کیا مسلمانوں نے اپنے بچوں کا یزید نام رکھنا چھوڑدیا؟

کفایت اللہ نے 'مجلس علماء' میں ‏اگست 20, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    کیا حادثہ کربلا کے بعد مسلمانوں نے اپنے بچوں کا یزید نام رکھنا چھوڑدیا؟


    مقالہ نگار: عزیراسرائیل سنابلی




    تاریخ کی مظلوم شخصیات کی اگر فہرست بنائی جائے تو ان میں یزید بن معاویہ رحمہ اﷲ کا نام سب سے اوپر ہوگا۔ حسین رضی اﷲ عنہ کو قتل کرانے کی سازش سے لے کر اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے والے شیعوں کی بات چھوڑیئے، اپنے آپ کو اہل سنت والجماعت کے زمرہ میں شامل کرنے والوں میں سے ایک بڑی تعداد نے بھی ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ شیعوں کے ذریعہ پھیلائی گئی بدگمانیوں سے متاثر ہوکر یہ لوگ بھی حقیقت کی تلاش کئے بغیر ان کی آواز سے آواز ملانے لگے۔ اس تاریخی ظلم کے خلاف جب بھی آواز اٹھائی گئی تو ان دونوں گروہوں کی طرف سے زبردستی اسے دبانے کی کوشش کی گئی۔ بنو امیہ اور خصوصاً یزید اور ان کے والد معاویہ رضی اﷲ کی خدمات کو یا تو نظر انداز کیا گیا یا پھر انہیں توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا نتیجہ یہ ہوا کہ بنو امیہ کی تاریخ پر ایک دبیز پردہ پڑ گیا جس سے حقیقت کی تلاش ایک مشکل امر بن کر رہ گئی۔
    یزید دشمنی ہی کا نتیجہ ہے یا لا علمی کی دین کہ امت کے ایک بڑے طبقہ نے یہ سمجھ لیا کہ یزید چونکہ شرابی، جواری اور نعوذ باﷲ زانی تھا، ان سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اﷲ کے رسول کے نواسے حسین بن علی رضی اﷲ کا قاتل تھا اس وجہ سے واقعہ کربلا کے بعد امت نے اپنے بچوں کا نام یزید رکھنا چھوڑدیا۔ یہ بات اس قدر مشہور ہوئی کہ بر صغیر ہندوپاک میں شاید ہی کوئی یزید نام رکھنے کی ہمت کرے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اردو جس کی پرورش شیعیت کی گود میں ہوئی،نے یزید کو اسلامی تاریخ کا”راون“ بناکر پیش کیا۔ بدی کی علامت کے طورپریزید کا نام جڑنے کی وجہ سے اس سے مشتق بہت سے الفاظ اردو ادب میں چلے آئے۔ کسی بھی چیز کی مذمت کے لئے یہی کافی ہے کہ اس میں ”یزیدی“ کالاحقہ لگا دیا جائے مثلاً یزیدی دسترخوان، یزیدی فوج وغیرہ۔ مولانا محمد علی جوہر اس سلسلہ میں دھوکہ کھا گئے اور کہہ بیٹھے:
    قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
    ایسے میں ”یزید“ نام رکھنے کی توقع کرنا فضول ہے۔ کون ہوگا جو اپنے بچے کو زندگی بھر لعنت و ملامت کی زد میں دیکھنا پسند کرے؟

    کیا واقعی امت نے واقعہ کربلا کے بعد یزید نام رکھنا چھوڑ دیا؟
    عوام میں یہ بات مشہور ہے اوربعض علماءبھی اسی شہرت سے مرعوب ہوکر اس قسم کی بات کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اس کی حقیقت کیا ہے کبھی شاید ہی کسی نے اس کی طرف توجہ دی ہو۔ آیئے ہم اس کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یزید رحمہ اﷲ کی ولادت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت میں۵۲ھ میں ہوئی۔ (تاریخ الرسل والملوک الجزءالاول سنة خمس وعشرین)
    آپ امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کی وفات کے بعد ۰۶ھ میں خلیفہ مقرر ہوئے اس کے ایک سال بعد واقعہ کربلا پیش آیا جس میں اہل بیت کی ایک بڑی تعداد شہید ہوئی ان میں حسین بن علی رضی اﷲ عنہ بھی شامل ہیں۔ اس واقعہ کے تین سال بعد یزید رحمہ اﷲ کا انتقال ہوجاتا ہے۔اس تاریخی ترتیب کی رو سے ضروری ہوتا ہے کہ ہمیں تاریخ کے اوراق میں کم از کم مشہور ترین ہستیوں میں کوئی نام یزید کا نہ ملے جو ۱۶ھ کے بعد پیدا ہوئے ہوں۔ خاص طور پر شروع کے سو سالوں کے اندر یعنی ۰۶ھ سے لے کر ۰۶۱ھ کے درمیان کے عرصہ میں اس وجہ سے کہ اس وقت تک حسین رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے زخم ہرے تھے۔ نفرت کی وجہ جتنی قریب ہوتی ہے نفرت اسی اعتبار سے شدید ہوتی ہے۔ لیکن یہاں معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ہم نے جب ”یزید“ نام کے ان اشخاص کی تلاش کی جو واقعہ کربلا کے بعد پیدا ہوئے تو حیرت انگیز طور پر ہمارے سامنے ناموں کی ایک بڑی فہرست جمع ہوگئی۔ یہ نام ان ائمہ و محدثین کے ہیں جن کا علم ومعرفت میں ایک بڑا مقام ہے۔ حدیث کی کتابوں میں ان سے روایتیں کی گئی ہیں اس لئے ایسا نہیں کہا جاسکتا کہ انہیں ”یزید“ نام رکھنے کی ”ممانعت“ کا علم نہ تھا یا یہ وہ لوگ تھے جن کے بارے میں لوگوں کو علم نہ تھا۔ یزید رحمہ اﷲ تابعی تھے لہٰذا تبع تابعین اور ان کے بعد کے ادوار کے علماءکرام اور محدثین عظام میں یزید نام رکھنے والوں کی ایک مختصر فہرست نیچے درج کی جاتی ہے۔

     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 20, 2012
  2. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    علماء و محدثین جن کے نام یزید تھے:

    ۱- یزید بن ابراہیم التستری:
    کبار تبع تابعین میں سے ہیں۔ ان کی وفات ۷۶۱ھ میں ہوئی ان سے بخاری، مسلم، ابودا
    ¶د، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کی ہے۔
    ۲- یزید بن حیان المنبطی البلخی مولی بکر بن وائل:
    کبار تبع تابعین میں سے ہیں ان سے ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کی ہے۔ ابن حجر کے یہاں ان کا مرتبہ صدوق ہے اور بخاری نے کہا ہے کہ ان کے یہاں غلطیاں بہت زیادہ ہیں۔
    ۳- یزید بن خالد بن یزید بن عبد اﷲ بن موہب الہمدانی:
    دسویں طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں جو تبع تابعین کے بعد کا درجہ ہے۔ وفات ۲۳۲ھ یا اس کے بعد ہوئی۔ روایتیں ابو داود، نسائی، ابن ماجہ میں ہیں۔ ابن حجر نے ثقہ ، عابد اور ذہبی نے ثقہ کہا ہے۔
    ۵- یزید بن زریع العیشی:
    پیدائش ۱۰۱ھ میں ہوئی۔ اوساط تبع تابعین میں سے ہیں ۲۸۱ھ میں بصرہ میں وفات پائی ان کی روایتیں بخاری، مسلم، ابوداود، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں ہیں۔ ابن حجر نے ثقہ ، ثبت اور ذہبی نے حافظہ قرار دیا ہے۔
    ۶- یزید بن السمط الصنعانی الفقیہ:
    نویں طبقہ سے جو صغار تبع تابعین کا ہے، تعلق رکھتے ہیں۔ ۰۶۱ھ کے بعد وفات پائی۔ ان کی روایتیں ابن ماجہ، نسائی اور مراسیل ابو داود میں ہیں۔ حافظ نے کہا ہے کہ یہ ثقہ ہیں اورحاکم نے ان کو ضعیف کہہ کر غلطی کی ہے۔ ذہبی نے ثقہ کہا ہے۔
    ۷-یزید بن سنان بن یزید القرشی الاموی:
    ان کی پیدائش ۸۷۱ھ کی ہے گیارہواں طبقہ جو کہ تبع تابعین کے بعد والے طبقہ کے درمیانی لوگوں کاہے ، سے تعلق رکھتے ہیں۔ ۹۶۲ھ میں مصر میں وفات پائی۔ ان کی روایتیں نسائی میں ملتی ہیں۔ ابن حجر اور ذہبی نے ثقہ کہا ہے۔
    ۸- یزید بن عبد اﷲ بن رزیق القرشی:
    دسویں طبقہ کے ہیں جو تبع تابعین کے بعد کے لوگوں کا طبقہ کا ہے۔ ان کی روایتیں نسائی میں ہیں حافظ نے مقبول اور ذہبی نے ثقہ قرار دیا ہے۔
    ۹- یزید بن عبد اﷲ بن یزید:
    نویں طبقہ کے ہیں جو صغار تبع تابعین کا طبقہ ہے۔ ان کی روایتیں ابن ماجہ میں ہیں۔ حافظ ابن حجر نے مقبول اور ذہبی نے ابن حبان کے حوالے سے ثقہ کہا ہے۔
    ۰۱- یزید بن عبد ربہ الزبیدی ابو الفضل الحمصی الموذن:
    جرجسی کے نام سے معروف ہیں پیدائش ۸۶۱ھ میں ہوئی دسویں طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں جو تبع تابعین کے بعد کا طبقہ ہے۔ وفات ۴۲۲ھ میں ہوئی۔ مسلم، ابو داود، نسائی اور ابن ماجہ میں ان کی روایتیں ہیں۔ حافظ نے ثقہ اور ذہبی نے حافظ کہا ہے۔
    ۱۱-یزید بن عطاءبن یزید الیشکری:
    ساتویں طبقہ کے ہیں جو کبار تبع تابعین کا ہے۔ وفات ۷۷۱ھ میں ہوئی بخاری نے خلق افعال العبادمیں اور ابو داود نے سنن میں روایت کی ہے۔ ابن حجر نے لین الحدیث اور ذہبی نے ابن عدی کے حوالے سے لکھا ہے کہ لین الحدیث ہونے کے باوجود حسن الحدیث ہیں۔
    ۲۱- یزید بن قبیس بن سلیمان السیلحی:
    تبع تابعین کے بعد کے طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ابو داود میں ان کی روایت ہے۔ ابن حجر اور ذہبی کے یہاں ثقہ ہیں۔
    ۳۱- یزید بن محمد بن عبد الصمد:
    پیدائش ۸۹۱ھ میں ہوئی تبع تابعین کے بعد کے طبقہ میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ۷۷۲ھ میں دمشق میں انتقال ہوا۔ ابوداود اور نسائی نے ان سے روایتیں لی ہیں۔ حافظ کے یہاں صدوق اور ذہبی کے یہاں ثقہ اور حافظ ہیں۔
    ۴۱- یزید بن محمد بن فضیل الجزری:
    گیارہویں طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں جو تبع تابعین کے بعد کا طبقہ ہے۔
    ۵۱- یزید بن مغلس بن عبد اﷲ بن یزید الباہلی:
    صغار تبع تابعین سے ان کا تعلق ہے۔
    ۶۱- یزید بن مہران الاسدی:
    تبع تابعین کے بعد سے ان کا تعلق ہے۔ ۹۲۲ھ میں وفات پائی ان کی روایت نسائی میں ہے۔
    ۷۱- یزید بن ہارون بن زاذی:
    پیدائش ۷۱۱ھ یا ۸۱۱ھ میں ہوئی صغار تبع تابعین میں سے ہیں۔ ۶۰۲ھ میں وفات پائی۔ کتب ستہ میں ان سے روایتیں ہیں۔ ابن حجر نے ثقہ، عابد اور متقن کہا ہے۔ ابن مدینی نے کہا ہے کہ ان سے زیادہ حافظ کا پختہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔
    ۸۱-یزید بن ابی یزید الضبعی:
    پیدائش ۰۰۱ھ میں ہوئی۔ ۰۳۱ھ میں وفات ہوئی۔ کتب ستہ میں ان سے روایتیں ہیں۔ حافظ ابن حجر نے ثقہ اور عابد کہا ہے۔
    (تفصیل کے لئے دیکھیں: تہذیب الکمال للمزی، تہذیب التہذیب للحافظ ابن حجر رحمہ اﷲ، الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم اور میزان الاعتدال للامام الذہبی)

    یہ نام علماءمحدثین کے ہیں جن کو حافظ ابن حجر اور حافظ ذہبی وغیرہم نے ذکر کیا ہے۔ اختصار کی وجہ سے بہت سارے نام یہاں پر درج نہیں کئے جاسکے ہیں۔ ان عظیم شخصیات کے یزید نام رکھنے سے ایک بات واضح ہے کہ اس زمانہ میں یزید نام رکھنا برا نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ ان لوگوں کے یہاں یہ ایک پسندیدہ نام تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں سے بہت سے نام ایسے ہیں کہ دادا یا والد کا نام یزید ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے بیٹے کا نام یزید رکھا۔
    نام رکھنے کے تعلق سے ایک بات بہت واضح ہونی چاہیےکہ آدمی صرف انہی کا نام رکھتا ہے جن سے ان کو محبت ہوتی ہے یا کم از کم ان سے نفرت نہیں ہوتی ہے۔اگر یزید سے ان لوگوں کو نفرت ہوتی تو اپنے چہیتے بیٹوں کا نام وہ ہر گز یزید نہ رکھتے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 20, 2012
  3. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    یزیدنام کے صحابہ کرام

    اگر ہم کچھ وقت کے لئے یہ مان لیں کہ یزید نام اس وجہ سے نہیں رکھنا چاہئے کہ وہ معاویہ بن سفیان کے بیٹے کانام تھا جن کے اوپر یہ الزام رکھا جاتا ہے کہ انہوں نے حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو شہید کروایا تو آخر صحابہکرام میں بھی ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جن کا نام یزید تھاتو پھر صحابہ کرام کی محبت میں یزید نام کیوں نہیں رکھ سکتے؟ ذیل میں ہم ان صحابہ کرام کے نام درج کر رہے ہیں:
    ۱- یزید بن اسود السوائی الخزاعی: یہ قریش کے حلیف اور جابر کے والدہیں۔
    ۲- یزید بن ثابت الضحاک الانصاری: یہ زید بن ثابت کے بھائی ہیں اور ان سے عمر میں بڑے تھے۔
    ۳- یزید بن سعید بن تمامہ بن الاسود
    ۴- یزید بن ابو سفیان: معاویہ بن ابو سفیان کے بھائی۔
    ۵- یزید بن سلمہ بن یزید بن مشجعہ بن الجعفی
    ۶- یزید بن شیبان الازدی
    ۷- یزید بن عامر بن الاسود بن حبیب بن سواءة
    یاد رہے کہ یزید نام کے صحابہ کرام کی ایک لمبی فہرست ہے یہاں پر سبھی نام درج کرنا مناسب ہے اور نہ ممکن مزید معلومات کے لئے الاصابہ اور اسد الغابہ کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔

     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 20, 2012
  4. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    قسطنطنیہ کے پہلے بحری بیڑے کی فضیلت

    قیصر روم کے شہر قسطنطنیہ پر پہلا حملہ ٥٠ھ ھجری میں بسر بن ارطاۃ کی قیادت میں ہوا۔ یہ امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت کا واقعہ ہے۔ مسلمانوں پر جب سخت حالات پڑے تو مدد کے لئے معاویہ رضی اﷲ عنہ نے یزید رحمہ اﷲ کی قیادت میں کمک بھیجی۔ اس موقع پر یزید کی قیادت میں ابو ایوب انصاری، ابن عباس اور ابن عمر رضی اﷲ عنہم جیسے جلیل القدر صحابہ شامل تھے۔
    اس حدیث سے جہاں یزید کی فضیلت معلوم ہوتی ہے کہ وہ روم پر لشکر کشی کرنے والے پہلے لشکر کی قیادت کر رہے تھے وہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک نیک اور صالح انسان تھے اس لئے کہ اگر وہ اس کیرکٹر کے ہوتے جو بعض لوگ ان کے بارے میں کہتے ہیں تو ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ جیسے صحابی ان کی قیادت میں ہرگز جہاد کرنے پر راضی نہ ہوتے۔
    اس موقع پر ایک اوربات قابل غور ہے، وہ یہ کہ امیر معاویہ نے لشکر کی قیادت پہلے پہل یزید کے ہاتھ میں نہ دی۔ اگر انہیں واقعی یزید کو آگے بڑھانا ہوتا تو وہ ضرور ایسا کرتے۔ اس وجہ سے بھی کہ اس غزوہ کی شہرت حدیث رسول کی وجہ سے مشہور و معروف تھی ہر کوئی یہ خواہش کرتا تھا کہ اس جنگ میں شریک ہوکر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بشارت کا حق دار ہوجائے۔
    کچھ لوگ یہ کہتے نظر آتے ہیںکہ ''قسطنطنیہ کے پہلے بحری بیڑے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کا فائدہ صرف انہی لوگوں کو ملے گا جن کے اندر مغفرت کی اہلیت ہے۔ چونکہ یزید کافر ومرتد ہو کر مرا تھا اس وجہ سے وہ اس بشارت کا حقدار نہیں''۔
    جہاں تک یزید کے کافر و مرتد ہونے کی بات ہے اگر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ نواسہئ رسول حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا قتل یزید نے خود کرایا تب بھی یزید کو کافر یا مرتد نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اس لئے کہ نبی کے علاوہ کسی کے قتل پر کسی کو کافر نہیں کہا جا سکتا۔ نبی کریم ؐ کا ارشاد ہے کہ جس نے کسی بھائی کو کافر کہا تو اگر وہ واقعی کافر ہے تو ٹھیک ورنہ اس کا یہ قول خود اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔ (صحیح بخاری رقم ٥٧٥٢)
    لہٰذا بغیر سوچے سمجھے صرف سنی سنائی باتوں میں آکر کسی کو کافر کہنے سے بچنا چاہئے۔
    جہاں تک رہی یزید کو اس بشارت سے الگ کرنے کی بات تو حقیقت یہ ہے کہ کسی جماعت یا گروہ کے بارے میں مغفرت یا جنت کی بشارت دینے کا مطلب یہی ہے کہ دراصل اللہ کی جانب سے اس بات کی ضمانت دی جا رہی ہے کہ اس شخص یا جماعت کی موت ایمان پر ہوگی۔ جن صحابہئ کرام کو آپ ؐ نے جنت کی بشارت دی ان کے ساتھ ''ایمان پر موت'' کی شرط نہیں لگائی۔ اسی طرح قسطنطنیہ کے فوجی بیڑے کے بارے میں بھی کوئی شرط نہیں لگائی۔ لہٰذا ہم اپنی طرف سے کوئی شرط کیوں کر لگا سکتے ہیں؟
     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 20, 2012
  5. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    یزید کی خلافت:
    امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو اپنے آخری ایام میں اس بات کی فکر ہوئی کہ اگر موت سے پہلے خلیفہ کی تعیین نہ کی گئی تو امت ایک مرتبہ پھر انتشار کا شکار ہوجائے گی۔ چنانچہ انہوں نے لوگوں سے مشورہ کیا۔ انہوں نے یزید کو خلیفہ بنانے کا مشورہ دیا۔ اس پر حسین بن علی، ابن زبیر، ابن عمر اور ابن عباس رضی اﷲ عنہم کے علاوہ کسی کو اعتراض نہیں تھا۔ ان لوگوں کا اعتراض یزید پر نہیں تھا بلکہ اس تجویز پر اعتراض تھا کہ خلیفہ باپ کے بعد بیٹا بنے۔ تفصیل کے لئے (دیکھیں: تاریخ الإسلام للإمام الذہبی ٣/١٨٦، تاریخ طبری ٥/٣٠٣، تاریخ الخلفاء ص ٢١٣)
    تعجب کی بات یہ ہے کہ جو لوگ یزید کو خلیفہ بنانے پر معاویہ رضی اﷲ عنہ پر لعن طعن کرتے ہیں وہ خود بھی موروثیت کی بات کرتے ہیں۔ بلکہ وراثتاً بارہ امام تک کی بات کرتے ہیں۔ آخر یہ نا انصافی امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ اور ان کے صاحبزادے یزید رحمہ اﷲکے ساتھ ہی کیوں؟
    امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ صحابیِ رسول تھے۔ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زیر سایہ ان کی تربیت ہوئی تھی۔ ان کے بارے میں بدگمانی کرنا خود رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی تربیت کے بارے میں شک کرنا ہے۔ خود امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے یزید کی خلافت کے بارے میں یہ کلمات ہیں:
    أللہم إن کنت إنما عہدت لیزید لما رأیت بن فضلہ، فبلغہ ما أمکث وأعنہ، وإن کانت إنما حملنی حب الوالد لولدہ، وأنہ لیس لما صنعت بہ أہلا فأقبضہ قبل أن یبلغ ذلک۔ (تاریخ الإسلام للذہبی۔ عہد معاویۃ بن أبی سفیان ص ١٦٩)
    ''اے اﷲ اگر میں نے یزید کو ولی عہد اس کے فضل کی وجہ سے بنایا ہو تو اس کو میری امیدوں کو علمی جامہ پہنانے والا بنا اور اس کام میں تو اس کی مدد کر، اور اگر مجھے اس نام پر ابھارنے والی چیز ایک باپ کے اندر بیٹے کی محبت ہے تو اس کومقصد تک پہنچنے سے پہلے اٹھالے''۔
    ابن خلدون کہتے ہیں:
    ''امیر معاویہ نے یزید کو ولی عہد اختلاف سے بچنے کے لئے بنایا اس لئے کہ بنو امیہ اپنے علاوہ کسی اور کو حاکم ماننے پر راضی نہ ہوتے۔ اگر آپ یزید کے علاوہ کسی اور کو خلیفہ بناتے تو وہ لوگ اختلاف کرتے''۔ (مقدمہ ابن خلدون٢٠٦)
    ابن العربی العواصم من القواصم میں صحابہ کرام میں سے ایک جلیل القدر صحابی کا قول نقل کرتے ہیں:
    وہ کہتے ہیں:
    ''ہم ایک صحابی کے پاس جب یزید بن معاویہ خلیفہ بنا دئے گئے تو گئے۔ انہوں نے کہا: کیا تم لوگ یہ کہتے ہو کہ یزید امت محمدیہ کا بہترین شخص نہیں نہ ا ن میں سب سے زیادہ فقہ کا علم رکھنے والا نہ شرف کے لحاظ سے ان میں زیادہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں معاملہ ایسا ہی ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں بھی یہی کہتا ہوں مگر اﷲ کی قسم امت محمدیہ متحد ہو یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ افتراق کا شکار ہو۔ '' (العواصم من القواصم ص:٢٣١)


    یزید کے بارے میں معتدل رائے:
    یزید کے بارے میں امت میں عام طور پر غلو سے کام لیا جاتا ہے، مخالفین ان کی مخالفت میں غلو کرتے ہیں، اور مؤیدین ان کی حمایت میں غلو کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں اہل سنت والجماعت کی معتدل رائے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اﷲ نے پیش کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
    ''لوگ یزید بن معاویہ کے بارے میں تین گروہوں میں بٹے ہوـئے ہیں۔ دو غلو کرنے والے ہیں اور ایک معتدل فرقہ ہے۔ ان میں سے ایک کا کہنا ہے کہ یزید کافر اور منافق تھے۔ انہوں نے اﷲ کے رسول کے نواسے کو قتل کرانے کی کوشش کی ان سے انتقام لینے کے لئے انہوں نے قتلِ حسین کے ذریعہ اپنے دادا عتبہ اور ان کے بھائی شیبہ اور ماموں ولید بن عتبہ وغیرہ کا انتقام لیا جن کو صحابہ کرام میں علی بن ابی طالب وغیرہ نے غزوہئ بدر اور بعد کی جنگوں میں قتل کیا۔ وہ لوگ کہتے ہیں کہ بدری کینہ تھا اور جاہلی انتقام۔ ایسی بات کہنا شیعہ روافض کے لیے آسان ہے اس وجہ سے کہ وہ ابو بکر، عمر اور عثمان جیسے صحابہ کرام کو کافر بتاتے ہیں تو ان کے لئے یزید کو کافر کہنا زیادہ آسان ہے۔
    دوسرے گروہ کا خیال ہے کہ وہ ایک نیک انسان، عادل امام اور صحابہ کرام میں سے تھے۔ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیدا ہوئے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اٹھایا اوربرکت کی دعا کی۔ ان میں سے بعض تو یزید بن معاویہ کو ابو بکر اور عمر پر فضیلت دیتے ہیں اور بعض تو انہیں نبی کا درجہ دیتے ہیں۔ یہ غلو پسندوں اور گمراہ کرنے والوں کے اقوال ہیں۔
    تیسرا قول یزید کے بارے میں یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھے۔ جس طرح ان سے بھلائی کے کام ہوئے اسی طرح سے کچھ غلطیاں بھی سرزد ہوئیں۔ ان کی ولادت عثمان غنی کی خلافت میںہوئی۔ وہ کافر نہیں تھے البتہ ان کی وجہ سے حسین رضی اﷲ عنہ کی شہادت کا حادثہ پیش آیا اور جو کچھ اہل حرۃ کے ساتھ کیا گیاوہ نہ تو صحابی تھے نہ ہی ولی تھے۔ یہ عام اہل علم و عقل اور اہل سنت والجماعت کا قول ہے۔'' (دیکھیں:فتاوی ابن تیمیہ٤٨٢-٤٨١/٤)
    ابن صلاح سے یزید کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے کہ انہوں نے حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ صحیح بات یہ ہے کہ ان کو قتل کرنے کا حکم دینے والا اور قتل کی طرف پیش قدمی کرنے والا عبید اﷲ بن زیاد تھا جو کہ اس وقت عراق کا گورنر تھا۔ حدیث میں ہے کہ مومن پر لعنت بھیجنا اس سے جنگ کرنا ہے۔ (فتح الباری ١٠/٤٧٩) حسین رضی اﷲ کا قاتل اس قتل سے کافر نہیں ہوگیا۔ بلکہ اس نے گناہ کا ارتکاب کیا۔ ہاں، اگر کوئی کسی نبی کو قتل کرے تو وہ کافر ہوگا۔ (قید الشرید ص٥٩-٦٠)
    جہاں تک یزید پر لعنت بھیجنے کی بات ہے تو شریعت میں جب کسی جاندار پر لعنت بھیجنے سے منع کیا گیا ہے تو کسی مسلمان پر لعنت بھیجنے کو کیسے گوارا کیا جاسکتا ہے۔
    یزید کے بارے میں محمد بن الحنفیہ کی شہادت کافی ہے۔ یہ اہل بیت میں سے ہیں اس لئے ان کی شہادت کا دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ اعتبار ہوگا۔
    ابن کثیر روایت کرتے ہیں کہ عبد اﷲ بن مطیع جو کہ عبداﷲ بن زبیر کے داعی تھے وہ اور ان کے اصحاب مدینہ سے محمد بن الحنفیہ کے پاس گئے ۔انہوں نے محمد بن الحنفیہ کو یزید سے جدا کرنا چاہا۔ محمد بن الحنفیہ نے انکار کردیا۔ ابن مطیع نے کہا: یزید تو شراب پیتا ہے، صلاۃ چھوڑتا ہے، کتاب اﷲ کے حکم کی خلافت ورزی کرتا ہے۔ محمد بن الحنفیہ نے کہا: میں نے ان کے اندروہ باتیں نہیں دیکھیں جو تم لوگ کہہ رہے ہو۔ میں ان کے پاس گیا ان کے یہاں قیام کیا میں نے انہیں صلاۃ کی پابندی کرتے دیکھا۔ بھلائی کے کاموں میں حصہ لیتے ہوئے دیکھا۔ فقہ کے بارے میں دریافت کرتے، سنت کا التزام کرتے دیکھا۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ سب وہ دکھاوے کے لئے کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آخر وہ کیوں مجھ سے ڈرنے لگے یا مجھ سے کس چیز کی امید کرنے لگے کہ میرے لئے خشوع و خضوع کی نمائش کرنے لگے؟ تم لوگ جو یزید پر شراب نوشی کے بارے میں کہہ رہے ہو اس کے بارے میں بتاتاہوں۔ اگر تم لوگوں نے ان کو شراب پیتے دیکھا تو تم ان کے شریک ہوئے۔ اگر تم لوگوں نے انہیں نہیں دیکھا تو تمہارے لئے کیسے جائز ہوگیا کہ تم کوجس چیز کا علم نہیں اس کے بارے میں خبردو۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ ہمارے یہاں حق ہے اگرچہ ہم نے نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ اﷲ تعالیٰ نے گواہی دینے والے کے لئے اسے حرام قرار دیا ہے۔ تمہارے معاملہ میں مجھے مداخلت نہیں کرنی ہے۔
    (البدایۃوالنہایۃ ٨/٢٣٣تاریخ الاسلام حوادث ٨٠-٦١ص٢٧٤محمد الشیبانی نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے، دیکھیں مواقف المعارضۃ من خلافۃ یزید بن معاویہ ص ٣٨٤)


    یزید بن معاویہ کے بارے میں من گھڑت روایت:
    احادیث گھڑنے والوں نے عبادات و معاملات کے بارے میں احادیث گھڑنے کے علاوہ تاریخی واقعات کے بارے میں اپنی طرف سے جھوٹی احادیث گھڑ کر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف منسوب کردی ہیں۔ ابو حنیفہ اور امام شافعی کی فضیلت اور مذمت میں حدیث گھڑنے والوں نے جو حدیثیں گھڑی ہیں وہ مشہور و معروف ہیں۔
    انہی گھڑی ہوئی حدیثوں میں سے ایک حدیث یہ ہے:
    عن أبی عبیدۃ أن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال: لایزال امر أمتی قائما بالقسط حتی یثلمہ رجل من بنی أمیۃ یقال لہ یزید۔ (البدایۃ والنہایۃ ٨/٢٥٣)
    ''ہماری امت کا معاملہ انصاف پر قائم رہے گا یہاں تک کہ بنی امیہ کا ایک آدمی اس کا ایک حصہ ڈھا دے گا اس کا نام یزید ہوگا۔ ''
    پھرابن کثیر نے ابن عساکر کے قول کا حوالہ دیا ہے کہ یہ روایت مکحول اور ابوثعلبہ کے درمیان منقطع ہے۔
    یہ روایت عقل کے لحاظ سے بھی موضوع و من گھڑت معلوم ہوتی ہے۔ مذکورہ روایت ابو عبیدہ بن جراح (پیدائش ٢٨ھ) کے علاوہ ابو درداء رضی اللہ عنہ سے بھی بیان کی جاتی ہے۔ ابو درداء رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت یزید دس سال کے تھے۔ اس عمر تک ان کے ساتھ رہے علمی استفادہ بھی کیا۔ سوال یہ ہے کہ ابو درداء نے معاویہ سے کہہ کر یزید کا نام کیوں نہیں بدلوا دیا اور اس حدیث کی بنیاد پر معاویہ رضی اللہ عنہ کو آگاہ کیوں نہیں کیا کہ اس لڑکے کو خلافت مت سونپنا کیوں کہ یہ معتوب ہے؟
     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 20, 2012
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    یزید کے تعلقات اہل بیت سے:
    اہل بیت سے یزید کے تعلقات حسین رضی اﷲ عنہ کے خروج کے بعد بھی اچھے رہے۔ ان کے تعلقات علی بن حسین، عبد اﷲ بن عباس اور محمد بن حنفیہ سے آخر تک اچھے رہے، جہاں تک عبد اﷲ بن جعفر کی بات ہے تو ان کے یزید سے دوستانہ مراسم تھے۔ یزید ان کی کسی فرمائش کو رد نہیں کرتے تھے۔ عبد اﷲ بن جعفر کہا کرتے تھے: کیا تم مجھے یزید کے بارے میں اچھی رائے رکھنے پر برا بھلا کہتے ہو؟ (قید الشرید فی أخبار یزید ص ٣٥)
     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 20, 2012
  7. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    کیا یزید ظالم تھے؟
    عام طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ یزید ایک ظالم بادشاہ تھا حسین رضی اللہ عنہ نے رعایا کو یزید کے ظلم و جور سے نجات دلانے کے لئے ان کے خلاف جنگ کی۔ یہ بات بھی غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ کے خروج اور یزید کی تخت نشینی کے درمیان کے چھ ماہ کے عرصہ میں کوئی ایسی روایت نہیں ملتی ہے کہ پورے عالم اسلام میں ظلم و ستم کا بازار گرم ہو گیا تھا۔ اللہ کی مخلوق تلملا اٹھی تھی۔ اس وقت ملت اسلامیہ کے صوبوں میں خلیفہ کی جانشینی کے جواز اور عدم جواز پر گرما گرم بحث ہو رہی تھی اور نہ خلیفہ کے کردار پر چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں۔ صرف کوفی سبائی شرارت پر تلے ہوئے تھے لیکن ان کے ساتھ بھی نرمی کا معاملہ کیا جا رہا تھا۔
    اگر واقعی حسین رضی اللہ عنہ رعایا کو یزید کے ظلم سے نجات دلانے کے لئے اٹھے ہوتے تو وہ ملت اسلامیہ میں اعلان کرکے ایک بڑے لشکر کے ساتھ اٹھتے نہ کہ اپنے گھر کی عورتوں بچوں اور مٹھی بھر نوجوانوں کو لے کر نکلتے۔ یہ تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کی بات ہے۔ جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے:
    ''وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّہْلُکَۃِ'' (البقرۃ: ١٩٥)
    ''اپنے ہی ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو''
    دشمن کے مقابلہ کے لئے ہتھیار تیار کرنے کو کہا گیا ہے:
    ''وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّۃِ وَ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ'' (انفال:٦٠)
    ''(دشمن) کے مقابلہ کے لئے جس قدر ہو سکے (ہتھیاروں اور آلات جنگ کی) قوت مہیا کر رکھو''
    کیا حسین رضی اللہ عنہ اتنے ناعاقبت اندیش تھے کہ ان کو نتیجہ کا علم نہیں تھا؟ کہ اس سے ظالم کا ظلم اور بڑھ جائے گا۔ دوسری بات یہ کہ ظالم سے رعایا کو نجات دلانے کی ذمہ داری صرف حسین رضی اللہ عنہ پر ہی نہ تھی دوسرے لوگ بھی اس کے مکلف تھے؟ آخر وہ کیوں نہیں سامنے آئے؟
    حقیقت یہ ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ آپ کوفیوں کی سازش کا شکار ہو گئے تھے جنہوں نے آپ کو خطوط لکھ کر خلافت کے لئے دعوت دی اور جب حسین رضی اللہ عنہ نے حقیقتِ حال جاننے کے لئے اپنے چچازاد بھائی مسلم بن عقیل کو بھیجا تو انہیں دھوکہ سے قتل کرا دیا۔ ابتداء میں آپ کوفیوں کی دعوت پر گھر سے نکلے تھے مگر جب راستے میں مسلم کے قتل کی اطلاع ملی تو آپ اہل خاندان کے دباؤ میں خون کا بدلہ لینے کے لئے نکلے۔ اس کے بعد جو کچھ بھی پیش آیا وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔
    جس طرح ہندؤں کے یہاں مہابھارت کو حق و باطل کی لڑائی قرار دیا جاتا ہے حالانکہ اگر ان قصوں پر یقین کیا جائے تو یہ سراسر سیاسی نوعیت کی جنگ تھی۔ وہی حال واقعہ کربلا کا بھی ہے۔ یہ جنگ بھی سیاسی نوعیت کی تھی۔
    جہاں تک رہی بات کربلا کے موقع پر اہل بیت پر ہوئے مظالم کی داستانوں کی تو ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ آخر ہم کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ صرف مسلم بن عقیل کے خون کا بدلہ لینے کے لئے حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور اہل بیت اٹھ کھڑے ہوئے مگر کربلا میں اہل بیت کو پیاسا رکھا گیا پیاسے بچوں کے حلق پر تیر برسائے گئے، مقتولین کی لاشوں کو روند کر ریزہ ریزہ کیا گیا۔ سروں کو نیزہ پر اٹھا کر بازاروں میں گھمایا گیا۔ اہل بیت کی عورتوں کی چادریں چھین کر نامحرموں کے ہجوم میں بے پردہ کیا گیا۔ اس پر صحابہ کرام خاموش رہے۔ یہاں تک کہ چھ مہینہ بعد علی بن حسین زین العابدین مدینہ گئے۔ لازما انہوں نے اہل بیت کے ساتھ ہوئے ان مظالم کی داستان بیان کی ہوگی مگر اس پر اہل مدینہ خصوصاً ہاشمی گھرانے کے افراد خاموش رہے۔ کیا ایسا ممکن ہے؟
    صحابہئ کرام کا عمل یہ بتاتا ہے کی ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ ان کے یہاں یہ ایک اتفاقی حادثہ تھا اور کچھ نہیں۔


    نام رکھنے کے بارے میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت:
    رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سب سے زیادہ عبد اﷲ اور عبد الرحمان کے نام کو پسند کرتے تھے۔ (دیکھیں سنن ابی داؤد ٤/٢٨٧ رقم ٤٩،٤٩ حدیث صحیح ہے) در اصل عبد اﷲ میں اﷲ کے ذاتی نام کی طرف بندہ منسوب ہوتا ہے اور عبد الرحمان میں بندہ اﷲ کے صفاتی نام رحمان کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ لہٰذا عبد کی اضافت اﷲ کے ذاتی یا صفاتی نام کی طرف کی جائے، کسی اور کی طرف نہیں۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ میرا نام رکھو مگر میری کنیت (ابوالقاسم) مت رکھو۔ (سنن أبی داؤد ٤/٢٩١ رقم ٤٩٦٥)حدیث صحیح ہے علامہ البانی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔
    اﷲ کے رسول نے چند ناموں سے منع بھی فرمایا ہے چنانچہ افلح اور یسار جیسے نام رکھنے سے منع فرمایا اسکی وجہ بھی بیان فرمائی کہ اس سے لوگ خواہ مخواہ تشویش میں مبتلا ہوںگے (دیکھیں سنن أبی داؤد ٤/٢٩٠، رقم ٤٩٥٨)
    آپ کا یہ بھی طریقہ تھا کہ کسی کا غلط نام دیکھتے تو اس کو بدل کر بہتر نام رکھ دیتے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 20, 2012
  8. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    نام رکھنے میں چند چیزوں کی رعایت ہونی چاہئے:

    (١) نام سے شرک کی بو نہ آئے۔
    (٢) تکبر کا اظہار نہ ہو۔
    (٣) صاحب نام کی تذلیل نہ ہوتی ہو۔
    مذکورہ بالا چیزوں کی رعایت کرتے ہوئے کوئی بھی نام رکھا جاسکتا ہے۔ انبیاء کرام، صحابہ کرام اور علماء کرام کے نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
    وہ حدیث جس میں انبیاء کرام کے نام پر نام رکھنے کی بات کہی گئی ہے اگرچہ ضعیف ہے مگر چونکہ رسول اکرم ؐنے خود اپنے نام پر نام رکھنے کی اجازت دی ہے لہٰذا اس سے دیگر انبیاء کے نام پر نام رکھنے کی اجازت کی بات سمجھ میں آتی ہے۔
    صحابہئ کرام کے نام پر نام رکھنا ان سے محبت کا اظہار کرنا ہے۔ جس پر نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے ابھارا ہے (من أحبہم فبحبی أحبہم)
    ہم گذشتہ سطور میں بیان کرچکے ہیں کہ صحابہئ کرام میں یزید نام رکھنے والے صحابہ کی ایک بڑی تعداد تھی۔ ان کی وجہ سے ہم اپنے بچوں کا نام اگر یزید رکھتے ہیں تو غلط بات نہ ہوگی۔ جیسا کہ واقعہ کربلا کے بعد کے لوگوں نے بغیر کسی جھجک کے اس نام کو رکھا۔ یہی نہیں بلکہ عرب ممالک میں اب بھی لوگ اپنے بچوں کا نام یزید رکھتے ہیں۔ اس نام میں نہ کوئی معنوی خرابی ہے اور نہ کوئی ایسی بات ہے جس کی وجہ سے اس کو ترک کردیا جائے۔ صحابہئ کرام کے بعد تابعین میں سے ایک شخص کے یزید نام ہونے کی وجہ سے جس کے اوپر حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قتل کرانے کا الزام ہے، یہ نام ہمیشہ کے لئے مکروہ یا ناجائز نہیں ہوگیا۔ اگر یہ بات صحیح بھی ہوجائے کہ یزید رحمہ اﷲنے حسین رضی اﷲ عنہ کا قتل کرایا ہے تب بھی ہم اس کی وجہ سے اس نام کے رکھنے کو مکروہ نہیں قرار دے سکتے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 20, 2012
  9. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    خاتمہ:
    اس پورے مضمون کا مقصد اس باطل خیال کی تردید کرنا ہے کہ واقعہ کربلا کے بعد امت نے متفقہ طور پر اپنے بچوں کا نام یزید رکھنا چھوڑ دیا۔ اس کے علاوہ جو باتیں بیان کی گئی ہیں وہ ضمنی ہیں۔ یزید بن معاویہ کے بارے میں مخالفین و مؤیدین نے بہت کچھ لکھا ہے۔ لہٰذا اس پر مزید کچھ لکھنے کا خاطر خواہ فائدہ نہیں۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں کسی کے بارے میں بے جا الزام تراشی سے بچائے۔ آمین۔ ٭٭٭
     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 20, 2012
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,094
    جزاک اللہ خیرا۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں