دیوبندیوں کا جہاد

شاہد نذیر نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏ستمبر 6, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    774
    دیوبندیوں کا جہاد​

    اللہ اپنے دین کا کام فاجر اور فاسق سے بھی لے سکتا ہے۔اس لئے دیوبندیوں کا جہادکرنا ہر گز اس بات کی علامت یا دلیل نہیں کہ یہ لوگ حق پر ہیں۔کفریہ اور شرکیہ عقائد رکھنے کی وجہ سے انکا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا انہیں ذرہ برابر فائدہ نہیں دے گا۔جہاد ہو یا کوئی دوسری نیکی، اللہ کی بارگاہ میں صرف صحیح العقیدہ لوگوں کی مقبول ہوتی ہے۔

    بعض نادان لوگوں کا خیال ہے کہ چند دیوبندیوں کو چھوڑ کر باقی دیوبندی عقائد کی خرابی میں مبتلا نہیں۔ان دوستوں کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ ان کی نری خوش فہمی ہے اور حقیقت اسکے برعکس ہے۔ دیوبندیوں کو باآسانی دو گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ایک ان علماء اور طلباء کا گروہ جو نہ صرف اپنے کفریہ مذہبی عقائد سے پوری طرح باخبر ہے اور ان عقائد باطلہ کو حق جانتاہے بلکہ عام عوام کو بھی ان غلط نظریات و عقائد کی طرف دعوت دیتا ہے۔ دوسرا وہ گروہ جسے ہم عوام کہہ سکتے ہیں جو عموماً کچھ عقائد سے بے خبر ہوتا ہے لیکن جب انکے خراب مذہبی عقائد کی نشاندہی کی جاتی ہے تو وہ بغیر علم کے تاؤیل کرتا ہے حتی کہ حقیقت پوری طرح واضح ہوجانے کے باوجود بھی اپنے کفریہ اور شرکیہ عقائد رکھنے والے اکابرین سے براء ت اور بے زاری کا اظہار نہیں کرتابلکہ الٹا ان اکابرین کو حق پر جانتا اور انکی نجات کا عقیدہ رکھتا ہے۔اس گروہ کا حکم بھی پہلے گروہ والا ہے۔ کیونکہ جس طرح کفر اور شرک سے براء ت ضروری ہے اسی طرح کفر اور شرک کے حاملین سے بے زاری اور لاتعلقی بھی لازمی ہے۔

    پس موجودہ کفریہ اور شرکیہ عقائد کے ساتھ ان دیوبندیو ں کی نمازبھی مردود ہے اور جہاد بھی۔بہت سے لوگ طالبان دیوبندیوں سے بہت ہمدردی رکھتے ہیں حالانکہ یہ لوگ بہت ظالم ، بدعقیدہ اور اہل حدیث سے شدید بغض رکھنے والے ہیں۔سید طیب الرحمن زیدی حفظہ اللہ کے طالبان کے بارے میں زاتی مشاہدات پیش خدمت ہیں جو ہمارے دعویٰ پر مضبوط دلیل ہے۔ملاحظہ ہو:

    طالبان کا جہاد

    راقم جہاد سے عرصہ 12 سال منسلک رہا ہے۔ قریب سے تمام افغانی تنظیموں کو دیکھا ہے۔کشمیر کی وادی میں کشمیریوں کی جہادی تنظیموں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔

    وہ وقت کبھی نہیں بھولتا:
    01۔ جب طالبان دیوبندیوں نے افغانستان میں عرب کے شہزادوں کو کنڑ میں چھری کے ساتھ ذبح کیا تھا۔
    02۔ جب طالبان دیوبندیوں نے شیخ جمیل الرحمن رحمہ اللہ (امیر جماعت الدعوۃ والسنتہ افغانستان) کو گولی مار کر قتل کردیا تھا۔
    03۔ جب طالبان دیوبندیوں نے مال غنیمت سمجھ کر سلفیوں کا مال لوٹ لیا تھا۔
    04۔ جب طالبان دیوبندیوں نے صوبہ کنڑ کی اسلامی حکومت کا خاتمہ کردیا تھا۔
    05۔ جب طالبان دیوبندیوں نے مدارس و مساجد اور قرآن کو جلادیا تھا۔
    06۔ جب طالبان دیوبندیوں نے بٹگرام میں اہل حدیث مسجد کو آگ لگا دی تھی۔
    07۔ جب طالبان دیوبندیوں نے بٹگرام کی مسجد کے میڑیل کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹ لیا تھا۔
    08۔ جب طالبان دیوبندیوں نے عبدالحکیم شہر موصوف کی مسجد کو آگ لگا دی تھی۔
    09۔ جب طالبان دیوبندیوں نے عبدالحکیم شہر کو تین دن تک اہل حدیث کی دشمنی میں سیل رکھنے کی کوشش کی تھی۔
    10۔ جب طالبان دیوبندیوں نے میلسی شہر میں مسجد توحید اہل حدیث پر حملہ آور ہونے کے لیے بریلویوں کے ساتھ اجتماعی جلوس کا اعلان کیا تھا۔
    11۔ جب طالبان دیوبندیوں نے مرکز اہل حدیث2 /g-11 اسلام آباد پر حملہ کردیا تھا۔
    12۔ جب طالبان دیوبندیوں نے حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔
    13۔ جب طالبان دیوبندیوں کے مفتی عبدالسلام نے کہا تھا افغانستان میں بھی تمہیں ماراتھا اب پاکستان میں بھی تمہیں ماریں گے۔
    14۔ جب طالبان دیوبندیوں نے فجر کی نماز کے وقت دکتور سید طالب الرحمن حفظہ اللہ پر قاتلانہ حملہ کیاتھا۔
    15۔ جب طالبان دیوبندیوں نے کراچی کی جامع مسجد اور مدرسہ جامعہ الدراسات پر قبضہ کر لیا تھا۔
    16۔ جب طالبان دیوبندیوں نے ایبٹ آباد میں مسجد اہل حدیث کی تعمیر اپنے دور حکومت میں رکوائی تھی۔
    17۔ جب طالبان دیوبندیوں نے ایبٹ آباد کی مسجد اہل حدیث پر تعمیر کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔
    18۔ جب پاکستانی طالبان دیوبندیوں نے افغانی طالبان کے ساتھ مل کر شاہ خالد کو قتل کیا تھا۔
    19۔ جب پاکستانی طالبان نے شاہ خالد کے معسکر کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹ لیا تھا۔
    20۔ جب طالبان دیوبندیوں نے شیخ عبدالعزیز نورستانی حفظہ اللہ کو کئی ماہ تک قید وبند کی مصیبت میں مبتلا کیا تھا۔
    21۔ جب طالبان دیوبندیوں نے مفتی عبدالرحمن رحمانی رحمہ اللہ کو اور ان کی بیوی محترمہ کو ذود کوب کیا تھا۔
    22۔ جب طالبان دیوبندیوں نے افغانستان میں رفع الیدین کرنے پر ہاتھ اور انگلی شہادت حرکت دینے پر انگلی کاٹ دی تھی۔
    23۔ طالبان کی حکومت میں جب سلفی علماء کا وفد ہوٹل کے کمرے میں بند نماز پڑھتا تھاکہ طالبان اس نماز کو پسند نہیں کرتے فتنہ کا ڈر ہے۔
    24۔ طالبان حکومت کے قائم ہونے کے بعد پاکستان کے دیوبندیوں نے علی الاعلان کہنا شروع کردیاتھا ’’اب سلفیوں تمہاری باری ہے‘‘ کیا طالبان کی حکومت کا قیام سلفیت کے خاتمے کا پیغام ہے۔
    (نماز میں امام کون؟ از سید طیب الرحمن زیدی، صفحہ 147)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. followsalaf

    followsalaf -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 28, 2011
    پیغامات:
    236
    السلام علیکم بھائی۔

    جزاک اللہ خیرا!

    اکثر لوگ انہیں اہل توحید میں سے سمجھتے ہیں حالانکہ یہ لوگ اہل توحید کے دوست ہو ہی نہیں سکتے۔

    کیا یہ کتاب (نماز میں امام کون؟ از سید طیب الرحمن زیدی) نیٹ پر دستیاب ہے یا ہو سکتی ہے تو لنک مہیا کردیں۔
     
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    شکریہ ۔ تلخ حقیقت ہے ۔ شاید کچھ لوگوں کو ہضم نہ ہو ۔ خاص کر عرب شہزادوں اور انگلی شہادت حرکت دینے پر انگلیاں کاٹ دی گئی تھیں ۔ پھر بھی لوگ اہل بدعت اور تکفیریوں کو خوش کرنے کے لیے اہل بدعت سے تعامل جیسی کتابیں لکھتے ہیں ۔
    یہ عنوان آپ نے خود دیا ہے یا یہ بھی صاحب تحریر کا دیا ہوا ہے ؟
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    ٍصرف ایک کتاب کو سلفی علما کا متفقہ موقف نہیں سمجھا جا سکتا۔ بہت سے جلیل القدر سلفی علما اس کے برعکس موقف رکھتے ہیں۔
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    درست ۔ اسی طرح ''اہل بدعت سے تعامل '' جیسی کتابوں کو بھی سلفی علماء کا متفقہ موقف نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اس طرح کی کتابیں اہل ایمان کے ایمان کو ثابت کرنے کے لیے کسوٹی ہو سکتی ہیں ۔ اہل بدعت کو چھوڑ دیا اور اہل ایمان کو ذبح کردیا ۔
     
  6. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
    آپا جی آپ ذرا وہ کتاب پڑھ لیں، ان شاء اللہ یہ معلوم ہو جائے گا کہ اس کتاب پر تقاریظ کس کس عالم دین کی ہیں اور اس میں‌مضامین کس کس عالم دین کے ہیں۔ پھر ہم دیکھیں گے کہ جید علماء کا متفقہ موقف کیا ہے؟؟؟

    ویسے اس حوالے سے کبھی مندرجہ ذیل علماء‌کا موقف ضرور پڑھ لیجیے گا۔
    1-شیخ بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ
    2-حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ
    3-علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ
    4-حافظ عبدالمنان نورپوری رحمہ اللہ
    5-شیخ زبیر علی زئی حفظہ اللہ
    اس کے علاوہ بھی بہت سے علماء کا موقف تحاریر و تقاریر میں موجود ہے۔ ان شاء اللہ تسلی ہو جائے گی۔
     
  7. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,848
    جزاکم اللہ خیرا و احسن الجزاء
     
  8. ابوعمر

    ابوعمر محسن

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 23, 2007
    پیغامات:
    171
    اللہ تعالیٰ ہمیں دونوں طرف کے متشددین سے بچائے آمین
     
  9. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
    ذرا ان متشددین کے نام بھی لکھ دیں محترم
     
  10. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    774
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!

    یہ عنوان میں نے دیا ہے۔ بلکہ آغاز عنوان سے ’’طالبان کا جہاد‘‘ تک میرا مضمون ہے۔ اپنے مضمون کی تائید میں، میں نے ''نماز میں امام کون؟‘‘ نامی کتاب سے طیب الرحمن زیدی حفظہ اللہ کا ایک اقتباس ”طالبان کا جہاد‘‘ کے نام سے نقل کیا ہے۔
     
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    بھیا کسی کے مطالعے کے بارے میں اندازے لگانے کی بجائے فرمائیے کہ اس بات سے کوئی انکار کر سکتا ہے ’’ کہ یہ تمام سلفی علما کا متفقہ موقف نہیں ‘‘ اختلاف بہرحال موجود ہے اور دونوں جانب محققین ہیں جن کا احترام سر آنکھوں پر ۔ ہمیں دونوں جانب کا موقف پڑھنا اور سمھجنا چاہیے ۔
    اس موضوع پر اردو مجلس پر بحث ہو چکی ہے
    اہل بدعت وفسق کے پیچھے نماز کے بارے میں صحیح سلفی مؤقف - URDU MAJLIS FORUM
    دین میں غلو - از شیخ الحدیث مولانا عبد الغفار حسن - URDU MAJLIS FORUM
     
  12. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    نہی‫‫ں ابوعمر بھائی ، میرے نزدیک اس میں تشدد نہیں ۔ کیونکہ یہ رد ہے اور رد میں ایسے تشدد کا ہونا عام بات ہے ۔
    ویسے مجھے تو آج تک تشدد کی درست تعریف نہیں ملی ۔ شاید جو بات اپنے مذہب ، مسلک اور جماعت کے خلاف ہو وہ تشدد ہوتی ہے ؟؟ سلف صالحین سے تشدد پر کوئی اثرکسی کے علم میں ہو توشیئر کریں ۔
     
  13. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    اصل عنوان '' طالبان کا جہاد '' تھا !!طالبان میں صرف دیوبندی تو نہیں تھے اور پھر بہت سی جماعتیں تھیں تھے ۔اس لیے آپ کو عنوان تبدیل نہیں کرنا چاہے تھا ۔
     
  14. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    کسی بھی داعی کے ایک ایک لفظ سے یہ بات عیاں‌ہوجاتی ہے کہ وہ متعصب یا، متشدد ہے، یا واقعی انسانیت کے لئے درد مند دل لیکر اپنی آخرت کی کامیابی کے لئے سرگرداں‌رہکر اپنے الفاظ میں‌شیرینی پیدا کرکے، انسانیت کو اسلام کی جانب راغب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔، علم کی انتہا بھی ہوجائے، لیکن اسکا تبلیغ کا انداز دوسروں‌کے لئے تکلیف کا باعث بنے تب وہ تبلیغ پتہ نہیں‌کیسی تبلیغ ہے، وہ چاہے دیوبندی کے نام سے ہو یا طالبان کے ، سلفی کے نام سے ہو یا دنیا کے کسی بھی فرقہ کے نام سے، قران و حدیث کو درمیان میں رکھ کر جب اصلاح یا رد کی کوشش ہو وہاں اخلاق کا جامہ کیسے چھوٹتا ہے، یہ بات سمجھ سے باہر ہے۔، اللہ سبھی کو ہدایت سے نوازے۔۔آمین ثم آمین
     
  15. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    میرے نزدیک تشدد سرے سے جہالت ہے، چاہے وہ رد میں‌ہو یا کسی بھی شکل میں۔
     
  16. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    آپ کے نزدیک ایسا ہے ۔ ۔ ۔ شکریہ رائے دینے کا

    کوئی اور جو تشدد کی تعریف بیان کرسکے یا کم ازکم سلف صالحین کا کوئی قول ہی نقل کردے ۔
     
  17. زاہد محمود

    زاہد محمود -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 5, 2007
    پیغامات:
    179
    السلامُ علیکم! الحمدللہ دیوبندی اللہ کی توحید کو قائم کرنے کے لیے جہاد کررہے ہیں۔ الحمد للہ دیوبندی اللہ ہی کو حاجت روا، مشکل کشاء، عالم الغیب، حاضر وناضر مانتےہیں۔ اور اسی توحید کے لیے جہاد کررہے ہیں۔
     
  18. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    وعلیکم السلام ! اللہ کو حاضر ناضرمانتے ہیں یعنی اللہ ہر جگہ موجود ہے ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  19. ابو جزاء

    ابو جزاء -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 11, 2012
    پیغامات:
    597
    طالبان کی کہانی ایک سلفی عالم کی زبانی

    فضیلۃ الشیخ غلام اللہ رحمتی سے مجلۃ البیان کی گفتگو اختصار کے ساتھ پیش خدمت ہے



    شیخ غلام اللہ رحمتی کا تعارف خود ان کی اپنی زبانی :

    میرا نام غلام اللہ رحمتی ہے، میرا تعلق افغانستان کے علاقے قندوز سے ہے۔ میں نے دیوبندی مدارس سے سند فراغت حاصل کی اور اس کے بعد شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ، ابن قیم اور محمد بن عبدالوہاب رحمہم اللہ کی کتب کا مطالعہ کیا اوراس طرح اہل سنت کے مسلک کو اختیار کیا۔


    اس سچے عقیدے کو قبول کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ تو فیق دی کہ میں نے اپنے علاقے قندوز میں اس عقیدہِ حقہ کی تبلیغ شروع کی ،جس کے نتیجے میں مجھے مسلسل دس سال تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔ یہ ظاہر شاہ کے دور ِحکومت کی بات ہے۔ مجھ پریہ الزام لگایا گیا کہ میں وہابی اورغیر مقلد ہوں اور صوفیت کے سلسلوں کا منکر ہوں۔ قندوز میں میرا مدرسہ بھی تھا جہاں میں دعوت و تدریس کا کام کیا کرتا تھا۔ آخر کار دس سال بعدمجھے جیل سے آزادی ملی۔ تب میں نے پاکستان کی طرف رختِ سفر باندھا اور یہاں کوئٹہ میں قیام کیا۔ پاکستان کے شہر پشاور میں میرا ایک سلفی العقیدہ شاگرد تھا جس نے مجھ سے افغانستان میں تعلیم حاصل کی تھی اس کا نام شمس الدین تھا۔ اس نے پشاور میں ایک مدرسہ جامعۃ الاثریۃکی بنیاد ڈالی تھی۔ اسے جب میرے پاکستان آنے کا علم ہوا تو اس نے مجھ سے اپنے مدرسے میں تعلیم وتدریس کا فریضہ نبھانے کو کہا جسے میں نے قبول کیا اور اس طرح میں یہاں پشاور آگیا،اوراس مدرسہ میں کئی سال تک میں تدریس کا فریضہ نبھاتا رہا، یہاں تک کہ افغانستان میں جماعۃ الدعوۃ الی القرآن والسنۃ کے نام سے جماعت وجود میں آئی۔ اس جماعت کی تاسیس کے بعد میں اس کا رکن بن گیا اور شیخ جمیل الرحمن کی شہادت تک ان کے نائب کی حیثیت سے ان کے ساتھ رہا۔ اسی دوران میں روس نے افغانستان سے اپنی فوجیں نکال لیں ،روس کی شکست کے بعد میں پھر واپس پشاور آگیا اور یہاں میں نے دارالقرآن والحدیث السلفیۃ کے نام سے مدرسے کی بنیاد رکھی۔ اس وقت سے لے کر اب تک میں اسی مدرسہ میں تدریس کا فریضہ انجام دے رہا ہوں۔ والحمدللہ

    البیان :…آپ کا شیخ جمیل الرحمن سے تعلق کس طرح قائم ہوا ؟

    شیخ :…جب میں قندوز کی جیل میں گرفتار تھا تو مجھے بتایا گیا کہ کنہڑ میں ایک شخص ہے جواپنی دعوت میں توحید الوہیت پرخصوصی ترکیز کرتا ہے اور قبر پرستوں کا رد کرتا ہے اس کانام جمیل الرحمن ہے۔ جب میں پشاور آیا تو مجھے پتا چلا کہ شیخ ایک پاکستانی عالم مولانا محمد طاہر کے شاگرد ہیں جو کہ ایک حنفی ،ماتریدی ،نقشبندی اور دیوبندی عالم تھے ،مگر اس کے باوجودوہ تو حید الوہیت پر خاص توجہ دیتے تھے۔ شیخ اپنے اس استاد سے متاثر ہوئے اور اس کے بعد انہوں نے امام ابن تیمیہ اور ابن قیم رحمہم اللہ کی کتابوں کا مطالعہ شروع کر دیا جس کے نتیجے میں وہ اہل سنت والجماعت کے راستے اور طریقے کے داعی بن گئے۔ میں شیخ جمیل الرحمن کو ملا اور میں نے ان پر زور دیا کہ سلفیوں کی ایک الگ سے جماعت ہونی چاہیے لیکن اس وقت انہوں نے میرے مشورہ پر خاص توجہ نہ دی مگرجب انہیں حکمت یار کی حزب اسلامی کی جانب سے کنہڑ کی امارت سے معزول کیا گیا تو تب انہوں نے میرا مشورہ مان لیااس طرح شیخ اور میں نے مل کر جماعۃ الدعوۃ الی القرآن والسنہ کی بنیاد رکھی۔

    البیان: …روس کے نکلنے کے بعد وہاں کس قسم کی حکومت اور حالات پیدا ہوئے ؟

    شیخ :…روس کے جانے کے بعد صبغۃ اللہ مجددی کی دو ماہ کے لیے حکومت قائم ہوئی۔ یہ انتہائی کمزور حکومت تھی جس کا کنٹرول عملاً ایک چھوٹے سے علاقے تک محدود تھا باقی احکامات مسعود اور دوستم کے چلتے تھے۔ مجددی کی حکومت کے دوران جماعۃ الدعوۃ کی شوریٰ کے ارکان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ انہیں اُس کی حکومت میں ضم ہوجانا چاہیے۔ لیکن میں نے ان کے اس فیصلے کی مخالفت کی کیونکہ صبغت اللہ مجددی ایک صوفی اورخرافاتی انسان تھا جو شرک اکبر کی حمایت میں واضح لکھا کرتاتھا۔ اس کی شرکیہ کتابوں میں متن بیانیۃ صبغۃ اللہ مجددی نامی ایک کتابچہ بھی تھا۔جس میں اس نے لکھا کہ اس کائنات کے چار زاویے ہیں ہر زاویہ میں اللہ کے اولیاء میں سے ایک ولی موجود ہوتاہے جسے قطب یا ابدال کہا جاتا ہے۔ یہ تعداد میں چار ہیں جو کائنات میں تصرف کا اختیار رکھتے ہیں۔ میں نے اُس وقت صبغت اللہ مجددی کو فون کیا اور اس سے بات کی‘یہ اُس وقت کی بات ہے کہ جب شیخ جمیل الرحمن زندہ تھے۔میں نے اُسے کہا کہ مجھے پتا چلا ہے کہ تم نے فلاں نام سے ایک کتاب لکھی ہے ،کیا یہ صحیح ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں ! میں نے لکھی ہے کیا آپ کو چاہیے ؟میں نے کہا مجھے کتاب تو نہیں چاہیے البتہ اس کتاب پرمیرے کچھ ملاحظات ہیں اور میں اس بارے میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ اُس نے مجھ سے میرا نام دریافت کیا میں نے اسے کہا میں غلام اللہ قندوز سے ہوں۔ وہ مجھے میرے نام سے جانتاتھا۔ وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا۔ اوہ !میں نے تجھے پہچان لیا ہے تُو تو وہ وہابی ہے جس نے افغانستان میں مسلمانوں کے عقائد خراب کیے ہیں اور اب تو پاکستان میں آنے والے مہاجرین کے عقائد خراب کرر ہا ہے۔ یہ کہتے ہوئے اس نے فون بند کر دیا۔

    البیان : …اچھا آپ ہمیں برہان الدین ربانی کی حکومت کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کریں۔

    شیخ :…مجددی کے بعد ربانی صرف چھ ماہ کے لیے اقتدار کی کرسی پرجلوہ افروز ہوا۔لیکن اس کا افغانستان تو کیا کابل پر بھی کنٹرول نہیں تھا۔ اس کی حالت تو یہ تھی کہ وہ خود بھی کابل سے باہر کسی دوسرے شہر نہیں جا سکتا تھا کیونکہ وہاں مختلف گروہوں کے مابین جنگ جاری تھی۔ خود کابل شیعہ اور کیمونسٹوں کے درمیان کئی ٹکڑوں میں بٹا ہوا تھا۔ اس کے دور میں کوئی ایسی اچھی قابل ذکربات نہیں ہے جو اس نے کی ہو۔ بلکہ اس کے اور حکمت یار کے درمیان جنگ ہوئی جس کے نتیجے میں۵۰ہزار سے زیادہ مسلمان قتل ہوئے۔ اسی طرح عبد الرب رسول سیاف اور شیعہ کے مابین،ربانی اور دوستم کے مابین بھی جنگ ہوئی۔

    ربانی کے زمانے میں فحاشی عریانی اور ظلم و زیادتی عروج پر پہنچ چکی تھی۔ لوگ اپنے گائوں سے دوسرے گائوں جاتے ہوئے ڈرتے تھے کہ کہیں انہیں قتل نہ کر دیا جائے یا ان کا مال و متاع اور عزت و آبرو لوٹ نہ لی جائے۔ اسی طرح اس کے عہدحکومت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا بھی کوئی ادارہ نہیں پایا جاتا تھا جو فساد کو کم کرنے کی کوشش کرتا۔

    البیان : … کیا ربانی نے نفاذ شریعت کے لیے کو ئی اقدامات کیے ؟

    شیخ :…نہیں ،نہیں ! اس کے پاس اتنی طاقت ہی نہیں تھی بلکہ بسا اوقات تو معاملہ یہاں تک جا پہنچتا تھا کہ وہ اپنے گھر سے باہر نکلنے سے قاصر ہوتا تھا چہ جائے کہ وہ شریعت کا نفاذ کرتا !۔اس کے دور میں درباراور مزار آباد تھے جہاں لوگ عبادت کی ہر قسم کو بجا لاتے ہوئے ان کی بندگی کرتے تھے۔ اُس نے اس مسئلے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔

    اس کے دور میں ظلم اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا نہ جانیں امن میں تھیں ،نہ مال اور نہ ہی عزتیں۔ اُس نے شریعت کے نفاذ کی کوئی کوشش نہیں کی۔ بلکہ جب حکمت یار وزیر اعظم بنا تو میں نے خود ریڈیو پر حکمت یارکا یہ اعلان سنا کہ سینما کے کردار کو ختم ہونا چاہیے اور فساد کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ اسی طرح اُس نے عورتوں کے بن ٹھن کر باہر نکلنے پر بھی پابندی عائد کی۔ یہ سن کر بہت سے لوگ خوش ہوئے کہ اب یہ کوئی اچھا کام کرے گا لیکن اگلے دن مسعود جو کہ افغانستان کا حقیقی حاکم تھا اس نے یہ اعلان کیا کہ کل حکمتیار نے جو اعلان کیا ہے یہ اس کی ذاتی رائے ہے حکومت کی یہ رائے ہر گز نہیں ہے۔ یہ تھا ربانی کا دور ِحکومت۔

    البیان :…کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ بدترین حالات طالبان کے وجود میں آنے کا سبب بنے ؟

    شیخ :…جی ہاں ! طالبان کی تنظیم انہی حالات کی بدولت وجود پذیر ہوئی۔ طالبان ربانی کی حکومت کی وجہ سے سامنے آئے کہ جب برائی اور ظلم پھیل چکا تھا۔ میں آپ کے سامنے طالبان کے وجود میں آنے کاایک سبب بیان کروں گا۔ محمد عمر ایک طالب علم تھے لیکن ان کے پاس بہت زیادہ علم نہیں تھا۔ آپ پہلے ایک جہادی تنظیم میں شامل ہو کر جہاد کرتے رہے۔ البتہ روس کے واپس لوٹ جانے کے بعد آپ نے یہ سوچ کر کہ اب روس جا چکا ہے اور مجاہدین کی حکومت قائم ہو چکی ہے ہر چیز چھوڑدی اورپا کستان آ کر پھر سے علم حاصل کرنے لگے۔ اسی اثناء میں ایک دن آپ کی مسجد میں آپ کا ایک رشتہ دارافغانستان سے آیا جب وہ آپ کو ملا تو رونے لگا۔ محمد عمر نے اس سے پوچھا کیا کوئی فوت ہو گیا ہے ؟ تو کیوں روتا ہے ؟وہ کہنے لگا جس بات پر میں رو رہا ہوں ، اس کے سامنے کسی کی کیا سب کی موت بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ یہ آدمی رورجان سے تعلق رکھتاتھاجو کہ وسطِ افغانستان کاایک مرکزی صوبہ ہے۔ وہ محمد عمر کو اپنا قصہ سنانے لگا۔ کہتا ہے کہ میری بیوی بیمار ہو گئی تو میں نے اسے علاج کے لیے پاکستان لانے کا پروگرام بنایا۔ اس کے لیے ایک کار لی اور اپنا سفر شروع کیا۔ راستے میں ہم جس علاقے سے بھی گزرے وہاں ہر علاقے کا الگ الگ سردار تھا جس کی وہاں حکومت قائم تھی۔ میں جس علاقے سے بھی گزرتا اس علاقے کا سردار مجھ سے اور ہر گزرنے والے سے تاوان اور ٹیکس طلب کرتا ،میں ایسے تفتیش کے کئی مقامات سے گزرا کہ جہاں مجھے پیسے ادا کرنے پڑے آخر کار مجھے تفتیش کے آخری مقام پر روکا گیا اور وہاں کے سردار کی طرف سے مجھ سے پیسہ ادا کرنے کو کہا گیا۔ لیکن اس وقت میرے پاس تمام پیسے ختم ہو چکے تھے۔ میں نے انہیں بتایا کہ میرے پاس جتنے پیسے تھے وہ میں پیچھے دے کر ختم کر چکا ہوں ،میری بیوی مریض ہے اور میں پاکستان اس کا علاج کروانے کے لیے جا رہا ہوں۔ وہ کہنے لگا اپنی بیوی کو میرے پاس چھوڑ دے میں اس کا علاج کر دیتا ہوں۔ میں نے کہا کیا مطلب کیا تمہارے پا س کوئی ہسپتال ہے ؟ وہ کہنے لگا اسے تین راتوں کے لیے میرے حوالے کر دو، پھر تم جب آئو گے تو یہ صحت مند ہو چکی ہو گی۔ یہ سن کر میں اس سے لڑنے لگا۔ اتنے میں اس کے آدمی آئے اور انہوں نے مجھے خوب مارا حتی کہ انہیں یقین ہو گیا کہ میں مر چکا ہوں تو انہوں نے مجھے ایک کمرے میں پھینک دیا اور میری بیوی کو پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ رات کے اندھیرے میں جب مجھے ہوش آیا تو میں نے اپنے آپ کو اکیلا پایا ،اس طرح میں ان کے چنگل سے جان بچا کر آپ تک پہنچا ہوں۔ملا عمر نے اس کا یہ واقعہ سن کر اسے کہا تم یہاں رکو میں چھ دنوں کے بعد یہاں سے قندھار جائوں گا ،وہاں اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرنے کے بعد تمہیں ملوں گا۔ جو کچھ تم کہہ رہے ہو یہ تو اسلام کے خلاف انقلاب ہے۔

    ملا عمر اور روس کے خلاف جہاد کرنے والے ساتھیوں کا ایک گروپ افغانستان گیا۔ ان کی تعداد ۱۷ تھی۔ یہی لوگ بعد میں ملا عمر کی حکومت کے وزراء بنے۔ ملا عمر نے انہیں جمع کرکے اس آدمی کا قصہ سنایا اور پھر کہا:ہم نے کئی سال جہاد کیا ہے کیا ہمارے جہاد کا نتیجہ یہ نکلنا تھا جو ہم سن رہے ہیں کہ کس طرح یہاں ظلم و برائی پھیلی ہوئی ہے۔ میرے خیال میں یہ وقت اس علم پر عمل کرنے کا ہے جو ہم نے حاصل کر لیا ہے نہ کہ مزید علم حاصل کرنے کا۔ یہ تمام کے تمام جہاد کے دوبارہ سے کھڑا کیے جانے پر متفق ہوگئے۔ انہوں نے تیاری کی اپنا اسلحہ لیا اور اُس نقطہ تفتیش پر حملہ کر دیا کہ جہاں کے سردار نے اس مظلوم کی بیوی کو اغوا کیا تھا۔ طالبان نے ان کے کچھ لوگوں کو قتل کیا کچھ کو قیدی بنایا ،ان کا وہ سردار بھی مارا گیا جس نے بدترین ظلم کیا تھا ،جب وہ سردار قتل ہو گیا تو اس کے ساتھ ۵۰۰ جنگجو تھے ،وہ سارے کے سارے طالبان کے ساتھ مل گئے۔ وہ کہنے لگے کہ ہمارا یہ قائد فاسق و فاجر آدمی تھا ہم اس کی مخالفت نہیں کر سکتے تھے کیونکہ جو بھی اس کی مخالفت کرتا تھا یہ اسے قتل کروا دیتا تھا۔ تم نے ہمیں اس سے نجات دے کر بہت ہی اچھا کیا اب ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ اس کے بعد ان طلبہ نے ایک اور ظالم سردار سے نمٹنے کا فیصلہ کیا جو ظلم و فساد میں مشہور ہو چکا تھا۔ لیکن اُس سردار کو جب ان طالبان کے آنے کا پتہ چلا تو وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگ گیا۔ اس طرح اس کا لشکر بھی طالبان کی صفوں میں مل گیا۔ جب یہ طالبان ان مہمات سے فارغ ہو کر واپس قندھار کی طرف پلٹے تو قندھار کی حکومت انہیں بغیر لڑائی کیے مل گئی۔ اس کے بعد انہوں نے صوبہ ہلمند پر بھی قبضہ کر لیا۔ اس وقت افغانستان اور پاکستان کے سیاسی حالات کشیدہ تھے۔ کیونکہ مسعود پاکستانی حکومت کا شدید مخالف تھا وہ اسلامی ممالک کی بجائے روس کی طرف مائل تھا۔ اسی طرح وہ فرانس کا بھی بڑا چہیتا تھا ،اس کے پاس مشورے دینے کے لیے باقاعدہ فرانسیسی آدمی موجود رہتے تھے۔ پاکستانی حکومت اس بات سے خوفزدہ تھی کہ کہیں ربانی کی حکومت کا عرصہ طویل نہ ہو جائے جو کہ روس کی دوست تھی کیونکہ روس انڈیا کے ساتھ تعاون کرتا تھا جبکہ پاکستان انڈیا کا دشمن تھا۔اس میں پاکستان کا بڑا نقصان تھا۔ جب پاکستان کو ملا عمر کی تنظیم کا علم ہوا تو اس نے ان کے ساتھ مددو تعاون کیا۔

    مختلف صوبوں پر ملا محمد عمر کی فتوحات کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ وہ حکمت یار کے صوبہ تک جا پہنچے۔ اُس وقت حکمت یار اور ربانی کے درمیان شدید جنگ جاری تھی۔ ربانی نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ملا عمر سے رابطہ کیا اور وہ مسعود اور سیاف کے ہمراہ طالبان کی قیادت سے ملاقات کے لیے آیا۔ انہوں نے طالبان کو مرحبا کہا اور کہا کہ تم ہی امارت کے حقیقی حق دار ہو کیونکہ تم نے بہت سے اچھے کام کیے ہیں۔ ہم نے یہ ملاحظہ کیا کہ طالبان جس بھی علاقے پر قبضہ کرتے وہ وہاں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی کمیٹی بناتے ہیں ،اللہ کی حدود کو قائم کرتے ہیںجس کی وجہ سے امن و مان بہت جلد پھیل جاتا ہے۔انہوں نے جو امن قائم کیا وہ اس امن سے اگر زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں کہ جسے (ترقی یافتہ ) ممالک نے اپنے اپنے ملکوں میں قائم کیا ہے۔ اس لیے سارے لوگ ان کے ان کاموں سے بے حد خوش تھے کیونکہ وہ جنگ و قتل کو دیکھ دیکھ کر تنگ آچکے تھے۔ ربانی نے طالبان کے ساتھ وعدہ کیا کہ اگر وہ شر و فساد پھیلانے والے ان لوگوں کا خاتمہ کرتے ہوئے کابل تک آپہنچے تو وہ ان کو حکومت سپرد کرتے ہوئے اقتدار چھوڑ دے گا۔مسعود اور سیاف نے حکمت یار کے خلاف لڑنے کے لیے طالبان کو اسلحہ اور مال بھی دیا۔ تھوڑی سی جنگ کے بعد حکمت یار لغمان کی طرف بھاگ گیا اور اس نے اپنی فوج کو بھی وہاں سے نکلنے کو کہا لیکن اس کی فوج کی کثیر تعداد طالبان کے ساتھ شامل ہو گئی۔ اس کے بعد یہ سب کابل کی طرف پیش قدمی کرنے لگے۔ کابل کے قریب پہنچ کر طالبان نے ربانی کو اس کا وعدہ یاد دلایا اور اس پر عمل کرنے کو کہا۔ یہ سن کر ربانی نے کہا تم لوگ پاگل ہو ؟تم مدارس کے طالب علم حکومت حاصل کرنا چاہتے ہو؟میں قانونی حاکم ہوں میرے ملک سے باہر اور ملک کے اندر رئوساء اور قیادتیں ہیںتمہیں چاہیے کہ تم اقتدار کو ہمارے حوالے کر کے واپس اپنے مدرسوں میں چلے جائو!۔جب طالبان نے یہ سنا تو پھر طالبان اور ربانی کے درمیان جنگ کا آغاز ہو گیا۔ اسی عرصہ میں طالبان نے شیعہ جماعت کے قائد علی مزاری کو قتل کر دیا جو کہ حکمت یار کے بعد سب سے بڑی قوت تھی۔ کابل میں طالبان اور شیعہ کے مابین جنگ ہوئی ،اسی طرح طالبان اور سیاف کے درمیان جنگ ہوئی ،نیز طالبان کی مسعود اور ربانی کے ساتھ بھی جنگ ہوئی۔ اس جنگ کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ ربانی ایک بار پھر سے حکمت یار کے ساتھ مصالحت کرنے پر مجبور ہوا ،اس نے اُس کی طرف ایک وفد بھیجا اور یہ پیغام دیا کہ ہم دونوں بھائی ہیں اور طالبان ہمارا مشترک دشمن ہے۔ اس نے حکمتیار کو کابل بلا کر اسے وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بٹھا دیا۔ لیکن یہ دوستی کچھ عرصہ سے زیادہ نہ چل سکی کیونکہ حکمتیار نے برائی اور فساد کے خاتمہ پر زور دیا اور حکومتی اداروں میں عورتوں کی تعداد کو کم کرنے کو کہا جسے مسعود نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس مرتبہ طالبان کے ساتھ جنگ میں طالبان کا پلڑا بھاری رہا اور انہوں نے کابل پر قبضہ کر لیا اور وہاں سے ربانی اور حکمت یار کو شمال کی طرف نکال دیا۔

    البیان : …طالبان کے کابل داخل ہونے کے بعد کے حالات پرذرا روشنی ڈالیے۔

    شیخ :…کابل پر قبضے کے کچھ عرصے بعد طالبان نے درباروں اورمزاروں پر ہونے والے شرک کے خاتمہ کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا ان مقامات پر کیے جانے والے اعمال شریعت کی رو سے حرام ہیں۔ مزار شریف کے علاقے میں علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ایک قبر ہے جس کا نام ’’سخی‘‘ ہے۔ اسے سخی اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہاں سے وہ سب ملتا ہے کہ جس کا سوال کیا جائے۔ طالبان کے قبضے سے پہلے اس دربار پر آدمی ،عورتیں ،معذور ، نابینے غرض ہر طرح کے حاجت مند اور مریض حاضری دیا کرتے تھے ان کایہ عقیدہ تھا کہ یہاں حاجات پوری ہوتی ہیں اور شفا ملتی ہے۔ اسی طرح افغانستان میںایک رسم تھی جو میری ولادت سے بھی پہلے سے چلی آرہی تھی اس کا بھی طالبان نے خاتمہ کیا۔ ملک کا ہر بادشاہ برج حمل کے پہلے دن (جو کہ نیروز کے ایام کابھی پہلا دن ہے ) سخی دربارکے نام کا جھنڈا بلند کیاکرتا تھا۔ان کا یہ یقین تھا کہ اگر جھنڈا بلند ہونے کے بعد نہ گر ے تو یہ حکومت کے دوام اور اس کے قائم رہنے کی علامت ہے اور اگر وہ گر جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب اس کی حکومت گرنے والی ہے۔ ان دنوں میں تین چھٹیاں کی جاتی تھیں ،جن میں لوگ مزار کی زیارت کے لیے آتے تھے۔ ان دنوں وہاں اتنا رش ہوتاتھا کہ جیسے حج کے دنوں میں مکہ المکرمہ میں ہوتاہے۔ طالبان کے عہد میں جب یہ دن قریب آئے تو طالبان نے یہ اعلان کردیا کہ اس رسم کو منانا حرام اور ناجائز ہے۔یہ چونکہ اسلام کے مخالف ہے اس لیے آج کے بعد ان تین دنوں میں کوئی بھی مزار میں داخل نہیں ہو گا نہ ان دنوں میں چھٹی کی جائے گی ،اور جو کوئی اپنی ڈیوٹی سے غائب پایا گیا تواُسے اس کی نوکری سے فارغ کر دیا جائے گا۔ اس طرح طالبان نے اس شرکیہ رسم کا خاتمہ کیا اورایسا صرف کابل تک ہی محدود نہ تھا بلکہ طالبان نے پورے ملک میں شرک کو ختم کیا۔

    طالبان سے پہلے پورے ملک میں ایسی قبریں ہر جگہ نظر آتی تھیں جن کی لوگ عبادت کرتے تھے۔ لیکن جب طالبان آئے تو انہوں نے اس شرک سے لوگوں کو منع کر دیا۔ چنانچہ قبروں کی شرعی زیارت کی صرف جمعرات کے دن ظہر تا عصر اجازت دی گئی باقی اوقات میں قبروں کی زیارت کی اجازت نہ تھی۔ انہوں نے یہ اعلان کیا کہ جو کوئی ان قبروں کی زیارت اس مقصد کے لیے کرے گا کہ وہ ان سے مدد طلب کرے اور انہیں مشکلات کے حل کے لیے پکارے یا انہیں سفارشی بنائے یاپھر ان کا وسیلہ پکڑے تو یہ تمام امور حرام ہیں۔ ان کے مرتکب کی سزا یہ ہے کہ اسے جیل میں بند کیاجائے گا اوراسے مارا بھی جا سکتا ہے۔ اور اگر وہ تنبیہ کے باوجوداس شرک سے باز نہ آیا تو اسے قتل بھی کیا جاسکتا ہے۔

    البیان : …کیا یہ حالات دیکھنے کا آپ کو کوئی ذاتی تجربہ بھی ہوا یا آپ نے یہ حالات صرف لوگوں سے ہی سنے ہیں ؟

    شیخ :…جی ہاں ‘ مجھے خود بھی یہ حالات دیکھنے کا تجربہ ہوا ہے۔کابل میں ’شاھد شامشیراہ ‘نام کا ایک مزارہے۔اس لفظ کا مطلب ہے ’’دو تلواروں والے بادشاہ ‘‘۔اس بادشاہ کے بارے میں کہا جاتاہے کہ یہ اپنے دشمنوں سے دو تلواروں کے ساتھ لڑا کرتا تھا ‘ایک جنگ میں اس کی تلواریں ٹوٹ گئیں اور اسے شہید کردیا گیا۔یہ ایک مشہور و معروف دربار ہے جہاں لوگ ہر قسم کی عبادت غیر اللہ کے لیے بجا لاتے ہیں۔ربانی کے دور حکومت میں مجھے وہاں جانے کا اتفاق ہوا ‘میں نے وہاں دیواروں اور پتھروں پر شرکیہ اقوال اور کفریہ اشعار لکھے ہوئے پائے ‘ان میں ایک عبارت یہ بھی تھی ’’آپ کے سوا ہماری کوئی پناہ گاہ اورٹھکانہ نہیں اورنہ ہی کوئی بچانے والا ہے ‘‘۔تب میں ربانی کو ملا تھا اُس وقت وہاں شیخ سمیع اللہ بھی موجود تھے۔میں نے اسے کہا :’’ تم نے یہاں اسلامی حکومت کا اعلان کیا ہوا ہے کہ یہ اسلامی جمہوریہ ملک ہے ‘تم یہاں شرک کے ان مراکز کا خاتمہ کیوں نہیں کرتے ؟ربانی ہنستے ہوئے کہنے لگا :شیخ کیا تم آٹومیٹک اسلامی حکومت چاہتے ہو ؟تمہیں صبر کرنا چاہیے۔میں نے کہا : اس مقصد کے لیے کم از کم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ایک ادارہ ہونا چاہیے جو لوگوں کو اس شرک کی حقیقت سے آگاہی دے ورنہ لوگ شرک پر ہی مرتے جائیں گے۔ میری بات کا ربانی نے یہی جواب دیا :اسلامی حکومت آٹو میٹک نہیں ہوتی۔

    اس کے برعکس جب طالبان آئے تو انہوں نے اس قسم کے ہر شرک کا خاتمہ کردیا۔درباروں سے تمام شرکیات کو نکال باہر کیا ‘مزارات کے دروازے بند کیے ‘لوگوں کو سوائے شرعی زیارت کے ہر قسم کی زیارت سے روک دیا ‘اسی طرح انہوں نے عورتوں پر درباروں کی زیارت پر مکمل پابندی عائدکی۔اُس وقت پشاور میں یہ مشہور تھا کہ طالبان امریکی ایجنٹ ہیں۔افغانستان آنے سے قبل میں بھی یہی سوچا کرتا تھاکہ طالبان پاکستان اور امریکہ کے ایجنٹ ہیں۔طالبان کے بارے میں یہ بھی مشہور تھا کہ یہ قبر پرست ،مشرک اور بدعتی قسم کے اشعری اور ماتریدی ہیں۔یہ سب باتیں افغانستان آنے سے قبل میرے ذہن میں تھیں۔اسی لیے میں افغانستان چھپتے چھپاتے آیا کیونکہ میں ڈرتا تھا کہیں یہ قبر پوج مجھے قتل ہی نہ کردیں۔ میں چوری چوری اپنے ملک میں داخل ہوا۔اتفاق سے میں جس گاڑی میں میںآرہا تھا اس میں میرے ساتھ ایک آدمی ‘اس کی بیوی ‘ دو بچے اور ایک تکیہ کی طرح کا تھیلا تھا۔جب ہم کابل پہنچے توا س آدمی نے اپنا تھیلا ہوٹل کے دروازے کے سامنے رکھا اور اپنے بیوی بچوں کو اتارا اور چلا گیا ،میں بھی اس گاڑی سے اترا اور ایک ہوٹل میں رہائش رکھ لی۔اگلے دن جب میں اس ہوٹل کے سامنے سے گزرا تو میں نے دیکھا کہ اس آدمی کا وہ تھیلا ابھی تک وہیں پڑا ہوا تھا۔میں نے اس پر زیادہ غور نہیں کیا اور سوچا شاید یہ کوئی اور ہو۔پھر تین دن کے بعد میں دوبارہ وہاں سے گزراتو میں نے اُس تھیلے کو وہیں پڑا ہوا پایا۔میں نے ’شاھد شامشیراہ ‘‘دربار کی سیر کرنے کا پروگرام بنایا میرا خیال تھا کہ طالبان نے وہاں شرک و کفر کو مزید بڑھا دیا ہوگا اُسے دیکھنا چاہیے۔جب میں وہاں پہنچا تو میں نے دربار کے دروازے کو بند پایا میرے ساتھ چار دوست بھی تھے یہ سب کے سب طالب علم تھے۔میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک داڑھی والے بابے نے دروازہ کھولا ،اس کا چہرہ نہایت غمگین اور اداس تھا۔

    البیان : …معذر ت کے ساتھ …شیخ آپ نے تھیلے والی بات پوری نہیں کی ؟

    شیخ : … میں اُسی طرف آرہا ہوں ،میں اُسے بھولا نہیں ہوں۔ میں دربار میں جوتوں سمیت اندر داخل ہوگیا جب کہ طالبان سے پہلے جوتوں سمیت دربار میں داخل ہونا ممنوع تھا۔بابا ہمیں طالبان کے آدمی سمجھ کر خاموش ہو گیا۔ میں مزار میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا وہاں کوئی شرکیہ تختی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی شرکیہ چیز موجود ہے ‘سوائے ایک تختی کے جس پریہ حدیث نبوی لکھی تھی’’ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا ‘اس کی زیارت کرو یہ تمہیں آخرت یاد دلاتی ہیں۔‘‘ ساتھ ہی ایک اور تختی پر لکھا تھا :

    (من جاء الی ھذا متوسلاً بہ أو مستشفعاً بہ أو مستمداً بہ فجزاؤہ القتل)

    ’’جو کوئی یہاں اس لیے آیا کہ قبر والے سے مدد طلب کرے یا اسے وسیلہ ، سفارشی بنائے تو اس کی جزاء قتل ہے۔‘‘

    یہ دیکھ کر میں بے حد خوش ہوا۔اسی بات کا تو ہم پہلے ہی مطالبہ کرتے تھے۔میں نے اس درباری بابے سے پوچھا :زائرین کہاں ہیں ؟ یہاں جو تختیاں اور نذر کے صندوق تھے وہ کہاں گئے ؟ بابا سمجھا میں بھی کوئی قبر پرست ہوں جسے دربار کا یہ حال دیکھ کر دکھ پہنچا ہے۔کہنے لگا :خاموش ہو جائو اگر ان طالبان نے تیری باتیں سن لیں تو وہ تجھے قتل کر دیں گے ‘ان وہابی کافروں نے ان تمام چیزوں سے منع کیا ہوا ہے۔یہ سن کر میں بے حد خوش ہوا ‘پھر میں نے اُسے نصیحت کی اور دربار سے نکل کر بازار کی طرف چل پڑا۔میں نے وہاں کسی ایک عورت کو بھی بے پردہ نہیںپایا جبکہ اس سے پہلے جس کابل کو میں جانتا تھا اس میں بے پردگی عام تھی۔مگر جب طالبان آئے تو انہوں نے ان تمام برائیوں سے معاشرے کو پاک کر دیا۔عورتوں کا حکومتی اداروں میں نوکری کرنا ممنوع قرار دیا اور یہ اعلان کیا جو عورت کام کرنا چاہتی ہے اُسے اپنے گھر کی چار دیواری میں کام کرنا ہوگا اور حکومت اُسے اس کی تنخواہ دے گی۔میں نے دیکھا کہ انہوں نے گانے بجانے کو بھی ممنوع کیا۔

    کابل میں ایک ہفتہ گزارنے کے بعد میں نے واپس جانے کا پروگرام بنایا۔ میں اس جگہ پر آیا جہاں میں نے وہ تھیلا دیکھا تھا ‘اب کی بار وہاں تھیلا موجود نہیں تھا۔میں سے اس ہوٹل کے مالک سے پوچھا :یہاں کافی عرصے سے ایک تھیلا پڑا ہوا تھا اب وہ کہاں ہے ؟ اس نے کہا شیخ اس تھیلے کا بھی عجیب قصہ ہے۔میں نے کہا کیسے ؟ کہنے لگا یہ تھیلا ایک آدمی کا تھا جو پشاور سے یہاں آیا تھا ‘ اس کا گھر ہرات میں تھا۔جب وہ یہاں اترا تو وہ اپنا تھیلا بھول گیا اور اپنے گھر چلا گیا‘گزشتہ روز وہ اپنے گھر سے آیا اور اس نے یہ اپنا تھیلا اٹھایا۔اُس کا یہ تھیلا رسی کے ساتھ باندھا ہوا تھا جب اس نے اسے کھولا تو ہم نے دیکھا وہ پیسوں سے بھرا ہوا تھیلا تھا۔میں نے اس ہوٹل والے سے مذاق کرتے ہوئے کہا :’’تو اتنے عرصے کہا ںرہا تو نے یہ تھیلا کیوں نہ اٹھایا ؟وہ کہنے لگا شیخ طالبان ایسے بندے کو پکڑ لیتے ہیں ،اب چوری کی کوئی جرأت نہیں کرتا۔کیونکہ طالبان خود سامان رکھ دیتے ہیں پھر جو کوئی چوری کرے اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔

    جب میں پشاور واپس آیا تو میں نے خطبہ جمعہ میں کہا :’’طالبان اپنے پہلے حالات سے اب بہت بہتر ہیں ‘‘۔میرے بعض دوستوں کو اس بات کی اطلاع پہنچی تو وہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے :آپ کس طرح طالبان کی تعریف کرتے ہیں جب کہ وہ مشرک ہیں۔میںنے کہا : واللہ شي ء عجیب ! تم انہیں کس طرح مشرک کہتے ہو جب کہ انہوں نے شرک کے مراکز کو بند کیا۔یہ ربانی کو دیکھو جس نے اپنے دور حکومت میں نیروز کی عید کے موقع پر بذات خود مزار شریف کا جھنڈا بلند کیا۔

    میں نے انہیں کہا :وہ تو شرک کے مراکز بند کرنے والے ہیں اور تم وہ لوگ ہو جو کہتے تھے اسلامی حکومت آٹو میٹک طریقے سے قائم نہیں ہوتی ‘دوسری طرف طالبان نے حکومت ملتے ہی اس شرک سے منع کرتے ہیں پھر وہ کس طرح مشرک ہوئے ؟میں نے انہیں کہا : دنیا میں انسان کو دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے :رہنے کے لیے امن و امان، آخرت کے لیے ایمان۔ طالبان کے ایمان میں تو کوئی کمزوری تلاش کی جاسکتی ہے لیکن اللہ کی قسم انہوں نے امن و امان قائم کر دیا ہے۔ہمیں امید ہے کہ وہ ایمان کو بھی صحیح طور پر قائم کریں گے۔جبکہ تم نہ امن امان لائے اور نہ ایمان۔میری یہ بات افغانی مہاجرین کے مابین پھیل گئی۔

    البیان :… کیا آپ نے تحریک طالبان کے ارکان میں سے کسی سے ملاقات بھی کی؟

    شیخ : … جی ہاں ! میں دوبارہ افغانستان گیا اور وہاں طالبان کے بعض بھائیوں سے ملاقات کی۔میں نے انہیں عقیدہ و عمل کے اعتبار سے صالح پایا۔میں طالبان کے وزیر اعظم محمد ربانی رحمہ اللہ سے ملاجو اب فوت ہو چکے ہیں۔میں نے اس سے عجیب ایمانی باتیں سنیں‘ وہ افغانستان میں ۱۰۰ فیصد اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے ،اسی لیے انہوں نے شرک ،فسق و فجور کا خاتمہ کیا۔اس کا آغاز انہوں نے قندھار سے کیا۔ قندھار میں نبی ﷺ کی طرف منسوب ایک خرقہ تھا جسے احمد شاہ ابدالی بخاریٰ سے یہاں لایا تھا ‘اس خرقہ کی قولی ،مالی بدنی ہمہ قسم کی عبادت کی جاتی تھی۔یہ خرقہ ایک مشجب محفوظ پر رکھا گیا تھا جس کے نیچے خالی جگہ تھی۔لوگ اس کے نیچے اترتے ،اس کے گرداگرد طواف کرتے اور اسے تبرک کے لیے چھوتے۔جب طالبان نے قندھار پر قبضہ کیا تو انہوں نے اس خرقہ کو وہاں سے نکال دیا اور کہا کہ اس کے نبی ﷺ کے ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ لیکن چونکہ اس میں احتمال تھا کہ یہ آپ ﷺ کا ہی ہو اس لیے انہوں نے کہا یہ ہمارے پاس محفوظ ہے اور تمہارے لیے اس کا طواف کرنا ،اسے برکت کے لیے چھونا اور اس کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنا جائز نہیں ہے۔

    بھائی میں نے انہیں صالحین میں سے پایا۔اللہ کی قسم میں نے نہ تو طالبان کی بیعت کی ، نہ ان کے ساتھ کام کیا ،نہ ان میں سے کوئی یہاں میرے پاس آیا لیکن میں حق بات کہوں گا کیونکہ مسلمان کو حق بات ہی کہنی چاہیے ۔لوگ ان کے بارے میں افراط و تفریط کا شکار ہیں۔بعض نے کہا وہ سارے کے سارے ہی خالص سلفی ہیںجبکہ یہ بات غلط ہے۔بعض نے کہا وہ سب کے سب ہی مشرک ہیں ‘اللہ کی قسم یہ جھوٹ ہے۔میری نگاہ میں طالبان کی تین اصناف ہیں۔

    پہلا طبقہ:… ان کی اکثریت حنفی اور دیوبندی مدارس سے فارغ شدہ ہیں۔وہ توحید ربوبیت اور توحید الوہیت پر خصوصی توجہ دیتے ہیں البتہ اسماء صفات میں وہ اشعری ہیں مگر متعصب نہیں ہیں۔نہ ہی وہ اس کی طرف دعوت دیتے ہیں۔

    دوسرا طبقہ:… اللہ کی قسم وہ سلفیوں کا طبقہ ہے۔ان میں میں عبدالوکیل متوکل کو جانتا ہوں جو کہ طالبان کا وزیر خارجہ ہے۔یہ شیخ عبدالغفار کا بیٹا ہے جسے وہابی ہونے کے جرم میں افغانستان کی کیمونسٹ حکومت نے اس وقت قتل کر دیا تھا جب وہ حج کر کے ہوائی اڈے پر پہنچے تھے۔عبدالوکیل کا خاندان سلفی خاندان ہے میں انہیں ۴۰ سال سے جانتا ہوں۔اسی طرح طالبان میں اور بھی سلفی پائے جاتے ہیں۔اُن میں ایک عبدالرقیب تھا جو جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے فارغ التحصیل تھا ‘ وہ طالبان حکومت میں مہاجرین کا وزیرتھا۔

    تیسرا طبقہ:… ان میں صوفی بھی پائے جاتے ہیں۔میں ان کا نام لے کر اختلاف کا سبب نہیں بننا چاہتا ‘مگر وہ انتہائی قلیل ہیں۔میرے علم کے مطابق یہی میں طالبان کے بارے میں جانتا ہوں اور اسی کا میں اعتقاد رکھتا ہوں۔

    البیان : … کیا آپ ’دیوبندیت ‘ کی اصطلاح پر روشنی ڈالیں گے ؟

    شیخ :… یہ لوگ احناف ہیں لیکن ان میں اور بریلویوں میں فرق ہے۔دیوبندی‘ بریلویوں کے شدید مخالف ہیں، یہاں تک کہ وہ ان کی تکفیر کی حد تک جا پہنچتے ہیں ‘ یہ لوگ توحید الوہیت پر خاص توجہ دیتے ہیںاور قبر پرستی کی مخالفت کرتے ہیں ان کی اکثریت ماتریدی ہے۔دیوبندیوں کا ایک بہت بڑا عالم عبدالحق تھا۔اس کا پشاور میں مدرسہ تھا ‘ طالبان کی اکثریت نے اسی مدرسہ سے سند فراغت حاصل کی۔رہے ملا عمر نہ تو وہ دیوبندی ہیں نہ حنفی‘ بلکہ وہ ایک عام مسلمان ہیں۔ممکن ہے وہ جانتے بھی نہ ہوں کہ اشعریت اور ماتریدیت کیا ہے ؟وہ کہا کرتے تھے ’’میں وہ حکومت قائم کرنا چاہتا ہوں جو نبی کریم محمد ﷺ نے مدینہ طیبہ میں قائم کی تھی۔ا س حکومت کی بنیاد کتاب و سنت پر ہوگی ‘‘۔ملا عمر خود عالم نہیں ہیں بلکہ وہ علماء کے فتاویٰ پر عمل کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں :’’علماء کا کام فتویٰ دینا ہے اور میرا کام تطبیق کرنا ہے۔وہ نہ صوفی ہے نہ دیوبندی ‘بلکہ وہ سلفیت سے محبت کرنے والے انسان ہیں۔

    البیان :… کیا آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ملا عمراپنی باتوں میں سچا ہے ؟

    شیخ :…اللہ کی قسم وہ سچا ،عابد اور زاہد انسان ہے۔اس نے نہ میرے پاس تعلیم حاصل کی نہ میں نے اس سے علم حاصل کیا ،نہ وہ میرے رشتہ داروں اور خاندان سے ہے ‘نہ میرے گائوں سے ہے ‘وہ زورجان کا ہے‘ اور میں قندوز سے تعلق رکھتا ہوں۔اللہ کی قسم جب میں نے اُسے دیکھا تو مجھے یقین ہوگیا کہ میں ایک ایسے آدمی کو مل رہا ہوں جو اسلام پر عمل کرتے ہوئے مسلمان ہے ،زہد کو اپناتے ہوئے زاہد ہے۔اگر اس کا زہد و تقویٰ میرے جیسے بہت ساروں پر تقسیم کیا جائے توہمیں کافی ہو گا۔میں نے اسے اکثر اللہ کا ذکر کرتے ، اللہ سے مدد طلب کرتے پایا۔جب اسے کوئی پریشانی کا سامنا ہوتا ہے وہ زیادہ سے زیادہ نوافل ادا کرتا ہے۔

    البیان:… آپ نے ہمیں طالبان کی اچھائیوں کے بارے میںبتلایا ہے‘کیا ان میں خامیاں اور کوتاہیاں نہیں پائی جاتیں ؟

    شیخ :… آ پ جانتے ہیں کہ اس دور میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو غلطیوں سے پاک ہو‘حتیٰ کہ ابتدائے اسلام میں بھی اسلامی معاشرے میں کئی ایک خامیاں موجود تھیں۔طالبان کی اچھائیاں ،نیکیاں اور بھلائیاں ان کی غلطیوں سے بہت زیادہ اور بڑی ہیں۔اللہ کی قسم کسی نے افغانستان میں طالبان کی طرح اسلام نافذ نہیں کیا۔مثلا افغانیوں میں بے پردگی کا خاتمہ کرناناممکن تھا خاص کر کے کابل میں ‘ لیکن الحمدللہ طالبان نے یہ کام کر دکھایا ،اسی طرح قبر پرستی کے حوالے سے جو کچھ یہاں ہوا ہے وہ ایک عظیم انقلاب ہے۔کیونکہ اکثر افغان جاہل ہیں اور یہاں تقریباً ہر شہر میں قبریں پوجی جاتی ہیں۔الحمدللہ طالبان نے اپنے عہد حکومت میں اس شرک سے جنگ کی۔ شاید آپ نے سنا ہو جب شمالی اتحاد نے مزار شریف پر قبضہ کیا تو ایک صحافی نے مزار کے معتقد سے پوچھا :مزار کی اب کیا حالت ہے ؟ کیا اس کی حالت اب بہتر ہے یا طالبان کے دور میں بہتر تھی ؟ وہ کہنے لگا :جناب آپ کیا بات کرتے ہو ! آج تو ہمارے لیے عید کا دن ہے۔صحافی نے کہا کس طرح ؟ اس نے کہا :ان کافروں نے ہمیں پانچ سال مزار میں داخل ہونے سے منع کیے رکھا ،جبکہ آج آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح مرد ،عورتیں اس میں دھڑا دھڑا داخل ہو رہی ہیں ! ہماری خوشی کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اب ہمیں داڑھی منڈھوانے سے منع کرنے والا کوئی نہیں اسی طرح آج عورتیں بھی پانچ سال بعد آزاد ہوئی ہیں۔

    اس سب کے ساتھ ان میں کچھ خامیاں کی نشاندہی بھی کی جاسکتی ہے کیونکہ وہ بہرحال معصوم نہیں۔ان میں سیاسی اور دینی کمیاں پائی جاتی ہیں۔جیسے یہ کہ وہ سو فیصد سلفی نہیں ہیں۔اب دیکھیے خود سلفیوں میں بھی خامیاں ہیں ‘ہم نے کنہڑ میں سلفی جماعت کی بنیاد رکھی‘ اس میں بہت خیر تھی لیکن کوتاہیاں بھی تھیں۔جیسے ہم بعض درباروں کا خاتمہ نہیں کر سکے ‘اسی طرح ہمارے ہاں منشیات کی تجارت پائی جاتی تھی اسے بھی ہم ختم نہیں کر سکے۔اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ نبی ﷺ کی حکومت کے علاوہ کوئی ایسی حکومت نہیں جو ہر غلطی اور کوتاہی سے پاک ہو۔البیان : …آپکی تشریف آوری کا شکریہ۔ جزاکم اللہ خیراً

    (مجلۃ البیان ،شوال ۱۴۲۲ھ)
     
  20. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    774
    مجھے افسوس ہے کہ لوگ دھوکہ دہی سے باز نہیں آتے۔ ابو جزاء صاحب اگر آپ اپنے پیش کئے گئے مضمون کو تسلی سے پڑھ لیتے اور پھر ہمارے مضمون پر نظر ڈالتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ یہاں اس مضمون کو لگانا لوگوں کو دھوکہ دہی میں مبتلا کرنا ہے۔ کیونکہ اس مضمون میں نہ تو ہمارے اعتراضات کا جواب ہے اور نہ ہی یہ ہمارے مضمون کے خلاف یا رد میں ہے بلکہ الٹا اس میں دیوبندیوں اور دیوبندی مذہب کی تردید ہے۔ محدث فورم پر تلمیذ دیوبندی صاحب نے اسی مضمون کو بطور جواب پیش کیا ہے اس کا جو جواب میں نے انہیں دیا ہے وہی آپ کے لئے بھی کافی ہے۔ ملاحظہ فرمالیں۔

    محترم آپ نے اپنے متعلق نہیں بتایا کہ آپ کا شمار کس قسم کے لوگوں میں ہوتا ہے؟ شاید آپ نے یہ ذمہ داری ہمارے کاندھوں پر ڈالی ہے۔ تو لیجئے ہم بتاتے ہیں۔ آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کو چیز کچھ ہوتی ہے نظر کچھ آتی ہے کیونکہ آپ جیسے لوگوں کی نظریں اندھی تقلید کی بیماری نے خراب کردی ہوتی ہیں۔آپ نے غلام اللہ رحمتی کا بیان دیوبندیوں کے حق میں پیش کیا ہے۔لیکن آپ نے غور نہیں فرمایا کہ غلام اللہ رحمتی تو دیوبندیوں کو گمراہ اور اہل سنت سے خارج سمجھتے ہیں اسی لئے انھوں نے دیوبندی مدارس میں دی جانے والی تعلیم کو شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ، ابن قیم اور محمد بن عبدالوہاب رحمہم اللہ کی کتب کے مطالعے کے بعد ترک کر دیا تھا۔خود انہی کی زبانی ملاحظہ فرامائیں:
    ایک دیوبندی مخالف شخص کے بیان کو آپ اپنی حمایت میں کس طرح پیش کرسکتے ہیں؟ کوئی شرم و حیا ہے؟

    شیخ غلام اللہ رحمتی طالبان کو سلفی سمجھتے ہیں جیسا کہ وہ طالبان کے امیر ملاعمر کے بارے میں کہتے ہیں:
    تلمیذ صاحب نے تو اس مضمون کا حوالہ دیوبندیت کےدفاع میں دیا تھا لیکن ثابت ہوا کہ یہ مضمون انکے لئے مفید مطلب نہیں اس کے برعکس اس کے اقتباسات دیوبندیت کے رد اور سلفیت کی حمایت پر مشتمل ہیں۔

    طالبان کے بارے میں شیخ غلام اللہ کا بیان انکے زاتی مشاہدات پر مشتمل ہے۔ اگر انکے بیان کو تسلیم کر لیا جائے تو طالبان سلفی اہل حدیث ثابت ہوتے ہیں۔ اور دیوبندیوں کے نزدیک سلفی گمراہ ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ تلمیذ صاحب کبھی طالبان کو اہل حدیث تسلیم کریں گے بلکہ انکے نزدیک تو طالبان دیوبندی ہیں خود میرا بھی انکے بارے میں یہی خیال ہے کہ طالبان کی اکثریت دیوبندیوں پر مشتمل ہے اس کی گواہی طیب الرحمنٰ زیدی حفظہ اللہ نے بھی دی ہے، لکھتے ہیں: آخری بات عربی طالبان نے ایک خط لکھا تھا۔
    جو موصوف کے امیرڈاکڑ شجاع اللہ حفظہ اللہ کے ساتھی استاد العلماء حافظ محمد شریف حفظہ اللہ کے پاس لے گئے تھےکہ اس خط کا ترجمہ کردیں۔
    استاد العلماء بتلاتے ہیں کہ اس خط میں درج تھا مفہوم کہ افغانی طالبان کے وہی عقائد ہیں جو پاکستانی دیوبندیوں کے عقائد ہیں۔
    (نماز میں امام کون؟ ص ١٥٠)

    ہم ان طالبان کی بات کررہے ہیں جو دیوبندی ہیں۔تلمیذ اور انکے حمایتیوں سے درخواست ہے کہ وہ دلیل سے ثابت کریں کہ طالبان دیوبندیوں کا جہاد شرعی جہاد ہے۔ تلمیذ صاحب کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ ہم نے پہلے بھی اس مضمون پر نہ صرف نظر ڈالی تھی بلکہ اسے بغور پڑھا تھا اور اب ایک مرتبہ پھر آپ کی فرمائش پر اسکے اقتباسات کی جانب آپکی اور دیگر مقلدوں کی توجہ دلائی ہے۔ ورنہ آپ تو مضمون کے عنوان میں طالبان کا نام دیکھ کر حسب عادت دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ امید ہے تلمیذ صاحب آئندہ طالبان دیوبندیوں کے حق میں صرف وہ دلیل پیش کریں گے جو دھوکہ سے پاک ہوگی۔ورنہ دیوبندیوں کے دھوکوں سے پردہ اٹھانے کے لئے ہم موجود ہی ہیں۔ ان شاء اللہ

    اصل حوالہ
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں