سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے محبت

کارتوس خان نے 'ماہِ محرم الحرام' میں ‏جنوری 5, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    934
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے محبت
    اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
    عزیز دوستوں!۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ!۔
    میری اُمت کا پہلا لشکر جو سمندر میں جہاد کرے گا، ان (مجاہدین) کے لئے (جنگ) واجب ہے (صحیح بخاری ٢٩٢٤)۔۔۔

    یہ جہاد سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ (کی خلافت) کے زمانے میں ہوا تھا (دیکھئے صحیح البخاری ٦٢٨٢۔٦٢٨٣)۔۔۔

    اور اس جہاد میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ شامل تھے (دیکھئے صحیح بخاری ٢٧٩٩۔٢٨٠٠)۔۔۔

    آپ فتح مکہ سے کچھ پہلے یا فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئے۔۔۔

    سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے میں یہ سمجھا کہ آپ میرے لئے تشریف لائے لہذا میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا تو آپ نے میری کمر پر تھپکی دے کر فرمایا۔۔۔

    جاؤ اور معاویہ کو بُلا لاؤ وہ (معاویہ رضی اللہ عنہ) وحی لکھتے تھے۔۔۔ الخ
    (دلائل النبوۃ للبہیقی ٢\٢٤٣ و سند حسن)۔۔۔

    معلوم ہوا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کاتب وحی تھے حافظ ابن عساکر لکھتے ہیں کہ!۔

    مومنوں کے ماموں اور رب العالمین کی وحی لکھنے والے، آپ فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئے
    (تاریخ دمشق ٦٢\٣٨)۔۔۔

    جلیل القدر تابعی عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ المکی رحمہ اللہ سے روایت کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے عشاء کے بعد ایک رکعت وتر پڑھا پھر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ!۔

    انہوں نے صحیح کیا ہے وہ فقیہ ہیں (صحیح بخاری ٣٧٦٥)۔۔۔

    اس روایت کے مقابلے میں طحاوی حنفی نے { مالک بن یحٰیی الھمدانی (وثقہ ابن حبان وحدہ) ثنا عبدالوھاب بن عطاء قال؛ انا عمران بن حدیر} کی سند سے ایک منکر روایت بیان کی ہے
    [ دیکھئے شرح معانی الآثار ١\٢٨٩]۔۔۔

    یہ روایت صحیح بخاری کے مخالف ہونے کی وجہ سے مردود ہے اور طحاوی کا یہ کہنا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے { انہوں نے صحیح کیا ہے } بطور تقیہ کہا تھا غلط ہے۔۔۔

    صحابی عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے لئے فرمایا کہ!۔۔۔
    اے اللہ!۔۔۔ اسے ہادی مہدی بنادے اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے (سنن الترمذی۔٣٨٤٢ وقال؛ {ھذا حدیث حسن غریب} التاریخ الکبیر للبخاری ٥\٢٤٠، طبقات ابن سعد ٧\٤٨٧، الآحادوالمثانی لابن ابی عاصم ٢\٣٥٨ ح ١١٢٩، مسند احمد ٤\٢١٦ ح ١١٢٩ مسند احمد ٤\٢١٦ ح ١٧٨٩٥ وھوحدیث صحیح}۔۔۔

    یہ روایت مروان بن محمد وغیرہ نے سعید بن عبدالعزیز سے بیان کر رکھی ہے اور مروان سعید سے روایت صحیح مسلم میں ہے
    { دیکھئے ١٠٨\١٠٤٣ وترقیم دارلسلام ٢٠٤٣}۔۔۔

    لہذا ثابت ہوا کہ سعید بن عبدالعزیز نے یہ روایت اختلاط سے پہلے بیان کی ہے نیز دیکھئے الصحیحۃ (١٩٦٩)۔۔۔

    ام علقمہ (مرجانہ) سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ مدینہ تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر اور بال مانگا پھر انہوں نے چادر اوڑھ لی اور بال پانی میں ڈبو کر وہ پانی پیا اور اپنے جسم پر بھی ڈالا
    { تاریخ دمشق ٦٢\١٠٦ حسن، مرجانہ ثقہا العجلی وابن حبان}۔۔۔

    مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک وفد میں معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے (معاویہ رضی اللہ عنہ) نے ان (مسور رضی اللہ عنہ) کی ضرورت پوری کی پھر تخلئے میں بُلا کر کہا تمہارا حکمرانوں پر طعن کرنا کیا ہوا؟؟؟۔۔۔ مسور نے کہا یہ چھوڑیں اور اچھا سلوک کریں جو ہم پہلے بھیج چکے ہیں معاویہ نے کہا نہیں اللہ کی قسم!۔ تمہیں اپنے بارے میں بتانا پڑے گا اور تم مجھ پر جو تنقید کرتے ہو۔ مسور نے کہا میں نے اُن کی تمام قابل عیب باتیں (غلطیاں) اُنہیں بتادیں معاویہ نے کہا کوئی گناہ سے بری نہیں ہے اے مسور کیا تمہیں پتہ ہے کہ میں نے عوام کی اصلاح کی کتنی کوشش کی ہے ایک نیکی کا اجر دس نیکیوں کے برابر ملے گا یا تم گناہ ہی گنتے رہتے ہو اور نیکیاں چھوڑ دیتے ہو؟؟؟۔۔۔ مسور نے کہا نہیں اللہ کی قسم!۔۔ ہم تو انہی گناہوں کا ذکر کرتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں۔ معاویہ نے کہا ہم اپنے ہر گناہ کو اللہ کے سامنے تسلیم کرتے ہیں اے مسور!۔ کیا تمہارے گناہ ہیں جن کے بارے میں تمییں یہ خوف ہے کہ اگر بخشے نہ گئے تو تم ہلاک ہوجاؤ گے؟؟؟۔۔۔ مسور نے کہا جی ہاں معاویہ نے کہا کس بات نے تمہیں اپنے بارے میں بخشش کا مستحق بنادیا ہے اور میرے بارے میں تم یہ اُمید نہیں رکھتے؟؟؟۔۔۔ اللہ کی قسم میں تم سے زیادہ اصلاح کی کوشش کررہا ہوں لیکن اللہ کی قسم!۔ دو باتوں میں صرف ایک ہی بات کو اختیار کرتا ہوں اللہ اور غیر اللہ کے درمیان صرف اللہ کو ہی چُنتا ہوں میں اس دین پر ہوں جس میں اللہ عمل قبول فرماتا ہے وہ نیکیوں اور گناہوں کا بدلہ دیتا ہے سوائے اس کے کہ وہ مجھے معاف کردے میں ہر نیکی کے بدلے یہ اًُمید رکھتا ہوں کہ اللہ مجھےکئی گناہ اجر عطاء فرمائے گا میں ان عظیم اُمور کا سامنا کر رہا ہوں جنہیں میں اور تم دونوں گن نہیں سکتے میں نے اقامت صلوۃ کا نظام، جہاد فی سبیل اللہ اور اللہ کے نازل کردہ احکامات کا نفاذ قائم کر رکھا ہے اور ایسے بھی کام ہیں اگر میں انہیں گن کر تمہیں بتادوں تو تم انہیں شمار نہیں کرسکتے اس بارے میں فکر مت کرو۔۔۔

    مسور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جان گیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ مجھ پر اس گفتگو میں غالب ہوگئے عروہ بن الزبیر فرماتے ہیں کہ اس کے بعد کبھی نہیں سنا گیا کہ مسور رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کی کبھی مذمت کی ہو وہ تو اُن کے لئے دُعائے مغفرت ہی کیا کرتے تھے
    (تاریخ بغداد جلد ١ صفحہ ٢٠٨۔٢٠٩ ت ٤٨ وسند صحیح)۔۔۔

    امام جعفر صادق نے { قاسم بن محمد قال قال معاویۃ بن ابی سفیان } کی سند سے ایک حدیث بیان کی ہے جس میں آیا ہے کہ قاسم بن محمد (بن ابی بکر) نے فرمایا کہ!۔۔۔

    {فتعجب الناس من صدق معاویہ}
    پس لوگوں کو معاویہ رضی اللہ عنہ کی سچائی پر بڑا تعجب ہوا
    (تاریخ دمشق ٦٢\١١٥ وسند حسن)۔۔۔

    اس روایت سے معلوم ہوا کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کے نزدیک سچے تھے۔۔۔

    سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ!۔
    مارایت رجلا کان اخلق یعنی للملک من معاویہ۔
    میں نے معاویہ سے زیادہ حکومت کے لئے مناسب (خلفائے راشدین کے بعد) کوئی نہیں دیکھا... (تاریخ دمشق ٦٢\١٢١ وسند صحیح، مصنف عبدالرزاق ١١\٤٥٣ ح ٢٠٩٨٥)۔۔۔

    عرباض بن ساریہ السلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ!۔

    اللھم علم معاویۃ الکتاب والحساب، وقد العذاب۔
    اے میرے اللہ!۔ معاویہ کو کتاب و حساب سکھا اور اُسے عذاب سے بچا
    (مسند احمد ٤\١٢٧ ح ١٧١٥٢ وسند حسن، صحیح ابن خزیمہ ١٩٣٨)۔۔۔

    { حارث بن زیادو یونس بن سیف صدوقان لاینزل حدیثہما عن درجۃ الحسن والجرح فیہما مردود }۔۔۔

    امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ساٹھ ہجری میں فوت ہوئے۔

    صحابہ کرام کے درمیان اجتہادی وجوہ سے جو جنگیں ہوئیں اُن میں سکوت کرنا چاہئے امام اہلسنت والجماعت احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو بُرا کہتا ہے تو اس کے اسلام پر تہمت لگاؤ۔
    { مناقب احمد لابن الجوزی صفحہ ١٦٠ وسند صحیح تاریخ دمشق ٦٢\١٤٤)۔۔۔

    امام معافی بن عمران الموصلی رحمہ اللہ (متوفی ١٨٥ھ) سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ!۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ساتھ کسی کو بھی برابر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ آپ کے صحابی، ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی، آپ کے کاتب اور اللہ کی وحی (لکھنے) کے امین ہیں۔
    { تاریخ بغداد ١\٢٠٩وسند صحیح، الحدیث ١٩ ص ٥٧، تاریخ دمشق ٦٢\١٤٣ }۔

    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا کہ!۔
    من تنقص احدا من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلا ینظوی الا علی بلیۃ ولہ خبیئۃ سوء اذا قصد الٰی خیر الناس وھم اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
    جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی ایک کی تنقیص کرے تو وہ اپنے اندر مصیبت چھپائے ہوئے ہے اس کے دل میں بُرائی ہے جس کی وجہ سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر حملہ کرتا ہے حالانکہ وہ (انبیاء کے بعد) لوگوں میں سب سے بہترین تھے۔

    { السنۃ للخلال ٢\٤٧٧ ح ٧٥٨ وقا؛ المحقق اسناد صحیح }۔۔۔

    ابراہیم بن میسر الطائفی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کسی انسان کو نہیں مارا سوائے ایک انسان کے جس نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو گالیاں دی تھیں انہوں نے اسے کئی کوڑے مارے۔
    { تاریخ دمشق ٦٤\١٤٥ وسند صحیح}۔۔۔

    مسند بقی بن مخلد میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ ایک سو تریسٹھ احادیث موجود ہیں دیکھئے سیراعلام النبلاء (٣\١٦٢)۔۔۔

    امیر معاویہ سے جریر بن عبداللہ البجلی، السائب بن یزید الکندی، عبداللہ بن عباس، معاویہ بن حدیج اور ابو سعید الخدری وغیرہ صحابہ کرام رضی اللہ علیہم اجمعین۔۔۔

    ابو الشعثاء جابر بن زید، حسن بصری، سعید بن المسیب، سعید المقبری، عطاء بن ابی رباح، محمد بن سیرین، محمد بن علی بن ابی طالب المعروف بابن الحنفیہ، ہمام بن منبہ اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف وغیرہ تابعین رحمہم اللہ نے روایات بیان کی ہیں { دیکھئے تہذیب الکمال ١٨\٢٠١۔٢٠٢ }۔۔۔

    اہلسنت والجماعت کے نزدیک تمام صحابہ عادل (روایت میں سچے) ہیں۔
    { اختصار علوم الحدیث لابن کثیر ٢\ ٤٩٨ }۔۔۔

    ان کے درمیان جو اجتہادی اختلاف اور جنگیں ہوئی ہیں ان میں وہ معذور وماجور ہیں ہمیں اس بارے میں مکمل سکوت کرنا چاہئے اے اللہ ہمارے دلوں کو تمام صحابہ کرام کی محبت سے بھردے اور اُن کی توہین و تنقیص سے بچا۔۔۔

    آمین یارب العالمین۔
    رضی اللہ عنہم اجمعین۔۔۔

    وسلام۔۔۔
     
  2. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,808
    جزاک اللہ خیرا.
    ویسے تمام کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین قابل قدر اور محبت کے لائق ہیں.
     
  3. ہیر

    ہیر -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2007
    پیغامات:
    433
    السلام علیکم۔
    جزاک اللہ خیر اللہ رب العزت سے دُعا ہے کہ ہمارے دلوں میں اپنے اسلاف کی محبت بھر دے اور جو لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بغض رکھتے ہوں اُنہیں ہدایت دیں آمین ثم آمین۔
    خوش رہیئے۔
     
  4. محمد اکبر فیض

    محمد اکبر فیض -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2007
    پیغامات:
    1,394
    جزاک اللہ خیرا اللہ ہمارے دلوں میں صحابہ اکرام کی محبت اور دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
     
  5. asim10

    asim10 -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 3, 2009
    پیغامات:
    187
    اچھی تحریر ہے
    ایک سوال ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ سیدنا معاویہ نے سیدنا علی رض کے خلاف سب و شتم کا سلسلہ شروع کروایا۔تو کیا اسکے رد میں‌کوئی معقول تحریر کسی نے لکھی ہے تو بتا دیں جزاکاللہ
     
  6. زاہد محمود

    زاہد محمود -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 5, 2007
    پیغامات:
    179
    اسلامُ علیکم! بہت زبردست
    چاند محمد تارے صحابہ رضی اللہ عنہم
    جان سے پیارے صحابہ رضی اللہ عنہم
     
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    جی. اس کا جواب دیا گیا ہے. تفصیل کے لیے لنک پر جائیں.
    http://www.urdumajlis.net/threads/21942/
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں