اولاد کے تعلق سے چند آیتیں اور باتیں

عبد الرحمن یحیی نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏دسمبر 8, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,317
    اولاد کون دیتا ہے

    [font="al_mushaf"]لِّلَّـهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ يَهَبُ لِمَن يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاءُ الذُّكُورَ ﴿٤٩﴾ سورة الشورى


    آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، وه جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے (49)

    [font="al_mushaf"]أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا ۖ وَيَجْعَلُ مَن يَشَاءُ عَقِيمًا ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ ﴿٥٠﴾
    [/font]

    یا انہیں جمع کردیتا ہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جسے چاہے بانجھ کر دیتا ہے، وه بڑے علم والااور کامل قدرت والا ہے (50)

    تفسیر ابن کثیر :
    اولاد کا اختیار اللہ کے پاس ہے
    فرماتا ہے کہ خالق مالک اور متصرف زمین و آسمان کا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے جو چاہے پیدا کرے اور بنائے جسے چاہے صرف لڑکیاں دے جیسے حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام ۔ اور جسے چاہے صرف لڑکے ہی عطا فرماتا ہے جیسے ابراہیم خلیل علیہ الصلوۃ والسلام ۔ اور جسے چاہے لڑکے لڑکیاں سب کچھ دیتا ہے جیسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور جسے چاہے لا ولد رکھتا ہے جیسے حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ ۔ پس یہ چار قسمیں ہوئیں ۔ لڑکیوں والے لڑکوں والے دونوں والے اور دونوں سے خالی ہاتھ ۔ وہ علیم ہے ہر مستحق کو جانتا ہے ۔ قادر ہے جس طرح چاہے تفاوت رکھتا ہے پس یہ مقام بھی مثل اس فرمان الٰہی کے ہے ۔ جو حضرت عیسیٰ کے بارے میں ہے کہ تاکہ کہ ہم اسے لوگوں کے لئے نشان بنائیں یعنی دلیل قدرت بنائیں اور دکھا دیں کہ ہم نے مخلوق کو چار طور پر پیدا کیا حضرت آدم صرف مٹی سے پیدا ہوئے نہ ماں نہ باپ۔ حضرت حوا صرف مرد سے پیدا ہوئیں باقی کل انسان مرد عورت دونوں سے سوائے حضرت عیسیٰ کے کہ وہ صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کئے گئے ۔ پس آپ کی پیدائش سے یہ چاروں قسمیں ہوگئیں ۔ پس یہ مقام ماں باپ کے بارے میں تھا اور وہ مقام اولاد کے بارے میں اس کی بھی چار قسمیں اور اسکی بھی چار قسمیں سبحان اللہ یہ ہے اس اللہ کے علم و قدرت کی نشانی ۔


    مال ودولت فتنہ ہے

    [font="al_mushaf"]وَاعْلَمُوا أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَأَنَّ اللَّـهَ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ ﴿الأنفال: ٢٨﴾
    [/font]

    اور تم اس بات کو جان رکھو کہ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد ایک امتحان کی چیز ہے۔ اور اس بات کو بھی جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس بڑا بھاری اجر ہے (28)

    تفسیراحسن البیان :
    مال اور اولاد کی محبت ہی عام طور پر انسان کو خیانت پر اور اللہ اور رسول کی اطاعت سے گریز پر مجبور کرتی ہے اس لئے ان کو فتنہ (آزمائش) قرار دیا گیا ہے، یعنی اس کے ذریعے سے انسان کی آزمائش ہوتی ہے کہ ان کی محبت میں امانت اور اطاعت کے تقاضے پورے کرتا ہے یا نہیں؟ اگر پورے کرتا ہے تو سمجھ لو کہ وہ اس آزمائش میں کامیاب ہے۔ بصورت دیگر ناکام۔ اس صورت میں یہی مال اور اولاد اس کے لئے عذاب الٰہی کا باعث بن جائیں گے۔


    [font="al_mushaf"]يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ ﴿المنافقون: ٩﴾[/font]

    اے مسلمانو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں۔ اور جو ایسا کریں وه بڑے ہی زیاں کار لوگ ہیں (9)

    تفسیر احسن البیان :
    یعنی مال اور اولاد کی محبت تم پر غالب آجائے کہ تم اللہ کے بتلائے ہوئے احکام و فرائض سے غافل ہو جاؤ اور اللہ کی قائم کردہ حلال وحرام کی حدوں کی پروا نہ کرو۔

    مال و دولت اور اولاد اللہ کے قرب اور اس کی رضا کا معیار نہیں

    [font="al_mushaf"]وَمَا أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُم بِالَّتِي تُقَرِّبُكُمْ عِندَنَا زُلْفَىٰ إِلَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوا وَهُمْ فِي الْغُرُفَاتِ آمِنُونَ ﴿سبإ: ٣٧﴾[/font]

    اور تمہارے مال اور اولاد ایسے نہیں کہ تمہیں ہمارے پاس (مرتبوں سے) قریب کردیں ہاں جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ان کے لئے ان کے اعمال کا دوہرا اجر ہے اور وه نڈر و بےخوف ہو کر بالا خانوں میں رہیں گے (37)
    تفسیر احسن البیان :
    یعنی یہ مال اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ہمیں تم سے محبت ہے اور ہماری بارگاہ میں تمہیں خاص مقام حاصل ہے۔
    یعنی ہماری محبت اور قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تو صرف ایمان اور عمل صالح ہے جس طرح حدیث میں فرمایا ' اللہ تعالیٰ تمہاری شکلیں اور تمہارے مال نہیں دیکھتا، وہ تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے (صحیح مسلم)
    بلکہ کئی کئی گنا، ایک نیکی کا اجرکم از کم دس گنا مزید سات سو گنا بلکہ اس سے زیادہ تک۔


    اھل ایمان کی دعا

    [font="al_mushaf"]وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا ﴿الفرقان: ٧٤﴾[/font]

    اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا (74)
    تفسیر احسن البیان:
    ۷٤۔۱ یعنی انھیں اپنا بھی فرماں بردار بنا اور ہمارا بھی اطاعت گزار جس سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔٧٤
    2۔ یعنی ایسا اچھا نمونہ کہ خیر میں وہ ہماری پیروی کریں۔


    رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم

    [font="al_mushaf"]وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَّحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَىٰ ﴿طه: ١٣٢﴾
    [/font]

    اپنے گھرانے کے لوگوں پرنماز کی تاکید رکھ اور خود بھی اس پر جما ره، ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے، بلکہ ہم خود تجھے روزی دیتے ہیں، آخر میں بول بالا پرہیزگاری ہی کا ہے (132)
    تفسیر احسن البیان :
    اس خطاب میں ساری امت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہے۔ یعنی مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ خود بھی نماز کی پا بندی کرے اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز کی تاکید کرتا رہے۔


    [font="al_mushaf"]سیدنا اسماعیل علیہ السلام
    [/font]

    [font="al_mushaf"]وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَّبِيًّا ﴿٥٤﴾ سورة مريم
    [/font]
    اس کتاب میں اسماعیل (علیہ السلام) کا واقعہ بھی بیان کر، وه بڑا ہی وعدے کا سچا تھا اور تھا بھی رسول اور نبی (54)


    [font="al_mushaf"]وَكَانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَكَانَ عِندَ رَبِّهِ مَرْضِيًّا ﴿٥٥﴾
    [/font]

    وه اپنے گھر والوں کو برابر نماز اور زکوٰة کاحکم دیتا تھا، اور تھا بھی اپنے پروردگار کی بارگاه میں پسندیده اور مقبول (55)
    تفسیر تیسیر القرآن :
    اصلاح کا آغاز گھر سے ہونا چاہئے :۔ اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ اصلاح اور دین کی دعوت کا آغاز اپنے بعد اپنے گھر سے کرنا چاہئے پھر بتدریج اس کا حلقہ وسیع کرتے جانا چاہئے۔ اور یہی سب پیغمبروں اور سلف صالحین کا دستور رہا ہے۔ دوسری یہ کہ نماز اور زکوٰۃ ایسے اہم ارکان اسلام ہیں۔ جن کا حکم تمام انبیاء کی شریعتوں میں موجود رہا ہے۔

    اے ایمان والو !


    [font="al_mushaf"]يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُونَ اللَّـهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ﴿التحريم: ٦﴾[/font]

    اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا لاتے ہیں (6)
    تفسیراحسن البیان:
    اس میں اہل ایمان کو ان کی ایک نہایت اہم ذمے داری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور وہ ہے اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی اصلاح اور ان کی اسلامی تعلیم وتربیت کا اہتمام تاکہ یہ سب جہنم کا ایندھن بننے سے بچ جائیں اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب بچہ سات سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اسے نماز کی تلقین کرو اور دس سال عمر کے بچوں میں نماز سے تساہل دیکھو تو انہیں سرزنش کرو سنن ابی داؤد ۔ فقہا نے کہا ہے اسی طرح روزے ان سے رکھوائے جائیں اور دیگر احکام کے اتباع کی تلقین انہیں کی جائے تاکہ جب وہ شعور کی عمر کو پہنچیں تو اس دین حق کا شعور بھی انہیں حاصل ہو چکا ہو۔ ابن کثیر ۔

    تفسیر تیسیر القرآن :

    یعنی مسلمانوں کو محض اپنی ذات کی اصلاح پر ہی اکتفا نہ کر لینا چاہیے بلکہ اہل و عیال پر بھی اتنی ہی توجہ دینا چاہیے اور اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کو بھی دین کی راہ پر چلانا چاہیے اور اس کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کرنا چاہئے۔ ڈرا کر سمجھا کر، پیار سے، دھمکی سے، مار سے جس طرح بھی بن پڑے۔ انہیں اس راہ پر لانے کی کوشش کرے۔ اس کی بہترین تفسیر وہ حدیث ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص راعی (نگہبان) ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہوگی (کہ اس نے ان کی اصلاح کیوں نہ کی تھی) امام بھی راعی ہے، اسے اپنی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔ مرد اپنے گھر والوں کا راعی ہے، اسے اپنی رعیت سے متعلق پوچھا جائے گا، عورت اپنے خاوند کے گھر کی راعی ہے، اسے اس کے متعلق پوچھا جائے گا (بخاری۔ کتاب الوصایا۔ باب قولہ تعالی من بعد وصیۃ۔۔۔) اس لحاظ سے ہر مسلمان پر یہ ذمہ داری ڈال دی گئی ہے کہ وہ اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی اصلاح کرے ورنہ اس سے باز پرس ہوگی۔


    خوش قسمت والدین

    [font="al_mushaf"]عن أبي هريرة أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال إذا مات الإنسان انقطع عنه عمله إلا من ثلاثة إلا من صدقة جارية أو علم ينتفع به أو ولد صالح يدعو له[/font]


    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب انسان مر جاتا ہے تو تین اعمال کے علاوہ تمام اعمال منقطع ہو جاتے ہیں صدقہ جاریہ یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جائے یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے۔ صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 1730 حدیث مرفوع


    خوش نصیب اولاد

    [font="al_mushaf"]وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَا أَلَتْنَاهُم مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَيْءٍ ۚ كُلُّ امْرِئٍ بِمَا كَسَبَ رَهِينٌ ﴿٢١﴾سورة الطور[/font]

    اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کی اولاد کو ان تک پہنچا دیں گے اور ان کے عمل سے ہم کچھ کم نہ کریں گے، ہر شخص اپنے اپنے اعمال کا گروی ہے (21)
    تفسیر احس البیان:
    ٢١۔١ یعنی جن کے باپ اپنے اخلاص و تقوٰی اور عمل و کردار کی بنیاد پر جنت کے اعلٰی درجوں پر فائز ہوں گے، اللہ تعالیٰ ان کی ایماندار اولاد کے بھی درجے بلند کرکے، ان کو ان کے باپوں کے ساتھ ملا دے گا یہ نہیں کرے گا کہ ان کے باپوں کے درجے کم کرکے ان کی اولاد والے کمتر درجوں میں انہیں لے آئے یعنی اہل ایمان پر دو گونہ احسان فرمائے گا۔ ایک تو باپ بیٹوں کو آپس میں ملا دے گا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں، بشرطیکہ دونوں ایماندار ہوں دوسرا یہ کہ کم درجے والوں کو اٹھا کر اونچے درجوں پر فائز فرما دے گا۔ ورنہ دونوں کے ملاپ کا یہ طریقہ بھی ہوسکتا ہے کہ اے کلاس والوں کو بی کلاس دے دے، یہ بات چونکہ اس کے فضل واحسان سے فروتر ہوگی اس لیے وہ ایسا نہیں کرے گا بلکہ بی کلاس والوں کا اے کلاس عطا فرمائے گا۔ یہ تو اللہ کا وہ احسان ہے جو اولاد پر آبا کے عملوں کی برکت سے ہوگا اور حدیث میں آتا ہے کہ اولاد کی دعا واستغفار سے آبا کے درجات میں بھی اضافہ ہوتا ہے ایک شخص کے جب جنت میں درجے بلند ہوتے ہیں تو وہ اللہ سے اس کا سبب پوچھتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تیری اولاد کی تیرے لیے دعائے مغفرت کرنے کی وجہ سے (مسند احمد) اس کی تأیید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں آتا ہے کہ جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے البتہ تین چیزوں کا ثواب موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے ایک صدقہ جاریہ دوسرا وہ علم جس سے لوگ فیض یاب ہوتے رہیں اور تیسری نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہو۔(صحیح مسلم)


    [/font]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,466
    جزک اللہ خیرا
     
  3. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    جزاک اللہ خیرا بھائی
     
  4. مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 23, 2012
    پیغامات:
    1,917
    جزاک اللہ خیر
     
  5. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,692
    جزاک اللہ خیرا
     
  6. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    جزاک اللہ خیرا یا شیخ

    اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا.

    ‎آمین یا رب العالمین‎ ‎
     
  7. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,614
    اللہ سے دعا ھے کہ سب مسلمانوں کو نیک اولاد عطا فرما۔ آمین
     
  8. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,122
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں