مقدس امریکی جنگ کے سپہ سالار بے نقاب

عائشہ نے 'ذرائع ابلاغ' میں ‏نومبر 15, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    یادش بخیر بش جونئیر نامی امریکی صدر ایک زمانے میں مقدس جنگ ( کروسیڈ) کا علم اٹھا کر دہشت گردی کے تعاقب میں نکلا تھا ۔ اس زمانے میں کیا نئی نئی اصطلاحات سننے میں آتی تھیں ،
    ’مقدس جنگ ‘ کا لفظ بش کی زبان سے پھسلا مگر پھر امریکیوں کو سخت شرم آئی کہ وہ اپنے مفاد اور پیسے کے سوا کسی کو مقدس جاننے سے انکار کر چکے تھے اب پھر تقدس سے ناطہ کیسے جوڑتے ۔ سو اس لفظ سے جلد معذرت کر لی گئی لیکن یہ جنگ لڑنے والے خود کو ہمیشہ مقدس تصور کرتے رہے ۔
    ’بدی‘ کی نئی پریگمٹک تعریف وضع ہوئی جس کی رو سے جو چیز امریکی نیتِ بد کی راہ میں رکاوٹ تھی ’بدی‘ قرار پائی اور ’بدی کا محور‘ وہ قرار پائے جو امریکا کو ناپسند تھے ،
    مقدس جنگ کی ہیروئنز اور ہیروز میں کیا کیا عجیب الخلقت ہستیاں شامل تھیں :
    کینڈولیزا رائس نامی امریکی حسینہ جس کی رنگت کی سیاہی عراقی بستیوں کے نصیبوں میں گھل کر ان کو کھنڈر بنا گئی ۔
    شقی القلب جنرل کولن پاول عراق و افغانستان کے معصوم انسانوں کا قاتل
    اور اب مقدس جنگ کا بڈھا سپہ سالار جنرل ڈیوڈ پیٹرئیس General Petraeus۔ پست امریکی اخلاق و کردار کا جیتا جاگتا ثبوت ۔
    کیا مجھے ان متعفن خبروں کے روابط پیسٹ کرنے کی ضرورت ہے ؟
    دنیا بھر کے صحافتی ادارے اس نام نہاد مقدس جنگ (pseudo Crusade ) کے سپہ سالار کی بساند بھری خبریں شائع کر رہے ہیں لیکن فواد کی بینائی چلی گئی ہے اس کو ملالہ کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں ، کیا تغافل ہے ۔ امید ہے فواد ادھر تشریف بے شرف لا کر اپنی روزی حلال کرے گا ۔۔۔


     
  2. ام احوس

    ام احوس -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 25, 2012
    پیغامات:
    162
    جزاکم اللہ خیرا
     
  3. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    جرنل پٹرياس کا استعفی ہمارے نظام حکومت ميں موجود احتسابی قوانين اور شفافيت کی پختگی کو اجاگر کرتا ہے جس کے تحت عسکری اور سول حکومت کے اہم ترين عہديدار بھی قواعد و ضوابط سے مبرا نہيں ہيں۔

    ميں يہ بھی واضح کر دوں کہ امريکی حکومت ميں اداروں کی جانب سے مشترکہ طور پر پاليسياں مرتب کی جاتی ہيں جن کا محور اور دارومدار افراد نہيں ہوتے۔ اس تناظر ميں جرنل پٹرياس کے حاليہ استعفے کا امریکہ کی حکمت عملی اور مجموعی خارجہ پاليسی پر کوئ اثر نہيں پڑے گا۔ اس ضمن ميں راۓ زنی اور تجزيے محض بےبنياد تاثر پر مبنی ہيں جن کا حقائق سے کوئ تعلق نہيں ہے۔

    کچھ فورمز پر دی جانے والی راۓ کے برعکس کسی فرد کی تبديلی کا امريکہ کی مبينہ شکست يا امريکی افواج کو افغانستان ميں درپيش چيلنجز سے کوئ تعلق نہيں ہے۔ يہ ياد رہے کہ امريکہ کے نظام حکومت ميں مجموعی طور پر ادارے پاليسی تشکيل دينے کی ذمہ دار ہوتے ہيں اور افراد ان پاليسی فيصلوں پر عمل درآمد کرتے ہيں۔ يہی بنيادی اصول فوجی قيادت پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ سول قيادت کا فوج پر کنٹرول ہمارے جمہوری نظام کی بنيادی اساس ہے۔ اس تناظر ميں صدر کی جانب سے کسی بھی پاليسی بيان پر عمل درآمد فوج پر ايک ادارے کی حيثيت سے لازم ہے۔ اس ادارے سے وابستہ افراد اجتماعی سطح پر صدر کے اعلان کردہ پاليسی کو کامياب بنانے کے لیے کوشاں رہتے ہيں۔

    يہ درست ہے کہ جمہوريت اداروں پر انحصار کرتی ہے جو افراد کے مقابلے ميں مضبوط اور اہم ہوتے ہيں۔ اس اصول ميں ملٹری کمانڈ کا ضوابط کی پاسداری اور سول قيادت کا فوجی کمانڈ پر کنٹرول اور اس کا احترام بھی شامل ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں