ذاکر نائیک کا یزید کی تعریف کرنا اور کربلا کو سیاسی واقعہ کہنا

منہج سلف نے 'ماہِ محرم الحرام' میں ‏جنوری 2, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,050
    السلام علیکم!
    ایک فورم پر یہ تھریڈ بحث کی لیے آیا ہے کہ ایک تقریر میں ڈکٹر ذاکر نائیک نے يزید کو رحمۃ اللہ علیہ کہا ہے اور واقعہ کربلا کو دینی واقعہ نہیں بلکہ سیاسی جنگ قرار دیا ہے۔
    اور اس تھریڈ میں ڈاکٹر کے اوپر بہت تنقید کی گئی ہے۔
    آپ کا اس کے بارے میں کیا راء ہے اور اگر ڈاکٹر نے صحیح کہا ہے تو اس بات کا ثبوت کیا ہے۔
    میں آپ لوگوں کے تاثرات جاننا چاہتا ہوں۔

    والسلام علیکم

    [​IMG]

    ڈاکٹر کی تقریر کا متن آپ خود دیکھ اور سن سکتے ہیں۔

    [YOUTUBE]http://www.youtube.com/watch?v=k8xtVRy3960&feature=related[/YOUTUBE]

    آپ کی راء کا احترام کیا جائے گا۔ انشاءاللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    وعلیکم السلام
    بھائی یہاں پر رحمہ اللہ نہیں بلکہ May Allah be pleased with him یعنی اللہ ان سے راضی ہو یا یوں کہیں رضی اللہ عنہ کا لفظ لگایا گیا ہے۔
    آپ کی معلومات کیلئے یہ بتاتا چلوں کہ میں ابھی بھی PeaceTV آفس جو کہ ریاض میں ہے وہاں پر بیٹھا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب کو میں بذات خود جانتا ہوں۔
    لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ غلطی نہیں کرسکتے بلکہ وہ ایک انسان ہیں جس طرح ہم غلطی کرسکتے ہیں وہ بھی کرسکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ واقعہ کربلا کو سیاسی معاملہ بنانے کی بات ہے تو اس کو سیاست سے نہ جوڑنا ہی بہتر ہے اس بارے میں خاموشی ہی بہتر ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,808
    اس میں اصل حقیقت کو بہت مسخ کیا گیا ہے .
    ایک روایت میں ہے کہ جس نے جنگ قسطنطنیہ میں حٕصہ لیا اللہ اس کی مغفرت کرے گا.
    حالانکہ یزید اس کے سپہ سالار تھے.
    حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو نہ اس نے قتل کیا اور نہ ہی اس نے یہ حکم دیا تھا .
    اس کی موت کی خبر سن کر افسردہ ہوکر اس نے قاصد کو کہا کہ اگر میں وہاں ہوتا تو اس کو قتل نہ کرتا.
    پھر بھی اس واقعہ کے متعلق خاموشی بہتر ہے .
    واللہ اعلم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    بھائی لوگو! ہمیں آج کے دور میں قتل ہونے والی شخصیات کے اسبابِ قتل کا پتہ نہیں چلتا تو آج سے چودہ سو سال پہلے کی کہانیوں میں سے کسے سچ مانیں! اور نہ تو یزید کو اسلام کا دشمن قرار دے کر ہمارے اسلام میں کچھ اضافہ ہو سکتا ہے اور نہ انہیں حق پر کہنے سے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا قتل ایک المناک واقعہ تھا جس کے اسباب تاریخ میں پوشیدہ ہیں اور کوئی بھی واضح بات سامنے نہیں آئی، ابتدائے اسلام سے ہی اسلام دشمن عناصر اسلام کا شیرازہ بکھیرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ حیات سے ہی شروع ہے۔ بلآخر انہیں کامیابی حاصل ہوئی اور اسلام کو فرقوں میں تقسیم کرنے میں کامیاب ہو گئے، ھمیں اس سلسلے میں خاموشی ہی اختیار کرنی چاہیے تاکہ امت مسلمہ مزید فرقہ بندیوں میں بٹنے سے بچ سکے۔
     
  5. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,624
    السلام علیکم
    ذاکر نائک کی کچھ تحقیقات یا ان کی باتوں‌ سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔
    لیکن ۔۔۔
    واقعہ کربلا کے متعلق ذاکر نائک نے جو کچھ کہا ہے ، بےشک حق اور سچ کہا ہے۔
    بیشمار مستند مورخین اور علماءکرام کے بیانات اسی ضمن میں ذاکر نائک کی تائید کے لیے موجود ہیں۔ چند نام (بمع متعلقہ کتب) ملاحظہ فرمائیں :
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ (منہاج السنة) ، امام غزالی (احیاء علوم الدین اور وفیات الاعیان) ، امام سیوطی (تاریخ الخلفاء) ، حافظ ابن حجر العسقلانی (تھذیب التھذیب ، الاصابہ اور فتح الباری) ، ابن کثیر (البدائیہ و النھائیہ) ، ابن جریر طبری (تاریخ طبری) ، عبدالغنی بن عبدالواحد مقدسی (ذیل طبقات الحنابلہ) ، ابن اثیر (الکامل)۔

    واقعہ کربلا سے متعلق تمام تفصیلات ، راقم نے "محرم الحرام" کے نام سے ایک بلاگ پر لگائی تھیں۔ وہ بلاگ اردو ھوم ویب سائیٹ پر قائم تھا، افسوس کہ اردو ھوم سائیٹ بند ہو گئی۔
    ان شاءاللہ وہی بلاگ اب عنقریب ورڈ پریس پر لگایا جائے گا، تب تک کے لیے انتظار فرمائیں۔
     
  6. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,624
    کوئی ذرا ان نام نہاد "علماء" سے پوچھے کہ اسلامی تاریخی واقعات پر ایک خاص حکم ۔۔۔ گاندھی جی ، ملٹن اور رابندراناتھ ٹیگور جیسی غیر مسلم شخصیتیں لگائیں گی یا مستند مسلم مورخین و ائمہ دین؟؟

    تاریخ کی ایک مشہور کتاب "تاریخ ابن خلکان" المعروف " وفيات الاعيان وانباء الزمان" میں امام غزالی فرماتے ہیں :
    یزید کی طرف سے حضرت حسین (رضی اللہ عنہ) کو قتل کرنا ، یا ان کے قتل کرنے کا حکم دینا یا ان کے قتل پر راضی ہونا ۔۔۔ تینوں باتیں درست نہیں ۔ اور جب یہ باتیں یزید کے متعلق ثابت ہی نہیں تو پھر یہ بھی جائز نہیں کہ اس کے متعلق ایسی بد گمانی رکھی جائے کیونکہ قرآن مجید میں اللہ کا فرمان ہے کہ مسلمان کے متعلق بدگمانی حرام ہے ۔
    ( بحوالہ : وفیات الاعیان ، جلد:2 ، صفحہ:450 )

    "منہاج السنة" میں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
    جو گروہ کہتا ہے کہ یزید کافر و منافق تھا اور اس نے قصداً حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا اور مدینہ میں قتلِ عام کرایا ۔۔۔۔ تو یہ تمام اقوال سراسر بہتان اور جھوٹ ہیں۔
    ( بحوالہ : منہاج السنة ، جلد:4 ، صفحہ:545 )

    حضرت حسین (رضی اللہ عنہ) کے بھائی محمد بن الحنفیہ (رحمہ اللہ) کہتے ہیں :
    تم یزید بن معاویہ کے متعلق جو کچھ کہتے ہو ، میں نے ان میں ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی ، میں نے ان کے ہاں قیام کیا ہے اور میں نے انھیں پکا نمازی ، خیر کا متلاشی ، مسائی شریعت سے لگاؤ رکھنے والا اور سنت کا پابند پایا ہے ۔
    ( البدایۃ و النہایۃ ، جلد :8 ، ص :233 )

    دوسری اہم بات :
    کیا جنگ کربلا اچھائی کے لیے بدی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ تھی ؟
    تاریخی حقائق اور مستند احادیث تو بالکل مختلف وضاحت کرتی ہیں۔

    جنگِ کربلا کو حق و باطل کی جنگ کہنے سے اُن تمام دوسرے صحابہ کرام (عبداللہ بن عباس ، عبداللہ بن عمر ، ابو سعید خدری ، ابوالدرداء رضی اللہ عنہم) کی عظمت و فضیلت پر حرف آتا ہے جنہوں نے حضرت حسین (رضی اللہ عنہ) کو کوفے کی جانب جانے سے روکنے کی کوشش کی اور خود اس شورش سے الگ رہے ۔ ان میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے محترم چاچا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بھی تھے جنہوں نے یزید کی بیعت کی تھی اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بھی اس بیعت پر مجبور کیا تھا ۔
    کیا ہم ایسا کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت کر کے باطل کا ساتھ دیا تھا ؟؟؟
    معرکۂ حق و باطل ہو اور اس میں صرف حضرت حسین (رضی اللہ عنہ) اکیلے صف آراء ہوں؟
    حق و باطل کا معرکہ ہو اور دیگر صحابہ اور ان کے فیض یافتگان تابعین ، نہ صرف اس معرکے سے الگ رہتے ہیں بلکہ حضرت حسین (رضی اللہ عنہ) کو بھی اس جنگ میں شامل ہونے سے روکتے ہیں؟

    کیا صحابہ و تابعین (نعوذباللہ) بےغیرت تھے؟ ان میں دینی حمیت اور دین کو بچانے کا جذبہ نہیں تھا؟؟

    شہادتِ حسین (رضی اللہ عنہ) کو دیومالائی داستان بنا کر اہانتِ صحابہ پر مبنی جو فلسفہ ایجاد کیا گیا ہے وہ دراصل "شیعیت" کا مخصوص راگ ہے !!

    اور بےشک ، اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے کہ :
    حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی معصیت اور نافرمانی ہے ۔ اس سے وہ تمام لوگ آلودہ ہیں ، جنہوں نے آپ (رضی اللہ عنہ) کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا یا قتل میں مدد کی یا قتل کو پسند کیا۔ حضرت حسین (رضی اللہ عنہ) مظلوم شہید ہوئے اور اُن (رضی اللہ عنہ) کے قاتل ظالم و سرکش تھے ۔

    لیکن ہر وہ مسلمان جو قرآن و سنت پر ایمان رکھتا ہے ، ہر دردناک حادثے پر ، ہر حال میں صبر کرتا اور ( اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ ) کہتا ہے کیونکہ اس سے اللہ خوش ہوتا ہے ۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
    ان صبر گزاروں کو خوش خبری دے دیجئے ، جب انھیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو ان کی زبان پر ( اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ ) جاری ہو جاتا ہے ۔۔۔
    ( سورۃ البقرہ : 155 ـ 156)
     
  7. Abu Abdullah

    Abu Abdullah -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    934
    السلام علیکم

    جذاک اللہ خیر باذوق بھائی

    یھاں ڈاکٹر نایک کا دفاع نھی ھو رھا ھے بلکہ حقیقت بتائ جارہی ہے۔

    شہادتِ حسین (رضی اللہ عنہ) کو دیومالائی داستان بنا کر اہانتِ صحابہ پر مبنی جو فلسفہ ایجاد کیا گیا ہے وہ دراصل "شیعیت" کا مخصوص راگ ہے !!

    اس واقعہ کو اس انداذ میی پیش کیاجاتا ہے کہ اسلام کے دوسرے ثابت شدہ واقعات کی جیسے اس کے سامنے کچھ اہمیت ہی نہی۔

    شیعہ حضرات کی ہاں میی ہاں ملاتے ہوے ھمارےلوگ بھی کہ جاتے ہیی کے اسلام ذندہ ہوتا ہے کربلہ کے بعد۔

    اللہ ہمی جذبات سے ھٹ کر اسلامی نکتہ نظر سے سونچنے کی توفیق دے آمین

    ابو عبداللہ
     
  8. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,050
    السلام علیکم!
    ماشاءاللہ واقعی آپ سب بھائیوں میں علمی قابلیت ہے اور یہ ہی آج کے دور کی ضرورت ہے۔
    بازوق بھائی نے تو بہت ہی خوبصورت جواب دیا ہے یقین مانیں دل خوش ہوگیا۔
    خاموش رہنا بہت سے وسوسوں کو جنم دیتا ہے۔
    ہاں خاموش تب رہنا چاہیے جب اصل حقائق کا پتہ ہو اس کے بعد خاموشی اختیار کرنا ہم سب کے لیے بہتر ہے۔ مگر جب اصل حقائق کا پتہ ن ہو اور بندہ خاموش ہو تو وہ ہر سنی سنائی بات کا بھی یقین کرلیتا ہے اور پھر بھی خاموش ہوتا ہے اور اس کے دل میں ایک وسوسہ رہتا ہے۔
    اس لیے میرے خیال میں اصل حقائق جانے کے بعد ہی خاموش رہنا بہتر ہے۔
    ایک اور سوال پوجھنا چاہتا ہوں کہ:
    یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی تھے یا تابعی۔۔۔۔۔۔؟
    اور شھادت حسین رصی اللہ عنہ کے وقت امیر المعومنین یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کی عمر کیا تھی۔۔۔۔؟

    یہ دو سوالات میرے ذھن میں گھور رہے ہین اور مجھے امید ہے کہ ان سوالات کا جواب بھی یہیں مل جائے گا۔ انشاءاللہ
    ان سوالوں کے جوابات کے بعد میں اس پہ روشنی ڈالوں گا۔ انشاءاللہ
    والسلام علیکم
     
  9. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    وعلیکم السلام
    محترم خاموشی سے یہاں یہ نہیں کہ پورے واقعہ پر خاموشی اختیار کی جائے بلکہ اس چیز کے بارے میں جن کے حقائق واضح نہ ہوں۔ شیعہ جیسے بدبخت لوگ ان ہی باتوں کو بہانہ بنا کر مسلمانوں کا ہر جگہ قتل عام کررہے ہیں۔ ذاکر نائک اگر اس بات کو نہ ہی چھیڑتا تو یہ ان کیلئے بہت بہتر تھا کیوں کہ اس طرح مقلدین حضرات کیلئے الزام تراشیاں لگانے کا بہانہ مل جاتا ہے۔
    باقی ہمیں چاھیے کہ حقائق تلاش کرنے کیلئے تاریخ اور جید آئمہ کرام کے اقوال کو دیکھیں کہ انہوں نے اس بارے میں کیا موقف اختیار کیا ہے جیسے محترم باذوق بھائی نے خوبصورت انداز میں بحث کی ہے۔
     
  10. umer khan

    umer khan -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 3, 2008
    پیغامات:
    2
    السلام علیکم!
    جناب میں ذاکر صاحب کی بات کو نھیں مانتا!!!!
    رسول خدا جب نماز پڑھ رھے تھے تو امام حسین ان کی پشت پڑھ آکر
    بیٹھ گئے تو خدا کا حکم آیا کہ یہ بچہ گرنہ نھیں چاھیے،،،،تو رسول نے نماز میں سجدا لمبا کر دیا،،،،رسول خدا امام حسین سے بے پناھ محبت کرتے تھے،،،،قرآن میں اھلیبت کے لیے بھت سی آیات نازل ھوئی ھے،،،،رسول خدا کی بھت سی حدیث مجود ھیں،،،اس کے باوجود یہ ذاکر نایک جیسے نام نھاد اسلام دشمن لیکچرار، اسلام کے ٹھیکدار بن گیے ھیں اور ان کی باتیں اسلام کے قریب نھیں بھت دور لے جاتی ھیں خدارا ان شیطانوں کی باتوں میں نہ آٰئے،،،خدا سب کو ھدایت دیں،،آمین
     
  11. برادر

    برادر -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 8, 2007
    پیغامات:
    112
    یزید کے بارے میں تاریخی حقائق

    یزید کے شخصی رزائل

    بات ڈاکٹر ذاکر نائک کی تقریر سے شروع ہو کر دفاع و توصیفِ یزید تک آ گئی تو تاریخی حوالہ جات کے ساتھ ایک تحریر پیش نظر ہے۔

    میں بحث میں بے جا الجھنے کی بجائے دوستوں کو تصویر کا دوسرا رخ دکھانا چاہتا ہوں۔ واقعہ کربلا سے ہٹ کر یزید کے چند مزید خصائصِ رزیلہ کو دیکھیں اور پھر بھی نعرہ لگائیں کہ ایسے خبیث مردوں کو برا نہ کہیں بلکہ رضی اللہ عنہ تک معاذ اللہ کہہ دیں۔ تو اس سے بڑا ظلم اور بغضِ اہلبیت اطہار کیا ہوگا کہ جنہیں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کشتیء نوح کی مانند فرما کر انکی عظمت و اہمیت کو اجاگر فرمایا۔

    حوالہ کے لئے عظیم مؤرخ و مفسر امام ابن کثیر کی البدایہ والنھایہ کے چند جملے ملاحظہ ہوں:

    یزید شرابی ، بدکردار اور تارک الصلوۃ تھا۔

    یزید شرابی تھا، فحاشی و عریانی کا دلدادہ تھا اور نشے میں رہنے کے باعث تارک الصلوٰۃ بھی تھا۔ اُس کی انہی خصوصیات کی بناء پر اہل مدینہ نے اس کی بیعت توڑ دی تھی، جس کا ذکر امام ابن کثیر نے البدایہ والنھایہ میں یوں ملتا ہے:

    ذکروا عن يزيد ما کان يقع منه من القبائح في شربة الخمر وما يتبع ذلک من الفواحش التي من اکبرها ترک الصلوة عن وقتها بسبب السکر فاجتمعوا علي خلعه فخلعوه. عند المنبر النبوي (البدايہ و النہايہ، 6 : 234)
    ترجمہ:
    یزید کے کردار میں جو برائیاں تھیں ان کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ شراب پیتا تھا، فواحش کی اتباع کرتا تھا اور نشے میں غرق ہونے کی وجہ سے وقت پر نماز نہ پڑھتا تھا۔ اسی وجہ سے اہل مدینہ نے اس کی بیعت سے انکار پر اتفاق کر لیا اور منبر نبوی کے قریب اس کی بیعت توڑ دی۔

    یزید کا اپنی بیعت کے منکروں کا قتل جائز سمجھنا

    اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اس کی گستاخی یا انکار کرنے والے کو قتل کر دیا جائے۔ جیسا کہ سیدنا علی مرتضی شیر خدا رضی اللہ عنہ نے کئی ماہ تک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہ فرمائی، مگر ان کے درمیان کوئی جھگڑا نہ ہوا۔ جب غلط فہمی دور ہو گئی تو آپ نے بیعت فرما لی۔ بیعت نہ کرنے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ معاذ اللہ نہ کافر ہوئے اور نہ ہی ان کے خلاف قتال جائز ہوا۔ ادھر آپ کے یزید ملعون ہیں کہ ہر وہ شخص جو ان کی بیعت سے انکار کرے اسے زندہ رہنے کا حق ہی نہ دیں۔

    قرآن مجید کے اس حکم کے بارے میں آّپ کا کیا خیال ہے جس میں ایک عام مسلمان کو قتل کرنے پر اللہ تعالیٰ نے اپنے غضب اور لعنت کا ذکر فرمایا:

    وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا (النساء، 4 : 93)

    ترجمہ:
    اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لئے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے

    مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالبَيِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم بَعْدَ ذَلِكَ فِي الْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ (المائدہ، 5 : 32)
    ترجمہ:
    جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے یعنی خونریزی اور ڈاکہ زنی وغیرہ کی سزا) کے (بغیر ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے اسے (ناحق مرنے سے بچا کر) زندہ رکھا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو زندہ رکھا (یعنی اس نے حیاتِ انسانی کا اجتماعی نظام بچا لیا)، اور بیشک ان کے پاس ہمارے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے پھر (بھی) اس کے بعد ان میں سے اکثر لوگ یقیناً زمین میں حد سے تجاوز کرنے والے ہیں

    ان آیاتِ کریمہ کی روشنی میں یزید کے بارے میں بآسانی ثابت ہوتا ہے کہ:

    • مسلمانوں کو عمداً قتل کرانے کی وجہ سے اس کا عذاب دوزخ ہے۔
    • ایک مسلمان کا قاتل پوری انسانیت کا قاتل ہے۔

    اب ذرا اپنے اسی عظیم راہنما یا آئیڈیل یزید کے مزید کرتوت سنیں کہ جس کے بارے میں آپ بہت آرام سے فرما دیتے ہیں کہ “خاموش رہنا بہتر ہے“

    جب اس نے گورنرِ مدینہ کو سیدنا امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں سے بیعت لینے کا حکم دیا تو اس موقع پر ہونے والی شیطانی مشاورت میں کہا گیا کہ اگر وہ یزید کی بیعت پر راضی ہو جائیں تو درست ورنہ انہیں قتل کر دیا جائے۔ ملاحظہ ہو امام ابن اثیر کی کتاب الکامل:

    تدعوهم الساعة وتامرهم بالبيعة فان فعلوا قبلت منهم وکففت عنهم وان ابوا ضربت اغناقهم قبل ان يعلموا بموت معاويه. (الکامل لابن اثیر، 3 : 377)

    ترجمہ:
    انہیں اسی لمحے بلایا جائے اور انہیں حضرت امیر معاویہ (رض) کی موت کی خبر ملنے سے پہلے (یزید کی) بیعت کرنے کا حکم دیا جائے۔ پھر اگر وہ مان لیں تو اسے قبول کر لیا جائے اور انہیں چھوڑ دیا جائے اور اگر وہ انکار کریں تو ان کی گردنیں توڑ دی جائیں۔

    اگر واقعہ کربلا (نعوذ باللہ) اتفاقی حادثہ تھا یا معرکہ حق و باطل نہ تھا تو اہل مدینہ نے تو یزید کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائے تھے، انہوں نے تو اہل بیعت کے قتل اور یزید کے کردار کے باعث محض بیعت سے انکار کیا تھا۔ ان سے قتال کیونکر جائز ہو گیا؟

    فلما بلغ ذالک بعث اليهم سرية يقدمها رجل مسلم بن عقبه . . . . . فلما ورد المدينة استباحها ثلاثة ايام فقتل في عضون هذه الايام بشراً کثيراً . . . . الف بکر (البدايہ و النہايہ لابن کثیر، 6 : 234)

    ترجمہ:
    جب اسے اس بات کی خبر ملی تو اس نے ان کی طرف لشکر بھیجا، جس کی قیادت مسلم بن عقبہ نامی شخص کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پس جب وہ مدینہ منورہ پہنچا تو اس نے تین دن کے لئے مدینہ کو (قتل و غارت گری کے لئے) حلال کر دیا۔ ان دنوں میں کثیر تعداد میں لوگ قتل ہوئے۔۔۔۔۔ (ایک روایت کے مطابق) وہ ایک ہزار (مقتول) تھے۔

    وقال عبدالله بن وهب عن الامام مالک قتل يوم الحره سبعمائة رجل من حملة القرآن (البدايہ و النہايہ لابن کثیر، 6 : 234)

    ترجمہ:
    اور عبداللہ بن وھب امام مالک کے حوالے سے کہتے ہیں کہ یوم الحرہ کو سات سو ایسے افراد قتل کئے گئے جو حافظ قرآن تھے۔

    حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے جرم میں نہ سہی، کیا 700 حفاظ قرآن کے قتل کے جرم سے بھی اسے بری قرار دلوانے کے لیے دشمنانِ اہلبیت اطہار کے راویوں سے روایات نقل کریں گے؟ کیا خدا کا خوف بالکل ہی ختم ہوگیا ؟

    یزید نے مدینہ کی طرف لشکر روانہ کرتے ہوئے حکم دیا کہ اگر اہل مدینہ بیعت نہ کریں تو میں مدینہ کو تمہارے لئے حلال کر رہا ہوں

    اور پھر کیا ہوا، امام ابن کثیر سے پوچھئے کہ ایک بدبخت نے اپنے کردار کو دیکھنے اور کفر سے توبہ کرنے کی بجائے ہزاروں مسلمانوں کو شہید کروایا۔ ہزاروں مسلمانوں، جن میں بیشتر صحابہ کرام بھی تھے، کو قتل کروانے والا جہنمی اگر لعنت کا مستحق نہ قرار پائے تو اور کیا اسے پھول مالا پیش کی جائے؟؟؟

    مسلمان عورتوں کی عصمت دری

    بدبخت یزیدی لشکر نے صرف سینکڑوں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو شہید ہی نہیں کیا بلکہ بے شمار عصمت شعار خواتین کی عزتیں بھی لوٹیں:

    ووقعوا علي النساء في قيل انه حبلت الف امرة في تلک الايام من غير زوج . . . . . قال هشام بن حسان ولدت الف امرة من اهل المدينه بعد وقعة الحرة من غير زوج (البدايہ و النہايہ لابن کثیر، 8 : 221)

    ترجمہ:
    اس واقعہ کے دوران میں انہوں نے عورتوں کی عصمت دری بھی کی۔ ایک روایت ہے کہ ان دنوں میں ایک ہزار عورتیں حرامکاری کے نتیجے میں حاملہ ہوئیں۔۔۔۔۔۔ ہشام بن حسان کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ کی ایک ہزار عورتوں نے جنگ حرہ کے بعد حرامی بچوں کو جنم دیا۔

    • بدبختوں نے حرم نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گھوڑے باندھے۔
    • مسلمان صحابہ و تابعین کو شھید کیا۔
    • مسلمان خواتین کی عزتیں لوٹیں۔
    • تین دن تک مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اذان اور نماز معطل رہی۔

    عن سعيد بن مسيب رايتني ليالي الحرة .... وما يتني وقت الصلاة الا سمعت الاذان من القبر.

    ترجمہ:
    سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ میں نے حرہ کے شب و روز مسجد نبوی میں (چھپ کر) گزارے ۔۔۔۔۔ اس دوران میں مجھے صرف قبرِ انور میں سے آنے والی اذان کی آواز سے نماز کا وقت معلوم ہوتا۔

    اس ظلم و ستم کے باوجود آپ کے دل میں یزید کی محبت اس قدر گھر کر گئی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے قاتل کے دفاع میں حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو صحابہ کرام کی شان میں گستاخی قرار دینے پر تل گئے ؟ بجائے اس کے قاتلِ صحابہ کرام یزید کو برا بھلا کہتے ۔ آپ الٹا اسے شہادتِ حسین رضی اللہ سے بری الذمہ قرار دے کر اس پر خاموشی اختیار فرمانے کو ترجیح دیتے ہیں ؟ انا للہ وانا الیہ راجعون
    ذرا سوچئیے۔ کل قیامت کے روز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق “حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں“ کے مطابق آپ کا سامنا حضرت حسین یا نانائے حسین سیدنا محمد مصطفیٰ سے ہوگیا تو یزید کی شان میں آپ کے حوالہ جات اور لمبے لمبے مضامین کام آئیں گے ؟

    شہیدان کربلا سے بدسلوکی

    کچھ دوست بڑے حوالہ جات سے یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ یزید نے تو حضرت حسین کی شہادت پر افسوس کیا تھا۔ یقیناً آپ لوگ درست کہہ رہے ہوں گے کہ یزید ملعون نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر افسوس کیا ہو گا کیونکہ آپ کے ہاں افسوس کرنے کا یہی طریقہ ہو سکتا ہے۔ ذرا تاریخ کھول کر دیکھیے۔

    ذکر ابن عساکر في تاريخه، ان يزيد حين وضع راس الحسين بين يديه تمثل بشعر ابن الزبعري يعني قوله

    ليت اشياخي ببدر شهدوا
    جزع الخزرج من وقع الاسل

    (البدايہ و النہايہ لابن کثیر، 8 : 204)

    ترجمہ:
    امام ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں بیان کیا ہے کہ جب یزید کے سامنے سیدنا امام حسین (ع) کا سر انور پیش کیا گیا تو اس نے اس موقع پر ابن زبعری کے اس شعر کا انطباق کیا:

    "کاش میرے غزوہ بدر میں مارے جانے والے آباء و اجداد دیکھیں کہ ہم نے کیسے ان کے قتل کا بدلہ لے لیا ہے۔"

    یہ کیسی شرمندگی ہے اور یہ کیسا افسوس ہے۔ اگر آپ اب بھی اسی پر ڈٹے رہیں تو ایک بار پھر انا للہ وانا الیہ راجعون

    بیت اللہ کی توہین

    دلوں میں بغضِ اہلبیت اطہار رکھنے والے دوستوں کو اظہار رائے کی یقیناً آزادی ہے، آپ یقیناً ایسے شخص کے دفاع کا حق رکھتے ہیں جو اپنی بیعت کے منکروں کو قتل کروانے کے لئے حرم نبوی اور کعبۃ اللہ کی حرمت کا بھی حیاء نہیں کرتا۔ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کے لئے بیت اللہ کا محاصرہ کرواتا اور اس پر پتھر اور آگ کے گولے برساتا ہے۔

    ثم انبعث مسرف بن عقبه (مسلم بن عقبه) الي مکه قاصداً عبدالله بن الزبير ليقتله بها لانه فر من بيعة يزيد (البدايہ و النہايہ لابن کثیر، 6 : 234)

    ترجمہ:
    پھر اس نے مسرف بن عقبہ (یعنی مسلم بن عقبہ) کو عبداللہ بن زبیر کو قتل کرنے کے لئے مکہ مکرمہ بھیجا، کیونکہ وہ یزید کی بیعت سے انکاری تھے۔

    یقیناً ان سب کا اس نے حکم نہیں دیا ہو گا یقیناً یہ سارے واقعات یزید کے علم میں ہی نہیں ہوں گے۔ وہ تو دودھ پیتا بچہ تھا، جسے تاریخ دان خواہ مخواہ میں برا بھلا کہتے رہے ہیں۔ ہزاروں مسلمان غلط فہمی میں قتل ہوتے رہے ہوں گے اور یزید بیچارہ ہر ہر قتل کے بعد افسوس بھی کرتا رہا ہوگا۔ اسکی اصل معصومیت کی خبر تو پچھلے ڈیڑہ دوسوسال میں عبدالوھاب نجدی اور اسکے شاگردوں کو ہوئی ۔ وگرنہ اس سے پہلے امام ابن کثیر اور امام عساکر جیسے تاریخ دان تو مغالطے میں ہی رہے۔

    اللہ تعالی ہمیں حق کو پہچان کر اس پر استقامت عطا فرمائے۔ آمین

    حوالہ جات بشکریہ ۔ جی۔ ایم علوی۔ ہماری اردو
     
  12. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی نے یزيد بن معاویہ کے بارے میں موقف بیان کرتے ہوئے کہا ہے :

    یزيد بن معاویہ بن ابی سفیان کے بارے میں لوگوں کے تین گروہ ہيں : ایک تو حد سے بڑھا ہوا اوردوسرے بالکل ہی نیچے گرا ہوا اورایک گروہ درمیان میں ہے ۔

    افراط اورتفریط سے کام لینے والے دو گروہ ہیں ان میں سے ایک تو کہتا ہے کہ یزید بن معاویہ کافر اورمنافق ہے، اس نے نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام کو قتل کرکے اپنے بڑوں عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ وغیرہ جنہیں جنگ بدر میں علی بن ابی طالب علیہ السلام اور دوسرے صحابہ نے قتل کیا تھا ان کا انتقام اور بدلہ لیا ۔

    اور اس کے مقابلہ میں دوسرا گروہ یہ خیال کرتا ہے کہ وہ ایک نیک اورصالح شخص اورعادل حکمران تھا ، اور وہ ان صحابہ کرام میں سے تھا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دور میں پیدا ہوۓ اوراسے اپنے ہاتھوں میں اٹھایا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے ليے برکت کی دعا فرمائی ، اوربعض اوقات تووہ اسے ابوبکر، عمر رضي اللہ تعالی عنہم سے سے افضل قرار دیتے ہیں ، اور ہو سکتا کہ بعض تو اسے نبی ہی بنا ڈاليں ۔ اس گروہ کا مؤقف اس لیے صاف غلط نظر آتا ہے کیونکہ یزیدکی پیدائش ( 645ء ) کے وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو وفات ( 632ء ) پائے ہوئے 13 سال سے زیادہ گذر چکے تھے۔

    اورتیسرا قول یا گروہ یہ ہے کہ :

    یزید مسلمان حکمرانوں میں سے ایک حکمران تھا اس کی برائیاں اور اچھائیاں دونوں ہيں، اور اس کی ولادت بھی عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت میں ہوئی ہے، اور وہ کافر نہيں ، لیکن اسباب کی بنا پر امام حسین علیہ السلام کے ساتھ جو کچھ ہوا اوروہ شہید ہوۓ ، اس نے اہل حرہ کے ساتھ جو کیا سو کیا ، اوروہ نہ توصحابی تھا اور نہ ہی اللہ تعالی کا ولی ، یہ قول ہی عام اہل علم و عقل اور کا ہے ۔ البتہ تمام گروہ یہ مانتے ہیں کہ یزید انتہائی درجہ کا شرابی تھا اور شعائرِ اسلامی کا کھلے عام مذاق اڑاتا تھا۔ لوگ تین فرقوں میں بٹ گۓ ہیں ایک گروہ تو اس پرسب وشتم اور لعنت کرتا اور دوسرا اس سے محبت کا اظہار کرتا ہے اور تیسرا نہ تواس سے محبت اورنہ ہی اس پر سب وشتم کرتا ہے ، امام احمد رحمہ اللہ تعالی اوراس کے اصحاب وغیرہ سے یہی منقول ہے ۔
    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی کے بیٹے صالح بن احمد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا کہ : کچھ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ ہم یزید سے محبت کرتے ہیں ، توانہوں نے جواب دیا کہ اے بیٹے کیا یزید کسی سے بھی جو اللہ تعالی اوریوم آخرت پرایمان لایا ہو سے محبت کرتا ہے !!

    تو میں نے کہا تو پھر آپ اس پر لعنت کیوں نہیں کرتے ؟ توانہوں نےجواب دیا بیٹے تونےاپنے باپ کو کب دیکھا کہ وہ کسی پرلعنت کرتا ہو ۔
    اورابومحمد المقدسی سے جب یزيد کے متعلق پوچھا گیا تو کچھ مجھ تک پہنچا ہے کہ نہ تو اسے سب وشتم کیا جاۓ اور نہ ہی اس سے محبت کی جاۓ ، اورکہنے لگے : مجھے یہ بھی پہنچا ہے کہ کہ ہمارے دادا ابوعبداللہ بن تیمیۃ رحمہ اللہ تعالی سے یزيد کےبارے میں سوال کیا گیا توانہوں نے جواب دیا : ہم نہ تو اس میں کچھ کمی کرتےہیں اورنہ ہی زيادتی۔
     
  13. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,050
    السلام علیکم بھائی صاحب!
    سب سے پہلے تو اس حدیث کا حوالہ دیں۔
    دوسرا اس حدیث کا قتل حسین رضی اللہ عنہ سے کیا واسطہ ؟
    تیسری اس حدیث سے کہاں ثابت ہوتا ہے کہ یزید( ابن معاویہ رضی اللہ عنہ )قتل حسین رضی اللہ عنہ میں ملوث ہیں؟

    یہ روایت میں نے بھی سنی ہوئی ہےاگر یہ صحیح بھی ہے تو اس میں حسین رضی اللہ عنہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے نہ کہ ان کی شھادت۔
    آپ کے ان تینوں جوابات کے بعد آپ سے بات ہوگی۔ انشاءاللہ
    والسلام علیکم
     
  14. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    محترم کم از کم بات کرتے وقت یہ تو سوچا کریں کہ سامنے والا کیا کہہ رہا ہے۔ کیا لعنت کرنا اور گالیاں دینا اچھا ہے یا خاموش رہنا بہتر ہے۔ بھائی مجھے آپ بتائیے کہ اس مسئلہ کو اچھال کر کیا فائدہ ہوگا۔ یزید اللہ کے ہاں اگر گناہگار اور فاسق ہیں تو پھر ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اللہ اس سے خود حساب لے گا اب ہمیں کیا ضرورت ہے کہ درمیان میں لعنت اور گالیاں دینا شروع کردیں۔ گالیاں دینا اسلام کا شعار نہیں۔(یہ الگ بات ہے کہ اعلی حضرت مخالفین کے خلاف کتابوں کو لکھتے وقت ان‌کے ناموں کو جہنم کے کتے وغیرہ جیسےرکھتا)
    امام غزالی جیسی شخصیت نے یزید کے بارے میں لعن طعن سے منع کیا ہے تو میں اور آپ کون ہیں کہ ان کو گالیاں دینے شروع کردیں۔
    یہی وجہ ہے کہ اعلی حضرت نے ان پر کفر کا فتوی نہیں لگایا حالانکہ وہ خود اولیاء اللہ اور دین کا مذاق اڑانے والے کو کافر قرار دیتے تھے۔ جبکہ یزید کے بارے میں یہ باتیں بھی ہیں کہ انہوں نے شہید کربلا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے سر مبارک کو دیکھ کر اس کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔
    بھائی کیا کیا کہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نہ صرف شہید ہیں‌بلکہ شہیدوں کے سردار ہیں اور نہ صرف جنتی ہیں بلکہ جنتیوں کے سردار ہیں۔ ان کی شہادت عین اسلام کیلئے ہوئی۔ الحمدللہ یہ ہمارا عقیدہ ہے۔
    یزید کے بارے میں دوطرفہ دلائل دیکھ کر ہی فیصلہ کیا جاسکتا ہے اور اگر کیا بھی جائے تو کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ اس نے اپنا حساب اللہ کے ہاں دینا ہے۔ ہم اس کو برا بھلا کہہ کر نہ اس کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں نہ بنا سکتے ہیں۔

    ویسے حوالے کے ساتھ تحریر پوسٹ کرنے کا بہت شکریہ برادر
     
  15. برادر

    برادر -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 8, 2007
    پیغامات:
    112
    السلام علیکم محترم اعجاز علی شاہ صاحب ۔

    عرض ہے کہ آپکے شیخ الاسلام ابن تیمیہ بلاشبہ ایک بہت بڑے عالم ہو گذرے ہیں۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ وہ ایک خاص طبقہء فکر (حنبلی فقہ ) سے تعلق رکھتے تھے اور انکے پیروکار آج کے دور کے سعودی فکرِ اسلام کے داعی اور مکتبہء فکر کے اعتبار سے بالعموم “اہلحدیث یا وہابی “ مکتبہء فکر کے حامی کہلاتے ہیں۔ اور یہی وہ طبقہ ہے جو سب سے زیادہ دفاعِ یزید میں پیش پیش رہتا ہے۔

    جبکہ انکے مقابلے میں امام ابن عساکر اور ابن کثیر جیسے آئمہء تاریخ غیرمتنازعہ اور کم وبیش ہر طبقہء فکر کے لیے قابل قبول اس لیے امام ابن کثیر اور امام عساکر کی رائے کی ثقاہت ہمیشہ سے ثابت رہی ہے۔

    معاف کیجئے گا میں نے مختلف مکاتبِ فکر کا نام صرف بات کو واضح کرنے کے لیے استعمال کیا ہے کیونکہ طبقات اتنے معروف ہیں کہ نام لینے میں کوئی حرج نہیں وگرنہ میں خود کو بھی “مسلمان“ کہلوانا پسند کرتا ہوں اور ہر کلمہ گو کو “مسلمان“ سمجھتا ہوں۔
     
  16. برادر

    برادر -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 8, 2007
    پیغامات:
    112
    السلام علیکم اعجاز بھائی۔ آپ سے گفتگو کر کے ہمیشہ میرے علم میں اضافہ ہوتا ہے اور مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ اسکے لیے جزاک اللہ الخیر

    دوسری بات یہ ہے کہ بھائی میں نے تو گالیاں دینے کی بات نہیں کی۔ البتہ جہاں‌چند دوست صرف اور صرف تصویر کا ایک ہی رخ دکھا کر اسے جنتی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے میں نے اردو مجلس کے صارفین کی خدمت میں تاریخی حقائق کا دوسرا رخ بھی پیش کیا ہے کہ اس یزید کے یہ بھی کرتوت تھے۔

    اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا مقام تو خود آپ ہی نے بیان فرما دیا ہے۔ بالکل ایسے ہی بغضِ حسین اور بغضِ اہلبیت اطہار پر بھی جو احادیث صحیحیہ موجود ہیں انکی روشنی میں واضح ہوجاتا ہے کہ اگر قیامت کے دن جنت کے سردار حضرت حسین رضی اللہ عنہ ہوں گے تو انکے قاتل کہاں ہوں‌گے؟

    پھر شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ سے قطعِ نظر ۔ ایک لمحے کے لیے امام ابن عساکر اور ابن کثیر کی تحاریر کے مطابق اپنی بیعت سے انکار کرنے والے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کے قتل کا حکم دینے والا ، جسکی فوجوں نے مسجد نبوی شریف میں گھوڑے باندھے اور 3 دن تک اذان معطل رکھی۔ کعبۃ اللہ کی بےحرمتی کرنے والا ۔ یہ سب جرائم کس درجے میں آتے ہیں ؟

    اللہ تعالی ہم سب کو اپنے پیارے محبوب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کہ جس کے بغیر بندہ مومن ہی نہیں ہوسکتا اور اہلبیت اطہار کی محبت و تعظیم اور پیارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی محبت و تکریم کی دولت عطا فرمائے تاکہ ہم فقط لفظوں کے پڑھنے کے ساتھ ساتھ کبھی اپنے دل اور روح کی آواز کو بھی سن اور سمجھ کر ایمان کی لذت و حلاوت کو پا سکیں۔ اور اسکےبعد ہمیں اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کام توفیق عطا فرما دے۔ آمین۔
     
  17. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    کس فورم پر یہ سچ کہنے کرنے پر محترم ڈاکٹر صاحب پر تنقید ہو رہی ہے۔ میں ابھی دیکھتا ہوں ان کو۔
    ذرا اس فورم کا لنک تو بتائیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  18. Abu Abdullah

    Abu Abdullah -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    934
    السلام علیکم


    اعجاز علی شاہ بھائ،
    اگر حسین رضی اللہ عنہ شہیدوں کے سردار ہیں تو پھر حمزہ رضی اللہ عنہ کا مقام کیا ہے؟

    ابو عبداللہ
     
  19. umer khan

    umer khan -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 3, 2008
    پیغامات:
    2
    السلام علیکم بھائی صاحب!
    آپ نے پوچھا ! حدیث سے قتل حسین رضی اللہ عنہ کہاں ثابت ہوتا ہے ؟،،،،،اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ““ حضرت ام سلم روایت کرتی ہے کہ ایک دن حضور صلی اللہ علھیہ وسلم گھر پر آرام کررہے تھے کہ اچانک چھینک مار کر اٹھے،،، میں آن کے پاس فوراً گئ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رُو رہے تھے میں نے کہا یا رسول اللہ کیا ہوا کہنے لگے میرے بیٹے حسین کو میدانِ کربلا میں میری امت کے لوگ پیاسہ شہید کریں گے،،،،،
    حضرت ام سلم یہ بھی روایت کرتی ہے کہ ایک دن رسول اللہ خواب میں آئے پریشان تھے میں نے پوچھا یا رسول اللہ آپ پریشان کیوں ہیں کہنے لگے میں ابھی ابھی میدانِ کربلا سے آیا ہوں،،،ام سلم فرماتی ہیں
    میں نے وہ دن یاد رکھا بعد میں پتہ چلا کہ اس دن امام حسین کو شھید کیا گیا،،،،،روایت صحیح بخاری،صحیح ترمذی
     
  20. ateequr rahman

    ateequr rahman -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 23, 2007
    پیغامات:
    53
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ
    دوستو۔۔۔
    ڈاکٹر ذاکر نائیک نے جو کہا اس سے پہلے بہت سے مؤرخین نے یہ بات کہی اور اپنی تاریخ میں رقم کی اور صحابہ کا جو اختلاف تھا وہ سیا سی نو عیت کا تھا ورنہ وہ ایک دوسرے کا بڑا احترام کرتے اور یزید رح کی صفائی کیلئے یہی دلیل کافی ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے عبیداللہ بن زیاد کے سامنے جو تین شرطیں رکھیں تھیں ان میں ایک یہ تھی کھ مجھے یزید کے پاس لے چلو اسکی ہرشرط مجھے منظور ہے
    (تفصیل کیلئے دیکھئے۔۔۔ خطباتِ احسان الہی ظہیر)
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں