سنگ مر مر پر چلو گے تو پھسل جاؤ گے

آزاد نے 'تفسیر قرآن کریم' میں ‏اکتوبر، 3, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. آزاد

    آزاد ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 21, 2007
    پیغامات:
    4,564
    [FONT="Al_Mushaf"]بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ ()​

    [قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ غَيْرَ‌ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوا أَهْوَاءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا مِن قَبْلُ وَأَضَلُّوا كَثِيرً‌ا وَضَلُّوا عَن سَوَاءِ السَّبِيلِ ﴿٧٧﴾(سورة المائدة)]

    کہو: اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو اور اُن لوگوں کے تخیلات کی پیروی نہ کرو جو تم سے پہلے خود گمراہ ہوئے اور بہتوں کو گمراہ کیا اور ’’سواء السبیل‘‘ سے بھٹک گئے۔​

    اشارہ ہے اہل کتاب کو سمجھایا جارہا ہے اور اس میں ہمارے لیےبھی سبق ہے۔ سمجھایا یہ جارہا ہے کہ تم اہل کتاب ہو تمہارے پاس اللہ کی کتاب ہے، تمہارے پاس اللہ کے پیغمبر آئے ہیں، تمہیں تو اللہ نے دنیا میں چنا ہے ۔ تمہارا کام یہ ہے کہ تم ساری دنیا کی رہنمائی کرو، کہاں یہ کہ تم ان کے افکار سے متاثر ہوجاؤ،مرعوب ہوجاؤ، مغلوب ہوجاؤ۔ یعنی جس کے اپنے گھر میں چراغ ہو اور وہ ہمسائے سے روشنی مانگنے جائےتو اس کے احمق ہونے میں کیا شک ہے؟ بالکل اسی طرح اہل کتاب کے پاس کتاب تھی ، رہنمائی تھی، کتاب تھی۔ انہوں نے کیا کیا؟ اس کو چھوڑ کر ، دوسری قوموں کے افکار سے متاثر ہوکر، ان کےک نظریات کو اپنے دین میں داخل کرلیا۔ ہوا یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے فرسٹ ہینڈ جو شاگرد تھے،شروع کے جو حواری تھے ، وہ عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول مانتے تھے۔ ان کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک انسان تھے جو اللہ کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔لیکن ہوا یہ کہ جب ان حواریوں نے اسلام پھیلانا شروع کیا، میں اسلام کا لفظ اس لیے بول رہی ہوں کیونکہ ہر پیغمبر اسلام ہی دین لےکر آئے ہیں اپنی قوم کےلیے۔ جب اسلام پھیلانا شروع کیا اور مسیحیت جو تھی، شام کے علاقے سے باہر نکلی یعنی اپنے خاص علاقے سے باہر نکلی تو اس کو ایک طرف مصری اور دوسری طرف یونانی تہذیب سے واسطہ پڑا۔یہ اس وقت کی ترقی یافتہ قومیں تھیں۔اب ہوا یہ کہ یہ ان کے افکار سے متاثر ہوگئے۔ان کے ہاں آرٹ ،کلچر اور بہت کچھ تھا کہ جس سے یہ مرعوب ہوگئے۔اب ان کو ایک طرف یہ لالچ بھی تھی کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان کا دین قبول کریں ۔اب ان کے دین میں بعض چیزیں ایسی تھیں کہ جو اُن کو قبول نہ تھیں۔ انہوں نے اپنی تعداد بڑھانے کےلیے ، عیسائیت کا نمبر بڑھانے کےلیے کیا کیا کہ اپنے دین میں ایسے افکار، ایسے نظریات شامل کرلیے کہ اس کا حلیہ بگاڑ دیا اور یہ اس لیے کیا تاکہ اسے دوسرے لوگوں کےلیے ایکسپٹ ایبل بنایاجائے۔اب کیا ہوا ”کوا چلا ہنس کی چال، اپنی بھی بھول گیا“ اپنا دین بھی ہاتھ سے گیا، اپنے اصول بھی گئے اور دوسری قوموں کی بھی صحیح نقالی نہ کرسکے۔ اب ہوا یہ کہ اس دور کا عام ٹرینڈ یہ تھا کہ جو انتہائی ذہن لوگ ہوتے تھے، وہ فوراً مرعوب ہوجاتے تھےمصر اور یونان کے فلسفوں سے جیسے آج ہمارا ذہین ترین طبقہ کس سے مرعوب ہے؟مغرب سے، مغرب کے افکار سے۔ حالانکہ وہ افکار کیا ہیں؟ ایک دفعہ ایک سوچ پیش کی جاتی ہے، ایک تھاٹ آتا ہے، کچھ دن کے بعد اسے ریجیکٹ کردیا جاتا ہے،اس کو کاؤنٹر کردیا جاتا ہے، کوئی اور بات آجاتی ہے۔ وہ نظریات اور افکار تو بدلتے رہتے ہیں۔ اب ہوا یہ کہ ان کے ہاں خاص طور پر جو تثلیث کا عقیدہ تھا، یہ انہوں نے یونانیوں سے ہی لیا تھا۔ ان کے ہاں جو عقیدہ تھایعنی مصر اور یونان کے اندر، ان کے ہاں تین چیزیں تھیں: وجود، حیات اور علم۔ان تین چیزوں کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ یعنی ہر چیز کا ایک وجود ہے، ایک اس کی لائف ہے اور ایک نالج ہے اس کے بارے میں ۔ تو مسیحی علماء جو تھے، وہ ان کے ان افکار سے متاثر ہوئے ، انہوں نے ٹرینیٹی کا عقیدہ جو تھا،وہ اپنے دین میں بھی شامل کرلیا۔ اس کی تفصیل بہت کچھ ہے، اس وقت موقع نہیں ۔ اللہ تعالیٰ یہاں فرمارہے ہیں: تم اپنے دین میں غلو نہ کرو، حد سے نہ بڑھو، ناحق باتیں نہ کرو اور ایسی قوم کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو خود بھٹک گئے تھے اور انہوں نے بہت سوں کو بھٹکایا اپنے غلط افکار کی وجہ سے او ر یوں سیدھے رستے سے دور ہوگئے۔آج اس کو ہم اپنے لیے کس طرح لے سکتے ہیں کہ آج ہم دین کے معاملے میں انہی حدود وقیود میں رہیں جتنا دین ہے، دین کی ایسی تعبیر اور دین کی ایسی تفسیر یا دین کی ایسی تشریح کہ جس میں ذہنی غلامی کی عکاسی ہوتی ہو، غیر کے افکار کو اس میں ٹھونسا جائے یامسلط کیا جائےیا اصل حقیقت کو چھپا دیا جائے یا دین کے بارے میں اپولو جیٹک رویہ اختیار کیا جائے یا دین کے کچھ احکامات پر شرمندگی ہو۔ جب کسی بھی قوم اور کسی بھی ماننےوالے کے اندر یہ چیز آتی ہے تو پھر اس کا اصل دین سے کوئی تعلق نہیں رہتا۔ ہمیں ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہمارا دین کسی انسان کا بنایا ہوا نہیں ہے کہ ہم محدود سوچوں کو سامنے رکھ کر دین کو کریٹی سائز کرنے لگیں اور اس کو بدلنے کی کوشش کریں، یہ اس رب کی طرف سے آئی ہوئی باتیں ہیں کہ جو زمین وآسمان کا مالک ہے، جو ہمارے ماضی و مستقبل اور ہر چیز کو ، ہمارے دل میں اٹھنے والےخیالات تک کو جانتا ہے۔اس لیے ہمیں بھی اپنے دین کے معاملے میں اتنی خود اعتمادی ہونی چاہیے، ایسا ایمان ہوناچاہیےکہ اس ایمان کے ساتھ جو چیز ٹکرانا چاہے، وہ ٹوٹ جائے لیکن یہ سلامت رہےاور یہ اسی وقت ہوگا جب آپ اصل کو پکڑ کر رکھیں گے۔جس کے بارے میں نبیﷺ نے فرمایا تھا: ”[FONT="Al_Mushaf"]ترکت فیکم أمرین لن تضلوا ما تمسکتم بہما کتاب اللہ وسنۃ رسولہ
    “ میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں، جب تک تم ان کو مضبوط پکڑکے رکھو گے تو بھٹکو گے نہیں۔ ایک اللہ کی کتاب اور دوسری اس کے رسولﷺ کی سنت ہے۔

    [/FONT]
    [/FONT]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,848
    ماشاء اللہ۔
    بارک اللہ لکم فی الدنیا و الآخرۃ
     
  3. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,318
    [FONT="Al_Mushaf"]بارك اللہ فیك [/FONT]
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں