صحیح بخاری

نعیم یونس نے 'حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون' میں ‏جنوری 12, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    پیغامات:
    7,923
    صحیح بخاری- اردو ترجمہ مولانا محمد داؤد راز رحمہ اللہ​



    کتاب الوحی​


    باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء کیسے ہوئی (حدیث نیت کی درستگی کے بارے میں) ​

    وقول الله جل ذكره ‏ {‏ إنا أوحينا إليك كما أوحينا إلى نوح والنبيين من بعده‏}‏‏.‏
    اور اللہ عزوجل کا یہ فرمان کہ ’’ ہم نے بلاشبہ (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کی طرف وحی کا نزول اسی طرح کیا ہے جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد آنے والے تمام نبیوں کی طرف کیا تھا ‘‘۔


    حدیث نمبر: 1
    حدثنا الحميدي عبد الله بن الزبير،‏‏‏‏ قال حدثنا سفيان،‏‏‏‏ قال حدثنا يحيى بن سعيد الأنصاري،‏‏‏‏ قال أخبرني محمد بن إبراهيم التيمي،‏‏‏‏ أنه سمع علقمة بن وقاص الليثي،‏‏‏‏ يقول سمعت عمر بن الخطاب ـ رضى الله عنه ـ على المنبر قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ‏"‏ إنما الأعمال بالنيات،‏‏‏‏ وإنما لكل امرئ ما نوى،‏‏‏‏ فمن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها أو إلى امرأة ينكحها فهجرته إلى ما هاجر إليه ‏"‏‏.‏

    ہم کو حمیدی نے یہ حدیث بیان کی، انھوں نے کہا کہ ہم کو سفیان نے یہ حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں ہم کو یحییٰ بن سعید انصاری نے یہ حدیث بیان کی، انھوں نے کہا کہ مجھے یہ حدیث محمد بن ابراہیم تیمی سے حاصل ہوئی۔ انھوں نے اس حدیث کو علقمہ بن وقاص لیثی سے سنا، ان کا بیان ہے کہ میں نے مسجدنبوی میں منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی زبان سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا۔ پس جس کی ہجرت (ترک وطن) دولت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے شادی کی غرض ہو۔ پس اس کی ہجرت ان ہی چیزوں کے لیے ہو گی جن کے حاصل کرنے کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہے۔

    باب: (کیفیت وحی) ​

    حدیث نمبر: 2
    حدثنا عبد الله بن يوسف،‏‏‏‏ قال أخبرنا مالك،‏‏‏‏ عن هشام بن عروة،‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ عن عائشة أم المؤمنين ـ رضى الله عنها ـ أن الحارث بن هشام ـ رضى الله عنه ـ سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله كيف يأتيك الوحى فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أحيانا يأتيني مثل صلصلة الجرس ـ وهو أشده على ـ فيفصم عني وقد وعيت عنه ما قال،‏‏‏‏ وأحيانا يتمثل لي الملك رجلا فيكلمني فأعي ما يقول ‏"‏‏.‏ قالت عائشة رضى الله عنها ولقد رأيته ينزل عليه الوحى في اليوم الشديد البرد،‏‏‏‏ فيفصم عنه وإن جبينه ليتفصد عرقا‏.

    ہم کو عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی، ان کو مالک نے ہشام بن عروہ کی روایت سے خبر دی، انھوں نے اپنے والد سے نقل کی، انھوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی آپ نے فرمایا کہ ایک شخص حارث بن ہشام نامی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ یا رسول اللہ! آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وحی نازل ہوتے وقت کبھی مجھ کو گھنٹی کی سی آواز محسوس ہوتی ہے اور وحی کی یہ کیفیت مجھ پر بہت شاق گذرتی ہے۔ جب یہ کیفیت ختم ہوتی ہے تو میرے دل و دماغ پر اس (فرشتے) کے ذریعہ نازل شدہ وحی محفوظ ہو جاتی ہے اور کسی وقت ایسا ہوتا ہے کہ فرشتہ بشکل انسان میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے۔ پس میں اس کا کہا ہوا یاد رکھ لیتا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے سخت کڑاکے کی سردی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی اور جب اس کا سلسلہ موقوف ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پسینے سے شرابور تھی۔

     
  2. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    پیغامات:
    7,923
    باب: (وحی کی ابتداء ) ​

    حدیث نمبر 3:
    حدثنا يحيى بن بكير،‏‏‏‏ قال حدثنا الليث،‏‏‏‏ عن عقيل،‏‏‏‏ عن ابن شهاب،‏‏‏‏ عن عروة بن الزبير،‏‏‏‏ عن عائشة أم المؤمنين،‏‏‏‏ أنها قالت أول ما بدئ به رسول الله صلى الله عليه وسلم من الوحى الرؤيا الصالحة في النوم،‏‏‏‏ فكان لا يرى رؤيا إلا جاءت مثل فلق الصبح،‏‏‏‏ ثم حبب إليه الخلاء،‏‏‏‏ وكان يخلو بغار حراء فيتحنث فيه ـ وهو التعبد ـ الليالي ذوات العدد قبل أن ينزع إلى أهله،‏‏‏‏ ويتزود لذلك،‏‏‏‏ ثم يرجع إلى خديجة،‏‏‏‏ فيتزود لمثلها،‏‏‏‏ حتى جاءه الحق وهو في غار حراء،‏‏‏‏ فجاءه الملك فقال اقرأ‏.‏ قال ‏"‏ ما أنا بقارئ ‏"‏‏.‏ قال ‏"‏ فأخذني فغطني حتى بلغ مني الجهد،‏‏‏‏ ثم أرسلني فقال اقرأ‏.‏ قلت ما أنا بقارئ‏.‏ فأخذني فغطني الثانية حتى بلغ مني الجهد،‏‏‏‏ ثم أرسلني فقال اقرأ‏.‏ فقلت ما أنا بقارئ‏.‏ فأخذني فغطني الثالثة،‏‏‏‏ ثم أرسلني فقال ‏ {‏ اقرأ باسم ربك الذي خلق * خلق الإنسان من علق * اقرأ وربك الأكرم‏}‏ ‏"‏‏.‏ فرجع بها رسول الله صلى الله عليه وسلم يرجف فؤاده،‏‏‏‏ فدخل على خديجة بنت خويلد رضى الله عنها فقال ‏"‏ زملوني زملوني ‏"‏‏.‏ فزملوه حتى ذهب عنه الروع،‏‏‏‏ فقال لخديجة وأخبرها الخبر ‏"‏ لقد خشيت على نفسي ‏"‏‏.‏ فقالت خديجة كلا والله ما يخزيك الله أبدا،‏‏‏‏ إنك لتصل الرحم،‏‏‏‏ وتحمل الكل،‏‏‏‏ وتكسب المعدوم،‏‏‏‏ وتقري الضيف،‏‏‏‏ وتعين على نوائب الحق‏.‏ فانطلقت به خديجة حتى أتت به ورقة بن نوفل بن أسد بن عبد العزى ابن عم خديجة ـ وكان امرأ تنصر في الجاهلية،‏‏‏‏ وكان يكتب الكتاب العبراني،‏‏‏‏ فيكتب من الإنجيل بالعبرانية ما شاء الله أن يكتب،‏‏‏‏ وكان شيخا كبيرا قد عمي ـ فقالت له خديجة يا ابن عم اسمع من ابن أخيك‏.‏ فقال له ورقة يا ابن أخي ماذا ترى فأخبره رسول الله صلى الله عليه وسلم خبر ما رأى‏.‏ فقال له ورقة هذا الناموس الذي نزل الله على موسى صلى الله عليه وسلم يا ليتني فيها جذعا،‏‏‏‏ ليتني أكون حيا إذ يخرجك قومك‏.‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أومخرجي هم ‏"‏‏.‏ قال نعم،‏‏‏‏ لم يأت رجل قط بمثل ما جئت به إلا عودي،‏‏‏‏ وإن يدركني يومك أنصرك نصرا مؤزرا‏.‏ ثم لم ينشب ورقة أن توفي وفتر الوحى‏.‏

    ہم کو یحییٰ بن بکیر نے یہ حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی ہم کو لیث نے خبر دی، لیث عقیل سے روایت کرتے ہیں۔ عقیل ابن شہاب سے، وہ عروہ بن زبیر سے، وہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے بتلایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا ابتدائی دور اچھے سچے پاکیزہ خوابوں سے شروع ہوا۔ آپ خواب میں جو کچھ دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح صحیح اور سچا ثابت ہوتا۔ پھر من جانب قدرت آپ تنہائی پسند ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار حرا میں خلوت نشینی اختیار فرمائی اور کئی کئی دن اور رات وہاں مسلسل عبادت اور یاد الٰہی و ذکرو فکر میں مشغول رہتے۔ جب تک گھر آنے کو دل نہ چاہتا توشہ ہمراہ لیے ہوئے وہاں رہتے۔ توشہ ختم ہونے پر ہی اہلیہ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لاتے اور کچھ توشہ ہمراہ لے کر پھر وہاں جا کر خلوت گزیں ہو جاتے، یہی طریقہ جاری رہا یہاں تک کہ آپ پر حق منکشف ہو گیا اور آپ غار حرا ہی میں قیام پذیر تھے کہ اچانک حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ اے محمد! پڑھو آپ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ فرشتے نے مجھے پکڑ کر اتنے زور سے بھینچا کہ میری طاقت جواب دے گئی، پھر مجھے چھوڑ کر کہا کہ پڑھو، میں نے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس فرشتے نے مجھ کو نہایت ہی زور سے بھینچا کہ مجھ کو سخت تکلیف محسوس ہوئی، پھر اس نے کہا کہ پڑھ! میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ فرشتے نے تیسری بار مجھ کو پکڑا اور تیسری مرتبہ پھر مجھ کو بھینچا پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہنے لگا کہ پڑھو اپنے رب کے نام کی مدد سے جس نے پیدا کیا اور انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا، پڑھو اور آپ کا رب بہت ہی مہربانیاں کرنے والا ہے۔ پس یہی آیتیں آپ حضرت جبرائیل علیہ السلام سے سن کر اس حال میں غار حرا سے واپس ہوئے کہ آپ کا دل اس انوکھے واقعہ سے کانپ رہا تھا۔ آپ حضرت خدیجہ کے ہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے کمبل اڑھا دو، مجھے کمبل اڑھا دو۔ لوگوں نے آپ کو کمبل اڑھا دیا۔ جب آپ کا ڈر جاتا رہا۔ تو آپ نے اپنی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو تفصیل کے ساتھ یہ واقعہ سنایا اور فرمانے لگے کہ مجھ کو اب اپنی جان کا خوف ہو گیا ہے۔ آپ کی اہلیہ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کی ڈھارس بندھائی اور کہا کہ آپ کا خیال صحیح نہیں ہے۔ خدا کی قسم آپ کو اللہ کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپ تو اخلاق فاضلہ کے مالک ہیں، آپ تو کنبہ پرور ہیں، بے کسوں کا بوجھ اپنے سر پر رکھ لیتے ہیں، مفلسوں کے لیے آپ کماتے ہیں، مہمان نوازی میں آپ بےمثال ہیں اور مشکل وقت میں آپ امر حق کا ساتھ دیتے ہیں۔ ایسے اوصاف حسنہ والا انسان یوں بے وقت ذلت و خواری کی موت نہیں پا سکتا۔ پھر مزید تسلی کے لیے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، جو ان کے چچا زاد بھائی تھے اور زمانہ جاہلیت میں نصرانی مذہب اختیار کر چکے تھے اور عبرانی زبان کے کاتب تھے، چنانچہ انجیل کو بھی حسب منشائے خداوندی عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے۔ (انجیل سریانی زبان میں نازل ہوئی تھی پھر اس کا ترجمہ عبرانی زبان میں ہوا۔ ورقہ اسی کو لکھتے تھے) وہ بہت بوڑھے ہو گئے تھے یہاں تک کہ ان کی بینائی بھی رخصت ہو چکی تھی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان کے سامنے آپ کے حالات بیان کیے اور کہا کہ اے چچا زاد بھائی! اپنے بھتیجے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کی زبانی ذرا ان کی کیفیت سن لیجیئے وہ بولے کہ بھتیجے آپ نے جو کچھ دیکھا ہے، اس کی تفصیل سناؤ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے از اول تا آخر پورا واقعہ سنایا، جسے سن کر ورقہ بے اختیار ہو کر بول اٹھے کہ یہ تو وہی ناموس (معزز راز دان فرشتہ) ہے جسے اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی دے کر بھیجا تھا۔ کاش، میں آپ کے اس عہد نبوت کے شروع ہونے پر جوان عمر ہوتا۔ کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا جب کہ آپ کی قوم آپ کو اس شہر سے نکال دے گی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر تعجب سے پوچھا کہ کیا وہ لوگ مجھ کو نکال دیں گے؟ (حالانکہ میں تو ان میں صادق و امین و مقبول ہوں) ورقہ بولا ہاں یہ سب کچھ سچ ہے۔ مگر جو شخص بھی آپ کی طرح امر حق لے کر آیا لوگ اس کے دشمن ہی ہو گئے ہیں۔ اگر مجھے آپ کی نبوت کا وہ زمانہ مل جائے تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا۔ مگر ورقہ کچھ دنوں کے بعد انتقال کر گئے۔ پھر کچھ عرصہ تک وحی کی آمد موقوف رہی۔

    حدیث نمبر 4:
    قال ابن شهاب وأخبرني أبو سلمة بن عبد الرحمن،‏‏‏‏ أن جابر بن عبد الله الأنصاري،‏‏‏‏ قال ـ وهو يحدث عن فترة الوحى،‏‏‏‏ فقال ـ في حديثه ‏"‏ بينا أنا أمشي،‏‏‏‏ إذ سمعت صوتا،‏‏‏‏ من السماء،‏‏‏‏ فرفعت بصري فإذا الملك الذي جاءني بحراء جالس على كرسي بين السماء والأرض،‏‏‏‏ فرعبت منه،‏‏‏‏ فرجعت فقلت زملوني‏.‏ فأنزل الله تعالى ‏ {‏ يا أيها المدثر * قم فأنذر‏}‏ إلى قوله ‏ {‏ والرجز فاهجر‏}‏ فحمي الوحى وتتابع ‏"‏‏.‏ تابعه عبد الله بن يوسف وأبو صالح‏.‏ وتابعه هلال بن رداد عن الزهري‏.‏ وقال يونس ومعمر ‏"‏ بوادره ‏"‏‏.

    ابن شہاب کہتے ہیں مجھ کو ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے یہ روایت نقل کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کے زمانے کے حالات بیان فرماتے ہوئے کہا کہ ایک روز میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان کی طرف ایک آواز سنی اور میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے بیچ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں اس سے ڈر گیا اور گھر آنے پر میں نے پھر کمبل اوڑھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس وقت اللہ پاک کی طرف سے یہ آیات نازل ہوئیں۔ اے لحاف اوڑھ کر لیٹنے والے! اٹھ کھڑا ہو اور لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھ اور گندگی سے دور رہ۔ اس کے بعد وحی تیزی کے ساتھ پے در پے آنے لگی۔ اس حدیث کو یحییٰ بن بکیر کے علاوہ لیث بن سعد سے عبداللہ بن یوسف اور ابوصالح نے بھی روایت کیا ہے۔ اور عقیل کے علاوہ زہری سے ہلال بن رواد نے بھی روایت کیا ہے۔ یونس اور معمر نے اپنی روایت میں لفظ ”فوادہ“ کی جگہ ”بوادرہ“ نقل کیا ہے۔
     
  3. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    پیغامات:
    7,923


    باب: (وحی کی علامات، وحی کا محفوظ کرنا) ​

    حدیث نمبر 5:
    حدثنا موسى بن إسماعيل،‏‏‏‏ قال حدثنا أبو عوانة،‏‏‏‏ قال حدثنا موسى بن أبي عائشة،‏‏‏‏ قال حدثنا سعيد بن جبير،‏‏‏‏ عن ابن عباس،‏‏‏‏ في قوله تعالى ‏ {‏ لا تحرك به لسانك لتعجل به‏}‏ قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعالج من التنزيل شدة،‏‏‏‏ وكان مما يحرك شفتيه ـ فقال ابن عباس فأنا أحركهما لكم كما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحركهما‏.‏ وقال سعيد أنا أحركهما كما رأيت ابن عباس يحركهما‏.‏ فحرك شفتيه ـ فأنزل الله تعالى ‏ {‏ لا تحرك به لسانك لتعجل به* إن علينا جمعه وقرآنه‏}‏ قال جمعه له في صدرك،‏‏‏‏ وتقرأه ‏ {‏ فإذا قرأناه فاتبع قرآنه‏}‏ قال فاستمع له وأنصت ‏ {‏ ثم إن علينا بيانه‏}‏ ثم إن علينا أن تقرأه‏.‏ فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد ذلك إذا أتاه جبريل استمع،‏‏‏‏ فإذا انطلق جبريل قرأه النبي صلى الله عليه وسلم كما قرأه‏.

    موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے حدیث بیان کی، ان کو ابوعوانہ نے خبر دی، ان سے موسیٰ ابن ابی عائشہ نے بیان کی، ان سے سعید بن جبیر نے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کلام الٰہی لا تحرک الخ کی تفسیر کے سلسلہ میں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نزول قرآن کے وقت بہت سختی محسوس فرمایا کرتے تھے اور اس کی (علامتوں) میں سے ایک یہ تھی کہ یاد کرنے کے لیے آپ اپنے ہونٹوں کو ہلاتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا میں اپنے ہونٹ ہلاتا ہوں جس طرح آپ ہلاتے تھے۔ سعید کہتے ہیں میں بھی اپنے ہونٹ ہلاتا ہوں جس طرح ابن عباس رضی اللہ عنہما کو میں نے ہلاتے دیکھا۔ پھر انھوں نے اپنے ہونٹ ہلائے۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا) پھر یہ آیت اتری کہ اے محمد! قرآن کو جلد جلد یاد کرنے کے لیے اپنی زبان نہ ہلاؤ۔ اس کا جمع کر دینا اور پڑھا دینا ہمارا ذمہ ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں یعنی قرآن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جما دینا اور پڑھا دینا ہمارے ذمہ ہے۔ پھر جب ہم پڑھ چکیں تو اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں (اس کا مطلب یہ ہے) کہ آپ اس کو خاموشی کے ساتھ سنتے رہو۔ اس کے بعد مطلب سمجھا دینا ہمارے ذمہ ہے۔ پھر یقیناً یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ آپ اس کو پڑھو (یعنی اس کو محفوظ کر سکو) چنانچہ اس کے بعد جب آپ کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام (وحی لے کر) آتے تو آپ (توجہ سے) سنتے۔ جب وہ چلے جاتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس (وحی) کو اسی طرح پڑھتے جس طرح حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اسے پڑھا تھا۔

    باب: (رمضان المبارک میں جبرائیل علیہ السلام کا وحی لانا) ​

    حدیث نمبر 6:
    حدثنا عبدان،‏‏‏‏ قال أخبرنا عبد الله،‏‏‏‏ قال أخبرنا يونس،‏‏‏‏ عن الزهري،‏‏‏‏ ح وحدثنا بشر بن محمد،‏‏‏‏ قال أخبرنا عبد الله،‏‏‏‏ قال أخبرنا يونس،‏‏‏‏ ومعمر،‏‏‏‏ عن الزهري،‏‏‏‏ نحوه قال أخبرني عبيد الله بن عبد الله،‏‏‏‏ عن ابن عباس،‏‏‏‏ قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أجود الناس،‏‏‏‏ وكان أجود ما يكون في رمضان حين يلقاه جبريل،‏‏‏‏ وكان يلقاه في كل ليلة من رمضان فيدارسه القرآن،‏‏‏‏ فلرسول الله صلى الله عليه وسلم أجود بالخير من الريح المرسلة‏.

    ہم کو عبدان نے حدیث بیان کی، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، ان کو یونس نے، انھوں نے زہری سے یہ حدیث سنی۔ (دوسری سند یہ ہے کہ) ہم سے بشر بن محمد نے یہ حدیث بیان کی۔ ان سے عبداللہ بن مبارک نے، ان سے یونس اور معمر دونوں نے، ان دونوں نے زہری سے روایت کی پہلی سند کے مطابق زہری سے عبیداللہ بن عبداللہ نے، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ روایت نقل کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ جواد (سخی) تھے اور رمضان میں (دوسرے اوقات کے مقابلہ میں جب) جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے بہت ہی زیادہ جود و کرم فرماتے۔ جبرائیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کا دورہ کرتے، غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بھلائی پہنچانے میں بارش لانے والی ہوا سے بھی زیادہ جود و کرم فرمایا کرتے تھے۔
     
  4. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    پیغامات:
    7,923


    باب: (ابوسفیان اور ہرقل کا مقالمہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہرقل کو خط مبارک)​

    حدیث نمبر 7:
    حدثنا أبو اليمان الحكم بن نافع،‏‏‏‏ قال أخبرنا شعيب،‏‏‏‏ عن الزهري،‏‏‏‏ قال أخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود،‏‏‏‏ أن عبد الله بن عباس،‏‏‏‏ أخبره أن أبا سفيان بن حرب أخبره أن هرقل أرسل إليه في ركب من قريش ـ وكانوا تجارا بالشأم ـ في المدة التي كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ماد فيها أبا سفيان وكفار قريش،‏‏‏‏ فأتوه وهم بإيلياء فدعاهم في مجلسه،‏‏‏‏ وحوله عظماء الروم ثم دعاهم ودعا بترجمانه فقال أيكم أقرب نسبا بهذا الرجل الذي يزعم أنه نبي فقال أبو سفيان فقلت أنا أقربهم نسبا‏.‏ فقال أدنوه مني،‏‏‏‏ وقربوا أصحابه،‏‏‏‏ فاجعلوهم عند ظهره‏.‏ ثم قال لترجمانه قل لهم إني سائل هذا عن هذا الرجل،‏‏‏‏ فإن كذبني فكذبوه‏.‏ فوالله لولا الحياء من أن يأثروا على كذبا لكذبت عنه،‏‏‏‏ ثم كان أول ما سألني عنه أن قال كيف نسبه فيكم قلت هو فينا ذو نسب‏.‏ قال فهل قال هذا القول منكم أحد قط قبله قلت لا‏.‏ قال فهل كان من آبائه من ملك قلت لا‏.‏ قال فأشراف الناس يتبعونه أم ضعفاؤهم فقلت بل ضعفاؤهم‏.‏ قال أيزيدون أم ينقصون قلت بل يزيدون‏.‏ قال فهل يرتد أحد منهم سخطة لدينه بعد أن يدخل فيه قلت لا‏.‏ قال فهل كنتم تتهمونه بالكذب قبل أن يقول ما قال قلت لا‏.‏ قال فهل يغدر قلت لا،‏‏‏‏ ونحن منه في مدة لا ندري ما هو فاعل فيها‏.‏ قال ولم تمكني كلمة أدخل فيها شيئا غير هذه الكلمة‏.‏ قال فهل قاتلتموه قلت نعم‏.‏ قال فكيف كان قتالكم إياه قلت الحرب بيننا وبينه سجال،‏‏‏‏ ينال منا وننال منه‏.‏ قال ماذا يأمركم قلت يقول اعبدوا الله وحده،‏‏‏‏ ولا تشركوا به شيئا،‏‏‏‏ واتركوا ما يقول آباؤكم،‏‏‏‏ ويأمرنا بالصلاة والصدق والعفاف والصلة‏.‏ فقال للترجمان قل له سألتك عن نسبه،‏‏‏‏ فذكرت أنه فيكم ذو نسب،‏‏‏‏ فكذلك الرسل تبعث في نسب قومها،‏‏‏‏ وسألتك هل قال أحد منكم هذا القول فذكرت أن لا،‏‏‏‏ فقلت لو كان أحد قال هذا القول قبله لقلت رجل يأتسي بقول قيل قبله،‏‏‏‏ وسألتك هل كان من آبائه من ملك فذكرت أن لا،‏‏‏‏ قلت فلو كان من آبائه من ملك قلت رجل يطلب ملك أبيه،‏‏‏‏ وسألتك هل كنتم تتهمونه بالكذب قبل أن يقول ما قال فذكرت أن لا،‏‏‏‏ فقد أعرف أنه لم يكن ليذر الكذب على الناس ويكذب على الله،‏‏‏‏ وسألتك أشراف الناس اتبعوه أم ضعفاؤهم فذكرت أن ضعفاءهم اتبعوه،‏‏‏‏ وهم أتباع الرسل،‏‏‏‏ وسألتك أيزيدون أم ينقصون فذكرت أنهم يزيدون،‏‏‏‏ وكذلك أمر الإيمان حتى يتم،‏‏‏‏ وسألتك أيرتد أحد سخطة لدينه بعد أن يدخل فيه فذكرت أن لا،‏‏‏‏ وكذلك الإيمان حين تخالط بشاشته القلوب،‏‏‏‏ وسألتك هل يغدر فذكرت أن لا،‏‏‏‏ وكذلك الرسل لا تغدر،‏‏‏‏ وسألتك بما يأمركم،‏‏‏‏ فذكرت أنه يأمركم أن تعبدوا الله،‏‏‏‏ ولا تشركوا به شيئا،‏‏‏‏ وينهاكم عن عبادة الأوثان،‏‏‏‏ ويأمركم بالصلاة والصدق والعفاف‏.‏ فإن كان ما تقول حقا فسيملك موضع قدمى هاتين،‏‏‏‏ وقد كنت أعلم أنه خارج،‏‏‏‏ لم أكن أظن أنه منكم،‏‏‏‏ فلو أني أعلم أني أخلص إليه لتجشمت لقاءه،‏‏‏‏ ولو كنت عنده لغسلت عن قدمه‏.‏ ثم دعا بكتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي بعث به دحية إلى عظيم بصرى،‏‏‏‏ فدفعه إلى هرقل فقرأه فإذا فيه بسم الله الرحمن الرحيم‏.‏ من محمد عبد الله ورسوله إلى هرقل عظيم الروم‏.‏ سلام على من اتبع الهدى،‏‏‏‏ أما بعد فإني أدعوك بدعاية الإسلام،‏‏‏‏ أسلم تسلم،‏‏‏‏ يؤتك الله أجرك مرتين،‏‏‏‏ فإن توليت فإن عليك إثم الأريسيين و‏ {‏ يا أهل الكتاب تعالوا إلى كلمة سواء بيننا وبينكم أن لا نعبد إلا الله ولا نشرك به شيئا ولا يتخذ بعضنا بعضا أربابا من دون الله فإن تولوا فقولوا اشهدوا بأنا مسلمون‏}‏ قال أبو سفيان فلما قال ما قال،‏‏‏‏ وفرغ من قراءة الكتاب كثر عنده الصخب،‏‏‏‏ وارتفعت الأصوات وأخرجنا،‏‏‏‏ فقلت لأصحابي حين أخرجنا لقد أمر أمر ابن أبي كبشة،‏‏‏‏ إنه يخافه ملك بني الأصفر‏.‏ فما زلت موقنا أنه سيظهر حتى أدخل الله على الإسلام‏.‏ وكان ابن الناظور صاحب إيلياء وهرقل سقفا على نصارى الشأم،‏‏‏‏ يحدث أن هرقل حين قدم إيلياء أصبح يوما خبيث النفس،‏‏‏‏ فقال بعض بطارقته قد استنكرنا هيئتك‏.‏ قال ابن الناظور وكان هرقل حزاء ينظر في النجوم،‏‏‏‏ فقال لهم حين سألوه إني رأيت الليلة حين نظرت في النجوم ملك الختان قد ظهر،‏‏‏‏ فمن يختتن من هذه الأمة قالوا ليس يختتن إلا اليهود فلا يهمنك شأنهم واكتب إلى مداين ملكك،‏‏‏‏ فيقتلوا من فيهم من اليهود‏.‏ فبينما هم على أمرهم أتي هرقل برجل أرسل به ملك غسان،‏‏‏‏ يخبر عن خبر رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما استخبره هرقل قال اذهبوا فانظروا أمختتن هو أم لا‏.‏ فنظروا إليه،‏‏‏‏ فحدثوه أنه مختتن،‏‏‏‏ وسأله عن العرب فقال هم يختتنون‏.‏ فقال هرقل هذا ملك هذه الأمة قد ظهر‏.‏ ثم كتب هرقل إلى صاحب له برومية،‏‏‏‏ وكان نظيره في العلم،‏‏‏‏ وسار هرقل إلى حمص،‏‏‏‏ فلم يرم حمص حتى أتاه كتاب من صاحبه يوافق رأى هرقل على خروج النبي صلى الله عليه وسلم وأنه نبي،‏‏‏‏ فأذن هرقل لعظماء الروم في دسكرة له بحمص ثم أمر بأبوابها فغلقت،‏‏‏‏ ثم اطلع فقال يا معشر الروم،‏‏‏‏ هل لكم في الفلاح والرشد وأن يثبت ملككم فتبايعوا هذا النبي،‏‏‏‏ فحاصوا حيصة حمر الوحش إلى الأبواب،‏‏‏‏ فوجدوها قد غلقت،‏‏‏‏ فلما رأى هرقل نفرتهم،‏‏‏‏ وأيس من الإيمان قال ردوهم على‏.‏ وقال إني قلت مقالتي آنفا أختبر بها شدتكم على دينكم،‏‏‏‏ فقد رأيت‏.‏ فسجدوا له ورضوا عنه،‏‏‏‏ فكان ذلك آخر شأن هرقل‏.‏ رواه صالح بن كيسان ويونس ومعمر عن الزهري‏.

    ہم کو ابوالیمان حکم بن نافع نے حدیث بیان کی، انہیں اس حدیث کی شعیب نے خبر دی۔ انھوں نے زہری سے یہ حدیث سنی۔ انہیں عبیداللہ ابن عبداللہ ابن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ عبداللہ بن عباس سے ابوسفیان بن حرب نے یہ واقعہ بیان کیا کہ ہرقل (شاہ روم) نے ان کے پاس قریش کے قافلے میں ایک آدمی بلانے کو بھیجا اور اس وقت یہ لوگ تجارت کے لیے ملک شام گئے ہوئے تھے اور یہ وہ زمانہ تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور ابوسفیان سے ایک وقتی عہد کیا ہوا تھا۔ جب ابوسفیان اور دوسرے لوگ ہرقل کے پاس ایلیاء پہنچے جہاں ہرقل نے دربار طلب کیا تھا۔ اس کے گرد روم کے بڑے بڑے لوگ (علماء وزراء امراء ) بیٹھے ہوئے تھے۔ ہرقل نے ان کو اور اپنے ترجمان کو بلوایا۔ پھر ان سے پوچھا کہ تم میں سے کون شخص مدعی رسالت کا زیادہ قریبی عزیز ہے؟ ابوسفیان کہتے ہیں کہ میں بول اٹھا کہ میں اس کا سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہوں۔ (یہ سن کر) ہرقل نے حکم دیا کہ اس کو (ابوسفیان کو) میرے قریب لا کر بٹھاؤ اور اس کے ساتھیوں کو اس کی پیٹھ کے پیچھے بٹھا دو۔ پھر اپنے ترجمان سے کہا کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں ابوسفیان سے اس شخص کے (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے) حالات پوچھتا ہوں۔ اگر یہ مجھ سے کسی بات میں جھوٹ بول دے تو تم اس کا جھوٹ ظاہر کر دینا، ابوسفیان کا قول ہے کہ) خدا کی قسم! اگر مجھے یہ غیرت نہ آتی کہ یہ لوگ مجھ کو جھٹلائیں گے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ضرور غلط گوئی سے کام لیتا۔ خیر پہلی بات جو ہرقل نے مجھ سے پوچھی وہ یہ کہ اس شخص کا خاندان تم لوگوں میں کیسا ہے؟ میں نے کہا وہ تو بڑے اونچے عالی نسب والے ہیں۔ کہنے لگا اس سے پہلے بھی کسی نے تم لوگوں میں ایسی بات کہی تھی؟ میں نے کہا نہیں کہنے لگا، اچھا اس کے بڑوں میں کوئی بادشاہ ہوا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ پھر اس نے کہا، بڑے لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ہے یا کمزوروں نے؟ میں نے کہا نہیں کمزوروں نے۔ پھر کہنے لگا، اس کے تابعدار روز بڑھتے جاتے ہیں یا کوئی ساتھی پھر بھی جاتا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ کہنے لگا کہ کیا اپنے اس دعوائے (نبوت) سے پہلے کبھی (کسی بھی موقع پر) اس نے جھوٹ بولا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ اور اب ہماری اس سے (صلح کی) ایک مقررہ مدت ٹھہری ہوئی ہے۔ معلوم نہیں وہ اس میں کیا کرنے والا ہے۔ (ابوسفیان کہتے ہیں) میں اس بات کے سوا اور کوئی (جھوٹ) اس گفتگو میں شامل نہ کر سکا۔ ہرقل نے کہا کیا تمہاری اس سے کبھی لڑائی بھی ہوتی ہے؟ ہم نے کہا کہ ہاں۔ بولا پھر تمہاری اور اس کی جنگ کا کیا حال ہوتا ہے؟ میں نے کہا، لڑائی ڈول کی طرح ہے، کبھی وہ ہم سے (میدان جنگ) جیت لیتے ہیں اور کبھی ہم ان سے جیت لیتے ہیں۔ ہرقل نے پوچھا۔ وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتا ہے؟ میں نے کہا وہ کہتا ہے کہ صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کا کسی کو شریک نہ بناؤ اور اپنے باپ دادا کی (شرک کی) باتیں چھوڑ دو اور ہمیں نماز پڑھنے، سچ بولنے، پرہیزگاری اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ (یہ سب سن کر) پھر ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا کہ ابوسفیان سے کہہ دے کہ میں نے تم سے اس کا نسب پوچھا تو تم نے کہا کہ وہ ہم میں عالی نسب ہے اور پیغمبر اپنی قوم میں عالی نسب ہی بھیجے جایا کرتے ہیں۔ میں نے تم سے پوچھا کہ (دعویٰ نبوت کی) یہ بات تمہارے اندر اس سے پہلے کسی اور نے بھی کہی تھی، تو تم نے جواب دیا کہ نہیں، تب میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ اگر یہ بات اس سے پہلے کسی نے کہی ہوتی تو میں سمجھتا کہ اس شخص نے بھی اسی بات کی تقلید کی ہے جو پہلے کہی جا چکی ہے۔ میں نے تم سے پوچھا کہ اس کے بڑوں میں کوئی بادشاہ بھی گزرا ہے، تم نے کہا کہ نہیں۔ تو میں نے (دل میں) کہا کہ ان کے بزرگوں میں سے کوئی بادشاہ ہوا ہو گا تو کہہ دوں گا کہ وہ شخص (اس بہانہ) اپنے آباء و اجداد کی بادشاہت اور ان کا ملک (دوبارہ) حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ اس بات کے کہنے (یعنی پیغمبری کا دعویٰ کرنے) سے پہلے تم نے کبھی اس کو دروغ گوئی کا الزام لگایا ہے؟ تم نے کہا کہ نہیں۔ تو میں نے سمجھ لیا کہ جو شخص آدمیوں کے ساتھ دروغ گوئی سے بچے وہ اللہ کے بارے میں کیسے جھوٹی بات کہہ سکتا ہے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ بڑے لوگ اس کے پیرو ہوتے ہیں یا کمزور آدمی۔ تم نے کہا کمزوروں نے اس کی اتباع کی ہے، تو (دراصل) یہی لوگ پیغمبروں کے متبعین ہوتے ہیں۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ اس کے ساتھی بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں۔ تم نے کہا کہ وہ بڑھ رہے ہیں اور ایمان کی کیفیت یہی ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ وہ کامل ہو جاتا ہے اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا کوئی شخص اس کے دین سے ناخوش ہو کر مرتد بھی ہو جاتا ہے تم نے کہا نہیں، تو ایمان کی خاصیت بھی یہی ہے جن کے دلوں میں اس کی مسرت رچ بس جائے وہ اس سے لوٹا نہیں کرتے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا وہ کبھی عہد شکنی کرتے ہیں۔ تم نے کہا نہیں، پیغمبروں کا یہی حال ہوتا ہے، وہ عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ اور میں نے تم سے کہا کہ وہ تم سے کس چیز کے لیے کہتے ہیں۔ تم نے کہا کہ وہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور تمہیں بتوں کی پرستش سے روکتے ہیں۔ سچ بولنے اور پرہیزگاری کا حکم دیتے ہیں۔ لہٰذا اگر یہ باتیں جو تم کہہ رہے ہو سچ ہیں تو عنقریب وہ اس جگہ کا مالک ہو جائے گا کہ جہاں میرے یہ دونوں پاؤں ہیں۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ (پیغمبر) آنے والا ہے۔ مگر مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ تمہارے اندر ہو گا۔ اگر میں جانتا کہ اس تک پہنچ سکوں گا تو اس سے ملنے کے لیے ہر تکلیف گوارا کرتا۔ اگر میں اس کے پاس ہوتا تو اس کے پاؤں دھوتا۔ ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ خط منگایا جو آپ نے دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے ذریعہ حاکم بصریٰ کے پاس بھیجا تھا اور اس نے وہ ہرقل کے پاس بھیج دیا تھا۔ پھر اس کو پڑھا تو اس میں (لکھا تھا):

    اللہ کے نام کے ساتھ جو نہایت مہربان اور رحم والا ہے۔

    اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ خط ہے شاہ روم کے لیے۔ اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت کی پیروی کرے اس کے بعد میں آپ کے سامنے دعوت اسلام پیش کرتا ہوں۔ اگر آپ اسلام لے آئیں گے تو (دین و دنیا میں) سلامتی نصیب ہو گی۔ اللہ آپ کو دوہرا ثواب دے گا اور اگر آپ (میری دعوت سے) روگردانی کریں گے تو آپ کی رعایا کا گناہ بھی آپ ہی پر ہو گا۔ اور اے اہل کتاب! ایک ایسی بات پر آ جاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے۔ وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور نہ ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے سوا اپنا رب بنائے۔ پھر اگر وہ اہل کتاب (اس بات سے) منہ پھیر لیں تو (مسلمانو!) تم ان سے کہہ دو کہ (تم مانو یا نہ مانو) ہم تو ایک خدا کے اطاعت گزار ہیں۔ ابوسفیان کہتے ہیں: جب ہرقل نے جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا اور خط پڑھ کر فارغ ہوا تو اس کے اردگرد بہت شور و غوغہ ہوا، بہت سی آوازیں اٹھیں اور ہمیں باہر نکال دیا گیا۔ تب میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ابوکبشہ کے بیٹے (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) کا معاملہ تو بہت بڑھ گیا (دیکھو تو) اس سے بنی اصفر (روم) کا بادشاہ بھی ڈرتا ہے۔ مجھے اس وقت سے اس بات کا یقین ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم عنقریب غالب ہو کر رہیں گے۔ حتیٰ کہ اللہ نے مجھے مسلمان کر دیا۔ (راوی کا بیان ہے کہ) ابن ناطور ایلیاء کا حاکم ہرقل کا مصاحب اور شام کے نصاریٰ کا لاٹ پادری بیان کرتا تھا کہ ہرقل جب ایلیاء آیا، ایک دن صبح کو پریشان اٹھا تو اس کے درباریوں نے دریافت کیا کہ آج ہم آپ کی حالت بدلی ہوئی پاتے ہیں۔ (کیا وجہ ہے؟) ابن ناطور کا بیان ہے کہ ہرقل نجومی تھا، علم نجوم میں وہ پوری مہارت رکھتا تھا۔ اس نے اپنے ہم نشینوں کو بتایا کہ میں نے آج رات ستاروں پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ ختنہ کرنے والوں کا بادشاہ ہمارے ملک پر غالب آ گیا ہے۔ (بھلا) اس زمانے میں کون لوگ ختنہ کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ یہود کے سوا کوئی ختنہ نہیں کرتا۔ سو ان کی وجہ سے پریشان نہ ہوں۔ سلطنت کے تمام شہروں میں یہ حکم لکھ بھیجئے کہ وہاں جتنے یہودی ہوں سب قتل کر دئیے جائیں۔ وہ لوگ انہی باتوں میں مشغول تھے کہ ہرقل کے پاس ایک آدمی لایا گیا۔ جسے شاہ غسان نے بھیجا تھا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات بیان کئے۔ جب ہرقل نے (سارے حالات) سن لیے تو کہا کہ جا کر دیکھو وہ ختنہ کئے ہوئے ہے یا نہیں؟ انھوں نے اسے دیکھا تو بتلایا کہ وہ ختنہ کیا ہوا ہے۔ ہرقل نے جب اس شخص سے عرب کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتلایا کہ وہ ختنہ کرتے ہیں۔ تب ہرقل نے کہا کہ یہ ہی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اس امت کے بادشاہ ہیں جو پیدا ہو چکے ہیں۔ پھر اس نے اپنے ایک دوست کو رومیہ خط لکھا اور وہ بھی علم نجوم میں ہرقل کی طرح ماہر تھا۔ پھر وہاں سے ہرقل حمص چلا گیا۔ ابھی حمص سے نکلا نہیں تھا کہ اس کے دوست کا خط (اس کے جواب میں) آ گیا۔ اس کی رائے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بارے میں ہرقل کے موافق تھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم (واقعی) پیغمبر ہیں۔ اس کے بعد ہرقل نے روم کے بڑے آدمیوں کو اپنے حمص کے محل میں طلب کیا اور اس کے حکم سے محل کے دروازے بند کر لیے گئے۔ پھر وہ (اپنے خاص محل سے) باہر آیا اور کہا ”اے روم والو! کیا ہدایت اور کامیابی میں کچھ حصہ تمہارے لیے بھی ہے؟ اگر تم اپنی سلطنت کی بقا چاہتے ہو تو پھر اس نبی کی بیعت کر لو اور مسلمان ہو جاؤ“ (یہ سننا تھا کہ) پھر وہ لوگ وحشی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف دوڑے (مگر) انہیں بند پایا۔ آخر جب ہرقل نے (اس بات سے) ان کی یہ نفرت دیکھی اور ان کے ایمان لانے سے مایوس ہو گیا تو کہنے لگا کہ ان لوگوں کو میرے پاس لاؤ۔ (جب وہ دوبارہ آئے) تو اس نے کہا میں نے جو بات کہی تھی اس سے تمہاری دینی پختگی کی آزمائش مقصود تھی سو وہ میں نے دیکھ لی۔ تب (یہ بات سن کر) وہ سب کے سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑے اور اس سے خوش ہو گئے۔ بالآخر ہرقل کی آخری حالت یہ ہی رہی۔ ابوعبداللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کو صالح بن کیسان، یونس اور معمر نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔
     
  5. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    پیغامات:
    7,923
    کتاب الایمان

    کتاب الایمان

    باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی تشریح سے متعلق ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے​

    وقول الله تعالى ‏ {‏ ليس البر أن تولوا وجوهكم قبل المشرق والمغرب ولكن البر من آمن بالله واليوم الآخر والملائكة والكتاب والنبيين وآتى المال على حبه ذوي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل والسائلين وفي الرقاب وأقام الصلاة وآتى الزكاة والموفون بعهدهم إذا عاهدوا والصابرين في البأساء والضراء وحين البأس أولئك الذين صدقوا وأولئك هم المتقون‏}‏‏.‏ وقوله ‏ {‏ قد أفلح المؤمنون‏}‏ الآية‏.‏

    اور ایمان کا تعلق قول اور فعل ہر دو سے ہے اور وہ بڑھتا ہے اور گھٹتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”تاکہ ان کے پہلے ایمان کے ساتھ ایمان میں اور زیادتی ہو۔“ (سورۃ الفتح: 4) اور فرمایا کہ ہم نے ان کو ہدایت میں اور زیادہ بڑھا دیا (سورۃ الکہف: 13) اور فرمایا کہ جو لوگ سیدھی راہ پر ہیں ان کو اللہ اور ہدایت دیتا ہے (سورۃ مریم: 76) اور فرمایا کہ جو لوگ ہدایت پر ہیں اللہ نے اور زیادہ ہدایت دی اور ان کو پرہیزگاری عطا فرمائی (سورۃ محمد: 17) اور فرمایا کہ جو لوگ ایماندار ہیں ان کا ایمان اور زیادہ ہوا (سورۃ المدثر: 31) اور فرمایا کہ اس سورۃ نے تم میں سے کس کا ایمان بڑھا دیا؟ فی الواقع جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا ایمان اور زیادہ ہو گیا (سورۃ التوبہ: 124) اور فرمایا کہ منافقوں نے مومنوں سے کہا کہ تمہاری بربادی کے لیے لوگ بکثرت جمع ہو رہے ہیں، ان کا خوف کرو۔ پس یہ بات سن کر ایمان والوں کا ایمان اور بڑھ گیا اور ان کے منہ سے یہی نکلا حسبنا اللہ ونعم الوکیل (سورۃ آل عمران: 173) اور فرمایا کہ ان کا اور کچھ نہیں بڑھا، ہاں ایمان اور اطاعت کا شیوہ ضرور بڑھ گیا۔ (سورۃ الاحزاب: 22) اور حدیث میں وارد ہوا کہ اللہ کی راہ میں محبت رکھنا اور اللہ ہی کے لیے کسی سے دشمنی کرنا ایمان میں داخل ہے (رواہ ابوداؤد عن ابی امامہ) اور خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عدی بن عدی کو لکھا تھا کہ ایمان کے اندر کتنے ہی فرائض اور عقائد ہیں۔

    وقال إبراهيم ‏ {‏ ولكن ليطمئن قلبي‏}‏‏.‏ وقال معاذ اجلس بنا نؤمن ساعة‏.‏ وقال ابن مسعود اليقين الإيمان كله‏.‏ وقال ابن عمر لا يبلغ العبد حقيقة التقوى حتى يدع ما حاك في الصدر‏.‏ وقال مجاهد ‏ {‏ شرع لكم‏}‏ أوصيناك يا محمد وإياه دينا واحدا‏.‏ وقال ابن عباس ‏ {‏ شرعة ومنهاجا‏}‏ سبيلا وسنة‏.

    اور حدود ہیں اور مستحب و مسنون باتیں ہیں جو سب ایمان میں داخل ہیں۔ پس جو ان سب کو پورا کرے اس نے اپنا ایمان پورا کر لیا اور جو پورے طور پر ان کا لحاظ رکھے نہ ان کو پورا کرے اس نے اپنا ایمان پورا نہیں کیا۔ پس اگر میں زندہ رہا تو ان سب کی تفصیلی معلومات تم کو بتلاؤں گا تاکہ تم ان پر عمل کرو اور اگر میں مر ہی گیا تو مجھ کو تمہاری صحبت میں زندہ رہنے کی خواہش بھی نہیں۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قول قرآن مجید میں وارد ہوا ہے کہ لیکن میں چاہتا ہوں کہ میرے دل کو تسلی ہو جائے۔“ اور معاذ رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ ایک صحابی (اسود بن بلال نامی) سے کہا تھا کہ ہمارے پاس بیٹھو تاکہ ایک گھڑی ہم ایمان کی باتیں کر لیں۔ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا کہ یقین پورا ایمان ہے (اور صبر آدھا ایمان ہے۔ رواہ الطبرانی) اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ بندہ تقویٰ کی اصل حقیقت یعنی کہنہ کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ جو بات دل میں کھٹکتی ہو اسے بالکل چھوڑ نہ دے۔ اور مجاہد رحمہ اللہ نے آیت کریمہ شرع لکم من الدین الخ کی تفسیر میں فرمایا کہ (اس نے تمہارے لیے دین کا وہی راستہ ٹھہرایا جو حضرت نوح علیہ السلام کے لیے ٹھہرایا تھا) اس کا مطلب یہ ہے کہ اے محمد! ہم نے تم کو اور نوح کو ایک ہی دین کے لیے وصیت کی ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت کریمہ شرعۃ و منھاجا کے متعلق فرمایا کہ اس سے سبیل سیدھا راستہ اور سنت (نیک طریقہ) مراد ہے۔ اور سورۃ الفرقان کی آیت میں لفظ دعا کم کے بارے میں فرمایا کہ ایمانکم اس سے تمہارا ایمان مراد ہے۔

    حدیث نمبر 8:
    حدثنا عبيد الله بن موسى،‏‏‏‏ قال أخبرنا حنظلة بن أبي سفيان،‏‏‏‏ عن عكرمة بن خالد،‏‏‏‏ عن ابن عمر ـ رضى الله عنهما ـ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بني الإسلام على خمس شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله،‏‏‏‏ وإقام الصلاة،‏‏‏‏ وإيتاء الزكاة،‏‏‏‏ والحج،‏‏‏‏ وصوم رمضان ‏"‏‏.

    ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے یہ حدیث بیان کی۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اس کی بابت حنظلہ بن ابی سفیان نے خبر دی۔ انھوں نے عکرمہ بن خالد سے روایت کی انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ اول گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔

    باب: ایمان کے کاموں کا بیان​

    وهو قول وفعل،‏‏‏‏ ويزيد وينقص،‏‏‏‏ قال الله تعالى: {ليزدادوا إيمانا مع إيمانهم} الفتح: 4. {وزنادهم هدى} الكهف: 13. {ويزيد الله الذين اهتدوا هدى} مريم: 76. {والذين اهتدوا زادهم هدى وآتاهم تقواهم} محمد: 17. {ويزداد الذين آمنوا إيمانا} المدثر: 31. وقوله: {أيكم زادته هذه إيمانا فأما الذين آمنوا فزادتهم إيمانا} التوبة: 124. وقوله جل ذكره: {فاخشوهم فزادهم إيمانا} آل عمران: 173. وقوله تعالى: {وما زادهم إلا إيمانا وتسليما} الأحزاب: 22. والحب في الله والبغض في الله من الإيمان. وكتب عمر بن عبد العزيز إلى عدي بن عدي: إن للإيمان فرائض وشرائع وحدودا وسننا،‏‏‏‏ فمن استكملها استكمل الإيمان،‏‏‏‏ ومن لم يستكملها لم يستكمل الإيمان،‏‏‏‏ فإن أعش فسأبينها لكم حتى تعملوا بها،‏‏‏‏ وإن أمت فما أنا على صحبتكم بحريص.

    اور اللہ پاک کے اس فرمان کی تشریح کہ نیکی یہی نہیں ہے کہ تم (نماز میں) اپنا منہ پورب یا پچھم کی طرف کر لو بلکہ اصلی نیکی تو اس انسان کی ہے جو اللہ (کی ذات و صفات) پر یقین رکھے اور قیامت کو برحق مانے اور فرشتوں کے وجود پر ایمان لائے اور آسمان سے نازل ہونے والی کتاب کو سچا تسلیم کرے۔ اور جس قدر نبی رسول دنیا میں تشریف لائے ان سب کو سچا تسلیم کرے۔ اور وہ شخص مال دیتا ہو اللہ کی محبت میں اپنے (حاجت مند) رشتہ داروں کو اور (نادار) یتیموں کو اور دوسرے محتاج لوگوں کو اور (تنگ دست) مسافروں کو اور (لاچاری) میں سوال کرنے والوں کو اور (قیدی اور غلاموں کی) گردن چھڑانے میں اور نماز کی پابندی کرتا ہو اور زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور اپنے وعدوں کو پورا کرنے والے جب وہ کسی امر کی بابت وعدہ کریں۔ اور وہ لوگ جو صبر و شکر کرنے والے ہیں تنگ دستی میں اور بیماری میں اور (معرکہ) جہاد میں یہی لوگ وہ ہیں جن کو سچا مومن کہا جا سکتا ہے اور یہی لوگ درحقیقت پرہیزگار ہیں۔ یقیناً ایمان والے کامیاب ہو گئے۔ جو اپنی نمازوں میں خشوع خضوع کرنے والے ہیں اور جو لغو باتوں سے برکنار رہنے والے ہیں اور وہ جو زکوٰۃ سے پاکیزگی حاصل کرنے والے ہیں۔ اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں سوائے اپنی بیویوں اور لونڈیوں سے کیونکہ ان کے ساتھ صحبت کرنے میں ان پر کوئی الزام نہیں۔ ہاں جو ان کے علاوہ (زنا یا لواطت یا مشت زنی وغیرہ سے) شہوت رانی کریں ایسے لوگ حد سے نکلنے والے ہیں۔ اور جو لوگ اپنی امانت و عہد کا خیال رکھنے والے ہیں اور جو اپنی نمازوں کی کامل طور پر حفاظت کرتے ہیں یہی لوگ جنت الفردوس کی وراثت حاصل کر لیں گے پھر وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

    حدیث نمبر 9:
    حدثنا عبد الله بن محمد،‏‏‏‏ قال حدثنا أبو عامر العقدي،‏‏‏‏ قال حدثنا سليمان بن بلال،‏‏‏‏ عن عبد الله بن دينار،‏‏‏‏ عن أبي صالح،‏‏‏‏ عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ الإيمان بضع وستون شعبة،‏‏‏‏ والحياء شعبة من الإيمان‏"‏‏.

    ہم سے بیان کیا عبداللہ بن محمد جعفی نے، انھوں نے کہا ہم سے بیان کیا ابوعامر عقدی نے، انھوں نے کہا ہم سے بیان کیا سلیمان بن بلال نے، انھوں نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے روایت کیا ابوصالح سے، انہوں نے نقل کیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نقل فرمایا جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں۔ اور حیاء (شرم) بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔
     
  6. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    پیغامات:
    7,923

    باب: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دیگر مسلمان بچے رہیں (کوئی تکلیف نہ پائیں) ​

    حدیث نمبر 10:
    حدثنا آدم بن أبي إياس،‏‏‏‏ قال حدثنا شعبة،‏‏‏‏ عن عبد الله بن أبي السفر،‏‏‏‏ وإسماعيل،‏‏‏‏ عن الشعبي،‏‏‏‏ عن عبد الله بن عمرو ـ رضى الله عنهما ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده،‏‏‏‏ والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه ‏"‏‏.‏ قال أبو عبد الله وقال أبو معاوية حدثنا داود عن عامر قال سمعت عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم‏.‏ وقال عبد الأعلى عن داود عن عامر عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم‏.

    ہم سے آدم بن ابی ایاس نے یہ حدیث بیان کی، ان کو شعبہ نے وہ عبداللہ بن ابی السفر اور اسماعیل سے روایت کرتے ہیں، وہ دونوں شعبی سے نقل کرتے ہیں، انھوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان بچے رہیں اور مہاجر وہ ہے جو ان کاموں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع فرمایا۔ ابوعبداللہ امام بخاری نے فرمایا اور ابومعاویہ نے کہ ہم کو حدیث بیان کی داؤد بن ابی ہند نے، انھوں نے روایت کی عامر شعبی سے، انھوں نے کہا کہ میں نے سنا عبداللہ بن عمرو بن عاص سے، وہ حدیث بیان کرتے ہیں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (وہی مذکورہ حدیث) اور کہا کہ عبدالاعلیٰ نے روایت کیا داؤد سے، انھوں نے عامر سے، انھوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص سے، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

    باب: کون سا اسلام افضل ہے؟ ​

    حدیث نمبر 11:
    حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد القرشي،‏‏‏‏ قال حدثنا أبي قال،‏‏‏‏ حدثنا أبو بردة بن عبد الله بن أبي بردة،‏‏‏‏ عن أبي بردة،‏‏‏‏ عن أبي موسى ـ رضى الله عنه ـ قال قالوا يا رسول الله أى الإسلام أفضل قال ‏"‏ من سلم المسلمون من لسانه ويده ‏"‏‏.‏

    ہم کو سعید بن یحییٰ بن سعید اموی قریشی نے یہ حدیث سنائی، انھوں نے اس حدیث کو اپنے والد سے نقل کیا، انھوں نے ابوبردہ بن عبداللہ بن ابی بردہ سے، انھوں نے ابی بردہ سے، انھوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے، وہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کون سا اسلام افضل ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جس کے ماننے والے مسلمانوں کی زبان اور ہاتھ سے سارے مسلمان سلامتی میں رہیں۔
     
  7. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    پیغامات:
    7,923

    باب: کھانا کھلانا (بھوکے ناداروں کو) بھی اسلام میں داخل ہے​

    حدیث نمبر 12:
    حدثنا عمرو بن خالد،‏‏‏‏ قال حدثنا الليث،‏‏‏‏ عن يزيد،‏‏‏‏ عن أبي الخير،‏‏‏‏ عن عبد الله بن عمرو ـ رضى الله عنهما ـ أن رجلا،‏‏‏‏ سأل النبي صلى الله عليه وسلم أى الإسلام خير قال ‏"‏ تطعم الطعام،‏‏‏‏ وتقرأ السلام على من عرفت ومن لم تعرف ‏"‏‏.

    ہم سے حدیث بیان کی عمرو بن خالد نے، ان کو لیث نے، وہ روایت کرتے ہیں یزید سے، وہ ابوالخیر سے، وہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے کہ ایک دن ایک آدمی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا اسلام بہتر ہے؟ فرمایا کہ تم کھانا کھلاؤ، اور جس کو پہچانو اس کو بھی اور جس کو نہ پہچانو اس کو بھی، الغرض سب کو سلام کرو۔

    باب: ایمان میں داخل ہے کہ مسلمان جو اپنے لیے پسند کرے وہی چیز اپنے بھائی کے لیے پسند کرئے​

    حدیث نمبر 13:
    حدثنا مسدد،‏‏‏‏ قال حدثنا يحيى،‏‏‏‏ عن شعبة،‏‏‏‏ عن قتادة،‏‏‏‏ عن أنس ـ رضى الله عنه ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم‏.‏ وعن حسين المعلم،‏‏‏‏ قال حدثنا قتادة،‏‏‏‏ عن أنس،‏‏‏‏ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ لا يؤمن أحدكم حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه ‏"‏‏.

    ہم سے حدیث بیان کی مسدد نے، ان کو یحییٰ نے، انھوں نے شعبہ سے نقل کیا، انھوں نے قتادہ سے، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ خادم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ اور شعبہ نے حسین معلم سے بھی روایت کیا، انھوں نے قتادہ سے، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ہو گا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ نہ چاہے جو اپنے نفس کے لیے چاہتا ہے۔
     
  8. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    پیغامات:
    7,923

    باب: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنا بھی ایمان میں داخل ہے​

    حدیث نمبر 14:
    حدثنا أبو اليمان،‏‏‏‏ قال أخبرنا شعيب،‏‏‏‏ قال حدثنا أبو الزناد،‏‏‏‏ عن الأعرج،‏‏‏‏ عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ فوالذي نفسي بيده لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده ‏"‏‏.

    ہم سے ابوالیمان نے حدیث بیان کی، ان کو شعیب نے، ان کو ابولزناد نے اعرج سے، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی کہ بیشک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ تم میں سے کوئی بھی ایماندار نہ ہو گا جب تک میں اس کے والد اور اولاد سے بھی زیادہ اس کا محبوب نہ بن جاؤں۔

    حدیث نمبر 15:
    حدثنا يعقوب بن إبراهيم،‏‏‏‏ قال حدثنا ابن علية،‏‏‏‏ عن عبد العزيز بن صهيب،‏‏‏‏ عن أنس،‏‏‏‏ عن النبي صلى الله عليه وسلم ح وحدثنا آدم،‏‏‏‏ قال حدثنا شعبة،‏‏‏‏ عن قتادة،‏‏‏‏ عن أنس،‏‏‏‏ قال قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين ‏"‏‏.‏

    ہمیں حدیث بیان کی یعقوب بن ابراہیم نے، ان کو ابن علیہ نے، وہ عبدالعزیز بن صہیب سے روایت کرتے ہیں، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں اور ہم کو آدم بن ابی ایاس نے حدیث بیان کی، ان کو شعبہ نے، وہ قتادہ سے نقل کرتے ہیں، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ہو گا جب تک اس کے والد اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ اس کے دل میں میری محبت نہ ہو جائے۔
     
  9. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    پیغامات:
    7,923
    باب: ایمان کی مٹھاس کے بیان میں​

    حدیث نمبر 16:
    حدثنا محمد بن المثنى،‏‏‏‏ قال حدثنا عبد الوهاب الثقفي،‏‏‏‏ قال حدثنا أيوب،‏‏‏‏ عن أبي قلابة،‏‏‏‏ عن أنس،‏‏‏‏ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ ثلاث من كن فيه وجد حلاوة الإيمان أن يكون الله ورسوله أحب إليه مما سواهما،‏‏‏‏ وأن يحب المرء لا يحبه إلا لله،‏‏‏‏ وأن يكره أن يعود في الكفر كما يكره أن يقذف في النار ‏"‏‏.‏

    ہمیں محمد بن مثنیٰ نے یہ حدیث بیان کی، ان کو عبدالوہاب ثقفی نے، ان کو ایوب نے، وہ ابوقلابہ سے روایت کرتے ہیں، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ناقل ہیں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں یہ پیدا ہو جائیں اس نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا۔ اول یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب بن جائیں، دوسرے یہ کہ وہ کسی انسان سے محض اللہ کی رضا کے لیے محبت رکھے۔ تیسرے یہ کہ وہ کفر میں واپس لوٹنے کو ایسا برا جانے جیسا کہ آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے۔

    باب: انصار کی محبت ایمان کی نشانی ہے​

    حدیث نمبر 17:
    حدثنا أبو الوليد،‏‏‏‏ قال حدثنا شعبة،‏‏‏‏ قال أخبرني عبد الله بن عبد الله بن جبر،‏‏‏‏ قال سمعت أنسا،‏‏‏‏ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ آية الإيمان حب الأنصار،‏‏‏‏ وآية النفاق بغض الأنصار ‏"‏‏.‏

    ہم سے اس حدیث کو ابوالولید نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، انہیں عبداللہ بن جبیر نے خبر دی، وہ کہتے ہیں کہ ہم نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس کو سنا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے کینہ رکھنا نفاق کی نشانی ہے۔
     
  10. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    پیغامات:
    7,923

    باب: ۔۔۔ ​

    حدیث نمبر 18:
    حدثنا أبو اليمان،‏‏‏‏ قال أخبرنا شعيب،‏‏‏‏ عن الزهري،‏‏‏‏ قال أخبرني أبو إدريس،‏‏‏‏ عائذ الله بن عبد الله أن عبادة بن الصامت ـ رضى الله عنه ـ وكان شهد بدرا،‏‏‏‏ وهو أحد النقباء ليلة العقبة ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال وحوله عصابة من أصحابه ‏"‏ بايعوني على أن لا تشركوا بالله شيئا،‏‏‏‏ ولا تسرقوا،‏‏‏‏ ولا تزنوا،‏‏‏‏ ولا تقتلوا أولادكم،‏‏‏‏ ولا تأتوا ببهتان تفترونه بين أيديكم وأرجلكم،‏‏‏‏ ولا تعصوا في معروف،‏‏‏‏ فمن وفى منكم فأجره على الله،‏‏‏‏ ومن أصاب من ذلك شيئا فعوقب في الدنيا فهو كفارة له،‏‏‏‏ ومن أصاب من ذلك شيئا ثم ستره الله،‏‏‏‏ فهو إلى الله إن شاء عفا عنه،‏‏‏‏ وإن شاء عاقبه ‏"‏‏.‏ فبايعناه على ذلك‏.‏

    ہم سے اس حدیث کو ابوالیمان نے بیان کیا، ان کو شعیب نے خبر دی، وہ زہری سے نقل کرتے ہیں، انہیں ابوادریس عائذ اللہ بن عبداللہ نے خبر دی کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ جو بدر کی لڑائی میں شریک تھے اور لیلۃالعقبہ کے (بارہ) نقیبوں میں سے تھے۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جب آپ کے گرد صحابہ کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی فرمایا کہ مجھ سے بیعت کرو اس بات پر کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے، چوری نہ کرو گے، زنا نہ کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہ کرو گے اور نہ عمداً کسی پر کوئی ناحق بہتان باندھو گے اور کسی بھی اچھی بات میں (خدا کی) نافرمانی نہ کرو گے۔ جو کوئی تم میں (اس عہد کو) پورا کرے گا تو اس کا ثواب اللہ کے ذمے ہے اور جو کوئی ان (بری باتوں) میں سے کسی کا ارتکاب کرے اور اسے دنیا میں (اسلامی قانون کے تحت) سزا دے دی گئی تو یہ سزا اس کے (گناہوں کے) لیے بدلا ہو جائے گی اور جو کوئی ان میں سے کسی بات میں مبتلا ہو گیا اور اللہ نے اس کے (گناہ) کو چھپا لیا تو پھر اس کا (معاملہ) اللہ کے حوالہ ہے، اگر چاہے معاف کرے اور اگر چاہے سزا دیدے۔ (عبادہ کہتے ہیں کہ) پھر ہم سب نے ان (سب باتوں) پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی۔

    باب: فتنوں سے دور بھاگنا (بھی) دین (ہی) میں شامل ہے​

    حدیث نمبر 19:
    حدثنا عبد الله بن مسلمة،‏‏‏‏ عن مالك،‏‏‏‏ عن عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي صعصعة،‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ عن أبي سعيد الخدري،‏‏‏‏ أنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يوشك أن يكون خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال ومواقع القطر،‏‏‏‏ يفر بدينه من الفتن ‏"‏‏.‏

    ہم سے (اس حدیث کو) عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انھوں نے اسے مالک رحمہ اللہ سے نقل کیا، انھوں نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی صعصعہ سے، انھوں نے اپنے باپ (عبداللہ رحمہ اللہ) سے، وہ ابو سعید خدری سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ وقت قریب ہے جب مسلمان کا (سب سے) عمدہ مال (اس کی بکریاں ہوں گی)۔ جن کے پیچھے وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور برساتی وادیوں میں اپنے دین کو بچانے کے لیے بھاگ جائے گا۔
     
  11. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    پیغامات:
    7,923

    باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تفصیل کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں
    وأن المعرفة فعل القلب لقول الله تعالى ‏ {‏ ولكن يؤاخذكم بما كسبت قلوبكم‏}‏‏.‏
    اور اس بات کا ثبوت کہ معرفت دل کا فعل ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ”لیکن (اللہ) گرفت کرے گا اس پر جو تمہارے دلوں نے کیا ہو گا۔“​

    حدیث نمبر 20:
    حدثنا محمد بن سلام،‏‏‏‏ قال أخبرنا عبدة،‏‏‏‏ عن هشام،‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ عن عائشة،‏‏‏‏ قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أمرهم أمرهم من الأعمال بما يطيقون قالوا إنا لسنا كهيئتك يا رسول الله،‏‏‏‏ إن الله قد غفر لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر‏.‏ فيغضب حتى يعرف الغضب في وجهه ثم يقول ‏"‏ إن أتقاكم وأعلمكم بالله أنا ‏"‏‏.

    یہ حدیث ہم سے محمد بن سلام نے بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ انہیں اس کی عبدہ نے خبر دی، وہ ہشام سے نقل کرتے ہیں، ہشام حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو کسی کام کا حکم دیتے تو وہ ایسا ہی کام ہوتا جس کے کرنے کی لوگوں میں طاقت ہوتی (اس پر) صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم لوگ تو آپ جیسے نہیں ہیں (آپ تو معصوم ہیں) اور آپ کی اللہ پاک نے اگلی پچھلی سب لغزشیں معاف فرما دی ہیں۔ (اس لیے ہمیں اپنے سے کچھ زیادہ عبادت کرنے کا حکم فرمائیے) (یہ سن کر) آپ ناراض ہوئے حتیٰ کہ خفگی آپ کے چہرہ مبارک سے ظاہر ہونے لگی۔ پھر فرمایا کہ بیشک میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور تم سب سے زیادہ اسے جانتا ہوں۔ (پس تم مجھ سے بڑھ کر عبادت نہیں کر سکتے)۔

    باب: جو آدمی کفر کی طرف واپسی کو آگ میں گرنے کے برابر سمجھے، تو اس کی یہ روش بھی ایمان میں داخل ہے​

    حدیث نمبر 21:
    حدثنا سليمان بن حرب،‏‏‏‏ قال حدثنا شعبة،‏‏‏‏ عن قتادة،‏‏‏‏ عن أنس ـ رضى الله عنه ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ ثلاث من كن فيه وجد حلاوة الإيمان من كان الله ورسوله أحب إليه مما سواهما،‏‏‏‏ ومن أحب عبدا لا يحبه إلا لله،‏‏‏‏ ومن يكره أن يعود في الكفر بعد إذ أنقذه الله،‏‏‏‏ كما يكره أن يلقى في النار ‏"‏‏.‏

    اس حدیث کو ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، وہ قتادہ سے روایت کرتے ہیں، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس شخص میں یہ تین باتیں ہوں گی وہ ایمان کا مزہ پالے گا، ایک یہ کہ وہ شخص جسے اللہ اور اس کا رسول ان کے ماسوا سے زیادہ عزیز ہوں اور دوسرے یہ کہ جو کسی بندے سے محض اللہ ہی کے لیے محبت کرے اور تیسری بات یہ کہ جسے اللہ نے کفر سے نجات دی ہو، پھر دوبارہ کفر اختیار کرنے کو وہ ایسا برا سمجھے جیسا آگ میں گر جانے کو برا جانتا ہے۔
     
  12. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    پیغامات:
    7,923
    باب: ایمان والوں کا عمل میں ایک دوسرے سے بڑھ جانا (عین ممکن ہے)
    حدیث نمبر 22:
    حدثنا إسماعيل،‏‏‏‏ قال حدثني مالك،‏‏‏‏ عن عمرو بن يحيى المازني،‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ عن أبي سعيد الخدري،‏‏‏‏ رضى الله عنه ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ يدخل أهل الجنة الجنة،‏‏‏‏ وأهل النار النار،‏‏‏‏ ثم يقول الله تعالى أخرجوا من كان في قلبه مثقال حبة من خردل من إيمان‏.‏ فيخرجون منها قد اسودوا فيلقون في نهر الحيا ـ أو الحياة،‏‏‏‏ شك مالك ـ فينبتون كما تنبت الحبة في جانب السيل،‏‏‏‏ ألم تر أنها تخرج صفراء ملتوية ‏"‏‏.‏ قال وهيب حدثنا عمرو ‏"‏ الحياة ‏"‏‏.‏ وقال ‏"‏ خردل من خير ‏"‏‏.‏

    ہم سے اسماعیل نے یہ حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں ان سے مالک نے، وہ عمرو بن یحییٰ المازنی سے نقل کرتے ہیں، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں اور وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو جائیں گے۔ اللہ پاک فرمائے گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر (بھی) ایمان ہو، اس کو بھی دوزخ سے نکال لو۔ تب ( ایسے لوگ) دوزخ سے نکال لیے جائیں گے اور وہ جل کر کوئلے کی طرح سیاہ ہو چکے ہوں گے۔ پھر زندگی کی نہر میں یا بارش کے پانی میں ڈالے جائیں گے۔ (یہاں راوی کو شک ہو گیا ہے کہ اوپر کے راوی نے کون سا لفظ استعمال کیا) اس وقت وہ دانے کی طرح اگ آئیں گے جس طرح ندی کے کنارے دانے اگ آتے ہیں۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ دانہ زردی مائل پیچ در پیچ نکلتا ہے۔ وہیب نے کہا کہ ہم سے عمرو نے ( حیاء کی بجائے) حیاۃ ، اور ( خردل من ایمان ) کی بجائے ( خردل من خیر ) کا لفظ بیان کیا۔

    حدیث نمبر 23:
    حدثنا محمد بن عبيد الله،‏‏‏‏ قال حدثنا إبراهيم بن سعد،‏‏‏‏ عن صالح،‏‏‏‏ عن ابن شهاب،‏‏‏‏ عن أبي أمامة بن سهل،‏‏‏‏ أنه سمع أبا سعيد الخدري،‏‏‏‏ يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بينا أنا نائم رأيت الناس يعرضون على،‏‏‏‏ وعليهم قمص منها ما يبلغ الثدي،‏‏‏‏ ومنها ما دون ذلك،‏‏‏‏ وعرض على عمر بن الخطاب وعليه قميص يجره ‏"‏‏.‏ قالوا فما أولت ذلك يا رسول الله قال ‏"‏ الدين ‏"‏‏.‏

    ہم سے محمد بن عبیداللہ نے یہ حدیث بیان کی، ان سے ابراہیم بن سعد نے، وہ صالح سے روایت کرتے ہیں، وہ ابن شہاب سے، وہ ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے راوی ہیں، وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک وقت سو رہا تھا، میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں اور وہ کرتے پہنے ہوئے ہیں۔ کسی کا کرتہ سینے تک ہے اور کسی کا اس سے نیچا ہے۔ (پھر) میرے سامنے عمر بن الخطاب لائے گئے۔ ان (کے بدن) پر (جو) کرتا تھا۔ اسے وہ گھسیٹ رہے تھے۔ (یعنی ان کا کرتہ زمین تک نیچا تھا) صحابہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! اس کی کیا تعبیر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (اس سے) دین مراد ہے۔
     
  13. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    پیغامات:
    7,923
    باب: شرم و حیاء بھی ایمان سے ہے
    حدیث نمبر 24:
    حدثنا عبد الله بن يوسف،‏‏‏‏ قال أخبرنا مالك بن أنس،‏‏‏‏ عن ابن شهاب،‏‏‏‏ عن سالم بن عبد الله،‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على رجل من الأنصار وهو يعظ أخاه في الحياء،‏‏‏‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ دعه فإن الحياء من الإيمان ‏"‏‏.‏

    عبداللہ ابن یوسف نے ہم سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں مالک ابن انس نے ابن شہاب سے خبر دی، وہ سالم بن عبداللہ سے نقل کرتے ہیں، وہ اپنے باپ (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری شخص کے پاس سے گزرے اس حال میں کہ وہ اپنے ایک بھائی سے کہہ رہے تھے کہ تم اتنی شرم کیوں کرتے ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انصاری سے فرمایا کہ اس کو اس کے حال پر رہنے دو کیونکہ حیاء بھی ایمان ہی کا ایک حصہ ہے۔

    باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں کہ اگر وہ (کافر) توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو (یعنی ان سے جنگ نہ کرو) ​

    حدیث نمبر 25:
    حدثنا عبد الله بن محمد المسندي،‏‏‏‏ قال حدثنا أبو روح الحرمي بن عمارة،‏‏‏‏ قال حدثنا شعبة،‏‏‏‏ عن واقد بن محمد،‏‏‏‏ قال سمعت أبي يحدث،‏‏‏‏ عن ابن عمر،‏‏‏‏ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله،‏‏‏‏ ويقيموا الصلاة،‏‏‏‏ ويؤتوا الزكاة،‏‏‏‏ فإذا فعلوا ذلك عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحق الإسلام،‏‏‏‏ وحسابهم على الله ‏"‏‏.‏

    اس حدیث کو ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، ان سے ابوروح حرمی بن عمارہ نے، ان سے شعبہ نے، وہ واقد بن محمد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں میں نے یہ حدیث اپنے باپ سے سنی، وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مجھے (اللہ کی طرف سے) حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں اس وقت تک کہ وہ اس بات کا اقرار کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز ادا کرنے لگیں اور زکوٰۃ دیں، جس وقت وہ یہ کرنے لگیں گے تو مجھ سے اپنے جان و مال کو محفوظ کر لیں گے، سوائے اسلام کے حق کے۔ (رہا ان کے دل کا حال تو) ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔
     
  14. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    پیغامات:
    7,923
    باب: اس شخص کے قول کی تصدیق میں جس نے کہا ہے کہ ایمان عمل (کا نام) ہے
    لقول الله تعالى ‏ {‏ وتلك الجنة التي أورثتموها بما كنتم تعملون‏}‏‏.‏ وقال عدة من أهل العلم في قوله تعالى ‏ {‏ فوربك لنسألنهم أجمعين * عما كانوا يعملون‏}‏ عن قول لا إله إلا الله‏.‏ وقال ‏ {‏ لمثل هذا فليعمل العاملون‏}‏‏.‏​

    کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”اور یہ جنت ہے اپنے عمل کے بدلے میں تم جس کے مالک ہوئے ہو“ اور بہت سے اہل علم حضرات ارشاد باری فوربک الخ کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ یہاں عمل سے مراد ”لا الہٰ الا اللہ“ کہنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ”عمل کرنے والوں کو اسی جیسا عمل کرنا چاہئے۔“

    حدیث نمبر 26:
    حدثنا أحمد بن يونس،‏‏‏‏ وموسى بن إسماعيل،‏‏‏‏ قالا حدثنا إبراهيم بن سعد،‏‏‏‏ قال حدثنا ابن شهاب،‏‏‏‏ عن سعيد بن المسيب،‏‏‏‏ عن أبي هريرة،‏‏‏‏ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل أى العمل أفضل فقال ‏"‏ إيمان بالله ورسوله ‏"‏‏.‏ قيل ثم ماذا قال ‏"‏ الجهاد في سبيل الله ‏"‏‏.‏ قيل ثم ماذا قال ‏"‏ حج مبرور ‏"‏‏.‏

    ہم سے احمد بن یونس اور موسیٰ بن اسماعیل دونوں نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعید نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، وہ سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا“ کہا گیا، اس کے بعد کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا“ کہا گیا، پھر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حج مبرور“۔

    باب: جب حقیقی اسلام پر کوئی نہ ہو
    لقوله تعالى: {قالت الأعراب آمنا قل لم تؤمنوا ولكن قولوا أسلمنا} الحجرات: 14. فإذا كان على الحقيقة،‏‏‏‏ فهو على قوله جل ذكره: {إن الدين عند الله الإسلام} آل عمران: 19.​

    بلکہ محض ظاہر طور پر مسلمان بن گیا ہو یا قتل کے خوف سے تو (لغوی حیثیت سے اس پر) مسلمان کا اطلاق درست ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ جب دیہاتیوں نے کہا کہ ہم ایمان لے آئے آپ کہہ دیجیئے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یہ کہو کہ ظاہر طور پر مسلمان ہو گئے۔ لیکن اگر ایمان حقیقتاً حاصل ہو تو وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارشاد (بیشک دین اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے) کا مصداق ہے۔ آیات شریفہ میں لفظ ایمان اور اسلام ایک ہی معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔

    حدیث نمبر 27:
    حدثنا أبو اليمان،‏‏‏‏ قال أخبرنا شعيب،‏‏‏‏ عن الزهري،‏‏‏‏ قال أخبرني عامر بن سعد بن أبي وقاص،‏‏‏‏ عن سعد،‏‏‏‏ رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أعطى رهطا وسعد جالس،‏‏‏‏ فترك رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا هو أعجبهم إلى فقلت يا رسول الله ما لك عن فلان فوالله إني لأراه مؤمنا‏.‏ فقال ‏"‏ أو مسلما ‏"‏‏.‏ فسكت قليلا،‏‏‏‏ ثم غلبني ما أعلم منه فعدت لمقالتي فقلت ما لك عن فلان فوالله إني لأراه مؤمنا فقال ‏"‏ أو مسلما ‏"‏‏.‏ ثم غلبني ما أعلم منه فعدت لمقالتي وعاد رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال ‏"‏ يا سعد،‏‏‏‏ إني لأعطي الرجل وغيره أحب إلى منه،‏‏‏‏ خشية أن يكبه الله في النار ‏"‏‏.‏ ورواه يونس وصالح ومعمر وابن أخي الزهري عن الزهري‏.‏

    ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہیں عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد سعد رضی اللہ عنہ سے سن کر یہ خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کو کچھ عطیہ دیا اور سعد وہاں موجود تھے۔ (وہ کہتے ہیں کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک شخص کو کچھ نہ دیا۔ حالانکہ وہ ان میں مجھے سب سے زیادہ پسند تھا۔ میں نے کہا حضور آپ نے فلاں کو کچھ نہ دیا حالانکہ میں اسے مومن گمان کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن یا مسلمان؟ میں تھوڑی دیر چپ رہ کر پھر پہلی بات دہرانے لگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دوبارہ وہی جواب دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے سعد! باوجود یہ کہ ایک شخص مجھے زیادہ عزیز ہے (پھر بھی میں اسے نظرانداز کر کے) کسی اور دوسرے کو اس خوف کی وجہ سے یہ مال دے دیتا ہوں کہ (وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے اسلام سے پھر جائے اور) اللہ اسے آگ میں اوندھا ڈال دے۔ اس حدیث کو یونس، صالح، معمر اور زہری کے بھتیجے عبداللہ نے زہری سے روایت کیا۔
     
  15. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    پیغامات:
    7,923
    باب: سلام پھیلانا بھی اسلام میں داخل ہے
    وقال عمار ثلاث من جمعهن فقد جمع الإيمان الإنصاف من نفسك،‏‏‏‏ وبذل السلام للعالم،‏‏‏‏ والإنفاق من الإقتار‏.‏
    عمار نے کہا کہ جس نے تین چیزوں کو جمع کر لیا اس نے سارا ایمان حاصل کر لیا۔ اپنے نفس سے انصاف کرنا، سلام کو عالم میں پھیلانا اور تنگ دستی کے باوجود راہ اللہ میں خرچ کرنا۔​

    حدیث نمبر 28:
    حدثنا قتيبة،‏‏‏‏ قال حدثنا الليث،‏‏‏‏ عن يزيد بن أبي حبيب،‏‏‏‏ عن أبي الخير،‏‏‏‏ عن عبد الله بن عمرو،‏‏‏‏ أن رجلا،‏‏‏‏ سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم أى الإسلام خير قال ‏"‏ تطعم الطعام،‏‏‏‏ وتقرأ السلام على من عرفت ومن لم تعرف ‏"‏‏.‏
    ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، انھوں نے یزید بن ابی حبیب سے، انھوں نے ابوالخیر سے، انھوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کون سا اسلام بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو کھانا کھلائے اور ہر شخص کو سلام کرے خواہ اس کو تو جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔

    باب: خاوند کی ناشکری کے بیان میں اور ایک کفر کا (اپنے درجہ میں) دوسرے کفر سے کم ہونے کے بیان میں
    فيه عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه وسلم‏.‏
    اس بارے میں وہ حدیث جسے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔​

    حدیث نمبر 29:
    حدثنا عبد الله بن مسلمة،‏‏‏‏ عن مالك،‏‏‏‏ عن زيد بن أسلم،‏‏‏‏ عن عطاء بن يسار،‏‏‏‏ عن ابن عباس،‏‏‏‏ قال قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أريت النار فإذا أكثر أهلها النساء يكفرن ‏"‏‏.‏ قيل أيكفرن بالله قال ‏"‏ يكفرن العشير،‏‏‏‏ ويكفرن الإحسان،‏‏‏‏ لو أحسنت إلى إحداهن الدهر ثم رأت منك شيئا قالت ما رأيت منك خيرا قط ‏"‏‏.‏

    اس حدیث کو ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، وہ امام مالک سے، وہ زید بن اسلم سے، وہ عطاء بن یسار سے، وہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے دوزخ دکھلائی گئی تو اس میں زیادہ تر عورتیں تھیں جو کفر کرتی ہیں۔ کہا گیا حضور کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خاوند کی ناشکری کرتی ہیں۔ اور احسان کی ناشکری کرتی ہیں۔ اگر تم عمر بھر ان میں سے کسی کے ساتھ احسان کرتے رہو۔ پھر تمہاری طرف سے کبھی کوئی ان کے خیال میں ناگواری کی بات ہو جائے تو فوراً کہہ اٹھے گی کہ میں نے کبھی بھی تجھ سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔
     
  16. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    پیغامات:
    7,923
    باب: گناہ جاہلیت کے کام ہیں
    ولا يكفر صاحبها بارتكابها إلا بالشرك لقول النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إنك امرؤ فيك جاهلية ‏"‏‏.‏ وقول الله تعالى ‏ {‏ إن الله لا يغفر أن يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء‏}‏ } النساء: 48.
    اور گناہ کرنے والا گناہ سے کافر نہیں ہوتا۔ ہاں اگر شرک کرے تو کافر ہو جائے گا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوذر سے فرمایا تھا تو ایسا آدمی ہے جس میں جاہلیت کی بو آتی ہے۔ (اس برائی کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کافر نہیں کہا) اور اللہ نے سورۃ نساء میں فرمایا ہے بیشک اللہ شرک کو نہیں بخشے گا اور اس کے علاوہ جس گناہ کو چاہے وہ بخش دے۔ (سورۃ الحجرات میں فرمایا) اور اگر ایمانداروں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو (اس آیت میں اللہ نے اس گناہ کبیرہ قتل و غارت کے باوجود ان لڑنے والوں کو مومن ہی کہا ہے)۔​

    حدیث نمبر 30:
    حدثنا عبد الرحمن بن المبارك،‏‏‏‏ حدثنا حماد بن زيد،‏‏‏‏ حدثنا أيوب،‏‏‏‏ ويونس،‏‏‏‏ عن الحسن،‏‏‏‏ عن الأحنف بن قيس،‏‏‏‏ قال ذهبت لأنصر هذا الرجل،‏‏‏‏ فلقيني أبو بكرة فقال أين تريد قلت أنصر هذا الرجل‏.‏ قال ارجع فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ‏"‏ إذا التقى المسلمان بسيفيهما فالقاتل والمقتول في النار ‏"‏‏.‏ فقلت يا رسول الله هذا القاتل فما بال المقتول قال ‏"‏ إنه كان حريصا على قتل صاحبه ‏"‏‏.‏

    ہم سے بیان کیا عبدالرحمٰن بن مبارک نے، کہا ہم سے بیان کیا حماد بن زید نے، کہا ہم سے بیان کیا ایوب اور یونس نے، انھوں نے حسن سے، انھوں نے احنف بن قیس سے، کہا کہ میں اس شخص (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کی مدد کرنے کو چلا۔ راستے میں مجھ کو ابوبکرہ ملے۔ پوچھا کہاں جاتے ہو؟ میں نے کہا، اس شخص (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کی مدد کرنے کو جاتا ہوں۔ ابوبکرہ نے کہا اپنے گھر کو لوٹ جاؤ۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے جب دو مسلمان اپنی اپنی تلواریں لے کر بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! قاتل تو خیر (ضرور دوزخی ہونا چاہیے) مقتول کیوں؟ فرمایا ’’ وہ بھی اپنے ساتھی کو مار ڈالنے کی حرص رکھتا تھا۔ ‘‘ (موقع پاتا تو وہ اسے ضرور قتل کر دیتا دل کے عزم صمیم پر وہ دوزخی ہوا)۔

    حدیث نمبر 31:
    حدثنا سليمان بن حرب،‏‏‏‏ قال حدثنا شعبة،‏‏‏‏ عن واصل الأحدب،‏‏‏‏ عن المعرور،‏‏‏‏ قال لقيت أبا ذر بالربذة،‏‏‏‏ وعليه حلة،‏‏‏‏ وعلى غلامه حلة،‏‏‏‏ فسألته عن ذلك،‏‏‏‏ فقال إني ساببت رجلا،‏‏‏‏ فعيرته بأمه،‏‏‏‏ فقال لي النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يا أبا ذر أعيرته بأمه إنك امرؤ فيك جاهلية،‏‏‏‏ إخوانكم خولكم،‏‏‏‏ جعلهم الله تحت أيديكم،‏‏‏‏ فمن كان أخوه تحت يده فليطعمه مما يأكل،‏‏‏‏ وليلبسه مما يلبس،‏‏‏‏ ولا تكلفوهم ما يغلبهم،‏‏‏‏ فإن كلفتموهم فأعينوهم ‏"‏‏.‏

    ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انھوں نے اسے واصل احدب سے، انھوں نے معرور سے، کہا میں ابوذر سے ربذہ میں ملا وہ ایک جوڑا پہنے ہوئے تھے اور ان کا غلام بھی جوڑا پہنے ہوئے تھا۔ میں نے اس کا سبب دریافت کیا تو کہنے لگے کہ میں نے ایک شخص یعنی غلام کو برا بھلا کہا تھا اور اس کی ماں کی غیرت دلائی (یعنی گالی دی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ معلوم کر کے مجھ سے فرمایا اے ابوذر! تو نے اسے ماں کے نام سے غیرت دلائی، بیشک تجھ میں ابھی کچھ زمانہ جاہلیت کا اثر باقی ہے۔ (یاد رکھو) ماتحت لوگ تمہارے بھائی ہیں۔ اللہ نے (اپنی کسی مصلحت کی بنا پر) انہیں تمہارے قبضے میں دے رکھا ہے تو جس کے ماتحت اس کا کوئی بھائی ہو تو اس کو بھی وہی کھلائے جو آپ کھاتا ہے اور وہی کپڑا اسے پہنائے جو آپ پہنتا ہے اور ان کو اتنے کام کی تکلیف نہ دو کہ ان کے لیے مشکل ہو جائے اور اگر کوئی سخت کام ڈالو تو تم خود بھی ان کی مدد کرو۔
     
  17. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    پیغامات:
    7,923
    باب: بعض ظلم بعض سے ادنیٰ ہیں
    حدیث نمبر 32:
    حدثنا أبو الوليد،‏‏‏‏ قال حدثنا شعبة،‏‏‏‏ ح‏.‏ قال وحدثني بشر،‏‏‏‏ قال حدثنا محمد،‏‏‏‏ عن شعبة،‏‏‏‏ عن سليمان،‏‏‏‏ عن إبراهيم،‏‏‏‏ عن علقمة،‏‏‏‏ عن عبد الله،‏‏‏‏ قال لما نزلت ‏ {‏ الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم‏}‏ قال أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أينا لم يظلم فأنزل الله ‏ {‏ إن الشرك لظلم عظيم‏}‏‏.‏

    ہمارے سامنے ابوالولید نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے (اسی حدیث کو) بشر نے بیان کیا، ان سے محمد نے، ان سے شعبہ نے، انھوں نے سلیمان سے، انھوں نے علقمہ سے، انھوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے جب سورۃ الانعام کی یہ آیت اتری جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان میں گناہوں کی آمیزش نہیں کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا یا رسول اللہ! یہ تو بہت ہی مشکل ہے۔ ہم میں کون ایسا ہے جس نے گناہ نہیں کیا۔ تب اللہ پاک نے سورۃ لقمان کی یہ آیت اتاری کہ بیشک شرک بڑا ظلم ہے۔

    باب: منافق کی نشانیوں کے بیان میں​

    حدیث نمبر 33:
    حدثنا سليمان أبو الربيع،‏‏‏‏ قال حدثنا إسماعيل بن جعفر،‏‏‏‏ قال حدثنا نافع بن مالك بن أبي عامر أبو سهيل،‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ عن أبي هريرة،‏‏‏‏ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ آية المنافق ثلاث إذا حدث كذب،‏‏‏‏ وإذا وعد أخلف،‏‏‏‏ وإذا اؤتمن خان ‏"‏‏.‏

    ہم سے سلیمان ابوالربیع نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن جعفر نے، ان سے نافع بن ابی عامر ابوسہیل نے، وہ اپنے باپ سے، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، منافق کی علامتیں تین ہیں۔ جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔

    حدیث نمبر 34:
    حدثنا قبيصة بن عقبة،‏‏‏‏ قال حدثنا سفيان،‏‏‏‏ عن الأعمش،‏‏‏‏ عن عبد الله بن مرة،‏‏‏‏ عن مسروق،‏‏‏‏ عن عبد الله بن عمرو،‏‏‏‏ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ أربع من كن فيه كان منافقا خالصا،‏‏‏‏ ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها إذا اؤتمن خان وإذا حدث كذب وإذا عاهد غدر،‏‏‏‏ وإذا خاصم فجر ‏"‏‏.‏ تابعه شعبة عن الأعمش‏.‏

    ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے یہ حدیث بیان کی، ان سے سفیان نے، وہ اعمش بن عبیداللہ بن مرہ سے نقل کرتے ہیں، وہ مسروق سے، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار عادتیں جس کسی میں ہوں تو وہ خالص منافق ہے اور جس کسی میں ان چاروں میں سے ایک عادت ہو تو وہ (بھی) نفاق ہی ہے، جب تک اسے نہ چھوڑ دے۔ (وہ یہ ہیں) جب اسے امین بنایا جائے تو (امانت میں) خیانت کرے اور بات کرتے وقت جھوٹ بولے اور جب (کسی سے) عہد کرے تو اسے پورا نہ کرے اور جب (کسی سے) لڑے تو گالیوں پر اتر آئے۔ اس حدیث کو شعبہ نے (بھی) سفیان کے ساتھ اعمش سے روایت کیا ہے۔
     
  18. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    پیغامات:
    7,923
    باب: شب قدر کی بیداری (اور عبادت گزاری) بھی ایمان (ہی میں داخل) ہے
    حدیث نمبر 35:
    حدثنا أبو اليمان،‏‏‏‏ قال أخبرنا شعيب،‏‏‏‏ قال حدثنا أبو الزناد،‏‏‏‏ عن الأعرج،‏‏‏‏ عن أبي هريرة،‏‏‏‏ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ من يقم ليلة القدر إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه ‏"‏‏.‏

    ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہیں شعیب نے خبر دی، کہا ان سے ابوالزناد نے اعرج کے واسطے سے بیان کیا، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو شخص شب قدر ایمان کے ساتھ محض ثواب آخرت کے لیے ذکرو عبادت میں گزارے، اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔

    باب: جہاد بھی جزو ایمان ہے​

    حدیث نمبر 36:
    حدثنا حرمي بن حفص،‏‏‏‏ قال حدثنا عبد الواحد،‏‏‏‏ قال حدثنا عمارة،‏‏‏‏ قال حدثنا أبو زرعة بن عمرو بن جرير،‏‏‏‏ قال سمعت أبا هريرة،‏‏‏‏ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ انتدب الله لمن خرج في سبيله لا يخرجه إلا إيمان بي وتصديق برسلي أن أرجعه بما نال من أجر أو غنيمة،‏‏‏‏ أو أدخله الجنة،‏‏‏‏ ولولا أن أشق على أمتي ما قعدت خلف سرية،‏‏‏‏ ولوددت أني أقتل في سبيل الله ثم أحيا،‏‏‏‏ ثم أقتل ثم أحيا،‏‏‏‏ ثم أقتل ‏"‏‏.‏

    ہم سے حرمی بن حفص نے بیان کیا، ان سے عبدالواحد نے، ان سے عمارہ نے، ان سے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر نے، وہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ سے سنا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلا، اللہ اس کا ضامن ہو گیا۔ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) اس کو میری ذات پر یقین اور میرے پیغمبروں کی تصدیق نے (اس سرفروشی کے لیے گھر سے) نکالا ہے۔ (میں اس بات کا ضامن ہوں) کہ یا تو اس کو واپس کر دوں ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ، یا (شہید ہونے کے بعد) جنت میں داخل کر دوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اور اگر میں اپنی امت پر (اس کام کو) دشوار نہ سمجھتا تو لشکر کا ساتھ نہ چھوڑتا اور میری خواہش ہے کہ اللہ کی راہ میں مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مارا جاؤں۔
     
  19. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    پیغامات:
    7,923
    باب: رمضان شریف کی راتوں میں نفلی قیام کرنا بھی ایمان ہی میں سے ہے
    حدیث نمبر 37:
    حدثنا إسماعيل،‏‏‏‏ قال حدثني مالك،‏‏‏‏ عن ابن شهاب،‏‏‏‏ عن حميد بن عبد الرحمن،‏‏‏‏ عن أبي هريرة،‏‏‏‏ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ من قام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه ‏"‏‏.‏

    ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، انھوں نے ابن شہاب سے نقل کیا، انھوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے، انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی رمضان میں (راتوں کو) ایمان رکھ کر اور ثواب کے لیے عبادت کرے اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔

    باب: خالص نیت کے ساتھ رمضان کے روزے رکھنا ایمان کا جزو ہیں​

    حدیث نمبر 38:
    حدثنا ابن سلام،‏‏‏‏ قال أخبرنا محمد بن فضيل،‏‏‏‏ قال حدثنا يحيى بن سعيد،‏‏‏‏ عن أبي سلمة،‏‏‏‏ عن أبي هريرة،‏‏‏‏ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ من صام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه ‏"‏‏.

    ہم نے ابن سلام نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ ہمیں محمد بن فضیل نے خبر دی، انھوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، انھوں نے ابوسلمہ سے روایت کی، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے رمضان کے روزے ایمان اور خالص نیت کے ساتھ رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے۔
     
  20. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    پیغامات:
    7,923
    باب: اس بیان میں کہ دین آسان ہے
    وقول النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أحب الدين إلى الله الحنيفية السمحة ‏"‏‏.‏
    جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ وہ دین پسند ہے جو سیدھا اور سچا ہو۔ (اور یقیناً وہ دین اسلام ہے سچ ہے ان الدین عنداللہ الاسلام )۔​

    حدیث نمبر 39:
    حدثنا عبد السلام بن مطهر،‏‏‏‏ قال حدثنا عمر بن علي،‏‏‏‏ عن معن بن محمد الغفاري،‏‏‏‏ عن سعيد بن أبي سعيد المقبري،‏‏‏‏ عن أبي هريرة،‏‏‏‏ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ إن الدين يسر،‏‏‏‏ ولن يشاد الدين أحد إلا غلبه،‏‏‏‏ فسددوا وقاربوا وأبشروا،‏‏‏‏ واستعينوا بالغدوة والروحة وشىء من الدلجة ‏"‏‏.‏

    ہم سے عبدالسلام بن مطہر نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ ہم کو عمر بن علی نے معن بن محمد غفاری سے خبر دی، وہ سعید بن ابوسعید مقبری سے، وہ ابوہریرہ سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک دین آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی اختیار کرے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا (اور اس کی سختی نہ چل سکے گی) پس (اس لیے) اپنے عمل میں پختگی اختیار کرو۔ اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو اور خوش ہو جاؤ (کہ اس طرز عمل سے تم کو دارین کے فوائد حاصل ہوں گے) اور صبح اور دوپہر اور شام اور کسی قدر رات میں (عبادت سے) مدد حاصل کرو۔ (نماز پنج وقتہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ پابندی سے ادا کرو۔)

    باب: نماز ایمان کا جزو ہے
    وقول الله تعالى ‏ {‏ وما كان الله ليضيع إيمانكم‏}‏ يعني صلاتكم عند البيت‏.‏
    اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ تمہارے ایمان کو ضائع کرنے والا نہیں۔ یعنی تمہاری وہ نمازیں جو تم نے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھی ہیں، قبول ہیں۔​

    حدیث نمبر 40:
    حدثنا عمرو بن خالد،‏‏‏‏ قال حدثنا زهير،‏‏‏‏ قال حدثنا أبو إسحاق،‏‏‏‏ عن البراء،‏‏‏‏ أن النبي صلى الله عليه وسلم كان أول ما قدم المدينة نزل على أجداده ـ أو قال أخواله ـ من الأنصار،‏‏‏‏ وأنه صلى قبل بيت المقدس ستة عشر شهرا،‏‏‏‏ أو سبعة عشر شهرا،‏‏‏‏ وكان يعجبه أن تكون قبلته قبل البيت،‏‏‏‏ وأنه صلى أول صلاة صلاها صلاة العصر،‏‏‏‏ وصلى معه قوم،‏‏‏‏ فخرج رجل ممن صلى معه،‏‏‏‏ فمر على أهل مسجد،‏‏‏‏ وهم راكعون فقال أشهد بالله لقد صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل مكة،‏‏‏‏ فداروا كما هم قبل البيت،‏‏‏‏ وكانت اليهود قد أعجبهم إذ كان يصلي قبل بيت المقدس،‏‏‏‏ وأهل الكتاب،‏‏‏‏ فلما ولى وجهه قبل البيت أنكروا ذلك‏.‏ قال زهير حدثنا أبو إسحاق عن البراء في حديثه هذا أنه مات على القبلة قبل أن تحول رجال وقتلوا،‏‏‏‏ فلم ندر ما نقول فيهم،‏‏‏‏ فأنزل الله تعالى ‏ {‏ وما كان الله ليضيع إيمانكم‏}‏

    ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا، ان کو حضرت براء بن عازب نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو پہلے اپنی نانہال میں اترے، جو انصار تھے۔ اور وہاں آپ نے سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی اور آپ کی خواہش تھی کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ کی طرف ہو (جب بیت اللہ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہو گیا) تو سب سے پہلی نماز جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف پڑھی عصر کی نماز تھی۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگوں نے بھی نماز پڑھی، پھر آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والوں میں سے ایک آدمی نکلا اور اس کا مسجد (بنی حارثہ) کی طرف گزر ہوا تو وہ لوگ رکوع میں تھے۔ وہ بولا کہ میں اللہ کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے۔ (یہ سن کر) وہ لوگ اسی حالت میں بیت اللہ کی طرف گھوم گئے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے، یہود اور عیسائی خوش ہوتے تھے مگر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف منہ پھیر لیا تو انہیں یہ امر ناگوار ہوا۔ زہیر (ایک راوی) کہتے ہیں کہ ہم سے ابواسحاق نے براء سے یہ حدیث بھی نقل کی ہے کہ قبلہ کی تبدیلی سے پہلے کچھ مسلمان انتقال کر چکے تھے۔ تو ہمیں یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ان کی نمازوں کے بارے میں کیا کہیں۔ تب اللہ نے یہ آیت نازل کی وما کان اللہ لیضیع ایمانکم (البقرہ: 143)۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں