاطب کے صیغے سے زندوں کی طرح سلام دعا دیں۔ تاکہ دل پر ان کی یاد کا اثر ہو۔ ان کا ادب و احترام بھی زندوں کی طرح کریں۔ ان کو غسل دیں تو آرام سے ، رکھیں یا اٹھائیں تو احترام سے۔ اسی لیے حضورﷺ نے فرمایا: [[font="al_mushaf"]کَسْرُ عَظْمِ الْمَیِّتِ کَکَسْرِہٖ حَیًّا[/font]] یعنی مردے کی ہڈی توڑنا زندے کی ہڈی توڑنے کے مترادف ہے۔[font="al_mushaf"](ابو داؤد، کتاب الجنائز، باب في الحفار یجد العظم ہل یتنکب ذلک المکان؟ رقم: 3207)[/font]
    مردے اگرچہ مردے ہیں،جیسا کہ مشاہدہ ہے، نہ سنتے ہیں، نہ کچھ اور کرسکتے ہیں، لیکن ان کے ساتھ سلوک ایسا کرنے کا حکم ہے گویا وہ زندہ ہیں۔ اس میں ان کا ادب واحترام بھی ہے اور ہمارے لیے رقت قلب کا سامان بھی۔ مردوں کو زندہ فرض کرلینا ایسے ہی ہے جیسے کسی نیک اور بزرگ شخص کو احتراماً باپ سمجھ لینا اور پھر اس سے باپ والا سلوک کرنا یا کسی شریف لڑکے کو بیٹا سمجھنا اور بیٹا کہنا ، اگرچہ حقیقت میں نہ وہ باپ ہے، نہ یہ بیٹا۔ سمجھ لینا اور فرض کرلینا اور بات ہے اور حقیقت ہونا اور بات ہے۔
    [/FONT]
     
  9. آزاد

    آزاد ركن مجلس علماء

    پیغامات:
    4,564
    ب: پھر اس حدیث کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ اس میں تو حضورﷺ نے صاف فرمایا ہے کہ جو میری قبر پر آکر سلام کہتا ہے، میں اسے سنتا ہوں۔
    ا: اللہ کے بندے! یہ حدیث نہ صحیح ہے اور نہ کسی کو قابل قبول۔ یہ بریلویوں کو بھی قبول نہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ حضورﷺ قریب، بعید، ہر جگہ سے سنتے ہیں بلکہ وہ ان کو حاضر ناظر اور عالم الغیب تک کہتے ہیں۔ حالانکہ یہ حدیث کہتی ہے کہ حضورﷺ قریب سے سنتے ہیں، دور سے نہیں سنتے۔ اگر بریلوی دوست اسی حدیث کو مانتے ہوتے تو [[FONT="Al_Mushaf"]اَلصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ
    ] کا جھگڑا بھی ختم ہوجاتا اور علم غیب اور حاضر ناظر کا رگڑا بھی۔ کیونکہ جب سننے میں قریب وبعید کا فرق ہوا تو نہ حاضر ناظر رہے ، نہ عالم الغیب۔ یہ حدیث اوروں کو بھی قبول نہیں ، کیونکہ وہ کہتے ہیں : حضورﷺ فوت ہوچکے ہیں۔ اب نہ قریب سے سنتے ہیں، نہ بعید سے۔ جہاں سے بھی صلاۃ وسلام پڑھا جائے، فرشتے جو اس امر کےلیے مامور ہیں، پہنچادیتے ہیں۔
    ب: یہ حدیث صحیح کیوں نہیں؟
    ا: آپ صحیح پوچھتے ہیں، یہ تو ضعیف کے درجے سے بھی گری ہوئی ہے۔ اسے بلکہ جھوٹی اور موضوع کہا جائے تو زیادہ موزوں ہے۔
    ب: اس میں خرابی کیا ہے؟
    ا: ایک تو اس میں راوی العلاء بن عمرو اور محمد مروان السدی ضعیف ہیں، خاص کر محمد بن مروان السدی کے بارے میں تو کہا جاتا ہے کہ وہ جھوٹ بولتا اور جھوٹی حدیثیں گھڑا کرتا تھا۔ کبھی کچھ کہہ دیتا، کبھی کچھ۔ اس سے دو روایتیں مروی ہیں۔ ایک میں کہتا ہے: [[FONT="Al_Mushaf"]مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ عِنْدَ قَبْرِيْ سَمِعْتُہٗ[/FONT]] قبر کا سلام حضورﷺ خود سنتے ہیں۔ [FONT="Al_Mushaf"](مشکاۃ، کتاب الصلاۃ، باب الصلاۃ علی النبی ﷺ وفضلہا، رقم: 934)[/FONT]
    دوسری میں کہتا ہے کہ قبر کا سلام بھی فرشتے پہنچاتے ہیں: [[FONT="Al_Mushaf"]مَا مِنْ عَبْدٍ یُسَلِّمُ عَلَیَّ عِنْدَ قَبْرِیْ إِلَّا وُکِّلَ بِہٖ مَلَکًا یُبَلِّغُنِیْ[/FONT]] یعنی حضورﷺ خود نہیں سنتے بلکہ مقرر فرشتہ انہیں پہنچاتا ہے۔
    یہ ددونوں روایتیں امام بیہقی نے روایت کی ہیں اور ان دونوں کا یہ راوی ہے۔ یہ حدیث اس لیے بھی غلط ہے کہ یہ اور بہت سی صحیح احادیث کے خلاف ہے۔
    1: چنانچہ ایک حدیث ابوداؤد اور مسند احمد میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: [[FONT="Al_Mushaf"]لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا، وَلَا تَجْعَلُوا قَبْرِي عِيدًا، وَصَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي حَيْثُ كُنْتُمْ[/FONT]] یعنی اپنے گھروں کو قبریں نہ بناؤ (ان میں نفل نوافل پڑھا کرو) اور میری قبر پر اجتماع نہ کرو (نہ صلاۃ وسلام کےلیے ، نہ عرسوں میلوں کےلیے) اور مجھ پر درود پڑھا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھے پہنچادیا جاتا ہے، جہاں کہیں بھی تم ہو(قبر کے قریب ہو یا دور) [FONT="Al_Mushaf"](ابوداؤد، کتاب المناسک، باب زیارۃ القبور، رقم: 2042)[/FONT]
    2: ایک دوسری حدیث میں جو کہ نسائی،دارمی، مسند احمد، ابن حبان اور حاکم میں ہے، وضاحت ہے کہ جو صلاۃ وسلام حضورﷺ پر پڑھا جاتا ہے، وہ فرشتوں کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے۔ چنانچہ اس کے الفاظ یہ ہیں: [[FONT="Al_Mushaf"]إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونِي مِنْ أُمَّتِيَ السَّلَامَ[/FONT]] یعنی اللہ نے روئے زمین پر فرشتے چھوڑ رکھے ہیں جو میری امت کا سلام مجھے پہنچاتے ہیں۔
    اس حدیث کی تائید اور حدیثیں بھی کرتی ہیں۔
    3: چنانچہ حضرت علی بن الحسین رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ سلام کےلیے حجرے میں داخل ہورہا ہے تو انہوں نے اسے منع کیا اور فرمایا کہ میں تجھے وہ حدیث نہ سناؤں جو حضورﷺ نے بیان فرمائی تھی ،یعنی ’’ میری قبر پر میلہ نہ کرنا اور نہ اپنے گھروں کو قبریں بنانا، تمہارا سلام مجھے پہنچایا جاتا ہے، جہاں کہیں بھی تم ہو۔‘‘
    مطلب یہ کہ سلام کہنے کےلیے قبر کے قریب آنے کی ضرورت نہیں، جہاں سے کہو گے ، مجھے پہنچا دیا جائے گا۔ چنانچہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: [[FONT="Al_Mushaf"]لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِي عِيدًا، وَلَا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا، فَإِنَّ تَسْلِيمَكُمْ يَبْلُغُنِي أَيْنَمَا كُنْتُمْ[/FONT]] [FONT="Al_Mushaf"](مسند أبی یعلی الموصلی، 1/246، رقم: 465۔ من تحقیق شیخ ارشاد الحق اثری)[/FONT]
    4: حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے بھی قریب قریب یہی حدیث مروی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: [[FONT="Al_Mushaf"]صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ، لَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا، وَلَا تَتَّخِذُوا بَيْتِي عِيدًا، صَلُّوا عَلَيَّ وَسَلِّمُوا، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ وَسَلَامَكُمْ يَبْلُغُنِي أَيْنَمَا كُنْتُمْ، رَوَاہُمَا أَبُوْ یَعْلٰی المُوْصلِیْ[/FONT]] [FONT="Al_Mushaf"](مسند أبی یعلی الموصلی 6/171، رقم: 6728۔ من حدیث حسین بن علی بن أبی طالب)[/FONT]
    5: سنن سعید بن منصور میں حدیث ہے ، سہل بن سہیل بیان کرتے ہیں کہ مجھے الحسن بن الحسن نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں شام کا کھانا کھاتے ہوئے حضورﷺ کی قبر کے پاس کھڑے ہوئے دیکھا اور آواز دی کہ آئیے کھانا کھائیے۔ میں نے کہا: دل نہیں چاہتا۔ پھر مجھ سے پوچھا: حضورﷺ کی قبر کے پاس کیسے کھڑے تھے؟ میں نے کہا: سلام کہہ رہا تھا۔ انہوں نے کہا: [[FONT="Al_Mushaf"]إِذَا دَخَلْتَ الْمَسْجِدَ فَسَلِّمْ[/FONT]] یعنی جب تو مسجد میں داخل ہو تو سلام کہہ لیا کر۔
    سلام کہنے کےلیے قبر پر آنے کی ضرورت نہیں۔ پھر حضورﷺ کی حدیث سنائی جس کے الفاظ یہ ہیں: [[FONT="Al_Mushaf"]لا تتخذوا قبری عیداً ولا تتخذوا بیوتکم مقابر وصلوا علیَّ فإن صلواتکم تبلغنی حیث ما کنتم ، لعن اللہ الیہود والنصاریٰ اتخذوا قبور أانبیائہم مساجد ، ما أنتم ومن بالأندلس إلا سواء[/FONT]] یعنی اکھٹے ہوکر میری قبر کو میلہ نہ بنانا۔ اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہنا۔ ان کو قبریں نہ بنانا کہ جہاں نماز نہیں پڑھی جاتی اور مجھ پر درود پڑھتے رہنا۔ تمہارا درود جہاں بھی تم ہو گے، مجھے پہنچ جائے گا۔ اللہ یہود ونصاریٰ پر لعنت کرے، انہوں نے انبیاء کی قبروں کو اجتماع کرکے عبادت گاہیں بنالیا۔ صلاۃ وسلام کہنے میں تم جو مدینہ میں ہو اور وہ جو اسپین میں ہیں، برابر ہیں۔
    مطلب یہ کہ صلاۃ وسلام کےلیے میری قبر پر جمع نہ ہونا، دورونزدیک کی کوئی بات نہیں، ہر جگہ سے فرشتے ہی پہنچاتے ہیں۔
    6: ابوسعید مولی الہروی سے بھی انہی الفاظ کے ساتھ ایک حدیث مروی ہے۔
    ب: آپ تو اس حدیث کو غلط قرار دیتے ہیں ، حالانکہ یہ حدیث مشہور بہت ہے۔
    ا: لوگوں میں مشہور ہوجانے سے کوئی حدیث صحیح نہیں ہوجاتی۔ لوگوں میں تو بہت باتیں مشہور ہوتی ہیں، حالانکہ وہ غلط ہوتی ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کا سولی پر چڑھایا جانا عیسائیوں میں کتنا مشہور ہے، حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ جیسا کہ قرآن نے بیان کیا ہے۔ اسی طرح سے کئی احادیث ہیں جو زبان زد عوام ہیں ، لیکن بالکل موضوع اور جھوٹی ہیں۔ جیسا کہ ’’[FONT="Al_Mushaf"]لَوْلَاکَ[/FONT]‘‘ والی حدیث ہے۔([FONT="Al_Mushaf"]لولاک لما خلقت الأفلاک[/FONT]۔ [FONT="Al_Mushaf"]سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی، 1/298، رقم: 282۔ موضوعات کبریٰ، ملا علی قاری، ص: 194، رقم: 754[/FONT])
    اسی طرح [[FONT="Al_Mushaf"]أول ما خلق اللہ نوری[/FONT]] اور [[FONT="Al_Mushaf"]کنت نبیا وآدم بین الماء والطین[/FONT]] [FONT="Al_Mushaf"](سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی، 1/316، رقم: 303،302۔ موضوعات کبریٰ ، ملا علی قاری، ص: 178، رقم: 693)[/FONT] اور [[FONT="Al_Mushaf"]وأنا نور من نور اللہ[/FONT]] وغیرہ۔
    ب: ان احادیث کو تو بڑے بڑے مولوی بیان کرتے ہیں۔
    ا: عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب ہونے کو بھی عیسائیوں کے پادری اور مولوی ہی بیان کرتے ہیں۔ کیا ان کے بیان کرنے سے یہ بات صحیح ہوجائے گی کہ عیسیٰ علیہ السلام سولی چڑھائے گئے؟ اصل میں جب جہالت کا دور دورہ ہوتا ہے تو عوام کے مولوی بھی ویسے ہی ہوجاتے ہیں، جیسے عوام ہوتے ہیں۔ جیسے جاہل عیسائی تھے، ویسے ان کے مولوی بن گئے ۔ جو عوام کہتے تھے، وہی وہ کہنے لگ گئے۔ کسی قوم کا زوال آتا ہی اس وقت ہے جب کہ عوام کے ساتھ علماء بھی جاہل اور مقلد ہوجاتے ہیں۔ تحقیق کا مادہ ان میں نہیں رہتا۔ لکیر کے فقیر بن کر رہ جاتے ہیں۔
    ب: اس حدیث کو تو آپ نے غلط بتادیا لیکن اس حدیث کا کیا کریں گے جو مشکاۃ شریف میں بایں الفاظ موجود ہے: [[FONT="Al_Mushaf"]مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللَّهُ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ[/FONT]] جو مسلمان مجھ پر سلام بھیجتا ہے، اللہ میری روح مجھ پر لوٹاتا ہے، حتیٰ کہ میں اس کا جواب دیتا ہوں۔
    اس حدیث میں صراحت ہے کہ حضورﷺ ہر سلام کہنے والے کو جواب دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ سن کر ہی جواب دیتے ہوں گے، جس سے آپ ﷺ کا زندہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔
    ا: اس سے حضورﷺ کا قبر میں زندہ ہونا یا سلام سننا کیسے ثابت ہوگیا؟ بلکہ اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ آپﷺ قبر میں زندہ نہیں ہیں، ورنہ جواب کے وقت جسم میں روح لوٹانے کے کیا معنیٰ؟ کیا زندے کے جسم میں بھی روح لوٹائی جاتی ہے؟
    ب: سلام تو ہر وقت کوئی نہ کوئی بھیجتا ہی رہتا ہے اور ہر وقت آپﷺ جواب دیتے رہتے ہیں۔ اس لیے روح ہر وقت آپﷺ کے جسم میں رہتی ہے، جس سے زندگی ثابت ہوتی ہے۔ جب زندگی ثابت ہوگئی تو سننا بھی ثابت ہوگیا۔
    ا: جب روح ہر وقت جسم اطہر میں رہتی ہے تو پھر جواب کے وقت روح لوٹانے کے کیا معنی؟ حدیث رو روح لوٹائے جانے کی تصریح کررہی ہے اور آپ کہتے ہیں: وہ ہر وقت جسم میں رہتی ہے اور اس سے دنیوی زندگی ثابت ہوتی ہے۔ یہ تو آپ بتائیے کہ فوت ہونے کے بعد آپﷺ کا جسم اطہر جو بتیس گھنٹے تک باہر رہا، اس اثنا کے سلاموں کا جواب دینے کےلیے روح آپ کے جسم میں لوٹائی گئی اور آپ زندہ ہوئے یا اس عرصے میں صلاۃ وسلام ہی کسی نے نہیں پڑھا کہ جواب دینے کی نوبت آتی اور روح لوٹائی جاتی اور اس عرصے میں بھی آپﷺ کو دنیا والی کوئی مصروفیت نہ تھی۔ کیا اس عرصے میں آپﷺ نے لوگوں کے سلاموں کو سن کر جواب دیا؟ اگر جواب دیا تو کیا آپﷺ کی روح لوٹائی گئی تھی اور آپ زندہ ہوگئے تھے اور آپﷺ نے زندوں کی طرح سلام کا جواب سن کر جواب دیے تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپﷺ کو زندہ دیکھ کر پھر دفن کیسے کردیا؟ اور اگر آپﷺ اس اثنا میں زندہ ہی نہیں ہوتے تھے تو اس کی کیا وجہ؟ کیا اس وقت روئے زمین پر کوئی سلام کہنے والا ہی نہیں تھا یا ان کو سلام کہنے سے روک دیا گیا تھا یا اس عرصے کے سلاموں کے جواب دینے کےلیے روح نہیں لوٹائی گئی اور آپﷺ زندہ نہیں ہوئے؟ تو یہی ہم کہتے ہیں کہ موت کے بعد برزخ میں روح لوٹانے سے آدمی زندہ نہیں ہوتا اور اگر روح لوٹائی نہیں گئی ، حالانکہ اس اثنا میں یقیناً بہت سے سلام پڑھے گئے ہوں گے تو پھر ان سلاموں کا کیا بنا؟ کیا ان جواب دیا ہی نہیں گیا؟ اور یہ ہو نہیں سکتا۔ اور اگر دیا گیا، لیکن کسی وقت بعد میں تو یہی ہم کہتے ہیں کہ حضورﷺ پر جتنے سلام پڑھے جاتے ہیں، وہ سب سلام دعا ہوتے ہیں۔ ان کا سننا اور اسی وقت جواب دینا ضروری نہیں، بلکہ اللہ کے مقرر کردہ فرشتے ان تمام سلاموں کو جمع کرکے کسی خاص وقت میں جب اللہ کو منظور ہوتا ہے، حضورﷺ کو پہنچادیتے ہیں اور پھر آپﷺ سب کے حق میں جوابی دعا دے دیتے ہیں اور یہی اس حدیث کا مطلب ہے۔ اس حدیث سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ جونہی کسی نے سلام پڑھا، آپﷺ نے سن کر فوراً جواب دیا۔ گویا کہ آپ ہر وقت سلاموں کے انتظار میں رہتے ہیں اور سلاموں کے جواب دینے کے سوا آپﷺ کو کوئی کام نہیں۔ نہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں اور نہ حدیث کی یہ مراد ہوسکتی ہے۔ کیونکہ بہت سی صحیح احادیث میں صراحتاً یہ آچکا ہے کہ سلام فرشتے پہنچاتے ہیں ، خواہ کوئی دور پڑھے یا قریب۔ آپﷺ کو سننے اور جواب دینے کی تکلیف نہیں دی جاتی۔
    ب: اگر آپ سلام نہیں سنتے تو روح کس لیے لوٹائی جاتی ہے؟
    ا: روح تو جواب دینے کےلیے لوٹائی جاتی ہے، نہ کہ سلام سننے کےلیے اور جواب کبھی بھی دیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ سلام ، سلام ِ تحیہ نہیں ہوتا کہ جس کا سن کر فوراً جواب دیا جائے۔ وہ تو سلام ِ دعا ہوتا ہے، جیسا کہ خط میں اپنے کسی دوست کو السلام علیکم لکھا جاتا ہے اور پھر جب اسے خط پہنچتا ہے، تو وہ سلام کا جواب دے دیتا ہے۔
    ب: روح تو لوٹائی جاتی ہے خواہ جواب دینے کےلیے ہی سہی۔ اس کو تو آپ مانتے ہیں؟
    ا: اس کو تو ہم مانتے ہی۔ جو آگیا، اس کو کیسے نہ مانیں۔ لیکن اس کی کیفیت اور تاثیر کو ہم نہیں جانتے۔ کیونکہ عالم برزخ کا معاملہ ہے، عالم دنیا میں رہتے ہوئے عالم برزخ کی کیفیات اور حالات کو جاننا اور سمجھنا انسانی ادراک سے باہر ہے۔
    ب: جب روح لوٹائی گئی تو زندگی تو آگئی، کیونکہ زندگی عبارت ہے روح اور جسم کے اتصال سے۔ جب روح آگئی تو زندہ تو ہوگئے۔
    ا: بھئی! یہ اتصال وانفصال برزخی ہے۔ جس کی کیفیت کو ہم نہیں سمجھ سکتے۔ لیکن یہ یقینی بات ہے کہ برزخ میں روح لوٹائے جانے سے مردہ زندہ نہیں ہوتا بلکہ مردہ ہی رہتا ہے اور زندگی برزخی رہتی ہے۔ برزخ میں بھی دنیا کی طرح سے روح کا تعلق جسم سے بڑھتا گھٹتا رہتا ہے، جیسے دنیوی زندگی میں سونے اور جاگنے میں اس تعلق کی کمی بیشی ہوتی ہے۔ اسی طرح برزخی زندگی میں بھی تغیرات ہوتے رہتے ہیں۔ بیداری کی حالت میں روح پوری طرح سے جسم میں ہوتی ہے اور آدمی کے پورے ہوش وحواس قائم ہوتے ہیں۔
    نیند کی حالت میں روح بہت حد تک جسم سے نکل جاتی ہے، لیکن مضبوط تعلق باقی رہتا ہے، جس سے نبض چلتی اور انسانی مشینری کام کرتی رہتی ہے اور آدمی زندہ رہتا ہے۔ اگرچہ اس کے ہوش وحواس قائم نہیں ہوتے۔ نیند کی حالت میں آدمی موت یعنی برزخی زندگی کے بہت قریب ہوتا ہے۔اگرچہ مرتا نہیں، رہتا زندہ ہی ہے۔ اسی طرح برزخ میں بھی جب روح لوٹائی جاتی ہے تو آدمی زندہ ہونے کے قریب ہوتا ہے، لیکن زندہ نہیں ہوتا، مردہ ہی رہتا ہے اور اس عالم دنیا سے بالکل بےخبر اور برزخی زندگی رہتی ہے۔
    روح بدن میں ایک دفعہ داخل ہوجانے کے بعد لاتعلق کبھی نہیں ہوتی۔ زندگی میں یہ روح بدن کے اندر رہتی ہے، مرنے کے بعد اگرچہ بالکل نکل جاتی ہے، لیکن تعلق ضرور رہتا ہے۔ کبھی کم ، کبھی زیادہ۔ برزخ میں روح کا لوٹایا جانا بھی اسی تعلق کی زیادتی کی ہی ایک صورت ہے لیکن اس سے دنیوی زندگی نہیں آتی کہ عالم دنیا کا شعور ہو۔ برزخی زندگی کے واردات کے ادراک وشعور میں ہی اضافہ ہوتا ہے۔ روح علیین میں رہے یا سجین میں، بدن سے اس کا تعلق منقطع نہیں ہوتا۔ اگرچہ دنیا میں رہتے ہوئے ہم اس تعلق کا ادراک نہیں کرسکتے، لیکن ہم اس کا انکار بھی نہیں کرسکتے۔ کیونکہ اسی تعلق کے تحت ہی عذاب قبر ہوتا ہے، جس کا انکار مکابرہ ہے۔قرآن وحدیث اس پر شاہد عادل ہیں اور عقل سلیم بھی اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ جب عمل کرنے میں دونوں شریک تو مرنے کے بعد جب جزا وسزا کا عمل فوراً شروع ہوجاتا ہے، تو ایک کو چھٹی کیوں؟ برزخ اور آخرت دونوں میں روح اور جسم دونوں شریک رہتے ہیں۔ اگرچہ جسم ذرات کی شکل میں ہوجائے۔
    ب: عذاب قبر کی بھی آپ نے خوب کہی۔ یہ مسئلہ بڑا نازک ہے، کوئی اسے مانتا ہے، کوئی نہیں۔
    ا: نہ ماننا تو بہت خطرناک ہےکیونکہ یہ عقیدے کی بات ہے اور عقیدہ بھی اجماعی جو قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ نہ ماننے والے یا تو وہ ہیں جن کا اپنی عقل پر ایمان زیادہ ہے اور قرآن وحدیث پر کم، یا وہ جو عقیدے ’’مردے سنتے ہیں‘‘ کے رد عمل کا شکار ہیں۔ ایک فریق نے اتنا غلو کیا کہ مردوں کو قبروں میں زندہ کردیا ، دوسرے نے ضد میں آکر عذاب قبر کا بھی انکار کردیا۔ اسی طرح سے دونوں گمراہ ہوگئے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی جب تک زندہ ہے، عالم دنیا میں ہے۔ جب مر جاتا ہے تو عالم برزخ میں ہوتا ہے،جہاں وہ دنیا کے واقعات سے بالکل بے خبر اور مردہ اور برزخ کے واردات سے بالکل باخبر اور زندہ۔
    ب: بات تو ٹھیک ہے، جب جہان ہی دوسرا ہوگیا تو اِدھر سے سب کچھ ختم اور اُدھر کا کام شروع۔
    ا: اسی لیے تو میں نے کہا تھا کہ مردے سنتے نہیں۔
    ب: میری سمجھ میں تو بالکل آگیا اور میں تسلیم کرتا ہوں، لیکن میں حیران ہوں کہ مسلمانوں کی کتنی بڑی تعداد اس غلطی کا شکار ہے۔
    ا: دین کے معاملے میں اکثریت اور اقلیت کو نہیں دیکھا کرتے۔ حق کو دیکھا کرتے ہیں۔ اسی لیے قرآن مجید نے ہوشیار اور خبردار کیا ہے: [وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللّهِ [الأنعام : 116]
    اگر تو اکثریت کے پیچھے جائے گا تو وہ راہ حق پر کبھی نہیں رہنے دیں گے۔
    اکثریت دنیا کی ایسی ہے جو نہ سوچتے ہیں، نہ سمجھتے ہیں۔ لکیر کے فقیر ہیں۔ اٹکل پچو سے کام لیتے ہیں۔
    ب: یہ بالکل ٹھیک ہے۔ دنیا میں جہالت زیادہ، علم کم ہے۔ بے انصافی زیادہ، انصاف کم ہے۔ جھوٹے زیادہ، سچے کم ہیں۔ بےایمان زیادہ، ایمان دار کم ہیں۔ بدی زیادہ، نیکی کم ہے۔ غرضیکہ ہر بری چیز زیادہ ہے اور اچھی کم۔ مجھے سب سے زیادہ جس بات نے متاثر کیا، وہ ہے آپ کا انداز ِ گفتگو۔ آپ لوگ ہر بات دلیل سے کرتے ہیں اور خوب سمجھاتے ہیں۔ ہمارے مولوی ایسا نہیں کرتے۔
    ا: بھئی! وہ کر بھی نہیں سکتے۔ ان کے پاس حق نہیں۔ یہ تو لکیر کے فقیر ہیں۔ اللہ انہیں ہدایت دے۔
    ب: آپ کی یہ بات بھی بڑی معقول ہے کہ مزاروں اور خانقاہوں پر آج جو کچھ ہورہا ہے، وہ سب اسی عقیدے کے تحت ہورہا ہے کہ بزرگ مرتے نہیں۔ پردہ کرلیتے ہیں اور اپنی قبروں میں زندہ اور سب کچھ سنتے ہیں۔
    ا: یہ حقیقت ہے۔ اگر یہ عقیدہ نہ ہو تو مزاروں پر یہ ہجوم کبھی نہ ہو، اور نہ یہ خرابیاں ہوں جو آج وہاں ہورہی ہیں، حتیٰ کہ سوائے نیکی کے سب کچھ وہاں ہوتا ہے۔
    ب: یہ بالکل ٹھیک ہے۔ اچھا! میں اب اجازت چاہتا ہوں۔ میں نے آپ کا بہت وقت لیا، اللہ آپ کو جزائے خیر دے، آپ نے تو میری کایا پلٹ دی۔ میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ میں پھر کبھی حاضر ہوں گا اور مزید استفادہ کروں گا۔
    ا: بہت اچھا۔
    ب: اچھا، السلام علیکم۔
    ا: وعلیکم السلام، [FONT="Al_Mushaf"]فی امان اللہ[/FONT]۔!
    ختم شد
    [FONT="Al_Mushaf"]والحمد للہ رب العالمین[/FONT]​

    پی ڈی ایف میں‌ مکمل کتابچہ یہاں سے ڈاؤن لوڈ فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا
    [/FONT]
     
  10. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    پیغامات:
    1,672
    جزاک اللہ بھائی آزاد۔ یہ کتاب میں نے اپنی جاب میں رکھی تھی، آپ بازی لے گئے۔ اور میں مصروفیت کی بناء پر رہ گیا۔ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء
     
  11. آزاد

    آزاد ركن مجلس علماء

    پیغامات:
    4,564

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں