تعجب کے وقت تکبیر اور تسبیح پڑھنے کا بیان

عبد الرحمن یحیی نے 'حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون' میں ‏فروری 5, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,319

    سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیند سے بیدا ہوئے تو فرمایا :
    سبحان اللہ کیا کیا خزا نے اور کیا کیا فتنے نازل کئے گئے ہیں کوئی ہے جو ان حجرہ والیوں کو جگا دے (اس سے مراد آپ کی بیویاں تھیں) تاکہ لوگ نماز پڑھیں۔ دنیا میں بہت سی پہننے والیاں آخرت میں ننگی ہوں گی
    اور ابن ابی ثور نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انہوں نے
    سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کیا انہوں نے بیان کیا کہ
    میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ
    کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں میں نے کہا اللہ اکبر۔
    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1170 ادب کا بیان : باب
    تعجب کے وقت تکبیر اور تسبیح پڑھنے کا بیان

    سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت حیی زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرنے کے لئے آئیں اس وقت آپ مسجد میں رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف میں تھے اور آپ کے پاس کچھ رات تک گفتگو کرتی رہیں پھر چلنے کو کھڑی ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کو پہنچانے کے لئے کھڑے ہوئے یہاں تک کہ جب مسجد کے اس دروازے پر پہنچ گئیں جو ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکان کے پاس تھا تو دو انصاری آپ کے پاس سے گزرے اور ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا پھر دونوں روانہ ہو گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا ذرا ٹھہرنا یہ صفیہ بنت حیی ہیں ان دونوں نے کہا سبحان اللہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان دونوں پر یہ بہت گراں گزرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان ابن آدم کی رگوں میں خون کی طرح گردش کرتا ہے اس لئے مجھے خیال پیدا ہوا کہ کہیں وہ (یعنی شیطان) تمہارے دل میں وسوسہ نہ ڈال دے۔
    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1171 ادب کا بیان : باب
    تعجب کے وقت تکبیر اور تسبیح پڑھنے کا بیان



    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ مدینہ کی کسی گلی میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مل گئے اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنبی تھے، (وہ کہتے ہیں کہ) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدہ ہوگیا، اور جا کر غسل کیا، پھر آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوہریرہ تم کہاں چلے گئے تھے؟ ابوہریرہ نے کہا کہ میں جنبی تھا اور ناپاکی کی حالت میں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھنا مناسب نہ سمجھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! مومن (کسی حال میں) نجس نہیں ہوتا۔
    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 283 غسل کے بارے بیان : باب
    جنبی کے پسینہ کا بیان اور مومن نجس نہیں ہوتا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا یا شیخ!
     
  3. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,466
    جزاک اللہ خیرا یا شیخ!
     
  4. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,873
  5. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    جزاک اللہ خیرا یا عبدالرحمن اخی.
     
  6. ام مطیع الرحمن

    ام مطیع الرحمن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2013
    پیغامات:
    1,550
    احسنت۔بارک اللہ فی عمرک و علمک
     
  7. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    جزاک اللہ خیرا بھائی
     
  8. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,122
    جزاک اللہ خیرا
     
  9. سائرہ ساجد

    سائرہ ساجد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 3, 2011
    پیغامات:
    693
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں