یونیکوڈ حصن المسلم اردو ،تحقیق از زبیر علی زئی

فاروق نے 'اردو یونیکوڈ کتب' میں ‏ستمبر 3, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
    مسنون اذکار اور محقق دعائیں
    حصن المسلم

    تالیف
    سعید بن علی بن وھف القحطانی حفظہ اللہ

    تحقیق ، تخریج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترجمہ
    حافظ زبیر علی زئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عبدالحمید سندھی

    ناشر
    دار الفکر الاسلامی
    Dar-ul-Fikar Al-Islami
    گلی نمبر 3 مین بازار نواب آباد واہ کینٹ
    Email : admin@darulfikaralislami.com
    http://www.darulfikaralislami.com
    0321-0315-5216287
    جملہ حقوق بحق ناشر “دار الفکر الاسلامی” محفوظ ہیں۔

    PDF
    نوٹ:- لکھنے میں غلطی شیطان یا پھر میری طرف سے ہوسکتی ہے برائے مہربانی اگر غلطی نظر آئے تو فورا مطلع کریں
    پیشگی شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  2. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    فہرست

    فہرست

    عرض ناشر
    اپنی بات
    مقدمۃ التحقیق
    ذکر کی فضیلت
    1)نیندسے بیدار ہونے کی دعائیں
    2)کپڑا پہننے کی دعا
    3)نیا لباس پہننے کی دعا
    4)نیا لباس پہننے والے کو کیا دعادی جائے؟
    5)لباس اتارے تو کیا پڑھے؟
    6)بیت الخلاء میں داخل ہونے کی دعا
    7)بیت الخلاء سے نکلنے کی دعا
    8)وضو شروع کرتے وقت کیا پڑھے
    9)وضو سے فارغ ہونے کے بعد کیا پڑھے
    10)گھر سے نکلتے وقت کیا پڑھنا چاہئے
    11)گھر میں داخل ہوتے وقت کی دعا
    12)مسجد کی طرف جانے کی دعا
    13)مسجد میں داخل ہونے کی دعا
    14)مسجد سے نکلنے کی دعا
    15)اذان کے اذکار
    16)دعائے استفتاح
    17)سورۃ الفاتحہ
    18)رکوع کی دعائیں
    19)رکوع سے اٹھنے کی دعائیں
    20)سجدے کی دعائیں
    21)جلسئہ استراحت(دوسجدوں کے درمیان)کی دعائیں
    22)سجدۂ تلاوت کی دعائیں
    23)تشہد
    24)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا
    25)سلام پھیر نے سے پہلے آخری تشہد میں دعائیں
    26)سلام پھیرنے کے بعد کے اذکار
    27)فجر کی نماز کے بعد یہ دعا پڑھے
    28)نماز استخارہ کی دعا
    29)صبح و شام کے اذکار
    30)شام کے وقت یہ دعا پڑھے

    31)سوتے وقت کی دعائیں
    32)رات پہلو بدلتے وقت کی دعا
    33)نیند سے گبھراہٹ اور وحشت کے وقت دعا
    34)براخواب دیکھنے والا کیا کرے
    35)قنوت وتر کی دعاغیں
    36)نماز وتر سے سلام پھیر نے کے بعد ذکر
    37)غم اور فکر کی دعا
    38)بے چینی کی دعا
    39)دشمن اور حکمران سے ملتے وقت کی دعا
    40)جسے حکمران کے ظلم کا خوف ہو اس کے لئے دعا
    41)دشمن کے خلاف بددعا
    42)جب کسی سے خطرہ ہوتو کیا کہے
    43)جسے ایمان میں شک ہونے لگے اس کی دعا
    44)ادائیگی قرض کی دعا
    45)نماز یا قرآن پڑھتے وقت وسوسہ آنے پر دعا
    46)جس پر کوئی مشکل آن پڑے اس کے لئے دعا
    47)جس سے گناہ سر زد ہو جائے وہ کیا کہے اور کیا کرے
    48)شیطان اور اس کا وسوسہ دور کرنے والی دعائیں
    49)ناپسندیدہ واقعہ یا بے بسی کی دعا
    50)جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اسے مبارک باد دینا
    51)بچوں کو کن کلمات کے ساتھ پناہ دی جائے
    52)مریض کی عیادت کے وقت دعا
    53)بیمار کی تیمارداری کرنے کی فضیلت
    54)زندگی سے مایوس مریض کے لئے دعا
    55)قریب المرگ کو لا الہ الا اللہ کی تلقین
    56)جسے مصیبت پہنچے اس کی دعا
    57)میت کی آنکھیں بند کرتے وقت دعا
    58)نماز جنازہ کی دعائیں
    59)نماز جنازہ میں بچے کے لئے دعا
    60)تعزیت کی دعا
    61)میت قبر میں داخل کرتے وقت دعا
    62)میت کو دفن کرنے کے بعد کی دعا
    63)قبروں کی زیارت کی دعا
    64)ہوا چلتے وقت کی دعائیں
    65)بادل گرجنے کی دعا
    66)بارش کی دعائیں
    67)بارش اترتے وقت دعا
    68)بارش اترنے کے بعد ذکر
    69)مطلع ابر آلود ہونے کی دعا
    70)چاند دیکھنے کی دعا
    71)روزہ کھولنے کے وقت کی دعا
    72)کھانے سے پہلے دعا
    73)کھانا کھانے سے فارغ ہونے کی دعائیں
    74)کھانا کھلانے والے کے لئے دعا
    75)جو شخص کچھ کھلائے پلائے اس کے لئے دعا
    76)افطار کروانے والے کے لئے دعا
    77)روزہ دار کی دعا جب کھانا حاضر ہواور وہ روزہ نہ کھولے
    78)روزہ دار کو کوئی شخص گالی دے تو وہ کیا کہے
    79)پہلا پھل دیکھنے کی دعا
    80)چھینک کی دعا
    81)شادی کرنے والے کے لئے دعا
    82)شادی کرنے اور سواری خریدنے والے کے لئے دعا
    83)بیوی سے ہمبستری سے قبل دعا
    84)غصے کے وقت دعا
    85)مصیبت زدہ کو دیکھنے کی دعا
    86)مجلس میں کیا کہا جائے
    87)کفارۂ مجلس کی دعا
    88)جو کوئی تم سے نیکی کرے اس کے لئے دعا
    89)دجال سے محفوظ رہنے کی دعا
    90)جو شخص کہے میں تم سے اللہ کے لئے محبت کرتا ہوں اس کے لئے دعا
    91)جو شخص تمہیں اپنا مال پیش کرے اس کے لئے دعا
    92)قرض کی ادائیگی کے وقت دعا
    93)شرک سے خوف کی دعا
    94)جو شخص تمہیں بارک اللہ کہے اس کے لئے دعا
    95)بدشگونی سے کراہت کی دعا
    96)سوار ہوتے وقت دعا
    97)سفر کی دعا
    98)بستی یا شہر میں داخل ہونے کی دعا
    99)بازار میں داخل ہونے کی دعا
    100)سواری سے گرنے کی دعا
    101)مسافر کی مقیم کے لئے دعا
    102)مقیم کی مسافر کے لئے دعا
    103)سفر کے دوران تسبیح و تکبیر
    104)مسافر کی دعا جب صبح کرے
    105)سفر میں یا سفر کے علاوہ کسی جگہ ٹھہرنے کی دعا
    106)سفر سے واپسی کی دعا
    107)خوش کن یا ناپسندیدہ معاملہ پیش آنے پر کیا کہے
    108)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
    109)سلام عام کرنا
    110)کوئی غیر مسلم سلام کرے تو اس سے کیا کہا جائے
    111)مرغ بولنے اور گدھا ہینگنے کے وقت دعا
    112)رات کو کتے بونکتے وقت کی دعا
    113)جسے تم نے برا بھلا کہا اس کے لئے دعا
    114)جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی تعریف کرے تو کیا کہے
    115)اپنی تعریف سن کر کیا کہے
    116)حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والا تلبیہ کیسے کہے
    117)جب حجراسود کے پاس آئے تو تکبیر کرے
    118)رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان دعا
    119)صفاو مروا پر ٹھہر نے کی دعا
    120)یوم عرفہ کی دعا
    121)مشعر حرام کے قریب دعا
    122)رمی جمار کرتے ہوئے ہر کنکری کے ساتھ تکبیر پڑھنا
    123)تعجب اور خوش کن کام کے وقت دعا
    124)خوش خبری ملے تو کیا کہے
    125)جسم میں تکلیف محسوس کرنے والا کیا کرے اور کیا کہے
    126)اپنی نظر لگنے کا ڈر ہوتو کیا کرے
    127)گبھراہٹ کے وقت کیا کہے
    128)قربانی کرتے وقت کیا کہے
    129)سرکش شیاطین کے مکرو فریب سے بچنے کی دعا
    130)استغفار اور توبہ کا بیان
    131)تکبیر، تسبیح، تحمید اور تحلیل کی فضیلت
    132)نبی صلی اللہ علیہ وسلم تسبیح کس طرح کیا کرتے تھے
    133)مختلف نیکیاں اور جامع آداب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  3. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    عرض ناشر

    عرض ناشر

    الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على اشرف الأنبياء, أما بعد:
    ایک عرصے سے سینے میں یہ آرزو سمائی ہوئی تھی کہ کتاب وسنت کی اشاعت کے لئے ایسا ادارہ قائم کیا جائے جو منہج سلف صالحین کا عین ترجمان ہو، میرے اس ارادے کی تکمیل اور خواب کی تعبیر “دار الفکر الاسلامی” کی صورت میں ہوئی۔ والحمدللہ
    آج میں دلی فرحت و مسرت محسوس کررہا ہوں کہ ادارہ اپنی منزل کی جانب پہلا قدم معروف و مقبول کتاب “حصن المسلم” شائع کرکے بڑھارہا ہے۔
    اس کتاب کی نمائیاں اور منفرد خصوصیت “تحقیق و تصحیح” ہے، کیونکہ اس سے پہلے اس کا خاطر خواہ لحاظ نہیں رکھا گیا اور ترجمہ میں بھی جدت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
    میں کتاب کے محقق ، محدث العضر حا‌فظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کا تہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے میری عرض کو جلابخشی اور اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود ہر روایت پر صحت و سقم کے اعتبار سے حکم لگایا ہے۔ جزاہ اللہ خیرا
    اسی طرح مترجم برادر عبد الحمید سندھی اور محترم محمد وقاص زبیر کا بھی ممنون ہوں جنہوں نے حتی الوسع میرے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا۔ میں اللہ تعالی سے دعا گوہوں کہ اس کتاب کو ہمارے لئے ذریعۂ نجات اور عوام کے لئے ازحد مفید بنائے۔ آمین
    حافظ علیم اللہ
    مدیر دار الفکر الاسلامی​
     
  4. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
    اپنی بات

    الحمد لله و كفى والصلوة والسلام على من لا نبي بعده أما بعد:
    ہم پر اللہ تعالی کے بے شمار احسانات و انعامات ہیں جنہیں ہم شمار نہیں کرسکتے، اللہ تعالی نے ہمیں مسلمان بنایا اور ہماری حفاظت کا ذمہ بھی خود ہی لیا ہے۔ اگر ہم اس کے بنائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی بسر کریں۔ روز مرہ اور مختلف مواقع کی دعائیں ہماری حفاظت اور ہمارے امور میں خیر و برکت کا ذریعہ ہیں، آج کل بعض لوگ لوح قرآنی کا نقش اپنی دکانوں پر لٹکاتے ہیں تاکہ دکان میں برکت ہو اس کا قرآن و سنت سے کوئی ثبوت نہیں ملتا، ہمیں چاہئے کہ ہم شریعت سے ثابت مسنون اذکار و دعائیں، مسنون طریقے سے پڑھیں تاکہ ہمارے اجر وثواب میں اضافہ ہو اور اللہ تعالی ہمارے اس عمل سے ہم پر راضی ہوجائے۔ زیر مطالعہ کتاب “حصن المسلم” روزمرہ اور مختلف مواقع کی دعاؤں پر مشتمل ہے، اور کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ اس کتاب کا ترجمہ کرنے کی سعادت نصیب ہوئی، پہلے بھی اسک کتاب کے کئی تراجم کئے جاچکے ہیں جن میں سب سے پسندیدہ ترجمہ استاذ محترم حافظ عبد السلام بن محمدحفظہ اللہ کا ہے، ان کے ترجمے کی موجودگی میں میرے اس ترجمے کی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی کبھی میرا دھیان اس طرف گیا، لیکن گذشتہ چند ایام سے دوستوں کے مسلسل اصرار پر قلم اٹھانے کی ہمت کی، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اس میں خیروبرکت عطا فرمائے اور اسے ہماری نیکیوں میں اضافہ کا سبب بنائے۔ آمین
    اللّهم اغفرلى والدي والأساتذني ولجميع المسلمين إنك أنت الغفور الرحيم وصلى الله على نبينا و سلّم و على آله و صحبه أجمعين.
    عبد الحمید سندھی
    (9/رمضان المبارک 1428ھ)​
     
  5. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
    مقدمۃ التحقیق

    اللہ تعالی کے لئے حمد و ثنا ہے جو ساری کائنات کا خالق، مالک اور رب العالمین ہے، وہی معبود برحق ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔ اما بعد:
    اپنی تمام مصیبتوں ، پریشانیوں، بیماریوں اور ہر ضرورت میں صرف اللہ ہی سے دعا مانگنی چاہئے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: “جب تو سوال کرے تو اللہ سے سوال کر اور جب مدد مانگے تو اللہ سے مدد مانگ۔” (سنن ترمذی:2516 : “حسن صحیح”، وسندہ حسن) اور فرمایا: “دعا عبادت ہی ہے۔(سنن ابی داؤد:1479، وسندہ صحیح و صحیحہ الترمذی:2969)
    ادعیہ ماثورہ کے بارے میں عصر حاضر میں لکھی ہوئی ایک چھوٹی سی کتاب: حصن المسلم کو بہت شہرت حاصل ہے۔ راقم الحروف نے اس کتاب میں مذکورہ دعوات و احادیث کی تحقیق کرکے ہر روایت پر صحیح، حسن یا ضغیف وغیرہ کا حکم لگا دیا ہے تاکہ اس کتاب سے استفادہ کرنے والے قارئین کرام صحیح وحسن روایات پر عمل کریں اور ضعیف و مردود روایات کو چھوڑ دیں۔ فضائل اعمال ہوں یا احکام و عقائد وغیرہ، راجح تحقیق یہی ہے کہ ضعیف روایات پر عمل جائز نہیں اور نہ ان کی بطور جزم روایت جائز ہے۔(دیکھئے میری کتاب: تحقیقی مقالات ج2 ص266-283)
    امام شافعی رحمہ اللہ نے بہت خوب فرمایا: لہذا اگر صحیح حدیث ہوتو مجھے بتادینا.....تاکہ میں اس پر عمل کروں، بشرطیکہ حدیث صحیح ہو۔(مناقب الشافعی للاما ابن ابی حاتم ص70 وسندہ صحیح)
    حصن المسلم مع تحقیق آپ کے ہاتھوں میں ہے اور صحیح العقیدہ بھائیوں سے درخواست ہے کہ اپنی نیک دعاؤں میں مجھے اور ناشر کو بھی یادرکھیں۔ جزاکم اللہ خیرا
    حافظ زبیر علی زئی
    مدرسہ اہل الحدیث حضرو۔ ضلع اٹک(25 / جنوری 2011ء)​
     
  6. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    ذکر کی فضیلت
    اللہ تعالی نے فرمایا:
    1- (فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ (سورة البقرة:152))

    اس لئے تم میرا ذکر کرو میں بھی تمہیں یاد کروں گا، میری شکر گزاری کرو اور ناشکری سے بچھو۔

    2- (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا (سورة الأحزاب:41))

    مومنو! اللہ تعالی کا بہت زیادہ ذکر کرو۔

    3- (وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا (سورة الأحزاب:35))

    اور اللہ تعالی کو بکثر ت یاد کرنے والے مرد اور بکثرت یاد کرنے والی عورتیں، اللہ تعالی نے ان کے لئے مغفرت اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔

    4- (وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْغَافِلِينَ (سورة الأعراف:205))

    (اے انسان!) اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ اور بلند آواز کی نسبت پست آواز کے ساتھ صبح و شام یاد کر، اور غافلوں میں سے نہ ہوجانا۔

    5- («مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لاَ يَذْكُرُ رَبَّهُ، مَثَلُ الحَيِّ وَالمَيِّتِ»(صحیح بخاری:6407)

    اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس شخص (کی مثال)جو اپنے رب کو یاد نہیں کرتا، زندہ اور مردہ کی طرح ہے۔
    اور مسلم میں یہ الفاظ ہیں: («مَثَلُ الْبَيْتِ الَّذِي يُذْكَرُ اللهُ فِيهِ، وَالْبَيْتِ الَّذِي لَا يُذْكَرُ اللهُ فِيهِ، مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ» صحیح مسلم:779)

    اس گھر کی مثال جس میں اللہ کو یاد کیا جاتا ہے اور اس گھر(کی مثال)جس میں اللہ کا ذکر نہیں کیا جاتا ، زندہ اور مردہ کی مانند ہے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    6- («أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ، وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ، وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ وَخَيْرٌ لَكُمْ مِنْ إِنْفَاقِ الذَّهَبِ وَالوَرِقِ، وَخَيْرٌ لَكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ» ؟ قَالُوا: بَلَى. قَالَ: «ذِكْرُ اللَّهِ تَعَالَى»اسنادہ حسن، ترمذی:3377، ابن ماجہ:3790)

    کیا میں تمہیں تمہارے اعمال میں سے بہترین (عمل)کے بارے میں نہ بتاؤں، جو تمہارے مالک کے نزدیک پاکیزہ تیرین، تمہارے درجات میں بلند ترین، تمہارے لئے سونا چاندی خرچ کرنے سے اچھا اور تمہارے لئے اس بات سے بھی بہتر کہ تم اپنے دشمن سے آمنا سامنا کرو تو تم ان کی گردنیں مارو اور وہ تمہاری گردنیں ماریں۔ صحابہ(رضی اللہ عنہم)نے کہا: کیوں نہیں!، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کا ذکر۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    7-(«يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ إِذَا ذَكَرَنِي، فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ، وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ بِشِبْرٍ تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً»صحیح بخاری:7405، واللفظ لهو عنده”شبرًا إلي“صحیح مسلم:2675)

    اللہ تعالی فرماتے ہیں: میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں، جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں، اگر وہ مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سےبہترین جماعت میں یاد کرتا ہوں، اگر وہ بالشت بھر میرے قریب آئے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب آتا ہوں اگر وہ ایک ہاتھ (کے فاصلے برابر) میرے قریب آئے تو میں دو ہاتھ(پھیلانے کے فاصلے کے برابر)اس کے قریب آتا ہوں، اگر وہ چلتا ہوا میرے پاس آئے تو میں دوڑتا ہوا اس کے پاس آتا ہوں۔

    8- (وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ شَرَائِعَ الإِسْلَامِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيَّ، فَأَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ أَتَشَبَّثُ بِهِ، قَالَ: «لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ»اسنادہ حسن، سنن ترمذی:3375، ابن ماجہ:3793)

    عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ پر اسلام کے احکامات بہت زیادہ ہوچکے ہیں، آپ مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جس پر میں مضبوطی سے(مستقل مزاجی کے ساتھ)عمل کرسکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تررہے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    9- («مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لَا أَقُولُ {الم} حَرْفٌ، وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ»اسنادہ حسن، سنن ترمذی:2910)

    جس شخص نے کتاب اللہ سے ایک حرف پڑھا، اس کے لئے اس کے بدلے میں ایک نیکی ہے، اور ایک نیکی اپنے جیسی دس نیکیوں کے برابر ہے(یعنی دس گنا اجر ملے گا) میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے لیکن الف ایک حرف ہے لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔

    10- (وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ، فَقَالَ: «أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ كُلَّ يَوْمٍ إِلَى بُطْحَانَ، أَوْ إِلَى الْعَقِيقِ، فَيَأْتِيَ مِنْهُ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ فِي غَيْرِ إِثْمٍ، وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ؟» ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ نُحِبُّ ذَلِكَ، قَالَ: «أَفَلَا يَغْدُو أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَعْلَمُ، أَوْ يَقْرَأُ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ، وَثَلَاثٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثٍ، وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ، وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الْإِبِلِ»صحیح مسلم:803)

    عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ ہم سفر میں تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے اور فرمایا: تم میں سے کون ہے جسے یہ بات پسند ہو کہ بطاحان یا عقیق (دو وادیوں کے نام) کی طرف صبح سویرے جائے اور بڑے بڑے کوہانوں والی دو اونٹنیاں بغیر گناہ کئے اور بغیر قطع رحمی کئے لے آئے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہم سب یہ بات پسند کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جو صبح سویرے مسجد کی طرف آئے اور اللہ عزوجل کی کتاب کی دو آیات سیکھے یا پڑھے یہ اس کے لئے دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور تین آیات تین اونٹنیوں سے بہتر ہیں اور چار آیات چار انٹنیوں سے بہتر ہین، اور جتنی آیات ہوں گی اتنی ہی انٹنیوں سے بہتر ہیں۔

    11- («مَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ تِرَةٌ، وَمَنْ اضْطَجَعَ مَضْجَعًا، لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ تِرَةٌ»حسن، سنن ابی داؤد:4856 وعنده:”لايذكر“،السنن الکبری للنسائی:10164)

    جو شخص کسی جگہ بیٹھا اور وہاں اس نے اللہ کا ذکر نہیں کیا تو وہ جگہ اللہ کی طرف سے اس کے لئے باعث نقصان (گھبراہٹ و پریشانی)ہوگی اور جو شخص کسی جگہ لیٹا جہاں اس نے اللہ کا ذکر نہیں کیا تو وہ جگہ اس کے لئے اللہ کی طرف سے باعث نقصان(گھبراہٹ و پریشانی)ہوگی۔

    12- («مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ، وَلَمْ يُصَلُّوا عَلَى نَبِيِّهِمْ، إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً، فَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُمْ»ضعیف، سنن ترمذی:3380، و الحديث حسن دون قوله: ”فَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَله“انظر الحديث السابق(11))

    جو قوم کسی مجلس میں بیٹھی اور وہاں پر اللہ کا ذکر نہیں کیا ، نہ ہی اپنے نبی پر درود بھیجا تو وہ مجلس ان کے لئے باعث نقصان ہوگی، پھر اگر اللہ چاہے تو انہیں عذاب(سزا)دے اور اگر چاہے تو انہیں معاف فرمادے۔

    13- («مَا مِنْ قَوْمٍ يَقُومُونَ مِنْ مَجْلِسٍ لَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فِيهِ، إِلَّا قَامُوا عَنْ مِثْلِ جِيفَةِ حِمَارٍ وَكَانَ لَهُمْ حَسْرَةً»اسنادہ صحیح، ابوداؤد:4855، مسند احمد:10825)

    جو قوم کسی ایسی مجلس سے اٹھتی ہے جس میں انھوں نے اللہ کا ذکر نہیں کیا ہوتا تو گدھے کی سڑی ہوئی لاش جیسی چیز سے اٹھتی ہے اور یہ مجلس ان کے لئے باعث حسرت ہوگی۔
     
  7. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    1) نیند سے بیدار ہونے کی دعائیں

    1- («الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ»صحیح بخاری:6312 عن حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ، صحیح مسلم:2711 عن البراء بن عازب رضی اللہ عنہ)
    تمام تعریفات اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔

    2- («لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالحَمْدُ لِلَّهِ، وَلاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ، رَبِّ اغْفِرْ لِي»صحیح بخاری:1154، سنن ابن ماجہ:3878واللفظ (الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ)، سنن ابی داؤد:5060، سنن ترمذی:3414)
    اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں، جو وحدہ لاشریک ہے، اسی کے لئے بادشاہت اور اسی کے لئے تمام حمد و ثنا اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ پاک ہے، تمام تعریفات اللہ کے لئے ہیں، اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اللہ سب سے بڑا ہے۔ (کسی گناہ سے بچنے کی) کوئی طاقت اور (نیکی کرنے کی)کوئی قوت اللہ بلند و عظمت والے کی توفیق و مدد کے بغیر نہیں۔ اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے۔(نوٹ:- جس شخص نے یہ کلمات کہے اسے بخش دیا جاتا ہے اور اگر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے، پھر اگر وہ (بستر سے)اٹھا باوضوہوکے نماز پڑھی تو اس کی نماز قبول ہوتی ہے۔)

    3- («الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي فِي جَسَدِي، وَرَدَّ عَلَيَّ رُوحِي وَأَذِنَ لِي بِذِكْرِهِ»ضعیف، سنن ترمذی:3401، و حدیث البخاری:7393، و مسلم:2714 یغنی عنہ)
    تمام تعریفات اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے میرے جسم میں صحت و عافیت عطا کی، اور میری روح مجھے لوٹادی اور مجھے اپنا ذکر کرنے کی اجازت دی۔
    (ضعیف کیوں ہے)​


    4- (إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ (190) الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (191) رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ (192) رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ (193) رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ (194) فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَاتَلُوا وَقُتِلُوا لَأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ثَوَابًا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ (195) لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ (196) مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهَادُ (197) لَكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا نُزُلًا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِلْأَبْرَارِ (198) وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّهِ لَا يَشْتَرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ (199) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (سورة آل عمران:200)صحیح بخاری:4572)
    آسمان اور زمین کی پیدائش میں، اور رات دن کے آنے جانے میں یقینا عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ جو اللہ تعالی کا ذکر کھڑے ہوکر، بیٹھ کر اور اپنی کروٹوں پر لیٹے ہوئے کرتے ہیں، آسمان و زمین کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں اے پروردگار تونے یہ سب کچھ بے فائدہ نہیں بنایا، تو پاک ہے، ہمیں آگ کے عذاب سے بچالے۔ اے ہمارے پالنے والے تو جسے جہنم میں ڈالے یقینا تو نے اسے رسوا کیا، اور ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں۔ اے ہمارے رب! ہم نے سنا کہ منادی کرنے والا با آواز بلند ایمان کی طرف بلارہا ہے کہ لوگو! اپنے رب پر ایمان لاؤ، اس لئے ہم ایمان لے آئے، یا الہی اب تو ہمارے گناہ معاف فرمااور ہماری برائیان ہم سے ختم کردے اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت دے۔ اسے ہمارے پالنے والے معبود! ہمیں وہ دے جس کا وعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی کیا ہے۔ اور ہمیں قیامت کے دن رسوانہ کرنا۔ یقینا تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمالی کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت ہرگز ضائع نہیں کروں گا، تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو، اس لئے وہ لوگ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکال دئیے گئےاور جنہیں میری راہ میں تکلیف دی گئی، اور جنہوں نے جہاد کیا اور شہید کردئیے گئے میں ضرور ان کی برائیاں ان سے ختم کردوں گا، اور بلاشبہ انہیں ان جنتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے سے نہیں بہہ رہی ہیں یہ ہے ثواب اللہ کی طرف سے اور اللہ تعالی ہی کے پاس بہترین اجر ہے۔ تجھے کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنادھو کے میں مبتلانہ کردے۔ یہ تو بہت ہی تھوڑا فائدہ ہے، پھر ان کا ٹھکانہ تو جہنم ہی ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔ لیکن وہ لوگ جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہیں جاری ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کی طرف سے مہمانی سے اور نیک لوگوں کے لئےجو کچھ اللہ تعالی کے پاس ہے وہ بہت ہی بہتر ہے یقینا اہل کتاب میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور تمہاری طرف جو اتارا گیا ہے اور جو ان کی جانب اترا اس پر بھی اللہ تعالی سے ڈرتے ہیں اور اللہ تعالی کی آیات کو کم قیمت پر بیچتے بھی نہیں، ان لوگوں کا بدلہ ان کے رب کے ہاں ہے، یقینا اللہ تعالی بہت جلد حساب لینے والا ہے۔اے اہل ایمان! تم ثابت قدمی اختیار کرو اور ایک دوسرے کو تھامے رکھو اور جہاد کے لئے تیار رہو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔
     
  8. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    2) کپڑا پہننے کی دعا

    («الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا الثَّوْبَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي، وَلَا قُوَّةٍ »حسن، سنن ابی داؤد:4023، سنن ترمذی:3458، و قال: “حسن غیرب”)
    تمام تعریفات اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے یہ کپڑا پہنایا، اور اس نے مجھے(یہ کپڑا)میری کسی طاقت اور قوت کے بغیر عطا فرمایا۔
     
  9. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    3) نیا لباس پہننے کی دعا

    («اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ، وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ» اسنادہ حسن، سنن ابی داؤد:4020، سنن ترمذی:1767)
    اے اللہ تیرے ہی لئے تمام تعریفات ہیں، تونے ہی مجھے یہ(لباس)پہنایا ہے میں تجھ سے اس لباس کی اور جس کے لئے یہ بنایا گیا ہے اس کی بھلائی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ اور میں اس کے شر اور جس کے لئے اسے بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہو۔
     
  10. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    4) نیا لباس پہننے والے کو کیا دعا دی جائے

    1- («تُبْلَى وَيُخْلِفُ اللَّهُ تَعَالَى»اسنادہ حسن موقوف، سنن ابی داؤد:4020)
    تو اسے بوسیدہ کرے اور اللہ تعالی اس کے بعد تمہیں مزید عطا فرمائے۔

    2- («الْبَسْ جَدِيدًا، وَعِشْ حَمِيدًا، وَمُتْ شَهِيدًا»اسنادہ ضعیف، سنن ابن ماجہ:3558، مسند احمد:5620)
    تم نیا کپڑا پہنو، قابل تعریف زندگی گزارو اور شہید ہوکر فوت ہو۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں