اللہ ذوالجلال کی بے عمل سے ناراضگی

نعیم یونس نے 'نقطۂ نظر' میں ‏ستمبر 15, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    اللہ ذوالجلال کی بے عمل سے ناراضگی



    اللہ عزوجل کا ارشاد گرامی ہے:
    [FONT="Al_Mushaf"]{یٰٓـاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَo کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَo} [الصف:۲،۳][/FONT]
    ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ایسا کیوں کہتے ہو جو تم نہیں کرتے۔ اللہ کے نزدیک ناراض ہونے کے اعتبار سے بڑی بات ہے کہ تم وہ کہو جو تم نہیں کرتے۔ ‘‘
    بے عمل قول:
    اس کا مطلب ہے کہ انسان کوئی وعدہ کرے (مگر اس پر پورا نہ اترے) یا کوئی بات کہے مگر اس کا ایفاء نہ کرے۔ یا اپنے بارے میں کوئی خیر، بھلائی کی بات کرے مگر اُسے سر انجام نہ دیتا ہو۔ یا تو ایسی بات کا تعلق ماضی سے ہوگا جس کے نتیجہ میں وہ جھوٹ بول رہا ہوگا یا پھر اس بات کا تعلق زمانۂ مستقبل سے ہوگا تب وہ اپنی بات کی خود ہی خلاف ورزی کرنے والا ہوگا۔ اور ان دونوں حالتوں میں یہ بات قابل مذمت ہے۔
    ایسا کہنے والے جو کرتے نہیں:
    یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو علم کو سیکھ کر لوگوں کو سکھاتے ہیں مگر جو وہ کہہ رہے ہوتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے۔ حالانکہ بندوں سے مطلوب علم کے ساتھ عمل بھی ہے۔ جو قیامت کے دن نفع بخش بھی ہوگا۔
    جب عمل علم سے پیچھے رہ جائے تو وہ صاحب علم پر حجت بن جایا کرتا ہے اور قیامت والے دن یہی عمل اس کے لیے ندامت اور رسوائی کا سبب بن جائے گا۔

    [FONT="Al_Mushaf"]فیض القدیر للمناوي / جلد ۳، ص ۲۵۳۔[/FONT]

    امام مالک بن دیناررحمہ اللہ کہتے ہیں: جب عالم اپنے علم پر عمل نہ کرے تو جس طرح ایک چکنے پتھر سے بارش کے قطرے پھسل جایا کرتے ہیں، اسی طرح امت کی نصیحت و موعظت دلوں سے زائل ہوجایا کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے
    [FONT="Al_Mushaf"]یَا وَاعِظَ النَّاسِ قَدْ اَصْبَحْتَ مُتَّھَمًا
    اِذْ عِبْتَ مِنْہُمْ أُمُوْرًا أَنْتَ تَأْتِیْھَا[/FONT]

    ’’لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے والے واعظ خوش الحان! جب تم لوگوں کے ایسے اُمور میں ان کے عیب نکالو گے کہ جنہیں تم خود کرتے ہو تو جانو کہ تم خود تہمت لگا دیے گئے۔‘‘


    [FONT="Al_Mushaf"]قَالَ رُسْوْلُ اللّٰہِ: ((أُتِیْتُ لَیْلَۃَ أُسْرِی بِيْ عَلٰی قَوْمٍ تُقْرَضُ شِفَاھُھُمْ بِمَقَارِیْضَ مِنْ نَّارٍ، کُلَّمَا قَرَضَتْ وَفَتْ، فَقُلْتُ: یَا جِبْرِیْلُ مَنْ ھٰٓؤُ لَائِ؟ قَالَ: ھٰٓؤُلَائِ خُطَبَائُ أُمَّتِکَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ مَاَلا یَفْعَلُوْنَ، وَیَقْرَؤُوْنَ کِتَابَ اللّٰہِ وَلَا یَعْمَلُوْنَ بِہ۔ ))
    صحیح الجامع الصغیر، رقم : ۱۲۹۔[/FONT]


    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’جس رات مجھے معراج کروائی گئی اُس رات (اوپر آسمانوں پر) مجھے ایک ایسی قوم کے پاس لایا گیا جن کے ہونٹوں کو آگ کی قینچیوں سے کاٹا جارہا تھا۔ جب ان کے ہونٹوں کو کاٹ دیا جاتا تو وہ پھر سے ٹھیک ہوجاتے۔ میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ تمہارے امت کے وہ خطیب حضرات و واعظین ہیں کہ جو زبانوں سے وہ کہتے تھے جسے وہ کرتے نہیں تھے۔ حالانکہ وہ اللہ کی کتاب کو پڑھتے تھے مگر اس پر وہ عمل نہیں کرتے تھے۔‘‘
    بعض سلف صالحن کے بارے میں مروی ہے کہ اُن سے کہا گیا: جناب ہمیں کوئی حدیث بیان کیجیے۔ مگر وہ خاموش رہے۔ ان سے پھر گزارش کی گئی کہ جناب ہمیں کوئی حدیث ہی سنا دیجیے۔ تو وہ کہنے لگے: کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ میں وہ کچھ کہوں جسے میں کرتا نہیں ہوں اور میں اللہ کی ناراضگی کو جلد مول لے لوں؟
    تو یہ بے عمل واعظین وہ لوگ ہوتے ہیں جو غیروں کو نیکی اور خیر کے کاموں کی نصیحت تو کرتے ہیں مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں۔ چنانچہ وہ کچھ کرتے نہیں جو وہ کہتے ہیں۔ اللہ عزوجل ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:

    [FONT="Al_Mushaf"]{اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَکُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْکِتٰبَ اَفَلَا تَعْقِلُوْنo} [البقرہ:۴۴][/FONT]
    ’’کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو، تو کیا تم نہیں سمجھتے؟‘‘
    اس آیت کریمہ میں ڈانٹ نیکی کے عمل کو ترک کرنے پر پلائی گئی ہے نہ کہ نیکی کا حکم کرنے پر۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب حکیم میں ایک ایسی قوم کی مذمت بیان فرمائی ہے کہ جو نیکی کے کاموں کا حکم تو دیا کرتے تھے مگر خود ان پر عمل نہیں کرتے تھے۔ انہیں اللہ نے ایسی ڈانٹ پلائی ہے کہ جس کی تلاوت قیامت تک کی
    جاتی رہے گی۔ ابو العتاھیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    [FONT="Al_Mushaf"]وَصَفْتَ التُّقَی حَتَّی کَأَنَّکَ ذُوْتُقٰی
    وَرِیْحُ الْخَطَایَا مِنْ ثِیَابِکَ تَسَطَّعُ[/FONT]

    ’’اے واعظ خوش الحان! تو نے تقویٰ کی ایسی تعریف کی ہے گویا کہ تو خود بڑا ہی کوئی متقی آدمی ہے جبکہ گناہوں اور غلطیوں کی بدبو تیرے کپڑوں سے پھوٹ پھوٹ کر نکل رہی ہے۔‘‘
     
  2. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    یہی بات کسی اردو شاعر نے یوں کہی ہے
    لبھاتا ہے دل کو کلامِ خطیب
    مگر لذتِ شوق سے بے نصیب
    بیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوا
    لغت کے بکھیڑوں میں اُلجھا ہوا
    میراث میں آئی ہے انہیں مسند ارشاد
    زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن
    ایک اور عربی کا شاعر ابوالاسود الدولی کہتا ہے:

    [font="al_mushaf"]لَاتَنْہَ عَنْ خُلْقٍ وَتَأْتِيْ مِثْلَہُ
    عَارٌ عَلَیْکَ اِذَا فَعَلْتَ عَظِیْمُ
    وَابْدَأْ بِنَفْسِکَ فَانْھَھَا عَنْ غَیِّھَا
    فَإِنْ انْتَھَیْتَ عَنْہُ فَأَنْتَ حَکِیْمُ
    فَھُنَاکَ یُقْبَلُ إِنْ وَعَظْتَ وَیُقْتَدَی
    بِالْقَوْلِ مِنْکَ وَیَنْفَعُ التَّعْلِیْمُ[/font]

    ’’ایسے بُرے اخلاق سے کسی کو مت منع کر کہ جس جیسی بری عادات کا تو خود ارتکاب کرتا ہو۔ اگر تو ایسا کرے گا تو یہ تمہارے لیے بہت بڑے عار اور عیب کی بات ہے۔ پہلے اپنے نفس سے شروع کر اور اسے اس کی سرکشی سے روک۔ اگر تو اپنے نفس کی سرکشی سے باز رہا تو جان لے کہ پھر تو بہت دانا آدمی ہے۔ اگر اس کے بعد تو کسی کو نصیحت کرے گا تو تیری بات کو پھر قبول بھی کیا جائے گا۔ اس بات کی اقتدا ہوگی اور اس وقت تعلیم بھی فائدہ دے گی۔‘‘
    گویا اس بات کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں
    مرید سادہ تو رو رو کے ہوگیا تائب
    اللہ کرے کہ ملے شیخ کو بھی یہ توفیق
    خرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
    دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
    فطرت کے تقاضوں پہ نہ کر راہِ عمل بند
    مقصود ہے کچھ اور ہی تسلیم و رضا کا
     
  3. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    غرضیکہ: اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی اس بدکرداری پر مذمت کی ہے اور انہیں ان کے اپنے ہی حق میں خطا کرنے پر خبردار فرمایا ہے۔ اس حیثیت سے کہ وہ خیر اور نیکی کا حکم تو دیتے ہیں مگر اسے خود کرتے نہیں۔ ان کے نیکی کے لیے حکم دینے مگر اسے چھوڑ دینے پر ان کی مذمت مقصود نہیں ہے، بلکہ نیکی کو ترک کرنے پر ان کی مذمت کی گئی ہے۔ اس لیے کہ بلاشبہ نیکی کا حکم دنیا بذات خود نیکی ہے۔ یہ ہر عالم آدمی پر واجب ہے اور عالم آدمی پر بالاولیٰ واجب یہ ہے کہ وہ لوگوں کو عمل صالح کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ اسے خود بھی کرے اور اس ضمن میں وہ ان سے پیچھے نہ رہے۔
    [FONT="Al_Mushaf"]تفصیل کے لیے دیکھیے: تفسیر ابن کثیر رحمہ اللہ جلد ۱، ص ۸۹۔[/FONT]
    بدعملی کا شکار یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو پوچھتے ہیں کہ: اللہ عزوجل کے ہاں کون سے اعمال زیادہ پسندیدہ ہیں تاکہ وہ انہیں کرسکیں، مگر جب انہیں ان کا علم ہوجاتا ہے تو وہ ان پر عمل نہیں کرتے۔ اللہ عزوجل کا درج ذیل فرمان ہر اس شخص کے لیے اس بات کو واجب کردیتا ہے کہ وہ اس سے ایفاء کرے جس نے اپنے آپ کو اس میں اطاعت کے طور پر عمل کے لیے واجب کرلیا ہو۔ فرمایا:
    [FONT="Al_Mushaf"]{ٰٓیاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَo} [الصف:۲][/FONT]
    ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیوں کہتے ہو جو تم نہیں کرتے۔ ‘‘
    یہی بے عمل وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو جہاد فی سبیل اللہ کے لیے تیار کرتے ہیں مگر جب انہیں جہاد کے لیے بلایا جاتا ہے تو پیٹھ پھیر کر چلتے بنتے ہیں۔ اور جس بات کا انہوں نے وعدہ کیا ہوتا ہے اس سے وہ ایفاء نہیں کرتے۔ جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

    [FONT="Al_Mushaf"]{اِِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہ صَفًّا کَاَنَّہُمْ بُنیَانٌ مَّرْصُوصٌo} [الصف:۴][/FONT]
    ’’بلاشبہ اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر لڑتے ہیں، جیسے وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہوں۔‘‘
     
  4. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو مسلمانوں کی مدد کا وعدہ کرتے ہیں مگر اس وعدے کا ایفاء نہیں کرتے ۔یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں: ہم مسلمانوں کے شانہ بشانہ لڑیں گے مگر لڑتے نہیں۔ کہتے ہیں: ہم میدان قتال و جہاد میں صبر و استقامت سے کام لیں گے، مگر صبر کرتے نہیں۔ یہی بے عمل وہ لوگ ہوتے ہیں جو علم کے زیور سے آراستہ تو ہوتے ہیں لیکن اس کے اہل ثابت نہیں ہوتے یا دین کا اظہار تو کرتے ہیں مگر عملاً بے دین ہوتے ہیں۔ وہ اس بات کو بہت پسند کرتے ہیں کہ اُن کے ایسے کاموں کی تعریف کی جائے جو انہوں نے کیے ہی نہیں ہوتے۔ چنانچہ اللہ عزوجل کا ارشاد گرامی قدر ہے:
    [FONT="Al_Mushaf"]{لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّہُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ وَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌo} [آل عمران:۱۸۸][/FONT]
    ’’ان لوگوں کو ہر گز خیال نہ کر جو ان (کاموں) پر خوش ہوتے ہیں جو انھوں نے کیے اور پسند کرتے ہیں کہ ان کی تعریف ان (کاموں) پر کی جائے جو انھوں نے نہیں کیے۔ پس تو انھیں عذاب سے بچ نکلنے میں کامیاب ہر گز خیال نہ کر اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔‘‘
    جناب ثابت بن الضحاک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    [FONT="Al_Mushaf"]((لَیْسَ عَلٰی رَجُلٍ نَذْرٌ فِیْمَالَا یَمْلِکُ، وَلَعْنُ الْمُؤْمِنِ کَقَتْلِہِ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَہُ بِشَیْئٍ فِی الدُّنْیَا عُذِّبَ بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، مَنِ ادَّعٰی دَعْوٰی کَاذِبَۃً لِیَتَکَثِّرَبِھَا، لَمْ یَزِدْہُ اللّٰہُ إ لَّا قِلَّۃً وَمنَ حَلَفَ عَلٰی یَمِیْنِ صَبْرٍ فَاجِرَۃٍ۔‘‘ وَقاَلَ أَیْضًا : ’’اَلْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ یُعْطَ کَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُوْرٍ۔))
    أخرجہ مسلم في کتاب الإیمان، باب: غلظ تحریم قتل الإنسان نفسہ۔، حدیث : ۳۰۳، کتاب اللباس والزینۃ، باب: النھي عن التزویر في اللباس وغیرہ۔ رقم : ۵۵۸۳۔[/FONT]

    ’’کسی آدمی پر وہ نذر پوری کرنا واجب نہیں جو اس کی ملکیت میں نہ ہو اور کسی مسلمان پر لعنت کرنا ایسے ہے جیسے اس کو قتل کرنا۔ اور جو شخص دنیا میں خودکشی کرلے اسے قیامت والے دن اسی کے ذریعے عذاب دیا جائے گا۔ اور جو شخص جھوٹا دعویٰ کرے اپنا مال بڑھانے کے لیے تو اللہ تعالیٰ اس کا مال مزید کم کردے گا۔ اسی طرح جو شخص کسی حاکم کے حکم سے جھوٹی قسم کھائے گا کسی مسلمان کا مال دبالینے کے لیے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غصے ہوگا۔‘‘
     
  5. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    (اسی طرح سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ: ایک عورت نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنی سوتن سے کہوں کہ: ہمارے خاوند نے مجھے وہ کچھ دیا ہے جو اسے نہیں دیا تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کہے کہ: فلاں چیز میرے پاس ہے (یعنی لوگوں میں اپنی بڑائی ظاہر کرنے کے لیے) حالانکہ وہ چیز اُس کے پاس نہ ہو تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی فریب کے دو کپڑے پہن لے۔‘‘
    بے عملی کا شکار وہ لوگ ہوتے ہیں جو لوگوں سے کوئی مضبوط عہد معاہدہ کرتے ہیں، مگر یہی عہد وہ دوسروں کے ساتھ بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ پھر یہ کہ وہ وفائے عہد کرتے بھی نہیں۔ نہ وہ اپنے ایگریمنٹ مکمل کرتے ہیں اور نہ ہی لوگوں سے اتفاقات۔ تمام عہد معاہدے اور اتفاق توڑ دیتے ہیں۔ اُدھر اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد گرامی قدر ہے:

    [FONT="Al_Mushaf"]{وَ اَوْفُوْا بِعَہْدِ اللّٰہِ اِذَا عٰہَدْتُّمْ} [النحل:۹۱][/FONT]
    ’’اور جب تم عہد معاہدہ کرو تو اللہ کے عہد کی ایفاء کرو۔‘‘
    یہ لفظ ان تمام عقود کے لیے عام ہے جنہیں انسان زبان سے کرتا ہے۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:

    [FONT="Al_Mushaf"]{وَاَوْفُوْا بِالْعَہْدِ اِنَّ الْعَہْدَ کَانَ مَسْئُوْلًاo} [الاسراء:۳۴][/FONT]
    ’’اور وعدے کو پور اکرو بلاشبہ عہد معاہدہ کے بارے میں (قیامت والے دن) پوچھا جائے گا۔‘‘
    ایک اور مقام پر فرمایا:

    [FONT="Al_Mushaf"]{یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ} [المائدہ:۱][/FONT]
    ’’اے ایمان والو! عقود معاہدے پورے کیا کرو۔‘‘
     
  6. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    یہ بے عمل وہ لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں سے خیر بھلائی کے وعدے کرتے ہیں مگر انہیں ایفاء نہیں کرتے۔ جبکہ وعدے کا سچا کر دکھانا صفات حمیدہ میں شمار ہوتا ہے۔ اسی طرح وعدہ کی خلاف ورزی کا شمار مذموم صفات میں ہوتا ہے۔ اللہ عزوجل یہی بات تو ارشاد فرما رہے ہیں:
    [FONT="Al_Mushaf"]{لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَالَا تَفْعَلُوْنَo}[/FONT]
    ’’تم لوگ وہ بات کیوں کرتے ہو جسے تم خود سر انجام نہیں دیتے۔‘‘
    اور پھر نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارک ہے:

    [FONT="Al_Mushaf"]((آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَـلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ))[/FONT]
    [FONT="Al_Mushaf"]أخرجہ البخاري في کتاب الإیمان، باب: علامۃ المنافق۔ رقم : ۳۳۔ [/FONT]
    ’’(عملی) منافق کی تین علامتیں ہوتی ہیں۔ (۱)… وہ جب بھی بات کرتا ہے جھوٹ بولتا ہے۔ (۲)… وہ جب بھی وعدہ کرتا ہے اُس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ (۳)… اور اس کے پاس جب امانت رکھی جاتی ہے تو وہ اس میں خیانت کرتا ہے۔‘‘
    دیکھیے! جب یہ صفاتِ مذمومہ منافقین کی علامتیں ہیں تو پھر ان کے برعکس صفات (سچائی، ایفائے عہد اور دیانتداری) کو اختیار کرنا اہل ایمان کی صفات ہوئیں۔ یہ بھی یاد رکھیے کہ بچوں کو لالچ دینے اور ان کے ساتھ ہنسی ٹھٹھہ کرنے کے لیے جھوٹا وعدہ کرنا یا جھوٹ بات کہنا بھی جھوٹ ہے۔ چنانچہ:

    [FONT="Al_Mushaf"]((عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّہُ قَالَ: دَعَتْنِيْ أُمِّي یَوْمًا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ، قَاعِدٌ فِيْ بَیْتِنَا، فَقَالَتْ: ھَا تَعَالِ أُعْطِیَکَ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ: وَمَا أَرَدْتِ أَنْ تُعْطِیَہُ؟ قَالَتْ: أُعْطِیَہُ تَمْرًا، فَقَالَ لَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ: أَمَا إِنَّکِ لَوْ لَمْ تُعْطِیْہِ شَیْئًا کُتِبَتْ عَلَیْکِ کَذِبَۃٌ))
    صحیح سنن أبي داود رقم : ۴۱۷۶۔[/FONT]

    ’’سیّدنا عبد اللہ بن عامررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: ایک دن (جب میں بچہ تھا) میری اماں جان نے مجھے بلایا۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف فرما تھے۔ امی جان کہنے لگیں: عبد اللہ! ادھر آؤ میں تمہیں (کھانے پینے کی) کوئی چیز دوں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری والدہ سے دریافت فرمایا: تم نے عبد اللہ کو کیا چیز دینے کا ارادہ کیا ہے؟ وہ کہنے لگیں: میں اسے کھجور دوں گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یاد رکھو! اگر تم نے اسے کوئی چیز نہ دی تو تیری یہ بات تیرے اُوپر جھوٹ لکھ دی جائے گی۔‘‘
     
  7. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,848
    لبھاتا ہے دل کو کلامِ خطیب
    مگر لذتِ شوق سے بے نصیب
    بیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوا
    لغت کے بکھیڑوں میں اُلجھا ہوا
    میراث میں آئی ہے انہیں مسند ارشاد
    زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن

    بڑا خوبصورت تبصرہ ہے۔

    جزاکم اللہ خیرا و احسن الجزاء
     
  8. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,692
    جزاک اللہ خیرا۔
     
  9. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,318
    [font="al_mushaf"]بارك اللہ فیك بھائی[/font]
     
  10. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    جزاکم اللہ خیرا
     
  11. ام احمد

    ام احمد محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 7, 2008
    پیغامات:
    1,333
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں