توہین آمیز فلم پر احتجاج کی کوریج

عائشہ نے 'ذرائع ابلاغ' میں ‏ستمبر 22, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    توہین آمیز فلم پر احتجاج کی کوریج کے سلسلے میں ایک نئی بحث سامنے آئی ہے کہ میڈیا صرف پر تشدد واقعات کو نمایاں کیوں کر رہا ہے ؟ پر امن اور منظم احتجاج کی اچھی مثالوں کو مناسب جگہ کیوں نہیں مل رہی ۔
    شاید صحافت کے کچھ ستون اس انتظار میں ہیں کہ پر امن احتجاج کرنے والے عوام بھی ان کو امریکی حکومت کی طرح بنے بنائے بیان دیں اور ساتھ میں اس کو چلانے کا فی سیکنڈ معاوضہ بھی ۔ اگر آپ کو اس گھناؤنے قصے کی تفصیلات جاننا ہیں تو یہاں دیکھیے ۔۔۔
    واپس چلتے ہیں احتجاج کی کوریج کی طرف ۔۔۔ اخبارات کے ایک عام قاری کو بھی سیکیولر اور نسبتا مذہبی میڈیا گروپس کی کوریج میں ایک نمایاں فرق نظر آ رہا ہے ۔ ٹی وی چینلز کی خبر ان کو ہو گی جو ان کو دیکھتے ہیں ۔ اسی موضوع پر ایک اردو بلاگر کے خیالات :
    مگر ہمارا احتجاج تو ایسا تھا!!!​

    آج صبح جب ہم گھر سے باہر نکلے تو ہماری اُمید سے ذیادہ ویرانی سڑکوں پر راج کر رہی تھا، لہذا صبح ہی اندازہ ہو گیا کہ عوام کا کیا موڈ ہے!
    دوپہر کو جمعہ کی نماز پر جاتے ہوئے ہم گھر سے یہ نیت کر کے گیا تھا کہ اگر مسجد سے کوئی جلوس ناموس رسالت کے سلسلے میں نکلا تو اُس میں ضرور شرکت کی جائے گی! خطبہ میں مولانا صاحب عشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیان کے ساتھ ساتھ یہود و انصار کو کوس رہے تھے!!
    فرض نماز کے بعد ایک قرارداد پیش ہوئی جس میں گستاخانہ فلم کی مذمت کی گئی! اور بین الاقوامی دنیا سے توہین رسالت سے متعلق قانون سازی کا مطالبہ کیا گی (جیسے باہر کی دنیا ان کی سن لے گی)۔ اس کے بعد معلوم ہوا اہلیان ماڈل کالونی کی تمام (مسالک کی) مساجد نے مشترکہ لائحہ عمل طے کیا ہے جس کے تحت مسلکی اختلافات ، سیاسی نظریات، لسانی جھگڑوں اور ذاتی دشمنیوں سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ ریلی ناموس رسالت کے سلسلے میں نکالی جائے گی!لہذا ہماری محلے کی مسجد “باغ حبیب” سے ایک جلوس 9C اسٹاپ پر جائے گا وہاں سے دیگرمساجد سے آنے والی ریلیوں کو لیتا ہوا آگے بڑھے گا! ہم بھی ساتھ ہو لیئے! دوران خطبہ بھی مولانا نے کئی بار پُر امن رہنے کی تلقین کی تھی جلوس کے آغاز سے قبل پھر پُر امن رہنے پر زور دیا گیا!
    نعرے مارتے لوگ پہلی منزل کی طرف روانہ ہوئے، 9C اسٹاپ پر پہنچ کر دیگر ریلیوں کا انتظار کیا جانے لگا جبکہ ایک ریلی ہم سے پہلے ہی وہاں پہنچ گئی تھی انتظار کے دران مقرر لوگوں کو جہاں جوشیلا کرنے والی تقاریر کر رہے تھے وہاں ہی پُرامن رہنے کی تلقین جاری تھی۔ قریب چار مزید مساجد کی ریلیاں وقفے وقفے سے وہاں پہنچ گئی! جن میں چند کالعدم تنظیموں کے افراد اپنی اپنی جماعتوں کے جھنڈوں کے ساتھ شریک تھے سیاسی جماعتوں کے کارکنان اپنی جماعتوں کے جھنڈوں کے بغیر تھے!!
    وہاں سے تمام ممکنہ مساجد کی ریلیاں جنہوں نے یہاں تک آ کر ایک بڑے جلوس کی شکل میں آگے بڑھنا پہنچ گئیں تو جلوس آگے روانہ ہوا! یہ جلوس اعوان ہوٹل، لی بروسٹ، ماڈل موڑ سے ہوتا ہوا اپنی فائنل منزل ماڈل کالونی قبروستان تک جانے لگا راستے میں دیگر ریلیاں بھی اس میں شامل ہو گئی جلوس مکمل طور پر پُرامن رہا لوگ نعرہ تکبیر، نعرہ رسالت، نعرہ حیدری، اور دیگر نعرے لگاتے آگے بڑھتے رہے! ماڈل کالونی کی تاریخ میں اتنا بڑا جلوس جو میرے اندازے کے مطابق آٹھ سے دس ہزار سے ذیادہ تھا میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا! جس میں ہر عمر کے افراد شامل تھے!!! اور ایسے افراد بھی جو اپنے بچوں کو ہجوم یا کسی بھی دیگر قسم کے جلسے جلوس میں شرکت کرنے سے باقاعدہ منع کرتے ہیں۔
    پورے جلوس میں کی جانے والی سب سے شر انگیز حرکت پتلوں کو جلانے کی تھی!! شر انگیز نعرہ امریکہ مردہ باد اور گستاخ رسول کی سزا ، سر تن سے جدا تھا۔
    یہ نہیں معلوم کہ ایسی سچی ریلیوں کی بھی میڈیا کوریج جو کہ ملک میں بڑی تعداد میں نکالی گئیں میڈیا میں کیوں جگہ نہیں بنا پائی شاید اس لئے کہ یہ اُن کے “مفاد” میں نہیں!!!
    بشکریہ
    بے طقی باتیں بے طقے کام: مگر ہمارا احتجاج تو ایسا تھا!!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. نجی اللہ

    نجی اللہ -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏مئی 28, 2012
    پیغامات:
    29
    آپ نے بالکل صحیح تفصیلی تبصرہ کیا ۔ غیر تو غیر ہیں پر اپنوں کو کیا ہوا ہے۔
     
  3. ام احوس

    ام احوس -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 25, 2012
    پیغامات:
    162
    عجیب بات ہے کہ ہم لوگ سب کچھ جاننے کے باوجود اس یہودی ایجنٹ میڈیا کو نہ صرف اپنے گھر وںمیں جگہ دیے ہوئے ہیں بلکہ بڑے اہتمام کے ساتھ خبریں سننا، مختلف ٹالک شوز، دیکھنا ہمارا پسندیدہ ترین مشغلہ ہے، دوسری جانب ہم امریکی پراڈکٹس کا بائیکاٹ کرنے کی مہم بڑے زور و شور سے پھیلا رہے ہیں۔ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ جب ہمیں پتا ہے کہ یہ میڈیا صرف اور صرف زہر اگلتا ہے، یہ صرف اور صرف یہودیت کو خوش کرتا ہے، اسکا ہر مقصد اسلام اور مسلمانوں کو بے مہذب اور بدردار بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے تو پھر بالآخر اس میڈیا کابائیکاٹ کیوں نہیں کیا جاتا؟ کیوں ہم اپنے گھروں سے اس میڈیا کو نکال باہر نہیں پھینکتے؟؟ امریکی ڈالر بجا، لیکن اس میڈیا کی بیشتر کمائ تو ہماری وجہ سے ہی ہے ۔ کیا ہم اسکا بائیکاٹ کر کے اسکی معیشت کو نقصان نہیں پنہچا سکتے؟؟
     
  4. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    ہمارے گھر میں چلنے والی ڈش ، کیبلز وغیرہ وغیرہ کا اگر بائیکاٹ کر دیا تو ان کی کمائیوں سے بیشتر کمی آئے گی مگر ہم ان چیزوںکی طرف آتے ہی نہیں‌ کیوں ؟
     
  5. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,692
    اللہ تعالی سب سے پہلے ھمیں ھدائیت دے دے آمین
     
  6. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    پتا ہے کیا جو لوگ اپنی اپنی پارٹی اور لیڈر کے ساتھ گئے تھے وہ تمیز سے اپنے اپنے نعرے لگا کے واپس گھر چلے گئے تھے ۔ یہ بدمعاشوں کی ٹولیاں اسی طرح بھونڈی کرنے والے تھے جو 14 اگست کو کرتے ہیں ۔ یہ تو گورنمنٹ کا کا کام تھا نا ان کو روکتی۔ آپ دیکھ لیں ان لوٹ مار والوں کی شکلیں ۔ اسلامی جماعتوں کے لڑکے کی شکل بتا دیتی ہے کس جماعت کا ہے ۔
     
  7. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    ہاں کیوں نہیں آتے؟ بتاؤ :00003: میرے گھر تو نہیں ہے ٹی وی۔
    ویسے دوست لوگ تو نیٹ کو بھی شیطان کہتے ہیں :00003:
     
  8. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    قمر زمان کائرہ نے اپیل کی تھی توڑ پھوڑ نا دکھائیں پھر بھی ان چینلوں نے لائیو دکھائی ۔ لوگ اور شیر ہو گئے ۔ یہ اچھے مظاہروں کو لائیو دکھاتے تو لوگ اچھی مثال لے لیتے۔
     
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,440
    توہین آمیز فلم پر احتجاج پر صرف وہ کوریج الجزیرہ پر دیکھیں جو کسی پاکستانی چینلز سے نہیں‌لی گئی ۔ حقیقت معلوم ہو جائے گی ۔
     
  10. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    لنک پلیز
     
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    سسٹر میڈیا صرف الیکٹرانک میڈیا کا نام تو نہیں ہے نا ؟ :00024: میں نے پہلے ہی لکھا ہے کہ ٹی وی چینلز کی خبر ان کو ہو جو ان کو دیکھتے ہیں ۔ ہم جنرلی ہر قسم کے میڈیا کی بات کر رہے ہیں اور اس کی کوریج کی ۔
     
  12. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    احتجاج سے میری مراد صرف مظاہرے نہیں تھے ۔ اگر چہ پر امن مظاہرے کرنے والے بھی بہت اچھے لوگ ہیں ۔ یقینا انہوں نے اپنے رسول کریم ﷺ سے اپنی محبت کا اپنے انداز میں اظہار کیا ، اور میڈیا کی یہ بہت زیادتی ہے کہ چند مجرمانہ قسم کے واقعات کی بنیاد پر ان پر امن لوگوں کا مضحکہ اڑایا جائے یا ان کی اسلام سے وابستگی پر انگلی اٹھائی جائے ۔
    مسلم امہ میں بہت سے لوگ ہیں جو کسی احتجاجی جلوس یا مظاہرے میں شامل نہیں ہوئے ، لیکن انہوں نے کسی نہ کسی طرح اپنا احتجاج جاری رکھا ۔ احتجاج کی کئی اقسام ہیں جن کو میڈیا نظر انداز کر رہا ہے ۔ کم و بیش یہ سب یہی رٹ لگا رہے ہیں : ’’ مسلمان جاہل ہیں ، ان کو احتجاج کی تمیز نہیں ، ان کو بات کرنی نہیں آتی ، ان کو مہذب دنیا کے اطوار نہیں معلوم ۔ ‘‘
    میرا خیال ہے جاہل عوام نہیں میڈیا کے جغادری ہیں ، ہمارا میڈیا اندھا مقلد ہے ، کوئی ایک چینل لائیو توڑ پھوڑ دکھا رہا ہے سب اسی کام میں لگ جائیں گے ۔ ایک کالم نویس نے تشدد تشدد کا رونا رویا سب بھیڑ چال کا شکار ہو کر اسی موضوع پر کالم گھسیٹنے لگے ۔ بی بی سی اور سی این این کے بھانڈ اگر مسلمانوں پر جگتیں لگا رہے ہیں تو اس کی نقالی میں باقی دریدہ دہن بھی منہ پھاڑ پھاڑ کر تحفظ ناموس مقدسات کی اسلامی سزا کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔ اگر میڈیا واقعی ہر طرح کی کوریج کرتا تو ان کے احتجاج کی بھی خبر لاتا جو سیرت رسول ﷺ کے متعلق کتابیں تقسیم کر کے ،خطبے، جلسے، سیمینارز اور لیکچرز کروا کر شعور پیدا کر رہے ہیں ، جو سیرت رسول ﷺ پر ویب سائٹس بنا رہے ہیں ، آپ ان کا احتجاج دکھاتے تو یہ مثال بنتے ۔ اوروں کو بھی مثبت جذبہ منتقل ہوتا ۔ میڈیا سے تو اتنا نہیں ہو سکا کہ اپنے عوام کے احساسات کی درست تصویر دکھا سکے، بتا سکے کہ ایک بڑی اکثریت امریکی حکومت کی ہٹ دھرمی پر غم وغصے کا شکار ہے اور کم از کم نفرت کی پالیسی پر برقرار ہے، امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کی تحریک اسی نفرت کا نتیجہ ہے ، یہ امریکی حکومت کی ڈھٹائی اور اپنی حکومتوں کی بے بسی پر خاموشی سے نظر رکھے ہوئے ہے لیکن اس کو جواز بنا کر اپنے حصے کے کام سے غافل نہیں ہوئی ۔ الٹا یہ میڈیا امریکی حکومت کی تقلید میں ہمیں یہ بتانے کی کوششوں میں مصروف ہے کہ یہ فلم انفرادی عمل ہے ۔ اس کو نظر انداز کرو۔ امریکی حکومت کا اس میں کوئی قصور نہیں وغیرہ وغیرہ۔ بی بی سی کا ایک بد باطن کالم نگار اپنے فاسقانہ وعظ میں لکھتا ہے کہ کتا بھونکے تو جواب میں نہیں بھونکتے ، اس کو یہ نہیں معلوم کہ کتے کہ جگہ زمین ہے ۔ جس روز وہ بھونکتے بھونکتے منہ کو آنے لگے اس روز اس کا ’’ پر تشدد‘‘ علاج ضروری ہوتا ہے ورنہ آپ کے دروازے پر شہر بھر کے کتے ’’آزادئ اظہار‘‘ کے لیے اکٹھے ہو سکتے ہیں ۔(جیسا کہ آج کل بی بی سی اردو پر بہت سے جمع ہیں ۔)
    جس وقت قرآن کو جلانے کا دن Burn Quran Day منایا گیا تو جواب میں جلانے سے پہلے اس کو پڑھو Read before you burnنامی ایک بڑی کامیاب تحریک چلی جس میں کئی لوگ مسلمان ہوئے، کیا کبھی آپ نے میڈیا پر اس کی کوریج دیکھی ؟ اسی ملعون پادری کے دن کے جواب میں ڈھائی ہزارجرمن نو مسلموں نے علمائے کرام کی قیادت میں اقرا نامی تحریک چلائی ڈیڑھ کروڑ مترجم قرآن تقسیم کر ڈالے ۔ جس دن سے خاکے بنانے کے واقعات شروع ہوئے آج تک نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کے متعلق کتنی ہی سائٹس لانچ ہوئیں ، ڈاکیومنٹریز بنیں ، ڈبیٹس ہوئیں ، جن کی وجہ سے اسلام کے پھیلنے میں تیزی آئی جس کا اعتراف اسلام دشمن بھی کرتے ہیں ،خود پیدائشی مسلمان اپنے مذہب کی طرف پہلے سے زیادہ راغب ہو رہے ہیں ۔ آخر میڈیا اس قسم کی خبر کیوں نہیں دیتا ؟ کیا یہ سب افراد اسی مسلم امہ کا حصہ نہیں ؟
    بات یہ ہے کہ میڈیا خود کاہلی اور جمود کا شکار ہے۔ یہ خود خبر ڈھونڈنے کی بجائے بدیسی میڈیا سے ترجمہ شدہ خبریں چلانے کے عادی ہو گئے ہیں ۔ آپ رات میں بی بی سی ، سی این این قسم کے کسی ویب سائٹ پر خبر دیکھ کر سوئیں گے صبح وہ ترجمہ ہو کر ساری دنیا کی سائٹس ، چینلز اور اخبارات پر موجود ہو گی ۔
    پاکستانی نجی چینلز سے کم از کم مجھے کوئی مثبت امید نہیں ۔ ان کو لائسنس کس دور میں جاری ہوئے تھے ہمیں یاد ہے ۔ یہ کن کے پلانٹڈ ہیں اور کن کے فنڈڈ سب جانتے ہیں ، پر تشدد واقعات کی مذمت کی آڑ میں یہ تحفظ مقدسات کی اسلامی سزاؤں کے خلاف شوروغوغا ہے ۔ اسی لیے محبان رسول ﷺ کو آنکھیں کھلی رکھنے کی ضرورت ہے اور اپنے حصے کا کام بہت ایمان داری سے کرتے رہنے کی ۔
     
  13. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    احتجاج، احتجاج،احتجاج...
    انصار عباسی کا کالم
    ادارتی صفحہ : احتجاج، احتجاج،احتجاج...کس سے منصفی چاہیں …انصار عباسی
    کتنے بدقسمت ہیں وہ لوگ جو حرمتِ رسول کے نام کی خاطر اپنے اپنے گھروں سے نکلے مگر لوٹ مار، قتل و غارت اور جلاؤ گھیراؤ میں شامل ہو کر اپنے خلاف ہی گواہی لکھوا دی۔ یہ تو موقع تھا کہ اللہ کے رسول کی محبت کے لئے گواہی لکھوانے کا تاکہ میدانِ حشر میں ہماری شرمندگی کم ہو سکتی مگر اُن بدقسمتوں نے اپنے ہی بھائیوں (بشمول پولیس اہلکاروں) کو قتل کیا ان کا مال لوٹا، چور اچکّوں اور ڈاکوؤں کی طرح اپنے ہی ملک کے بنکوں کا پیسہ لے اڑے اور ان کو آگ بھی لگا دی، راہ چلتے امّتِ رسول کے پیروکاروں پر ڈنڈے برسائے، ان کی گاڑیوں کو بھی توڑ ڈالا، پٹرول پمپوں کو بھی آگ لگا دی اور جہاں سے جو ملا اٹھا کر لے گئے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کی طرح پاکستان کے مسلمان بیچارے تو پہلے ہی دکھی تھے، ان کے دل چھلنی تھے کہ کس طرح اسلام دشمنوں نے پیارے محمد کی شان میں گستاخی کی۔ ہمارے دل تو امریکا و یورپ کی خباثت پر خون کے آنسو رو رہے تھے مگر ہمارے درمیان موجود کالی بھیڑوں نے ہمیں اور غم زدہ کر دیا۔ نبی سے محبت کا یہ کون سا طریقہ تھا کہ اپنے ہی گھر کو آگ لگا دی اور اپنے ہی بھائیوں کا خون کر دیا۔ ہمارے نبی نے تو ایک کلمہ گو کی جان و مال کی حرمت کو کعبہ کی حرمت پر بھی فوقیت دی مگر نبی کی حرمت کے لئے منائے جانے والے دن دو درجن سے زیادہ معصوم جانوں کو قتل کر دیا گیا جن کے دل بھی عشق رسول سے لبریز تھے۔ ہمارا دین تو دوسروں کی جان مال کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے مگر ہم نے اس دن لوٹ مار اور جلاؤ گھیراؤ کا بازار گرم رکھا۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد تو اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی ضمانت دیتے ہیں اور آپ نے یہاں تک فرمایا کہ اگر کوئی مسلمان کسی ذمی سے زیادتی کرے گا تو یوم حشر کو آپ خود اس کا بدلہ لیں گے۔ مگر ہم میں ایسے فتنہ باز بھی موجود ہیں جنہوں نے ایک گرجا گھر کو بھی آگ لگا دی۔
    اپنے نبی کی محبت میں نکلنے والے لاکھوں افراد جو پرامن رہے اور جنہوں نے کسی غیر شرعی اور غیر قانونی کام میں حصہ نہ لیا، ان بیچاروں کو بھی چند شرپسند اور بے راہ رو افراد کی وجہ سے مزید دکھ کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں میں میڈیا کے کردار پر بھی بات کرنا چاہوں گا جس نے ایسی تصویر کشی کی کہ جیسے پورا پاکستان جل رہا ہو۔ چند شہروں میں اور وہ بھی کچھ مخصوص مقامات پر حالات خراب ہوئے مگر میڈیا نے پاکستان کے طول و عرض میں ان سیکڑوں احتجاجی مظاہروں پر بہت ہی کم توجہ دی جو مکمل طور پر پرامن رہے۔ سارا زور پرتشدّد واقعات کو بار بار دکھانے پر رہا۔ تشدد کرنے والے سیکڑوں میں ہوں گے جبکہ پرامن مظاہرین لاکھوں میں تھے مگر نجی ٹی وی چینلز کے کیمرے انتشار کو ہی دکھاتے رہے بلکہ بار بار اس طرح دکھایا کہ ایسا لگا کہ ہر احتجاج کرنے والا توڑ پھوڑ اور خون خرابے میں مصروف ہے۔
    یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اپنے آپ کو عوام کے نمائندہ کہنے والے، کراچی، سندھ، پنجاب، پختون خواہ، بلوچستان کے بڑے بڑے سیاسی رہنما، اٹھارہ کروڑ عوام کی نمائندگی کرنے کے دعویدار سب کے سب غائب تھے۔ صدر زرداری ملک سے غائب، وزیراعظم پرویز اشرف نے بند کمرہ میں تقریر کر کے اپنے آپ کو بری الذمہ کر لیا۔ میاں نواز شریف، اسفندیار ولی، چوہدری شجاعت حسین، صوبائی گورنرز اور وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزراء، ممبران قومی و صوبائی اسمبلی سب کے سب غائب۔ الطاف حسین نے حاضری لگانے کاکام کیا جبکہ عمران خان کا کردار نسبتاً بہتر رہا اور وہ مظاہرین کے درمیان موجود پائے گئے۔ حکومت نے یوم عشق محمد منانے کا اعلان کیا اور تقریباً ہر سیاسی پارٹی نے احتجاج کی حمایت کی اور کال دی مگر لوگوں کو گھروں سے نکال کر سب لیڈر گھروں میں سوئے رہے۔ حرمت رسول سے بڑا ایشو کیا ہو سکتا ہے مگر شاید ہمارے بڑے بڑے لیڈران اور ان کی جماعتیں امریکا کو ناراض نہیں کرنا چاہتیں۔ جب لیڈر گھروں میں دبک کر بیٹھ جائیں گے اور لوگ سڑکوں پر ہوں گے تو پھر توڑ پھوڑ، گھیراؤ جلاؤ اور مار دھاڑ کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔ اپنی اپنی سیاسی مصلحتوں اور اپنے اپنے زندہ اور مرے ہوئے لیڈروں کے لیے تو ہمارے سیاسی رہنما اور ان کی جماعتیں لاکھوں کی ریلیاں کامیابی سے نکالتی ہیں اور لانگ مارچ بھی کئے جاتے ہیں مگر یہ کیسی سیاست ہے کہ نبی کی حرمت کے لئے صدر زرداری نے کوئی جلسہ کیا نہ وزیراعظم پرویز اشرف نے۔ اس مسئلہ پرنواز شریف کو بھی لانگ مارچ کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔ الطاف حسین، صدر زرداری کے لیے تو کراچی میں ایک بہت بڑی پرامن ریلی نکال سکتے ہیں اور اسفندیار ولی آئے دن پشاور میں باچا خان کے لیے جلسے منعقد کرتے رہتے ہیں مگر نبی کی حرمت کے حق میں باہر نکلنے کا وقت آیا تو کراچی اور پشاور کو غنڈوں اور لٹیروں کے حوالے کر دیا۔ اپنے نبی کی حرمت کے لئے لڑنا تو ان کا فرض ہے مگر ہمارے سیاستدانوں نے سمجھ لیا جیسے یہ صرف مذہبی جماعتوں،مولویوں اور مدرسے کے طالب علموں کی ذمہ داری ہے۔ میری دانست میں گزشتہ جمعہ کے روز کی بربادی کی تمام تر ذمہ داری قومی و صوبائی حکمرانوں اور اٹھارہ کروڑ عوام کی نمائندگی کرنے کی دعویدار بڑی سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کے سر ہے۔
    اس تمام تر مایوس کن صورتحال میں مجھے یہ دیکھ کر انتہائی خوشی ہوئی کہ اپنے نبی کی محبت میں بلوچستان کے تقریباً ہر ضلع حتّٰی کہ ڈیرہ بگٹی میں بھی احتجاج ہوا جو اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان کو صرف اور صرف اسلام کے نام پر ہی متحد رکھا جا سکتا ہے۔ مگر اُس سب کے باوجود جو ہمیں دکھایا گیا، اگر کوئی یہ چاہے کہ مسلمان اصل مسئلہ (حرمت رسول پر تازہ امریکی حملہ) کو بھول کر پاکستان میں ہونے والے پرتشدّد واقعات پر توجہ دیں تو یہ اللہ کے رسول کے ساتھ بے وفائی سے کم نہ ہو گا۔ ہم مسلمانوں کو اپنا پرامن احتجاج جاری رکھنا ہے تا وقتیکہ اسلامی دنیا کے بے حس اور بے شرم حکمرانوں کو اُن کی ذمہ داری کا احساس دلایا جا سکے تا کہ وہ بے غیرتی کی زندگی کو ترک کریں اور سب مل کر دنیا کو یہ باور کرائیں کہ امریکا و مغرب کی دین اسلام اور پیغمبران اسلام سے متعلق خباثتوں کو مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
     
  14. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    ہی ہی ہی تبھی تو میں نے وسعت اللہ خان اور محمد حنیف کوکبھی لفٹ نہیں کرائی بھونکتے رہیں ۔۔۔ :i-agree: والد صاحب زندہ ہوتے تو بیٹے کے علم وفضل پر شرمندہ ہوتے

    زبردست ۔ لیکن اس کے کالم کا جواب دینا چاہیے ۔ لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے ۔
     
  15. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    ہمارا میڈیا جو کچھ کر رہا تھا اس میں بھی بیرونی مداخلت لگتی تھی ورنہ اس طرح پلاننگ کے ساتھ جو کچھ ہوا یہ معمول کی کارروائی نہ تھی۔ ڈرون حملوں میں جو مرتے ہیں انہیں کون مارتا ہے۔ دھماکوں میں اور ٹارگٹ کلنگ میں روزانہ 27 سے زیادہ آدمی مر جاتے ہیں، کبھی ہمارے میڈیا نے اس پر شور مچایا، صرف خبر نشر ہوتی ہے اور بس۔ لیکن یومِ عشقِ رسول کے حوالے سے جلوسوں میں شرپسندوں کے لئے ایک خاص منصوبے کے تحت پروگرام کئے گئے۔ کچھ اینکرز کا رویہ توہین رسالت کے خلاف غم و غصے کا اظہار نہ تھا، وہ عاشقانِ رسالت کی توہین کر رہے تھے۔ یہ مُٹھی بھر شرپسند کسی صورت میں عشق رسول والے نہ تھے۔ خودکش دھماکہ کر کے کئی بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے والے کے لئے کہتے ہیں کہ اس کا کسی مذہب سے تعلق نہیں۔ ان درندوں کو، یومِ عشقِ رسول کو سبوتاژ کرنے والوں کو غلامان رسول کے کھاتے میں ڈال کے اپنے آقا¶ں کو کیوں خوش کیا جا رہا ہے۔ میڈیا کی خدمات اور اہمیت سے انکار نہیں مگر ایک بھارتی خاتون کے لئے ایک بھارتی اداکار کے مرنے پر کئی کئی دن پروگرام کئے گئے ہیں اور اپنے عظیم اداکار لہری کے لئے بہت معمولی پروگرام پیش کئے جاتے ہیں۔
    ایک سروے کے مطابق پاکستان کے ہر شہر ہر محلے سے جلوس نکلے اور وہ پُرامن تھے تو صرف دو تین بڑے شہروں میں شرپسندی کیوں ہوئی۔ عشق رسول میں بڑے بڑے جلوسوں کی ایک جھلک تک نہ دکھائی گئی، صرف توڑ پھوڑ، جلا¶ گھیرا¶ کے منظر بار بار دکھائے گئے۔ جن لوگوں کے ہاتھوں میں اسلحہ تھا کیا وہ علمائے کرام نے فراہم کیا تھا؟ ان لوگوں کو حافظ محمد سعید نے بھجوایا تھا؟ وہ چوبرجی میں ایک شاندار ریلی میں موجود تھے، امیر حمزہ اور دوسرے دوست بھی تھے۔ کہیں ان کی جھلک نظر نہیں آئی۔ صاحبزادہ فضل کریم نے بہت عظیم الشان ریلی کی قیادت کی۔ برادرم نواز کھرل ان کے ساتھ تھے۔ جماعت اسلامی، جماعت اہلسنت اور دیگر مذہبی تنظیموں کی طرف سے جلوس نکالے گئے مگر کہیں میڈیا موجود نہ تھا وہ صرف ایسے شرپسندوں کی ”سرگرمیاں“ دکھانے میں مصروف تھے اور خوش تھے کہ انہوں نے اپنی ڈیوٹی پوری طرح نبھائی۔
    ایک بات جو مجھے پسند نہیں آئی وہ علمائے کرام کا دفاعی اندازِ گفتگو تھا۔ وہ احساس کمتری میں مبتلا ہو کر کیوں بول رہے تھے جیسے شرپسندی انہوں نے کرائی ہو۔ مولانا فضل الرحمن شریک نہ تھے، حافظ حسین احمد بھی نہ تھے۔ علمائے کرام صاف کہتے کہ شرپسندوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ مُٹھی بھر لوگ نجانے کس کے بندے تھے، وہ جلوس میں شریک نہ تھے۔ ان کے پاس کوئی جھنڈا نہ تھا کوئی پہچان نہ تھی۔ کچھ نے منہ چھپائے ہوئے تھے۔ وہ اس بہت بڑے جذبے کی توہین کرنے آئے تھے۔ لگتا ہے کہ انہیں ٹیری جونز نے بھیجا تھا یا ٹیری جونز کے ایجنٹوں اور سرپرستوں نے بھیجا تھا۔ پاکستانی میڈیا نے ان کی دلجوئی کے لئے اپنی ساری ٹرانسمیشن ان کی نذر کر دی تھی۔
    وزیراعظم پرویز اشرف نے بڑا جذبہ دکھایا، تعطیل کی، جمعہ کو صبح سویرے ولولہ انگیز تقریر کی۔ یہ پیغام ساری دنیا میں گیا ہو گا۔ قوم اس کے لئے شکر گزار ہے مگر وہ یہ بات کن کو خوش کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں۔ اپنے ہی بھائی بندوں کو قتل کرنا کونسا عشقِ رسول ہے۔ آپ کے قانون نافذ کرنے والے ادارے کہاں تھے؟ وہ انہیں کیوں نہ روک سکے۔ وہ صرف امریکی سفارت خانے اور ریڈ زون کو بچانے میں لگے رہے۔ بہرحال یوم عشق رسول مبارک ہو۔

    عشق رسول کو متنازعہ بنانے کی سازش اور میڈیا | NAWAIWAQT
     
  16. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    ڈاکٹر اجمل نیازی کا کہنا ہے کہ یہ حب رسول ﷺ کو متنازعہ بنانے کی کوشش ہے میرے خیال میں یہ توہین مقدسات کی سزاؤں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ حدود لاز پر ہونیوالے ڈرامہ ہم سب دیکھ چکے ہیں اب پر تشدد احتجاج کی مذمت کے بہانے نیا کھیل ہو رہا ہے ۔
    آپ وسعت اللہ خان کا مذکورہ کالم دیکھ لیں ۔ تشدد کی مذمت کی بجائے گستاخ رسول سے عفو ودرگزر کے لیے کیا کیا بھونڈی دلیلیں تراش کر پیش کی گئی ہیں ۔ بطور نمونہ چند کو دیکھیے :
    اسلامی تاریخ سے واجبی واقفیت رکھنے والے افراد بھی جانتے ہیں کہ ابرہہ کا کعبۃ اللہ پر حملہ شریعت اسلامی کے نزول اور گستاخ رسول ﷺ کی سزا کے متعین ہونے سے کہیں پہلے کا واقعہ ہے ۔ حضرت عبدالمطلب نبی رحمت ﷺ کے دادا تھے اور ان کا انتقال آپ ﷺ کے بچپن میں ان کی بعثت و نبوت سے کہیں پہلے ہو گیا تھا ۔ اس صورت میں قبیلہ قریش اور جناب عبدالمطلب کے فیصلے کو آج کے مسلمان کے لیے حجت کیسے قرار دیا جا سکتا ہے ؟ کیا ایک مسلمان اب عہد جاہلیت کے قریشی فیصلوں پر عمل کرے گا ؟ اتنی دور کی کوڑی پر وسعت اللہ خان کو داد پیش کی جانی چاہیے ۔

    اس زلف پہ پھبتی شبِ دیجور کی سوجھی
    اندھے کو اندھیرے میں بُہت دُور کی سوجھی ​

    یہ صاحب تحریر کا ذاتی مفروضہ ہے کہ گستاخ اتنی بڑی تعداد میں پائے جاتے تھے ۔ صحافتی لاف گزاف کو ایک جانب رکھیے اور علمی سطح پر اس رائے کے حق میں کسی غیر مسلم مورخ کا قول ہی لے آئیے جو یہ کہہ دے کہ عہد رسالت میں گستاخان رسول ﷺ کی تعداد درجنوں میں تھی ، چہ جائیکہ وہ اس قدر ہوتے جن کی کھوپڑیوں کا مینار بن سکتا ۔ وسعت اللہ خان کی فضول گوئی، غیر ذمہ داری اوراحمقانہ مبالغہ آمیزی کی کوئی حد نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ کافر، اسلام مخالف اور ہجو گو گستاخ میں ایک واضح فرق ہوتا ہے ۔ ہر کافر یا اسلام مخالف گستاخ نہیں ہوتا اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ گستاخ کافر ہی ہو ۔ وہ ایک مرتد یعنی مسلمان بھی ہو سکتا ہے جو گستاخی کی بنا پر ارتداد کا مرتکب ہو۔

    یہ واقعہ مشہور تو ہے مستند نہیں ، امید ہے صاحب تحریر مشہور famous اور مستند authentic کا فرق جانتے ہوں گے ۔ ایک بے بنیاد و بے سند واقعے کو دلیل بنا کر وہ شریعت اسلامی میں گستاخ رسول ﷺ کی متفقہ سزا کا انکا ر نہیں کر سکتے ۔
    یہ بھی رسول اللہ ﷺ کے فیصلے تھے اور گستاخ رسول ﷺ کی حتمی سزا بھی جناب رسالت مآب ﷺ کا فیصلہ ہے، ہمارا کام ہے بلا چون و چرا ان فیصلوں کو ماننا ، طائف کے واقعے تک شریعت مکمل نہیں ہوئی تھی ۔ اب شریعت مکمل ہو چکی ہے ۔ اللہ تعالی کا حکم نازل ہو چکا ہے اور کسی کو اس میں تبدیلی کی اجازت نہیں ۔ حتی کہ رسول ﷺ کو بھی نہیں ۔ کیا ان کو منافقین کے لیے دعا سے منع نہیں کردیا گیا تھا جب کہ وہ اس کے خواہشمند تھے؟
    وسعت اللہ خان کی وسعت علمی کا یہ حال ہے کہ ایک یہودی کعب ابن اشرف کی موت کے سوا کسی گستاخ رسول کے قتل کو نہیں جانتے، اور چلے ہیں اس حساس مسئلے پر وعظ لکھنے ۔۔۔ ان کویہ علم نہیں کہ کعب بن اشرف ملعون کے قتل سے پہلے نضر بن حارث ملعون کو کس لیے قتل کیا گیا تھا ؟
    رسول رحمت ﷺ نے خود معرکۂ بدر کے بعد اس خبیث کی گردن اڑا دینے کا حکم دیا تھا کیونکہ یہ آپ ﷺ کو ایذا رسانی میں پیش پیش رہتا تھا ۔
    مزید اطلاع کے لیے عرض ہے کہ رسول رحمت ﷺ ہی نے عقبہ بن ابی معیط کے قتل کا بھی حکم دیا تھا ، یہ وہ شخص تھا جس نے ابتدائے نبوت میں آپ ﷺ کو حالت نماز میں پا کر آپ کی پشت مبارک پر اونٹ کی اوجھ لا کر رکھ دی تھی ۔ اور اس نے آپ کی گردن پر چادر لپیٹ کر آپ ﷺ کو قتل کرنا چاہا تھا ۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے موقع پر پہنچ کر آپ ﷺ کو اس کے شر سے نجات دلائی تھی ۔ یہ بھی کعب بن اشرف سے پہلے قتل ہوا تھا ، اور یہ سب گستاخ فتح مکہ سے کئی سال پہلے جہنم واصل ہوئے تھے۔
    فتح مکہ کے موقع پر رحمت للعالمین ﷺ نے کل نو عدد گستاخان رسول کا خون رائیگاں قرار دیا تھا ان میں دو عورتیں بھی تھیں جو ابن خطل نامی گستاخ کی لونڈیاں تھیں ۔
    رسول رحمت ﷺ نے ہی حکم دیا تھا کہ یہ کعبہ کے پردوں سے بھی چمٹ جائیں تو ان کو قتل کیا جائے ۔
    ان نو میں سے چار قتل ہوئے جن میں ایک عورت ابن خطل کی لونڈی تھی ، باقی نے اسلام قبول کیا اور ان کی جان بخشی ہوئی ۔
    گویا کعب بن اشرف کے علاوہ ایک عورت سمیت چھ افراد کا قتل مجھ جیسی طالبہ علم بھی جانتی ہے ، خدا جانے وسعت اللہ خان کو یہ مثالیں کیوں نظر نہیں آتیں، اور اس جہالت پر اتنا تکبر اتنے دعوے ؟ شاید کچھ نازک تیکنیکی صحافتی معاملات ہیں ۔
    اگر وسعت اللہ خان و ہمنوا کی آنکھیں ، کان اور دماغ بند ہو گئے ہیں تو ابھی مسلمانوں کی آنکھیں دیکھتی ہیں اور مسلمانوں کی صفوں میں موجود منافقوں کو خوب پہچانتی ہیں ، کیا عجب کہ ان آزمائشوں کا مقصد بھی یہی ہو کہ منافق پہچانے جائیں ۔
     
  17. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    جزاک اللہ خیرا۔
    ہند رضی اللہ عنہا والی بات کا جواب کیا ہو گا ؟
     
  18. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    وسعت اللہ خان کے حسب حال
    گنجے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی :00032::00003:​
     
  19. ابو جزاء

    ابو جزاء -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 11, 2012
    پیغامات:
    597
    ناموس رسالت کے جلوسوں میں اگر کچھ تخریب ہوئی اور مسلمانوں کے اپنے ہی جان ومال کا نقصان ہوا، تو اس کی تائید کوئی بھی نہیں کرتا۔ یہاں صرف میڈیا کا اصل تعصب دکھانا مقصود ہے جو اس موقع پر ہونے والے جان و مال کے نقصان کو بنیاد بنا کر اِس پورے ایشو کو منفی انداز میں پینٹ کررہا ہے۔ حالانکہ یہ جن ایشوز کو اٹھانے پر زور لگا رہا ہوتا ہے (جیسے افتخار چودھری کی بحالی کے وقت تھا یا بی نظیر کے قتل پہ تڑپ اٹھنے کا مسئلہ تھا، حالانکہ ڈھیروں نقصانات اُس وقت بھی ہوئے تھے) وہاں یہ نقصانات کو اتنا بڑھا چڑھا کر بیان نہیں کرتا جتنا کہ اُس ’’ایشو‘‘ کو اٹھانے اور ہائی لائٹ کرنے پر جوکہ معاملے کی اصل جان ہوتی ہے۔ مگر یہاں یہ ناموس رسالت کے ایشو کو نہیں اٹھا رہا البتہ اس سے سامنے آنے والے نقصانات کو ہائی لائٹ کرتا جارہا ہے۔ سمجھنے والے خوب سمجھتے ہیں کہ اس کے پیچھے کیا خباثت کارفرما ہے۔۔۔

    میڈیا کے ظالمو!

    تمہاری چیخیں آج ہی کیوں نکلیں؟

    نبیﷺ کی آبرو پر حرف اٹھانے والی اس ملعون فلم کے منظرعام پر آئے کتنے دن ہوچکے؟

    کتنی دیر سے دنیا بھر کی سکرینوں اور اخباری صفحات پر خیرالبشر ﷺ کا ٹھٹھہ اور مذاق ہورہا ہے؟

    اس پر تمہاری چیخیں کیوں نہ نکلیں؟

    یہ پریشانی جو آج تمہارے تن بدن میں نظر آرہی ہے، اتنے دن کہاں روپوش رہی؟

    اتنی کوریج ’ناموسِ رسالت‘ کے مسئلے کو آج یکدم کیوں مل گئی؟

    ناموسِ رسالت کے مسئلہ پرایسی توجہ؟

    خدایا یہ ہمارا ہی میڈیا ہے؟

    ’پرتشدد مظاہروں‘ کی مذمت کرنے سے پہلے ہر بار ایک آدھ جملہ ’ناموسِ رسالت‘ کے حق میں بھی!!!

    خدایا۔۔۔ میڈیا اور مسئلۂ ناموسِ رسالت کا اعتراف!

    خواہ یہ اعتراف ایک اچٹتے جملے میں ہی کیوں نہ ہو!

    کس کے دم سے یہ سب کرشمے ہونے لگے!

    تحریکِ ناموسِ رسالت کے شہیدوں کو سلام!

    اِن شہداء کا گرنا یقیناً ایک بہت بڑا نقصان ہے

    خدا اِن شہیدوں کو اپنے اور ان شہیدوں کے محبوب ﷺ کے ساتھ جنت الفردوس میں اکٹھا کرے، جس کی ناموس کےلیے انہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے

    ’انفرمیشن‘ پر کنڈلی مار کر بیٹھنے والے اس میڈیا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں آواز اٹھانا واقعتاً اتنا ہی مشکل کررکھا تھا

    قادیانیت کی میڈیا انوسٹمنٹ نے نبیﷺ کی ناموس کے مسئلہ کو فضاؤں پر چھاجانے کو اسی قدر دشوار بنا دیا ہوا تھا

    انہی ظالموں نے توہینِ رسالت کے موضوع پر کمال فنکاری کے ساتھ یہ بلیک آؤٹ کررکھا تھا۔

    آبروئے محمدﷺ کو وقت کا سب سے بڑا عالمی مسئلہ بنادینا جان جوکھوں کا کام بنادیا گیا تھا۔


    شاید پھر کچھ قربانیوں کا وقت آگیا تھا۔

    فرعون کے جادوگروں کا طلسم توڑنے کے لیے شمعِ رسالت کے پروانوں کو ایک بار پھر امتحان درپیش تھا

    نبی علیہ الصلاۃ والسلام کی ناموس سے بڑھ کر عالم اسلام کےلیے کونسا مسئلہ اہم ہوسکتا ہے؟

    تو پھر اس مسئلہ کو مسئلہ کے طور پر کیسے منوایا جاتا، جہاں صبح شام ابلاغی محنت اس بات پر ہورہی ہے کہ یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں!

    اس مسئلہ کو عالمی سطح تک پہچانا کسی میڈیا کی مدد کے بغیر، بلکہ خرانٹ میڈیا کی کھڑی کی ہوئی آہنی رکاوٹوں کو ہٹاتے ہوئے، آج کہاں آسان رہ گیا تھا۔

    اس کو تو ایک شہر کا مسئلہ نہیں بننے دیا جارہا تھا!

    ایک ملک کا مسئلہ نہیں بننے دیا جارہا تھا؟

    پھر یہ عالمی مسئلہ کیسے بنتا؟

    کرائے کے میڈیا کی کھڑی کی ہوئی ان رکاوٹوں کا حصار کون توڑتا؟

    یہ ہدف اس بار بےحد مشکل کردیا گیا تھا

    اور اس مشکل ہدف کو اِس بار ناموسِ رسالت کے شہیدوں نے اپنا خون دے کر سر کیا۔

    ’میڈیا انقلاب‘ کا یہ سحر توڑنا ہرگز آسان نہ رہ گیا تھا

    اور وہ تو کب کے بغلیں بجا رہے تھے کہ عالم اسلام کو کرائے کے میڈیا کے ذریعے گھیر لیا گیا ہے!

    مسلم سٹریٹ کو میڈیا کے ذریعے قابو کرلیا گیا ہے

    دماغوں کو ان سکرینوں کے ذریعے جکڑ لیا گیا ہے

    بغض سے بھرے ہوئے عالمی شیاطین نے آبروئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف یہ سٹیج سجایا ہی تب تھا اور کارٹونوں سے شروع ہونے والے اس شیطانی سفر کا آغاز ہی تب کیا تھا جب اُس نے ہمارے یہاں ’انفرمیشن‘ کی انجنئرنگ مکمل کرلی تھی!

    یہ کہانی بڑی خوبصورتی سے مکمل ہورہی تھی

    وہ ہمیں مارتے تھے، اِدھر سے دلاسہ دیا جاتا تھا!

    وہ ہمارے نبی کی توہین کرتے تھے، اِدھر سے ’صبر‘ کی تلقین کی جاتی تھی

    وہ ہمارا قرآن جلاتے تھے، ادھر سے بے حسی کے انجکشن دیے جاتے تھے

    وہ ہم پر اپنے ٹینک اور طیارے اور ڈیزی کٹر چڑھالاتے تھے، ادھر سے ہمیں کرکٹ کا سکور سنایا جاتا تھا اور آرٹ اور فیشن سے محظوظ ہونے کا آئیڈیا سجھایا جاتا تھا

    میڈیا کی سب ’ایکسائٹ منٹ‘ سب چہک ثانیہ مرزا کے لیے تھی

    میڈیا کی سب غیرت آسیہ بی بی کےلیے تھی

    میڈیا کی سب حمیت ممتاز قادری کو مذموم ٹھہرانے کےلیے تھی

    میڈیا کی سب آنیاں جانیاں رمشا کی ناموس کےلیے تھی

    میڈیا کا سب پروفیشنل ازم کوڑوں والی فلم کو اصلی کرکے دکھانے کےلیے تھا

    میڈیا کی سب ’جدوجہد‘ بھارت کےلیے امن اور محبت کے سُر گانے کےلیے تھی

    میڈیا کی تمام تر لگن پاکستان میں ہندؤں اور عیسائیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو ہائی لائٹ کرنے کےلیے تھی

    شہیدو! تمہاری عظمت کو سلام!

    تم نے ناموسِ رسالت کے مسئلہ کو پھر بھی سرفہرست کردیا

    اپنا خون دے کر مقدساتِ اسلام کی اہانت کے مسئلہ کو پھر ہائی لائٹ کردیا

    میڈیا جو دماغوں پر سانپ کی طرح کنڈلی مار کر بیٹھا تھا

    میڈیا جو انفرمیشن کو اپنے گھر کی باندی بنا کر بیٹھا تھا

    اپنی مرضی کے ایشوز کو کھڑا کرتا اور اپنی مرضی کے ایشوز کو موت کی نیند سلاتا ہے

    میڈیا جو ناموسِ رسالت کے موضوع کو موت کی نیند سلانے کےلیے پچھلے سات سال سے اپنے مغربی سپانسرز کے نمک کا حق ادا کررہا ہے

    آج کا پورا دن ناموسِ رسالت کے لیے وقف کرچکا ہے!

    بے شک وہ ناموسِ رسالت کے اس پورے احتجاجی عمل کو انتہائی منفی انداز میں کوریج دیتا رہا ہے۔

    ناموس رسالت کے مظاہروں کو ’نقصانات‘ کا پلندہ بنا کر پیش کررہا ہے

    بڑی شیطنت کے ساتھ لوگوں کو اس ایشو سے ہی متنفر کررہا ہے کہ آئندہ ایسی کسی حرکت کی کوشش نہ ہو۔


    چند شرپسند عناصر جو ہمیشہ ہی احتجاجات وغیرہ میں گھس کر تخریبی کارروائیوں کا موقع پالیتے ہیں، ان کو گھما گھما کر اس طرح ہائی لائٹ کیا جارہا ہے کہ لوگ اس پورے عمل سے ہی دل کھٹا کرلیں۔

    بجائے اس کے کہ اس صورتحال کی ذمہ داری ان شیاطینِ مغرب پر ڈالی جاتی جنہوں نے مسلم غیرت اور حمیت کو امتحان میں ڈالا۔۔۔ بجائے اس کے کہ اس کی ذمہ داری حکمرانوں پر ڈالی جاتی جنہوں نے ڈیڑھ ہفتہ تک کچھ نہ کرکے عوامی ردعمل کو اس حد تک بپھرجانے پر مجبور کیا اور جنہوں نے کوئی ایک بھی کام ایسا نہیں کیا جس سے گستاخانِ رسول کو کوئی سبق ملتا اور جس کے نتیجے میں عوامی غیظ و غضب کا سامنے آنا قدرتی بات تھی۔۔۔ بجائے اس کے کہ اُس صورتحال کو کوسا جاتا جو مسلم پبلک کو اس حد تک اکسانے اور مایوس کرنے کی ذمہ دار ہے، میڈیا کے تجزیہ کار سارا دن مظاہرین کی ہی ایک غلط تصویر بنا کر پیش کرنے میں مصروف رہے۔

    گویا اس موقع پر بھی اور ان شہادتوں پر بھی وہ اپنے ہی ایجنڈے کو فروغ دیتا رہا

    آج کے احتجاجی مظاہروں کی ’بھرپور‘ کوریج دیتے ہوئے بھی اپنے ہی مقاصد پورے کرتا رہا

    پھر بھی ناموسِ رسالت کا مسئلہ کوریج پا کر رہا!

    خدا کے فضل سے مقدساتِ اسلام کو توجہ مل کر رہی!

    دنیا کو معلوم ہوا کہ عالم اسلام کی حکومتیں غیرت اسلامی سے تہی دامن ہیں تو یہاں کی اقوام اپنے نبی کی ناموس کے سوال پر ہر حد تک چلے جانے پر تیار ہیں۔

    پورے جہان کو پتہ چلا کہ مسلم حکومتوں نے اپنے عوام کو مایوس کیا۔ مگر یہ عوام اپنی حکومتوں کے مایوس کن کردار کے علی الرغم، اور اپنے ملکی میڈیا کے پردہ ڈال رکھنے کے باوجود، اس مسئلہ کو اٹھانے میں پوری طرح کامیاب رہے۔

    یہاں تک کہ اب مغرب میں کسی شیطانی فلم کو اداکار ملنا مشکل ہوگئے، کوئی اداکار ایسی کسی فلم کو سائن کرنے پر تیار نہ ہوگا جس میں اداکاری کرکے وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے!

    ایسے تیور دکھائے بغیر یہ پیغام پہنچانا بھلا کب ممکن تھا؟

    میڈیا کے ظالمو!

    آج تمہارا سارا دن ’پرامن‘ کی ضرورت پر زور دیتے گزرا!

    حالانکہ تم اپنے بارے میں خوب جانتے ہو۔۔۔ اور اسلامی ایشوز کے ساتھ اپنے بغض سے خوب واقف ہو۔۔۔

    اسلام پسند قوتیں اپنے ایشوز پر کروڑوں کے اجتماعات بھی کرلیں تو وہ تمہاری توجہ سے محروم رہتی ہیں۔

    اسلام پسند اپنے مظاہروں میں پوری دنیا کو اکٹھا کرلیں تو وہ تمہارے معتصب کیمرے کی نظر سے روپوش رہتی ہیں

    کہو تو اسلام پسند قوتوں کا وہ ٹھاٹھیں مارتا لانگ مارچ جو انہوں نے ’’دفاعِ پاکستان‘‘ کے عنوان کے تحت تمہارے اتحادی ’’ناٹو‘‘ کی سپلائی کی بحالی کے خلاف نکالا تھا اور جو لاہور سے چل کر اسلام آباد پرامن طور پر پہنچا تھا۔۔۔ کہو تو اُس انسانی سمندر کو تم سے کتنی توجہ ملی تھی؟

    اسلام پسندوں کے پرامن مظاہروں کو تم نے کوریج دی ہی کب ہے۔

    اسلام پسندوں کے بعض جذباتی طبقوں میں یہ فرسٹریشن پیدا کرنے کے ذمہ دار تو تم خود ہو

    اسلام پسندوں کے ایشوز کو موت کی نیند سلانے میں ہی تو آج تک تمہاری تمام تر مہارت صرف ہوئی ہے

    اور اب اس صورتحال کو پیدا کرنے کے بعد تم ’پرامن‘ کی گردان کرنے لگے ہو

    یعنی جب وہ ’پرامن‘ ہوتا ہے تو کسی توجہ کے قابل نہیں ہوتا

    اور جب وہ ’پرامن‘ نہیں رہتا تو مذمت کے قابل ہوتا ہے۔

    تمہارا خیال ہے کوئی اس خباثت کو نہیں سمجھتا۔۔۔

    یاد رکھو، یہاں ایک آتش فشاں کھول رہا ہے

    تمہارا وہ مغرب نواز اور قادیانیت نواز کردار بہت کھل کر سامنے آرہا ہے

    اس ملک کو رخ دینے کا تمہارا یہ خواب پورا ہونے والا نہیں

    ناموس رسالت کے مسئلہ سے اٹھنے والا یہ سیلاب، جو شعور اور آگہی کی منزلیں تیزی کے ساتھ طے کرنے لگا ہے، عنقریب تمہارا بہت کچھ بہا لےجانےوالا ہے



    ابن علی
     
  20. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,848
    ابوجزاء بھائی!‌ میڈیا بات سمجھتا ہے صرف ایم کیو ایم
    میڈیا بات مانتا ہے صرف ایم کیو ایم کی
    میڈیا بات کرتا ھے صرف ایم کیو ایم کی

    یقین نہ آئے تو ایم کیو ایم والا تجربہ کر کے دیکھ لیں
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں