میلادشریف اور ابن تیمیہ

اقبال ابن اقبال نے 'ماہِ ربیع الاوّل' میں ‏جنوری 22, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اقبال ابن اقبال

    اقبال ابن اقبال -: معاون :-

    پیغامات:
    67
    علامہ ابن تیمیہ (661. 728ھ)

    علامہ تقی الدین احمد بن عبد الحلیم بن عبد السلام بن تیمیہ (1263۔ 1328ء) اپنی کتاب اقتضاء الصراط المستقیم لمخالفۃ اصحاب الجحیم میں لکھتے ہیں :

    وکذلک ما يحدثه بعض الناس، إما مضاهاة للنصاري في ميلاد عيسي عليه السلام، وإما محبة للنبي صلي الله عليه وآله وسلم وتعظيمًا. واﷲ قد يثيبهم علي هذه المحبة والاجتهاد، لا علي البدع، من اتخاذ مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم عيدًا.

    ’’اور اِسی طرح اُن اُمور پر (ثواب دیا جاتا ہے) جو بعض لوگ ایجاد کرلیتے ہیں، میلادِ عیسیٰ علیہ السلام میں نصاریٰ سے مشابہت کے لیے یا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور تعظیم کے لیے۔ اور اﷲ تعالیٰ اُنہیں اِس محبت اور اِجتہاد پر ثواب عطا فرماتا ہے نہ کہ بدعت پر، اُن لوگوں کو جنہوں نے یومِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہ طور عید اپنایا۔‘‘

    ابن تيميه، اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم : 404

    اِسی کتاب میں دوسری جگہ لکھتے ہیں :

    فتعظيم المولد واتخاذه موسماً، قد يفعله بعض الناس، ويکون له فيه أجر عظيم؛ لحسن قصده، وتعظيمه لرسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، کما قدمته لک أنه يحسن من بعض الناس ما يستقبح من المؤمن المسدد.

    ’’میلاد شریف کی تعظیم اور اسے شعار بنا لینا بعض لوگوں کا عمل ہے اور اِس میں اُس کے لیے اَجر عظیم بھی ہے کیوں کہ اُس کی نیت نیک ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم بھی ہے، جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک ایک اَمر اچھا ہوتا ہے اور بعض مومن اسے قبیح کہتے ہیں۔‘‘

    ابن تيميه، اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم : 406
     
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر ركن مجلس علماء

    پیغامات:
    7,943
    اقبال ابن اقبال صاحب !
    ابن تیمیہ کی عبارت کو سیاق وسباق سے کاٹ پیش کرنے کے باوجود تحریف معنوی کرتے ہوئے تو کچھ خیال کرلینا تھا !

    سیاق وسباق سے قطع نظر آپ نے جتنی عبارت کاٹ کر پیش کی ہے اسکا بھی ترجمہ درست نہیں کیا ہے !

    واﷲ قد يثيبهم علي هذه المحبة والاجتهاد، لا علي البدع، من اتخاذ مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم عيدًا.

    کا ترجمہ آپ نے کیا ہے :
    اور اﷲ تعالیٰ اُنہیں اِس محبت اور اِجتہاد پر ثواب عطا فرماتا ہے نہ کہ بدعت پر، اُن لوگوں کو جنہوں نے یومِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہ طور عید اپنایا۔‘
    حالانکہ اسکا ترجمہ یوں بنتا ہے :
    اور اللہ تعالى انہیں اس محبت اور اجتہاد پر ثواب عطاء فرماتا ہے نہ کہ نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کے یوم پیدائش کو بطور عید منانے کی بدعتوں پر !
    یعنی شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اجتہاد کرنے والوں کو ثواب کا مستحق قرار دے رہے ہیں نہ کہ نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کے یوم پیدائش کو بطور عید منانے کی بدعت کا ارتکاب کرنے والوں کو !!!
    فتدبر !

    اور پھر نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مجتہد سے جب غلطی ہو جائے تو بھی اسے ایک اجر ملتا ہے اور اگر اسکا اجتہاد درست ہو تو اسے دو اجر ملتے ہیں ۔
    لیکن یہ یاد رہے کہ یہ بات مجتہد کے بارہ میں ہے ۔ لیکن جو ہٹ دھرم ہو اور بات کے واضح ہو جانے کے باوجود اسے نہ مانے اسے مجتہد نہیں کہتے بلکہ اسے متعصب یا مقلد کہا جاتا ہے !
    کیونکہ مجتہد تو صواب اور درستگی کو تلاش کرتا رہتا ہے جبکہ متعصب ایک بات پر باضد ہو جاتا ہے ۔
    اور پھر شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ


    اسی طرح آنجناب نے " أنه يحسن من بعض الناس ما يستقبح من المؤمن المسدد." کا ترجمہ یوں کیا ہے :
    بعض لوگوں کے نزدیک ایک اَمر اچھا ہوتا ہے اور بعض مومن اسے قبیح کہتے ہیں۔

    جبکہ اسکا ترجمہ یہ بنتا ہے :
    بعض لوگوں سے ایسے کام کا ارتکاب اچھا ہوتا کہ جسکا ارتکاب ایک صحیح مؤمن سے برا ہوتا ہے ۔

    یعنی ابن تیمیہ رحمہ اللہ ایک مشہور مقولہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ
    "حسنات الأبرار سیآت المقربین"
    یعنی بہت سے ایسے کام ہوتے کہ عام آدمی کرے تو اسے برا نہیں بلکہ اچھا سمجھا جاتا ہے لیکن وہی کام اگر ایک صحیح مؤمن متقی آدمی کرے تو اسے برا سمجھاجاتا ہے !


    الغرض ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی مذکورہ بالا دونوں عبارتیں آپکے موقف کے خلاف ہیں نہ کہ تایید میں !
    خوب سمجھ لیں ۔
     
    عائشہ نے شکریہ ادا کیا ہے.
  3. رفیق طاھر

    رفیق طاھر ركن مجلس علماء

    پیغامات:
    7,943
    عائشہ نے شکریہ ادا کیا ہے.
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    پیغامات:
    24,484
    یہ خود تحریف کی بھی سکت نہیں رکھتے ۔ دراصل ہر موضوع میں طاہر القادری کی کتاب پیسٹ کی جا رہی ہے ۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں