نو اور دس محرم کا روزہ

عبد الرحمن یحیی نے 'ماہِ محرم الحرام' میں ‏نومبر 21, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,317
    یوم عاشوراء کے روزہ کے فضیلت :

    ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کواس یوم عاشوراء کے دن اوراس مہینہ یعنی رمضان المبارک کے روزوں کے علاوہ کسی اوردن کاروزہ رکھ کرفضیلت حاصل کرنے کی کوشش کرتے نہیں دیکھا ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1867 ) ۔

    اورحدیث میں استعمال لفظ ( یتحری ) کامعنی یہ ہے کہ : ثواب حاصل کرنے کی رغبت رکھتے ہوئے اس کا روزہ رکھا کرتے تھے ۔

    اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

    ( یوم عاشوراء کا روزہ رکھنے میں مجھےاللہ تعالی سے امید ہے کہ وہ پچھلے ایک برس کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1976 ) ۔

    یوم عاشوراء کونسا دن ہے :

    امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں عاشوراء اورتاسوعاء یہ دونوں ہی اسم ممدود ہیں ، اورکتب لغت میں یہی مشہور ہے ، ہمارے اصحاب کہتے ہیں ، عاشوراء محرم کی دس تاریخ ہے اورتاسوعاء محرم کی نوتاریخ کوکہا جاتا ہے ، ہمارا مذھب یہی ہے ، اورجمہورعلماء کرام کا بھی یہی کہنا ہے ، اوراحادیث سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے اورلفظ کےاطلاق کا تقاضہ بھی یہی ہے اوراہل لغت کےہاں بھی یہی معروف ہے ۔ دیکھیں : المجموع


    عاشوراء کے ساتھ نومحرم کا روزہ رکھنا بھی مستحب ہے :

    عبداللہ بن عباس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کا روزہ خود رکھا اوراس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا توصحابہ نے عرض کی :

    اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کی یھودی اورعیسائي تعظیم کرتے ہیں ، تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

    لھذا جب اگلابرس آیا توہم نے نومحرم کا روزہ رکھا ، ابن عباس رضي اللہ تعالی کہتے ہیں اگلابرس آنے سے قبل ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے ۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1916 ) ۔

    امام شافعی رحمہ اللہ اوران کے اصحاب اورامام احمد ، اسحاق ، اوردوسروں کا کہنا ہے کہ : نواوردس محرم دونوں کا ہی روزہ رکھنے مستحب ہے ، کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس تاریخ کا روزہ رکھا اورنوتاريخ کے روزہ رکھنے کی نیت فرمائي ۔

    تواس بنا پرعاشوراء کےروزہ کے مراتب ہیں اس کا کم از کم مرتبہ یہ ہےکہ صرف عاشوراء کا ہی روزہ رکھا جائے ، اوراس سے بڑا اوراونچا مرتبہ یہ ہےکہ دس کےساتھ نوتاريخ کا بھی روزہ رکھا جائے ، اورمحرم میں جتنے بھی زيادہ روزے رکھے جائيں گے اتنا ہی بہتر اورافضل ہوگا ۔

    نومحرم کوروزہ رکھنے کے استحباب کی حکمت :

    امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

    ہمارے اصحاب وغیرہ علماء کرام نے نومحرم کا روزہ رکھنے کی حکمت ذکر کرتے ہوئے کئي ایک وجوھات ذکر کی ہيں ، ان میں سے ایک یہ ہے :

    اس سے یھودیوں اورعیسا‏ئيوں کی مخالفت مراد ہے کہ وہ صرف دس محرم کا روزہ رکھتے ہیں ، یہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے ۔

    دوسری : اس سے یوم عاشوراء کے ساتھ روزہ ملانا مراد ہے ، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف جمعہ کے دن کا اکیلا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ، اسے امام خطابی اوردوسروں نے ذکر کیا ہے ۔

    تیسری : صرف دس تاریخ کا روزہ رکھنے میں احتیاط ہے کہ کہیں چاندمیں کمی نہ ہو ، اوراس طرح روزہ صحیح نہ ہو اورغلط ہوجائے تواس طرح نوتاریخ چاند کے اعتبار سے دس ہو۔ انتھی

    ان وجوھات میں سب سے قوی یہ ہے کہ اس میں اہل کتاب کی مخالفت ہے ، شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں :

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ساری احادیث میں اہل کتاب کی مشابھت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے ، مثلا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے بارہ میں ‎فرمایا :

    ( اگرمیں آئندہ برس زندہ رہا تومیں ضرورنوتاریخ کا روزہ رکھوں گا ) دیکھیں : الفتاوی الکبری جلدنمبر ( 6 ) سدالذرائع المفضیۃ الی المحارم ۔

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی اس حدیث ( اگرمیں آئندہ برس زندہ رہا تونوتاریخ کاروزہ رکھوں گا ) پرتعلیق چڑھاتے ہوئے کہتے ہیں :

    نبی کریم صلی اللہ علیہ کا نوتاریخ کے روزہ رکھنے کا ارادہ کا معنی یہ نہیں کہ صرف نوتاریخ کے روزے پرہی اقتصار کیا جائے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ یاتواحتیاطا دس تاريخ کے ساتھ نوکابھی روزہ رکھا جائے یاپھر یھودیوں اور عیسائیوں کی مخالفت کی بناپر ، اورراجح بھی یہی ہے اور مسلم شریف کی بعض روایات سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے ۔ دیکھیں : فتح الباری ( 4 / 245 ) ۔

    صرف یوم عاشوراء ( دس محرم ) کا روزہ رکھنے کا حکم :

    شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں : یوم عاشوراء کا روزہ رکھنا ایک برس کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے اورصرف عاشوراء ( دس محرم ) کاروزہ رکھنا مکروہ نہیں ۔ ۔۔ دیکھیں : الفتاوی الکبری جلدنمبر ( 5 ) ۔

    اورابن حجر ھیتمی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں : صرف عاشوراء ( دس محرم ) کاروزہ رکھنے میں کوئي حرج نہیں ۔ دیکھیں تحفۃ المحتاج باب صوم التطوع جلدنمبر ( 3 ) ۔

    اگرعاشوراء جمعہ کا یاہفتہ کےدن بھی آئے توروزہ رکھا جائےگا :

    امام طحاوی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا اوراس پرابھارا بھی ہے ، اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ اگرہفتہ کے دن یوم عاشوراء ہوتوروزہ نہ رکھاجائے ، لھذا اس میں یہ دلیل ہے کہ کسی بھی دن یوم عاشوراء آجائے توروزہ رکھا جائے ۔

    اورہمارے ہاں یہ جائز ہے ، واللہ اعلم ، اگریہ ثابت بھی ہو ( یعنی ہفتہ کے دن روزہ رکھنا منع ہو ) تواس کے روزہ سے اس لیے روکا گیا ہے کہ اس سے اس کی تعظيم نہ کی جائے اورکھانے پینے اورجماع سے رکا جائے جیسا کہ یھودی کیا کرتے تھے ، اورجوکوئي اس دن کا روزہ رکھتا ہے اس دن کی تعظيم کے لیے نہيں اورنہ ہی اس لیے کہ جوکچھ یھودی ترک کرنے کی کوشش کرتے تھے اس کی وجہ سے توپھر یہ مکروہ نہيں ۔۔ دیکھیں : مشکل الآثار باب صوم یوم السبت جلدنمبر ( 2 ) ۔

    فرضی روزہ کے علاوہ صرف جمعہ یا صرف ہفتہ کا روزہ رکھنے کی ممانعت وارد ہے ، لیکن جب اس کے ساتھ کسی دوسرے دن کا روزہ ملالیا جائے تویہ ممانعت ختم ہوجاتی ہے ، یاپھر مشروع عادت کے موافق ہوجائے مثلا ایک دن روزہ رکھنا اورایک دن نہ رکھنا ، یا پھر نذر اورقضاء کا روزہ رکھنا یا شریعت نے اس دن کا روزہ رکھنے کا مطالبہ کا ہو جیسا کہ یوم عرفہ اوریوم عاشوراء کا روزہ رکھنے کا کہا گيا ہے ۔

    دیکھیں: تحفۃ المحتاج باب صوم التطوع جلد نمبر ( 3 ) ، اورکشاف القناع باب صوم التطوع جلددوم ۔

    اورصاحب المنھاج کہتےہیں : ( اورصرف جمعہ کاروزہ رکھنا ممنوع ہے ) لیکن اس کے ساتھ دوسرے دن کوملانے سے یہ کراہت زائل ہوجاتی ہے ، جیسا کہ یہ حدیث میں بھی ثابت ہے ، اورجب عادت یا نذر یا قضاء کے موافق یہ دن آجائے توپھر اس کا روزہ رکھا جاسکتا ہے اس کا بھی ثبوت حدیث میں ملتا ہے ۔

    تحفۃ المحتاج میں شرح کرتے ہوئے کہتے ہیں : قولہ ( جب عادت کے موافق آجائے ) یعنی وہ ایک دن روزہ رکھتا اورایک دن افطار کرتا تھا توروزے والا دن جمعہ کےموافق آجائے ، قولہ ( یا نذر کے موافق آجائے الخ ) اوراسی طرح جب شارع کے کہنے پرروزہ رکھاجائے اوروہ دن اس کے موافق آجائے مثلا عاشوراء یا یوم عرفہ کا روزہ رکھنا ۔ دیکھیں : تحفۃ المحتاج باب صوم التطوع جلدسوم ۔

    بھوٹی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

    ( اور ) جان بوجھ کر ( صرف ہفتہ کے دن ) کا روزہ رکھنا مکروہ ہے کیونکہ عبداللہ بن بشراپنی بہن سے بیان کرتے ہیں :

    ( ہفتہ کے دن کا روزہ نہ رکھو لیکن جوتم پرفرض کیا گيا ہے ) اسے امام احمد رحمہ اللہ تعالی نے جید سند کے ساتھ روایت کیا ہے اورامام حاکم کہتے ہیں یہ بخاری کی شرط پر ہے ۔

    اوراس لیے کہ یھودی اس دن کی تعظیم کرتے ہيں توصرف ہفتہ کےدن کا روزہ رکھنے میں ان کی مشابھت ہے ۔۔۔ ( لیکن اگر یہ موافق ہو ) یعنی جمعہ یا ہفتہ کے موافق آجائے ( عادت کے موافق آجائے ) مثلا یوم عرفہ یا یوم عاشوراء کے موافق آجائے اوراس کی روزہ رکھنے کی عادت ہو تواس میں کوئي کراہت نہیں ، کیونکہ اس میں عادت موثر ہے ۔

    دیکھیں: کشاف القناع باب صوم التطوع جلد دوم

    عاشوراء کا روزہ کس چيز کا کفارہ بنتا ہے ؟

    امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں :

    سب صغیرہ گناہ کا کفارہ بنتا ہے ، اوراس کی تقدیر یہ ہوگي کہ کبیرہ گناہوں کے علاوہ سب صغیرہ گناہوں کا کفارہ بنے گا ۔

    پھراس کے بعدرحمہ اللہ کہتے ہیں :

    یوم عرفہ کا روزہ دوبرس کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے اوریوم عاشوراء ایک برس کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے ، اورجب اس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوجائے تواس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہيں ۔۔۔

    یہ سب مذکور اشیاء کفارہ بننے کے اہل ہیں لھذا اگر صغیرہ گناہ ہوں تویہ ان کا کفارہ بن جاتی ہیں ، لیکن اگر نہ توکبیرہ گناہ ہوں اورنہ ہی صغیرہ ہوں توپھران کی بنا پرنیکیاں لکھی جاتی اور درجات بلند کردیے جاتے ہيں ، ۔۔ اوراگر صغیرہ گناہ نہ ہوں بلکہ کبیرہ ہوں توہم امید رکھتے ہيں کہ کبیرہ گناہوں میں تخفیف کا باعث بنتے ہیں ۔

    دیکھیں : المجموع شرح المھذب صوم یوم عرفۃ جلد سادس ۔

    اورشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں :

    وضوء وطہارت ، نماز ، اوررمضان المبارک ، یوم عرفہ اوریوم عاشوراء کے روزے صرف صغیرہ گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں ۔ دیکھیں الفتاوی الکبری جلدسادس ۔

    روزوں کے ثواب سے دھوکہ میں نہ رہا جائے :

    بعض مغرور قسم کےلوگ عاشوراء یا یوم عرفہ کے روزے کے اجروثواب پراعتماد کرتے ہوئے دھوکہ میں پڑجاتے ہیں ،حتی کہ ان میں سے بعض یہ کہتے ہيں : عاشوراء کا روزہ رکھنے سے سارے سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہں ، اوریوم عرفہ کا روزے رکھنے سے اجروثواب باقی رہتا ہے ۔

    حافظ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں :

    یہ مغرور اوردھوکہ میں پڑنے والا شخص یہ نہيں جانتا کہ رمضان المبارک کے روزے ، اورپانچوں نمازیں تویوم عرفہ اورعاشوراء کےروزوں سے بھی بڑھ کرعظمت رکھتےہیں ، اوریہ توصرف ان کے مابین صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہیں جب کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے ، لھذا رمضان رمضان تک ، اور جمعہ جمعہ تک ان کے مابین گناہوں کا کفارہ اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے توپھر یہ سب کچھ قوی ہوکر صغیرہ گناہوں کی تکفیر کا باعث بنتے ہيں ۔

    اورکچھ مغرور یہ بھی گمان کرتے ہيں کہ ان کی اطاعت کے کام تومعصیت وگناہ سے زيادہ ہیں ، کیونکہ وہ نافرمانی اورمعصیت میں اپنا محاسبہ ہی نہيں کرتا اورنہ ہی وہ اپنے گناہوں کا خیال کرتا ہے ، لیکن جب کوئي اطاعت اورفرمانبرداری کرتا ہے تواسے شمار کرلیتا اوریاد رکھتا ہے ، جس طرح کہ وہ لوگ جواپنی زبان سے استغفار کرتا ہے یا پھر دن میں سوبار تسبیح کرتا ہے پھر وہ مسلمانوں کی غیبت اورچغلی بھی کرتا اوران کی عزتیں بھی اچھالتا ہے اورسارا دن ایسی کلام کرتا ہے جواللہ تعالی کاپسند ہی نہیں ، تویہ شخص اپنی ان تسبیحات اوراستغفار کے فضائل توظاہر کرتا ہے لیکن وہ غیبیت اورچغلی کرنے والوں اورجھوٹے اورکذاب لوگوں کی سزا وعقاب کی طرف متوجہ ہی نہيں ہوتا کہ اس کی سزا کیا ہے یااس طرح دوسری زبانی آفتوں کی سزائيں کیا ہيں ؟ تواس طرح یہ صرف اورصرف غرور اوردھوکہ کے علاوہ کچھ نہيں ۔

    دیکھیں : الموسوعۃ الفقھیۃ جلدنمبر ( 31 ) غرور ۔

    بشکریہ الاسلام سوال و جواب


    نوٹ ۔

    استاد محترم رفیق طاہر حفظہ اللہ کا موقف پڑھا وہ صرف نو محرم کے روزے کے قائل ہیں (یعنی وہ روزہ جس سے ایک سال کے گناہ معاف ہوتے ہیں وہ نو محرم کا روزہ ہے شیخ کے ہاں )

    میں نے یہ مضمون اس لیے پوسٹ کیا ہے کہ تصویر کا دوسرا رخ سامنے آسکے
    اور میرے مسلک کی شان یہ ہے کہ یہاں کسی کی محبت اور عقیدت حق بیان کرنے میں آڑے نہیں آتی ۔

    واللہ تعالٰی اعلم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    جزاکم اللہ خیرا واحسن الجزاء۔
     
  3. ام احمد

    ام احمد محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 7, 2008
    پیغامات:
    1,333
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. نعمت اللہ

    نعمت اللہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 25, 2012
    پیغامات:
    262
    جزاک اللہ خیرا
     
  5. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    جزاکم اللہ خیر
     
  6. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیرا بھائ ابو احمد
     
  7. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    جزاکم اللہ خیرا
     
  8. ابن حسیم

    ابن حسیم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 1, 2010
    پیغامات:
    891
    جزاکم اللہ خیرا و احسن الجزاء۔
    الحمدللہ الذی ھدانا لھٰذا وما کنا لنھتدی لو لا ان ھدانا اللہ
     
  9. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,582
    جزاکم اللہ خیرا
     
  10. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,466
    جزاك اللہ خیرا
     
  11. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,122
    جزاک اللہ خیرا
     
  12. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,872
    جزاک اللہ خیرا
     
  13. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    ماشاء اللہ وبارک فیک، بھائی جان بہت ہی اچھا مضمون ہے بھائی جان بڑی عجیب سی بات ہے ہم لوگ نفلی روزوں کے معاملہ میں‌اس قدر عجیب سختی اپنا بیٹھے ہیں کہ لوگ نفلی عبادات سے دور ہی ہوتے نظرآتے ہیں۔ اس کی ایک مثال یوم عرفہ کے روزے کی ہے آج تک یہ سوال پیدا نہیں‌ہوا مگر اس سال سننے میں‌آیا کہ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک کی جگہ دو روزے رکھیں کچھ کا موقف تھا کہ ایک ہی رکھیں مگر پاکستانی تاریخ کے مطابق 8 کا رکھیں۔لوگوں میں‌یہ بات عام ہوتے ہی سننے میں آیا کہ نفلی ہی ہے چھوڑ دیتے ہیں کیوں کہ علماء کسی رائے پر متفق ہی نہیں‌ ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ باتیں نہیں‌ہونی چاہیں مگر ان باتوں کو کسی حد تک عام لوگوں‌سےدور رکھنا چاہئے۔پہلے کسی بات پر اتفاق کرنا چاہئے اور پھر عام کی جائے تو زیادہ بہتر ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  14. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    949
    جزاک اللہ خیرا
     
  15. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
  16. محمد عرفان

    محمد عرفان -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 16, 2010
    پیغامات:
    764
    جزاک اللہ خیرا
    یوم عرفہ ویوم عاشوراء اور رمضان المبارک کے روزوں کو شروع کرنے اور ختم کرنے کو لیکر کافی آراء پائی جاتی ہیں.. وحدت روئیت کا مسئلہ کافی پیچیدہ ہوتا چلا جا رہا ہے
    ان سب چیزوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ مسائل میں زیادہ گہرائی عوام وخواص کے لئے پریشانی کا باعث ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  17. بنت امجد

    بنت امجد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 6, 2013
    پیغامات:
    1,568
    جزاك اللہ خیرا
     
  18. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,483
    لوگوں نے جس چیز پر عمل کرنا ہوتا ہے وہ اختلاف میں بھی کر لیتے ہیں۔ اور جس کی نیت کام کی نہ ہو وہ ہزار بہانے تلاش کر لیتا ہے۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں