روحی فداک یا رسول اللہ ﷺ

ام ثوبان نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏اکتوبر، 3, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,691
    روحی فداک یا رسول اللہ ﷺ
    کیا اس طرح یا رسول اللہ ﷺ لکھ سکتے ھیں
     
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,944

    روحی فداک یا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کہہ اور لکھ سکتے ہیں البتہ صرف "یا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم " لکھنا درست نہیں ہے ۔ کیونکہ اس میں پکار محض ہے ۔ اسی بناء پر اسلاف میں سے بہت سے اہل علم صرف " یا اللہ " کا ورد کرنا یا کہنا برا جانتے ہیں ۔ کہ تم نے اللہ کو پکارا ہے تو اسکے سامنے اپنی کوئی بات پیش کرو ۔ محض پکارتے رہنا ادب کے خلاف ہے ۔ اسی طرح رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے لیے دعائیہ کلمات کہتے ہوئے یا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کہا جائے تو کوئی عار نہیں لیکن محض یا رسول اللہ یا رسول اللہ کی رٹ لگأنا یا لکھنا ادآب رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہے ۔
    لہذا ان باتوں کو ملحوظ رکھ کر یہ کلمہ لکھ سکتے ہیں ۔
    کیونکہ ان الفاظ میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔
    ہاں اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ میری یہ بات نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم سن رہے ہیں یا آپ صلى اللہ علیہ وسلم حاضر و موجود ہیں تو اسکا یہ عقیدہ باطل ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • مفید مفید x 1
  3. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,691
    جزاک الله خیرا
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,498
    روحی فداک یا رسول اللہ ﷺ
    دیکھا آپ نے ام ثوبان سسٹر کتنی چھوٹی چھوٹی باتوں کو ہم نے کتنا بڑا مسئلہ بنا رکھا ہے ؟ اور ان کی بنیاد پر ہم لوگوں کے عقائد کے متعلق ’اندازے‘ لگاتے ہیں ۔
     
  5. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,691
    سستر جس باث کا. علم نه. هو صرور سیکهنا جاهیے هم تو یهان سیکهنے هی اے هیی شکریه
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,498
    جی آپ کے سوال کے لیے تو میں بھی آپ کی شکر گزار ہوں ۔ جزاک اللہ خیرا۔
     
  7. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,691
    سسٹر آجتک یہی سنتے آے تھے کہ یہ لکھناجائیز نہیں آپکے پاس تو ماشاءاللہ بہت نالج ھے ھم تو سیکھنے آے ھیں جو بات نہ جانتے ھوں سیکھنا چاھئے اب شیخ صاحب نے اتنی تفصیل سے لکھا ھے سب سمجھ آگیا ھے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. sajjid

    sajjid رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2013
    پیغامات:
    13
    جی چھوٹی چھوٹی اور بڑی بڑی باتوں کا کیسے پتہ چلے گا؟ ابھی کچھ عرصہ پہلے تک تو اسے شرک سمجھتے آئے تھے
     
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,498
    اس کا حل ہے صاحب علم استاد سے عقیدہ کی باقاعدہ تعلیم صبر سے حاصل کرنا اور پھر اس پر عمل کرنے میں ثابت قدم ہو جانا۔
    اصحاب علم مسجدوں یا درس گاہوں میں ملیں گے، روحانی تربیت کی فضا بھی وہیں ملے گی۔ ٹی وی اور کیبل یا نیٹ چینلز پر کسی سے کچھ بھی سن لینے سے علم و جہل کی تمیز ممکن نہیں ۔ پہلے علم والوں کی پہچان کریں پھر سنیں۔
    جس کا کوئی مرشد نہیں اس کا مرشد شیطان ہے جو اسے توہمات اور غلط فہمیوں میں الجھا کر اللہ، اس کے دین، اور اس کی مخلوق سے دور لے جاتا ہے۔ جو اللہ کی خاطر محبت اور اللہ کی خاطر نفرت کرتا ہے وہ معصوم انسانوں کے خلاف الزام نہیں گھڑتا،پہلے ان کا موقف سمجھنے کی کوشش کرتا ہے پھر انہیں گمراہ پائے تو انہیں بچانے کی فکر کرتا ہے۔ اس کے لیے دل بڑا کرنا پڑتا ہے۔ باقاعدہ علم سے انسان کا دل وسیع ہوتا ہے۔
    دوسروں کو بلا علم مشرک کہنا بھی گناہ ہے۔ کسی برائی سے تبھی روکیے جب کسی عالم سے معلوم کر لیجیے کہ یہ برائی ہے۔
     
    Last edited: ‏دسمبر 30, 2018
  10. sajjid

    sajjid رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2013
    پیغامات:
    13
    جزاک اللہ خیر ا

    جی آج سے کچھ عرصہ قبل ایک اچھے خاصے مفتی اور عالم دین(آپ جانتی ہوں گی انہیں) سے نماز عصر سے پہلے کی سنتوں کے بارے میں (بطور چیلنج)سنا کہ یہ سنت نہیں ہیں ان کو سنت کہنے کیلئے کوئی ایک صحیح روایت پیش کرو تو میں نے اس کو مان لیا کہ صحیح ہی کہا ہوگا پھر کچھ عرصہ بعد ایک اور شیخ کی قرآن وحدیث کی کلاس لے رہا تھا تو انہوں نے مشکواۃ مصابیح سے اس سنت کی کئی احادیث ثابت کیں کہ یہ صحیح ہیں۔ اب میں نے دونوں علماء سے رابطہ کیا تو پہلے عالم کا نمبر تبدیل ہوگیا جس کی وجہ سے رابطہ نہیں اور دوسرے نے ڈانٹ کر کہا کہ مجھ سے اس کا سوال کرو جو میں نے کہا دوسروں کا میں ذمہ دار نہیں۔ دونوں علماء اھل حدیث ہیں

    اب آپ رہنمائی فرمائیں
    جزاک اللہ
     
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,498
    ایک بار پھر عرض ہے۔ ایک استاد بنائیں، کسی تعلیمی ادارے سے جڑ جائیں، ان سے ترتیب کے ساتھ دین سیکھیں۔ علم سیکھنے کی مشقت صبر مانگتی ہے۔پہلے عقیدہ پھر احکام کا بنیادی علم اصل کریں۔ ایسے بہت سے سوالات خودبخود حل ہو جائیں گے۔
    اسلام میں فرائض پر کوئی اختلاف نہیں۔ انہیں ادا کریں۔ حرام میں کوئی اختلاف نہیں اس سے بچیں۔ یوں جیسے آگ میں جلنے سے بچتے ہیں۔
    سنت اور مباح جیسے معاملات میں اختلاف کے لیے دل بڑا رکھیں۔
    علمائے کرام کی ایسے معاملات میں مختلف رائے ہونا ممکن ہے۔ اس کا سبب حدیث کا اپنا اپنا فہم ہے۔ایسے اختلاف پر ان سے سوال کرنا ایسا ہی ہے جیسے بریانی کی صرف ایک ترکیب کو تلاش کرنا۔
    صاحب علم بھی انسان ہے ہر وقت ہر جگہ اس سے جواب مانگنا بے ادبی ہے۔ اگر کوئی مفت اپنے ذاتی نمبر یا سوشل میڈیا پر سوالات کے جواب دے رہا ہے تو اس کی خدمات کی قدر کریں۔ اور مناسب وقت پر مناسب تعارف کے ساتھ سوال کریں۔
     
  12. sajjid

    sajjid رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2013
    پیغامات:
    13
    ماشاء اللہ
    جزاک اللہ خیرا
    آپ کا سمجھانے کا انداز مجھے بہت پسند ہے اور آپ نے واقعی بہت قیمتی اور اچھی نصیحت کی ہے
    واقعی آپ معاملے کی تہہ تک پہنچ گئی ہیں کہ مسئلہ کہاں سے ہے۔ سب لوگوں کو آپ کی طرح ہونا چاہیے
    جزاک اللہ خیرا
    بارک اللہ فیک
     
  13. sajjid

    sajjid رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2013
    پیغامات:
    13
    جی جی مجھے ان کا خیال ہے تبھی میں نے اپنے علم کے مطابق ان کی شناخت ظاہر نہیں کی
    میرا علم کم ہے اسی وجہ سے میں تذبذب کا شکار ہوجاتا ہوں اور علم تو پوچھنے سے ہی آتا ہے
    اللہ تعالی دین کو صحیح طریقے سے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے
    آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  14. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,498
    یہ سب باتیں قرآن وحدیث اور علمائے کرام کی تصانیف میں موجود ہیں:
    قال الحافظ ابن كثير -رحمه الله- :
    مَنِ اتَّقَى اللَّهَ بِفِعْلِ أَوَامِرِهِ وَتَرْكِ زَوَاجِرِهِ، وُفِّقَ لِمَعْرِفَةِ الْحَقِّ مِنَ الْبَاطِلِ.
    مختصر تفسير ابن كثير 99/2
    "جو شخص اللہ سے ڈر جائے، اس کا حکم مانے اور اس کی حرام کردہ باتوں کو چھوڑ دے، اسے حق وباطل کا فرق جاننے کی توفیق مل گئی۔" حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ
    تقوی، فرائض کی ادائی، اور ہر حرام سے بچنا، یہ تین سادہ سے کام کرنے والا دین سے ضرور فائدہ اٹھاتا ہے خواہ اسے دقیق علمی مسائل کی خبر ہو یا نہ ہو۔
     
  15. sajjid

    sajjid رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2013
    پیغامات:
    13
    جزاك الله
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں