یکم محرم، عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت

ابوعکاشہ نے 'ماہِ محرم الحرام' میں ‏جنوری 5, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,375
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    السلام علیکم !
    حضرت عُمر رضی اللہ عنہ کی شہادت اسلام کے ان مصائب میں سے ہے جس کی تلافی نہ ہوئی اور نہ ہو سکتی ہے ،جس دن سے وہ مسلمان ہوے دین الہی کی شوکت و عزت بڑھتی گئی اور اپنے عہد خلافت میں تو وہ کام کئے جن کہ نظیر کبھی چشم فلک نے بھی نہیں دیکھی اورجس دن سے رخصت ہوئے مسلمانوٰں کا اقبال بھی رخصت ہو گیا۔

    مدینہ منورہ میں ایک فیروز نامی ایک پارسی (ایرانى )غلام تھے جس کہ کنیت ابولولو تھی ۔اس نے ایک دن حضرت عُمر رضی اللہ عنہ سے آ کر شکایت کی کہ میرے آقا مغیرہ مغیرہ بن شعبہ نے مجھ سے بہت بھاری محصول مقررکیا ہے ۔ آپ کم کرا دیجئے ۔ حضرت عُمر رضی اللہ عنہ نے تعداد پوچھی ۔ اس نے کہا روزانہ دو درہم (قریبا سات آنے ) حضرت عُمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا تو کونسا پیشہ کرتا ہے ۔ بولا کہ بخاری، نقاشی ، آہنگری۔ فرمایا کہ ان صنعتوں کے مقابلہ میں یہ رقم کچھ بہت نہیں ہے ۔ فیروز دل میں سخت ناراض ہو کر چلا آیا۔

    دوسرے دن حضرت عُمر رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کے لیے نکلے تو فیروز خنجر لے کر مسجد میں آیا ۔ حضرت عُمر رضی اللہ عنہ کے حکم سے کچھ لوگ اس کام پر مقرر تھے کہ جب جماعت کھڑی ہو تو صفیں درست کریں۔ جب صفیں سیدھی ہو چکتی تو حضرت عُمر رضی اللہ عنہ تشریف لاتے تھے اور امامت کرتے تھے ۔ اس دن بھی حسب معمول صفیں درست ہو چکیں تو حضرت عُمر رضی اللہ عنہ امامت کے لئے بڑھے اور جونہی نماز شروع کی، فیروز نے دفعتہ گھات سے نکل کر چھ وار کئے ۔ جن میں سےایک ناف کے نیچے پڑا۔ حضرت عُمر رضی اللہ عنہ نے فورا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ بن عوف کا ہاتھ پکڑکر اپنی جگہ کھڑا کردیا اور خود زخم کے صدمہ سے گر پڑے۔27 ذوالحجہ 23 ھجری 644 عیسوئ)

    عبد الرحمن رضی اللہ عنہ بن عوف نے اس حالت میں نماز پڑھائی کہ حضرت عُمر رضی اللہ عنہ سامنے بسمل پڑے تھے ۔ فیروز نے اور لوگوں کو بھی زخمی کیا لیکن بلاآخر پکڑ لیا گیا اور ساتھ ہی اس نے خود کشی کرلی۔

    حضرت عُمر رضی اللہ عنہ کو لوگ اٹھا کر گھر لائے ۔ سب سے پہلے انھوں نے پوچھا کہ میرا قاتل کون تھا؟ لوگوں نےکہا کہ فیروز فرمایا کہ الحمد للہ کہ میں ایسے شخص کے ہاتھ سے نہیں مارا گیا جو اسلام کا دعوٰی رکھتا تھا۔ لوگوں کا خیال تھا زخم چنداں کاری نہیں ہے غالبا شفا ہو جائے ۔ چنانچہ ایک طبیب بلایا اس نے نیسند اور دودھ پلایا اور دونوں چیزیں زخم کی راہ باہرنکل آئیں اس وقت لوگوں کو یقین ہو گیا کہ وہ اس زخم سے جانبر نہیں ہو سکتے۔چنانچہ لوگوں نے ان سے کہا کہ اب آپ اپنا ولی عہد منتخب کر جائیے۔

    حضرت عُمر رضی اللہ عنہ نے عبداللہ اپنے فرزند کوبلا کر کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤاوراس کہو کہ عُمر آپ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن کیا جائے ۔عبداللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، وہ رو رہی تھیں۔ حضرت عُمر رضی اللہ عنہ کا سلام کہا اور پیغام پہنچایا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اس جگہ کو میں اپنے لئے محفوظ رکھنا چاہتی تھی۔ لیکن آج میں عُمر رضی اللہ عنہ کو اپنے آپ پر ترجیح دوں گی۔ عبداللہ واپس آئے ۔لوگوں نے حضرت عُمر رضی اللہ عنہ کو خبر کی۔ بیٹے کی طرف مخاطب ہوئے اورکہا کیا خبر لائے؟ انہوں نے فرمایا جو آپ چاہتے تھے ۔ فرمایا کہ یہی سب سے بڑی آرزو تھی۔

    اس وقت اسلام کے حق میں جو سب سے اہم کام تھا ، وہ ایک خلیفہ کا انتخاب کرنا تھا ۔ تمام صحابہ بار بار حضرت عُمر رضی اللہ عنہ سے درخوست کرتے تھے کہ اس مہم کو آپ طے کر جائیے۔ حضرت عُمر رضی اللہ عنہ نے خلافت کے معاملے پر مدتوں غور کیا تھا اوراکثر سوچا کرتے تھے ۔ بار بار لوگوں نے ان کو اس حالت میں دیکھا کہ سب سے الگ متفکر بیٹھے ہیں اور کچھ سوچ رہے ہیں ۔ دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ خلافت کے باب میں غلطان و پہچان ہیں۔

    غرض وفات کے وقت جب لوگوں نے اصرار کیا تو فرمایا کہ ان چھ شخصوں میں جس کی نسبت کثرت رائے ہووہ خلیفہ منتخب کرلیا جائے -
    جن پر انتخاب کی نگاہ پڑ سکتی تھی۔ علی، عثمان،زبیر،طلحہ،سعد بن وقاص، عبدالرحمن بن عوف رضوان اللہ عنھم تھے۔

    حضرت عُمر رضی اللہ عنہ کو قوم اور ملک کی بہبود کا جو خیال تھا اس کا اس اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ عین کرب و تکلیف کی حالت میں جہاں تک ان کی قوت اور حواس نے یاوری دی اس دھن میں صرف رہے ۔ لوگوں کو مخاطب کر کے کہا کہ جو شخص خلیفہ منتخب ہو اس کو میں وصیت کرتا ہوں کی پانچ فرقوں کے حقوق کا نہایت خیال رکھے (1) مہاجرین (2) انصار(3) اعراب(4)وہ اہل عرب جو اور شہروں میں جا کرآباد ہو گئے ہیں۔ (5)اہل ذمہ (یعنی عیسائی، یہودی،پارسی جو اسلام کہ رعایا تھے) پھر ہرایک کے حقوق کی تصریح کی۔

    قوم کے کام سے فراغت ہو چکی تو اپنے ذاتی مطالب پر توجہ کی۔ عبداللہ اپنے بیٹے کو بلا کر پوچھا کہ مجھ پر کتنا قرض ہے ۔معلوم ہوا کہ چھیاسی ہزار درہم ۔فرمایا کہ میرے متروکہ سے ادا ہو سکے تو بہتر ورنہ خاندان عدی سے درخواست کرنا اگر وہ بھی پورا نہ کر سکیں تو کل قریش سے -لیکن قریش کے علاوہ کسی اور کو تکلیف نہ دہنا-( یہ صحیح بخاری کی روایت ہے)لیکن حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عُمر رضی اللہ عنہ کا مکان خرید لیا جس سے قرض ادا کیا گیا-( فتح الباری

    اس کے بعد نزع کی حالت شروع گئی،اسی حالت میں ایک نوجوان آپ کے پاس آیا جس کے ازار تخنوں سے نیچی تھی ، آپ نے فرمایا کہ ائے بھتیجے ذرا اپنے ازار ٹخنوں سے اوپر رکھا کرو ۔ اس کپڑابھی صاف رہتا ہے اور خدا کی اطاعت بھی ہے -

    حضرت عُمر رضی اللہ عنہ نے تین دن کے بعد فوت ہوئے اور محرم کی پہلی تاریخ ہفتہ کے دن مدفون ہوئے -نماز جنازہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے پڑھائی-
    حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ ، حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ ، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے قبر میں اتارا - اور آفتاب عالم تاب خاک میں چھپ گیا-
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
    • اعلی اعلی x 1
  2. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,808
  3. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    934
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم​


    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
    جزاک اللہ عُکاشہ بھائی۔۔۔ اللہ پاک آپ کے درجات بلند فرمائیں آمین یارب العالمین۔۔۔

    اللہ وحدہ لاشریک کا فرمان ہے کہ!۔
    لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِينَ آمَنُواْ الْيَھودَ وَالَّذِينَ اَشْرَكُواْ
    آپ یقیناً ایمان والوں کے حق میں بلحاظِ عداوت سب لوگوں سے زیادہ سخت یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے (سورہ المائدہ)۔۔۔

    والسلام۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. ام ھود

    ام ھود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 17, 2007
    پیغامات:
    1,198
    سبحان اللہ۔کیا واقعہ ہے ماشاءاللہ۔اللہ ہم سب کو شہادت کی موت نصیب فرمانا اور ہمیں مرتے دم تک اپنے دین کی صحیح طریقے سے پیروی کرنے والا رکھنا آمین۔آپ نے نزع کی حالت میں بھی نوجوان کو نصیحت کی لیکن آج کل بہت سے لوگ نصیحت کرنا ہی بھول گئے ہیں کہتے ہیں اس کی مرضی نہ کرے ہمیں کیا لینا اس سے۔واقعی عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت ایک عظیم صدمہ تھا۔سبحان اللہ۔جزاک اللہ خیر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. ہیر

    ہیر -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2007
    پیغامات:
    433
    السلام علیکم۔
    جزاک اللہ خیر عُکاشہ بھائی اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائیں۔
    آمین ثم آمین۔
    خوش رہیئے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. چنچل

    چنچل -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 3, 2008
    پیغامات:
    54
    جزاک اللہ عکاشہ اور برادر بھائی
     
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,375
    السلام علیکم !
    شکریہ محترمہ چنچل
     
  8. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیر عکاشہ بھائی!

    حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ولادت ہجرتِ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سے 40 برس قبل ہوئی، بچپن میں نسب دانی، سپہ گری، پہلوانی اور کشتی کے فن میں کمال حاصل کیا۔ قریش کے تمام قبیلوں میں صرف 17 آدمی لکھنا پڑھنا جانتے تھے، ان میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ عکاظ کے میلوں اور تجارت کے تجربوں نے ان کو تمام عرب میں روشناس کرایا اور لوگوں میں ان کی قابلیت کے جوہر کھلتے چلے گئے یہاں تک کہ قریش نے ان کو سفارت کاری کے منصب پر فائز کیا۔ قبائل میں جب کوئی پر خطر معاملہ پیش آتا تو انہی کو سفیر بنا کر بھیجتے تھے۔ آپ نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے اعلانِ نبوت کے چھٹے سال اسلام قبول کیا۔ آپ کے اسلام میں داخل ہونے سے اسلام کو بڑی قوت ملی اور اسلام نے ان کو عزت بخشی۔ آپ کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو پہلی بار نماز کعبہ میں ادا کرنے کا موقعہ ملا۔

    یکم محرم الحرام 44 ہجری کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہادت کے منصب سے سرفراز ہوئے۔ یوں اسلامی سال کا پہلا دن یکم محرم الحرام بھی ہمیں قربانی کا درس دیتا ہے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسلام کے وہ درخشندہ ستارے ہیں جنہوں نے اسلام کے گلشن کو اپنے خون سے سیراب کر کے اسلامی سال کی ابتداء کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا۔ اللہ رب العزت ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. زاہد محمود

    زاہد محمود -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 5, 2007
    پیغامات:
    179
    اسلامُ‌علیکم! جزاکم اللہ! ماشاء اللہ
    حب صحابہ رضی اللہ عنھم رحمت اللہ
    بغض صحابہ رضی اللہ عنھم لعنت اللہ
     
  10. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,638
    جزاک اللہ خیر عکاشہ بھائی اور رفی بھائی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. ابو عبداللہ صغیر

    ابو عبداللہ صغیر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 25, 2008
    پیغامات:
    1,980
  12. Muhammad Ahmad

    Muhammad Ahmad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 1, 2009
    پیغامات:
    830
    جزاک اللہ عکاشہ اور رفی بھای
    اللہ پاک ہمارے حاکموں کو بھی ُان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دیں آمین
    اسلام کے لیے آپ رضی اللہ عنہا نے جو قربانیاں دی ہیں وہ اُمتِ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے ایک نمونہ ھیں
    جہاں تک مجھے یاد پڑتا ھے کہ آپ رضی اللہ عنہا نے ہی یہ حکم صادر کیا تھا کہ اپنی کمائ کا کچھ حصہ مالِ غنیمت میں جمع کروایا جاے
    تاکہ اُس سے غریبوں' معذوروں' بیواوں' بےروزگاروں کے گھروں کی کفالت کی جاسکے
    جس کو آج ہم لوگوں نے ٹیکس کا نام دے دیا ھے
    اور آپ رضی اللہ عنہا کو اپنی رعایا کی فکر اور خوفِ خداعزوجل کا یہ عالم تھا
    کہ آپ رضی اللہ عنہا کا فرمان ھے کہ دریاے فراط یا فرات پر اگر کوئ جانور بھی بھوکا مر گیا تو مجھے اللہ عزوجل کو اس کا جواب دینا ھے
    اللہ پاک ہمیں اپنے انعام یافتہ لوگوں کی پیروی کرنے کی توفیق دیں آمین ثم آمین
    اللہ عزوجل میری اس تحریر میں کمی بیشی کو بھی معاف فرمائیں آمین
     
  13. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    جزاک اللہ خیرا۔
     
  14. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,692
    جزاک اللہ خیرا۔

    میری نظر جب کبھی کسی آدمی کے ٹخنے کی طرف پڑتی ھے اور اتنی تکلیف ھوتی ھے اور اتنی دعا کرتی ھوں یااللہ اتنا بڑا گناہ ھےجس کو لوگ سمجھتے ھی نہیں ایک پرسنٹ لوگ ھوں گے جن کے ٹخنے ننگے ھوں گے آجکل کی پنٹیں بچوں سے ان کو جتنا مرضی اوپر کروا لو اس سٹائیل کی آرھی ھیں کہ ایک منٹ میں پھر نیچے ھوجاثی ھیں دو دعفہ بھی درزی سے ٹھیک کروا کر دیکھ لی ھیں ماں باپ کی زمہ داری ھے کہ کم ازکم بچوں کو جب پنٹ لے کر دیں اس کو چھوٹا کروا کر دیں اتنے بڑے گناہ کو لوگ گناہ سمجھتے ھی نہیں دعا کریں اللہ ھمیں ھر چھوٹے بڑے گناہ سے بچنے کی توفیق دے آمین

    بنت السلام آپ صیح کہہ رھی ھیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  15. ام احوس

    ام احوس -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 25, 2012
    پیغامات:
    162
    یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قاتل ابو لولو کا بہت بڑا مزار ایران میں بنایا گیا ہے۔ جہاں پر روافض کے بڑے بڑے عہدے دار، علماء حاضری دیتے ہیں اور جشن مناتے ہیں۔ وہاں جا کر اپنی منتیں مانتیں ہیں۔ اسی ویڈیوز یو ٹیوب پر موجود ہیں اور مزید تفاصیل ویکی پیڈیا پر بھی موجود ہے۔
    Pirouz Nahavandi - Wikipedia, the free encyclopedia
     
  16. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,692
    اللہ ھم سب کوھدائیت دے آمین
     
  17. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    سسٹر اس ربط پر آخری سطر یہ ہے :
     
  18. طارق راحیل

    طارق راحیل -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2009
    پیغامات:
    351
    جب حضرت عمرفاروقؓ کو ابو لولو فیروز نے خنجر سے تو آپؓ کے ساتھ کون سے صحابیؓ شہید ہوئے؟
     
  19. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,920

    جزاک اللہ خیرا
    آج حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یوم شہادت تھا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان کی غیرت ایمانی میں سے کچھ حصہ نصیب فرمائے۔ آمین
     
  20. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,873
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں