رخصتوں پر عمل کرنا

نعیم یونس نے 'نقطۂ نظر' میں ‏ستمبر 30, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    [font="al_mushaf"]((إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یُحِبُّ أَنْ تُوْتٰی رُخْصَہُ، کَمَا یُحِبُّ أَنْ تُوْتٰی عَزَائِمُہُ۔))
    صحیح الجامع الصغیر، رقم : ۱۸۸۵۔[/font]

    ’’ یقینا اللہ پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصتوں پر عمل کیا جائے جیسے اپنے فروض پر عمل کرنا پسند فرماتا ہے۔‘‘
    دوسری حدیث میں فرمایا:

    [font="al_mushaf"](( وَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم: إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یُحِبُّ أَنْ تُؤْتٰی رُخْصُہُ، کَمَا یَکْرَہُ أَنْ تُؤْتٰی مَعْصِیَتُہُ۔))
    صحیح الجامع الصغیر، رقم : ۱۸۸۶۔[/font]

    ’’ بے شک اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے کہ اس کی (دی ہوئی) رخصتوں پر عمل کیا جائے جیسے اپنی نافرمانی کو ناپسند فرماتا ہے۔ ‘‘
    شرح…: رخصت، فرض کا مدمقابل ہے، اس کے تحت درج ذیل امور آتے ہیں: مریض اور مسافر کے لیے روزہ چھوڑنے کی رخصت ہے، نیز حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو بھی بچوں کے خوف کی وجہ سے روزہ ترک کرنے کی اجازت ہے۔ سفر میں نماز کو قصر اور جمع کرنا رخصت ہے۔
    چنانچہ جیسے حضر میں مکمل نماز پڑھنا اللہ کو پیارا لگتا ہے ایسے ہی سفر کے دوران قصر نماز کو پسند کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    [font="al_mushaf"](( عَلَیْکُمْ بِرُخْصَۃِ اللّٰہِ الَّتِیْ رَخَّصَ لَکُمْ فَاَقْبَلُوْھَا۔))
    صحیح الجامع الصغیر، رقم : ۵۴۲۹۔[/font]

    ’’ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو رخصتیں دی ہیں انہیں قبول کرو اور لازم پکڑو۔ ‘‘
    ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما کا قول ہے جس نے اللہ کی دی ہوئی رخصت قبول نہ کی تو عرفہ کے پہاڑ جیسا گناہ اس کے ذمے ہوگا۔
    اس قول کے تحت وہ انسان آتا ہے جو رخصت سے بے رغبتی کرتا ہے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    [font="al_mushaf"](( مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَیْسَ مِنِّيْ۔))
    أخرجہ البخاري في کتاب النکاح، باب: الترغیب في النکاح، رقم : ۵۰۶۳۔[/font]

    ’’ جس نے میری سنت سے بے رغبتی کی تو وہ مجھ سے نہیں۔ ‘‘
    مکلف کو کسی عذر کی وجہ سے جو آسانی دی جاتی ہے، اسے رخصت کہتے ہیں۔
    یہ بھی کہا گیا ہے کہ بسا اوقات کسی کے دل میں شریعت کی مباح کی ہوئی چیز پر عمل کرنے سے تکبر اور بڑائی آجاتی ہے، اس کو دور کرنے کے لیے فرض کو بعض حالات میں رخصت میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ جس نے مباح امور سے ناک چڑھایا تو اس کا دین خراب ہوجاتا ہے۔ اس لیے اسے رخصت پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ اپنے آپ سے تکبر کو دور اور ختم کرسکے اور برائی پر ابھارنے والے نفس کو شرعی کے امور پر عمل کروانے پر مجبور کرسکے۔
     
  2. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    ’’ رخصت پر عمل کی وجہ سے اللہ کی محبت ‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا ترک مکروہ اور ناپسند کرتا ہے۔ چنانچہ رخصت کو قبول کرنے کی اتنی تاکید کی کہ وجوب کے قریب ہوگیا۔ یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان (جیسے اللہ اپنی نافرمانی کو ناپسند فرماتا ہے) سے اخذ ہوتی ہے۔ امام غزالیl رقمطراز ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ فرمان ضعفاء کے دلوں کو خوش کرنے کے لیے ہے کہ کہیں کمزوری انہیں نا امیدی کی طرف نہ لے جائے اور وہ اعلیٰ اور انتہائی درجات تک پہنچنے سے عاجز ہونے کی وجہ سے بھلائی کے آسان کام چھوڑ دیں چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے لیکن ان کی اقسام اور درجات الگ الگ ہیں۔
    جیسے اللہ تعالیٰ فرائض پر عمل کرنے کو پسند کرتا ہے، ایسے ہی رخصت پر عمل کرنے کو محبوب رکھتا ہے۔ اسی لیے رخصت اور فرض میں اللہ تعالیٰ کا ایک ہی حکم ہے یعنی تیمم کی جگہ پر تیمم ہی افضل ہے نہ کہ وضوء، ایسے ہی قصر کے مقام پر مکمل نماز کی نسبت قصر ہی اعلیٰ اور ارفع ہے چنانچہ انسانوں سے رخصتوں کے مقام پر رخصتوں پر عمل اور فرائض کی جگہوں پر فرائض پر عمل مطلوب ہے اور اسی طرح اگر ایک جگہ میں دونوں چیزیں متعارض آجائیں تو افضل کی رعایت ہوگی۔
    اس حدیث اور اس کی ہم مثل احادیث کی وجہ سے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب پر لدے ہوئے طوق اور بوجھ کی مشابہت کو ناپسند کرتے تھے اور اسی لیے اپنے صحابہ کو مجرد رہنے اور رہبانیت اختیار کرنے پر جھڑکتے تھے۔
    رخصت کو اس کی مواضع پر ضرورت کے وقت استعمال کرنا چاہیے، بالخصوص عالم دین کو تو ایسا ضرور کرنا چاہیے کیونکہ اس کی پیروی کی جاتی ہے۔ آدمی جب ایسا ہو کہ محض مندوب پر عامل ہو اور رخصت پر عمل نہ کرتا ہو تو شیطان اس سے اپنا حصہ وصول کرتا ہے اور جو انسان بدعت پر اصرار کرے اس کی کیا حالت ہوگی؟
    شرعی رخصت کو لینا چاہیے کیونکہ رخصت کے مقام پر فرض کو پکڑنا تکلیف ہے جیسے کہ پانی کے استعمال سے عاجز آنے والا تیمم ترک کردے تو پانی کا استعمال اسے تکلیف پہنچائے گا۔
    [FONT="Al_Mushaf"]فیض القدیر، ص: ۲۹۲، ۲۹۷، ۲۔ احیاء علوم الدین للغزالی، ص: ۲۷۸ ؍ ۴۔ فتح الباری، ص: ۱۸۳ ؍۴۔[/FONT]
     
  3. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,318
    [font="al_mushaf"]سبحان اللہ

    جزاك اللہ خیرا
    [/font]
     
  4. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,692
    جزاک اللہ خيرا.
     
  5. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,848
    جزاک اللہ خیرا و احسن الجزاء
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں