خوش اخلاق انسان - اللہ تعالی کے پسندیدہ لوگ

نعیم یونس نے 'نقطۂ نظر' میں ‏اگست 31, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    اللہ تعالی کے پسندیدہ لوگ


    (۱۳)…خوش اخلاق انسان:

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    [FONT="Al_Mushaf"](( أَحَبُّ عِبَادِ اللّٰہِ إِلَی اللّٰہِ أَحْسَنُھُمْ خُلُقًا۔ ))
    صحیح الجامع الصغیر، رقم: ۱۷۷۔[/FONT]

    ’’ اللہ تعالیٰ کے ہاں بندوں میں سب سے زیادہ محبوب بندہ وہ ہے جس کا (دوسروں کی نسبت) اخلاق اچھا ہے۔ ‘‘
    تشریح…: لفظ خُلُق اور خَلْق یکساں استعمال ہوتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ فلاں اچھے خُلُق اور خَلْق والا ہے یعنی باطنی اور ظاہری اعتبار سے اچھا ہے۔ لفظ خَلْق سے ظاہری صورت اور خُلُق سے باطنی صورت مراد ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان دو چیزوں سے مرکب ہے ایک جسم جو کہ بصارت سے دیکھا جاتا ہے اور دوسری چیز روح اور نفس ہے جس کا ادراک بصیرت سے ہوتا ہے اور یہ دونوں چیزیں دو طرح کی شکلیں رکھتی ہیں۔ ایک قبیح اور دوسری اچھی۔ چنانچہ جو ہیئت نفس میں راسخ ہو، اُسے خُلُق سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس ہیئت سے بغیر غوروفکر کے آسانی اور سہولت کے ساتھ افعال سرزد ہوتے ہیں۔ اگر اس ہیئت سے عقلی اور شرعی لحاظ سے عمدہ اور اچھے افعال سرزد ہوں تو اسے اچھا خُلُق کہتے ہیں اور اگر قبیح افعال صادر ہوں تو اس کا نام برا خُلُق رکھتے ہیں۔
    اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں کہ انسان اسی وقت حسن خلق سے موصوف ہوگا جب یہ اس کے نفس میں راسخ ہوگا اور بغیر دیکھے بھالے آسانی کے ساتھ اس سے افعال صادر ہوں لیکن اگر تکلف، مشقت اور غوروفکر کی وجہ سے افعال سرزد ہوں، تو اسے حسن خلق نہیں کہتے۔ مثلاً ایک آدمی کو کسی حاجت کی وجہ سے مجبوراً مال خرچ کرنا پڑا یا غصے کے وقت بڑی مشقت کرکے اسے کنٹرول کیا تو اسے یہ نہیں کہا جائے گا کہ بلحاظِ خلق وہ بڑا سخی اور بردبار ہے۔
    ظاہری خلقت کو بدلنا ممکن نہیں لیکن اخلاق کو بدلنا ممکن ہے، اسی لیے دین و دعوت، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، وصیتیں، مواعظ اور تادیبات یہ سب کی سب اخلاقی قدروں کے لیے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

    [FONT="Al_Mushaf"]{اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِأَنْفُسِھِمْ o} [الرعد:۱۱][/FONT]
    ’’ بے شک اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان کے نفسوں میں ہے۔ ‘‘
    اس جگہ بدلنے سے مراد برے اخلاق کو اچھے اخلاق کی طرف لے جانا ہے۔
    اچھا اور عمدہ اخلاق انسان نفس کے مجاہدے اور ریاضت کے ذریعہ حاصل کرسکتا ہے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، رب تعالیٰ سے اچھے اخلاق کو عادت بنانے اور اس کی طرف رہنمائی کی دعا مانگا کرتے تھے دعا کے الفاظ و معانی درج ذیل ہیں:

    [FONT="Al_Mushaf"](( أَللّٰھُمَّ اھْدِنِيْ لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا یَھْدِيْ لِأَحْسَنِھَا إِلاَّ أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّيْ سَیِّئَھَا لَا یَصْرِفُ عَنِّيْ سَیِّئَھَا إِلاَّ أَنْتَ۔ ))
    أخرجہ مسلم في کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا، باب: صلاۃ النبي ﷺ ودعاؤہ باللیل، رقم: ۱۸۱۲۔[/FONT]

    ’’ اے اللہ تو مجھے عمدہ اخلاق کی طرف ہدایت دے (کیونکہ) اچھے اخلاق کی طرف صرف تو ہی ہدایت دے سکتا ہے اور مجھ سے اس کی (اخلاق کی) برائی دور کردے (کیونکہ) اس کی برائی صرف تو ہی مجھ سے دور کرسکتا ہے۔ ‘‘
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وصیت بھی کیا کرتے تھے:

    [FONT="Al_Mushaf"](( وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ۔ ))
    صحیح ترمذی، رقم :۱۶۱۸۔[/FONT]


    ’’ کہ لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے معاملہ کرو۔ ‘‘
    اخلاق انسان کے وہ خصائل ہیں جن کے ذریعے وہ کسی سے معاملہ کرتا ہے اور یہ خصائل یا تو محمود ہوں گے یا مذموم۔ محمود اور اچھے خصائل کی اجمالی تعریف یہ ہے کہ غیر کے ساتھ ایسے ہوجانا کہ جہاں اسے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، وہاں اس کی بجائے خود نقصان برداشت کرلینا۔ تفصیل حسب ذیل ہے: درگزر کرنا، بردباری، سخاوت، صبر، تکلیف کو برداشت کرنا، شفقت کرنا، حاجات کو پورا کرنا، آپس میں محبت اور نرمی کا مظاہرہ کرنا وغیرہ۔
    مذموم اخلاق اس کے برعکس ہیں۔
    نوع انسان میں خُلُق ایک جبلت ہوتی ہے جس کی بناء پر انسانوں کے مختلف درجات بن جاتے ہیں۔ بعض ایسے ہیں کہ ان کی جبلت میں اچھا اخلاق غالب ہوتا ہے اور بعض لوگوں کو عمدہ اخلاق بنانے کے لیے مجاہدے کا حکم ہے۔ چنانچہ اسی طرح اگر عمدہ اخلاق کمزور ہے تو اسے قوی بنانے کے لیے انسان کو ریاضت کرنا پڑے گی۔
     
  2. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    عمدہ اخلاق کے ثمرات…: اچھے اخلاق کے ثمرات ہوتے ہیں جو کہ عمدہ اخلاق پر دلالت کرتے ہیں، مثلاً بعض کے نزدیک چہرہ خوش رکھنا، سخاوت کرنا، کسی کی تنگی دور کرنا اور مشقت برداشت کرنا اچھا اخلاق کہلاتا ہے۔ بعض کا قول ہے کہ چونکہ اس کی اللہ کے متعلق معرفت شدید ہوتی ہے، اس لیے نہ تو اس کے ساتھ کوئی
    جھگڑے اور نہ ہی یہ کسی سے جھگڑے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ لوگوں کے قریب ہونا اور جو اُن کے پاس ہے (یعنی مال) اس سے اجنبی ہونا، عمدہ اخلاق ہے۔ یہ قول بھی ہے کہ مخلوق کو آسانی اور تنگی میں راضی رکھنا۔ اللہ تعالیٰ سے راضی ہونے کو بھی خوش اخلاقی کہا گیا ہے اس کا کم سے کم درجہ حسب ذیل بتایا گیا ہے۔
    برداشت کرنا اور بدلہ نہ لینا، ظالم پر شفقت اور رحم کرنا اور اس کے لیے استغفار کرنا۔ بعض کے نزدیک یہ ہے کہ رزق میں حق تعالیٰ پر تہمت نہ لگانا اور اسی پر توکل رکھنا اور جس چیز کا ضامن ہے، اسے پورا کرنا، اللہ تعالیٰ اور اس کے درمیان، نیز اس کے اور دیگر انسانوں کے درمیان، جو امور ہیں ان سب میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنا اور اس کی نافرمانی نہ کرنا۔ بعض اچھے اخلاق کو تین خصلتوں میں بیان کرتے ہیں۔ (۱) حرام اشیاء سے اجتناب، (۲) حلال کی طلب، (۳) اہل و عیال پر فراخی کرنا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حق کے مطالعہ کے بعد مخلوق کی زیادتی اس پر اثر انداز نہ ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ فکر صرف اور صرف اللہ کی ہو۔ بعض لوگوں نے عمدہ اخلاق کی علامات کو اس طرح جمع کیا ہے۔ (۱) آدمی کثیر الحیاء ہو، (۲) کسی کو بہت قلیل تنگی پہنچائے، (۳) بہت اصلاح کرنے والا ہو، (۴) سچی زبان والا ہو، (۵) قلیل الکلام، (۶) کثیر العمل، (۷) کم لغزشوں والا، (۸) غیر متعلقہ باتوں میں نہ پڑنے والا ہو، (۹) نیکی کرنے والا، (۱۰) میل ملاپ رکھنے والا، (۱۱) باوقار، (۱۲) بہت شکر کرنے والا، (۱۳) حلیم الطبع، (۱۴) پاک دامن اور شفقت کرنے والا ہو، (۱۵) بہت لعنت کرنے والا نہ ہو، (۱۶) گالی بکنے والا نہ ہو، (۱۷) چغل خور نہ ہو، (۱۸) غیبت کرنے والا نہ ہو، (۱۹) جلد باز نہ ہو، (۲۰) کینہ اور حسد رکھنے والا نہ ہو، (۲۱) بخیل بھی نہ ہو، (۲۲) ہشاش بشاش ہو اور (۲۳) اللہ کے لیے ہی کسی سے بغض اور محبت رکھنے والا ہو۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    [font="al_mushaf"](( مَا مِنْ شَيْئٍ یُوْضَعُ فِيْ الْمِیْزَانِ أَثْقَلَ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ، وَإِنَّ صَاحِبَ حُسْنِ الْخُلُقِ لَیَبْلُغُ بِہِ دَرَجَۃَ صَاحِبِ الصَّوْمِ وَالصَّلَاۃِ۔ ))
    صحیح سنن الترمذي، رقم: ۱۶۲۹۔[/font]

    ’’ قیامت کے روز ایماندار کے ترازو میں اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی شے نہیں ہوگی، اچھے اخلاق والا اپنے اخلاق کی وجہ سے روزے دار اور نمازی کے درجے کو پہنچ جاتا ہے۔ ‘‘
    دوسری حدیث میں فرمایا کہ:
    [font="al_mushaf"]وَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ: (( إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَیُدْرِکُ بِحُسْنِ خُلُقِہِ دَرَجَۃَ الصَّائِمِ اَلْقَائِمِ۔ ))
    صحیح سنن أبي داود، رقم: ۴۰۱۳۔
    [/font]

    ’’ ایماندار اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے قیام کرنے والے، روزے دار کے درجے کو پہنچ جاتا ہے۔ ‘‘
    روزے دار اور رات کو قیام کرنے والے کے ساتھ مشابہت اس طرح سے ہے کہ یہ دونوں اپنے نفسوں سے جنگ کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کی مختلف طبیعتوں کے باوجود جو انسان ان سے اچھے اخلاق کا برتاؤ کرتا ہے، وہ بھی کئی نفوس سے جنگ کرتا ہے۔ چنانچہ روزے دار اور رات کو قیام کرنے والے کو جو انعامات ملتے ہیں، اس کو بھی مل جاتے ہیں بلکہ بعض اوقات یہ ان دونوں سے بڑھ جاتا ہے۔
    [font="al_mushaf"]احیاء العلوم الدین للغزالی، ص: ۵۲۔ ۷۰ ؍ ۳۔ فتح الباری، ص: ۴۵۶، ۴۵۹ ؍ ۱۰۔ عون المعبود، ص: ۱۰۷، ۱۳۔[/font]
     
  3. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    تین خصلتوں والا انسان:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    [FONT="Al_Mushaf"](( إِنْ أَحْبَبْتُمْ أَنْ یُحِبَّکُمُ اللّٰہُ تَعَالیٰ وَرَسُوْلُہُ فَأَدُّوْا إِذَا ائْتُمِنْتُمْ، وَاصْدُقُوْا إِذَا حَدَّثْتُمْ، وَأَحْسِنُوْا جَوَارَ مَنْ جَاوَرَکُمْ۔ ))
    صحیح الجامع الصغیر، رقم: ۱۴۲۲۔[/FONT]

    "اگر تم پسند کرتے ہو کہ تم سے اللہ اور اس کا رسول محبت کرے تو جب تمہیں امین بنایا جائے تو (امانت) ادا کرو اور جب بات کرو تو سچی کرو اور اپنے پڑوسیوں سے اچھا سلوک کرو۔ ‘‘
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا

    :[FONT="Al_Mushaf"](( أَرْبَعٌ إِذَا کُنَّ فِیْکَ فَـلَا عَلَیْکَ مَا فَاتَکَ مِنَ الدُّنْیَا، صِدْقُ الْحَدِیْثِ، وَحِفْظُ الْأَمَانَۃِ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ، وَعِفَّۃُ مُطْعَمٍ۔ ))
    صحیح الجامع الصغیر، رقم: ۸۸۶۔[/FONT]

    ’ جب تم میں چار اشیاء ہوں گی، تو دنیا کی کوئی چیز اگر فوت بھی ہوجائے، تب بھی تجھے کوئی پروا نہیں ہونی چاہیے۔ (۱)… سچی بات، (۲)… امانت کی حفاظت، (۳)… اچھا اخلاق اور (۴)… کھانے کی پاکیزگی۔ ‘‘
    شرح…: امانت کی ادائیگی: اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آدمی کو امین بنایا گیا ہے (مُؤْتَمَنْ) وہ امانت دینے والے (مُؤْتَمِنْ) کی چیز واپس کرے۔ ادائے امانت خیانت کی ضد ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت ادا کرنے اور خیانت نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

    ’’ بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچاؤ۔ ‘‘ [FONT="Al_Mushaf"]
    عَنْ یُوْسَفَ بْنِ مَاھَکَ الْمَکِّیِّ، قَالَ: کُنْتُ أَکْتُبُ لِفَلَانٍ نَفَقَۃَ اَیْتَامٍ کَانَ وَلِیَّھُمْ فَغَالَطُوْہُ بِأَلْفَ دِرْھَمٍ، فَأَدَّاھَا اِلَیْھِمْ، فَأَدْرَکْتُ لَھُمْ مِنْ مَالِھِمْ مِثْلَیْھَا، قَالَ: قُلْتُ: أَقْبِضُ الْاَلْفَ الَّذِيْ ذَھَبُوْا بِہ مِنْکَ؟ قَالَ: لَا۔ حَدَّثَنِيْ إِلَیَّ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ یَقُوْلُ: (( أَدِّ الْأَمَانَۃَ إِلیٰ مَنِ ائْتَمَنَکَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَکَ۔ ))
    صحیح سنن أبي داود، رقم: ۳۰۱۸۔[/FONT]

    ’’یوسف بن مالک سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے فلاں شخص کو یتیموں کے خرچہ کے لیے لکھا جو یتیموں کا نگران تھا ، مگرانہوں نے اس سے ایک ہزار درہم کا فراڈ کیا۔ چنانچہ اس نے انہیں ادائیگی کردی۔ پھر میں نے ان کے مال میں سے اس سے دگنا لے لیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اس شخص سے کہا وہ جو آپ سے ایک ہزار (درہم) ناجائز لے گئے ہیں ان پر میں قبضہ نہ کرلوں؟ اس شخص نے کہا :نہیں، پھر اُس نے مجھے ایک حدیث سنائی۔ بے شک اس نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ’’ جو تجھے امین بنائے اسے امانت واپس کر اور جو تجھ سے خیانت کرے تو اس سے خیانت نہ کر۔ ‘‘
    ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نہ تو امیر اور نہ ہی تنگ دست کو امانت روکنے کی رخصت دی ہے۔
    لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امانتوں کے مالک فاجر ہوں یا نیک، انہیں امانتیں واپس کرنا ضروری اور فرض ہے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ امانت میں کسی صورت بھی خیانت جائز نہیں، خواہ اس کا مالک بذات خود امین ہو یا خائن۔
    وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَکَ (اور جو تجھ سے خیانت کرے تو اس سے خیانت نہ کر حدیث کے یہ الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ خائن کے ساتھ اس جیسا معاملہ کرنا جائز نہیں۔
    یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ انسان اگر اپنا حق حاصل نہیں کرسکتا تو اس کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ امانت کو جھگڑنے کے لیے روک لے، بلکہ اسے ہر صورت ادا کرنا پڑے گی۔ قرآن سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ ادائے امانت مومن کی صفات میں شامل ہے۔
    [FONT="Al_Mushaf"]{وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِأَمَانٰتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رَاعُوْنَ o} [المومنون:۸][/FONT]
    ’’ (مومن وہ ہیں) جو اپنی امانتوں اور وعدے کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ ‘‘
    یعنی جو امانت کو ادا کرتے ہیں، وہ نفاق کی علامت سے کوسوں دور ہوتے ہیں جو شریعت میں ان الفاظ سے بیان کی گئی ہے: ((اِذَا ائْتُمِنَ خَانَ)) کہ جب اسے (منافق کو) امین بنایا جائے تو وہ خیانت کرے۔
    [FONT="Al_Mushaf"]بخاری، کتاب الایمان، باب: علامات المنافق، حدیث: ۳۳۔[/FONT]
     
  4. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,849
    جزاک اللہ خیرا و احسن الجزاء

    بہت بہت شکریہ
     
  5. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    معلوم ہوا کہ جس انسان نے خیانت کی اسے امین نہیں کہتے اور جو امین نہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اس کا ایمان نہیں۔ فرمایا:
    [font="al_mushaf"](( لَا إِیْمَانَ لِمَنْ لاَّ أَمَانَۃَ لَہُ وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَا عَھْدَ لَہ۔ ))
    صحیح الجامع الصغیر، رقم: ۷۱۷۹۔[/font]

    ’’ جو امین نہیں اس کا ایمان نہیں اور جسے وعدہ کا پاس نہیں اس کا دین نہیں۔‘‘
    امانت کی ادائیگی عام مفہوم کی حامل ہے اس کے تحت انسان کے ذمہ اللہ کے حقوق مثلاً نماز، روزہ، زکوٰۃ، کفارہ، نذر کو پورا کرنا وغیرہ بھی آجاتا ہے اور حقوق العباد مثلاً راز اور وہ اشیاء جو امانت رکھی گئی ہیں وغیرہ بھی آجاتی ہیں۔ چنانچہ ان کی ادائیگی کا حکم دنیا میں ہی ہے، اگر کوئی یہاں پر ادا نہیں کرے گا تو قیامت کے دن اس سے بدلہ لیا جائے گا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ:
    [font="al_mushaf"](( لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوْقَ إِلیٰ أَھْلِھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی یُقَادَ لِلشَّاۃِ الْجَلْجَآئِ مِنَ الشَّاۃِ الْقُرَنَآئِ۔ ))
    أخرجہ مسلم في کتاب البر، باب: تحریم الظلم[/font]

    ’’ قیامت کے روز تم حق والوں کو (ان کے) حق ضرور ادا کرو گے حتیٰ کہ ٹوٹے سینگوں والی بکری کے لیے سینگوں والی بکری سے بھی بدلہ لیا جائے گا۔ ‘‘
    سچ…: یہ جھوٹ کی ضد اور نقیض ہے اور جو انسان دوسرے لوگوں سے بات کرتے وقت سچائی سے کام لیتا اور سچ کا متلاشی رہتا ہے، اسے صادق اور صدیق کہا جاتا ہے، لہٰذا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ بولنے سے ڈرایا ہے، چاہے کسی کو ہنسانے کے لیے ہی ہو۔ فرمایا:
    [font="al_mushaf"](( وَیْلٌ لِلَّذِيْ یُحَدِّثُ بِالْحَدِیْثِ لِیُضْحِکَ بِہِ الْقَوْمَ فَیَکْذِبُ، وَیْلٌ لَہ، وَیْلٌ لَہ ۔))
    صحیح سنن الترمذي، رقم: ۱۸۸۵۔[/font]

    ’’ اس انسان کے لیے ویل ہے، (جہنم کی وادی) جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے، اس
    کے لیے ویل ہے، اس کے لیے ویل ہے۔ ‘‘
    بلکہ جو انسان ہر سنی سنائی بات کو آگے پہنچانے کا عادی ہو، اس کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    [font="al_mushaf"](( کَفٰی بِالْمَرْئِ کَذِبًا أَنْ یُحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ۔ ))
    أخرجہ مسلم في باب: النہي عن الحدیث بکل ما سمع۔[/font]

    ’’ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو بیان کردے۔‘‘
    مطلب یہ ہے کہ انسان کے سننے میں سچی باتیں بھی آتی ہیں اور جھوٹی بھی، چنانچہ جب وہ ہر سنی ہوئی بات کو بیان کرتا ہے تو لا محالہ جھوٹی باتیں بھی آگے بیان کردیتا ہے، اسی لیے اس کام کی وجہ سے اسے جھوٹا کہا گیا ہے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ کو منافق کی علامت گردانا ہے، فرمایا ہے:
    [font="al_mushaf"](( آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَـلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا ائْتُمِنَ خَانَ۔))
    أخرجہ البخاري في کتاب الإیمان، باب: علامات المنافق، رقم: ۳۳۔[/font]

    ’’ (کہ منافق کی ایک نشانی یہ ہے کہ) جب بات کرے گا تو جھوٹ بولے گا۔ ‘‘
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب ذیل فرمان میں بھی جھوٹ سے ڈرایا ہے:

    [font="al_mushaf"](( إِیَّاکُمْ وَالْکَذِبَ فَإِنَّ الْکَذِبَ یَھْدِيْ إِلَی الْفُجُوْرِ، وَإِنَّ الْفُجُوْرَ یَھْدِيْ إِلَی النَّارِ، وَمَا یَزَالُ الرَّجُلُ یَکْذِبُ وَیَتَحَرّٰی الْکَذِبَ حَتّٰی یُکْتَبَ عِنْدَاللّٰہِ کَذَّابًا۔))
    أخرجہ مسلم في کتاب البر، باب: قبح الکذب وحسن الصدق وفضلہ، رقم: ۶۶۳۹۔[/font]

    ’’ تم اپنے آپ کو جھوٹ سے بچاؤ کیونکہ جھوٹ گناہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور گناہ آگ کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ تلاش کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اللہ کے ہاں اسے کذاب (بہت بڑا جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے۔ ‘‘
    اس حدیث میں جھوٹ سے اور اس سے غفلت برتنے سے بھی ڈرایا گیا ہے کیونکہ جب انسان سستی اور غفلت سے کام لے گا تو کثرت سے جھوٹ سرزد ہونا شروع ہوجائیں گے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اسے کذاب لکھ دیتا ہے اور کذابوں کی سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ یعنی یا تو فرشتوں میں اس صفت سے مشہور ہوجاتا ہے یا لوگوں کے دلوں میں اور ان کی زبانوں پر اس کا بڑا جھوٹا ہونا مشہور ہوجاتا ہے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ بولنے اور اس کو اوڑھنا بچھونا بنانے پر بہت ترغیب دلائی ہے حتیٰ کہ سچ انسان کوجنت میں لے جاتا ہے۔ فرمایا:

    [font="al_mushaf"](( عَلَیْکُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ یَھْدِيْ إِلیٰ الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ یَھْدِيْ إِلیٰ الْجَنَّۃِ، وَمَا یَزَالُ الرَّجُلُ یَصْدُقُ وَیَتَحَرّٰی الصِّدْقَ حَتّٰی یُکْتَبَ عِنْدَاللّٰہِ صِدِّیْقًا وَإِیَّاکُمْ وَالْکَذِبَ، فَإِنَّ الْکَذِبَ یَھْدِیْ إِلَی الْفُجُوْرِ وَإِنَّ الْفُجُوْرِ یَھْدِیْ إِلَی النَّارِ وَمَا یَزَالُ الرَّجُلُ یَکْذِبُ وَیَتَحَرَّی الْکَذِبَ حَتّٰی یُکْتَبَ عِنْدَاللّٰہِ کَذَّابًا۔ ))
    أخرجہ مسلم في کتاب البر، باب: قبح الکذب وحسن الصدق وفضلہ، رقم: ۶۶۳۹۔[/font]

    ’’ سچائی کو لازم پکڑو کیونکہ سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور آدمی ہمیشہ سچ بولتا رہتا ہے اور سچائی کو تلاش کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں صدیق لکھ دیا جاتا ہے۔ ‘‘
     
  6. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,314
    [font="al_mushaf"]ما شا ء اللہ

    جزاك اللہ خیرا بھائی
    [/font]
     
  7. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    قرآن کے مطالعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سچ بولنے والوں سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے اور قیامت کے دن ان کے لیے بہت بڑی کامیابی ہے۔
    [FONT="Al_Mushaf"]{قَالَ اللّٰہُ ھٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُھُمْ لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْأَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا ج رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُo} [المائدہ:۱۱۹][/FONT]
    ’’ اللہ ارشاد فرمائے گا کہ یہ وہ دن ہے کہ جو لوگ سچے تھے ان کا سچا ہونا، ان کے کام آئے گا، ان کو باغ ملیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور خوش ہوگا اور یہ اللہ سے راضی اور خوش ہوں گے، یہ بڑی کامیابی ہے۔ ‘‘
    سچ بہت بڑی عظمت کا حامل ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی مدح سچ کے ساتھ ان الفاظ میں کی ہے۔
    [FONT="Al_Mushaf"]{وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیْثًا o} [النساء:۸۷][/FONT]
    ’’ اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچی بات والا اور کون ہوگا؟ ‘‘
    پڑوسی سے حسن سلوک…: انسان کو چاہیے کہ اپنے پڑوسیوں سے اچھے تعلقات قائم کرے اور ان کو تکلیف دینے کی جتنی بھی راہیں ہیں ان کو بند کردے، کیونکہ جس نے اپنے پڑوسیوں سے اچھا سلوک نہ کیا، وہ اللہ اور اس کے رسول کی نگاہ میں پیار انہیں بلکہ مبغوض انسان شمار ہوتا ہے۔
    لفظ پڑوس عام ہے، اس کے تحت مسلمان و کافر، عابد و فاسق، دوست و دشمن، واقف اور اجنبی، نفع دینے والا
    و تنگی دینے والا وغیرہ ہر طرح کے لوگ آجاتے ہیں۔
    پھر پڑوسیوں کے بھی مراتب ہیں چنانچہ جس میں زیادہ صفات ہوں گی، اس کا حق دوسروں سے بڑھ جائے گا اور جس میں کم ہوں گی، اس کا مرتبہ بھی کم ہوگا اور بسا اوقات پڑوسیوں میں صفات برابر ہوجاتی ہیں چنانچہ اس وقت کسی قرینہ کی وجہ سے ترجیح ہوگی یا برابری کا سلوک کیا جائے گا۔
    کہا جاتا ہے کہ پڑوسی تین طرح کا ہوتا ہے (۱) وہ پڑوسی جس کا ایک حق ہے یعنی صرف پڑوس کا، اور وہ مشرک ہے۔ (۲) وہ پڑوسی جس کے دو حق ہیں، اس سے مراد مسلمان پڑوسی ہے اس کا ایک حق ہمسایہ ہونے کا اور دوسرا اسلام کی وجہ سے ہے۔ (۳) وہ جس کے تین حقوق ہیں، اس سے وہ مسلمان ہمسایہ مراد ہے جو رشتہ دار بھی ہے ایک پڑوس کا حق دوسرا اسلام اور تیسرا رشتہ داری کا۔
    اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے ہمسائیوں کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے فرمایا:
    [FONT="Al_Mushaf"]{وَّبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا وَّبِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ o} [النساء:۳۶][/FONT]
    ’’ اور والدین کے ساتھ احسان کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسائے سے اور اجنبی ہمسائے سے بھی (احسان کرو)۔ ‘‘
    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
    [FONT="Al_Mushaf"](( مَا زَالَ جِبْرِیْلُ یُوْصِیْنِيْ بِالْجَارِ حَتّٰی ظَنَنْتُ أَنَّہُ سَیُوَرِّثُہُ۔ ))
    أخرجہ البخاري في کتاب الأدب، باب: الوصاۃ بالجار، رقم: ۶۰۱۴۔[/FONT]

    ’’ جبریل مجھے ہمیشہ ہمسایوں کے متعلق وصیت کرتا رہتا حتیٰ کہ میں نے گمان کیا کہ عنقریب وہ اسے وارث بھی قرار دے گا۔ ‘‘
    جیسے ان کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم صادر ہوا ہے ایسے ہی انہیں ایذاء دینے سے نہی بھی وارد ہوئی ہے۔ چنانچہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    [FONT="Al_Mushaf"](( مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلَا یُؤْذِ جَارَہ وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِم ضَیْفَہُ وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا أَوْ لِیَصْمُتْ۔ ))
    أخرجہ البخاري في کتاب الأدب، باب: من کان یؤمن باللّٰہ والیوم الآخر فلا یؤذ جارہ، رقم: ۶۰۱۸۔[/FONT]

    "جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو کوئی اللہ اور
    یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے وگرنہ خاموش رہے۔‘‘
    دوسری حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    [FONT="Al_Mushaf"](( وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ، وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ۔ قِیْلَ: وَمَنْ یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ؟ قَالَ: ( اَلَّذِيْ لَا یَأْمَنُ جَارُہ بَوَائِقَہ۔ ))
    أخرجہ البخاري في کتاب الأدب، باب: إثم من لا یأمن جارہ بوائقہ، رقم: ۶۰۱۶۔[/FONT]

    ’’ اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں۔ اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں۔ اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں۔ کہا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کون مومن نہیں؟ فرمایا: وہ انسان کہ جس کی شرارتوں سے اس کا ہمسایہ محفوظ نہیں۔‘‘
    بائقۃ…: یہ لفظ مصیبت، شر، جھگڑے، فتنہ و فساد اور مہلک چیز کے لیے مستعمل ہے۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں تین مرتبہ قسم اٹھا کر پڑوسی کو تکلیف دینے سے منع کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں بہت زیادہ تاکید ہے۔ ہمسائے کا صرف یہی حق نہیں کہ اسے تکلیف نہ دی جائے بلکہ یہ بھی اس کا حق ہے کہ جن اشیاء میں اس کو تکلیف ملنے کا اندیشہ ہے ان سے بھی پرہیز کیا جائے۔
    شیخ ابو محمد بن ابی جمرۃ کا قول ہے کہ :’’پڑوسی کی حفاظت کرنا ایمان کے کامل ہونے سے ہے اور زمانہ جاہلیت کے لوگ بھی یہ حفاظت کیا کرتے تھے۔‘‘ہمسائے کے متعلق جو وصیت کی گئی ہے اس پر عمل اس طرح ہو سکتا ہے کہ اپنی طاقت کے مطابق تحفہ بھیجا جائے اور ملاقات کے وقت مسکراتے چہرے سے ملا جائے اور اگر اسے کسی چیز کی ضرورت ہے تو اس کی ضرورت کو پورا کیا جائے وغیرہ۔
    نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انسان کے ایمان کی نفی کی ہے جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی امن میں نہیں اس مبالغہ سے ہمسائے کا حق واضح طور پر سمجھ میں آتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اسے تنگ کرنا کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔
    جب پڑوسی صالح اور غیر صالح ہوگا تو ان کے ساتھ سلوک کرنے کی حالت بدل جائے گی، یعنی سب ہمسایوں کے لیے ہر قسم کی بھلائی کی خواہش کی جائے اور اچھی نصیحت اور ہدایت کی دعا کی جائے، اگر ہمسایہ بد انسان ہے تو مذکورہ باتوں کے ساتھ ساتھ اچھے اور عمدہ طریقے سے اسے برائیوں سے روکا جائے اور اس کام میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے مراتب کو بھی ملحوظ رکھے۔ اگر ہمسایہ غیر مسلم ہے تو اس کو مسلمان ہونے کی دعوت دی جائے اور اسے اسلام کے محاسن سے آگاہ کیا جائے اور اگر فاسق ہے تو جو نصیحت اس کے لائق حال نرمی ہے، اس کو مدنظر رکھا جائے۔ نیز لوگوں سے اس کی کوتاہیوں کو چھپایا جائے اور نرمی سے ان لغزشوں سے روکا جائے۔
    ہاں! اگر فائدہ ہوجائے تو ٹھیک، وگرنہ ادب سکھانے کے لیے اس کو چھوڑ دے اور اسے غلطی بھی بتا دی جائے تاکہ وہ آئندہ اجتناب کرے۔ کہا گیا ہے کہ ہمسائے کا دوسرے پڑوسی پر حق یہ ہے کہ اگر وہ قرضہ مانگے تو اسے دیا جائے اور اگر مدد طلب کرے تو اس کی اعانت کی جائے۔ اگر بیمار ہو تو اس کی تیمار داری کی جائے اگر محتاج ہو تو اس کی محتاجی دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر پھر فقیر ہوگیا تو پھر اس کی مدد کی جائے، اگر اسے کوئی خوشخبری ملی ہے تو اسے مبارک دی جائے، اگر کوئی مصیبت پہنچی ہے تو اس سے تعزیت کی جائے۔ اگر فوت ہوگیا تو اس کا جنازہ پڑھا جائے، اپنی عمارت کو اتنا بلند نہ کیا جائے کہ اس کی ہوا بند ہوجائے، ہاں! اگر وہ اجازت دے تو پھر ٹھیک ہے اور ہنڈیا کی بھاپ (مراد ہمسائے کے لیے آگ کی گرمی وغیرہ) سے بھی اسے تکلیف نہ دی جائے۔ ہاں! اگر اس کے لیے بھی حصہ نکالنا ہے تو پھر صحیح ہے اور اگر پھل خریدے تو اسے بھی کچھ عنایت کرے۔ اگر ایسا نہیں کرسکتا تو چپکے سے پھلوں کو اپنے گھر میں داخل کرے اور اپنے بچوں کو بھی دے کر باہر نہ بھیجے کہ کہیں ہمسائے کے بچے دیکھ کر تکلیف محسوس نہ کریں۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذررضی اللہ عنیہ کو فرمایا تھا:
    [FONT="Al_Mushaf"](( یَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا طَبَخْتَ مَرْقَۃَ فَأَکْثِرْ مَائَ ھَا وَتَعَاھَدْ جِیْرَانَکَ۔ ))
    أخرجہ مسلم في کتاب البر، باب: الوصیۃ بالجار والإحسان إلیہ، رقم: ۶۶۸۸۔[/FONT]

    ’’ اے ابوذر! جب تو شوربا پکائے تو اس کا پانی بڑھا لے اور اپنے پڑوسی کا بھی خیال رکھ۔‘‘
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا:
    [FONT="Al_Mushaf"](( یَا نِسَائَ الْمُسْلِمَاتِ، لَا تَحْقِرَنَّ جَارَۃٌ لِجَارَتِھَا وَلَوْ فِرْسَنَ شَاۃٍ۔ ))
    أخرجہ البخاري في کتاب الأدب، باب: لا تحقرن جارۃ لجارتھا، رقم: ۶۰۱۷۔[/FONT]

    " اے مسلمان عورتو! کوئی ہمسائی اپنی ہمسائی کی حقارت نہ کرے اگرچہ وہ (حصہ میں) ایک بکری کا کھر ہی کیوں نہ بھیجے۔‘‘
    گو بکری کے کھر سے عمومی طور پر کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جاتا مگر ہمسائے کے لیے اس تحفہ کو بھی حقیر سمجھنے سے منع کیا گیا ہے اور چونکہ اس حدیث کو ظاہر پر محمول نہیں کیا جائے گا کیونکہ بکری کا کھر تحفہ میں دینا کسی کی عادت نہیں، اس لیے حدیث میں یہ اشارہ ہے کہ چھوٹی سی چیز کا تحفہ بھی پیش کیا جاسکتا ہے اور اسے قبول بھی کیا جائے گا۔ یعنی کوئی پڑوسن اپنے پاس موجود چیز کی قلت کی وجہ سے دوسری پڑوسن کو تحفہ دینے سے گریز نہ کرے کیونکہ قلیل چیز کا سخاوت کرنا بالکل نہ ہونے سے تو بہتر ہے۔
    حدیث میں قلیل چیز کا تحفہ دینے پر بھی ترغیب دلائی گئی ہے کیونکہ ہر وقت انسان کے پاس کثیر چیز تو نہیں ہوتی، چنانچہ جب تھوڑی تھوڑی چیز کا تحفہ دیتا رہے گا تو یہی زیادہ بن جائے گی۔ اس حدیث میں تکلیف سے رکنے کا اشارہ اور آپس میں پیار و محبت رکھنے کی وضاحت ہے۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    [FONT="Al_Mushaf"](( تَھَادَوْا تَحَابُّوْا۔ ))
    صحیح الجامع الصغیر، رقم: ۳۰۰۴۔[/FONT]


    ’’ ایک دوسرے کو تحفہ دو گے تو باہم محبت کرنے لگ جاؤ گے۔ ‘‘
     
  8. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا فرمان کا مطلب یہ ہے کہ پڑوسن دوسری ہمسائی کے ساتھ تحفہ کے ذریعہ محبت بڑھائے، اگرچہ وہ حقیر ہی ہو۔ چنانچہ اس میں غنی اور فقیر سب برابر ہیں۔ عورتوں کا خاص طور پر ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ محبت و بغض کی ابتدا انہی سے ہوتی ہے اور ان دونوں کاموں میں اثر بھی جلدی قبول کرتی ہیں۔ انسانی پڑوس کے حقوق کی اتنی تاکید کی گئی ہے حالانکہ درمیان میں دیواریں وغیرہ حائل ہوتی ہیں جن کی وجہ سے ان کی حالت ایک دوسرے سے پوشیدہ رہتی ہے لیکن اس سے بھی زیادہ حقدار حفاظت کرنے والے دو فرشتے ہیں کہ انسان اور ان کے درمیان کوئی پردہ وغیرہ حائل نہیں اور ان دونوں کو حالات کا بھی علم ہوتا ہے، لہٰذا دن کے کسی وقت میں بھی منہیات کا ارتکاب کرکے انہیں تکلیف نہیں پہنچانی چاہیے۔
    منقول ہے کہ جب انسان نیکی کرتا ہے تو دونوں فرشتے خوشی کا اظہار کرتے اور جب بدی کرتا ہے تو غمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ انسان کو چاہیے کہ ان کے غم اور خوشی کا بھی خیال رکھے اور ہمیشہ کوشش کرے کہ نیک اعمال بجا لاکر اور برائیوں سے رک کر، انہیں خوش ہونے کا موقعہ دے۔
    پڑوس کی حد…: اس میں اختلاف ہے (۱) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو اذان سن لے وہ پڑوسی ہے۔ (۲) جو صبح کی نماز مسجد میں آپ کے ہمراہ پڑھے، وہ پڑوسی ہے۔ (۳) حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ پڑوس کی حد ہر جانب سے چالیس گھر ہیں۔ (۴) چالیس گھر دائیں طرف سے اور بائیں طرف سے چالیس (۴۰) آگے اور پیچھے سے۔
    اس کا ایک معنی تو نمبر ۳ والا ہی ہوسکتا ہے اور دوسرا معنی یہ کہ مجموعہ چالیس ہو یعنی ہر طرف سے دس گھر ہوں۔

    [font="al_mushaf"]تفسیر ابن کثیر، ص: ۵۲۷، ۱۔ عون المعبود، ص: ۳۲۷، ۹۔ تفسیر قرطبی، ص: ۱۶۶، ۵۔[/font]
    قوی مومن…: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
    [font="al_mushaf"](( أَلْمُؤْمِنُ الْقَوِیُّ خَیْرٌ وَأَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِیْفِ وَفِيْ کُلٍّ خَیْرٌ إِحْرِصْ عَلیٰ مَا یَنْفَعُکَ وَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ وَلَا تَعْجِزْ، وَإِنْ أَصَابَکَ شَيْئٌ فَـلَا تَقُلْ: لَوْ أَنِّیْ فَعَلْتُ کَانَ کَذَا وَکَذَا، وَلٰکِنْ قُلْ: قَدَّرَ اللّٰہُ، وَمَا شَائَ فَعَلَ فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّیْطَانِ۔ ))
    أخرجہ مسلم في کتاب القدر، باب: الإیمان للقدر والإذعان لہ، رقم: ۶۷۷۴۔[/font]

    ’’ قوی مومن بہتر ہے اور وہ اللہ کو کمزور، ضعیف مومن سے زیادہ محبوب ہے اور بھلائی ہر ایک میں ہے۔ جو تجھے نفع پہنچائے اس کی حرص رکھ اور اللہ سے مدد مانگ اور دل تھوڑا نہ کر ۔اگر تجھے کچھ مصیبت آئے تو یوں نہ کہہ کہ اگر میں ایسے کرلیتا تو ایسے ہوجاتا وغیرہ۔ بلکہ تو کہہ اللہ نے مقدر کیا تھا اس نے جو چاہا کیاسو بلاشبہ ’’اگر‘‘ شیطان کے لیے راہ ہموار کرتا ہے۔‘‘
    شرح…: آخرت کے امور میں فطرت اور نفس کے ارادے کو قوت سے تعبیر کیا گیا ہے اور جس مسلمان میں یہ وصف ہو، وہ جہاد میں دشمنوں پر حملہ کرنے اور لپکنے میں بڑا تیز ہوتا ہے۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر میں بڑا سخت ہوتا ہے اور اس راستہ میں جو تکالیف درپیش ہوں، ان پر صبر کرتا ہے نیز اس کے ساتھ ساتھ نماز، روزہ، اذکار اور دوسری عبادات میں بہت راغب اور ان کی محافظت میں بڑا چست ہوتا ہے۔
    قوت سے بدنی طاقت اور اپنے زمانہ اور علاقے کے لحاظ سے جنگ کے لیے اسلحہ کی ٹریننگ کا ہونا بھی مراد ہے۔ چنانچہ ایسی قوت و تیاری ہر مسلمان پر فرداً بھی اور اجتماعی شکل میں بھی فرض و واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

    [font="al_mushaf"]{وَأَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍط} [الانفال:۶۰][/font]
    ’’ اور ان (کافروں) کے مقابلہ کے لیے جتنی تم طاقت رکھتے ہو قوت تیار کرو۔ ‘‘
    یہ قوت محض اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے اور اس کے دشمنوں سے لڑنے کے لیے، مسلمانوں کی زمین آزاد کروانے کے لیے، مظلوموں کی اور حق کی مدد کرنے کے لیے ہو۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ منبر پر کھڑے ہوکر خطبہ فرمایا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسب ذیل فرمان بھی تھا:

    [font="al_mushaf"](( وَأَعَدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّۃٍ أَ لَا إِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْيُ، أَ لَا إِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْيُ۔ ))
    أخرجہ مسلم في کتاب الإمارۃ، باب: فضل الرمي والحث علیہ، رقم: ۴۹۴۶۔[/font]

    ’ اور ان (کافروں) کے مقابلہ کے لیے، جتنی تم طاقت رکھتے ہو، قوت تیار کرو۔ خبردار! قوت (سے مراد) پھینکنا ہے، خبردار! بے شک قوت (سے مراد) پھینکنا ہے، خبردار! بے شک قوت (سے مراد) پھینکنا ہے۔ ‘‘
    معلوم ہوا کہ جہاد کی نیت سے مقابلہ بازی اور تیر اندازی میں بڑی فضیلت ہے، چنانچہ اسی طرح جنگ کی ٹریننگ اور مختلف اقسام کے اسلحہ کو چلانے کا طریقہ سیکھنا اور گھوڑ دوڑ وغیرہ میں بھی بڑی فضیلت ہے۔ مقصد یہ ہے کہ انسان قتال، جنگی چالوں اور جسمانی ٹریننگ میں ماہر ہو۔
    جب مسلمانوں میں یہ قوت آجائے گی تو اللہ کے اور ان کے دشمن ڈرنا شروع ہوجائیں گے۔ فرمایا ’’تم ان (کافروں) کے مقابلے کے لیے اپنی طاقت کے مطابق تیاری کرو اور گھوڑے تیار رکھنے کی کوشش کرو کہ اس سے تم اللہ کے دشمنوں کو خوف زدہ رکھ سکو اور ان کے سوا اوروں کو بھی جنہیں تم نہیں جانتے لیکن اللہ انہیں خوب جان رہا ہے اور جو کچھ بھی تم اللہ کی راہ میں صرف کرو گے، وہ تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا۔ (الانفال: ۶۰)

    اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسلمان پر اللہ کے دشمنوں کو ڈرانے اور ان کے دلوں میں رعب ڈالنے کے لیے مظلوموں کی مدد اور ایک اللہ کی الوہیت کو پختہ کرنے کے لیے اور اس کے غلام بندوں کی الوہیت کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے قوت جمع کرنا ضروری ہے۔
    چنانچہ مسلمانوں کو قوی اور حسب استطاعت چاق چوبند رہنے کا مکلف بنایا گیا ہے۔
    خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ روحانی اور جسمانی اعتبار سے قوی مومن کو کمزور مومن سے زیادہ محبوب رکھتا ہے۔
    وَفِیْ کُلِّ خَیْرٌ …: (ہر ایک میں بھلائی ہے) اس کا معنی یہ ہے کہ قوی مومن اور ضعیف دونوں چونکہ ایمان میں مشترک اور عبادات کو بجالانے میں بھی مشترک ہیں، اس لیے ان دونوں میں بھلائی اور خیر ہے لیکن قوی مومن کو مذکورہ بالا صفات کی وجہ سے زیادہ پیارا گردانا گیا ہے۔

    [font="al_mushaf"]نووی شرح مسلم، ص: ۲۱۵، ۱۶، ص: ۶۴، ۱۳۔ فی ظلال القرآن، مصنفہ سید قطب شہید، ص: ۱۵۴۴، ۳۔[/font]
     
  9. Ishauq

    Ishauq محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,602
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں