صحابہ كرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے در گزر كرنے كا حكم

آزاد نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏مارچ 20, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. آزاد

    آزاد ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 21, 2007
    پیغامات:
    4,564
    (10)
    صحابہ كرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے در گزر كرنے كا حكم


    حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے تمام تر فضائل و مراتب کے باوصف معصوم نہ تھے۔ ان سے خطائیں‌رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک میں‌بھی ہوئیں بلکہ بسا اوقات بڑی سنگین ہوئیں ‌مگر اللہ تعالی نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے درگزر فرمایا اور ان کے بارے میں‌ معافی کا اعلان بھی فرمایا بلکہ اللہ تعالی نے اپنے رسول کو معافی دینے کا حکم فرمایا، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

    فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّـهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ۖ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ
    (سورة آل عمران : 159)
    "پس اللہ کی طرف سے بڑی رحمت ہی کی وجہ سے تو ان کے لیے نرم ہو گیا ہے اور اگر تو بد خلق، سخت دل ہوتا تو یقینا وہ تیرے پاس سے منتشر ہو جاتے، سو ان سے درگزر کر اور ان کے لیے بخشش کی دُعا کر اور کام میں‌ان سے مشورہ کر۔"
    یہ آیت کریمہ غزوہ احد کے پسِ منظر میں ‌نازل ہوئی تھی، آپ کا ارادہ تھا کہ مدینہ طیبہ کے اندر رہ کر مشرکینِ مکہ کے لشکر کا مقابلہ کیا جائے مگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مشورہ کے بعد آپ باہر میدان میں‌ مقابلے کے لیے تیار ہوئے، میدان میں‌ چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو ایک چھوٹی پہاڑی پر کھڑا کیا اور حکم دیا کہ تم نے بہر نوع یہاں‌ کھڑے رہنا ہے ،، ادھر جب سخت حملہ ہوا تو کچھ صحابہ میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے، جس کے نتیجہ میں ‌فتح شکست میں‌ تبدیل ہونے لگی، ستر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہو گئے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہوئے اور اور آپ کا دانت مبارک ٹوٹ گیا، ان تمام باتوں‌کا آپ کو سخت صدمہ ہوا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں‌ میں‌ مشورہ دینے پر ندامت پائی گئی کہ ہمارے مشورے کے نتیجہ میں ‌بات یہاں‌تک پہنچی ہے مگر اللہ سبحانہ و تعالی نے ان کی دلجوئی فرماتے ہوئے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ ان سے جو خطا ہوئی اسے آپ معاف کر دیں‌ بلکہ ان کی کمال خیر خواہی میں ‌ان کے لیے بخشش کی دعا بھی کریں‌ بلکہ آئندہ کے لیے بھی ان سے مشورہ لیتے رہیں ‌تاکہ ان کی پوری تشفی و تسلی ہو جائے اور آپ کی نگاہوں ‌میں ‌انھیں‌ اپنی کوتاہی کا احساس نہ رہے۔
    یہاں یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ اس آیت سے قبل آیت نمبر (152) میں‌میدان احد میں‌پہاڑی پر کھڑے کیے گئے بعض صحابہ کی غلطی سے جو پانسا پلٹا اس پر سر زنش کے طور پر فرمایا گیا:
    مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ الْآخِرَةَ (سورۃ آل عمران: 152)

    "تم میں‌سے کچھ وہ تھے جو دنیا چاہتے تھے اور تم میں‌سے کچھ وہ تھے جو آخرت چاہتے تھے۔"
    یہاں مال غنیمت جمع کرنے کے اقدام کو دنیا طلبی سے تعبیر کیا گیا ہے، حالانکہ ان کا یہ اقدام خالص دنیا طلبی نہ تھا کیونکہ وہ مال غنیمت جمع کرنے کےلیے پہاڑی پر سے نیچے اترتے یا نہ اترتے، دونوں صورتوں میں مال غنیمت میں سے انہیں وہی حصہ ملنا تھا جو انہیں دوسرے مجاہدین کے ساتھ ملنا تھا۔ ظاہر ہے اس صورت میں ان کے اقدام کو خالص دنیا طلبی نہیں کہا جاسکتا مگر رسول اللہﷺ کے حکم کی خلاف ورزی میں مال غنیمت کا خیال آنے کو بھی دنیا طلبی سے تعبیر کیا گیا مگر ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” وَلَقَدْ عَفَا عَنكُمْ [آل عمران : 152] “ بلاشبہ یقیناً اس نے تمہیں معاف کردیا۔
    اسی طرح جو حضرات میدان سے بھاگ نکلے تھے اس کے بعد آیت نمبر (155) میں ان کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” وَلَقَدْ عَفَا اللّهُ عَنْهُمْ [آل عمران : 155] “ اور بے شک یقیناً اللہ نے انہیں معاف کردیا۔
    پہلے گویا اللہ تعالیٰ نے خود انہیں معافی نامہ دیا، پھر اپنے نبیﷺ سے فرمایا کہ آپ بھی انہیں معاف کردیں بلکہ ان کےلیے بخشش کی دعا کریں، رہے مشورہ دینے والے تو ان کی دلجوئی کےلیے مزید حکم دیا کہ آئندہ انہیں حسب ِ سابق مشورہ میں شریک رکھیں تاکہ انہیں کسی قسم کی ناقدری کا احساس نہ ہو۔
    اندازہ کیجئے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کمال دلجوئی اور معانی نامہ کے باوصف روافض اور ان کی معنوی ذریت کی طرف سے آج بھی ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں اس حوالے سے طعن و تشنیع کے نشتر چلائے جاتے ہیں اور ” مِنكُم مَّن يُرِيدُ الْآخِرَةَ (سورۃ آل عمران: 152) “ سے اپنے بدباطن کا اظہار کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ ان میں دنیا طلب بھی تھے۔ [FONT="Al_Mushaf"]نعوذ باللہ من شرور انفسنا

    صحیح بخاری میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کو معلوم ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ احد کے دن بھاگ گئے تھے؟ انہوں نے فرمایا: معلوم ہے، اس نے کہا: آپ کے علم میں ہے کہ وہ غزوہ بدر میں شریک نہ تھے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں، معلوم ہے، اس نے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بیعت رضوان میں بھی شریک نہ تھے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں، معلوم ہے۔ اس نے اللہ اکبر کہا۔ (اتنی کوتاہیوں کے باوصف عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ؟) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ادھر آؤ، میں تمہیں ان باتوں کی حقیقت بتلاتا ہوں، احد کی لڑائی میں بھاگ جانا تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ نے ان کا قصور معاف کردیا اور انہیں بخش دیا۔ رہا بدر میں شریک نہ ہونا تو اس کا سبب یہ تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آنحضرت ﷺ کی بیٹی (رقیہ رضی اللہ عنہا) تھیں، وہ بیمار تھیں جس کی بنا پر انہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا: (تم ان کی تیمارداری میں رہو) تمہیں بدر میں شریک ہونے والوں کے برابر اجرو ثواب اور مال غنیمت ملے گا۔ رہا بیعت رضوان میں غائب ہونا (تو اس میں بھی ان کی فضیلت ہے) اگر اہل مکہ کے ہاں رسول اللہﷺ کے علم میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کوئی زیادہ عزت والا ہوتا تو آپﷺ اسے مکہ بھیجتے۔ آپﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف بھیجا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ گئے ہوئے تھے کہ بیعت رضوان ہوگئی، اس پر بھی رسول اللہﷺ نے اپنے سیدھے ہاتھ کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ ہے اور اس کو اپنے بائیں ہاتھ پر مارا اور فرمایا: یہ عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت ہے ، پھر ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے کہا: یہ تینوں جواب آپ اپنے ساتھ لے جانا۔(صحیح البخاری: 3698)
    غور کیجئے اللہ تعالیٰ نے غزوہ احد میں بھاگنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو معاف کردیا۔ اللہ نے اپنے نبی کو اس پر درگزر کرنے اور ان کےلیے بخشش کی دعا کا حکم فرمایا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اسے معافی سمجھا مگر دشمنان صحابہ کو یہ معافی ایک نگاہ نہیں بھاتی، جس کا اظہار عہد صحابہ سے تاہنوز کیا جاتا ہے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ نے تحفہ اثنا عشریہ میں روافض کی طرف سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر مطاعن میں اسے سرِ فہرست ذکر کیا ہے۔ اور ان کاجواب دیا ہے بلکہ معروف رافضی ابن المطہر الحلی نے بھی منہاج الکرامۃ میں ان مطاعن کا ذکر کیا ہے اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے منہاج السنہ میں ان کا جواب دیا ہے۔
    اس طرح غزوہ بدر کے موقع پر کفار مکہ کے جو ستر افراد قیدی ہوئے، رسول اللہﷺ نے اپنی رحم دلی اور حضرت ابوبکر صدیق رحمہ اللہ کے مشورہ پر ان سے فدیہ لےکر انہیں چھوڑ دیا مگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو یہ فیصلہ پسند نہ آیا تو اس پر عتاب نازل ہوا کہ ” تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللّهُ يُرِيدُ الآخِرَةَ وَاللّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ [الأنفال : 67] “
    تم دنیا کا سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت کو چاہتا ہے اور اللہ سب پر غالب کمال حکمت والا ہے۔
    یہاں ”دنیا چاہنے“ سے مراد کفار سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑنا ہے اور ”آخرت“ سے مراد انجام کار اور مصلحت کے اعتبار سے ہے کہ کفار مغلوب ہوجائیں ، ان کی کمر ٹوٹ جائے اور مسلمانوں کی دھاک بیٹھ جائے۔ اس کے بعد فرمایا: ” لَّوْلاَ كِتَابٌ مِّنَ اللّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ [الأنفال : 68] “
    اگر اللہ کی طرف سے لکھی ہوئی بات نہ ہوتی ، جو پہلے طے تھی تو تمہیں اس کی وجہ سے جو تم نے لیا بہت بڑا عذاب پہنچتا۔
    لکھی ہوئی بات سے اصحاب بدر کی معافی اور مسلمانوں کےلیے مال غنیمت کی حِلّت کا فیصلہ مراد ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت کے کھانے کا حکم دیا۔ (جو پہلی امتوں کےلیے ناجائز تھا) اور ” إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ “ کہہ کر معافی کا اظہار بھی کردیا۔
    یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ فدیہ لے کر چھوڑ دینے کا فیصلہ تو خود رسول اللہﷺ کا بھی تھا اور اللہ تعالیٰ نے اسے بھی ” تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا [الأنفال : 67] “ فرمایا ہے۔ اور سورۂ آل عمران (152) میں غزوہ احد کے مال غنیمت کے تناظر میں بھی یہی بات فرمائی: ” مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا [آل عمران : 152] “ تم میں سے کچھ دنیا چاہنے والے تھے۔
    اس آیت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دنیا طلبی کا طعنہ دینے والے فیصلہ کریں کہ سورہ ٔ الانفال میں اسی نوعیت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کا مصداق کون ہیں؟ جب اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی نے دونوں مقامات پر معاملہ رفع دفع کردیا ہے تو اس کے بعد بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دنیا طلبی کا طعنہ دینا بد باطنی کا نتیجہ نہیں تو اور کیا ہے۔
    اسی طرح حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت کے معاملے میں حضرت مسطح کی سنگین غلطی پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو درگزر کرنے اور معاف کرنے کا حکم اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سورۃ النور آیت (22) میں دیا، جنہوں نے حضرت مسطح رضی اللہ عنہ کا روزینہ بند کردیا تھا۔ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کی سنگین غلطی سے بھی رسول اللہﷺ نے درگزر فرمایا کہ وہ اہل بدر اور اہل شجرہ میں سے ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ثابت بن الحارث الانصاری کے ترجمہ میں ذکر کیا ہے کہ انصار کا ایک آدمی منافق ہوگیا ، اس کا بھتیجا رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کی شکایت کی کہ میرا چچا منافق ہوگیا ہے، آپﷺ نے فرمایا فرمایا: ” «إنّه قد شهد بدرا وعسى أن يكفّر عنه» “ (الاصابۃ: 198/1)
    وہ بدر میں شریک ہوا ہے ، امید ہے کہ اسے معاف کردیا جائے گا۔
    یعنی اللہ تعالیٰ اسے رجوع کی توفیق عطا فرمائے گا اور اس کی معافی کی سبیل پیدا فرما دے گا۔ حضرت نعمان بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ بدری صحابی ہیں اور بعض نے کہا ہے ان کا نام عبداللہ بن النعمان رضی اللہ عنہ تھا، وہ بدر و اُحُد اور تمام غزوات میں شریک ہوئے، انہوں نے شراب پی بلکہ بعض روایات میں ہے کہ چار بار شراب پی اور اسے حد لگائی گئی، ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی اس پر لعنت ہو، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ” «لاَ تَلْعَنُوهُ، فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ» “ (صحیح البخاری: 6780 وغیرہ، والاصابۃ: 240/6)
    شرب خمر کے بعد حد نافذ کی گئی اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے اس کے ایمان کی گواہی دی۔ بعض وہ بھی ہیں جن سے زنا کا جرم عظیم سرزد ہوا، ان پر حد نافذ کی گئی اور یہی ان کے گناہ کا کفارہ بن گئی، حتی کہ حضرت ماعزبن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں‌تو فرمایا :” «لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهُمْ» “ (صحیح مسلم: 1695)
    کہ ماعز کے لیے استغفارہ کرو، اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ امت کے درمیان تقسیم کی جائے تو وہ کفایت کرے گی۔
    صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی ان زلّات اور جرائم کے باوجود ان کا احترام واجب ہے۔
    غور فرمائیں حضرت ماعز رضی اللہ عنہ کی توبہ کی تعریف کرنے کے باوجود آپ نے فرمایا: اس کے لیے استغفارہ کرو، اللہ سے اس کے لیے بخشش مانگو۔ یہ اس لیے کہ ہمیں‌بہرِ نوع صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے لیے استغفارہ ہی کا حکم ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں‌خطا کا صدور ہوا تو آپﷺ کے انتقال کے بعد اس کا ارتکاب نا ممکن نہیں، ہم انہیں‌ معصوم نہیں‌ سمجھتے ہیں‌مگر یہ بھی یقین رکھتے ہیں‌ کہ اللہ تعالی نے ان سب کے بارے میں‌جنت کا وعدہ اور جہنم سے آزادی کا یقین دلایا ہے، اس لیے قیامت سے پہلے اللہ تعالی اسبابِ مغفرت میں‌سے کوئی نہ کوئی سبب پیدا فرما دے گا اور ان سے کیا وعدہ عفا ہو گا، شیخ الاسلام امام ابنِ تیمیہ رحمتہ اللہ رقمطراز ہیں: ” ولو فُرِض أنه صَدَرَ من واحدٍ منهم ذنب محقَّقٌ فإنّ الله يغفره له بحسناتِه العظيمة، أو بتوبة تَصدُر منه، أوْ يَبتليه ببلاءٍ يكفِّر به سيئاتِه، أو يَقْبَل فيه شفاعةَ نبيِّه وإخوانِه المؤمنين، أو يدعو اللهَ “ (جامع المسائل، المجموعۃ الثالثۃ: 78،79)
    بالفرض اگر ان میں سے کسی سے گناہ ثابت ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس کی عظیم حسنات کی بدولت یا اس کی توبہ کی بنا پر اسے معاف فرمادیں گے، یا اسے کسی ایسی مصیبت وآزمائش میں مبتلا کر دیں گے جو اس کے گناہ کا کفارہ بن جائے گی، یا اس کے بارے میں اپنے نبی کی شفاعت یا اس کے مؤمن بھائیوں کی سفارش قبول فرما لے گا یا وہ اللہ سے ایسی دعا کرے جو اس کے حق میں قبول ہوجائے۔ (اور اس کی بخشش کا باعث جائے۔)
    علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے: کہ اگر کسی صحابی سے امور ِ فسق میں سے کوئی عمل ثابت ہوتا ہے تو اس کے یہ معنیٰ قطعاً نہیں کہ وہ اسی فسق پر فوت ہوئے ہیں، ہم توبہ سے پہلے تو اسے فاسق کہین گے لیکن یہ نہیں کہ وہ اس فسق پر قائم رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کی صحبت کی برکت اور ان اوصاف کے سبب جو اللہ تعالیٰ نے ان کے بیان فرمائے ہیں وہ اس پر قائم نہیں رہتے اور اللہ تعالیٰ انہیں توبہ کی توفیق عطا فرمادیتے ہیں۔ (ملخصاً)(روح المعانی: 133/26)
    لہٰذا جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فیصلہ ان کی بخشش کا اور ان سے درگزرکرنے کا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے درگزر کرنے کا حکم اپنے حبیب محمد رسول اللہ ﷺ کو دیا ہے تو امت کے کسی فرد کیا حق ہے کہ وہ ان کے بارے میں لب کشائی کرے، ان کی حسنات کی بجائے ان کی زلّات کی تلاش میں رہے اور بر سر ِ منبر ومحراب یا بذریعہ قلم وقرطاس انہیں رسوا کرنے کی ناپاک جسارت کرے۔ رسول اللہﷺ نے زندگی میں ان کی خطاؤں کے باوجود خود ان سے درگزر کیا بلکہ اپنے امتیوں کو یہ حکم فرمایا: ” دَعُوا لِي أَصْحَابِي لا تَسُبُّوا أَصْحَابِي “ (البزار: 294/3، رقم: 2779 کشف الاستار)
    میری خاطر میرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے درگزر کرو، میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کو برا مت کہو۔
    علامہ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رجاله رجال الصحيح اس حدیث کے سب راوی بخاری کے ہیں۔ (مجمع الزوائد: 21/10)
    حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ” احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي “ (سنن ابن ماجہ، ص: 172، رقم: 2363، مسند احمد: 26/1، ابو یعلیٰ: 102/1، المختارۃ: 96،97، الصحیحۃ: 1116، 431)
    لوگو! میری وجہ سے میرے صحابہ کا خیال رکھو، ان کی رعایت کرو۔
    اور بعض روایات میں ”أحسنوا إلى أصحابي“ کے الفاظ ہیں کہ ”میرے صحابہ کے ساتھ اچھے طریقےسے پیش آؤ“
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ” «إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابِي فَأَمْسِكُوا، وَإِذَا ذُكِرَتِ النُّجُومُ فَأَمْسِكُوا، وَإِذَا ذُكِرَ الْقَدَرُ فَأَمْسِكُوا» “ (طبرانی وغیرہ ، الصحیحۃ: 34)
    کہ جب میرے صحابہ کا ذکر کیا جائے تو خاموش رہو، جب ستاروں کا ذکر کیا جائے تو خاموش رہو اور جب تقدیر کا ذکر کیا جائے تو خاموش رہو۔
    تقدیر پر ہرمسلمان کا ایمان ہے مگر اس میں بحث وتکرار کی ممانعت ہے، ستاروں سے متعلقہ امور اور ان کی تاثیر کے بارے میں بحث وتمحیص منع ہے، اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے بارے میں لب کشائی، ان پر طعن وتشنیع اور ان کے معاملات میں بحث وتکرار سے بھی رسول اللہﷺ نے روک دیا ہے۔
    بلکہ صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں فرمایا: ” فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ “ (صحیح البخاری: 3799)
    کہ ان کے صالحین کی نیکیوں اور خوبیوں کا اعتراف کرو اور ان کے خطاکاروں کی خطاؤں اور لغزشوں سے درگزر کرو۔
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس روایت کے الفاظ اس طرح ہیں: ” أَكْرِمُوا أَكْرَمَهُمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ “ (۱)
    ان کے محترم حضرات کی تکریم کرو اور ان کے خطا کاروں سے درگزر کرو۔
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے۔ ان کے خطاکاروں سے درگزر کرنے کا یہ مطلب قطعاً نہیں کہ اگر ان سے کسی کے حقوق کی ادائیگی اور حدود کے معاملات میں کوتاہی ہوجائے تب بھی ان سے درگزر کرو بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان کی عملی کوتاہیوں اور کمزوریوں سے درگزرو کرو ، ان پر طعن وملامت نہ کرو اور ان کی غلطیوں کا مواخذہ نہ کرو۔ انصار صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں یہ حکم ایک خاص پس منظر میں مہاجرین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہوا تھا کیونکہ آئندہ خلافت وسیادت انہی کے حصہ میں آنے والی تھی مگر انصار صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں یہ حکم پوری امت کو ہے بلکہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ہے کہ ان سے درگزر کرو۔
    حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں اس حالت میں حاضر ہوئے کہ اپنے کپڑوں کا کونا اٹھائے ہوئے اور اپنا گھٹنا ننگا کیے ہوئے تھے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا تمہارے صاحب (ابوبکر) کسی سے لڑ کر آئے ہیں، انہوں نے سلام کیا اور بیٹھ گئے، پھر کہنے لگے میرے اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مابین کچھ تکرار ہوگئی تھی میں نے انہیں سخت سست کہہ دیا، پھر میں شرمندہ ہوا اور ان سے معافی چاہی مگر انہوں نے معاف نہیں کیا۔ اب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں (کہ آپ ان کو سمجھائیں) یہ سن کر رسول اللہﷺ نے تین بار ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حق میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کرے (عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی معافی کےلیے تو رسول اللہﷺ نے تین بار دعا کردی ہے۔) پھر عمر رضی اللہ عنہ شرمندہ ہوئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر گئے، پوچھا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں؟ انہیں بتلایا گیا کہ نہیں ہیں، آخر وہ بھی رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور آپ کو سلام کیا، آپﷺ کے چہرہ انور کا رنگ بدلنے لگا۔ابوبکر رضی اللہ عنہ ڈر گئے کہ آپ عمر رضی اللہ عنہ پر خفا نہ ہوں، وہ دو زانو ہوکر بیٹھے اور عرض کیا (یا رسول اللہ!) اللہ کی قسم خطا میری ہے، خطا میری ہے، اس وقت رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ نے مجھے نبی بنا کر تمہاری طرف بھیجا لیکن تم نے مجھے جھوٹا کہا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے سچا کہا اور اپنے مال و جان سے میری خدمت کی۔ ” فَهَلْ أَنْتُمْ تَارِكُوا لِي صَاحِبِي “ (صحیح البخاری: 3661، 18/7 مع الفتح)
    کیا تم میری خاطر میرے دوست کو ستانا چھوڑ تے ہو یا نہیں؟
    یہاں بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپﷺ نے ایک پس منظر میں یہ بات فرمائی، جبکہ یہ حکم سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ہے کہ ان سے درگزر کرو اور انہیں برا مت کہو ، بلکہ آپ تو اپنے کسی صحابی کی شکایت سننا بھی گوارا نہیں کرتے تھے، چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ” «لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِي عَنْ أَحَدٍ شَيْئًا، فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ» “(سنن ابی داؤد مع العون: 415/4، جامع الترمذی مع التحفۃ: 367/4، مسند احمد : 392/1 وغیرہ)
    کہ کوئی بھی مجھ سے میرے کسی صحابی کی شکایت نہ کرے میں چاہتا ہوں کہ میں تمہاری طرف نکلوں اور میرا دل صاف ہو۔
    اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے مؤمنین سابقین کے بارے میں بخشش ومغفرت کی دعا کرنے والوں کی تحسین وتعریف کی ہے، چنانچہ سورۃ الحشر میں اللہ تعالیٰ نے مال ِ فے کے بارے میں فرمایا ہے کہ اس کے حقدار مہاجرین وانصار ہیں اور وہ بھی حق دار ہیں جو ان کے بعد ہوئے اور وہ اپنے سے پہلے ایمانداروں کےلیے بخشش کی دعا کرتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ” وَالَّذِينَ جَاؤُوا مِن بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلّاً لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ [الحشر : 10] “
    اور جو ان (مہاجرین و انصار) کے بعد آئے، وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کےلیے کوئی بغض نہ رکھ، اے ہمارے رب! بے شک تو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔
    گویا مال فے کے تین حق دار ہیں:
    ۱: مہاجرین
    ۲: انصار
    ۳: وہ ایمان دار جو ان کےلیے بخشش کی دعا کرتے ہیں۔
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مال ِ فے تو دراصل مہاجرین وانصار کے جہاد سے حاصل ہوا ہے اور وہ اس کے حق دار ہیں، رہے ان کے بعد آنے والے تو ان کی حیثیت بالکل اسی طرح ہے جیسے وارثین اپنے باپ کی میراث کے حق دارہوتے ہیں۔ اور وہ ، وہ ہیں جو ان کے بعد انہی کے نقش قدم پر چلیں اور اپنے پیش روایمانداروں کے بارے میں بخشش کی دعا کرتے ہیں اور جو ایسے نہیں بلکہ ان کے بارے میں بغض رکھتے ہیں تو وہ اس مال ِ فے کے حصہ داروں میں نہیں ہیں۔ (جامع المسائل، مجموعۃ الثالثۃ: 78)
    امام مالک اور امام احمد رحمہااللہ کی بھی یہی رائے ہے۔ (احکام القرآن لابن العربی)
    اس آیت کریمہ سے مال ِ فے کے حق داروں کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوا کہ مہاجرین وانصار کے بعد اہل ایمان اپنے پیش رو ایمانداروں کے بارے میں بخشش کی دعا کرتے ہیں مگر یہ کیا ستم ظریفی ہے کہ ایمان کے بعض دعوے دار ان کے بارے میں بغض ونفرت کا اظہار کرتے ہیں اور انہیں سب وشتم کا نشانہ بناتے ہیں۔
    حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بڑی سبق آموز بات فرمائی کہ لوگوں کے تین مراتب ہیں، دو گزر گئے، ایک باقی ہے، پھر انہوں نے سورۃ الحشر کی آیت نمبر (8) تلاوت کی : ” لِلْفُقَرَاء الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَاناً وَيَنصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ [الحشر : 8] “ اور فرمایا: یہ مہاجرین تھے اور یہ مرتبہ گزر گیا، پھر اس کی آیت نمبر (9) ” وَالَّذِينَ تَبَوَّؤُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ [الحشر : 9] “ تلاوت کی اور فرمایا: یہ انصار ہیں اور یہ مرتبہ بھی گزر چکا، پھر آیت نمبر (10) ” وَالَّذِينَ جَاؤُوا مِن بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلّاً لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ [الحشر : 10] “ تلاوت کی اور فرمایا یہ ایک مرتبہ باقی ہے ، تم بہت بہتر ہو اگر تم اس باقی رہنے والے مرتبہ میں ہوجاؤ۔ (المستدرک: 484/2)
    امام حاکم نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ (شرح اصول الاعتقاد: 1251،1250/7)
    ظاہر ہے کہ یہ اسی صورت میں ہے جب مہاجرین وانصار کے بارے میں بخشش ومغفرت کی دعائیں کی جائیں لیکن اگر اس کے برعکس انہیں سب وشتم کا نشانہ بنایا جائے، ان کے بارے میں بغض وکینہ رکھا جائے تو وہ کس شمار قطار میں ہوں گے، یہ فیصلہ قارئین کرام کے دین وایمان کا ہے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ” «أُمِرُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِأَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبُّوهُمْ» “ (صحیح مسلم: 421/2)
    حکم تو یہ دیا گیا کہ محمدﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں استغفار کرو مگر لوگوں نے انہیں برا کہنا شروع کردیا۔
    ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا کہ کچھ لوگ صحابہ کرام حتی کہ ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہم پر بھی حرف گیری کرتے ہیں تو انہوں نے فرمایا: ” وما تَعْجَبون من هذا؟ انقطع عنهم العملُ، فأحبَّ الله أن لا يقطعَ عنهم الأجْرَ “ (جامع الاصول: 554/8، حدیث: 6366)
    تم اس پر تعجب کیوں کرتے ہو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل ختم ہوگئے مگر اللہ نے چاہا کہ ان کے اجر کا سلسلہ منقطع نہ ہو۔
    گویا یہ بدنصیب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا کہہ کر اپنی ہی عاقبت برباد کرتے ہیں ، اس سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا کچھ نہیں بگڑتا۔
    اس کی تائید اس صحیح حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں آپ نے ارشاد فرمایا: کہ میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکاۃ کا اجر لے کر آئے گا مگر کسی کو اس نے گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا اور کسی کو مارا، اس کی نیکیاں انہیں دے دی جائیں گی جب نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو ان کی خطائیں اس بدنصیب پر ڈال دی جائیں گی اور اسے جہنم رسید کردیا جائے گا۔ (صحیح مسلم: 2581)[FONT="Al_Mushaf"] اعاذنا اللہ منہ[/FONT]
    اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ہرزہ سرائی اور بدگوئی کرنے والوں کو اس سے عبرت حاصل کرنی چاہیے اور اپنی عاقبت خراب کرنے سے بچنا چاہیے۔
    اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ فَإِنَّ اللَّهَ عزوجل أَمَرَنَا بِالِاسْتِغْفَارِ لَهُمْ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُمْ سَيَقْتَتِلُونَ “ (زوائد فضائل الصحابۃ لابن احمد: 79/1، 1152/2، اصول اعتقاد اہل السنۃ: 1245۔1250/7، الشریعۃ: 2492/5، منہاج السنۃ: 154/1، الصارم المسلول: 1072/3 وغیرہ)
    کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا مت کہو، بے شک اللہ تعالیٰ نے یہ جانتے ہوئے کہ عنقریب وہ قتل وقتال میں مبتلا ہوں گے، ہمیں ان کے بارے میں استغفار کا حکم فرمایا ہے۔
    بالکل یہی بات امام ضحاک رحمہ اللہ نے بھی فرمائی ہے۔(فتح المغیث للسخاوی: 274/3)
    جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں درگزر کرنے اور ان کی کمزوریوں سے صرف ِ نظر کا حکم فرمایا ہے اور ان کے بارے میں بدزبانی و بدکلامی کرنے سے منع کیا ہے بلکہ ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کے بارے میں استغفار کریں۔
    انہی نصوص کی بنا پر ہر دور میں ائمہ سلف نے فرمایا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمیشہ محاسن ذکر کرنے چاہییں اور ان کی خطاؤں اور ان کی باہمی زنجشوں، مشاجرات اور خصومات کو بیان کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
    چنانچہ شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ العقیدۃ الواسطیۃ میں اہل السنۃ والجماعۃ کے عقائد واصول بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ” وَمِنْ أُصُولِ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ سَلَامَةُ قُلُوبِهِمْ وَأَلْسِنَتِهِمْ لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ “ (العقیدۃ الواسطیۃ، ص: 111، ومنہاج السنۃ: 220،219/2)
    اہل السنۃ الجماعت کا اصول ہے کہ وہ اپنے دلوں اور اپنی زبانوں کو رسول اللہﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں محفوظ رکھتے ہیں۔
    امام ابوجعفر طحاوی رحمہ اللہ جو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے عقیدہ وعمل کے ترجمان ہیں، اپنی مشہور کتاب العقیدۃ الطحاویۃ میں رقم طراز ہیں: ” نُحِبُّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َ وَلَا نُفْرِطُ فِي حُبِّ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَلَا نَتَبَرَّأُ مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنُبْغِضُ مَنْ يُبْغِضُهُمْ وَبِغَيْرِ الْخَيْرِ يَذْكُرُهُمْ وَلَا نَذْكُرُهُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ وَحُبُّهُمْ دِينٌ وَإِيمَانٌ وَإِحْسَانٌ وَبُغْضُهُمْ كُفْرٌ وَنِفَاقٌ وطُغْيَانٌ “ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ، ص: 467)
    ہم رسول اللہﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت کرتے ہیں، ان میں سے کسی ایک کی محبت میں نہ افراط کا شکار ہیں اور نہ ہی کسی سے براءت کا اظہار کرتے ہیں اور جو ان سے بغض رکھتا ہے اور خیر کے علاوہ ان کا ذکر کرتا ہے ہم اس سے بغض رکھتے ہیں اور ہم ان کا ذکر صرف بھلائی سے کرتے ہیں ، ان سے محبت دین، ایمان اور احسان ہے اور ان سے بغض کفر ونفاق اور سرکشی ہے۔
    حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین ہونے والے مشاجرات کے بارے میں اپنے تبصرہ کے بعد فرماتے ہیں: ”واتفق أهل السنة على وجوب الكف عما شجر بينهم والإمساك عن مساويهم وإظهار فضائلهم ومحاسنهم وتسليم أمرهم إلى الله عزوجل على ما كان جرى من اختلاف علي وطلحة والزبير وعائشة ومعاوية على ما قدمنا بيانه“ (الغنیۃ: 79/1)
    اہل سنت اس پر متفق ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مشاجرات اور ان کی کمزوریوں پر خاموشی اختیار کرنا، ان کے فضائل اور خوبیوں کو بیان کرنا اور حضرت علی، طلحہ، زبیر ، عائشہ اور معاویہ رضی اللہ عنہم کے مابین وج اختلاف ہوا، اسے اللہ کے سپرد کرنا واجب ہے جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں۔
    شارح صحیح مسلم امام محی الدین النووی فرماتے ہیں: ”اہل سنت اور اہل حق کا مذہب یہ ہے کہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں حسن ِ ظن رکھا جائے، ان کے آپس کے اختلافات میں خاموشی اور ان کی لڑائیوں کی تاویل کی جائے، وہ بلاشبہ مجتہد اور صاحب ِ رائے تھے، معصیت اور نافرمانی ان کا مقصد نہ تھا اور نہ ہی محض دنیا طلبی پیش نظر تھی بلکہ ہر فریق یہ اعتقاد رکھتا تھا کہ وہی حق پر ہے اور دوسرا باغی اور باغی کے ساتھ لڑائی ضروری ہے تاکہ وہ امر الہٰی کی طرف لوٹ آئے، اس اجتہاد میں بعض راہ ِ صواب پر تھے اور بعض خطاپر ، مگر خطا کے باوجود معذور تھے، کیونکہ اس کا سبب اجتہاد تھا اور مجتہد خطا پر بھی گنہگار نہیں ہوتا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان جنگوں میں حق پر تھے ، اہل سنت کا یہی موقف ہے، یہ معاملات بڑے مشتبہ تھے، یہاں تک کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت حیران و پریشان تھی، وہ جماعت فریقین سے علیحدہ رہی اور قتال میں حصہ نہیں لیا، اگر انہیں صحیح بات کا یقین ہوجاتا تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی معاونت میں پیچھے نہ رہتے۔“ (شرح مسلم للنووی: 272،390/2)
    حضرت امام غزالی رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے: ”اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تزکیہ تسلیم کیا جائے، سب کی تعریف کی جائے، جیسے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ نے ان کی تعریف کی ہے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان جو کچھ رونما ہوا وہ اجتہاد پر مبنی تھا۔ الخ“ (احیاء العلوم: 120/1)
    بلکہ علامہ ابن حجر المکی رحمہ اللہ نے امام غزالی رحمہ اللہ کے حوالے سے یہ بھی نقل کیا ہے: ”واعظین اور دوسرے لوگوں کےلیے حرام ہے کہ مقتل ِ سیدنا حسین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین ہونے والے جھگڑوں اور اختلافات کو بیان کریں، کیونکہ یہ جسارت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بغض اور ان پر طعن وملامت کرنے پر برانگیختہ کرتی ہے، حالانکہ وہ تو دین کے ستون ہیں، ائمہ نے ان سے دین روایۃً لیا اور ہم نے ائمہ سے دین درایۃً لیا، لہٰذا ان پر طعن کرنے والا خود مطعون ہے جو اپنے اور اپنے دین میں طعن وملامت کرتا ہے۔“ (الصواعق المحرقۃ: 223)
    اسی طرح امام نعیم احمد بن عبداللہ بن احمد اصبہانی رحمہ اللہ المتوفیٰ: 430ھ رقمطراز ہیں: ” فالإمساك عَن ذكر أَصْحَاب رَسُول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َ - وَذكر زللهم، وَنشر محاسنهم ومناقبهم، وَصرف أُمُورهم إِلَى أجمل الْوُجُوه، من أَمَارَات الْمُؤمنِينَ المتبعين لَهُم بِإِحْسَان الَّذين مدحهم الله تَعَالَى فَقَالَ: {وَالَّذين جَاءُوا من بعدهمْ يَقُولُونَ رَبنَا اغْفِر لنا وَلِإِخْوَانِنَا ... .} الْآيَة مَعَ مَا أَمر النَّبِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َ - بإكرام أَصْحَابه وَأوصى بحقهم وصيانتهم وإجلالهم“ (کتاب الامامۃ والرد علی الرافضۃ، ص: 373)
    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی خطاؤں سے خاموش رہنا ان کے محاسن ومناقب بیان کرنا اور ان کے معاملات کی اچھی توجیہ کرنا ان مؤمنوں کی علامات میں سے ہے جو اخلاص سے ان کی پیروی کرتے ہیں جن کی تعریف اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے کہ جو ان کے بعد ہیں وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے سابقین مؤمنین کو معاف فرما دیجئے اس کے علاوہ رسول اللہﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اکرام کا حکم دیا ہے اور ان کے حقوق، ان کے تحفظ اور ان کی عظمت کو ملحوظ رکھنے کی وصیت کی ہے۔
    اس سے قبل انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی تنازعات اور فقہی اختلافات کے بارے میں مزید فرمایا ہے: ” فَلم يخْتَلف أحد من أهل الْعلم فِي كل زمَان أَن أَصْحَاب رَسُول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َ - فِيمَا اخْتلفُوا فِيهِ واجتهدوا فِيهِ من الرَّأْي مأجورون ومحمودون، وَإِن كَانَ الْحق مَعَ بَعضهم دون الْكل “ (الامامۃ، ص: 370)
    ہر زمانہ کے اہل ِ علم کے مابین اس میں کوئی اختلاف نہیں ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین جو اختلاف ہوا اور انہوں نے اجتہاداً کوئی رائے قائم کی، اس میں وہ ماجور ومحمود ہیں، اگرچہ تمام حق پر نہ تھے بلکہ حق ان میں سے بعض کے ساتھ تھا۔
    ائمہ اہل سنت کی اس نوعیت کی تصریحات کا دائرہ نہایت وسیع ہے، قرن ِ اول سے لے کر چودہویں صدی ہجری تک کے تمام محدثین وفقہاء کا یہی فیصلہ ہے اور انہوں نے عقیدہ کے موضوع پر جس قدر بھی کتابیں لکھی ہیں، ان تمام میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہی عقیدہ رکھنے کی تاکید ہے، جسے ہم نے باقاعدہ حوالوں سے اپنی تالیف ”مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم اور سلف کا موقف“ میں تفصیلاً بیان کردیا ہے۔ [FONT="Al_Mushaf"]والحمد للہ علی ذلک۔[/FONT]

    [/FONT]
     
    • ناپسندیدہ ناپسندیدہ x 1
    • اعلی اعلی x 1
  2. اخت طیب

    اخت طیب -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2013
    پیغامات:
    770
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,466
    جزک اللہ خیرا
     
  4. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    جزاک اللہ خیرا
     
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,488
    جزاک اللہ خیرا وبارک فیک۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں