بیوی کی کمائی کے مطلق سوال؟

ام محمد نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏فروری 18, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    پیغامات:
    3,122
    اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    کیا بیوی کو اپنی کمائی میں سے خرچ کرنے کے لیے شوہر کی اجازت لینا ضروری ہے ؟
    اور بیوی کے پاس جو والدین کی طرف سے زیور ہےیا جو شوہر نے خرید کر دیا ہے - اس میں سے بیوی اپنی مرضی سے کسی کو یا اللہ کی راہ میں دے سکتی ہے-
     
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر ركن مجلس علماء

    پیغامات:
    7,943
    کوئی بھی بیوی اپنی کمائی یا اپنا مال بھی خاوند کی اجازت کے بغیر خرچ نہیں کرسکتی !
    حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ وَحَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ أَمْرٌ فِي مَالِهَا إِذَا مَلَكَ زَوْجُهَا عِصْمَتَهَا
    رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کسی بھی عورت کے لیے اپنے مال میں کسی بھی قسم کا تصرف جائز نہیں ہے جب اسکا خاوند اسکی عصمت کا مالک ہو ۔
    سنن أبی داود کتاب البیوع باب فی عطیۃ المرأۃ بغیر إذن زوجہا ح ۳۵۴۶

    یاد رہے کہ خاوند یا دیگر لوگوں کی اجازت دو طرح سے ہوتی ہے ۔
    ایک تو یہ کہ وہ خود اپنے منہ سے بول کر اجازت دے اسے اجازت لفظی کہتے ہیں
    اور دوسرا یہ کہ وہ کسی کام پر برا نہ منائے ۔ اسے اجازت حکمی کہتے ہیں ۔
    عموما عورتیں اپنے گھر میں سے ایک محدود مقدار میں خرچ یا صدقہ یا ہبہ کریں تو انکے خاوند اس پر ناراض نہیں ہوتے بلکہ موافقت کرتے ہیں ۔ حالانکہ انہوں نے اپنے منہ سے بول کر وہ کام کرنے کی اجازت نہیں دی ہوتی ۔ یہ اجازت حکمی ہے ۔
    اور اس مال کی مقدار کہ جس پر خاوند ناراض نہیں ھوتا مختلف لوگوں میں مختلف ہوتی ہے ۔ مالدار لوگوں میں ہزاروں کے حساب سے اور متوسط لوگوں میں سو کے حساب سے اور نہایت غریب لوگوں میں دہائیوں کے حساب سے ۔
    ہاں بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ خاوند بہت کنجوس ہوتا ہے اور وہ کچھ بھی خرچ نہیں کرنے دیتا ۔ تو ایسی صورت میں عورت اپنے یا خاوند کے مال سے کچھ بھی خرچ نہیں کرسکتی اسکی اجازت کے بغیر ۔
    البتہ اگر خاوند اتنا ہی کنجوس ہو کہ وہ بنیادی اخرجات بھی پورے نہ کر رہا ہو , تو بیوی خاوند کی اجازت کے بغیر اپنا یا خاوند کا مال اسقدر خرچ کر سکتی ہے جس سے اسکی بنیادی ضروریات پوری ہو سکیں ۔
    یاد رہے کہ بنیادی ضروریات میں صرف رہائش , لباس اور خوراک شامل ہیں جسکے بغیر زندہ رہنا دشوار ہو !
     
    نعیم یونس نے شکریہ ادا کیا ہے.
  3. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    پیغامات:
    3,122
    جزاک اللہ خیرا
    اگرباپ، بھائی اور بیٹایا کوئی اور محرم مرد یعنی چچا،ماموں وغیرہ عورت کا کفیل ھو تو کیا پھر بھی یہی اصول لاگو ہو گا-
     
    عائشہ نے شکریہ ادا کیا ہے.
  4. رفیق طاھر

    رفیق طاھر ركن مجلس علماء

    پیغامات:
    7,943
    نہیں !
    البتہ ہر حال میں قریبی محرم سے مشاورت کرکے فیصلہ کرنا ہی بہتر ہے ۔
     
  5. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    پیغامات:
    3,122
    جزاک اللہ خیرا
     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    پیغامات:
    24,484

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں