لباس

محمد آصف مغل نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏اگست 24, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,848
    لباس کی اہمیت ​

    لباس اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں میں سے ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے نام لے کر ذکر کیا چنانچہ فرمایا:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُّوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَرِيْشًا۝۰ۭ وَلِبَاسُ التَّقْوٰى۝۰ۙ ذٰلِكَ خَيْرٌ۝۰ۭ ذٰلِكَ مِنْ اٰيٰتِ اللہِ لَعَلَّہُمْ يَذَّكَّرُوْنَ۝۲۶ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ كَـمَآ اَخْرَجَ اَبَوَيْكُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ يَنْزِعُ عَنْہُمَا لِبَاسَہُمَا لِيُرِيَہُمَا سَوْاٰتِہِمَا۝۰ۭ اِنَّہٗ يَرٰىكُمْ ہُوَوَقَبِيْلُہٗ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَہُمْ۝۰ۭ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّيٰطِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ لِلَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ۝۲۷

    ’’اے بنی آدم! ہم نے تم پر لباس نازل کیا جو تمہاری شرم گاہوں کو ڈھانپتا ہے اور زینت بھی ہے اور لباس تو تقویٰ ہی کا بہتر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ شاید لوگ نصیحت حاصل کریں۔ اے بنی آدم! ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں فتنے میں مبتلا کردے جیسا کہ اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوا دیا تھا اور ان سے ان کے لباس اتروا دئیے تھے تاکہ انھیں ان کی شرم گاہیں دکھائے۔ وہ اور اس کا قبیلہ تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انھیں نہیں دیکھ سکتے۔ ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا سرپرست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔‘‘
    اس آیت میں مندرجہ ذیل باتیں بتائی گئی ہیں:
    … لباس وہ نعمت ہے جو بارگاہِ ربانی سے خصوصی طور پر اولادِ آدم کے لیے نازل ہوا، چنانچہ دنیا کی کسی اور مخلوق کو لباس کا مکلف نہیں ٹھہرایا گیا۔
    … لباس جیسی اہم، قیمتی اور خصوصی نعمت کا مقصد انسانی بدن کے ان حصوں کو ڈھانپنا ہے جن کو ننگے رکھنا باعث ِننگ وعار ہے۔
    … لباس کا مقصد جسم کو خوب صورتی عطا کرنا ہے، انسان ننگے بدن ہو تو وہ بدصورت لگتا ہے۔ لباس جتنا خوب صورت ہوگا انسان اتنا ہی زیادہ خوب صورت نظر آئے گا۔
    … تقویٰ کا لباس ہی بہتر ہے۔ تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے خوف سے اس کے منع کردہ امور کو چھوڑ دینا اور جو ہدایات اس نے دی ہیں انہیں اختیار کرنا۔ یہاں یہ واضح کیا گیا ہے کہ لباس کے بارے میںاللہ تعالیٰ نے جو ہدایات دی ہیں وہی لباس پہننا تقویٰ کا تقاضا ہے۔
    … لباس اللہ تعالیٰ کی آیات میں سے ہے اور ربانی ہدایات کے مطابق لباس پہننا نصیحت کے حصول کا مظہر ہے۔
    … شیطان کی طرف سے یہ خدشہ برابر موجود ہے کہ کہیں وہ تمہارا لباس نہ چھین لے جس طرح اس نے تمہارے ماں باپ کا لباس اتروا دیا تھا۔
    … شیطان اور اس کا خاندان تمہارا ایسا دشمن ہے جسے تم نہیں دیکھ سکتے لیکن وہ اور اس کے ساتھی تمہیں تاکتے رہتے ہیں اور موقع پاتے ہی حملہ کردیتے ہیں۔
    … شیطان کے ساتھی صرف وہی لوگ ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔ ایمان لانے والے اس کے دوست ہو ہی نہیں سکتے۔
    مندرجہ بالا آیت لباس کے تمام مثبت اور منفی پہلوئوں پر روشنی ڈالتی ہے۔ آنے والی سطور میں اسی آیت پر مشتمل ہدایاتِ ربانی اور احادیث ِنبوی ﷺ کی روشنی میں وضاحت پیش کی جائے گی۔ چونکہ ہمارا موضوع عورت کا لباس ہے لہٰذا ہم اسے عورت ہی سے متعلق محدود رکھیں گے۔

    لباس کا پہلا مقصد
    قابل ستر جگہوں کا ڈھانپنا

    ستر ایک شرعی اصطلاح ہے جس سے مراد بدن کے ان اعضا کو دوسروں کی نظروں سے چھپانا ہے جنہیں ننگا رکھنا حیا کے منافی ہے، نیز شریعت یہ اجازت نہیں دیتی کہ انہیں ننگا رکھا جائے البتہ مجبوری کی حالت اس سے مستثنیٰ ہے۔
    عورت کا ستر
    عورت کے ستر کے بارے میںمختلف محدثین اور فقہاء نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جو کچھ سمجھا ہے وہ درج ذیل ہے:
    … مالکی فقہاء کی رائے: عورت کا ستر اس کا پورا جسم ہے سوائے چہرے، سر، گردن، دونوں ہاتھ، دونوں پیر کے۔ [فقہ النساء]
    … حنبلی فقہاء: عورت کے ستر کی حد چہرہ، گردن، سر، دونوں ہاتھ، دونوں پیر اور پنڈلیوں کے سوا پورا جسم ہے۔
    … حنفی عالم مولانا اشرف علی تھانویh: عورت کو اپنے شرعی محرم کے سامنے ناف سے زانو تک اور کمر اور پیٹ کا کھولنا حرام ہے۔ سر، چہرہ، بازو اور پنڈلی کو کھولنا گناہ نہیں گو بعض اعضاء کا بلا ضرورت ظاہر کرنا بھی مناسب نہیں۔ [اصلاحِ خواتین، مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ]
    … حنفی عالم مفتی سید احمد علی سعید: محارم سے چہرہ، بازو، سینہ، پنڈلیاں اور سر کا پردہ نہیں اگر ان میں سے کوئی عضو کھلا رہ جائے گا تو نہ عورت گنہگار ہے نہ مرد۔ لیکن حیا اور تہذیب وادب کی حدود کا پاس رکھنا ضروری ہے۔
    … ابوبکر الجزائری: خاتونِ اسلام اپنی پنڈلی اور بازو کو اہل خانہ کے سامنے نہیں کھولتی۔ نہ ہی اپنے سر اور سینے کو کھولتی ہے تاکہ اس کی بالی یا ہار نہ دکھائی دے۔ [المراۃ المسلمہ اردو ترجمہ خاتونِ اسلام] گویا ان کے خیال میں پنڈلیاں، بازو، سر اور سینہ بھی ستر میں شامل ہے۔
    … ڈاکٹر اسرار احمد لکھتے ہیں: گھر میں محرموں کے لیے عورت کے چہرے، ہاتھ اور پائوں کے علاوہ پورا جسم ستر ہے وہ بہرحال ڈھکا رہے گا۔ [اسلام میں عورت کا مقام]
    انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ سیدہ فاطمہ کے لیے ایک غلام لائے جو آپ نے ان کو ہبہ کیا تھا ۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر اس وقت وہ کپڑا تھا جسے اگر وہ سر پر لپیٹتیں تو ان کے پائوں تک نہ پہنچتا اور اگر پائوں کو چھپاتیں تو سر پر نہ رہتا ۔ نبی ﷺ نے جب ان کی اس الجھن کو دیکھا تو فرمایا :
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]اِنَّہُ لَیْسَ عَلَیْکَ بَاْسٌ اِنَّمَا ہُوَ اَبوْکِ وَعُلَامُکِ۔

    ’’تمہارے لیے کوئی حرج کی بات نہیں تمہارے سامنے صرف تمہارے والد ہیں اور تمہارا غلام ہے ۔ ‘‘ [ابو داؤد : ۴۱۰۶۔ بیہقی: ۷/۹۵]
    یاد رہے کہ عورت کا اپنا غلام اس کا محرم ہوتا ہے ۔
    ستر کی مندرجہ بالا تشریحات کا ماحصل یہ ہے کہ عورت کا سر، پنڈلیاں، بازو اور گردن کا محرم کے سامنے کھل جانا حرام نہیں لیکن بغیر ضرورت کھلا رکھنا ممنوع ہے۔ یعنی عورت ایسا لباس ان کے سامنے نہیں پہنے گی، جس سے سر، پنڈلیاں، بازو اور گردن محرموں کے سامنے ننگی ہوں۔ اگر کسی وقت یہ کھل جائیں اور محرم کی نظر پڑجائے تو حرام نہیں کیونکہ ایک ہی گھر میں رہتے اور کام کاج کرتے وقت ایسا ہونا ممکن ہوتا ہے۔
    عورت کا ستر ڈھانپنے والا لباس وہ ہے جس میں مندرجہ ذیل اوصاف پائے جائیں۔
    1… لباس اتنا باریک نہ ہو کہ جسم کا رنگ یا جھلک نظر آئے۔
    2… اتنا تنگ نہ ہو کہ جسم کے نشیب وفراز نمایاں ہوں۔
    3… اتنا چھوٹا نہ ہو کہ پنڈلیاں، بازو، گردن، سینہ وغیرہ ڈھانپنے سے
    قاصر ہو۔
    گویا عورت اپنا لباس تیار کرتے وقت اتنا لمبا بنائے گی کہ اس کے کلائی تک ہاتھ، پائوں اور چہرے کے علاوہ باقی پورا بدن لباس سے ڈھک جائے۔ نیز لباس کی کٹائی، سلائی اور کپڑے کے انتخاب میں یہ امر ملحوظ رکھے گی کہ اعضائے ستر کسی طرح بھی ظاہر نہ ہوں۔
    یاد رہے کہ اگر لباس میں عورت مندرجہ بالا تین اوصاف کو ملحوظ نہیں رکھتی تو پھر وہ ان عورتوں میں شمار ہوگی جو کپڑے پہننے کے باوجود ننگی ہوتی ہیں، اور جن سے شیطان نے ان کا لباس چھین لیا ہے۔

    فتنہ عریانیت اور شیطان

    شیطان نے بنی آدم کے ماں باپ سے قسم کھا کر کہا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں، میرا کہنا مان لو اور اس درخت کا پھل کھا لو، جس سے تمہیں تمہارے رب نے منع کیا ہے وہ اتنی بڑی قسم اٹھانے والے مکار وعیار دشمن کے جھانسے میں آگئے اور اللہ کے منع کردہ درخت کا پھل چکھ لیا اور ساتھ ہی ان کی بیوی نے بھی۔ اسی وقت ان دونوں کے جسم پر سے جنت کا لباس اتر گیا اور وہ ننگے ہوگئے۔ پہلی بار اپنا آپ ننگا دیکھ کر ان کے اندر حیا کی فطری صفت نے اپنی برہنگی کو چھپانے کے لیے درختوں کے پتوں کا سہارا لیا۔ یوں شیطان نے انہیں جنت سے نکلوا دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ زمین پر سکونت اختیار کرنے کے لیے ہی پیدا کیے گئے تھے۔
    شیطان کا انسان پر یہ سب سے پہلا حملہ تھا جس کا مقصد انسان کو برہنہ اور بے حیا بنانا تھا۔ شیطان تب سے اب تک اس کوشش میں مصروف ہے اور وہ مختلف طریقوں سے ابن آدم پر حملے کرتا چلا آرہا ہے۔
    اس نے انسان سے حیا کی صفت چھیننے کے لیے ایک خفیہ اور پرفریب چال چلی۔ اس نے انسان کا لباس اتروانے کی بجائے اسے ایسے فیشنوں سے متعارف کروایا جو اس کے مقصد کا زینہ ثابت ہوئے۔ ان فیشنوں کی وجہ سے لباس ستر پوشی کے بجائے برہنگی … زیب وزینت کی بجائے اوچھا پن … اور تقویٰ کی بجائے بے ہودگی کی علامت بن گیا۔
    فتنہ برہنگی کے لیے اس نے عورت کو اپنا آلہِ کار بنایا کیونکہ جب بنی سنوری نیم برہنہ عورت مرد کے سامنے آتی ہے تو مردمتقی ہونے کے باوجود عورت کی خواہش میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]مَاتَرَکْتُ بَعْدِیْ فِتْنَۃً اَصَرُّ عَلَی الرِّجَالِ مِنَ النِّسَائِ ۔ [ بخاری: ۵۰۹۶، مسلم: ۲۷۴۰، ابن حبان: ۵۹۶۷، احمد: ۲۲۰۸۹][/FONT]
    ’’میں نے اپنے بعد عورتوں سے بڑھ کر اور کوئی فتنہ مردوں کے لیے ضرر رساں نہیںچھوڑا۔‘‘

    غیر ساتر لباس پہننے پر وعید
    ایسی عورت کے لیے کیا وعید ہے؟ رسول اللہ ﷺ کی زبان سے سنیے:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]صِنَفَانِ مِنْ اَہْلِ النَّارِ لَمْ اَرَہُمَا قَوْمٌ مَعَہُمْ سِیَاطٌ کَاَذْنَابِ الْبَقَرِ یَضْرِبُوْنَ بِہَا النَّاس وَنِسَائٌ کَاسِیَاتٌ عَارِیَاتٌ، مُمِیْلاَتٌ، مَائِلاَتٌ رُؤسُہُنَّ کَاَسْنِمَۃُ الْبُخْتِ الْمَائِلَۃِ لَا تَدْخُلَنَّ الْجَنَّۃَ وَلَا یَجِدْنَ رِیْحَہَا وَاِنّ رِیْحَہَا لَیُوْجَدُ مِنْ مَسِیْرَۃٍ کَذَا وَکَذَا ۔ [مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، باب النساء الکاسیات العاریات المائلات الممیلات، مسند احمد: ۲؍۷۳۵۵، تھوڑے سے الفاظ کے ردوبدل کے ساتھ] [/FONT]
    ’’دوزخیوں کی دو قسمیں ایسی ہیں جنہیں میں نے ابھی نہیں دیکھا ایک تو وہ لوگ ہیں جن کے پاس بیلوں کی دموں کی طرح کوڑے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے۔ دوسرے وہ عورتیں ہوں گی جو لباس تو پہنتی ہوں گی مگر ننگی ہوں گی۔ سیدھی راہ سے بہکانے والی اور خود بہکنے والی ان کے سر بختی اونٹوں کی طرح ایک طرف کو جھکے ہوئے ہوں گے، وہ جنت میں داخل نہ ہوں گی اور نہ اس کی خوشبو پائیں گی حالانکہ اس کی خوشبو اتنی دور دور سے آتی ہے۔‘‘
    ہندہ بنت الحارث ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں:
    ایک روز رسول اللہ ﷺ نیند سے بیدار ہوئے تو فرمارہے تھے۔
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]لَااِلٰہَ اِلاَّاللّٰہُ سُبْحَانَ اللّٰہِ مَاذَا اُنْزِل اللَّیْلَۃُ مِنَ الْفِتَنِ؟ وَمَا ذَا اُنْزِلَ مِنَ الْخَزَائِنِ؟ مَنْ یُوْقَظُ صَوَاحِبِ الْحُجْرَاتِ، کَمْ مِنْ کَاسِیَۃٍ فِی الدُّنْیَا عَارِیَۃٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔[بخاری:۷۰۶۹،۱۱۵، ۱۱۲۶ ،۶۲۱۸۔ ترمذی:۲۱۹۶] [/FONT]
    ’’اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں سبحان اللہ! آج رات کیا کیا فتنے نازل ہوئے ہیں اور کیا کیا خزانے ظاہر ہوئے ہیں؟ کوئی ہے جو حجرے والیوں کو جگا دے۔ بہت سی وہ عورتیں جو آج دنیا میں لباس پہنے ہوئے ہیں، آخرت میں ننگی ہوں گی۔‘‘
    اس حدیث کے راوی زہری کہتے ہیں، اس حدیث کی راویہ ہندہ بنت الحارث اپنی آستینوں میں گھنڈیاں رکھتی تھی جو ان کی انگلیوں کے درمیان ہوتی تھیں۔[بخاری:۵۸۴۴]
    طبرانی نے بہ سند صحیح یہ روایت نقل کی ہے۔
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]سَیَکُوْنَ فِیْ اُمَّتِیْ نِسَائَ کَاسِیَاتٌ عَارِیَاتٌ عَلٰی رُؤسِہِنَّ کَاَسْنِمَۃُ الْبَخْتِ، اَلْعِنُوْہُنَّ فَاِنَّہُنَّ مَلْعُوْنَاتٌ ۔[/FONT]
    [معجم صغیر، بہ سند صحیح، بحوالہ فقہ النساء]
    ’’عن قریب میری امت میں ایسی عورتیں ہوں گی جو بہ ظاہر لباس پہنے ہوں گی لیکن اصل میں وہ ننگی ہوں گی اور ان کے سروں پر بختی اونٹ کی کوہان کی مانند (جوڑا) ہوگا، ان پر لعنت بھیجو کیونکہ یہ عورتیں ملعون ہیں۔‘‘
    مندرجہ بالا احادیث سے مندرجہ ذیل امور کا پتا چلتا ہے:
    … بعض عورتیں لباس پہنے ہوئے بھی ننگی ہوتی ہیں (چھوٹا، تنگ، باریک یا سوراخ دار اور کٹے ہوئے ڈیزائن والا ہونے کی وجہ سے) یہ کاسیاتٌ عاریاتٌ کا مفہوم ہے۔
    … قیامت کے روز اللہ تعالیٰ بھی ایسی عورتوں کو لباس نہیں پہنائے گا کیونکہ یہ دنیا میں ننگا رہنے کو پسند کرتی تھیں۔ (یعنی قابلِ ستر اعضا کو ننگا اور نمایاں کرنے والا لباس پہنتی تھیں۔)
    … لباس پہن کر ننگا رہنا (باریک، چھوٹا یا تنگ لباس پہنناـ) دوسروں کو یہ دھوکہ دینا ہے کہ ہم نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں حالانکہ مقصد ستر کو چھپانے کے بجائے قابلِ ستر اعضا کو ظاہر کرنا ہے۔
    … غیر ساتر لباس (چھوٹا، تنگ اور باریک) لباس پہننے والی عورتیں خود مردوں کو دعوتِ نظارہ دے کر اپنی طرف مائل کرتی ہیں جو بدترین گناہ ہے۔ (یہ مُمِیْلَاتٌ کا مفہوم ہے۔)
    … غیر ساتر لباس پہننے والی عورتیں خود بھی مردوں پر ریجھنے والی ہوتی ہیں (یہ مَائِلَاتٌ کا مفہوم ہے۔)
    … بختی اونٹوں کی کوہان کی مانند جو ُڑے ان کے سر پر ہوتے ہیں یعنی وہ اپنے بال پشت پر سیدھے چھوڑنے گوندھنے یا باندھنے کے بجائے ان کا جو ُڑا بناتی ہیں۔ (جوڑا بنانا بھی ممنوع ہے۔)
    … ایسی عورتوں کی چال بھی بختی اونٹ کی طرح مٹک مٹک کر چلنے والی ہوتی ہے جو فاحشہ عورتوں ہی کی ایک علامت ہے۔ (جسے آج کل Catwalk کا نام دے دیا گیا ہے )
    … رسول اللہ ﷺ نے اپنے امتیوں کو حکم دیا کہ ان پر لعنت بھیجو۔ لعنت سے مراد اللہ کی رحمت سے دور ہونا ہے۔
    … لباس پہننے کے باوجود ننگا رہنے والی عورتوں کے لیے جنت میں داخلہ تو دور کی بات ہے جنت کی خوشبو بھی حرام ہوگی۔ یعنی ان کے اس گناہ کی وجہ سے انہیں جنت سے دور رکھا جائے گا۔
    …اس حدیث کی راوی خاتون ہندہ بنت الحارث قمیص کے بازو اتنے لمبے رکھتی تھیں کہ انگلیوں میں ان کی گھنڈیاں ہوتی تھی۔
    لباس پہننے کے مقصد ستر پوشی کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی عورتوں کے لباس میں اوّلیت دیتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی مندرجہ بالا وعید ان کے پیش نظر رہتی تھی اور وہ اپنی مائوں، بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کے لباس میں صرف شرعی حدود ہی کو ملحوظ رکھتے تھے … ان کا طریق کار کیا تھا۔ انہوں نے باریک، تنگ، مختصر لباس کو کس کس زاویے سے سمجھا۔ آئیے انہی کے عمل کی روشنی میں ہم بھی سمجھیں۔

    باریک لباس
    بنو تمیم کی کچھ عورتیں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئیں۔ انہوں نے باریک کپڑے پہن رکھے تھے۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ’’اگر تم مسلمان ہو تو یہ مسلمان عورتوں کا لباس نہیں اور اگر تم غیر مسلم ہو تو بے شک یہ لباس پہنے رہو۔‘‘ [بحوالہ فقہ النساء]
    معلوم ہوا کہ باریک لباس پہننا غیر مسلم عورتوں کا کام ہے۔
    اگر عورت باریک لباس کے نیچے کوئی دوسرا کپڑا جوڑ کر سیئے اور پہنے تو پھر اس کا استعمال درست ہے۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث سے ثابت ہے۔
    دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس مصر کے سفید کپڑے لائے گئے تو آپ نے ان میں سے ایک کپڑا مجھے بھی دیا اور فرمایا: اس کے دو ٹکڑے کر لو ایک کی تم قمیض بنا لو اور دوسرا اپنی اہلیہ کو دے دو وہ اس کو اپنی اوڑھنی بنا لے ۔ پھر جب میں نے پیٹھ پھیری تو آپ ﷺ نے فرمایا :
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]وَأمُرِامْرَاَتَکَ اَنْ تَجْعَلَ تَحْتَہ‘ ثُوْبًا لَا یَصِفُہَا [/FONT]
    ’’اپنی بیوی سے کہنا کہ اس کے نیچے کوئی اور کپڑا لگا لے تا کہ اس کے جسم کو ظاہر نہ کرے ۔ ‘‘ [ابو داؤد، کتاب اللباس : ۴۱۱۶]
    اسامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ان کپڑوں میں سے ایک کپڑا دیا جو دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ لائے تھے۔ میں نے وہ کپڑا اپنی بیوی کو دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ میں نے وہ کپڑا نہیں پہنا تو فرمایا: ’’کیا بات ہے تم نے اسے نہیں پہنا۔‘‘ میں نے عرض کیا: ’’میں نے تو وہ اپنی بیوی کو دے دیا۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]مُرْہَا فَلْتَجْعَلْ لَہَا غِلَالَۃٌ، فَاِنِّیْ اَخَافُ اَنْ تَصِفُ حُجْمُ عِظَامَہَا۔ [/FONT]
    ’’اسے کہو کہ وہ نیچے کوئی اور کپڑا لگالے، مجھے ڈر ہے کہ اس میں سے اس کی ہڈیوں کی ساخت نمایاں ہوگی۔‘‘
    [امام احمد:۲۲۱۲۹، بہ سند حسن]
    آج کل آرگینزا اور جالی دار کپڑوں کے نیچے استر لگانے کے بجائے الگ شمیض پہنی جاتی ہے۔ یہ طریقہ حفظِ ستر کے لحاظ سے درست نہیں۔بہتر یہی طریقہ ہے کہ زیادہ باریک کپڑے کے نیچے استر لگا کر سیا جائے۔ البتہ جب کپڑا موٹا ہو اور اس احتیاط کے پیش نظر کہ بے ستری نہ ہو نیچے شمیض وغیرہ پہن لی جائے تو ایسا کرسکتے ہیں۔
    بعض کپڑوں کا رنگ گاڑھا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ موٹے نظر آتے ہیں۔ ایسے کپڑوں کو جسم سے تھوڑا سا دور رکھ کر دیکھیں اگر جسم کی ساخت یا رنگ نظر آرہا ہے تو اس کے نیچے دوسرا کپڑا ضرور لگائیں۔ کیونکہ ایسا باریک کپڑا جس سے جسم نمایاں ہوتا ہو اس کے نیچے دوسرا کپڑا پہن کر (شمیض، بنیان، پاجامہ وغیرہ) اوپر باریک لباس پہنا جائے تو ستر پوشی کا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس طرح نیچے پہنے ہوئے کپڑے کی وجہ سے جسم کی ساخت نظر آئے گی جب کہ مقصد ساخت کو چھپانا ہے۔
    ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ہلکے رنگ کے کپڑے کو گیلا کرکے جسم سے چپکا کر دیکھیں اگر جلد کی جھلک نظر آئے تو یہ کپڑا باریک ہے۔ کیونکہ لباس عورت کا عمومی پہناوا ہے۔ برتن، فرش یا کپڑے دھوتے ہوئے گیلا بھی ہوجاتا ہے یا بسا اوقات بارش میں بھی کام کرنا پڑتا ہے۔ اگر لباس جسم کو گیلا ہونے کے بعد نمایاں کرے تو یہ بے پردگی ہے۔
    تنگ اور جسم کی بناوٹ ظاہر کرنے والا کپڑا
    بناوٹ دو طرح سے ظاہر ہوسکتی ہے۔ یا تو کپڑا چست اور تنگ ہو یا کھلا ہی ہو لیکن اس کی بُنائی ایسی ہو کہ جسم کے اعضا کو نمایاں کرے جیسے بعض جرسی کپڑے وغیرہ۔
    دوسرے جس کپڑے کے موٹا ہونے کے باوجود یہ شبہ ہو کہ اعضاء کی بناوٹ ظاہر ہوگی اس کے نیچے بھی کوئی اور کپڑا لگا لینا یا پہن لینا چاہیے۔ اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے۔
    عروہ بن زبیر اپنی والدہ اسماء بنت ابی بکر کے لیے کپڑا لائے۔ اس دور میں وہ بہت بوڑھی ہوچکی تھیں اور بینائی جاتی رہی تھی۔ انہوں نے کپڑے کو ہاتھ سے ٹٹول کر دیکھا اور واپس کردیا۔ منذر نے کہا!اماں جان یہ شفاف (باریک) تو نہیں ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ’’شفاف (باریک) تو نہیں لیکن جسم کی ساخت کو نمایاں کرتا ہے۔ [ابن سعد بہ سند صحیح بحوالہ فقہ النساء]
    عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کتانی کپڑا آیا۔ آپ نے اسے تقسیم کردیا۔ بعد ازاں خیال آیا اور فرمایا: خیال رکھنا اسے تمہاری عورتیں نہ جھپٹ لیں۔ اس پر ایک شخص نے کہا:میں نے وہ کپڑا اپنی بیوی کو پہنا کر دیکھا، وہ گھر میں چلی پھری، وہ سیدھی چلی، پھر پیٹھ موڑ کر چلی، میرا خیال ہے وہ کپڑا باریک نہیں ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لیکن وہ جسم کی بناوٹ کو ظاہر کرتا ہے۔[فقہ النساء از محمد عطیہ خمیس ]
    ان دونوں روایات سے مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوئیں:
    … بعض کپڑے موٹے ہونے کے باوجود جسم کے خدوخال کو نمایاں کرتے ہیں۔
    … بعض کپڑوں کی بُنائی ایسی ہوتی ہے کہ موٹے اور ڈھیلے ڈھالے ہونے کے باوجود جسم سے چپک جاتے ہیں اور اعضائے بدن نمایاں ہوتے ہیں۔
    … جو کسی کو باریک یا خدوخال نمایاں کرنے والا کپڑا دے اسے تاکید کردے کہ وہ نیچے دوسرا کپڑا لگا لے یا پہن لے۔
    … بوڑھی خواتین کے لیے بھی لباس کی وہی حدود ہیں جو جوان خواتین کے لیے ہیں (البتہ وہ اپنا چہرہ ننگا رکھ سکتی ہیں غیر محرموں سے بھی بشرطیکہ سنگھار وغیرہ کی کوئی چیز استعمال نہ کی ہو۔ تفصیل ’’بوڑھی عورت کا لباس‘‘ میں دیکھئے)
    … صحابہ رضی اللہ عنہم اپنی بیویوں کو کپڑا پہناتے تو مختلف زاویوں سے انہیں چلا پھرا کر دیکھتے کہ یہ کپڑا جسم کے اعضاء کو ڈھانکنے کے تمام تقاضے پورے کرتا ہے یا نہیں؟
    … لباس اتنا تنگ نہیں ہونا چاہیے کہ جسم کے اعضاء الگ الگ نظر آئیں۔
    الشیخ محمد ابراہیم اپنے ایک فتویٰ میں کہتے ہیں: فقہائے کرام نے صراحت کی ہے کہ باریک کپڑے پہننا جن سے بدن جھلکے اگرچہ پورا بدن ڈھکا ہوا ہو، مردوزن ہر ایک کے حق میں ممنوع ہے۔ خواہ عورت گھر میں ہی کیوں نہ ہو۔ امام احمد نے اسے نصاً وصریحاً ممنوع کہا ہے۔ شافعیہ نے ایسے کپڑوں کے استعمال کی بھی نفی کی ہے جن سے جسم کی خوب صورتی، کھردرا پن، نرمی اور حجم (سائز) ظاہر ہو۔
    مختصر لباس
    رسول اللہ ﷺ نے جن عورتوں کو کاسیات عاریات ’’لباس پہننے کے باوجود ننگی‘‘ … فرمایا ہے ان میں وہ عورتیں بھی شامل ہیں جو لباس اتنا چھوٹا پہنتی ہیں کہ ستر کی جگہیں کم یا زیادہ ننگی ہوتی ہیں۔ عورت کا لباس ایسا ہونا چاہیے جو قمیض کی آستینیں کلائی تک اور شلوار کے پائچے ٹخنوں تک ڈھک لے۔ کیونکہ ہاتھ، پیر اور چہرے کے علاوہ عورت کے بقیہ تمام اعضاء کے لیے شریعت نے لباس تجویز کیا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]مَنْ جَرُّثُوْبَہ‘ خُیُلَائَ لَمْ یَنْظُرِ اللّٰہَ اِلَیْہِ یَوْمَ الْقَیَامَۃِ، فَقَالَتْ اُمّ سَلَمَۃَ: فَکَیْفَ تَصْنَعُ النِّسَاء بزُیُوْلِہِنَّ، قَالَ یُرْخِیْنَ شِبْرًا، قَالَ اِذَا تَنْکَشِفُ اَقْدَامَہُنَّ، قَالَ فَیُرْ خِینہ ذَرَاعًا لَا یَزِدْنَ ۔ [ابوداؤد کتاب اللباس، ح:۴۱۱۷۔ابنِ ماجہ :۳۵۸۰۔ ترمذی،ح:۱۷۳۱۔ واللفظ لہ واصلہ فی صحیح مسلم، ح:۲۰۸۵۔ ریاض الصالحین،ح: ۸۰۱] [/FONT]
    ’’جو شخص اپنا کپڑا لٹکا کر اور گھسیٹ کر چلے گا اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کی طرف (رحمت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا۔ یہ سن کر ام المومنین ام سلمہرضی اللہ عنہا نے کہا:عورت اپنا دامن کتنا نیچے چھوڑے؟ آپ نے فرمایا:نصف پنڈلی سے لے کر نیچے تک بالشت بھر۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا:اس طرح تو پائوں کھل جائیں گے؟ آپ نے فرمایا: تو ہاتھ بھر نیچے چھوڑے اور اس سے زیادہ نہ چھوڑے۔‘‘
    دراصل مشرک اور عجمی لوگ تکبر کے طور پر اپنے ازار نیچے زمین پر گھسیٹ گھسیٹ کر چلتے تھے۔ رسول اللہ نے ان کے تشبہ سے بچانے کے لیے مردوں کو حکم دیا کہ وہ اپنا ازار نصف پنڈلی تک رکھیں۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو یہ معلوم تھا کہ عورت کے پیر، ٹخنے یا ٹخنے سے جڑی ہوئی اوپر کی پنڈلی ننگی نہیں رہنی چاہیے۔ لہٰذا انہوں نے آپ سے مسئلے کی وضاحت چاہی۔
    اس روایت سے مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:
    … عورت جو کپڑا ٹانگوں پر پہنے اسے اتنا لمبا ہونا چاہیے کہ وہ پائوں کے ٹخنوں کو ڈھانپ لے۔
    … جو کپڑا گلے میں پہنے اس کے بازو اتنے لمبے ہونے چاہئیں کہ کہنیوں کے بعد کا حصہ کلائی تک پورا ڈھک جائے۔
    … گلے کی طرف سے پہننے والے کپڑے کا گلا اتنا کھلا نہیں ہونا چاہیے کہ گردن کے علاوہ کوئی حصہ جیسے کندھے اور سینہ یا سینے اور گردن کے درمیان کا حصہ نظر آئے۔ کیونکہ یہ بھی ان اعضا میں سے ہے جن پر کپڑا پہننا چاہیے۔
    لباس یا غلاف
    انسان کو اللہ تعالیٰ نے شرف والی مخلوق بنایا ہے اور یہ امتیاز صرف انسان کو حاصل ہے کہ وہ لباس پہنتا ہے۔ انسان کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کو صرف انسان کے لیے ہی بنایا ہے اور ان چیزوں کی نسبت اپنی طرف کی ہے جن میں ایک لباس بھی ہے چنانچہ فرمایا:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]{يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُّوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَرِيْشًا۝۰ۭ } [الاعراف:۲۶] [/FONT]
    ’’اے بنی آدم !ہم نے تم پر لباس نازل کیا جو تمہاری شرم گاہوں کو ڈھانپتا ہے اور زینت بھی ہے۔‘‘
    لباس جن چیزوں سے تیار کیا جاتا ہے وہ سب زمین سے اگتی ہیں لیکن لباس کی انسانی زندگی میں اہمیت اور فضیلت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نزول کے الفاظ سے کیا۔
    لباس انسان خود تیار کرتا اور پہنتا ہے ساتر اور قد وقامت پر جچنے والا لیکن جامد چیزوں کو انسان کپڑے کے غلاف سے ڈھانکتا ہے تاکہ دھول مٹی سے بچی رہیں۔
    غلاف جامد چیزوں کی ساخت کے عین مطابق ہوتا ہے … فِٹ … وہ مطلوبہ چیز کے ایک ایک جگہ کے ماپ کے مطابق ہوتا ہے۔ دورِ حاضر میں انسان نے بھی اپنے جسم کے ایک ایک عضو کے ماپ کے مطابق الگ الگ کپڑے کے ٹکڑوں سے لباس تیار کرنے کو رواج دیا۔ گویا شیطان نے انسان سے لباس جیسے شرف والا پہناوا چھین کر اسے جامد چیزوں جیسا غلاف پہنا دیا۔ ایک مسلمان عورت کی نسوانیت کا تقاضا ہے کہ وہ وقار وشرف کا مظہر ڈھیلا ڈھالا اور پورے جسم کو ڈھانپ لینے والا لباس پہنے نہ کہ تنگ، چست بے جان چیزوں کو پہنایا جانے والا غلاف۔
    کٹے ہوئے یا سوراخ دار کپڑے
    کپڑا پہننے کے باوجود وہ عورتیں بھی ننگی کہلائیں گی جو لباس کا ڈیزائن بناتے ہوئے اسے ان جگہوں سے چیر دیتی ہیں یا اس میں سوراخ رکھتی ہیں جن جگہوں پر لباس پہننا شریعت نے ضروری قرار دیا ہے۔ چرا ہوا کپڑا کئی طرز کا ہوتا ہے، مثلاً
    … قمیض کے چاک اتنے لمبے رکھنا کہ عورت کے پہلو ظاہر ہوں اور کوکھ کے دائیں بائیں حصے نظر آئیں۔ چاہے ان پر شلوار ہی کیوں نہ ہو پھر بھی عورت کی قمیض ایسی ہونی چاہیے جو کم از کم نصف ران تک عورت کی ٹانگوں کو چاروں طرف سے ڈھانک لے اور سامنے اور پیچھے کی طرف سے کم از کم گھٹنوں تک لمبی ہونی چاہیے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ لمبی رکھی جاسکتی ہے۔ چاک چھوٹے ہونے کی صورت پیٹ پر سے بھی کپڑا اٹھ جاتا ہے، چاہے نیچے بنیان پہنی ہو پھر بھی حتی الامکان کپڑا نہیں اٹھنا چاہیے۔
    … شلوار کے پائچے یا قمیض کے بازو چیر کر بھی ہوسِ عریانی کو تسکین پہنچائی جاتی ہے۔ قمیضوں، شلواروں یا دیگر کپڑوں کے درمیان راسی یا عمودی رخ پر چیر دے کر مختلف ڈیزائن بنائے جاتے ہیں۔ بعض ڈیزائنوں میں مختلف انداز کے سوراخ بنائے جاتے ہیں، یہ بھی غیر ساتر رواج ہے۔
    نیز ایسے لباس کی تیاری میں وقت اور مالِ کثیر خرچ ہوتا ہے۔ اگر ساتر لباس نیچے پہن کر ایسے ڈیزائن کے کپڑے پہنے جائیں تو بھی درست نہیں کیونکہ لوگوں میں برے فیشن کی اشاعت ہوتی ہے۔ نیز ہر عورت اتنی سمجھ دار نہیں ہوتی کہ وہ نیچے ساتر لباس پہن کر ہی اس چرے ہوئے یا سوراخ دار کپڑے کو پہنے۔


    لباس کا دوسرا مقصد
    زیب وزینت

    اللہ تعالیٰ نے لباس کا دوسرا مقصد زیب وزینت بتایا ہے۔ انسان کی فطرت میں یہ چیز رکھی گئی ہے کہ وہ خوب صورت بننا اور خوب صورت لگنا نیز خوب صورت چیزوں کو پسند کرتا ہے۔
    مرد کی نسبت عورت کے لیے لباس کے ذریعے زیب وزینت حاصل کرنا زیادہ اہمیت کا حامل بھی ہے ا ور اسلام میں عورت کے لیے خاصی وسعت بھی رکھی گئی ہے۔ یوں بھی عورت نازک اندام ہے اور اس کی نزاکت کے پیش نظر لباس، زیورات اور بنائو سنگھار کے دیگر بہت سے لوازمات جائز قرار دئیے گئے ہیں تاکہ مرد کی رغبت اس کی طرف پوری طرح رہے اور مرد عورت سے سکینت، نشاط، تازگی اور سرور حاصل کرے۔
    نیز عورت کی طبیعت میں بھی یہ بات رکھی گئی ہے کہ وہ زیب وزینت اختیار کرنے کی طرف مائل ہوتی ہے اور اس کے نت نئے طریقے بھی ایجاد کرتی ہے۔
    عورت کے لیے لباس کی زیب وزینت جائز ہے چنانچہ وہ پھولدار، سادہ، ہر رنگ کے، ریشمی، سوتی، اونی یا کسی اور کیمیکل کے بنے ہوئے کپڑے پہن سکتی ہے۔
    ریشمی لباس
    یہ نرم ملائم، چمکیلا اور نازک ہوتا ہے اور یہ بذاتِ خود زینت ہی کی ذیل میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے مسلمان مردوں پر حرام قرار دیا گیا ہے، جس کی وضاحت حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ مندرجہ ذیل حدیث سے ہوتی ہے۔
    رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک بار ریشمی جُبّہ آیا۔ آپ نے اسے میری طرف بھیجا۔ میں یہ کپڑا پہن کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کے چہرے پر ناگواری دیکھی۔ میں نے عرض کیا ’’یہ کپڑا تو آپ ﷺ ہی نے مجھے بھیجا تھا۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے اس لیے نہیں دیا تھا کہ خود پہنو بلکہ اس لیے دیا تھا کہ
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]لِتُشَقِّقَہَا خُمْرًا بَیْنَ نِسَآئَِ [/FONT]
    ’’تاکہ تم اس کو پھاڑ کر عورتوں کی اوڑھنیاں بنالو۔‘‘ [بخاری، مسلم، کتاب اللباس]
    آپ نے ایک بار علی رضی اللہ عنہ کو ریشمی کپڑا بھیجا اور ساتھ کہلا بھیجا۔
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]شَقِّقْہُ خُمْرًا بَیْنَ الْفَوَاطِمِ ۔ [کتاب اللباس، صحیح مسلم۔ ابنِ ماجہ :۳۵۹۶][/FONT]
    ’’اسے پھاڑ کر فاطمائوں کی اوڑھنیاں بنالو۔‘‘
    فواطم سے مراد فاطمہ بنت محمد ﷺ … فاطمہ بنتِ اسد (رسول اللہ کی چچی، علی کی والدہ) اور فاطمہ بنتِ حمزہ( رسول اللہ کے چچا کی بیٹی )ہے۔

    لباس پر زیب وزینت کرنا

    عورت اپنے لباس پر مختلف رنگوں، دھاگوں، کپڑے کے ٹکڑوں، جھالروں، گوٹے طلے، موتی، ستارے، شیشے وغیرہ کے ذریعے جیسی چاہے زینت کرسکتی ہے۔ ایسی زینت عورتوں کے لیے حلال ہے جب کہ مردوں کے لیے عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے:
    ’’زیب وزینت کے لباس عورتوں کے لیے رہنے دو، ہم تکلف سے روک دئیے گئے ہیں۔‘‘ [صحیح بخاری، باب ما یکرہ من کثرۃ السوال وتکلف ومالیفیہ، جلد:۲]
    البتہ بعض زیب وزینت ممنوع ہے جس کا ذکر آئندہ سطور میں کیا جارہا ہے۔
    باریک لباس:
    ممنوع ہے دلائل گزشتہ صفحات میں گزر چکے ہیں۔
    تنگ لباس:
    ایسا لباس جسے تنگ سی کر زیب وزینت اختیار کی جائے حرام ہے۔ لباس ڈھیلا ڈھالا اور اتنا کھلا ہونا چاہیے کہ اعضاء کی ساخت کا پتا نہ چلے۔ دلائل گزشتہ صفحات میں گزر چکے ہیں۔
    مختصر لباس:
    زیب وزینت کے طور پر مختصر لباس پہننا حرام ہے۔ دلائل گزشتہ صفحات میں گزر چکے ہیں۔
    کٹے ہوئے یا سوراخ والے ڈیزائن:
    ان سے ستر ڈھکنے کے تقاضے پورے نہیں ہوتے، لہٰذا لباس پر زیب وزینت کے لیے نہ تو اسے چیرا جائے گا اور نہ ہی اس میں سوراخ کیے جائیں گے کہ یہ سخت ممنوع ہے۔ دلائل گزشتہ صفحات میں گزر چکے ہیں۔
    باہم ٹکرا کر آواز پیدا کرنے والی چیزیں لگانا یا لٹکانا:
    لباس پر زیب وزینت کے لیے کوئی ایسی چیز لگانا یا لٹکانا جس کے باہم ٹکرانے یا ہلنے سے کسی بھی قسم کی مدھم یا تیز آواز پیدا ہو درست نہیں۔
    جانداروں کی تصاویر
    جس لباس پر کسی جاندار کی تصویر ہو وہ لباس نہ مرد کے لیے جائز ہے نہ عورت کے لیے ،نہ ہی کسی اور استعمال کے لیے، ہاں اس سے نیچے بچھانے والا کپڑابنایا جاسکتا ہے جو پیروں تلے روندا جائے جب کہ ایسا کپڑا خرید لیا جائے اور اسے تلف کرنے سے مالی نقصان اٹھانا پڑے۔ رسول اللہ ﷺ سے جبریل نے فرمایا:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]اِنَّا لَا نَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہِ صُوْرَۃً وَلَا کَلْبٌ ۔ [/FONT]
    ’’جس گھر میں کتا یا تصویر ہو، وہاں ہم فرشتے نہیں جاتے۔‘‘ [بخاری، کتاب اللباس،رقم الحدیث: ۹۰۰]
    اگر جاندار کی تصویر والا لباس پہنا ہوگا تو پھر رحمت کے فرشتے قریب نہیں آئیں گے۔ نیز یہ رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی بھی ہے۔
    غیر مسلموں کے مذہبی شعار کی تصویر والا لباس
    جن کپڑوں پر کسی غیر مسلم کے مذہبی شعار کی تصویر ہو وہ لباس اور ایسی ہر چیز کا استعمال کرنا درست نہیں البتہ اگر اس سے مذہبی شعار کی شکل کو ختم کردیا جائے تو پھر استعمال کرسکتے ہیں۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ عمل بیان کیا گیا ہے:
    ’’جس چیز پر صلیب ہوتی آپ اسے توڑے بغیر نہ چھوڑتے۔‘‘ [بخاری، کتاب اللباس:۴۱۵۱، باب نقض الصور، سنن ابی داؤد]
    عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے طواف کے دوران ایک عورت پر ایسی چادر دیکھی جس پر صلیب بنی ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا: اسے پھینک دو، اسے پھینک دوکیونکہ رسول اﷲ ﷺ ایسی چیز (صلیب والی) دیکھتے تو اس کو چیر دیتے۔
    [مسند احمد: ۶؍۱۴۰، الشیخ احمد البنّا نے اس کی سند کو جید قرار دیا۔ ملاحظہ ہو بلوغ الامانی: ۷؍۲۸۵۔ نیکی کاحکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داریاں ص: ۱۴۰،از ڈاکٹر فضل الٰہی]
    مذہبی شعار سے مراد غیر مسلموں کی مخصوص مذہبی علامات ہیں مثلاً عیسائیوں کی صلیب یا کسی گرجا کی تصویر … یہودیوں کا چھ کونوں والا ستارہ … ہندو کا اشوک چکر … وغیرہ۔
    انگلش حروف والا لباس
    جس لباس پر انگلش حروف نمایاں الفاظ میں اور نمایاں حصوں پر لکھے ہوں، ان کو بھی پہننے سے گریز کرنا بہتر ہے کیوں کہ دورِ حاضر میں انگلش بولنے والی قوم اور انگلش تہذیب نے مسلمانوں کو بھی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس سے ان کی زبان سے محبت ظاہر ہوتی ہے نیز اس زبان کی اشاعت بھی ہوتی ہے۔
    [دیکھئے فتاویٰ برائے خواتین اسلام]
    تکبر اور شہرت کا لباس
    لباس کا خوب صورت ہونا اپنی جگہ درست لیکن خواتین ہوں یا مرد، ان کے لیے ایسے لباس پہننا جن میں تکبر پایا جائے یا شہرت کی نیت پوشیدہ ہو، درست نہیں۔ یہ بیماری خواتین میں خصوصاً ہوتی ہے کہ وہ منفرد ڈیزائن اور پرنٹ والے کپڑے پہنتی ہیں۔ اس کے لیے اگر انہیں کثیر مال بھی خرچ کرنا پڑے تو اس سے دریغ نہیں کرتیں۔ دولت، حسن اور خوش لباسی کا سکہ جمانے کی نیت سے پہنا گیا لباس درست نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ الشُّہْرَۃِ فِی الدُّنْیَا اَلْبَسَہُ اللّٰہُ ثَوْب مَذَلَّۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثُمَّ اَلْہَبَ فِیْہِ نَارًا ۔[ابنِ ماجہ:۳۶۰۷۔ ابو داؤد:۴۰۲۹] [/FONT]
    ’’جس نے دنیا میں شہرت کا لباس پہنا اللہ اسے قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا پھر اس میں آگ کا شعلہ بھڑ کا دے گا۔‘‘
    شہرت کا لباس ضروری نہیں کہ قیمتی ہی ہو بعض لوگ کسی مخصوص ہیئت کا لباس پہن کر اپنے آپ کو ان لوگوں میں سے ظاہر کروانا چاہتے ہیں جن کا وصف ان میں حقیقتاً موجود نہیں ہوتا۔
    ضرورت سے زیادہ لمبا لباس
    ازراہِ تکبر ضرورت سے زیادہ لمبا لباس پہننے کا رواج بھی ہمیشہ سے رہا ہے۔ عورتوں کے لیے گو پائوں ڈھانپ لینے والا یا ٹخنے ڈھانپ لینے والا لباس شریعت نے مقرر کیا ہے لیکن اس سے زیادہ لمبا لباس پہننا درست نہیں۔
    امراء، حکام چودھری قسم کے لوگ اور دلہنوں کو لمبا لباس پہنایا جاتا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]بَیْنَمَا رَجُلٌ یَجُرُّ اَزَارَہ‘ خَسِفَ بِہٖ فَہُوَ یَتَجَلْجَلُ فِی الْاَرْضِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ۔ [/FONT]
    ’’ایک شخص اپنا ازار تکبر کی وجہ سے زمین پر گھسیٹ کر چل رہا تھا۔ اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت تک زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔‘‘ [ بخاری، کتاب اللباس: ۷۳۵]
    شیخ الحدیث مولانا اسماعیل سلفی لکھتے ہیں:۔کپڑے کو ضرورت سے زیادہ لمبا کرنا اسراف اور حرام ہے اگر وہ کپڑا کسی مسکین کو دیا جائے تو اس کے کام آئے۔
    [تشریح مشکوٰۃ، کتاب اللباس، مطبوعہ مکتبہ نعمانیہ]
    مردانہ زیب وزینت اور تراش خراش والا لباس
    عورت کے لیے مردوں کے مخصوص لباس، ان کے مخصوص جوتے، ان کے مخصوص کام یا ان کی مخصوص عادات اختیار کرنا بھی درست نہیں۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور ان عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں۔ [بخاری: ۸۲۹ سنن ابی داؤد:۴۰۹۷، سنن ابن ماجہ، سنن ترمذی]
    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی ایسی حدیث مروی ہے ۔ [ابو داؤد:۴۰۹۸۔ احمد :
    ۲ / ۳۲۵۔ ابنِ حبان : ۱۴۵۵]
    جو لباس اور زینت مردوں کے لیے مخصوص ہوگی عورت اس سے بچے گی مثلاً:
    … پتلون پاجامہ مردانہ لباس بھی ہے اور غیر مسلموں کا بھی۔
    … گول گھیرے، کف اور کالر والی قمیض مردانہ لباس ہے۔
    … واسکٹ، اچکن، تھری پیس سوٹ، سفاری سوٹ، شیروانی مردانہ لباس ہیں۔
    … ٹوپی یا پگڑی کسی بھی قسم کی ہو مردانہ لباس ہے۔
    … کندھے پر کپڑا مرد لٹکاتے ہیں لہٰذا عورت کے لیے کندھے پر کپڑا لٹکانا درست نہیں۔
    … رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]مَا اَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ مِنَ الْاَزَارِ فَفِی النَّارِ۔ [ بخاری: ۷۳۴] [/FONT]
    ’’تہ بند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہے وہ دوزخ میں لے جائے گا۔‘‘
    لیکن عورت کے لیے آپ نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے استفسار پر فرمایا: [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]تُرْخِیْ شِبْراً [/FONT]’’عورت اپنا ازار ایک بالشت نصف پنڈلی سے نیچے لٹکائے۔‘‘ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ’’اس طرح تو ٹخنے نظر آئیں گے۔‘‘ فرمایا: فذرعاً لا تزید علیہ تو پھر دو بالشت نیچے کرلواور اس سے زیادہ نہ لٹکائو۔‘‘ [صحیح سنن ابی داؤد، ح:۴۱۱۷۔ ترمذی، باب ما جاء فی القمص، ح: ۱۷۳۔ واصلہ فی صحیح مسلم، ح: ۲۰۸۵۔ ریاض الصالحین ح:۸۰۱]
    لہٰذا عورت ٹخنوں سے نیچے پائوں تک شلوار وغیرہ لٹکائے گی اور مرد ٹخنوں سے اوپر رکھے گا ۔
    عورت کپڑوں کے اوپر بھی کوئی ایسی زینت والی چیز نہیں لگائے گی جو مردوں کے لیے مخصوص ہے مثلاً سٹڈ … یا سینے پر سامنے کی طرف قمیض پر جیب … وغیرہ۔ (اس موضوع کی تفصیل کے لیے دیکھیے : صنفِ مخالف کی مشابہت )
    غیر مسلموں اور فاسقوں کا لباس
    اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]{وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ نَسُوا اللہَ فَاَنْسٰـىہُمْ اَنْفُسَہُمْ۰ۭ اُولٰىِٕكَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ } [الحشر:۱۹] [/FONT]
    ’’ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائو جو اللہ کو بھول گئے ہیں کیونکہ اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا، وہی لوگ فاسق ہیں۔‘‘
    عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے مجھے زرد رنگ کے کپڑے پہنے دیکھا تو فرمایا:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]اِنَّ ہٰذِہِ ثِیَابُ الْکُفَّارِ فَلَا تَلْبسَہَا ۔ [صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینہ] [/FONT]
    ’’یہ کافروں کا لباس ہے اسے مت پہنو۔‘‘
    لہٰذا عورت کسی ایسے لباس کو خوب صورتی کی نیت سے نہیں پہنے گی یا ایسی زینت اختیار نہیں کرے گی جو غیر مسلموں یا فاسق وفاجر لوگوں سے مخصوص ہو۔ مثلاً ٭ برہنگی کے تمام فیشن۔ باریک، مختصر کپڑے ۔
    ٭ فلمی عورتوں، غیر مسلم عورتوں اور ماڈل گرلز جیسے کپڑے بنانا اور پہننا۔ ٭ ایک مسلمان عورت کو لباس پہنتے ہوئے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ اہل علم اور متقی لوگوں میں کس قسم کا لباس متعارف ہے اور انہی کے لباس کوترجیح دی جائے گی۔یاد رہے کہ جس مسلمان کا لباس اسلامی حدود کے مطابق نہیں وہ متقی بھی نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]{وَلِبَاسُ التَّقْوٰى ذٰلِكَ خَيْرٌ} [/FONT]
    ’’تقویٰ کا لباس ہی بہتر ہے۔‘‘
    اگر کوئی بہ ظاہر عالم ِدین شخص بھی اسلامی لباس کی حدود پر کاربند نہیں ہے تو اس کی اس معاملے میں پیروی نہیں کی جائے گی۔
    نیز انسان جس قوم کا لباس پہنتا ہے۔ اسی سے اس کی مشابہت ہوتی ہے۔ متقیوں یا اہل ِعلم کا سا لباس پہننے سے انسان متقی نظر آتا ہے اور اس کا جی چاہتا ہے کہ وہ جس طبقے کا لباس پہنتا ہے، اس جیسے کام بھی کرے۔ غیر مسلموں، فاسقوں اور آبرو باختہ عورتوں جیسا لباس پہن کر ان سے محبت بڑھتی ہے اور ان جیسی عادات پیدا ہوتی ہیں۔ اللہ کے نبی نے فرمایا: ’’المرء مع من احب۔‘‘’’انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس کو وہ پسند کرتا ہے۔‘‘ [صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ]
    اسلامی حدود کے مطابق لباس پہننے سے اسلامی حدود کے مطابق لباس پہننے والوں (صحابہ، امہات المومنین، متقین ومومنین) کی محبت اور معیت دنیا میں بھی نصیب ہوگی اور آخرت میں بھی۔ اِنْ شَاءَ اللہ

    کلف دار لباس
    دورِ حاضر میں کلف دار لباس پہننے کا رواج عام ہوچکا ہے۔ اس میں شرعی نقطہِ نگاہ سے تین باتیں محلِ نظر ہیں:
    … کپڑے پر کلف کا خرچ ضرورت سے زائد ہے لہٰذا اس میں اسراف وتبذیر پائی جاتی ہے۔
    … کلف دار کپڑے کو استری بھی کرنا لازمی ہوتا ہے۔ یوں استری کرنے کا تکلف، وقت کا ضیاع، بجلی کا خرچ بھی اسراف وتبذیر ہی کی طرف جھکتا ہوا نظر آتا ہے۔
    … کلف دار کپڑے میں اکڑ پائی جاتی ہے اور لباس کی اکڑ مزاج میں بھی اکڑ پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔
    ربّ کریم نے فرمایا:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]{وَاللہُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُـــوْرِ}[/FONT]
    ’’بے شک اللہ تعالیٰ اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو اترانے والا، فخر جتانے والا ہو۔‘‘

    لباس میں سادگی

    سادگی تکلف کی ضد ہے ایسے کام جن میں آسانی سے جو ملے یا جو ہو اسے چھوڑ کر تکلیف میں پڑجانا تکلف ہے۔ اسلام نے تکلف کو ناپسند فرمایا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی زبان سے فرمایا:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]{وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ}(ص:۸۶)[/FONT]
    نیز آپ ﷺ نے فرمایا:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]’’ ہَلَکَ الْمُتَنَطِّعُوْنَ، ہَلَکَ الْمُتَنَطِّعُوْنَ، ہَلَکَ الْمُتَنَطِّعُوْنَ۔‘‘ [/FONT]
    ’’تکلف کرنے والے ہلاک ہوئے، تکلف کرنے والے ہلاک ہوئے، تکلف کرنے والے ہلاک ہوئے۔‘‘
    اس کے برعکس سادگی کے بارے میں یہ حدیث ہے:
    صحابہ نے ایک دن رسول اللہ ﷺ کے سامنے دنیا کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]’’ اَلَا تَسْمَعُوْنَ؟ اَلَا تَسْمَعُوْنَ؟ اِنَّ الْبُذَاۃُ مِنَ الْاِیْمَانِ، اِنَّ الْبُذَاۃُ مِنَ الْاِیْمَانِ، یَعْنَی التَّفَحَّلُ۔ ‘‘ [ابوداؤد، حدیث حسن، ح: ۴۱۶۱۔ ابنِ ماجہ : ۴۱۱۸۔ریاض الصالحین، ح: ۵۱۷] [/FONT]
    کیا تم نہیں سنتے؟ کیا تم نہیں سنتے؟ سادگی ایمان سے ہے، سادگی ایمان سے ہے۔‘‘ اس سے آپ ﷺ کی مراد تکلّفات اور زیب وزینت کی چیزوں کا ترک ہے۔
    گویا جس نے سادگی ترک کی وہ ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ ایمان گیا تو انسان شیطان کے ہتھے چڑھ گیا۔ اب وہ اسے اسراف کی طرف لے جائے یا حرام کی طرف …
    ایک مسلمان سادگی کے حسن سے کبھی بیگانہ نہیں ہوسکتا یہ اس کے ایمان کا زیور ہے۔ لباس میں سادگی سے مراد یہ ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق جو اور جیسا آسانی سے لباس ملے اسے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پہن لیا جائے۔ یہ نہ سوچیں کہ لوگ کیا کہیں گے؟ کبھی بغیر استری کیے ہوئے کپڑے بھی پہن لیے جائیں، ہر عید اور تقریب پر نئے اور بڑھیا لباس کا تکلف جب کہ استطاعت بھی نہ ہو نہ کیا جائے۔ لوگوں کی دوڑمیں اور ان کو دکھانے کے لیے کپڑوں پر بے جا یا استطاعت سے زیادہ خرچ نہ کیا جائے۔


    اظہارِ نعمت اور لباس

    عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    ’’اللہ یہ پسند کرتا ہے کہ نعمت کا اثر اس کے بندے پر نظر آئے۔‘‘
    [سنن ترمذی، بحوالہ مشکوٰۃ]
    مولانا محمد اسماعیل سلفی h اس کی تشریح میں لکھتے ہیں: مراد یہ کہ لباس اپنے مال کے مطابق پہنے ،اسراف اور مبالغے کے بغیر تاکہ محتاج لوگ زکوٰۃ اور صدقہ حاصل کرنے کے لیے اس کے پاس آئیں۔
    مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اس حال میں آیا کہ میرے کپڑے گھٹیا تھے ۔ آپؐ نے دریافت فرمایا : کیا تمہارے پاس کچھ مال ہے ؟ میں نے عرض کیا ! جی ہاں۔ فرمایا: کس قسم کا ؟ میں نے کہا اونٹ ، گھوڑے ، بکریاں ، غلام ہر طرح کا مال اللہ نے مجھے دے رکھا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"] فَاِذَا اَتَاکَ اللّٰہُ مَالًا فَلْیُرَ اَثَرُ نِعْمَۃِ اللّٰہِ عَلَیْکَ وَکَرَ اَمَتِہٖ[/FONT]
    ’’جب اللہ نے تمہیں مال دے رکھا ہے تو پھر اس کی نعمت اور احسان کا اثر تجھ پر نظر آنا چاہیے ۔ [ابو داؤد:۴۰۶۳۔ نسائی: ۵۲۲۶ بروایت زہیر بن معاویہ]
    مولٰنا صلاح الدین یوسف اس کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ حیثیت کے مطابق مناسب لباس استعمال کرے لیکن بہت زیادہ امارت کا اظہار بھی نہ ہو ورنہ دوسروں میں حسرت اور محرومی کے جذبات پیدا ہوسکتے ہیں جو ناپسندیدہ امر ہے ۔
    اس حدیث سے یہ پتا چلتا ہے کہ
    … اگر اللہ نے مال دے رکھا ہے تو کپڑے جوتے اور کھانے میں اس کا اظہار ہونا چاہیے لیکن سادگی کے ساتھ اسراف اور تبذیر کے بغیر۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ قیمتی، ہر قسم کے ڈیزائن پر مشتمل اور زیادہ تعداد میں جوڑے ہوں بلکہ مرا دیہ ہے کہ وہ عام غریب لوگوں سے کچھ بہتر ہوں تاکہ اس شخص کو لوگ غریب سمجھ کر صدقہ زکوٰۃ نہ دیں بلکہ اسے صاحب حیثیت دیکھ کر غریب ومسکین لوگ اس شخص کی طرف رجوع کریں۔ نیز یہ اللہ کے شکر کا بہترین انداز ہے۔


    لباس کا حساب

    انسان کے پاس جو اور جتنا بھی مال ہے اس نے روزِ قیامت ربّ کریم کو حساب دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]{ثُمَّ لَتُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ } [التکاثر] [/FONT]
    ’’تم سے اس دن نعمتوں کے بارے ضرور سوال کیا جائے گا۔‘‘
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]’’ لَا تَزُوْلَ قَدَمَا عَبْدٍ حَتّٰی یُسْئَلُ عَنْ عُمْرِہٖ فِیْمَا اَفْنَاہ‘، وَعَنْ عِلْمِہٖ فِیْمَا فَعَلَ، وَعَنْ مَالِہٖ مِنْ اَیْنَ اکْتَسَبَہ‘ وَفِیْمَا اَنْفَقَہ‘، وَعَنْ جِسْمِہٖ فِیْمَا اَبْلَاَہ‘۔‘‘ [ ترمذی، ابواب صفۃ القیامۃ،رقم: ۱۹۶۹] [/FONT]
    ’’قیامت کے روز انسان کے پائوں اپنی جگہ سے نہیں ہل سکیں گے جب تک کہ وہ ان چیزوں کا حساب نہیں دے دے گا۔
    1… اس کی عمر کے بارے کہ اسے کہاں برباد کیا؟
    2… اس کی جوانی کے بارے کہ اسے کہاں صرف کیا؟
    3… مال کہاں سے کمایا؟
    4… مال کہاں خرچ کیا؟
    5… جو سیکھا اس پر کتنا عمل کیا؟
    اس حدیث کی روشنی میں ہم جو کچھ لباس کی خریداری، اس کی سلائی ،اس کی کڑھائی اور زیب وزینت پر خرچ کرتے ہیں، اس کا ہمیں اللہ تعالیٰ کو حساب پیش کرنا ہے۔ اس سے پہلے کہ حساب کا وقت آپہنچے، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے لباس میں سے اسراف اور تبذیر یعنی زائد از ضرورت لباس اور حرام وناپسندیدہ لباس پر خرچ کرنے سے ہاتھ روک لیں اور صرف ضرورت کے لباس پر اپنی حلال کمائی میں سے خرچ کریں۔
    یاد رہے کہ اگر ہم نے بہ قدر ضرورت لباس پہنا تو پھر حساب نہیں ہوگا کیونکہ بہ قدر ضرورت لباس پہننا انسان کا حق ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    ’’ لَیْسَ لِاِبْنِ آدَمَ حَقٌّ فِیْ سِوَی ہٰذِہِ الْخِصَالِ، بَیْتٌ یَسْکُنَہ‘ وَثَوْبِ یُوَارِیْ عَوْرَتِہِ وَجِلْفُ الْخُبْزِ وَالْمَاءِ ۔‘‘ [ترمذی، ابواب الزہد:۲۳۴۱۔ ریاض الصالحین، باب فضل الزہد والدنیا، ح:۴۸۲ بتحقیق حافظ صلاح الدین یوسف، حاکم اور ذہبی نے صحیح اور علامہ البانی نے ضعیف کہا ]

    لباس میں اسراف اور تبذیر
    اسراف کا مطلب ہے ضرورت سے زائد خرچ کرنا اور تبذیر کا مطلب ہے ان جگہوں پر خرچ کرنا جہاں اللہ تعالیٰ نے خرچ کرنے کا حکم نہیں دیا۔ حکم ِربانی ہے:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]{وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ}[/FONT]
    ’’کھائو اور پیو اور فضول خرچی نہ کرو، بے شک اللہ فضول خرچی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘ [الاعراف:۳۱]
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]’’ کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَتَصَدَّقُوْا وَاَلْبَسُوْا مَالَمْ یُخَالِط اِسْرَافٌ وَمَخِیْلَۃٌ۔‘‘ [احمد، نسائی، ابن ماجہ:۳۶۰۵ حدیث ضعیف ہے لیکن اس کے شواہد موجود ہیں] [/FONT]
    ’’کھائو، پیو، صدقہ کرو اور پہنو، شرط یہ ہے کہ اس میں اسراف اور تکبر نہ ہو۔‘‘
    لباس میں اسراف سے مراد یہ ہے کہ انسان جتنے جوڑوں یا کپڑوں میں اچھا اور معقول گزارا کرسکتا ہو اس سے زائد نہ بنائے۔ مثلاً عمومی زندگی میں تین چاریا پانچ جوڑے کافی ہوتے ہیں لیکن اچھے بھلے کپڑے موجود ہوتے ہوئے صرف شوق پورا کرنے کے لیے نیا پرنٹ یا نیا ڈیزائن نظر آجانے پر مزید جوڑے بنا لینا اسراف ہے۔ دورِ حاضر میں نئے نئے فیشنوں کے شوق نے ہماری اکثریت کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیا ہے۔ نیز نئے کپڑے اور نئے ڈیزائن بنوانے کے بعد جی چاہتا ہے کہ اب ان کی نمائش بھی کی جائے۔ غرض یہ ایک نقصان دہ رجحان ہے، مالی لحاظ سے بھی اور فکری لحاظ سے بھی۔ وہی رقم جو فیشن یا شوق پورا کرنے کے لیے کپڑوں پر خرچ کی جاتی ہے اسے ہم کسی حقیقی ضرورت پر خرچ کرسکتے ہیں یا اس سے کسی دوسرے کی ضرورت پوری کرسکتے ہیں، اس طرح اپنے لیے آخرت میں کئی گنا زیادہ ذخیرہ جمع کرلیں گے۔
    حرام جگہ پر خرچ کرنا تبذیر کہلاتا ہے۔ حکم ِربی ہے:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"] {اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ وَكَانَ الشَّيْطٰنُ لِرَبِّہٖ كَفُوْرًا}[/FONT]
    ’’اور بے جا مال نہ اڑائو، بے شک بے جا مال خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔‘‘ [بنی اسرائیل: ۲۷،۲۸]
    کپڑوں میں تبذیر یہ ہے کہ وہ تمام لباس پہننے پر مال خرچ کیا جائے جسے شریعت نے حرام یا ناپسندیدہ قرار دیا ہے مثلاً
    …باریک کپڑے
    … تنگ اور چست کپڑے
    … اتنے چھوٹے کپڑے جن سے ستر ہی نہ ڈھکا جاسکے مثلاً آدھے بازو، ننگے ٹخنے، کھلے گلے یا چھوٹا دوپٹہ وغیرہ
    … ایسے ڈیزائن جو کپڑے کو چیر کر یا اس میں سوراخ کرکے انہیں تیار کیا گیا ہو۔
    غرض ایسے تمام کپڑوں کی خرید پر … ان کی سلائی کٹائی پر … ان کی کڑھائی پر … خرچ کرنا تبذیر کہلاتا ہے۔
    یاد رہے کہ صحابہ کرام اور صحابیات رضی اللہ عنہم کے پاس اکثر ایک ایک جوڑا لباس ہوتا تھا۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ’’ہم ازواج کے پاس صرف ایک ایک کپڑا ہوتا تھا جس میں ہمیں حیض بھی آتا اگر اس کپڑے کو کچھ خون لگ جاتا تو اسے دھو لیتے یا ترکرکے ناخن سے کھرچ ڈالتے۔‘‘ [سنن ابی داؤد]
    رسول اللہ ﷺ ایک غلام کو ساتھ لے کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے۔ یہ غلام آپ ﷺ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دینا تھا۔ اس وقت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس صرف ایک چادر تھی جو اتنی چھوٹی تھی کہ اگر اس سے سر ڈھانپتیں تو پیر کھل جاتے اور پیر ڈھانپتیں تو سر کھل جاتا۔ یہ حالت دیکھ کر آپ ﷺ نے فرمایا:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]’’ اِنَّہُ لَیْسَ لَکَ بَاْسٌ اِنَّمَا ہُوَ اَبُوکِ وَغُلَامُکِ۔‘‘ [سنن ابی داؤد کتاب اللباس، باب فی العبد ینظر الی شعر مولاتہ: ۴۱۰۶] [/FONT]
    ’’کوئی حرج نہیں، ایک تمہارا غلام ہے اور ایک تمہارا والد۔‘‘
    غرض یہ کہ صحابیات اور خود دخترِ رسول اللہ ﷺ کے پاس بعض اوقات اتنا کپڑا بھی نہیں ہوتا تھا کہ اس سے پورا جسم ڈھانپ سکیں ، زیادہ کپڑے بنانا تو بہت دور کی بات ہے ۔

    عورت کب، کیسا لباس پہنے

    عورت کے لیے مختلف افراد یا اوقات میں ستر اور حجاب کی حدود بھی مختلف ہیں۔ غیر محرم افراد یعنی جن سے زندگی میں کسی وقت بھی نکاح ممکن ہے ان سے عورت حجاب (پردہ) کرنے کی پابند ہے، جس میں چہرہ بھی شامل ہے۔ دیگر محرم افراد اور خواتین کے سامنے کیسا لباس پہنے، نیز مختلف تقریبات یا عمر کے مختلف حصوں میں اسے اسلامی حدود اور آداب کی روشنی میں کیسا لباس پہننا چاہیے آئیے اب اس کا بھی جائزہ لیں۔
    محرم افراد کی موجودگی میں لباس
    الشیخ صالح الفوزان ایک فتویٰ میں فرماتے ہیں:
    ’’عورت کے لیے اپنی اولاد اور دیگر محارم کے سامنے چھوٹا لباس (ہاف بازو، ٹخنے سے اوپر شلوار، ننگا سر، کھلا گلا) پہننا جائز نہیں، وہ ان کی موجودگی میں اسی قدر کھولے جس قدر کھولنے کی عادت رائج ہو اور جس میں کوئی فتنہ نہ ہو۔‘‘ [فتاویٰ برائے خواتین اسلام، ص:۷۹۴]
    ’’المرء ۃ المسلمہ‘‘ کے مصنف ابوبکر الجزائری لکھتے ہیں: ’’خاتونِ اسلام اپنی پنڈلی اور بازو کو اہل خانہ کے سامنے نہیں کھولتی اور نہ ہی وہ اپنے سر اور سینے کو کھولتی ہے تاکہ اس کے بال یا ہار دکھائی دینے لگے۔‘‘
    وہ عورتوں کو مخاطب کرکے کہتے ہیں: آپ اپنے کپڑوں کو اتنا لمبا کیجیے جس سے آپ کے دونوں قدم چھپ جائیں اور اپنے سروں پر دوپٹہ اوڑھیے تاکہ آپ کے سر کے بال ڈھک جائیں۔ اس طرح کا لباس اپنے گھر میں، اپنے محرموںیعنی والد، بھائی یا بیٹے کی موجودگی میں اختیار کیجیے۔
    ایک اور جگہ فرماتے ہیں: ہاں عورت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے کپڑے اتار کر برہنہ ہوجائے یا جسم کا صرف نصف (پوری پنڈلیاں، بازو، سر، سینہ) حصہ یا چوتھائی حصہ (آدھے بازو، آدھی پنڈلیاں، سر) ہی ڈھانپے یا سینے اور گردن کو کھلا رکھے البتہ جب شوہر کے ساتھ تخلیہ میں ہو (تو ایسا کرسکتی ہے۔) [اردو ترجمہ بہ عنوان خاتونِ اسلام]
    … مولٰنا اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں : ایسا باریک کرتا پہن کر محرم کے سامنے آنا بھی جائز نہیں جس سے پیٹ یا کمر یا پہلو یا پسلیاں ظاہر ہوں یا ان کا کوئی حصہ نظر آتا ہو ۔ [اصلاح النساء ص:۲۱۶]
    [اس موضوع پر دیکھیے : حفظِ حیا اور محرم رشتہ دار ]

    اندرونِ خانہ لباس
    الشیخ صالح الفوزان کہتے ہیں: عورت کے لیے پانی کی طرح پتلا اور آرپار دیکھا جانے والا کپڑا پہننا جائز نہیں، وہ صرف شوہر کے سامنے ایسا کپڑا پہن سکتی ہے۔ باریک اور ہلکا کپڑا اگرچہ اندرونِ خانہ ہی پہنا جائے یہ مکروہِ تحریمی ہے (یعنی حرام ہے۔) [فتاویٰ برائے خواتین اسلام، ص: ۶۲۹]
    بعض عورتیں یہ سمجھتی ہیں کہ جب محرم افراد کے سامنے کلائیوں کے اوپر کا حصہ، پنڈلیاں، گردن وغیرہ کھول سکتے ہیںتو پھر ان کے سامنے تنگ یا مختصر لباس بھی پہنا جاسکتا ہے۔
    دراصل عور ت کے لباس کی شرائط ایک الگ مسئلہ ہے اور محرم کے سامنے اعضا کا کھولنا الگ مسئلہ۔ محرم کے سامنے عادت کے طور پر صرف چہرہ، ہاتھ اور پائوں کھولنا ہی درست ہے۔ اس سے زائد بدن کا حصہ محرموں کے سامنے ننگا رکھنا یا ایسے کپڑے پہننا جس سے اس سے زائد حصے ننگے رہیں اس کی اجازت نہیں۔ البتہ بوقت ضرورت پنڈلیاں، بازو، سر، گردن ننگے کیے جاسکتے ہیں۔ جیسے کپڑے دھوتے، وضو کرتے، یا برتن دھوتے ہوئے قمیض کی آستینیں چڑھا لینا یا صفائی کے وقت پائچے چڑھانا، کنگھی کرتے، تیل لگاتے یا سر کی جوئیں دکھاتے ہوئے سر سے کپڑا اتار لینا لیکن اس کا تعلق ضرورت سے ہے۔ عادت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ عام قانون اور عادت یہی ہے کہ محرم افراد کے سامنے پورے بازو، بند گلے اور ٹخنوں کو ڈھکنے والا ازار پہنا جائے، سر پر دوپٹہ کھول کر اوڑھا جائے تاکہ سینہ اور گردن ننگی نہ ہو۔
    محرم افرا دکے لیے حکم ہے کہ وہ نسوانی اعضاء کی طرف نظر جما کر نہ دیکھیں۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یہ ان کے لیے گناہ اور فتنے کا باعث ہے۔ ادھر عورت کے لیے حکم ہے کہ وہ عام حالات میں محرم افراد کے سامنے مکمل لباس پہنے۔ اگر اچانک کسی وقت یا ضرورت کے وقت بعض اعضاء کھل جائیں اور محرم افراد کی نظر پڑ جائے تو انہیں کوئی گناہ نہیں۔ اس لیے کہ وہ عورت کی عصمت کے محافظ اور اس کی ہر وقت ضروریات پوری کرنے اور خدمات انجام دینے والے ہیں۔
    عورت چھوٹا، چست یا باریک لباس صرف شوہر کے سامنے پہن سکتی ہے۔ کیونکہ اس کے لیے عورت کا پورا جسم دیکھنا حلال ہے۔ لباس کی شرائط جس چیز سے بچنے کے لیے رکھی گئی ہیں، میاں بیوی میں وہ چیز مطلوب اور حلال ہے۔ اگر عورت محرم افراد میں وہ لباس پہنتی ہے جو اصلاً شوہر کے لیے ہے تو یہ انہی جذبات وعوامل اور فتنوں کو ابھارنے والا کام ہوگا جن سے بچنے کے لیے ڈھیلے ڈھالے، موٹے اور پورے جسم کو ڈھانپ لینے والے لباس کا حکم دیا گیا ہے۔
    مندرجہ بالا تصریحات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ
    ’’عورت کا حقیقی شرعی لباس وہ ہے جو پورا جسم ڈھانپ لے، جسم کو عریاں نہ کرے، نہ اعضاء کا سائز نمایاں کرے کیونکہ وہ دبیز، گاڑھا اور ڈھیلا ڈھالا ہوتا ہے۔‘‘ [فتاویٰ برائے خواتین اسلام، ص: ۶۲۸]

    دلہن کا لباس
    زیب وزینت کا لباس عورت کا حق ہے لیکن دلہن کا خصوصی حق۔ بشرطیکہ اس زینت میں حرام امور شامل نہ ہوں۔ ستر ڈھانکنا چونکہ لباس کا بنیادی مقصد ہے اس لیے دلہن کے لباس میں بھی اس کا خیال رکھا جائے گا۔ البتہ عام لباس کی نسبت قدرے قیمتی اور خوب صورت لباس تیار کرنا مستحب ہے۔
    عبدالواحد بن ایمن کہتے ہیں میرے باپ نے بیان کیا کہ ایک بار میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گیا۔ اس وقت وہ ایک ایسا کرتا پہنے ہوئے تھیں جس کی قیمت پانچ درہم ہوگی۔ انہوں نے مجھ سے کہا دیکھو! میری لونڈی یہ کرتا پہننے میں عار محسوس کرتی ہے۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں میرے پاس ایک ہی کرتا تھا جس عورت کو بننے سنورنے کی ضرورت ہوتی وہ یہ کرتا مجھ سے مستعار منگوا لیتی۔ [صحیح بخاری: ۱۱۵۲، کتاب الہبہ]
    ایک روایت میں ہے کہ یہ کرتا زعفرانی رنگ میں رنگا ہوا تھا۔ گویا اس دور میں عورتوں کا عروسی جوڑا صرف ایک تھا جو ہر دلہن کی ضرورت پوری کرتا تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دلہن کے لیے خصوصی جوڑا تیار کیا جاسکتا ہے، نیز یہ کہ ایک ہی جوڑے سے ہر دلہن کی ضرورت پوری کی جاسکتی ہے۔
    دورِ حاضر میں ایک ایک لاکھ کا جوڑا تیار کیا جاتا ہے اور وہ صرف ایک یا دوبار پہننے کے بعد ہمیشہ کے لیے بے کار ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ کپڑے ماپ کے مطابق تیار کیے جاتے ہیں اور ہر عورت کا ماپ مختلف ہوتا ہے۔ جب کہ عہد نبوی میں ماپ کے بجائے ضرورت ملحوظ رکھی جاتی تھی۔
    دلہن کے لیے ایسے بیش قیمت کپڑے تیار کرنا جو صرف ایک یا دوبار پہنے جاتے ہیں اسراف کہلاتا ہے جب کہ اسراف سے ربّ ِکریم نے منع کیا ہے۔ نیز زیادہ تعداد میں جوڑے بنانا بھی درست نہیں۔ تین چار جوڑے ہی کافی ہوتے ہیں۔ [تفصیل کے لیے دیکھئے ’’بری اور برات‘‘ مطبوعہ مشربہ علم وحکمت]

    شادیوں اور تقریبات کے لباس
    شادیوں یا تقریبات میں ذرا اچھے کپڑے پہنے جاسکتے ہیں کیونکہ یہ خوشی کے مواقع ہوتے ہیں۔ ان کے لیے صرف ایک لباس مخصوص کیا جاسکتا ہے جیسا کہ دلہنوں کے لیے عہد رسالت میں ایک ہی لباس مخصوص تھا۔
    جب کہ ہر تقریب پر نیا سوٹ بنانا اسراف ہے۔ شادیوں اور تقریبات پر بھی لباس کی شرعی حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے کیونکہ ایک مسلمان اس وقت بھی مسلمان ہی ہوتا ہے۔
    اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ عام حالات میں ستر اور لباس کی حدود کا پاس رکھنے والی خواتین یا لڑکیاں بھی تقریبات پر بال کھولے یا جوڑا بنائے، ننگے سر، کھلے سینے، تنگ لباس یا ایسے لباس پہنے ہوتی ہیں جن میں خوب صورتی کے لیے سوراخ کیے ہوتے ہیں یا انہیں چیر کر ڈیزائن بنایا جاتا ہے۔ بسا اوقات وہ باریک بھی ہوتے ہیں۔ نیز عورتوں کے علاوہ عورت کے محرم رشتہ دار بھی اسے اسی حالت میں دیکھتے ہیں۔

    کنواری لڑکیوں کا لباس
    کنواری لڑکیوں کو ایسی زیب وزینت سے اجتناب کرنا چاہیے جو صرف شوہر کے لیے کی جاتی ہے مثلاً میک اپ اور زیورات کا بے محابا استعمال، کیونکہ اس قسم کی زینت اصلاً شوہر کا حق ہے۔ عورت جب شوہر والی ہی نہیں تو پھر ایسی زینت کیوں؟ اور کس کے لئے؟ دورِ حاضر میں شادی شدہ اور کنواری لڑکیوںمیں کوئی فرق نہیں ہوتاکیونکہ کنواری لڑکیاں بھی دلہنوں کی طرح بیوٹی پارلر سے تیار ہو کر تقریبات میں آتی ہیں۔
    جب کہ کنواری لڑکیوں کو سادہ اور ہلکی زیب وزینت والے لباس پہننے چاہئیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے ’’حفظ حیا اور کنواری لڑکیاں‘‘ مطبوعہ مشربہ علم وحکمت)
    البتہ جو عورت مطلقہ ہو یا بیوہ ہو اور وہ دوبارہ شادی کرنے کا ارادہ رکھتی ہو، اس کے لیے زیب وزینت اختیار کرنا درست ہے۔ جس کی دلیل مندرجہ ذیل حدیث سے ملتی ہے۔
    سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ میرا نکاح سعد بن خولہ عامر رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا، وہ جنگ بدر میں حاضر ہوئے تھے اور حجۃ الوداع میں انتقال کرگئے اور اس وقت میں حاملہ تھی میرے شوہر کی وفات کو زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ وضع حمل ہوگیا۔ نفاس سے فارغ ہونے کے بعد میں نے نکاح کا پیغام بھیجنے والوں کے لیے زیب وزینت کی۔ اتنے میں ایک شخص ابوالسنابل ابن بعلبک جو قبیلہ عبدالدار میں سے تھے آگئے۔ وہ کہنے لگے تم نے کیوں بنائو سنگھار کیا ہے؟ غالباً تم نکاح کی امیدوار ہو، اللہ کی قسم تم نکاح نہیں کرسکتیں جب تک کہ تمہارے چار ماہ دس دن پورے نہ ہوجائیں۔ ابوالسنابل کی یہ بات سن کر میں نے اپنے کپڑے سنبھالے اور شام کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وضعِ حمل ہوجانے کے بعد تم آزاد ہوگئیں۔ اور مجھے حکم دیا کہ تم چاہو تو نکاح کرسکتی ہو۔ [صحیح مسلم، کتاب الطلاق، باب انقضاء عدۃ المتوفی عنہا زوجہا وغیرہا بوضع الحمل]

    عورتوں میں عورت کا لباس
    عورت کا عورتوں میں وہی لباس مشروع ہے جس کا آغاز میں ذکر کیا جاچکا ہے۔ عورت کا عورت کے سامنے جان بوجھ کر سینہ ننگا کرنا، سینے سے دوپٹہ ہٹانا، کہنیوں سے اوپر کے بازو ننگے کرنا، نصف پنڈلی سے اوپر کا حصہ ننگا کرنا، باریک چھوٹے یا تنگ کپڑے پہننا اسی طرح نازیبا ہے جس طرح محرم افراد کے سامنے۔
    …وہ ضرورت کے وقت عورتوں کے سامنے کنگھی کرسکتی ہے
    … کسی عورت سے بال بنوا سکتی ہے، تیل لگوا سکتی ہے۔
    …زیور پہننے اور بنائو سنگھار کے لیے دوسری عورت کی مدد لے سکتی ہے۔لیکن وہ جان بوجھ کر زیادہ دیر تک کے لیے عورتوں کے سامنے بھی دوپٹہ اتار کر یا سینہ ننگا کرکے نہیں بیٹھے گی۔
    … عورتوں کی موجودگی میں بچے کو دودھ پلا سکتی ہے البتہ یہ حیا کے لیے زیادہ بہتر ہے کہ اوپر کپڑا یا دوپٹہ اوڑھ لے۔ کسی عورت کی نظر پڑ جائے تو اسے گناہ نہیں ہوگا لیکن اس کے لیے یہ درست نہیں کہ بغیر وجہ کے عورتوں کے سامنے اپنا پیٹ، سینہ، پیٹھ، کمر، ننگی کرے۔
    … اسے اپنے جسم کے سامنے کا ابھار بھی عام حالت میں عورتوں کی نظروں سے چھپا کر رکھنا چاہیے۔
    …ضرورت کے وقت عورت عورت سے مالش کروا سکتی ہے، دبوا سکتی ہے، زخم کی جگہ دکھا سکتی اور دوا لگوا سکتی ہے۔ پیٹھ پر خارش کروا سکتی ہے۔
    …ناف سے گھٹنوں تک کا حصہ عورت بغیر کسی اشد مجبوری کے عورتوں کے سامنے بھی ننگا نہیں کرسکتی جو عورتیں جسم کے بال اتروانے کے لیے عورتوں کے سامنے ننگی ہوتی ہیں یہ بھی درست نہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ جسم کے بال اتارنا حقیقی ضرورت نہیں بلکہ فاسق عورتوں کا فیشن ہے، صحابیات نے کبھی یہ کام نہیں کیا۔ لہٰذا اسے ضرورت نہیں کہا جاسکتا۔ [تفصیل کے لیے دیکھیے: نسوانی بال اور ان کی آرائش]

    یاد رہے کہ ستر کے جو احکام دئیے گئے ہیں نیز لباس کی جو حدود بتائی گئی ہیں، اُن کا مقصد اس بڑے کریہہ اور بے شرمی والے گناہ سے بچانا ہے جو پہلے تونظر کے ذریعے صنف مخالف یا اپنی ہی کسی صنف کے فرد کو دیکھ کر ہوا کے ایک گرم جھونکے کی طرح گزرتا ہے پھر آہستہ آہستہ ایک طوفان بن کر آدمی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اس وقت وہ یہ نہیں دیکھتا کہ یہ محرم ہے یا نامحرم، اپنا ہم صنف ہے یا صنف مخالفِ، عمر میں چھوٹا ہے یا بڑا۔
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]’’ فَاِنَّ الشَّیْطَانَ یَجْرِیْ مِنْ اَحَدِکُمْ مَجْری الدَّمِ۔‘‘ [بخاری، کتاب الاعتکاف، باب زیارۃ المراۃ زوجہا فی اعتکافہ، ح: ۲۰۳۸۔ مسلم:۲۱۷۵۔ ابوداؤد، کتاب الصیام] [/FONT]
    ’’شیطان تم میں سے ہر ایک کے اندر خون کی طرح گردش کرتا ہے۔‘‘
    اللہ تعالیٰ نے اس بڑے گناہ سے بچانے کے لیے … اس تک پہنچنے والے تمام چھوٹے چھوٹے بلکہ انسانی آنکھ سے پوشیدہ رہنے والے سوراخ بھی … ستر وحجاب، لباس کی حدود، گفتگو میں شائستگی اور بے حیائی پر مبنی حرکات کے احکام وآداب بتا کر حکماً بند کردیے ہیں۔

    یاد رہے کہ یہ فتنہ اپنے ہم صنفوں میں زیادہ بھڑکتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں یہ شبہ ہی نہیں ہوتا کہ کوئی بدنیتی سے ایسا کررہا ہے بلکہ بعض اوقات خود اس گناہ تک لے جانے والی حرکات کرنے والے کو بھی علم نہیں ہوتا۔ جب کہ اللہ تعالیٰ علیم وحکیم ہے اور وہ جانتا ہے کہ کب اور کہاں فتنہ بھڑک سکتا ہے۔
    [/FONT]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,848
    لباس پہننے اور ستر دیکھنے میں فرق
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]لَا یَنْظُرُ الرَّجُلْ اِلَی الْعَوْرَۃِ الرَّجُلِ وَلَا تَنْظُرُ الْمَرْئَۃُ اِلٰی عَوْرَۃِ الْمَرْئَۃِ۔ [مسلم، کتاب الحیض، ح:۳۳۸، باب تحریم النظر الی العورات۔ ابی داؤد:۴۰۱۸۔ ترمذی، کتاب الآداب]

    ’’کوئی مرد کسی مرد کے ستر کی طرف نہ دیکھے اور کوئی عورت کسی عورت کے ستر کی طرف نہ دیکھے۔‘‘
    الشیخ محمد بن صالح العثیمین یہ حدیث دے کر فرماتے ہیں:
    بعض عورتوں نے اس سے یہ سمجھ لیا ہے کہ عورت کے لیے عورتوں کے سامنے چھوٹا لباس پہننا جو گھٹنوں تک ہو اور سینے سے چپکا ہوا ہو، جس سے بازو، سینہ کا بالائی حصہ اور نحر (جو گردن سے متصل ہوتا ہے اور کھلے گلے کی شکل میں نظر آتا ہے) گردن اور اس جیسے دوسرے حصے ظاہر ہوں درست ہے جب کہ یہ غلط ہے۔ حدیث یہ بیان کررہی ہے کہ عورت عورت کے پردہ کی طرف نہ دیکھے۔ اس میں دیکھنے والی کو خطاب ہے پہننے والی کو نہیں۔ پہننے والی پر ساتر لباس پہننا واجب ہے۔ چنانچہ صحابیات کے کپڑے ہتھیلیوں تک اور ٹخنوں اور پائوں تک پہنچتے تھے۔ بسا اوقات وہ بازار میں نکلتے ہوئے اتنا کپڑا لٹکاتیں جو ایک ہاتھ لمبا ہوتا۔ یہ سب قدموں کو چھپانے کی غرض سے تھا۔ لہٰذا لباس پہننے اور دیکھنے میں فرق ہے۔ فرض کیجیے عورت پر ساتر لباس ہے اور اس کی پنڈلی کھل گئی یا دودھ پلاتے وقت چھاتی ظاہر ہوگئی یا سینہ کا اوپری حصہ کسی سبب سے کھل گیا تو عورتوں کے سامنے ایسی صورتیں پیش آجانے میں کوئی حرج نہیں لیکن عورت عورتوں کی موجودگی میں مختصر یا سوراخ دار یا تنگ کپڑے پہنے تو یہ جائز نہیں کیونکہ اس میں شر وفساد ہے۔

    دوسروں کے لیے بری مثال
    ایک اور سوال کے جواب میں فرماستے ہیں:
    ایسا تنگ لباس جس سے جسم کے اعضا فتنہ میں ڈالنے کا ذریعہ بنیں پہننا جائز نہیں۔ حتی کہ عورتوں کے سامنے بھی ایسا لباس پہننا جائز نہیں۔ کیونکہ وہ دوسری عورتوں کے لیے بری مثال بنے گی۔ چنانچہ جب وہ اسے ایسا کپڑا پہنے دیکھیں گی تو اس کی اقتدا کریں گی۔ نیز عورت شوہر کے علاوہ دوسروں سے ڈھیلے ڈھالے لباس کے ذریعہ ستر چھپانے پر مامور ہے۔ وہ اپنے پردہ کی جگہوں کو عورتوں سے اسی طرح چھپائے گی جس طرح محرم مردوں سے چھپاتی ہے سوائے ان حصوں کے جن کا عادۃً کھولنا رائج ہے۔ مثلاً چہرہ، دونوں ہاتھ، دونوں پائوں۔ [فتاویٰ برائے خواتین اسلام]

    عورتوں کی عادت ہے کہ وہ بلا سوچے سمجھے عورتوں کو دیکھ کر کوئی فیشن یا عادت اختیار کرتی ہیں، لہٰذا عورت کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ کہیں کسی موقع پر اس کا بہ ظاہر بے ضرر سا کیا ہوا کام دوسروں کے لیے برے رواج اور عادت کا باعث نہ بن جائے۔

    بوڑھی عورت کا لباس
    اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]{وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ الّٰتِيْ لَا يَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْہِنَّ جُنَاحٌ اَنْ يَّضَعْنَ ثِيَابَہُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجٰتٍؚبِزِيْنَۃٍ وَاَنْ يَّسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَّہُنَّ وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ} [النور: ۶۰] [/font]
    ’’اور بوڑھی عورتیں جن کو نکاح کی توقع نہیں رہی اگر وہ اپنی چادر اتار دیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ وہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں اور اگر وہ اس بات سے بچی رہیں تو یہ ان کے لیے بہتر ہے۔‘‘
    مندرجہ بالا آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ
    … بوڑھی عورت وہ ہے جس میں نہ تو نکاح سے متعلقہ امور کی رغبت پائی جاتی ہے۔ یعنی وہ خوش نما کپڑے، زیورات اور بننے سنورنے کا شوق نہیں رکھتی۔ نہ ہی دوسروں کے لیے اس میں کوئی رغبت ہے یعنی اس کے گال پچک چکے ہیں، بال سفید ہوچکے ہیں، بڑھاپے کے آثار پوری طرح ظاہر ہوچکے ہیں۔ وہ اپنی زینت کی نمائش کرنے والی نہیں ہے۔ یعنی وہ میچنگ سوٹ، استری کیے ہوئے کپڑے، کلف لگے یا گوٹے طلے والے، جوان لڑکیوں والے پرنٹ، ڈیزائن اور رنگوں والے کپڑے پہننے، زیور بدل بدل کر پہننے، آنکھ میں سرمہ، دانتوں میں سکڑا، لپ اسٹک لگانے، ہاتھوں یا ناخنوں کو مہندی سے رنگنے یا بالوں کے طرح طرح کے فیشن بنانے میں دل چسپی نہیں رکھتی۔
    … ایسی بوڑھی عورت چہرے کا پردہ نہ کرے تو اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
    … یہ ایک رخصت ہے لہٰذا وہ پھر بھی چہرے کا پردہ کرے تو یہ زیادہ بہتر ہے یعنی ممکن ہے چہرے کا پردہ نہ کرنے کی وجہ سے وہ کسی فتنہ میں پڑ جائے یا کسی کو فتنہ میں ڈالنے کا باعث بنے۔ کیونکہ عورت کم سن ہو یا بوڑھی، بدصورت ہو یا خوبصورت، آخر عورت ہے اور اس کی وجہ سے فتنہ نمودار ہوسکتا ہے۔

    الشیخ ابن باز کہتے ہیں:
    ’’بعض بوڑھی عورتوں کے چہرے کی خوبصورتی بھی کسی کے لیے فتنہ کا موجب بن سکتی ہے۔‘‘ [فتاویٰ برائے خواتین اسلام، ص:۶۰۸]
    نیز فرماتے ہیں:
    ’’زیب وزینت کے اظہار میں چہرے کو سرمہ اور اس جیسی دوسری چیزوں کے ذریعے خوب صورت بنانا بھی شامل ہے۔‘‘ [فتاویٰ برائے خواتین اسلام، ص:۶۰۸]
    عمر رسیدہ عورت کے ہاتھوں میں مہندی، کنگن یا اس کے پائوں میں پازیب یا اس طرح کی کوئی دوسری چیز ہو تو الشیخ صالح الفوزان فرماتے ہیں:
    ’’اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے سر کا دوپٹہ یا پردہ یا اپنی عباء وغیرہ اتارے جو بنائو سنگھار کو نمایاں کرنے کا سبب بنے۔‘‘ [فتاویٰ برائے خواتین اسلام، ص: ۶۰۹]
    عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جب عورت کا رنگ اور اس کے بال ٹھیک ہیں تو اس کا حسن پورا ہے۔ [تاریخ عمر، از ابن جوزی]
    گویا بال خوبصورتی سے بنے ہوئے ہونا اور چہرے کا خوب صورت ہونا ہی عورت کے پردہ میں رہنے کے لیے کافی ہے۔
    بوڑھی عورت کے لیے لباس کی تمام شرائط وہی ہیں جو جوان عورت کے لیے ہیں یعنی باریک، تنگ یا چھوٹا نہ ہو اور دوپٹہ بھی اچھی طرح اوڑھ لپیٹ کر رکھے۔ جس کا ثبوت اس روایت سے ملتا ہے۔ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا کے پاس ان کے بیٹے نے کپڑا بھیجا جو موٹا تھا۔ ان کی بینائی ختم ہوچکی تھی اور وہ بہت بوڑھی ہوچکی تھیں، انہوں نے ٹٹول کر دیکھا اور کہا، اسے واپس لے جائو ان کے پوتے نے کہا اماں جان یہ شفاف (باریک) تو نہیں۔ انہوں نے کہا لیکن ا س سے جسم کے اعضاء نمایاں ہوں گے۔ (طبقات ابنِ سعد)
    معلوم ہوا کہ صحابیات میں سے بوڑھی عورتیں بھی اپنے پردے کا خیال رکھتی تھیں۔ اور اس معاملے میں سستی نہیں کرتی تھیں۔ تبھی تو اسماء رضی اللہ عنہا نے بینائی نہ ہونے کے باوجود کپڑا ٹٹول کر یہ معلوم کیا کہ اس میں اعضاء نمایاں ہوں گے یا نہیں۔ نیز یہ کہ بوڑھی عورت بھی ایسا لباس نہیں پہن سکتی جو اعضاء کو نمایاں کرے۔
    ایسی بوڑھی عورت جس کے چہرے اور جسم پر جھریاں پڑ چکی ہوں۔ اس کے سینے وغیرہ کا ابھار ختم ہوچکا ہو۔ سر کے بال سفید ہوچکے ہوں۔ اس کی جلد نچڑے ہوئے کپڑے کی طرح ہوچکی ہو، اگر اس کی پنڈلیاں، بازو یا سر کے بال غیر مردوں کی نظر میں آجائیں یا سینے سے دوپٹہ کھسک جائے تو کوئی ہرج نہیں وہ بوڑھی عورت جس کا بدن بھاری ہوتا ہے اس کے لیے یہ ہرگز درست نہیں۔ نیز بوڑھی عورتیں بھی پردہ کریں تو یہ ان کے لیے بہتر ہے کیونکہ اللہ نے فرما دیا ہے:
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]{ ذٰلِکَ خَیْرٌ لَّہُنَّ } [/font]

    نابالغ بچی کا لباس
    ایسی لڑکی جسے نہ تو حیض آتا ہے، نہ ہی اس کے سینے کا ابھار نمایاں ہوا ہے، نہ ہی اس کا قد اوسط عمر کی عورت کے قد کے برابر ہے۔ نہ ہی اس کی عمر تیرہ سال تک پہنچی ہے اس کے لیے لباس کیسا ہو؟
    مذکورہ علامات سے مستثنیٰ بچیاں چہرے کے پردے کی مکلف نہیں ہیں۔
    البتہ نو، دس سالہ بچی کو پردہ کرنے کا کہا جائے گا تاکہ اسے عادت پڑجائے۔ جیسے کہ نماز کا حکم سات سال میں، سختی دس سال میں اور اصل مکلف بالغ ہونے پر ہوتا ہے۔
    الشیخ محمد بن ابراہیم ایک فتویٰ میں کہتے ہیں: بچی اگر صغیرہ ہے جس کی عمر سات سال تک نہیں پہنچی تو اس کا پردہ معتبر ہوگا جیسا کہ فقہاء نے اس کی صراحت کی ہے۔ اگرچہ اس کا پردہ اس سے بڑی عمر کی لڑکی یا عورت سے مختلف ہوگا۔
    [فتاویٰ برائے خواتین اسلام، ص: ۷۴۹]
    سات سال تک پہنچ جانے والی بچی کو لباس ساتر عورت جیسا پہنایا جائے گا۔ پورے بازو کی قمیض، بند گلا، ٹخنوں کے نیچے تک شلوار۔ اسے یہ عادت بھی ڈالی جائے گی کہ وہ سر پر دوپٹہ رکھے، آٹھ دس سال کی عمر تک ا سے زبردستی دوپٹہ اوڑھے رکھنے کا کہا جائے گا البتہ اس عمر تک اگر اس کی اوڑھنی نامحرم یا محرم مردوں یا عورتوں کے سامنے اتر جائے تو اسے گناہ بھی نہیں ہوگا۔
    نابالغ بچی کو سادہ اور عمومی زیورات پہنائے جائیں گے، مثلاً چوڑیاں، بالیاں، لاکٹ، پازیب وغیرہ۔ لیکن اسے شادی شدہ عورتوں والے زیورات جھومر، نتھ، گلے کے بڑے بڑے ہار، کانوں کے بھاری زیور نہیں پہنائے جائیں گے۔ سرمہ اور مہندی کے علاوہ دیگر کسی چیز سے اس کی زیب وزینت نہیں کی جائے گی۔ نہ ہی اسے بھڑکیلے، چمکیلے اور دلہنوں جیسے خوشنما کپڑے پہنائے جائیں گے۔ اسے سادہ اور صاف کپڑے پہنائے جائیں گے۔ کیونکہ یہ ساری چیزیں اصلاً شوہر کا حق ہیں۔ یا وہ عورت جو شوہر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ نیز یہ چیزیں مردوں کو فتنہ میں ڈالتی ہیں۔ اس لیے ان بوڑھی عورتوں کو بھی حجاب کرنے کا حکم دیا گیا ہے جن میں بننے سنورنے، میک اپ کرنے، خوش رنگ، خوش نما لباس پہننے کی خواہش موجود ہوتی ہے۔
    اگر بچیوں کو بنایا سنوارا جائے، زینت والے کپڑے پہنائے جائیں، بالوں کو پرکشش طریقے سے بنایا سنوارا جائے، لپ اسٹک، سرمہ، کریم، رنگین اور خوش بودار پائوڈر، ڈیزائنوں والی مہندی، وغیرہ لگائی جائے تو انھیں پردہ بھی مکمل (عورتوں جیسا) کروایا جائے گا۔
    دورِ حاضر میں بچیوں کو بڑی عورتوں والے فیشن کرانا ایک عام رواج بن چکا ہے۔ عورتوں نے فتنوں کو خود اتنا بڑھا دیا ہے کہ الامان! جب مائیں بیوٹی پارلر سے تیار ہو کر آتی ہیں تو وہ اپنی سات سات آٹھ آٹھ سالہ بچیوں کو بھی وہیں سے تیار کرواتی ہیں یا بچیاں تیار ہونے کی ضد کرتی ہیں۔ نتیجہ یہ کہ پانچ پانچ، چھ چھ سال کی بچیوں کے ساتھ درندگی کے واقعات رونما ہورہے ہیںلہٰذا فتنوں سے بچنے کے لیے بچیوں کو سادہ اور ساتر لباس پہنانا چاہیے اور انہیں گھروں سے باہر بھی کم ہی نکلنے دینا چاہیے۔
    وہ بچیاں جن کی عمر سات سال سے کم ہوتی ہے ان کے لیے نہ پردہ ہے نہ ستر لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں ننگا رکھا جائے یا دوسرے لوگوں کے سامنے انہیں کپڑے بدلوائے جائیں۔
    ان بچیوں کو دوپٹے کے بغیر اور کبھی دوپٹے کے ساتھ ڈھیلا ڈھالا لباس پہنایا جائے گا۔ البتہ اگر وہ مختصر بھی ہو تو کوئی ہرج نہیں یعنی بازو چھوٹے ہیں یا شلوار ٹخنوں سے اوپر ہے یا قمیض کی لمبائی چھوٹی ہے یا کسی وقت گلے کا کپڑا اتار دیا ہے اور صرف ناف سے گھنٹوں تک کپڑا پہنایا ہوا ہے۔
    بچی میں بچپن ہی سے حیا پیدا کرنے کے لیے اسے نہ تو دوسروں کے سامنے کپڑے بدلوائیں، نہ نہلائیں ،نہ ناف سے گھٹنوں تک کے حصے میں دوسروں کے سامنے دوا وغیرہ لگائیں تاکہ اسے یہ پتا ہو کہ اس جگہ کو دوسروں کے سامنے ننگا کرنا بری بات ہے۔
    بچی کو ماں یا عورتیں ہی کپڑے بدلوائیں البتہ کسی مجبوری کی وجہ سے باپ یا کوئی بڑی عمر کا مرد کپڑے بدلوا سکتا ہے۔
    کسی بھی مرد (باپ یا دادا وغیرہ )کو چھوٹی بچی کے ستر کی طرف نظر نہیں کرنا چاہیے الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو۔ چھوٹے بچوں اور لڑکوں وغیرہ سے بچی کے کپڑے نہ بدلوائے جائیں، نہ ہی ننگے ہو کر دوسرے بچوں کے ساتھ اسے نہانے کی اجازت دی جائے۔ نہ ہی چھوٹی بچی سے چھوٹے لڑکے کا استنجا کروایا جائے کہ یہ سب بے حیائی بھی ہے اور بہت سی بری عادات کا راستہ بھی اس سے کھلتا ہے۔
    بچی کے کپڑوں میں بھی یہ خیال رکھا جائے گا کہ جاندار کی تصویر نہ ہو، غیر مسلموں کے کسی شعار کی تصویر نہ ہو، لڑکوں کے مشابہ لڑکی کا لباس نہ ہو۔ یاد رہے کہ بچی خود مکلف نہیں لیکن والدین مکلف ہیں لہٰذا اگر وہ غیر اسلامی لباس بچی کو پہناتے ہیں تو ان سے ربِّ کریم اس کا مواخذہ بھی کرے گا۔

    مردہ عورت کا لباس
    امام بخاری اپنی صحیح میں امام حسن بصری تابعی کا قول نقل کرتے ہیں:
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]الحزقۃ الخامسۃ تشد بہا الفخذین والورکین تحت الدرع۔ [/font]
    ’’عورت کے لیے پانچواں کپڑا چاہیے، جس سے قمیض کے تلے رانیں اور سرین باندھے جائیں۔‘‘ صحیح بخاری کے حاشیے میں علامہ وحید الزماں لکھتے ہیں: اس کو ابن ابی شیبہ نے وصل کیا۔ امام حسن بصری کا مذہب یہ ہے کہ عورت کے کفن میں پانچ کپڑے سنت ہیں۔
    علامہ البانی کا کہنا ہے کہ عورت کے کفن کے لیے بھی اسی طرح تین کپڑے درکار ہوتے ہیں جیسے مرد کے لیے۔ دیکھئے احکام الجنائز، للالبانی [نیز دیکھئے راقمہ کا کتابچہ ’’عورت میت کا غسل اور تکفین‘‘ مطبوعہ مشربہ علم وحکمت]
    نماز کے وقت لباس
    نماز کائنات کے بادشاہ، مالک الملک، ربِّ ارض وسما کے دربار میں حاضری دینے کا وہ طریقہ ہے جسے خود اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے۔ ہر مسلمان پر یہ فرض قرار دیا گیا ہے کہ وہ دن رات میں پانچ بار اس کے حضور حاضر ہو۔ حاضری کے آداب میں اس کا لباس بھی مقرر کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ عورت کا جو لباس نماز کے لیے مقرر کیا گیا ہے اس کا تعلق نہ تو عمومی پہنے جانے والے لباس سے ہے نہ محرم مردوں یا عورتوں میں پہنے جانے والے لباس سے بلکہ اس کا تعلق صرف نماز ہی سے ہے۔
    ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]لَا ُبدَّ لِلْمَرْاَۃِ مِنْ ثَلَاثَۃَ اَثْوَابٍ تُصَلِّی فِیْہَا: دَرْعٌ وَجِلْبَابٌ وَخِمَارٌ۔ [/font]
    ’’نماز پڑھتے وقت عورت کو تین کپڑوں میں ہونا چاہیے۔ درِع،( لمبی چوڑی قمیض) جلباب( ایسی بڑی چادر جو پورا جسم ڈھانپ لے)، خمار (اوڑھنی)۔‘‘ [بروایت ابن سعد،امام مسلم کی شرائط صحت کے مطابق۔ بتحقیق محمد عطیہ خمیس مصنف فقہ النساء، ص: ۱۵۵]
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    لَا یُقْبَلُ اللہُ صَلٰوۃَ حَائِضٍ اِلَّا بِخِمَارٍ ۔ [ابوداؤد، کتاب الصلوۃ، باب المراۃ تصلی بغیر حمار: ۶۴۱،ترمذی:۳۷۷۔ابن خزیمہ:۷۷۵۔ابنِ ماجہ: ۶۵۵۔ ابنِ حبان :۱۷۰۸]
    ’’اللہ تعالیٰ کسی بالغ عورت کی نماز اوڑھنی کے بغیر قبول نہیں کرتا۔‘‘
    عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ عورت تین کپڑوں میں نماز پڑھے۔ آزاد عورت کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ درع میں نماز پڑھے۔ نیز عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ عورت اپنا دوپٹہ اوڑھے جس سے اپنا سر ڈھانپے اور دوپٹے اور درع یعنی پائوں تک لمبی قمیض کے اوپر مزید ایک بڑی جلباب لپیٹ لے۔ عورت کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ جسم کے ایسے مقامات چھپانے کی کوشش کرے جن کی ساخت نمایاں ہونے کا امکان ہے مثلاً کولہے وغیرہ۔ آپ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ کوکھ کو اچھی طرح چھپانے میں کوتاہی نہ کرو کیونکہ اگر کوکھ کے نیچے کا لباس بھی اچھی طرح چھپانے والا ہے تو یہ طریقہ اور زیادہ ساتر بن جائے گا اور اگر کوئی کمی رہ گئی ہے تو یہ اس کو چھپانے کا ذریعہ بن جائے گا۔ [مصنف عبدالرزاق، فقہ عمر، ص: ۴۲۴]
    ان روایات کی روشنی میں فقہاء کا موقف محمد عطیہ خمیس اس طرح لکھتے ہیں:
    … حنبلیوں کے نزدیک چہرے کے علاوہ باقی پورا جسم ڈھکا ہوا ہونا چاہیے۔ اگر عورت نے جان بوجھ کر چہرے کے علاوہ جسم کا کوئی حصہ کھولا ہے تو اس کی نماز باطل ہوگئی۔
    … احناف کے نزدیک چہرہ اور ہاتھ کی ہتھیلیوں کا اوپر والا حصہ کھلا ہونا چاہیے باقی تمام جسم چھپا ہوا ہو یہاں تک کہ کان کے قریب لٹکے ہوئے بال بھی چھپے ہوئے ہوں۔
    … شافعیہ کے نزدیک سوائے چہرے اور ہاتھ کی ہتھیلیاں دونوں طرف سے کے علاوہ پورا جسم ڈھکا ہوا ہو۔
    … مالکیوں کے نزدیک چہرہ اورہاتھ کی ہتھیلیاں دونوں طرف سے کھلی ہوں باقی جسم ڈھکا ہوا ہو۔
    پھر محمد عطیہ خمیس اپنی رائے لکھتے ہوئے کہتے ہیں:
    ’’نماز پڑھتے وقت عورت کو کم از کم جس لباس میں ہونا چاہیے وہ یہ ہے: 1 موٹے کپڑے کا ایسا لمبا کرتا جو پائوں کی پشت تک کو ڈھانپ لے، 2 قمیض، 3 اور موٹے کپڑے کی اوڑھنی۔ باریک اور شفاف کپڑوں میں نماز جائز نہیں اگر قابل ستر حصے بغور دیکھے بغیر نظر آتے ہیں تو نماز کا اعادہ واجب ہے۔ اگر لباس چست ہے اور جسم کے اعضاء نمایاں ہوتے ہیں تو ان میں نماز مکروہ ہے۔ وقت کے اندر اندر اگر عورت نماز کا اعادہ کرسکتی ہے تو ضرور کرلے۔‘‘ [فقہ النساء، ص: ۱۶۰]
    مولانا ثناء اللہ المدنی فرماتے ہیں:
    ’’عورت کے لیے جب تنگ لباس پہننا ہی غیر درست ہے تو اس میں نماز پڑھنا بھی درست نہیں۔‘‘ [ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ شمارہ ۲۷، ستمبر ۲۰۰۲]
    بعض عورتیں باریک، تنگ یا چھوٹے لباس کے اوپر بڑی چادر لے لیتی ہیں تاکہ نماز میں ان کا ستر ڈھک جائے۔ حالانکہ نیچے بھی موٹا اور ساتر لباس ضروری ہے اس کے اوپر بھی موٹی چادر اوڑھنا ضروری ہے۔
    امام ابنِ قدامہ فرماتے ہیں : ایسے کپڑے جن کے پہننے کے باوجود بدن کی سرخی یا سفیدی نظر آتی ہو ان میں نماز ادا کرنا جائز نہیں ۔ [المغنی بحوالہ خطائوں کا آئینہ]
    احادیث میں درع کا لفظ ہے یہ ایک لمبی قمیض ہوتی ہے، صحابیات اسے اتنا لمبا پہنتی تھیں کہ وہ پائوں کی پشت بھی چھپالیتی تھی۔ نیز یہ ان کا گھروں میں عمومی لباس تھا۔ اس قمیض کے نیچے بعض شلوار یا تہ بند بھی باندھتی تھیں اور بعض صرف قمیض پہنتی تھیں جب کہ سر پر موٹا اور کھلا دوپٹہ بھی اوڑھتی تھیں۔ یہ قمیض پائوں تک سلی ہوتی تھی۔ ہمارے یہاں کی قمیضوں کی طرح اس کے چاک نہ سامنے ہوتے تھے نہ دائیں بائیں۔ لہٰذا ستر پوری طرح ڈھکا رہتا تھا اور ٹانگوں کی ساخت کا بھی پتا نہیں چلتا تھا۔
    بعض خواتین کم لمبائی والا پاجامہ یا شلوار پہنے ہوئے پائوں میں جرابیں پہن لیتی ہیں تاکہ ستر ڈھک جائے۔ حالانکہ نماز ہو یا غیر نماز کی حالت، مقصود یہ ہے کہ جو کپڑا اوپر سے پہنے ہوئے نیچے آرہا ہے لمبی قمیض ہو یا شلوار وغیرہ اس کی یہ حد شریعت نے مقرر کی ہے کہ وہ ٹخنوں سے نیچے تک ہو۔ ٹخنوں سے اوپر ازار (شلوار، پاجامہ، تہہ بند) مردوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ لہٰذا عورت کے لیے ازارٹخنوں سے اوپر تک رکھنا مردوں سے مشابہت کی بنا پر حرام ہے۔ پائوں کی جانب سے چاہے کتنی لمبی جرابیں پہن لی جائیں، جسم کے اوپر حصے کی طرف سے پہنے ہوئے کپڑے کا ٹخنوں کو ڈھانکنا اور پائوں تک لمبا ہونا ضروری ہے۔
    تنہائی میں لباس
    ایک شخص سے آپ ﷺ نے فرمایا:
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]اِحْفَظَ عَوْرَتَکَ اِلَّا مِنْ زَوْجَتِکَ اَوْ مَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ [/font]
    ’’اپنے ستر کی حفاظت کر ہاں اپنی بیوی یا لونڈی کے پاس ہو تو اور بات ہے۔‘‘
    اس شخص نے عرض کیا!کوئی تنہا ہو تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
    فَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ یُسْتَحْیَا مِنْہُ مِنَ النَّاسِ ۔ [ابی داؤد، کتاب الحمام، ح: ۴۰۱۷۔ ابن ماجہ:۱۹۲۰۔ ترمذی:۲۷۹۴]
    ’’پس اللہ اس بات کا زیادہ حق رکھتاہے کہ اس سے حیا کی جائے۔‘‘
    معلوم ہوا کہ تنہائی میں بھی لباس پہنے رہنا چاہیے البتہ عورت تنہائی میں سر سے دوپٹہ اتار سکتی ہے، پنڈلیاں یا بازو ننگے کرسکتی ہے۔ یہ کسی صورت درست نہیں کہ بغیر کسی حقیقی ضرورت کے وہ اپنے گلے کا کپڑا یا ٹانگوں کا کپڑا اتار کر ننگی ہوجائے۔حیا تو اس بات کی متقاضی ہے کہ انسان خود بھی اپنے قابل ِستر مقامات کو دیکھنے سے بچے۔


    شوہر کے سامنے لباس

    دورِ حاضر میں اکثر خواتین بے حیا، آبرو باختہ، کم لباسی اور خوش لباسی کا عذریہ پیش کرتی ہیں کہ ان کے خاوند ان سے یہی چاہتے ہیں لہٰذا وہ مجبور ہیں۔
    اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کو ایک دوسرے سے پردے کی تمام حدود سے آزاد کردیا ہے لہٰذا عورت کے لیے اپنے شوہر کی موجودگی میں ہر طرح کا لباس پہننے کا جواز رکھتی ہے وہ باریک ہو، چھوٹا ہو، تنگ ہو، کسی بھی فیشن کا ہو، شوہر جیسا چاہے اسے پہنائے لیکن جب عورت کسی بچے، محرم مردیا کسی بھی شخص کے سامنے (شوہر کے علاوہ) جائے گی تو لباس اور ستر پوشی کی ان حدود کا خیال رکھے گی جو شریعت نے مقرر کی ہیں۔
    مرد پر بھی یہ واجب ہے کہ وہ بیوی کو ستر اور پردے کی حدود کا پابند بنائے۔اسے مشروع لباس پہننے پر مجبور کرے اور اپنی ذاتی تسکین کو صرف اپنی ذات تک محدود رکھے۔ کیونکہ وہ نکاح کے ذریعے اپنی بیوی کی نسوانیت کی ہر شکل اور ہر ادا سے استمتاع کے حقوق اپنے نام محفوظ کرا چکا ہے۔
    بیوی کو غیر ساتر لباس پہنا کر … بے حجاب کر کے … کیا مرد کو اس بات پر غیرت نہیں آتی کہ وہ اپنے لیے مخصوص حقوق میں دنیا کے تمام مردوں، عورتوں بلکہ درزیوں اور لباس فروشوں کو بھی شامل کرلیتا ہے؟ یہ تو دیوثیت اور بے غیرتی کی انتہا ہے، یہ نسوانیت کی تذلیل اور اس کے محافظ کے بزدل وبے حیا ہونے کا ثبوت ہے۔
    کیا کبھی کسی نے یوں کیا ہے کہ اپنی ذاتی اشتہا اور ضرورت کو مد نظر رکھ کر بڑی محنت، دل چسپی سے نفیس و لذیذ کھانا تیار کرے اور پھر اسے چوراہے میں ننگا چھوڑ دے اس پر مکھیاں بھنبھناتی پھریں، دھول مٹی پڑتی رہے، لوگوں کی بھوکی نظریں اس کھانے کی طرف اٹھتی رہیں۔ پھر وہ گلا، سٹرا، مکھیوں کا آلودہ کیا ہوا، لوگوں کی للچائی ہوئی بھوکی نظروں سے گزرا ہوا کھانا مزے لے لے کر کھائے یا وہ اس کھانے سے یہ امید رکھے کہ یہ اسے لذت، صحت، نشاط اور توانائی دے گا؟ اگر ایسا نہیں ہوسکتا تو پھر وہ اپنی دنیا کی قیمتی متاع نسوانیت کو مردوں کی بھوکی نظروں کے لیے ننگا اور سجا بنا کر کیوں ان کے سامنے لاتا ہے؟
    اسلام نے تو مردوں کا یہ مزاج بنایا کہ جب عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ دیکھنا یہ کپڑا تمہاری عورتیں نہ جھپٹ لیں تو ایک مرد نے کہا۔ ’’میرا خیال ہے اس میں اعضا کی ساخت نمایاں نہیں ہوتی کیونکہ میں نے یہ کپڑا اپنی بیوی کو پہنا کر دیکھا، وہ اسے پہن کر چلی پھری، وہ سیدھی چلی پھر پیٹھ موڑ کر چلی، میرا خیال ہے وہ کپڑا شفاف نہیں ہے۔ [بحوالہ فقہ النساء]
    اس سے پتا چلتا ہے کہ مرد کو اپنی بیوی کے لباس پر گہری نظر رکھنا چاہیے اور اگر لباس میں کوئی غیر شرعی چیز یا برہنگی نظر آئے تو فوراً عورت کو توجہ دلا کر اسے اصلاح کرنے پر مجبور کرے۔

    عورتوں کے لباس کے نام اور ان کی شرعی ساخت

    احادیث میں عورت کے چار کپڑوں کے نام ملتے ہیں۔
    1 درع، 2 ازار، 3 خمار، 4 جلباب۔
    ہماری اردو زبان اور پاکستانی معاشرت میں ان کا کن کپڑوں پر اطلاق ہوتا ہے اور اسلامی تہذیب نے ان کی کیسی ساخت متعین کی ہے؟ نیز اسلام ان کپڑوں کے معاملے میں ستر پوشی، تقویٰ اور زیب وزینت کے حصول کے حوالے سے کس کس فیشن کی اجازت دیتا ہے؟ آئیے ایک نظر اس پر بھی ڈالتے جائیں۔
    درع (گلے میں پہننے کا کپڑا)
    اہل ِعرب کے ہاں درع قمیض یا کرتے کو کہا جاتا ہے۔ اسے گردن میں پہنا جاتا ہے۔ عہد رسالت میں درع اتنی لمبی ہوتی تھی کہ پائوں کے تلووں کو بھی چھپا لیتی، نیز یہ سینے اور کمر کی جگہ سے خاصی ڈھیلی ڈھالی ہوتی۔ اس کا نچلا حصہ بھی کافی کھلا ہوتا تھا اور دونوں ٹانگیں اس کے اندر چھپی ہوتی تھیں۔ اس میں آگے، پیچھے، یا دائیں بائیں کوئی چاک نہیں ہوتا تھا۔ صرف سامنے سینے پر گریبان ہوتا جس پر بٹن یا گھنڈیاں لگی ہوتیں تاکہ گردن سے پہننے میں آسانی ہو، اس کے نیچے اگر کوئی عورت ازار (تہ بند، پاجامہ، شلوار) پہن لیتی تو یہ ایک پسندیدہ طریقہ تھا اگر نہ پہنتی تو بھی اس کا یہ لباس محرم مردوں، عورتوں اوربچوں کے سامنے نیز حالت ِنماز میں ستر ڈھانکنے کے لیے کافی ہوتا تھا۔
    پاکستان میں اس کا متبادل قمیض یا کرتا ہے۔ بشرطیکہ
    …یہ گھٹنوں سے نیچے تک لمبی ہوں۔
    … پورے بازو ہوں ۔
    …سینہ، کمر اور کولہوں کی جگہ سے ایسی ڈھیلی ڈھالی ہو کہ یہ اعضاء الگ الگ نظر نہ آئیں اور ان کی جسامت ظاہر نہ ہو۔
    … گلا ایسا ہو کہ صرف گردن ننگی رہے اور گردن سے جڑی ہوئی سینے کی ہڈی چھپ جائے کیونکہ سینے کی حد گردن کے ساتھ ہی سے شروع ہوجاتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ سینے سے مراد چھاتی کا حصہ ہے اور وہاں تک گلا کھلا رکھا جاتا ہے۔
    …چاک نہ ہوں اور اگر چاک ہوں تو نصف ران کے بعد سے شروع ہوں یعنی لمبے چاک نہ ہوں۔
    …اس کرتے یا قمیض کے نیچے کھلے گھیر کی شلوار ہو یا تہ بند ،اور شلوار یا تہ بند ٹخنوں سے نیچے تک لمبا ہو۔
    فتنہ عریانی نے ہماری معاشرت میں قمیض یا کرتے میں کئی فیشن متعارف کرائے۔
    …کبھی چاک اتنے چھوٹے اور قمیض اتنی تنگ رکھی گئی کہ کولہے چلتے ہوئے نمایاں ہوتے۔
    … کبھی چاک اتنے لمبے رکھے گئے کہ عورت کی کمر، کولہے اور پیٹ کا بیشتر حصہ نظر آتا، خصوصاً جھکتے ہوئے یا نماز پڑھتے ہوئے تو پہلوئوں سے جسم خاصا نظر آرہا ہوتا ہے، آج کل بھی یہ فیشن عام ہے۔
    …قمیض یا کرتے کی لمبائی کبھی گھٹنوں سے اوپر، کبھی نصف ران تک اور کبھی ناف تک بھی رکھی گئی۔ جس سے یہ لباس مختصر ہونے کی وجہ سے عورت کے ننگا ہونے کی چغلی کھانے لگا۔
    …بازو کبھی آدھے، کبھی صرف چوتھائی حصہ، اور کبھی ندارد۔ یوں ننگے پن کو ہوا دی گئی ۔
    …کبھی بازئوں کو چیر دیا گیا ،کبھی ڈیزائن سوراخ دار بنائے گئے۔
    …قمیض اتنی تنگ کہ پہننے کی سہولت کے لیے گردن سے کمر تک زپ لگائی جاتی رہی۔
    …کبھی کٹائی اور سلائی اس طرح کی گئی کہ کمر، کولہے، پیٹ، کندھے الگ الگ صاف نظر آنے لگے۔
    …فتنہ عریانیت نے گلے پر ایسی قینچی چلائی کہ کھلتے کھلتے پورا سینہ کھول دیا گیا۔ اگر ایسا گلا پہننے والی ذرا سا نیچے جھکے تو وہ حصے بھی پورے نظر آتے ہیں جنہیں سوائے شوہر کے کسی کے سامنے کھولنا تو کجا ان پر سے دوپٹہ ہٹانا بھی درست نہیں۔
    …گلے کی کٹائی عرض میں اتنی زیادہ کی گئی کہ کندھے پورے نظر آنے لگے اور ان پر اندر پہنے ہوئے کپڑے کی پٹیاں بھی دعوتِ نظارہ دینے لگیں۔
    سکرٹ، جینز، غرارے کی کرتی وغیرہ
    انہیں لباس کی بجائے بے لباسی کہنا چاہیے۔ اس قسم کا گلے کا کپڑا عورت کے لیے درست نہیں۔

    گلے کا کپڑا یا بنیان ؟​

    جو کپڑا اندر اوپر کے حصے پر گردن سے پہنا جائے اسے ہمارے یہاں بنیان یا بڑا ہونے کی صورت شمیض کہا جاتا ہے۔ بغیر بازو کے، آدھے بازو والا، پورے بازو والا، جسم کے ساتھ چپکا ہوا لمبائی میں کبھی ناف تک ،کبھی گھٹنوں سے کچھ اوپر، کسی دور میں یہ عورتوں کے لباس کا لازمی حصہ ہوتا تھا ۔اوپر کھلی، ڈھیلی ڈھالی، لمبی گھٹنوں تک قمیض ہوتی، یوں عورت کی اس طریقے سے بہترین ستر پوشی ہوتی۔ نئے دور کے بے راہ فیشنوں نے قمیض یا کرتے میں ہزارہا غیر ساتر اور غیر شرعی تبدیلیاں کیں، چنانچہ بنیان کو خارج از لباس کرکے قمیض کو بنیان کی لمبائی اور چوڑائی سے بھی چھوٹا کردیا۔ غور کیجیے غرارے، شرارے، ٹراوزر کے ساتھ جو کرتی پہنی جاتی ہے کیا وہ بنیان نہیں؟ بلکہ اس سے بھی چھوٹی اور تنگ شیطانی کرتی۔

    فراک
    فراک گلے سے پہنا جانے والا مغربی لباس ہے جس سے کمر اور سینہ، کندھے وغیرہ کا حصہ الگ نظر آتا ہے۔ اوپر پیٹی کس کر اسے مزید الگ کیا جاتا ہے۔ نیچے کا حصہ کھلا ہوتا ہے لیکن ساخت ایسی کہ ذرا سا ہوا کا جھونکا آنے یا جھکنے پر پورا حصہ اوپر اٹھ کر برہنگی کا باعث بن جاتا ہے۔ فراک کے نیچے جانگیہ یا چست پاجامہ بھی تنگ لباس ہے، شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی۔
    فراک کے اگر اوپر اور نیچے کے حصے ایک ہی کپڑے سے ڈھیلے ڈھالے اور پائوں تک لمبے ہوں تو پھر اس کے نیچے چست پاجامہ بھی پہنا جاسکتا ہے کیونکہ پاجامہ نظر نہیں آئے گا بلکہ وہ زیرِ جامے کا کام دے گا۔ اور فراک اس صورت میں عربی درع بن جائے گی۔
    بیلٹ، پیٹی، کمر بند
    الشیخ محمد ابراہیم ایک فتویٰ میں لکھتے ہیں:
    عورت کو بیلٹ، کمر بند اور پیٹی باندھنے سے منع کیا گیا ہے چاہے وہ زنار کے مشابہ ہو یا دوسری طرح کی، خواہ حالت ِنماز میں ہو یا خارجِ نماز میں اس لیے کہ وہ سرین کے حجم (سائز) اور بدن کے حصوں کو نمایاں کرتی ہے۔
    بعض فراکوں اور قمیضوں میں بیلٹ استعمال نہیں کی جاتی لیکن کٹائی ایسی کی جاتی ہے جو بیلٹ ہی کی طرح کمر کی جگہ کو کس دے اور اعضائے بدن کو نمایاں کرے لہٰذا پیٹی ، بیلٹ وغیرہ باندھنا جائزنہیں ۔
    ساڑھی
    یہ ایک ہی دراز کپڑا ہوتا ہے جسے سر اور پائوں میں پہنا جاتا ہے۔ اس کی خرابی یہ ہے کہ اس سے کمر ،پیٹ اور کندھے کے بعض حصے کی جلد نظر آتی ہے۔ بعض خواتین اس کے ساتھ اوپر کے حصے میں کرتی پہنتی ہیں لیکن یہ کرتی بنیان کے مشابہ ہوتی ہے جو ستر کے تقاضے پورے نہیں کرتی اور اعضائے بدن کو نمایاں کرتی ہے۔
    البتہ ایسی خواتین بھی دیکھی ہیں جو ساڑھی پہنتی ہیں لیکن ان کے بازو پورے ڈھکے ہوتے ہیں، نیز سینہ، سر وغیرہ بھی وہ پوری طرح ڈھانپ کر رکھتی ہیں۔ حاصل یہ کہ ساڑھی اگر اعضائے ستر کو پوری طرح ڈھانپنے والی اور ڈھیلی ڈھالی ہے تو اسے پہنا جاسکتا ہے ورنہ نہیںلیکن اس کا ڈھیلا ڈھالا ہونا مشکل ہے کیوں کہ جسم کو لپیٹنے کا کام دیتی ہے لہٰذا جسم سے چپک جاتی ہے۔

    نسوانیت بازار میں برائے فروخت
    عورت کا مخصوص اندرونی کپڑا بازاروں میں، ریڑھیوں پر اور چم چم کرتی دکانوں میں شو پیسوں میں … انچوں اور سینٹی میٹروں کے ماپ کے ساتھ غیر مردوں کے ہاتھوں … اس کا نمبر بتا کر مردانہ یا زنانہ ہاتھ خریدتے ہیں۔ بعض اونچی دکانوں سے ملحق ایک مخصوص کمرہ بھی اس مقصد کے لیے ہوتا ہے تاکہ عورت وہیں پہن کر جائزہ لے لے۔ تُف ایسی تہذیب پر جو اپنی عفت وعصمت کے مخصوص اعضا کی ساخت اور ماپ کو غیروں کے ہاتھوں رسوا ہوتے اور کوڑیوں کے مول فٹ پاتھوں پر بکتے دیکھتی اور اسے روشن خیالی سمجھتی ہے۔
    ایک دور وہ تھا کہ عورتیں اس کپڑے کو دھو کر ایسی جگہ لٹکاتیں جہاں کسی بچے یا مرد کی نظر نہ پڑے ،عورت اس کپڑے کو اپنی کشش چھپانے کے لیے استعمال کرتی تھی اور اب اس کپڑے کی تیاری میں اس کے کھنچائو اور تنائو کو مدنظر رکھا جاتا ہے تاکہ یہ حصہ جسم مزید نمایاں ہو۔ مستزاد یہ کہ بعض خواتین سب کے سامنے مال بھی یہیں سے درآمد اور برآمد کرتی ہیں۔

    ازار (ٹانگوں پر پہنا جانے والا کپڑا)

    احادیث میں دوسرے اہم کپڑے کا نام ازار ہے اور اس سے مراد وہ کپڑا ہے جسے مرد یا عورت ناف پر سے باندھتا ہے۔ عہد رسالت میں مردوں کے لیے ازار یا درع (قمیض) کا یہ امتیاز رکھا گیا کہ وہ ٹخنوں سے اوپر نصف پنڈلی تک ہو۔ اور عورتوں کا ٹخنوں سے نیچے لٹکتا ہو۔
    اس کی ایک شکل تہ بند ہے جو درست ہے مرد کے لیے بھی، عورت کے لیے بھی، بشرطیکہ لمبائی وہی ہو جو شریعت نے مقرر کی ہے۔ دوسری شکل شلوار ہے، خوب کھلے گھیر کی شلوار جب کہ موٹے کپڑے کی ہو، شریعت کے مقصدِ ستر پوشی کو پورا کرتی ہے لیکن شلوار کے بھی عریانی نے ہزارہا فیشن رائج کیے
    … کبھی ٹخنوں سے اوپر پائنچے۔
    … کبھی چرے ہوئے پائنچے۔
    … کبھی اتنے تنگ کہ پائوں ڈالنے کے لیے بٹن لگائے گئے اور کبھی اتنے کھلے کہ سولہ، سترہ انچ تک کشادہ۔
    … دورِ حاضر میں شلوار کے گھیر کو دن بدن تنگ کرنے کی مہم جاری ہے اور اب یہ شلوار کم اور چست پاجامے کے مشابہ زیادہ ہے۔
    اگر تنگ شلوار کے اوپر اتنی لمبی قمیض ہو جو ٹخنوں کے نیچے تک ہو تو پھر ایسی شلوار درست ورنہ پرانے دور کی کھلے گھیر والی اور ٹخنوں سے نیچے تک لٹکنے والی شلوار ہی ستر پوشی کا کام دے سکتی ہے۔

    پتلون اور پاجامہ
    اس میں دو عیب پائے جاتے ہیں تنگ ہونا اور مردوں کی مشابہت۔ سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز ایک فتویٰ کے جواب میں فرماتے ہیں:
    ’’عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ تنگ اور چست لباس پہنے، کیونکہ ایسا لباس اس کے اعضائے جسمانی کی چغلی کھاتا ہے۔ اور انہیں نمایاں کرتا ہے جو کہ فتنہ بپا کرنے والا امر ہے، پتلون جن اعضاء ِجسم کو چھپائے یا ڈھانپے ہوئے ہوتی ہے ان کے طول وعرض کی حد بندی بھی کردیتی ہے۔ نیز عورتوں کے پتلون پہننے میں مردوں کی مشابہت کا امکان ہے جب کہ رسول اللہ ﷺ نے مردوں کی مشابہت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘ [فتاویٰ برائے خواتین اسلام]

    الشیخ صالح ابن الفوزان فرماتے ہیں:
    ’’عورت کے لیے ایسا لباس پہننا جائز نہیں جس میں مردوں کی مشابہت ہو یا کافرہ عورتوں کی مشابہت ہو، اس کے لیے ایسا تنگ لباس پہننا بھی جائز نہیں جو اس کے اعضائے بدن کی چغلی کھائے اور دوسروں کے لیے کسی فتنہ کا باعث بنے اور پتلون میں یہ تمام خطرات پائے جاتے ہیں لہٰذا اس کا پہننا جائز نہیں۔‘‘

    الشیخ ابن العثیمین فرماتے ہیں:
    ’’مسلمانوں کو چاہیے کہ ہمارے اسلامی ملکوں میں ادھر ادھر سے وارد ہونے والے مختلف فیشنوں کے پیچھے بے لگا م نہ دوڑ پڑیں اور ہر فیشن کا لباس زیب تن نہ کرلیا کریں کیونکہ ان میں سے اکثر لباس ایسے چھوٹے، تنگ، چست، باریک اور ہلکے پھلکے ہوتے ہیں کہ وہ ہمارے اسلامی لباس سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے جو کہ عورت کے لیے مکمل ستر کا باعث ہوں۔ انہی میں سے پتلون اور بنیان نما شرٹ بھی ہے۔ یہ عورت کی ٹانگوں کی موٹائی، اس کے پیٹ کی ہیئت کذائی، اس کے کولہوں کی حالت اور پستانوں کا حجم وغیرہ ظاہر کردیتی ہے۔ لہٰذا اسے پہننے والی عورت اس صحیح حدیث کے تحت میں داخل ہوجاتی ہے جس میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

    ’’دو قسم کے لوگ اہل جہنم میں سے ہیں لیکن ابھی وہ مجھے نظر نہیں آرہے، پہلی قسم کے وہ لوگ ہیں جن کے ہاتھوں میں گائے کی دموں جیسے کوڑے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے۔ دوسری قسم ان عورتوں کی ہے جو بہ ظاہر لباس پہنے ہوئے ہوں گی لیکن درحقیقت ننگی ہوں گی۔ لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے والی، خود ان کی طرف مائل ہونے والی، ان کے سروں پر بختی اونٹوں کے کوہانوں کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے جوڑے ہوں گے، وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گی، نہ وہ جنت کی خوشبو کو پائیں گی جب کہ جنت کی خوشبو بہت دور تک پہنچ رہی ہوگی۔‘‘

    ڈھیلی ڈھالی پتلون پہننے والے کے سوال کے جواب میں الشیخ ابن العثیمین فرماتے ہیں:
    ’’چاہے وہ ڈھیلی ڈھالی ہو کیونکہ ایک ٹانگ کا دوسری ٹانگ سے الگ نظر آنا بھی بے پردگی کی علامت ہے۔ اس میں یہ خدشہ بھی ہے کہ پتلون پہننے والی عورت مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والیوں میں شمار ہوگی کیونکہ پتلون مردوں کے لباس کا حصہ ہے۔‘‘

    شیخ الحدیث منصورہ اکیڈمی مولانا عبدالمالک فرماتے ہیں:
    ’’قمیض کے ساتھ پاجامہ ہو تو اس سے جسم کے پیچ وخم بھی نظر آتے ہیں، اس لیے یہ لباس ساتر نہیں ہے۔‘‘ [ماہنامہ ترجمان القرآن، اگست ۲۰۰۱ء]

    نوٹ: سعودی عرب میں درع (پائوں تک لمبی قمیض) پہننے کا رواج رہا ہے لیکن پاکستان میں ایسا کپڑا کبھی بھی رائج نہیں رہا۔ لہٰذا عورت یہاں کے رواج کے مطابق تہ بند یا ڈھیلی ڈھالی شلوار پہن سکتی ہے البتہ پاجامہ تنگ ہونے اور مردانہ لباس ہونے کی وجہ سے نہیں پہن سکتی۔

    مندرجہ بالا فتاویٰ کی روشنی میں چست پاجامہ بھی غیر ساتر لباس ہے۔


    خمار (سر پر اوڑھاجانے والا کپڑا) ​


    قرآنِ حکیم میں ارشاد ہے:
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]{وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰي جُيُوْبِہِنَّ } [النور:۳۱][/font]
    ’’اور چاہیے کہ وہ اپنی اوڑھنیوں کو اپنے گریبانوں پر ڈال لیا کریں۔‘‘
    اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دے کر کہ عورت اپنی زینت فلاں فلاں رشتہ داروں (محرم) پر ظاہر کرسکتی ہے ساتھ یہ حکم بھی دیا کہ وہ خمار اوڑھ کر رکھے۔

    علمائے لغت لکھتے ہیں:
    خمار اس دوپٹہ کو کہتے ہیں جسے عورت اپنے سر پر ڈالتی ہے۔ سلف صالحین نے بیان کیا ہے کہ خمار سر پر سے لا کر سینے پر اس طرح ڈالا جائے کہ جسم کے ابھار اور مواضعِ زینت میں سے کوئی حصہ نظر نہ آئے۔ اس طرح ہرگز نہ ہو کہ آنچل پیچھے کی طرف ڈال لیا جائے جس سے سینے کا ابھار نہ چھپ سکے بلکہ اور ابھار پیدا ہوجائے جیسا کہ جاہلیت میں رواج تھا اور جس کو اسلام نے مٹایا۔

    علامہ شبلی فرماتے ہیں:
    جاہلیت میں کرتوں کے گریبان بہت چوڑے ہوتے تھے جس سے سینے نظر آتے اور عورتیں دوپٹوں کو پشت کی طرف ڈالتی تھیں۔ لہٰذا حکم آیا کہ دوپٹے سامنے سینوں پر ڈالیں۔ [چہرے کا پردہ مرتب محمود خضر]

    عربی کے خمار کا اردو ترجمہ، دوپٹہ یا اوڑھنی ہے۔ نیز قرآنِ حکیم نے خود ہی اس کے اوڑھنے کا طریقہ بھی بتا دیا کہ دوپٹے کو سینے پر ڈالا جائے۔
    دوپٹہ کا مطلب ہے دوپٹ والا یعنی لمبا چوڑا کپڑا جو سر پر اوڑھا جاتا ہے۔

    دوپٹہ اوڑھنے کی عمر
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ صَلَاۃَ حَائِضٍ اِلَّا بِخِمَارٍ ۔ [سنن ابی داؤد، المرأۃ لا تصلی بغیر خمار، ح: ۶۴۱] [/font]
    ’’اللہ تعالیٰ دوپٹے کے بغیر کسی بالغہ عورت کی نماز قبول نہیں کرتا۔‘‘
    ثابت ہوا کہ لڑکی جب بالغ ہوجائے تو وہ پردہ کرنے اور پورا لباس پہننے کی مکلف ہے۔ نیز نماز روزے جیسے فرائض کا بجا لانا اس پر فرض ہوجاتا ہے۔
    جس طرح نماز فرض تو بلوغت پر ہوتی ہے مگر اس کی عادت بچے کو چھ، سات سال کی عمر میں ڈالنے اور دس سالہ ہونے پر سختی کرکے نماز پڑھوانے کا حکم ہے۔ یہی اصول لڑکی کو دوپٹہ اوڑھانے کا ہے۔ بچی جب چھ، سات سال کی ہوجائے اسے دوپٹہ اوڑھنے کی عادت ڈالی جائے گی۔ دس سال ہونے پر اسے دوپٹہ اوڑھانے میں سختی کی جائے گی اور بالغ ہونے پر وہ دوپٹہ نہ اوڑھے تو گنہ گار ہوگی۔
    بالغہ لڑکی وہ ہے جسے یا تو حیض آنا شروع ہوجائے، یا اس کی عمر تیرہ سال ہوجائے۔

    خمار (دوپٹہ) کیسا ہو؟
    دوپٹے کی شرائط بھی وہی ہیں جو عورت کے لباس کی ہیں اتنا باریک نہ ہو کہ سر کے بالوں کا رنگ نظر آئے، اتنا چھوٹا نہ ہو کہ سر، سینہ اور کمر پر پھیلایا نہ جاسکے۔کیونکہ دوپٹے کا مقصد سر کے بال اور گردن کے علاوہ سینے، کمر، کندھے اور پیٹ کی ساخت کو مزید چھپانا ہے گو عورت نے ان پر درع (قمیض) یا کوئی اور کپڑا بھی پہنا ہوتا ہے۔

    ام علقمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ان کی بھتیجی حفصہ بنت عبدالرحمن آئیں۔ اس وقت انہوں نے باریک دوپٹہ (خمار) اوڑھ رکھا تھا۔ جس سے اس کا گریبان نظر آرہا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ دوپٹہ پھاڑ دیا اور اس کے بجائے موٹے کپڑے کا دوپٹہ اسے پہننے کو دیا اور کہا کیا تمہیں سورہ نور کے احکام یاد نہیں؟ [مشکوٰۃ، کتاب اللباس، ح۴۳۷۵۔ موطا امام مالک:۱۶۳۲۔بیہقی: ۳۲۶۵]

    الشیخ صالح الفوزان ایک فتویٰ میں لکھتے ہیں: ’’عورت کے لیے پانی کی طرح آر پار دیکھا جانے والا کپڑا پہننا جائز نہیں، ایسا دوپٹہ بھی سر پر اوڑھنا جائز نہیں جو ہلکا ہو اور سر اور چہرہ کے لیے ساتر نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]{وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰي جُيُوْبِہِنَّ} [/font]
    ’’اور چاہیے کہ اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈال لیں۔‘‘
    ہلکے اور باریک دوپٹے سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا بلکہ یہ فتنہ کے قریب ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب دوپٹے کے بارے پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا:
    انما الخمار ما واری البشرۃ والشعر ۔

    ’’دوپٹہ (خمار) تو صرف وہی ہے جو چمڑے (جلد) اور بال کو ڈھانپ لے۔‘‘ (غذاء الالباب السفارینی، ۴/ ۱۶۴) [فتاویٰ برائے خواتین اسلام، ص: ۶۲۹]
    معلوم ہوا کہ آرگنزا، ٹشو، جالی، جارجٹ، شیفون اور باریک ململ وغیرہ کے دوپٹے درست نہیں کیونکہ ان سے بالوں کا رنگ اور جلد کا رنگ نظر آتا ہے۔ البتہ اس کے نیچے استر لگا کر اسے اوڑھ سکتے ہیں۔
    گھر میں محرموں کے سامنے دوپٹہ (خمار)

    ڈاکٹر اسرار احمد لکھتے ہیں:
    گھر میں رہتے ہوئے بھی یہ چیز پسندیدہ نہیں کہ نوجوان لڑکی کا سینہ بغیر دوپٹے کے ہو اور وہ گھر میں گھوم رہی ہو۔ اگرکرتے یا قمیض کا گریبان ساتر نہ ہو توباپ اور بھائی کے سامنے آنے کی شریعت بالکل اجازت نہیں دیتی۔ اس لیے کہ عورت کے جسم میں سب سے زیادہ جاذبِ نظر اس کا سینہ ہوتا ہے لہٰذا ایک طرف مردوں کو غضِ بصر کا حکم دیا گیا تو دوسری طرف عورتوں کو اپنے سینے پر اوڑھنیاں ڈالنے کا۔ عورت کے جسم میں سینہ وہ شے ہے کہ اگر اس پر صرف کرتا پہن لیا جائے تو بھی وہ پوری طرح نہیں چھپے گا۔ اس لیے حکم دیا گیا:
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]{وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰي جُيُوْبِہِنَّ}[/font]
    ’’عورتیں اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں۔‘‘ [عورت اور اسلام]
    آج کل خواتین گھروں میں اور محرموں کے سامنے دوپٹہ اتار کر ان کے سامنے آتی ہیں اور کہتی ہیں شریعت میں اس کی اجازت ہے۔ حالانکہ شریعت میں حکم ہے کہ عورتیں اپنے دوپٹے اپنے سر اور سینہ پر اوڑھ کر رکھیں۔ البتہ اجازت یہ ہے کہ اگر کبھی گھر میں کام کاج کرتے دوپٹہ سر سے کھسک جائے اور محرم کی نظر پڑجائے تو کوئی حرج نہیں۔ نیز دورِ حاضر میں عورتیں اپنے سامنے کے حصے کو کتنا جاذبِ نظر رکھتی ہیں یہ بات ان سے بھی ڈھکی چھپی نہیں۔ خوب صورت پرنٹ اور کپڑے کی قمیضیں عموماً تنگ ،اعضاء کو نمایاں کرنے والی …گلے خوب صورتی سے بنائے ہوئے … عموماً کھلے بھی … قمیض کے نیچے پہنا ہوا اندرونی کپڑا اور اس کا تنائو … اور اس پر دوپٹہ برائے نام یا سرے سے ہے ہی نہیں … ایسے میں عورت یہ خیال کرے کہ اس کے محرم افراد کی نیت خراب نہیں ہوگی یا ان کی نظر اس کے سامنے کے حصے کا بار بار جائز نہیں لے گی … یہ اس کی انتہائی بے وقوفی ہے یا حقیقت ِحال سے جان بوجھ کر گریز … اسلام نے فتنوں سے بچنے کے لیے لباس تجویز کیا ہے لہٰذا ماننا پڑے گا کہ محرموں کے سامنے دوپٹہ اوڑھ کر رکھنا چاہیے۔

    یاد رہے کہ باہر نکلنے کے لیے عورت کو جلباب کا حکم دیا گیا ہے اس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ اگر خمار محرموں کے سامنے یا عورتوں اور بچوں کے سامنے نہ اوڑھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو پھر خمار کا حکم کیوں؟ اور کس لیے؟ نیز خمار (دوپٹے) کا ذکر جس ضمن میں کیا گیا وہ یہ ہے کہ محرم افراد پر ظاہری زینت ظاہر ہوجانے میں کوئی ہرج نہیں اور ان سے چہرے کا پردہ نہیں۔

    دوپٹے کو ٹوپی کی طرح سر پر گول کرنا … مونڈھے پر اس کے پلو ڈال دینا… پیچھے کی طرف پلو گرا دینا … دوپٹے کو نیچے گھسیٹتے ہوئے چلنا بھی درست نہیں۔ دوپٹہ اس طرح اوڑھنا کہ گردن ننگی نظر آئے، سینہ ننگا ہو، پیچھے سے گردن نظر آئے یہ تمام طریقے غیر شرعی ہیں۔

    دوپٹہ یا رسی
    اب یہ عام رواج ہوچکا ہے کہ عورتیں دوپٹے کو لباس کا جز تو بناتی ہیں لیکن یا تو کندھے پر لٹکاتی یا گردن میں ڈال لیتی ہیں۔ بعض سر پر باریک دوپٹہ اور گلے میں چادر لپیٹ لیتی ہیں۔ (گھر سے باہر جاتے ہوئے) ان تمام صورتوں میں یہ دوپٹے کے ساتھ بدترین مذاق ہے۔

    اخبارات ورسائل عورتوں کے مختلف پوز میں برہنہ انداز سے تصویریں دے کر لکھتے ہیں: ’’دوپٹہ مشرقی روایات کا حصہ ہے۔ ‘‘ایسا دوپٹہ بقو ل ان کے مشرقی روایات کا حصہ تو ہوسکتا ہے اسلامی روایات کا قطعاً حصہ نہیں۔ اسلامی روایات کا حصہ وہی دوپٹہ یا خمار ہے جو موٹا اور کھلا ہو اور عورت کے چاروں اطراف کو سر کے بالوں سمیت اچھی طرح ڈھانپ لے۔

    طالبات کی پٹی
    اسکولوں اور کالجوں میں دوپٹے کے بجائے پٹی بھی غیر اسلامی طریقہ ہے۔ نرسوں کے لباس میں دوپٹے کے بجائے ہیٹ نما ٹوپی ہوتی ہے یہ مردوں سے مشابہت ہے۔ نیز عیسائی راہبات اور نرسوں کا شعار (علامت) ہے۔ اس لیے بھی اس کا پہننا حرام ہے۔

    عورت تین پردوں میں ​

    مسلمان عورت نیچے موٹا، کھلا، ڈھیلا ڈھالا، لمبا چوڑا لباس پہنتی ہے۔ اوپر کھلا اور موٹا دوپٹہ( خمار) اوڑھ کر رکھتی ہے … اور باہر نکلتے ہوئے ان کے اوپر ایک اور پورے جسم کو ڈھانپ لینے والی جلباب (بڑی چادر یا برقع) اوڑھتی ہے تاکہ اگر جلباب کھسک بھی جائے تو اس کے نیچے کی زینت گلے کا ہار وغیرہ ظاہر نہ ہو۔


    دستانے

    دستانے عورت کا اختیاری لباس ہیں لازمی نہیں، رسول اللہ ﷺ نے احرام باندھنے والی خواتین کے لیے فرمایا کہ

    [font="_pdms_saleem_quranfont"]لا تنتقب المحرمۃ ولا تلبس القفازین ۔ [صحیح بخاری، کتاب الحج، ح: ۱۸۳۸] [/font]
    ’’احرام والی عورت نہ نقاب پہنے اور نہ ہی دستانے۔‘‘
    معلوم ہوا کہ احرام کی حالت میں عورت کے لیے دستانے اور نقاب کی ممانعت ہے۔ عمومی زندگی میں اگر وہ اجنبیوں سے اپنے ہاتھ کی ہتھیلیوں کو دستانے سے یا کسی کپڑے کے اندر کرکے چھپاتی ہے تو یہ اس کے لیے ایک اچھا امر ہے۔ مولانا ثناء اللہ مدنی اپنے ایک فتویٰ میں کہتے ہیں:

    عورت کے ہاتھ اور پائوں کا بھی پردہ ہونا چاہیے البتہ لینے دینے کی ضرورت کی بنا پر انھیں ظاہر کرنا بھی جائز ہے لیکن فتنے کے خوف کی صورت میں ان کا پردہ بھی ضروری ہے۔ ملاحظہ ہو کتاب فوائد وفتاویٰ تہم المراۃ المسلمۃ، ص: ۱۵۹۔ [ہفت روزہ الاعتصام، ۲۴ اگست ۲۰۰۱ء]

    اگر ہاتھوں پر مہندی اور زیور وغیرہ کی آرائش ہو تو انہیں کسی کپڑے میں یا دستانوں میں چھپالینا چاہیے تاکہ زینت ظاہر نہ ہو، اسی طرح جس عورت کے ہاتھ خوبصورت ہوں وہ بھی دستانے پہن لے تو یہ بہتر ہے۔ البتہ اگر ہاتھوں پر مہندی اور زیور وغیرہ کی آرائش نہیں تو ہاتھ کی ہتھیلیاں ننگی رکھ سکتے ہیں۔



    جلباب (بڑی چادر) ​


    جلباب سے مراد ایسا بڑا کپڑا ہے جسے عورت گھر سے باہر نکلتے ہوئے اپنے پورے جسم اور سر پر لپیٹ کر اپنا لباس، زیور اور بنائو سنگھار چھپا لیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جلباب کے بارے حکم دیا:
    [font="_pdms_saleem_quranfont"] {يٰٓاَيُّہَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْہِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِہِنَّ۰ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ۰ۭ وَكَانَ اللہُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا} [الاحزاب: ۵۹] [/font]
    ’’اے نبی! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں اور اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔‘‘
    مندرجہ بالا حکم سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ
    جلباب کا حکم نبی ﷺ کی بیویوں اور بیٹیوں کے لیے بھی ہے اور اہل ایمان کی عورتوں کے لیے بھی۔ یعنی تمام خاص اور عام خواتین کے لیے جلباب کا حکم ہے۔
    … جلباب کا مقصد یہ ہے کہ وہ دنیا کی دیگر تمام عورتوں سے الگ تھلگ نظر آئیں اور یہ پتا چل جائے کہ جو عورت جلباب اوڑھ کر گھر سے باہر نکلی ہے وہ مومنہ ہے۔ اگر وہ جلباب اوڑھ کر باہر نہیں نکلتی تو گویا اس نے اپنی اسلامی شناخت کھو دی۔ اپنے تشخص کو غیر مسلم کافر ومشرک عورتوں میں ضم کردیا اور یہ بہت بڑی غلطی ہے۔
    … اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جلباب مسلمان خواتین کا شعار (مذہبی علامت) ہے جس کا اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔

    عائشہ رضی اللہ عنہا نے انصار کی عورتوں کی تعریف کی اور فرمایا کہ جب سورہ نور کی (مندرجہ بالا) آیات نازل ہوئیں تو ان عورتوں نے پردوں کے کپڑے اور مردوں کی چادریں پھاڑ کر اپنے لیے پردے کی چادریں بنا لیں ۔ [ابوداؤد:۴۱۰۰۔ مسند احمد:۶/۱۸۸]

    ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب یہ حکم (پردے کا) نازل ہوا تو انصاری عورتیں جب باہر نکلتیں تو ایسے لگتا کہ ان کے سروں پر کوے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان سیاہ چادروں کی وجہ سے جو وہ اپنے اوپر لینے لگی تھیں ۔ [ابو داؤد ، کتاب اللباس :۴۱۰۱]

    جلباب اور خمار میں فرق ​

    خمار (دوپٹہ یا اوڑھنی) وہ کپڑا ہے جسے عورت محرم رشتہ داروں، عورتوں، بچوں کے سامنے، نیز گھر میں اور نماز کی حالت میں اوڑھنے کی پابند ہے۔ اس کے برعکس جلباب صرف اجنبی مردوں کے سامنے اور گھر سے باہر نکلتے ہوئے اوڑھی جاتی ہے۔

    جلباب کی تعریف علماء کی نظر میں
    … اس سے مراد بڑی چادر ہے جسے عورت اپنے اوپر اس طرح لپیٹے کہ اس کے جسم میں سوائے ایک آنکھ کے جس سے دیکھنے کا کام لے اور کچھ کھلا ہوا نہ ہو۔ [عبداللہ بن عباس]
    … جلباب کے استعمال کی صورت یہ ہے کہ اسے پیشانی کے اوپر لپیٹ کر باندھ لے پھر اس کا پلو موڑ کر ناک بھی چھپا لے۔ [قتادہ]
    … جلباب اس طرح اوڑھے کہ آدھا چہرہ چھپ جائے۔ [حسن بصریؒ]
    … جلباب کے معنی ہی ملحفہ ہیں یعنی بڑی چادر۔ ’’یدنین کا مصدر ادناء ہے، جس کے معنی ہیں قریب کرنا۔ مگر جب اس کے بعد علی کا حرف آئے تو اس کے معنی ہوتے ہیں ارخاء یعنی لٹکانا تو یُدْنِیْنَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِہِنَّ کے معنی ہوئے ’’اپنے اوپر اپنی چادروں کے کچھ حصے لٹکا لیا کریں۔‘‘ علامہ جوہری متوفی ۳۹۳ھ [بحوالہ چہرے کا پردہ۔ مطبوعہ ماہنامہ ’’فاران‘‘ اپریل ۱۹۹۵ء]
    … جلباب اس کپڑے کو کہتے ہیں جو تمام بدن کو ڈھانپ لے اور جو کپڑا تمام بدن کو نہ ڈھانپے اسے جلباب نہیں کہتے۔ [المحلی، ابن حزم: ۳/ ۲۱۳]
    معلوم ہوا کہ جلباب وہ بڑا کپڑا ہے جسے عورت گھر سے باہر نکلتے ہوئے اپنے سر اور پورے جسم پر اس طرح لپیٹ لیتی ہے کہ چادر کے پلو گھونگھٹ کی صورت سر اور اس کے اطراف سے لٹکے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ عورت کو ضرورت کے مطابق رستہ بھی نظر آتا ہے لیکن اس کے چہرے کو کوئی دوسرا نہیں دیکھ سکتا۔
    جلباب (بڑی چادر یا برقع) میں مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھنا ضروری ہے:
    … ایسی ہو کہ جن اعضاء کو باہر نکلتے ہوئے ننگا رکھنے کی اجازت ہے مثلاً ہاتھ اور پائوں ان کے علاوہ پورے جسم کو ڈھانپ لے۔ یعنی وہ پائوں تک لمبا ہو اور اس کے بازو نصف ہاتھ کو بھی اپنے اندر لے لیں۔
    … خوب صورت نہ ہو اور نہ ہی اس پر گوٹے، جھالر، طلے، مختلف ڈیزائنوں، دھاگوں موتیوں وغیرہ سے کوئی آرائش کی گئی ہو ورنہ یہ چادر یا برقع خود زینت بن جائے گا۔ حالانکہ زینت چھپانے ہی کے لیے جلباب اوڑھی جاتی ہے۔ اس شرط کی بنیاد اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے:
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]{وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاہِلِيَّۃِ الْاُوْلٰى} [الاحزاب: ۳۳] [/font]
    ’’اور سابق دورِ جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔‘‘
    … موٹے کپڑے سے تیار کی گئی ہو تاکہ نیچے پہنے ہوئے کپڑوں کا رنگ، ڈیزائن، ان پر کی گئی کڑھائی یا کوئی دوسری آرائش، زیور اور بنائو سنگھار (مہندی، لپ اسٹک وغیرہ) نظر نہ آئیں۔ اگر چادر یا برقع باریک کپڑے سے تیار کیا گیا ہے تو یہ جلباب کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔ کیونکہ مقصد زیور، لباس اور جسمانی اعضاء کی بناوٹ کو مردوں کی نظروں سے بچانا ہے۔

    … چادر ڈھیلی ڈھالی ہو کیونکہ تنگ ہونے کی صورت میں جسم کے اعضاء کی ساخت نمایاں ہوگی۔
    … مردانہ لباس سے مشابہ نہ ہو۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں اور ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں لعنت کی ہے۔ [بخاری، کتاب اللباس:۸۲۹۔ ابوداؤد:۴۰۹۷ ابن ماجہ، حاکم، احمد بن حنبل]
    … پرنٹ یا رنگ جاذبِ نظر اور پرکشش نہ ہو کہ مردوں کی نظریں بے اختیار اس کی طرف اٹھنے لگیں مثلاً گلابی، جامن وغیرہ نیز اس پر دل کش نقش ونگار بھی نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ یہ سب بھی زینت میں شامل ہیں۔جب کہ جلباب (بڑی چادر) زینت والی چیزوں کو چھپانے کے لیے اوڑھنے کا حکم ہے۔

    جلباب کی مروّجہ شکلیں
    مختلف خطوں میں عورتیں گھر سے باہر نکلتے ہوئے مختلف کپڑے استعمال کرتی ہیں۔ دورِ حاضر میں نقاب والی چادر، ٹوپی والا برقع اور گائون اور اسکارف عام طور پر استعمال کیے جارہے ہیں۔ آئیے دیکھیں ان کا استعمال شرعی حجاب کے تقاضے کہاں تک پورے کرتا ہے۔

    نقاب والی چادر
    اگر یہ چادر اتنی بڑی ہو کہ پورے جسم، لباس اور زینت کو ڈھانپ لے، جسم کے ساتھ چپکنے والا کپڑا نہ ہو، نیز اس پر آرائش اور اس کا رنگ جاذبِ نظر نہ ہو تو اس کا استعمال درست ہے۔ یاد رہے کہ جرسی کپڑا جس کی چادریں عام مستعمل ہیں یہ جسم سے چپک جاتا ہے، اس لیے اس کی چادر کے استعمال سے اجتناب کرنا بہتر ہے۔
    [/FONT]
     
  3. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,848
    ٹوپی والا برقع ​

    یہ بھی شرعی حجاب کے تقاضے پورے کرتا ہے بشرطیکہ یہ جاذبِ نظر رنگ اور آرائش والا نہ ہو۔ اس کی یہ خوبی ہے کہ اس سے آنکھیں بھی چھپ جاتی ہیں۔
    گائون
    اسے کوٹ یا عبایا بھی کہا جاتا ہے۔ دراصل یہ گلے میں پہنا جانے والا کپڑا ’’درع‘‘ لمبی قمیض ہی ہے، جس کے بارے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا کہ عورت اپنا کپڑا (نصف پنڈلی سے نیچے) کتنا لٹکائے تو آپ ﷺ نے فرمایا، ایک بالشت۔ انہوں نے عرض کیا! اس طرح تو پائوں کھلے رہیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اچھا تو پھر دو بالشت لٹکائے۔‘‘ [ابوداؤد، ح ۴۱۱۷۔ ترمذی: ۱۷۳۱، ریاض الصالحین: ۸۰۱]

    دورِ حاضر میں گائون کا رواج شہری زندگی میں عام ہے۔ بعض خواتین صرف گائون پہنتی ہیں اور چہرہ نہیں ڈھانپتیں۔ ایسی صورت میں گائون جلباب کے تقاضے پورے نہیں کرتا البتہ عورت کے گھریلو لباس کا کام دیتا ہے۔ گائون کو جلباب کا متبادل بنانے کے لیے مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھنا ضروری ہے:

    ڈھیلا ڈھالا ہو، تنگ نہ ہو، اس پر کسی قسم کی آرائش نہ ہو، جاذبِ نظر رنگ نہ ہو، پائوں تک لمبا ہو، ہاتھ کی ہتھیلیوں کے علاوہ پورے بازوئوں کو ڈھانپ لے۔ خاص بات یہ کہ سر پر لیا جانے والا دوپٹہ، نقاب یا اسکارف کا رنگ گائون سے مختلف نہ ہو۔ اگر مختلف رنگ ہوگا تو گائون درِع (قمیض) ہی کہلائے گا اور اوپر کا کپڑا صرف نقاب، اسکارف یا دوپٹہ۔

    جلباب چونکہ ایک کپڑے پر مشتمل ہوتی ہے جو پورے بدن کو ڈھانپ لیتی ہے لہٰذا جب گائون اور سر کا کپڑا ہم رنگ ہوں گے تو یہ ایسے ہے کہ گویا جلباب کو دو حصوں میں بانٹ کر سہولت کی راہ نکالی گئی ہے۔ دونوں کا ہم رنگ ہونا یکسانیت کا تاثر دے گا جب کہ گائون اور اسکارف نقاب یا دوپٹے کا رنگ الگ الگ ہونے سے دونوں میں کشش اور زینت پیدا ہوجاتی ہے۔

    یاد رہے کہ اسکارف، نقاب یا ایسا دوپٹہ جس سے چہرہ اور سر ڈھانپ لیا جائے، اتنے کھلے اور ڈھیلے ڈھالے ہونے چاہئیں کہ وہ عورت کے سر، چہرے، بازوئوں، کندھے، سامنے کا حصہ اور پیچھے سے پیٹھ وغیرہ کو چھپا لیں۔

    دورِ حاضر میں تکونے اور گول رومال یا اسکارف جو اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ مردانہ مفلر یا رومال کی طرح صرف سر، چہرے، گردن اور کندھوں پر پھیلائے نہیں جاسکتے، ان کا استعمال شرعی حجاب یا جلباب کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔

    حجاب گارمنٹس والوں سے گزارش
    دورِ حاضر میں حجاب کے نام پر حجاب تیار کرنے والوں نے برقعوں کے بہت سے اندازا متعارف کرائے ہیں۔ جن میں سے اکثر انداز حجاب کے تقاضے پورے کرنے کے بجائے عورت کی قد وقامت کو مزید خوب صورت بنا کر نمایاں کرتے ہیں۔ مثلاً تکونے اور چھوٹے رومال یا پھول دار رومال، کڑھائی جھالر یا موتی ستاروں والے گائون اور نقاب، گھٹنوں تک گائون، تنگ اور کٹنگ والے گائون، پھول دار یا گوٹے طلے والی چادریں، چھوٹے بازو والے گائون وغیرہ۔

    حجاب تیار کرنے والوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صرف ایسا حجاب تیار کریں جو حجاب کے شرعی تقاضے پورے کرتا ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ حجاب کے نام پر تبرج جاہلیت (جاہلیت جیسی سج دھج دکھانے) میں وہ خود بھی شمولیت کے مرتکب ٹھہریں۔



    نقاب احرام کی حالت میں ​


    رسول اللہ ﷺ کے عہد میں عرب خواتین نقاب کا استعمال کرتی تھیں، اسلام میں عورت نقاب کو چہرہ چھپانے کے لیے استعمال کرسکتی ہے لیکن احرام کی حالت میں نقاب کی ممانعت ہے۔ لہٰذا وہ اجنبی مردوں کے سامنے اپنا چہرہ اپنی اوڑھنی وغیرہ سے چھپانے کی مکلف ہے جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔
    دورانِ احرام جب اجنبی مردوں کے قافلے گزرتے تو ہم اپنے چہرے ڈھانپ لیتی تھیں۔ الشیخ ابن العثیمین فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]لَا تَنْتَقِبُ الْمُحْرِمَۃ وَلَا تَلْبَس الْقُفَّازَیْن ۔

    لہٰذا دورانِ احرام برقع بدرجہ اولیٰ منع ہے، جب عورت کے اردگرد اجنبی ہوں تو وہ اپنی اوڑھنی یا چادر سے اپنے چہرے کو مکمل ڈھانپ لیا کرے اور جب اس کے اردگرد اجنبی نہ ہوں تو اپنا چہرہ کھول لے یہی افضل ہے۔
    [ص: ۳۰۸، فتاویٰ برائے خواتین اسلام]
    غرض یہ کہ احرام کے دوران عورت سلا ہوا مروّجہ نقاب استعمال نہیں کرسکتی لیکن اسے اپنا چہرہ اجنبی مردوں سے چھپانا ضروری ہے۔ لہٰذا وہ اپنا چہرہ اپنی اوڑھنی کا پلو لٹکا کر (گھونگھٹ نکال کر) چھپائے گی یا کسی اور طریقے سے۔
    بعض لوگوں کا خیال ہے کہ دورانِ احرام کپڑا چہرے سے چھونا نہیں چاہیے اس کی حدیث سے کوئی دلیل نہیں ملتی، سماحۃ الشیخ محمد بن ابراہیم ایک فتوے میں کہتے ہیں:
    عورت پر لازم نہیں کہ چہرے سے پردہ ہٹانے کے لیے لکڑی یا پٹی باندھے۔ عورتیں غیر مسنون اعمال کرتی ہیں مثلاً لکڑی پیشانی پر رکھتی یا عمامہ باندھتی ہیں اور یہ دونوں بدعت ہیں۔ لوگوں کا یہ کہنا کہ ’’چہرے کا پردہ چہرے کو مس نہ کرے۔‘‘ ایسا کسی عالم یا فقیہ نے کہا نہ ہی اس پر کوئی دلیل وارد ہے۔ حدیث احرام المراۃ فی وجہہا (عورت کا احرام اس کے چہرے میں ہے) صحیح نہیں ہے۔ صحیح یہ ہے کہ پردہ اگر عورت کے چہرے سے چھوجائے تو کوئی حرج نہیں ہے نہ ہی اس پر کوئی فدیہ ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ چہرے کو ڈھانپنا مطلق ممنوع نہیں ہے۔ جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول سے واضح ہے:
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]کَانَ الرُّکِبَانِ یَمُرُّوْنَ بِنا وَنَحْنُ مَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلِیْہِ وَسَلَّمَ مُحْرِمَاتٌ فَاِذَا حَاذُوْا بِنَا ۔ سَدَلَتْ اِحْدَانَا جِلْبَابَہَا مِنْ عِلٰی رَاسِہَا عَلٰی وَجْہِہَا فَاِذَا جَاوَزُوْنَا کَشَفْنَاہُ ۔ [/font]
    یعنی سواروں کا قافلہ جب گزرتا تھا اور ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ احرام میں ہوتی تھیں، پس جب قافلے ہمارے مقابل آجاتے تو ہم میں سے ہر ایک اپنی چادر سر کے اوپر لٹکا لیتی اور جب قافلے ہم سے گزر جاتے تو ہم چہرہ کھول لیتیں۔ اس میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کسی فدیہ کا ذکر نہیں کیا۔ [فتاویٰ برائے خواتین اسلام، ص: ۳۰۴، ۳۰۵]
    دورِ حاضر میں بعض خواتین گھر سے باہر جاتے ہوئے چھوٹے سے نقاب کا استعمال کرتی ہیں لیکن بقیہ جسم پر نہ تو جلباب ہوتی ہے، نہ گائون، نہ برقع وغیرہ۔ کپڑے خاصے پر تکلف ہوتے ہیں۔ جسم پر چھوٹا سا، باریک دوپٹہ ہوتا ہے جو بدن کے سامنے والے حصے کو ڈھانپنے سے بھی قاصر ہوتا ہے۔ لہٰذا نقاب پہننے کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ خاتون اپنے جسم کو کسی بڑی چادر، جلباب، برقع وغیرہ سے پوری طرح ڈھانپ کر باہر نکلے۔[ تفصیل کے لئے دیکھئے راقمہ کا کتابچہ ’’حج میں چہرے کا پردہ‘‘۔]
    یاد رہے کہ صرف نقاب پہننے سے عورت کی شخصیت میں مزید کشش پیدا ہوجاتی ہے۔ جب کہ حجاب کا مقصد گھر سے باہر نکلتے ہوئے یہ ہے کہ عورت کی شخصیت میں لباس کی کشش، جاذبیت اور انفرادیت نظر نہ آئے بلکہ وہ ایک ایسی عام عورت محسوس ہو کہ مردانہ نظریں اس کا تعاقب کرنے کی آرزو اور کوشش نہ کرسکیں۔

    عورت کا احرام ​


    مرد کا احرام اَن سلا اور دو چادروں پر مشتمل ہوتا ہے لیکن عورت کا احرام اس کے وہی کپڑے ہیں جو وہ معمول کے طور پر پہنتی ہے البتہ اس میں مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھا جائے گا:
    … جاذب اور پرکشش نہ ہوں۔
    … ڈیزائن دار، اور زیب وزینت والے نہ ہوں۔
    … تنگ نہ ہوں، مختصر نہ ہوں، کٹے ہوئے فیشن والے نہ ہوں، غرضیکہ پوری طرح ساتر ہوں۔
    … سر پر لی جانے والی چادر یا دوپٹہ کھلا ڈھلا اور لمبا چوڑا ہو تاکہ عورت کے سامنے کے حصے، پیٹھ اور کمر پر پوری طرح پھیل جائے۔
    … عورت موزے اور جرابیں پہن سکتی ہے۔
    … نقاب اور دستانے پہننے کی ممانعت ہے۔
    … عورت اجنبی مردوں کی موجودگی میں چہرے پر اوڑھنی کو لٹکا کر پردہ کرے گی۔

    دورِ حاضر میں حرم میں خواتین خوب سج بن کر آتی ہیں، مختلف فیشنوں کے پُرکشش اور جاذب کپڑے پہنتی ہیں۔ بھنوئیں وغیرہ بناتی ہیں۔ جب کہ اس انداز سے حج کی عبادت ادا کرنا یا حرم میں آنا درست نہیں ہے۔ ایک صاحب حج کرنے گئے تو وہاں عورتوں کی حالت زار دیکھ کر روپڑے اور کہنے لگے ؟’’ہم یہاں اپنا ایمان، نیت اور نظر کی عفت کھونے تو نہیں آئے لیکن جدھر نظر اٹھتی ہے دعوتِ گناہ دینے والے لباس اور حلیے میں ملبوس خواتین نظر آتی ہیں۔ چہرے کا پردہ بھی نہیں کرتیں جب کہ چہرے کا پردہ کرنا ضروری ہے۔ ‘‘

    اللہ تعالیٰ ہماری خواتین کو ہدایت دے اور ستر وحجاب نیز اس لباس کا پابند بنائے جو ربّ کریم کی شریعت میں پسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ آمین !


    عورت کا مرد سے لباس تیار کروانا

    عورت کو اپنا لباس صرف عورت ہی سے تیار کروانا چاہیے۔ اگر عورت دستیاب نہ ہو تو وہ مرد سے اس طرح لباس سلوائے کہ اپنا کوئی سلا ہوا کپڑا بھیج دے وہ اس کے مطابق تیار کردے گا۔ مسلمان عورت کے لیے تنگ لباس پہننا جائز ہی نہیں لہٰذا وہ کھلا اور ڈھیلا ڈھالا ماپ بھیجے گی۔

    دورِ حاضر میں عورتیں درزیوں کے سامنے کھڑے ہو کر، دوپٹہ اتار کر تمام اعضا کا ماپ دیتی ہیں۔ مرد درزی کے ہاتھ اس کے پورے اعضا پر حرکت کرتے ہیں جو بدترین گناہ ہے۔ کیونکہ اسلام میں کسی نامحرم عورت کا کسی نامحرم مرد کے جسم کے کسی بھی حصے کو چھونا حرام ہے۔ رسول اﷲ ﷺ نے تمام عمر کسی نامحرم کے ہاتھ کو ہاتھ نہیں لگایا۔ (دیکھئے صحیح مسلم، کتاب الامارہ) کجا یہ کہ مرد عورت کے کولہے، کندھے، بازو، سینے وغیرہ کا ماپ لے اور چھوئے۔

    آج کی بدتہذیبی کا بھی یہ عجیب مذاق ہے کہ ڈنڈھورا یہ پیٹا جارہا ہے کہ عورت مردوں کے مخصوص تمام کام کرسکتی ہے، وہ ملکی نظام چلا سکتی ہے، جہاز اڑا سکتی ہے، لیکن جب کوئی معمولی سا بھی کام پیش آتا ہے تو عورتیں بھی عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کی طرف بھاگتی ہیں۔ اور کہتی ہیں کہ عورت فلاں کام اچھا نہیں کرسکتی۔ کپڑے سینے کے لیے بھی مرد درزی ہی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ حالانکہ ہمارے معاشرہ میں عورتیں ہی صدیوں سے کپڑے سینے کا کام کرتی آرہی تھیں نیز ان کے لیے آمدنی کا یہ ایک معقول ذریعہ تھا۔

    عورت، عورت کا ماپ لے سکتی ہے، لہٰذا بے پردگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ عورت کے اندرونی کپڑے تو کسی طور پر بھی نہ مردوں سے سلوانا درست ہے نہ خریدنا۔


    ممنوعہ لباس کی سلائی اور فروخت ​


    جو لباس پہننا ممنوع ہے اس کا کاٹنا، سینا، بیچنا، اس پر بٹن لگانا، اس پر کڑھائی کرنا بھی حرام ہے۔ گزشتہ سطور میں یہ تفصیل آچکی ہے کہ ممنوع لباس کون سا ہے۔ آئیے ایک نظر دوبارہ ڈال لیں۔
    … باریک لباس جس سے جسم کی جلد یا ساخت نظر آئے اگر نیچے استر نہ لگایا جائے۔
    … تنگ لباس جس سے اعضا الگ الگ نظر آئیں۔
    … مختصر یعنی آدھے، چوتھائی یا بغیر بازو کی، چھوٹی قمیض یا ٹخنوں سے اوپر شلوار یا تنگ شلوار۔
    … چھوٹے اور باریک دوپٹے
    … جن کپڑوں پر تصویریں، غیر مسلموں کی مذہبی علامات یا انگریزی عبارت ہو۔
    … سوراخ دار یا کٹے ہوئے ڈیزائنوں والے کپڑے۔
    … عورتوں کے لیے مردوں کے مشابہ لباس تیار کرنا جیسے پتلون، پاجامہ، ٹوپی وغیرہ۔

    یاد رہے کہ ان ملبوسات میں کسی قسم کا تعاون گناہ میں تعاون کے مترادف ہے اور حکم ربانی ہے:
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]{وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ} [المائدۃ:۲] [/font]
    ’’نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون مت کرو۔‘‘
    عبداللہ ابن جبرین ایک فتویٰ میں فرماتے ہیں:
    ’’عورت کے لیے ایسا چست لباس پہننا جائز نہیں جس میں اس کے بدن کے جوڑ الگ الگ دکھائی دیں، عورت کے پستانوں، ہڈیوں، سرین، پیٹ یا کندھوں کے نشیب وفراز کا اظہار مردوں کی نگاہِ التفات کا سبب بنتا ہے۔ علاوہ ازیں ایسے ملبوسات بار بار پہننے سے ان کی عادت ہوجاتی ہے اور پھر انہیں ترک کرنا دشوار ہوجاتا ہے۔ ایسا مختصر لباس بھی اس حکم میں شامل ہے جس سے پنڈلیاں یا بازو یا پائوں نظر آئیں۔ چست اور مختصر لباس کو محرم مردوں کے سامنے یا عورتوں کے سامنے پہننا بھی درست نہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ یہی عادت بعد میں بازاروں، محفلوں، تقریبات اور دیگر مواقع پر ایسا لباس پہننے کی جرأت اور حوصلہ دیتی ہے۔‘‘
    ان حقائق کے پیش نظر ایسے ملبوسات کی خرید وفروخت، ان کا سینا، کاٹنا سب ناجائز ہے، ایسا لباس پہننے والا گنہگار ہوگا اور ایسا لباس پہنانے والا برائی اور سرکشی سے تعاون کرنے والوں میں شمار ہوگا۔ [ستر وحجاب اور خواتین … ترجمہ مریم خنساء]



    عورت کے سرپرست کی ذمہ داری

    عورت کے سرپرست مرد، باپ، بھائی، چچا، ماموں، خاوند، بیٹا جو بھی ہو اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی عورتوں کو اگر غیر ساتر باریک، تنگ یا چست لباس پہنے دیکھے تو اسے اس سے منع کرے، کیونکہ مرد عورتوں کے امور کے نگران بنائے گئے ہیں۔ ان خواتین کی بھی یہ ذمہ داری ہے جو گھر میں بڑی ہیں کہ وہ ان خواتین کو سمجھائیں جنہیں اسلامی لباس کا احساس نہیں ہے کیونکہ یہ بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہی کی ایک شکل ہے۔

    عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ’’اپنی بیویوں کو ایسے کپڑے نہ پہنائو جو جسم پر اس طرح چست ہوں کہ جسم کی ہیئت اور ابھار اور اونچ نیچ نمایاں ہوجائے۔‘‘ [المبسوط]

    معلوم ہوا کہ امرائے حکومت کو اس سلسلے میں عوام کو تلقین بھی کرنا چاہیے اور قانون بھی بنانا چاہیے۔ خود عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی بھتیجی حفصہ بنت عبدالرحمن کا باریک دوپٹہ پھاڑ کر اسے موٹا دوپٹہ اوڑھایا۔ [موطا امام مالک بحوالہ مشکوٰۃ المصابیح]

    علماء نے صراحت فرمائی ہے کہ عورت کے ولی پر واجب ہے کہ عورت کو ممنوعہ لباس اور دیگر اشیائے محرمہ سے دور رکھے اور ان سے منع کرے اگر وہ باز نہ آئے تو اس کو سزا وتنبیہہ اور مار پیٹ یا دوسرے ذریعہ سے منع کیا جائے۔ حدیث میں ہے [font="_pdms_saleem_quranfont"]کُلُّکُمْ رَاعٍ وُمَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ۔ [/font]’’تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور اس سے اس کے ماتحتوں کے بارے سوال ہوگا۔‘‘
    [فتاویٰ برائے خواتین اسلام، ص: ۶۲۴]


    نسوانی جوتے

    جوتا پائوں کو زمین کی گرمی، سردی اور جلد کو تکلیف دینے والی چیزوں سے بچانے کا واحد ذریعہ ہے۔ نیز جوتا پہن کر چلنے سے پائوں گندگی سے محفوظ رہتے ہیں۔
    چونکہ اب جوتے ضرورت کی بجائے شخصیت میں دل کشی، وقار اور جاذبیت پیدا کرنے کے لیے بنائے اور پہنے جاتے ہیں اس لیے بعض اتنے نازک ہوتے ہیں کہ پائوں کے ساتھ لگتے ہی پیچ ڈھیلے چھوڑ دیتے ہیں۔
    اللہ تعالیٰ نے خواتین کو زینت کی چیزیں چھپانے کا حکم دیتے ہوئے تاکید کی کہ وہ جاہلیت ِاولیٰ کی طرح اپنی سج دھج نہ دکھاتی پھریں۔ نیز زمین پر پائوں مار کر اس طرح نہ چلیں کہ چھپی ہوئی زینت ظاہر ہوجائے۔
    ارشاد ہے:
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]{وَلَا يَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِہِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِيْنَ مِنْ زِيْنَتِہِنَّ}[/font]
    ’’اور اس طرح زور زور سے پائوں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت ظاہر ہوجائے۔‘‘ [النور:۳۱]
    اس دور میں جوتا بذاتِ خود زینت نہیں ہوتا تھا لیکن اب ہر جوتا پہننے والا اپنی نیت کو بخوبی جانتا ہے کہ اس کا مقصد صرف پائوں کو زمین کے مضر اثرات سے بچانا ہے یا ’’ذرا اچھے لگتے ہیں‘‘ … ’’بہت خوب صورت لگیں گے‘‘ … اس ’’سوٹ کے ساتھ یہ جوتا بہت سجے گا‘‘ … کا مطمحِ نظر۔
    عقل ِبہانہ جو کہہ سکتی ہے کہ جوتا زینت والا ہو یا بغیر زینت کے۔ اللہ نے اسے چھپانے کی پابندی نہیں لگائی وہ {اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا } سوائے اس کے جو خود ظاہر ہوجائے میں شامل ہے۔ تو پھر آپ کون ہوتے ہیں، چمکتے، دمکتے، ہیروں موتیوں سے جڑے، گوٹے طلے سے منقش، پرکشش رنگوں اور ڈیزائوں والے جوتے پہننے سے روکنے والے؟

    سوال یہ ہے کہ اگر جوتا پہن کر پائوں مزید خوب صورت لگیں، چال میں تفاخر آجائے، شخصیت کی کشش میں اضافہ ہوجائے۔ نگاہیں خود بخود جوتے کی خوب صورتی پر جم کر … جوتا پہننے والی کا چہرہ دیکھنے کی خواہش کرنے لگیں تو پھر…

    اونچی ایڑی کے جوتے
    اونچی ایڑی کے جوتے دورِ حاضر کا ایک عام رواج ہے۔ جس نے بہت سے چھوٹے قد والوں کے احساس ِکم تری کو تسکین کا سامان مہیا کردیا ہے۔ اونچے جوتوں کے بل پر تین چار انچ تک بآسانی اپنے قد کو دیکھنے والوں کی نظر میں طویل کیا جاسکتا ہے۔ دورِ قدیم کی جاہلیت اور دورِ حاضر کی روشن خیالی میں یوں بھی چولی دامن کا ساتھ ہے، جس کا منہ بولتا ثبوت رسولِ صادق ومصدوق ﷺ کی مندرجہ ذیل حدیث ہے، آپ ﷺ نے فرمایا:
    بنی اسرائیل میں ایک پستہ قد عورت تھی جو دو طویل قامت عورتوں کے ساتھ چلا کرتی تھی۔ اس نے دو لکڑی کے جوتے پہن لیے اور ایک سونے کی خول دار انگوٹھی بنائی جو بند ہوتی تھی۔ اس نے اس میں کستوری بھر دی جو کہ بڑی عمدہ خوش بو تھی۔ پھر وہ دو عورتوں کے درمیان چلی تو لوگوں نے اسے نہ پہچانا۔ اس نے اپنے ہاتھ سے یوں اشارہ کیا … امام شعبہ جو اس حدیث کے راوی ہیں، انہوں نے اپنے ہاتھ جھاڑ کر اس عورت کے اشارے کے بارے میں بتایا …

    مسند ابی یعلٰی میں یہ بھی ہے کہ وہ عورت جب مردوں کی مجلس کے پاس سے گزرتی تو اپنی انگوٹھی کا خول کھولتی تو خوش بو مہک جاتی۔ [صحیح مسلم، کتاب الالفاظ من الادب وغیرہ مع شرح نووی۔ مسند ابو یعلٰی ۱۲۱۳۔ مسند احمد: ۳/ ۳۶۰۴۰]
    مذکورہ عورت کی شر انگیزی یا دل لگی کا گہری نظر سے مطالعہ کیجیے۔ وہ پستہ قد تھی وہ خود کو لمبا دیکھنا یا دکھانا چاہتی تھی، لہٰذا لکڑی کے اونچے جوتے بنوائے۔ شاید یہ اسی عورت کی ایجاد ہو کیونکہ اکثر فیشنوں کی موجد عورتیں ہی ہیں۔ لمبے قد کی عورتوں کے درمیان چل کر اس نے اپنے نفس کو یہ فریب دیا کہ میں طویل قامت ہوگئی ہوں۔ لوگ پہچان ہی نہ پائے کہ یہ وہی پستہ قد عورت ہے۔ مردوں کی مجالس کے قریب سے گزرتی تو خوشبو بکھیرتی تاکہ مرد اس کی طرف متوجہ ہوں۔

    رسول اللہ ﷺ نے خود ہر قسم کی بے حیائی سے منع فرمایا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے یہ واقعہ کیوں سنایا؟ یقینا ہم مسلمان عورتوں کو خبردار کرنے کے لیے۔ مذکورہ حدیث سے چند باتیں پہلی نظر ہی میں واضح ہوجاتی ہیں:
    … عورت کا ایسے طور طریقے اختیار کرنا جن سے اس کی شخصیت غیر مردوں کے لیے دل کشی کا باعث بنے، ناپسندیدہ ہے۔
    … اونچی ایڑی کا یا اونچا جوتا پہن کر خود کو طویل قامت ثابت کرنا ناپسندیدہ ہے۔
    … بے حیائی کا ایک فیشن اور بہت سے بے حیائی کے فیشنوں کا پیش خیمہ بنتا ہے۔
    … عورت کا خوش بو لگا کر باہر نکلنا ممنوع ہے۔
    … اونچی ایڑی یا اونچا جوتا پہننا دوسروں کو دھوکا دینا ہے اور اسلام دھوکا دینے کو منافق کی علامت قرار دیتا ہے۔ اسی لیے سفید بالوں کوکالے رنگ سے رنگنا بھی ممنوع ہے۔
    … اونچی ایڑی کا یا اونچا جوتا پہننے والے میں فخر وغرور پیدا ہوجاتا ہے۔
    … اونچے جوتے سے چال میں تفاخر آجاتا ہے جب کہ حکم یہ ہے کہ
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]{وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا } [لقمان:۱۸] [/font]

    ’’زمین پر اترا کر مت چلو۔‘‘
    رسول اللہ ﷺ نے اونچی ایڑی والے جوتے کو بنی اسرائیل کی ایک فاحشہ عورت کا کام بتایا ۔اس کی تائید آج کے معاشرے کے وہ دانش ور بھی کرتے ہیں جو وحی کے نور سے بے بہرہ ہیں۔ چنانچہ ایک برطانوی جریدے کی رپورٹ کے مطابق اونچی ایڑی والا جوتا پہننے سے عورتوں میں جنسی کشش پیدا ہوجاتی ہے۔
    [نوائے وقت، مارچ ۱۹۹۵ء]

    سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن باز نے بھی اونچی ایڑی کو اسلامی آدابِ لباس کے منافی قرار دیا ہے۔ نوائے وقت اخبار لکھتا ہے:
    ’’سعودی عرب میں مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز ابن باز نے عورتوں کے لیے اونچی ایڑی کے جوتے پہننے پر پابندی لگا دی ہے اور اسے غیر قانونی قرار دیا ہے۔ سعودی عرب کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عورتیں اپنے آپ کو بڑے قد کا دکھانے کے لیے یہ جوتے استعمال کرتی ہیں۔ سعودی عرب میں اسلامی قوانین کے سبب عورتیں اپنے حسن کی نمائش غیر محرم مردوں کے سامنے نہیں کرسکتیں۔‘‘ [نوائے وقت، ۱۳ مارچ ۱۹۹۶ء]

    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ قیامت کے قریب کچھ عورتیں ایسی ہوں گی جو کپڑے پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی۔ مردوں کو اپنی طرف مائل کرنے والی اور خود مردوں کی طرف مائل ہونے والی۔ ان کے سر بختی اونٹوں کی طرح ہوں گے اور یہ مٹک مٹک کر چلیں گی۔ ایسی عورتیں جنت کی خوش بو تک نہیں پاسکیں گی۔ حالانکہ جنت کی خوش بو پانچ سو سال کی مسافت تک محسوس کی جاسکے گی۔
    [صحیح مسلم، کتاب اللباس]

    رسول اللہ ﷺ نے خواتین کے لیے ایسی چال ناپسندیدہ قرار دی ہے جس میں مٹک مٹک کر چلنے کا عنصر شامل ہوجائے۔ ہر جوتا پہننے والا خود اس بات کو بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ کون سی جوتی سے چال میں یہ چیز پیدا ہوجاتی ہے۔ جوگر، بوٹ، گرگابی، سینڈل، ہوائی چپل، ربڑ کی چپل، کپڑے کی بند جوتی، کھسہ، سینڈل، سلیپر۔ جوتا بدلتے ہی چال بھی بدل جائے گی۔

    آواز پیدا کرنے والے جوتے
    اسلام چاہتا ہے کہ عورت کی ہر چیز اخفا میں رہے۔ جب وہ رستہ چلے تو کسی کو پتا ہی نہ چلے کہ کوئی عورت ادھر سے گزر رہی ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے خوش بو لگا کر باہر نکلنے والی عورت کے بارے فرمایا کہ وہ ایسی ایسی ہے یعنی زانیہ ہے۔ [ترمذی، ابواب الآداب، باب ما جاء فی کراہیۃ خروج المراۃ متعطرہ]
    آج کل اکثر جوتے ایسے ہیں جو چلتے ہوئے آواز پیدا کرتے ہیں۔ تارکول اور اینٹوں کی سٹرکوں پر یہ آواز اتنی نمایاں ہوتی ہے کہ گھوڑے کے سموں کی طرح دور ہی سے سگنل مل جاتا ہے کہ کوئی آرہا ہے۔ سب کی نظریں بے اختیار ادھر اٹھ جاتی ہیں۔ اگر ٹک ٹک کرکے آنے والی صنف نازک ہو اور اس کی طرف اٹھنے والی نظریں نامحرم مردوں کی ہوں تو قصور کس کا؟ ایسا جوتا پہننے والی کا یا آواز سن کر متوجہ ہونے والے کا۔

    ننگے جوتے
    اکثر جوتے ایسے ہوتے ہیں کہ انھیں پہن کر بھی پائوں کا اوپر کا حصہ ننگا رہتا ہے اور اس کی تمام آرائش وغیرہ نظر آتی ہے۔ اگر عورت کا رنگ خوب صورت اور پرکشش ہے یا اس کے پائوں کی قدرتی ساخت خوب صورت ہے یا اس نے پائوں میں مہندی وغیرہ لگا رکھی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ گھر سے باہر نکلتے ہوئے یا نامحرموں کے سامنے آتے ہوئے ایسا بند جوتا پہنے جس سے تمام آرائش چھپ جائے۔ یا جرابیں پہنے تاکہ پائوں اور آرائش دونوں پر نظر نہ پڑے۔ اگر پائوں پر کوئی آرائش کی چیز نہیں، نہ ہی جلد کی رنگ اور ساخت پرکشش ہے یا پائوں کا بیشتر حصہ بند جوتے کی وجہ سے ڈھکا ہوا ہے یا عورت بوڑھی ہے تو جرابیں نہ بھی ہوں تو کوئی ہرج نہیں۔

    پیروں پر مہندی
    پیروں پر مختلف قسم کے پرکشش ڈیزائن بنا کر مہندی لگانے کا رواج عام ہے۔ نیز نیل پالش یا مہندی پائوں کے ناخنوں پر اس انداز سے لگائی جاتی ہے کہ وہ خوب صورت معلوم ہوں۔ نیل پالش ایک پینٹ ہے اور اس کی موجودگی میں غسل یا وضو ہی نہیں ہوتا۔ رہی مہندی تو عورت کے لیے پائوں میں مہندی لگانے کی اجازت ہے۔ لیکن یاد رہے کہ مہندی عورت کی زینت ہے خصوصاً جب وہ صرف ناخنوں پر لگائی گئی ہو یا مختلف بیل بوٹے وغیرہ بنا کر لگائی گئی ہو۔ اگر مہندی پورے پائوں پر ایک جیسی مل دیں تو اس میں اتنی کشش نہیں ہوتی۔ لہٰذا اگر عورت نے پائوں کے کسی بھی حصے پر مہندی لگا رکھی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ گھر سے باہر نکلتے ہوئے یا نامحرم مردوں کے سامنے آتے ہوئے اپنے پائوں کو جراب وغیرہ سے مکمل طور پر ڈھکے تاکہ مہندی کی آرائش ظاہر نہ ہو۔

    جرابیں کیسی ہوں؟
    جو جرابیں جلد کے رنگ کے مشابہہ ہوں وہ پائوں کو مزید خوب صورت بناتی اور دکھاتی ہیں۔ دیکھنے والے کو اس دھوکے میں مبتلا کرتی ہیں کہ یہ جلد ہی کا رنگ ہے لہٰذا جلد کی رنگت والی جرابیں پہننے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔ اور وہ جرابیں پہننی چاہئیں جو جلد کے رنگ سے مختلف ہوں۔ کیوں کہ مقصد پائوں کی زینت چھپانا ہے نہ کہ بڑھانا۔

    جوتے، فیشن اور اسراف
    فیشن سے مراد یہ ہے کہ نمائش اور آرائش کے نقطہ نظر سے جس چیز کا عام چلن ہوجائے۔ بہتر اور ساتر جوتوں کی موجودگی میں نئے جوتے خریدنا یا اپنے سوٹوں کے ساتھ میچ کرنے والے رنگوں کے جوتے بغیر ضرورت خریدنا فیشن اور اسراف ہی کے زمرے میں آتا ہے۔ جب کہ اسلام سادگی اور کفایت شعاری کی تلقین کرتا ہے۔ لہٰذا جوتا خریدتے ہوئے حقیقی ضرورت کو مدنظر رکھنا چاہیے نہ کہ فیشن کو۔

    مردانہ جوتے زنانہ پائوں
    ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ابن ابی ملیکہ نے پوچھا ’’کیا عورتیں مردانہ ساخت کے جوتے پہن سکتی ہیں؟‘‘ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: ’’رسول اللہ ﷺ نے مردوں کی عادات پر اور لباس میں مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے۔‘‘ [سنن ابی داؤد، کتاب اللباس، باب فی لباس النساء، ح: ۴۰۹۷]

    لہٰذا عورت کو جوتا پہنتے ہوئے یہ غور کرلینا چاہیے کہ کہیں وہ مردانہ ساخت کا جوتا تو نہیں پہن رہی؟
    حاصل یہ کہ
    … ایک باحیا عورت کو ایسا جوتا پہننا چاہیے جو چلتے ہوئے آواز پیدا نہ کرے۔ نہ ہی وہ اتنا سج دھج اور چمک دمک گوٹے طلے والا ہونا چاہیے کہ وہ خود زینت بن جائے، جب کہ جوتا لباس ہی کی ایک قسم ہے۔ جب کہ عورت کو زینت چھپانے کا حکم ہے نہ کہ ظاہر کرنے کا۔ بغیر ضرورت صرف بدلتے فیشنوں کا ساتھ دینے کے لیے جوتے خریدتے جانا اسراف ہے۔
    … جوتے کی ساخت ایسی ہونا چاہیے کہ چال میں اکڑ اور غرور پیدا نہ ہو بلکہ عاجزی پیدا ہو۔
    … بعض چپلیں بھی ایسی ہوتی ہیں کہ چلتے ہوئے ٹپ ٹپ کی آواز پیدا کرتی ہیں۔ ایسی چپلیں پہن کر عورت کو غیر محرم مردوں کے سامنے سے نہیں گزرنا چاہیے۔
    … اونچی ایڑی کا جوتا چال میں تفاخر بھی پیدا کرتا ہے، قد کو طویل دکھاتا ہے نیز یہ بنی اسرائیل کی ایک بے حیا عورت کا فیشن ہے۔ لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
    … اللہ تعالیٰ نے حیا والی چال کا عورت کی صفت کے حوالے سے خصوصی ذکر کیا، فرمایا:
    ’’ان میں سے ایک شرم وحیا سے چلتی ہوئی آئی۔‘‘ [القصص: ۲۵]
    … اگر خوب صورت اور سج دھج والے جوتے پہننے کا شوق ہے یا کسی عورت کے شوہر کی خواہش ہے تو اسے چاہیے کہ وہ ایسے خوب صورت، چمکتے دمکتے جوتے صرف شوہر کی موجودگی میں پہنے، یا پھر عورتوں کی موجودگی میں پہنے، نا محرم مردوں کے سامنے پہننے سے بہرحال اجتناب کرے۔

    [font="_pdms_saleem_quranfont"]وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللّٰہِ [/font]​







    اسلامی معاشرت کے اہم انفرادی پہلو

    ٭ انسان کا مقصدِ حیات اللہ کی عبادت واطاعت ہے ۔ لہذا ہر لمحے اس کی عبادت واطاعت کے تقاضے … اطاعتِ رسول ﷺ کی حدود میں رہ کر کرنا ۔
    ٭ خاتم النبین ﷺ کی اطاعت اور محبت کو ہر شعبہ زندگی میں ملحوظ رکھنا ۔
    ٭ اولاد کو اللہ کی خاص نعمت سمجھ کر…اسلامی اقدار وآداب کے تحت اس کی پرورش کرنا ۔
    ٭ بلوغ کی عمر کو پہنچتے ہی فورًا نکاح کا اہتمام کرنا ۔
    ٭ انتخابِ زوج کی تلاش میں تقویٰ کو ترجیح دینا ۔
    ٭ طویل منگنی کے بجائے نکاح اور رخصتی کرنا ۔
    ٭ اشیائے ضرورت میں نبوی معیار کو نمونہ بنانا…زائد ملے تو اللہ تعالیٰ کی حدود میں رہ کر خرچ کرنا ۔
    ٭ اللہ تعالیٰ کے حکم استیذان پر عمل کرنا ۔
    ٭ ستروحجاب …اورغضِ بصر کی پا بندی کرنا۔
    ٭ حقوق لینے کے بجائے دوسروں کے حقوق ادا کرنے میں کو شاں رہنا ۔
    ٭ مرد کا منصبِ قوام کے تقاضے …کفالت بہ کسبِ حلال … حفاظتِ اوامرونواہی …اور امارت وخلافت کا علم حاصل کرنا … اور ممکنہ حد تک اسے برؤے کار لانا…
    ٭ خواتین کا احترام اور وقار برقرار رکھنا ۔
    ٭ عورت کا گھر میں ٹک کر اطاعتِ قوام (شریعت کی حدود میں رہ کر ) کرنا اور نگرانی اطفال کی ذمہ داریاں نبھانا ۔
    ٭ دنیا کی دیگر اقوام کی مسرفانہ زندگی اور تعیش کے بجائے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طرزِ حیات کی پیروی کرنا ۔
    ٭ رفاہِ دنیا کے بجائے فلاح آخرت میں ڈوبے رہنا ۔


    ٭٭٭



    ماخذ
    قرآن الکریم
    صحیح بخاری
    صحیح مسلم
    سنن ابی داؤد تشریح مولٰنا صلاح الدین یوسف
    جامع ترمذی
    مشکوٰۃ المصابیح شرح مولانا اسماعیل سلفی
    مشکوٰۃ المصابیح ترجمہ و تشریح مولانا صادق خلیل مطبوعہ مکتبہ محمدیہ
    ریاض الصالحین ترجمہ صلاح الدین یوسف
    فتاویٰ برائے خواتین اسلام، مکتبۃ السلفیہ
    فقہ النساء محمد عطیہ خمیس اردو ترجمہ
    المراۃ المسلمہ از ابوبکر الجزائری ترجمہ اردو خاتونِ اسلام
    اسلام میں عورت کا مقام، ڈاکٹر اسرار احمد
    اصلاح خواتین افادات مولانا اشرف علی تھانوی، مکتبہ رحمانیہ
    عورت اور اسلام از مفتی سعید احمد
    احکام الجنائز للالبانی
    پردہ، الحاج ابراہیم یوسف باوا
    ستر وحجاب اور خواتین، ترجمہ مریم خنساء
    الاعتصام ہفت روزہ، لاہور
    نوائے وقت (روزنامہ)
    [/font][/SIZE][/COLOR][/FONT]
     
  4. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,848
    میں نے کوشش کی تھی کہ ایک ہی پوسٹ میں تمام کتاب اپ لوڈ ہو جائے لیکن کیا کریں لگتا ہے یہ کام بھی ہمارے محسنوں کو ہی کرنا پڑے گا تاکہ آصف کی پوسٹیں کم ہو جائیں۔
     
  5. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    آصف بھائی جان ڈانٹ وری آپ کی پوسٹس کوئی کم نہیں‌کرتا اور نہ ہی کوئی کرے گا۔ ایک پوسٹس میں دس ہزار سے زائد الفاظ نہیں لکھے جا سکتے ہیں۔ لہذا آپ پریشان نہ ہوا کریں جی۔ آپ بہت محنتی انسان ہیں آپ کی محنت رائیگاں نہیں‌جائے گی باقی آپ کی محنت کا صلہ آپ کو آپ کا پروردگار ہی گے گا
    بی ہیپییییییی
     
  6. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,318
    آصف بھائی جان

    پوسٹیں کم یا زیادہ ہونے سے کچھ نہیں ہوتا

    آپ کوانٹیٹی کی بجائے کوالیٹی کو ملحوظ خاطر رکھیں

    ما شا ء اللہ یہ ایک بہترین پوسٹ ہے
    اللہ آپ کو اس کا بیترین اجر دے
    آمین

    ایک بات ذہن میں رکھیں


    [font="al_mushaf"]يَا قَوْمِ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى الَّذِي فَطَرَنِي أَفَلَا تَعْقِلُونَ ﴿هود: ٥١﴾
    [/font]



    ایویں ٹینشن نہ لیا کریں آپ کو ٹینشن میں دیکھ کر ہم بھی پریشان ہو جاتے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. ام احمد

    ام احمد محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 7, 2008
    پیغامات:
    1,333
    جزاک اللہ خیرا
     
  8. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,848
    تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ
    وہ ادب گہ محبت ، وہ نگہ کا تازیانہ

    یہ بتان عصر حاضر کہ بنے ہیں مدرسے میں
    نہ ادائے کافرانہ ، نہ تراش آزرانہ

    نہیں اس کھلی فضا میں کوئی گوشۂ فراغت
    یہ جہاں عجب جہاں ہے ، نہ قفس نہ آشیانہ

    رگ تاک منتظر ہے تری بارش کرم کی
    کہ عجم کے مے کدوں میں نہ رہی مے مغانہ

    مرے ہم صفیر اسے بھی اثر بہار سمجھے
    انھیں کیا خبر کہ کیا ہے یہ نوائے عاشقانہ

    مرے خاک و خوں سے تونے یہ جہاں کیا ہے پیدا
    صلہ شہید کیا ہے ، تب و تاب جاودانہ

    تری بندہ پروری سے مرے دن گزر رہے ہیں
    نہ گلہ ہے دوستوں کا ، نہ شکایت زمانہ
     
  9. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,848
    بہت بہت شکریہ یحیی بھائی!

    پوسٹوں کے الفاظ کم نہیں ہوتے الا یہ کہ سرکردہ لوگ انہیں کانٹ چھانٹ کر دیں۔

    دراصل پوسٹوں کی تعداد کم کی جاتی ہے۔ اور دوسری بات

    پوسٹیں دوسرے زمرے میں‌ شفٹ کر کے مزید کام میں میرے لئے رکاوٹ ڈالی جاتی ہے۔

    میں نے بارہا عرض کیا ہے کہ موضوع مکمل ہونے دیا کریں پھر جہاں چاہیں شفٹ کریں لیکن اس پر کوئی کان ہی نہیں دھرتا۔

    انا للہ و انا الیہ راجعون
     
  10. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    متفق
     
  11. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    آمین یا رب العالمین
     
  12. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    جزاکم اللہ خیرا و احسن الجزاء یا شیخ آصف
     
  13. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,848
    اب میرا آج کا جتنا کام تھا وہ پوسٹ کر کے نہیں دیکھ سکتا کیونکہ اس زمرے میں‌ مجھ پر پابندی ہے کہ جب تک کوئی اور دوسرا نہیں‌ دیکھ لیتا اُس وقت تک یہ پوسٹ میرے سامنے بھی نہیں‌ آئے گی حالانکہ میرے علاوہ وہ مضمون کسی اور کے پاس نہیں۔ اور نہ ہی وہ کتاب کسی کے پاس ہے کہ کوئی اس کی "پروف ریڈنگ" کر کے پھر ظاہر کرے۔
     
  14. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    آصف بھائی یہ صرف آپ کے ساتھ نہیں‌ ہے بھائی بلکہ مجلس کے ہر رُکن کے ساتھ ہے یہاں تک کہ اگر میں بھی کوئی تھریڈ متعلقہ زمرے میں لکھوں گا جو کہ موڈریٹر کی منظوری کے بعد نظر آئے گا تو بھائی میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہو گا۔ ایک رول ہے جسے یہاں سب اراکین فالو کرتے ہیں۔

    آپ کی بات شداد بھائی تک دوبارہ پہنچا دی جائے گی ان شاءاللہ جلد کوئی حل نکالتے ہیں۔

    اور یہ بات بلکل نہیں ہے کہ صرف آپ کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے۔ ماشاءاللہ آپ کے مواد سینڈ کرنے کی سپیڈ بہت تیز ہے اس لیے فورا ہر چیز کو پروف ریڈ نہیں‌کیا جاتا۔ کیونکہ کئی بار وقت کی کمی ہو جاتی ہے اور کئی بار مصروفیت ان شاءاللہ آپ کا مسئلہ جلد حل کر دیا جائے گا۔

    تب تک کے لیے پلیز آپ کوم مائنڈ رہیں ان شاءاللہ اُمید کرتا ہوں کہ آپ سمجھ گئے ہوں گے اور پریشان مت ہوں ورنہ مجھے بھی نعیم بھائی اور عبدالرحمن بھائی کے الفاظ چوری کر کے یہاں لکھنے پڑیں گے ہاہاہاہا
     
  15. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    السلام علیکم

    ویسے مواد کی کیپاسیٹی سے ہٹکر اسکی افادیت کے لحاظ سے مواد بہت ہی مفید ہے، اور خاص طور پر ڈریس کوڈ کا جو معاملہ ہے میں‌سمجھتا ہوں‌کہ جسطرح‌باطنی طور پر نیت کی پاکیزگی اور روحانی غذا کی بات ہے، اسی طرح ، ظاہری طور پر لباس اگر مکمل نہ ہو تب دینداری کی باتیں‌محض خام خیالی ہے، میں تو ڈریس کوڈ کو 6 ماہ کے بچے سے لیر گور تک سبھی اصناف کے لئے ضروری سمجھتا ہوں‌جیسا بھی بتائی گئیں، حدود ہیں، ورنہ ہم اپنے لئے مغربی انداز کے ڈریس اور کھلے سراپوں‌کے ساتھ دینداری کی باتیں‌یا گھرانے ہیں‌کہنا، سراسر منافقت ہے۔۔۔۔!!! اور اکثریت اس سے تعبیر ہے۔۔۔!!!
     
  16. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ:۔
    متفق
     
  17. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,848
    شکریہ ساجد بھائی۔ ابو مصعب بھائی۔ نعیم یونس بھائی۔ عبدالرحمن یحیی بھائی۔ آپ سب کی باتیں میرے لئے ثابت قدمی کا باعث ہوں‌ گی ان شاء اللہ۔

    اللہ تعالی آپ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

    اور آپ جتنی محنت کرتے ہیں اللہ اپنی رحمت سے قبول و منظور فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔
     
  18. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,318

    اللہ مالک ہم سب کی ٹوٹی پھوٹی محنت قبول فرمائے

    اور اُس کے بدلے میں ہمیں جنت میں اکٹھا کرے

    اُس جنت میں کہ جس کی چھت رحمن کا عرش ہے

    [font="al_mushaf"]اللھم آمین

    وما ذٰلك علی اللہ بعزیز [/font]
     
  19. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,848
    آمین یا رب العالمین۔ یا ارحم الراحمین[/FONT]
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں