عمل کا مستحکم ہونا

نعیم یونس نے 'نقطۂ نظر' میں ‏ستمبر 30, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    عمل کا مستحکم ہونا



    نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
    [font="al_mushaf"](( إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ إِذَا عَمِلَ أَحَدُکُمْ عَمَلًا أَنْ یَّتْقِنُہُ۔ ))
    صحیح الجامع الصغیر، رقم : ۱۸۸۰۔[/font]

    ’’ بے شک اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کوئی عمل کرے تو اس میں پختگی پیدا کرے۔ ‘‘
    شرح…: اتقان العمل سے مراد، عمل کو مضبوط، مستحکم بنانا اور افضل طریقہ پر سر انجام دینا ہے۔
    انسان کے ذمہ جتنے بھی اعمال ہیں خواہ دینی ہوں یا دنیوی، ان سب میں یہی بات مطلوب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ انسان کی طرف سے اتقان العمل کو محبوب رکھتا ہے۔
    سب سے افضل اعمال جنہیں مضبوط و مستحکم اور خوبصورت بنانا اور ریا کاری اور بدعت سے پاک کرنا واجب ہے، وہ عبادات ہیں، جیسے نماز، مناسک حج، حفظ القرآن، صحیح طریقہ کے مطابق اس کی تلاوت کرنا وغیرہ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز کی حرکات و سکنات میں اطمینان و اتقان نہ ہونے کی وجہ سے تین مرتبہ نماز دہرانے کا حکم دیا۔ حدیث درج ذیل ہے:

    [font="al_mushaf"]((فَقَدْ دَخَلَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّی، ثُمَّ جَائَ فَسَلَّمَ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَرَدَّ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم، فَقَالَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ فَصَلَّی، ثُمَّ جَائَ فَسَلَّمَ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ (ثَلَاثًا) فَقَالَ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ فَمَا أُحْسِنُ غَیْرَہُ فَعَلِّمْنِی۔ قَالَ: إِذَا قُمْتَ إِلَی الصَّلَاۃِ فَکَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَیَسَّرَ مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْکَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ رَاکِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِکَ فِی صَلَاتِکَ کُلِّہَا۔))
    أخرجہ البخاري في کتاب الأذان، باب: أمر النبي صلی اللہ علیہ وسلم الذي لا یتم رکوعہ بالإعادۃ، رقم : ۷۹۳۔[/font]

    ’’ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور ایک آدمی آیا اس نے نماز شروع کردی نماز سے فارغ ہونے کے بعد (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور سلام کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا اور فرمایا: لوٹ جائیے نماز پڑھئے، بے شک آپ نے نماز نہیں پڑھی، اس نے پھر نماز دہرائی، پھر آیا، سلام کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا (ساتھ ہی) فرمایا: واپس لوٹ جائیے، نماز پڑھئے آپ نے نماز نہیں پڑھی (یہ معاملہ تین مرتبہ ہوا۔ آخر کار) اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! میں اس سے اچھا (طریقہ نماز) نہیں کرسکتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے سکھلا دیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوں تو تکبیر تحریمہ کہئے پھر جو آپ کے لیے قرآن سے آسان ہے وہ پڑھئے، پھر رکوع کیجئے حتیٰ کہ رکوع کرنے کی حالت میں اطمینان حاصل کرلیں پھر رکوع سے سر اٹھائیے حتیٰ کہ کھڑا ہونے میں معتدل ہوجائے پھر سجدہ کیجئے حتیٰ کہ سجدے کی حالت میں مطمئن ہوجائے پھر ایسا ہی اپنی ہر نماز میں کیجئے۔ ‘‘
     
  2. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    دوسری روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے متعلق فرمایا:
    [font="al_mushaf"](( فَإِذَا رَکَعْتَ فَضَعْ رَاحَتَیْکَ عَلٰی رُکْبَتَیْکَ، ثُمَّ فَرِّجْ بَیْنَ أَصَابِعَکَ، ثُمَّ امْکُثْ حَتَّی یَأْخُذَ کُلُّ عُضْوٍ مَأْخُذَہُ۔))
    رواہ ابن حبان في باب صفۃ الصلاۃ، ذکر وصف بعض السجود والرکوع للمصلی في صلاتہ۔[/font]

    ’’ جب تو رکوع کرے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں دونوں گھٹنوں پر رکھ پھر اپنی انگلیوں کا فاصلہ کھول لے پھر ٹھہرا رہ یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ پکڑ لے۔ ‘‘
    رکوع سے اٹھنے کے متعلق فرمایا:

    [font="al_mushaf"](( فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَکَ فَأَقِمْ صُلْبَکَ حَتَّی تَرْجِعَ الْعِظَامُ إِلٰی مَفَاصِلَھَا۔))
    مسند أحمد، رقم: ۱۸۸۹۶، وقال حمزۃ أحمد الزین: إسنادہ صحیح۔[/font]

    ’’ جب تو اپنا سر اٹھائے تو اپنی پشت کو سیدھا کھڑا کر یہاں تک کہ ہڈیاں اپنے جوڑوں پر واپس چلی جائیں۔ ‘‘
    حرکاتِ نماز کی ادائیگی کی تفصیل اس کے اتقان کی اہمیت پر واضح دلیل ہے۔
    انسان کی محنت میں بھی اتقان مطلوب ہے کہ جن آلات و اسباب اور گاڑیوں وغیرہ سے خدمت حاصل کرتا ہے ان کا استعمال عمدہ طریقہ کے مطابق ہو۔ ہنر مند کے ذمہ یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو ہنر اسے سکھایا ہے اسے رب تعالیٰ کی مخلوق کے نفع کے قصد سے اتقان اور احسان کے مطابق استعمال کرے، اس نیت پر نہ کرے کہ اگر کام نہ کیا تو ضائع ہوجائے گا اور نہ ہی کام اجرت کی مقدار کے برابر کرے بلکہ کام جس اتقان کا تقاضا کرتا ہے اس کے مطابق سر انجام دے۔
    جیسے کہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک کاریگر نے کوئی کام کیا اس کی مکمل درستی پر وہ مطمئن نہیں تھا وہ چیز اس کے مالک کو دے دی جسے اس کے عیوب کا علم نہیں تھا لیکن کاریگر اس ڈر کی وجہ سے ساری رات سو نہ سکا کہ کہیں اس کے کام کا عیب ظاہر نہ ہوجائے چنانچہ اس نے دوبارہ اس چیز کو بنانا شروع کیا اور بڑے اچھے انداز اور اس کے حق کے مطابق بنایا پھر اسے لے کر مالک کے پاس گیا پہلی چیز لے لی اور یہ اسے پکڑا دی۔ تو اس صورت میں بھی گویا اس نے اپنی کاریگری کی نعمت کا شکریہ ادا کیا لہٰذا اس نے ساتھ یہ بھی کہا: میں نے دوبارہ کام تیری وجہ سے نہیں بلکہ ہنر مندی کا حق ادا کرتے ہوئے کیا ہے اور اس کراہت سے کیا کہ کہیں میری بنائی ہوئی چیز میں نقص ظاہر نہ ہوجائے۔ ہنر مند جب بھی کام چوری کرے گا ایک تو اس کی اجرت میں کمی ہوگی دوسرا اللہ تعالیٰ کے سکھائے ہوئے علم کی ناشکری ہوگی اور بعض اوقات اس کے نتیجہ میں رب تعالیٰ کاریگر سے اتقان ہی چھین لیتا ہے۔

    [font="al_mushaf"]فیض القدیر للمناوی ص ۲۸۶، ۱، تھوڑے سے تصرف کے ساتھ۔[/font]
    یہاں تک کے جانور کو ذبح کرنے کے متعلق بھی اللہ اور اس کے رسول نے احسان کا حکم دیا چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
    [font="al_mushaf"]((إِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ الْاِحْسَانَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَۃَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَ، وَلْیُحِدَّ أَحَدُکُمْ شُفْرَتَہ، فَلْیُرِحْ ذَبِیحَتَہ۔))
    أخرجہ مسلم في کتاب الصید، باب: الأمر بإحسان الذبح وتحدید الشفرۃ، رقم : ۵۰۵۵۔[/font]

    ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ نیکی اور احسان کرنا لکھا ہے چنانچہ جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے کرو اور جب ذبح کرو تو عمدہ طریقے سے ذبح کرو اور تم میں ایک اپنی چھری کو تیز کرے اور اپنے ذبیحہ (جانور) کو راحت پہنچائے۔ ‘‘
    جانور کے ذبح میں اتقان سے مراد چھری کو تیز رکھنا اور جانور کے سامنے تیز نہ کرنا، دوسرے جانور کی موجودگی میں ذبح نہ کرنا اور ذبح کرنے کے لیے اسے پاؤں سے نہ روندھنا ہے، نیز حلق پر جلدی سے چھری پھیر دے کیونکہ سہولت کے ساتھ زندگی کے خاتمہ کے لیے یہ قریب ترین طریقہ ہے۔

    [font="al_mushaf"]اَحْسِنُوا القتْلۃ:[/font] (قتل اچھے طریقہ سے کرو) … یہ ہر قتل میں عام ہے، خواہ اس کا تعلق ذبح سے ہو یا قصاص اور حد وغیرہ سے ہو، بلکہ کھانے اور پینے کا طریقہ بھی اتقان کا محتاج ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    [font="al_mushaf"](( سَمِّ اللّٰہَ، وَکُلْ بِیَمِیْنِکَ، وَکُلْ مِمَّا یَلِیْکَ۔))
    أخرجہ البخاري، في کتاب الأطعمۃ، باب: التسمیۃ علی الطعام، والأکل بالیمین، رقم ۵۳۷۶۔[/font]

    ’’ اللہ کا نام لے اور داہنے ہاتھ سے اور اپنے سامنے سے کھا۔ ‘‘
    اسی طرح انسان کے ذمہ جتنے بھی شرعی اور مباح امور ہیں اللہ تعالیٰ ان سب میں مضبوطی اور عمدہ طریقہ سے ادائیگی کو پسند فرماتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,614
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,318
    [FONT="Al_Mushaf"]بارك اللہ فیك [/FONT]
     
  5. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,692
    جزاک اللہ خيرا.
     
  6. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,848
    اے اللہ! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ پر کی توفیق عطا فرما اور تمام معاشروں میں‌ پائے جانے والے اخلاق رذیلہ سے بچا لے۔ آمین۔ یارب العالمین۔
     
  7. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    آمین یا رب العالمین.
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں