ابوالکلام آزاد از شورش کاشمیری (اقتباسات)

عائشہ نے 'تاریخ اسلام / اسلامی واقعات' میں ‏دسمبر 11, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    ابوالکلام آزاد
    از شورش کاشمیری​

    ۔۔۔ سلطان محمود ثانی نے دولت عثمانیہ میں جدید علوم وفنون کا آغاز کیا ، دارالخلافہ میں پریس لگایا ۔ کتب مفید کی طباعت شروع کرائی اور بعض دوسری اہم اصلاحات کے علاوہ عثمانی حرم سراؤں سے ہزار ہا لونڈیوں کو آزاد کرایا ۔ تب ہر سال سلطانی محل میں پندرہ سو کنیزیں خرید کے داخل کی جاتی تھیں ۔ سلطان محمود ن جہاں تہاں غلاموں کی منڈیا تھیں ان کو بند کرا دیا ۔ ادھر مکہ معظمہ میں ایک بڑی منڈی تھی ۔ عبدالمطلب شریف مکہ نے اس حکم کو ذرا برابر وقعت نہ دی ۔ منڈی قائم رکھی ۔ گورنر ترکی شریف کی اس ہٹ دھرمی پر بے بس تھا ۔ سلطان عبدالحمید تخت نشین ہوا تو اس نے سلطان محمود کی اصلاحات کو جاری رکھا اور مکہ سے منڈی ختم کرنے کا عہد کر لیا ۔ حامد پاشا کو گورنر بنا کر بھیجا ۔ اس نے مکہ پہنچ کر شریف کو سلطان کے احکام سے آگاہ کیا ۔ شریف نے بظاہر کوئی مخالفت نہ کی لیکن کچھ دنوں بعد مکہ و طائف کے بدوؤں سے بغاوت کرا دی ، اعلان کیا کہ سلطان نصرانی ہو گیا ہے اور اسلام کو مٹانا چاہتا ہے ۔ بغاوت فرو کر دی گئی لیکن شریف کی گرفتاری ایک پیچیدہ مسئلہ تھا ۔ کچھ عرصہ بعد شریف کو ایک جنگی جہاز دکھانے کے بہانے جدہ پہنچایا گیا ۔ وہ جہاز میں بیٹھا تو معلوم ہوا جہاز ساحل سے ہٹ رہا ہے اور وہ قیدی ہے ۔
    عبدالمطلب کے بعد اس کا بھتیجا غالب ’شریف‘ مقرر ہوا ۔ وہ بھی شبہات میں آ گیا ۔ مولانا خیرالدین سے اس کے تعلقات تھے ۔ سلطان کو پتہ چلا تو بعض شکوک و شبہات کی تصدیق و تردید میں ان سے مدد لینا چاہی ، المختصر مولانا خیرالدین کی مساعی سے عبدالمطلب کی نظربندی موقوف ہو گئی ۔۔۔۔
    مولانا خیرالدین (آزاد کے والد) نے ترکی میں رہ کر ترکی سیکھی ، پھر اس کی صرف ونحو عربی میں لکھی عربی فارسی اور ترکی کا ایک لغت تیار کرنا چاہا لیکن قاف تک پہنچ کر موقوف ہو گیا اور قونیہ چلے گئے وہاں سال بھر رہے پھر شام وغیرہ کا سفر کیا ، وہاں سے مصر آ گئے ۔ دو سال قیام کیا پھر مکہ گئے ، مکہ سے کچھ عرصے کے لیے بمبئی آئے پھر عراق کا سفر کیا ، وہاں چھ سات ماہ رہے ، اس زمانے میں شیخ عبدالرحمن نقیب الاشراف تھے ان کے مہمان ہوئے ان سے طریقہ قادریہ کی اجازت لی اور انہوں نے ان سے طریقہ نقشبندیہ کی ۔ بغداد سے پھر بمبئی لوٹ گئے ۔ کچھ دیر قیام کیا اور مکہ واپس آ گئے ۔
    یہ وہ زمانہ تھا جب شہید سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل شہید کی جماعت نے جہاد فی القرآن کے حکم و عمل سے برطانوی گورنمنٹ کے لیے خوف پیدا کر رکھا تھا اور وہ اس کے پیروؤں کو ختم کرنا چاہتی تھی ۔ انگریزوں نے مسلمانوں کی وحدت میں دراڑ لگوانے کے لیے مرزا غلام احمد کو پیدا کیا ۔ مولانا احمد رضا بریلوی عقائد کی ایک نئی اور مختلف دنیا لے کر سامنے آئے ۔ شیعہ حضرات نے سواد اعظم سے ہمیشہ کی طرح علیحدہ روش اختیار کی ۔ غرض مسلمانوں میں قرّن و حدیث کے مسائل پر ہنگامہ برپا ہو گیا ۔ چکڑالوی فرقہ انہی ضرورتوں ہی کی پیداوار تھا ۔ علما کی وہ جماعت جس نے انگریزوں سے مڈبھیڑ جاری رکھی اور سرحد کے علاقے میں جماعت مجاہدین کا نام اختیار کیا ،انگریزوں نے انہیں وہابی کا نام دے کر مارنا اور مروانا شروع کیا ۔ جس شخص کو برطانوی حکومت نے وہابی گردانا اس کو گرفتار کیا ۔ مقدمہ چلایا اور کم سے کم کالے پانی کی سزا دی ۔ ورنہ پھانسی پر لٹکوا دیا ۔ اس طرح سے سینکڑوں علماء حوالہ داروگیر ہو گئے اور بے شمار متمول خاندان تباہ کر دئیے گئے ۔
     
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    جو لوگ اس ہلاکت اور بربادی سے کسی طرح بچ گئے وہ حجاز کو دارالامن سمجھ کر وہاں چلے گئے لیکن اس زمانے میں حجاز کے علما و عوام کو محمد بن عبدالوہاب اور ان کی جماعت سے سخت عناد وتعصب تھا ۔ سلطنت عثمانیہ نے بھی سیاسی مصلحتوں کے تابع انہیں معتوب و مغضوب گردان رکھا تھا ۔

    مولانا خیرالدین نے ہندوستان کی اس وہابی جماعت کے خلاف شریف مکہ اور قسطنطینیہ کے عوام کو تیار کیا ، مولانا آزاد کے الفاظ میں فتنہ اٹھایا ، نتیجتۃ اس جماعت کے اکتیس آدمی گرفتار کر لیے گئے ، لیکن تین کے سو اسب نے تقیہ کیا اور رہا ہو گئے ۔ تین کو فی کس انتالیس کوڑے لگانے کی سزا دی گئی ۔
    ان گرفتار شدگان کے عقائد کے متعلق جو سوالنامہ مرتب کیا گیا وہ مولانا خیر الدین کا تیار کردہ تھا ۔ اس سلسلے کا عبرت انگیز پہلو یہ ہے کہ ان لوگوں کے اعزا نے ہندوستان سے جدہ آ کر برٹش قونصل سے مدد مانگی کہ ان کی رعایا پر یہ عذاب نازل ہو رہا ہے ، اس کی مداخلت سے وہ آدمی رہا کئے گئے لیکن بمبئی پہنچے تو ان کے مخالفوں نے طوفان کھڑا کر دیا کہ حرم سے مخذول و مردود ہو کر واپس آئے ہیں ، گورنمنٹ کو ان کی گرفتاری کے لیے مجبور کیا گیا لیکن کسی نہ کسی طرح وہ بچ گئے۔ قاضی سلمان دوستوں کی مدد سے بغداد چلے گئے ۔ قاضی محمد مراد کلکتہ پہنچتے ہی گرفتار کر لیے گئے ان پر وہابیت کی پاداش میں مقدمہ چلا ۔ انہیں جیل خانہ میں اتنی ازیت دی گئی کہ اس کے صدمے سے اندر ہی انتقال کر گئے ۔
    غرض مولانا خیر الدین نے وہابیوں کے لیے مکہ معظمہ میں رہنا نا ممکن کر دیا ۔ ایک عجیب اتفاق یہ تھا کہ حجاز کی حکومت اور ہندوستان کی برطانوی حکومت وہابیوں کے معاملے میں متحدالعمل تھیں ۔ اس زمانے میں مولانا خیرالدین نے وہابیت کے رد میں دس جلدوں پر مشتمل ایک کتاب لکھی لیکن اس کی دو جلدیں ہی چھپیں ۔ سلطان ترکی نے خیرالدین کو تمغہ حمیدی دیا ۔
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    حجاز میں نہر زبیدہ کو حجاج کے ہاتھوں پانی فروخت کرنے کے لالچ میں بدوؤں نے جگہ جگہ سے توڑ پھوڑ کے ویران کر دیا تھا ۔ وہ حجاج کو پانی کا مشکیزہ دو دو ریال میں فروخت کرتے اور دولت کماتے ۔ ایک سال پانی کی نایابی کے باعث ہزاروں آدمی مر گئے۔ مولان خیرالدین نے قصر سلطانی کو متوجہ کیا مگر مصر سے دولت عثمانیہ کی جنگ ہو رہی تھی کوئی شنوائی نہ ہوئی ۔ انہوں نے اپنے طور پر چندہ جمع کر کے نہر کی مرمت کا بیڑہ اٹھایا ۔ حاجی عبدالواحد اور حاجی زکریا نے دو لاکھ روپیہ دیا ، حسن اتفاق سے جدہ میں نواب کلب علی خان (رامپور) اور نواب عبدلاغنی خان ڈھاکہ موجود تھے اول الذکر سے پانچ لاکھ اور ثانی الذکر سے ایک لاکھ روپیہ لیا ۔ ہندوستان سے انجینئر بلوائے ۔ تین انگریز اور پانچ ہندوستانی آئے ۔ انگریز جدہ میں ٹھہرے ، دولت عثمانیہ کو معلوم ہوا تو اس نے بھی دو ترک انجینئر بھیج دئیے، ادھر چندہ تیز رفتاری سے جمع ہونے لگا ۔ عزیز مصر نے بھی ایک معقول رقم بھجوائی۔ ایک روایت کے مطابق کوئی ۲۹ لاکھ روپیہ جمع ہو گیا۔ کوئی سات آٹھ لاکھ روپیہ خرچ ہو چکا تو معلوم ہوا باقی رقم شریف مکہ نے ہضم کر لی ہے، نتیجۃ نہر کی درستگی دیر پا نہ ہو سکی، مولانا خیرالدین کو دوبارہ تمغہ حمیدی ملا۔ اس فنڈ کی روداد مولانا خیرالدین نے بمبئی سے چھپوا کر دولت عثمانیہ میں تقسیم کرائی تو شریف مکہ مخالف ہو گیا ۔ وہ انہیں کسی آزار میں پھانسنا چاہتا تھا لیکن قسمت نے اس سے پہلے ہی اس کی زندگی ختم کر دی اور وہ اچانک وفات پا گیا ۔
    مولانا نذیر حسین ہندوستان میں اہل حدیث کے سب سے بڑے لیڈر تھے وہ دہلی میں اسی برس تک حدیث کا درس دیتے رہے ۔ انہوں نے حج کا ارادہ کیا تو برٹش قونصل کے نام اس مطلب کا سفارشی خط لے گئے کہ اہل حدیث سے بغض و عناد کی جو آگ حجاز میں بھڑکی ہوئی ہے مبادا ان کے لیے کسی مصیبت کا پیش خیمہ ہو۔۔۔ مولانا خیرالدین نے ان کی آمد پر ہم خیال علماء کو ساتھ ملا کر ہنگامہ برپا کر دیا۔ ان کے کفر میں ایک فتوی جاری کرایا۔ نتیجۃ مولانا نذیر حسین اور مولانا تلطف حسین عظیم آبادی گرفتار کر لیے گئے اور انہیں ایک تنگ و تاریک قید خانے میں ڈال دیا گیا۔ دوسرے دن شریف مکہ نے انہیں طلب کیا اور جرم بتایا کہ انہیں وہابی عقائد کی بنا پر قید کیا گیا ہے۔ مولانا خیرالدین نے وکیل استغاثہ کے فرائض انجام دئیے اور ان کے اصل عقائد کو عقائد وہابیہ سے تعبیر کیا۔ مولانا نذیر حسین اور مولانا تلطف حسین کو تو اس مصیبت سے نجات ہو گئی لیکن جو فتنہ ان کے خلاف کھڑا کیا گیا تھا وہ ہندوستان میں الٹا کر پھیلایا گیا کہ ’’ انہوں نے وہابیت سے توبہ کر لی ہے ‘‘۔ مولانا آزاد ؒ نے اپنی کہانی میں جو تفصیلات بیان کی ہیں اس میں والد کے مقابلے میں حق گوئی کی طرفداری کرتے ہوئے اس کہانی کو غلط قرار دیا اور جو کچھ ان کے خلاف ہو ا اس کو ’’فتنہ‘‘ کی شاخیں بیان کیا ہے ۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں