قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ

آزاد نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏مارچ 28, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. آزاد

    آزاد ركن مجلس علماء

    پیغامات:
    4,564
    قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ​

    جب بلوائیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا رخ کیا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ یہ کیا چاہتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں، پھر انہیں کہا گیا: کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ قتل ہونے کے بعد کہاں ہوں گے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”[FONT="Al_Mushaf"]في الجنة والله
    “ اللہ کی قسم! وہ جنت میں ہوں گے۔ پھرپوچھا گیا کہ ان کے قاتل کہاں ہوں گے تو انہوں نے فرمایا: ”[FONT="Al_Mushaf"]في النار والله
    “ اللہ کی قسم! وہ جہنم میں ہوں گے۔ (ابن ابی شیبہ: 206/15، المعرفۃ للفسوی: 768/2)
    علامہ ابن عساکر رحمہ اللہ وغیرہ نے اسی نوعیت کے اور اقوال بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے نقل کیے ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نگاہوں میں اس سانحہ کی کیا حیثیت تھی اور اس میں شریک ہونے والوں کے بارے میں وہ کیا رائے رکھتے تھے۔
    سید التابعین حضرت ابومسلم خولانی نے قاتلین عثمان سے فرمایا تھا: ”تمہارا حشر وہی ہوگا جو قوم ِ ثمود کا ہوا تھا کیونکہ خلیفہ کی عزت وتکریم اللہ کی اونٹنی سے زیادہ ہے۔ “ (البدایۃ: 197/7)
    یہ ”صاحب کرامات ولی“ وہ ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں: ہمارے ساتھ عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف نکلو، عثمان رضی اللہ عنہ کا خون حلال ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ انکار کردیتے ہیں تو وہ کہتے ہیں: ” فَلِمَ كَتَبْتَ إِلَيْنَا , قَالَ: لَا وَاللَّهِ مَا كَتَبْتُ إِلَيْكُمْ كِتَابًا قَطُّ , قَالَ: فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ , ثُمَّ قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: أَلِهَذَا تُقَاتِلُونَ أَوْ لِهَذَا تَغْضَبُونَ , وَانْطَلَقَ عَلِيٌّ فَخَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى قَرْيَةٍ “ (ابن ابی شیبہ: 617/15)
    آپ نے ہمیں خط کیوں لکھا؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے کبھی بھی تمہاری طرف خط نہیں لکھا، وہ حیرانی سے ایک دوسرے کا منہ دیکھتے اور کہتے ہیں: کیا اس (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کے لیے تم لڑتے ہو، اس کے لیے تم آگ بگولا ہوتے ہو؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ مدینہ طیبہ چھوڑ کر ایک بستی میں تشریف لے جاتے ہیں۔
    غور فرمائیے! یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں کہ آپ نے خط لکھ کر ہمیں یہاں بلوایا ہے۔ مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کا قطعاً انکار کردیتے ہیں۔ یہ ہیں ”صاحب کرامات ولی“ یہی حضرات ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نے سواری پر جاتے ہوئے ایک شخص کو پکڑا جس کے پاس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا خط تھا اور اس پر ان کی مہر لگی ہوئی تھی، جس میں عامل مصر کو لکھا تھا کہ ان آنے والوں کو قتل کردو اور ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دو، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اس خط سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے یہ خط نہیں لکھا، نہ ہی لکھوایا ہے اور نہ ہی اس کے بارے میں مجھے کچھ علم ہے۔ مگر وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے اس حلفیہ بیان پر یقین نہیں کرتے بالکل اسی طرح جس طرح انہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بات پر یقین نہیں آیا بلکہ الٹا یہ کہتے ہیں: اس کے لیے تم لڑتے ہو۔
    اور اسی تناظر میں وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مباح الدم قرار دیتے ہیں۔ یہ ہیں ”صاحب کرامت والی“ سبحان اللہ۔
    حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: خط کی اس پلاننگ سے لوگوں کو ان کے مکروفریب کا پتہ چل گیا۔ (تاریخ اسلام: 440/1)
    وہ یہی ہیں جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کرتے ہیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ دیوار پر سے ان سے بات کرنے کےلیے انہیں السلام علیکم کہتے ہیں، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے غلام ابوسعید رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں نے ان کی طرف سے سلام کا جواب کسی سے نہیں سنا، آہستہ سے کسی نے کہہ دیا ہو تو علیحدہ بات ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے بئر رومہ کو اپنے مال سے خرید کر لوگوں کے لیے وقف کیا مگر آج تم مجھے اس میٹھے کنویں سے روزہ افطار کرنے کے لیے بھی پانی نہیں لینے دیتے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے زمین خرید کر مسجد نبوی کے لیے وقف کی، کیا کبھی کسی کو وہاں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا؟
    مگر ظلم کی اس داستان کو بھی بعض حضرات تسلیم نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں: کہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ اور دوسرے مظالم جو تاریخی روایات میں سے ہیں، بالکل جھوٹ اور وضعی ہیں۔ [FONT="Al_Mushaf"]إنا للہ وإنا إلیہ راجعون۔[/FONT]
    غور فرمائیے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر جور وظلم کی یہ داستان تو جھوٹی قرار پائے مگر قاتلین عثمان اور خارجین صاحب کرامت ولی ٹھہریں۔ فاعتبروا یا أولی الأبصار
    یہ ساری تفصیل بیان کرکےبالآخر ابوسعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” فَعَلِمْتُ أَنَّ أَعْدَاءَ اللَّهِ لَمْ يُرِيدُوا إِلَّا الدُّنْيَا “ (ابن ابی شیبہ: 230-215/15، فضائل الصحابہ للامام احمد: 574/1، الاحسان یعنی صحیح ابن حبان: 36/9، رقم: 6880۔ سندہ صحیح
    میں نے جان لیا کہ اللہ کے ان دشمنوں کا مطمح نظر دنیا تھا۔
    اور مسند اسحاق بن راہویہ سے یہی روایت حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے المطالب العالیہ (رقم: 4438) میں نقل کی اور فرمایا: ”[FONT="Al_Mushaf"]رجالہ ثقات سمع بعضہم من بعض[/FONT]“ کہ اس کے سب راوی ثقہ ہیں اور راویوں نے ایک دوسرے سے سنا ہے، یعنی سند متصل ہے۔ یہی بات علامہ البوصیری رحمہ اللہ نے بھی اتحاف الخیرہ (10/8)میں کہی ہے۔ علامہ ہیثمی رحمہ اللہ نے یہ روایت بحوالہ البزار نقل کی اور فرمایا کہ اس کے سب راوی صحیح بخاری کے ہیں، سوائے ابوسعید مولیٰ ابی سعید کے اور وہ ثقہ ہے۔ (المجمع: 228/7)
    یہی روایت تاریخ المدینہ لابن شبہ، تاریخ خلیفہ بن خیاط اور طبری وغیرہ میں متفرق طور پر منقول ہے، امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اسی نوعیت کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب جھوٹے مکتوبات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے یہ خط بھی جھوٹ کا پلندہ تھا، انہوں نے نہ لکھنے کا حکم دیا اور نہ ہی انہیں اس بارے میں کچھ علم تھا۔ ان کے الفاظ ہیں: ” وَهَكَذَا زُوِّرَ هَذَا الْكُتَّابُ عَلَى عُثْمَانَ أَيْضًا، فَإِنَّهُ لَمْ يَأْمُرْ بِهِ وَلَمْ يَعْلَمْ بِهِ أَيْضًا “ (البدایۃ: 175/7، نیز دیکھیے: 195/7)
    دراصل ان ہی جھوٹے فتنہ پردازوں (جو لسان ِ نبوت ﷺ سے منافق اور حضرت ابوسعید رحمہ اللہ کے فرمان میں اللہ کے دشمن اور دنیا پرست تھے) کی سازشوں میں کچھ نیک دل حضرات بھی پھنس گئے، بالآخر ان ہی شرپسندوں نے اپنے ہاتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاکیزہ خون سے رنگے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بسند حسن امام حسن بصری رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے: ” عمل أَمِير الْمُؤمنِينَ عُثْمَان بْن عَفَّان ثِنْتَيْ عشرَة سنة لَا يُنكرُونَ من إمارته شَيْئا حَتَّى جَاءَ فسقة فداهن وَالله فِي أمره أهل الْمَدِينَة “ (تاریخ الاوسط، رقم: 194/1،460۔ یہی کتاب پہلے التاریخ الصغیر کے نام سے طبع ہوتی رہی ہے اس کے ہندی نسخہ کے (ص: 84) پر بھی یہ قول منقول ہے۔)
    امیر المؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارہ سالہ دور خلافت میں ان کی امارت پر کوئی بھی اعتراض نہیں کرتا تھا تاآنکہ فاسق آئے، اللہ کی قسم! اہل مدینہ نے ان کے بارے میں مداہنت کی۔
    حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ان کو ”[FONT="Al_Mushaf"]خوارج مفسدون فی الارض[/FONT]“ کہا۔(منہاج السنۃ: 189/3)
    ابن عماد نے انہیں ”اراذل من اوباش القبائل“ کہا۔ (شذرات: 40/1)
    یہی کچھ علامہ نووی رحمہ اللہ نےان کے بارے میں (شرح مسلم: 272/2) میں کہا ہے۔ مگر اب ان کے بارے میں باور کرایا جاتا ہے کہ وہ صاحب کرامت ولی تھے۔ سبحان اللہ!
    بلکہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بسند صحیح ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ” لقد عَابُوا عَلَى عُثْمَانَ أشياء, لو فعل بها عمر ما عابوها عليه“ (ابن ابی شیبہ: 50/12، الشریعہ للآجری: 1977/4، الاستیعاب: 157/3)
    لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر جن باتوں کی بنا پر عیب لگایا، اگر وہی باتیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کرتے تو وہ ان پر اعتراض نہ کرتے۔
    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن بصری رحمہ اللہ ہی کیا بات، اس حوالے سے تو رسول اللہﷺ نے بھی وضاحت فرمادی ہے، چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ” تَدُورُ رَحَى الْإِسْلَامِ لِخَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، أَوْ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ، أَوْ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ (الحديث) “ (ابوداؤد مع العون: 159/4، مسند الامام احمد: 393-390/1، المستدرک: 114/3، 521/4، شرح السنۃ: 15/18وغیرہ، وسندہ صحیح)
    اسلام کی چکی 35سال، یا 36سال ، یا 37سال تک چلتی رہے گی۔
    کتب احادیث میں صحیح سند سے مروی ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی السلسلۃ الصحیحۃ (رقم: 976)میں اسے ذکر کیا ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا حادثہ فاجعہ 35ھ میں رونما ہوا۔ اس مدت کے بارے میں رسول اللہﷺ تو فرمائیں کہ اس میں اسلام کی چکی چلتی رہے گی۔ مگر طاعنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس سے اتفاق نہیں، انہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کےک دور میں اسلام کی چکی رکتی اور احکام اسلام میں رخنہ اندازی نظر آتی ہے۔
    یہی نہیں کہ رسول اللہﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور تک اسلام کی سربلندی کا ذکر فرمایا بلکہ انہیں عبائے خلافت نہ اتارنے کی تلقین کی اور ان کے موقف کو مبنی برحق اور مخالفین کو منافق قرار دیا بلکہ ان کے حوالے سے فتنہ سے بچنے والے خوش نصیبوں کو نجات کی بشارت بھی دی، چنانچہ حضرت عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ سے بسند صحیح مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ” مَنْ نَجَا مِنْ ثَلَاثٍ، فَقَدْ نَجَا - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ -: مَوْتِي، وَالدَّجَّالُ، وَقَتْلُ خَلِيفَةٍ مُصْطَبِرٍ بِالْحَقِّ مُعْطِيهِ َ “ (مسند احمد: 33/5، 228، 110-105/4، السنۃ لابن ابی عاصم، رقم: 1177، المستدرک: 101/3، ابن ابی شیبہ: 135/15، دلائل النبوۃ: 393/6، مجمع الزوائد: 334/7)
    کہ جو تین چیزوں سے بچ گیا اس نے نجات پائی۔ یہ بات آپ نے تین بار ارشاد فرمائی، ایک میری موت (پر فتنہ ارتداد) دوسرا دجال (کا فتنہ) تیسرا حق ادا کرنے اور اس پر قائم رہنے والے خلیفہ کا فتنہ۔
    ظاہر ہے کہ اس میں حق پر قائم رہنے والے جس خلیفہ کی طرف اشارہ ہے اس سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مراد ہیں اور محدثین کرام رحمہم اللہ نے اسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مناقب میں ذکر کیاہے۔ غور فرمایا آپ نے کہ رسول اللہﷺ تو اس خلیفہ برحق کے قتل سے بچنے والوں کو فتنہ ارتداد اور فتنہ دجال سے بچنے والے خوش نصیبوں میں قرار دیتے ہیں اور انہیں نجات کی بشارت دیتے ہیں مگر صد افسوس کہ اس کے بالکل برعکس بتلانے والے بتلاتے ہیں اور برسر منبر ومحراب بتلاتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے ان ان غلطیوں کا ارتکاب کیا، ان کے خلاف اقدام کرنے والے صاحب کرامت والی اور جلیل القدر صحابی تھے، انصار صحابہ نے انہیں جنت البقیع میں دفن نہ ہونے دیا!
    كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ ۔۔۔قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاء مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ
    رہے وہ اعتراضات جو مفسدین نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر عائد کیے تھے ان تمام کے جوابات حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دیے۔ جن کی تفصیل البدایہ (171/7)وغیرہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
    مولانا مودودی نے خلافت وملوکیت میں بھی ان اعتراضات کو نقل کیا ہے۔ روافض اور جماعت اسلامی سے وابستہ حضرات کے علاوہ ملک کے تمام مسالک سے وابستہ علمائے کرام نے ان کی اس ”تحقیقی کاوش“ سے اختلاف کیا اور اس کے جواب میں متعدد کتابیں لکھیں۔
    اسی خلافت وملوکیت میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ”ان شکایات میں سے کوئی اگر کوئی شکایت وزنی تھی تو صرف وہی جس کا ذکر ہم اوپر کرچکے ہیں۔ “(خلافت وملوکیت: 118)
    یہ شکایات کس قدر ”وزنی“ تھیں، اس حوالے سے خود انہوں نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ
    ”حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے ایک ایک الزام کا جواب دے کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی پوزیشن صاف کی، مدینے کے مہاجرین وانصار بھی، جو دراصل اس وقت مملکت اسلامیہ میں اہل حل وعقد کی حیثیت رکھتے تھے، ان کے ہمنوا بننے کےلیے تیار نہ ہوئے مگر یہ لوگ اپنی ضد پر قائم رہے اور بالآخر انہوں نے مدینہ میں گھس کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا۔“ (خلافت وملوکیت: 117)
    نیز لکھتے ہیں: ”پھر انہوں نے اس زیادتی پر بھی بس نہ کی بلکہ تمام شرعی حدود سے تجاوز کرکے خلیفہ کو قتل کردیا اور ان کا گھر لوٹ لیا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے جن کاموں کو وہ اپنے نزدیگ گناہ سمجھتے تھے، وہ اگر گناہ تھے بھی تو شریعت کی رو سے کوئی شخص انہیں ایسا گناہ ثابت نہیں کرسکتا کہ اس پر کسی مسلمان کو خون حلا ل ہوجائے۔۔۔۔ جو لوگ شریعت کا نام لے کر ان پر معترض تھے انہوں نے خود شریعت کا کوئی لحاظ نہ کیا اور ان کا خون ہی نہیں ، ان کا مال بھی اپنے اوپر حلا ل کرلیا۔“ (خلافت وملوکیت: 119)
    حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف اس اقدام پر اہل مدینہ کے رائے کے حوالے سے بھی مولانا مودودی نے لکھا ہے: ”اس مقام پر کسی شخص کو یہ شبہ لاحق نہ ہو کہ اہل مدینہ ان لوگوں کے اس فعل پر راضی تھے۔۔۔۔ مدینہ والوں کے لیے تو یہ انتہائی غیر متوقع حادثہ تھا جو بجلی کی طرح ان پر گرا اور بعد میں وہ اس پر سخت نادم ہوئے کہ ہم نے مدافعت میں اتنی تقصیر کیوں کی۔“(خلافت وملوکیت: 120) الخ
    ”شریعت“ کے نام سے فتنہ گروں نے جو فتنہ اٹھایا خود ان کی ”شریعت پر پابندی“ ان اقتباسات سے واضح ہوجاتی ہے۔ اور مدینہ طیبہ کے مہاجرین وانصار کا موقف بھی اس سے سمجھا جاسکتا ہے آج بھی ان حقائق کے برعکس شریعت ہی کی پابندی کے حوالے سے یہ باور کرایا جارہا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے شریعت کی مخالفت کی تھی اور ان کے خلاف یہ اقدام کرنے والے جلیل القدر صحابہ تھے اور وہ ان کے قتل پر معاذ اللہ خوش تھے۔ [FONT="Al_Mushaf"]إنا للہ وإنا إلیہ راجعون۔[/FONT]
    حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف الزامات واعتراضات جو ان فتنہ پردازوں نے اٹھائے تھے اور ”حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کا جواب دے کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی پوزیشن صاف کردی تھی“ ان ہی اعتراضات کو دوبارہ اٹھانا اور اپنی چرب زبانی سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مورد ِ طعن بنانا کیا ان ہی فتنہ پردازوں کی ہمنوائی نہیں؟ جو شریعت کے نام پر شریعت کی دھجیاں اڑا رہے تھے۔ اعاذنا اللہ منہ۔
    اعتراضات کے جواب میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے موقف کی وضاحت حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یا خود حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے نہ بھی کی ہوتی تب بھی رسول اللہﷺ کے فرمان کے بعد کسی سچے مسلمان کےلیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں رہتی، جس میں آپﷺ نے فتنہ کے دور میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو برحق قرار دیا، چنانچہ حضرت مرۃ بن کعب رضی اللہ عنہ (اور بعض نے کعب بن مرۃ نام لیا ہے) فرماتے ہیں: کہ رسول اللہﷺ نے عہد قریب میں فتنوں کا ذکر کیا تو ایک شخص چادر میں لپٹا ہوا سامنے سے گزرا، آپ نے فرمایا: ”[FONT="Al_Mushaf"]ہذا یومئذ علی الہدی[/FONT]“ یہ فتنوں کے دنوں میں ہدایت پر ہوگا۔ اور بعض طرق میں ہے کہ ”یہ اور ان کے ہمنوا ہدایت پر ہوں گے۔“ حضرت مرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اس شخص کی طرف لپکا تو دیکھا، وہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں، میں نے ان کا چہرہ رسول اللہﷺ کی طرف کرتے ہوئے عرض کیا، یہ شخص؟ تو آپ نےفرمایا: [FONT="Al_Mushaf"]نعم[/FONT]، ہاں! یہی شخص۔ (جامع ترمذی، رقم: 3704، مسند امام احمد: 236,235/4، 35-33/5، ابن ابی شیبہ: 42,41/12، السنۃ لابن ابی عاصم، رقم: 1295، المستدرک: 102/3، 433/4، المعجم الکبیر: 316/2، مسند الشامیین: 394/2، حلیۃ الاولیاء: 114/9)
    امام ترمذی رحمہ اللہ نےاسے حسن صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ نے بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔(السلسلۃ الصحیحۃ، رقم: 3119، وصحیح الترمذی: 2922، حاشیۃ مشکاۃ: 1715/3)
    یہی روایت حضرت عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن حوالہ، کعب بن عجرہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی منقول ہے۔(السلسلۃ الصحیحۃ: 3118)
    بلکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں‌ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں‌کا ذکر کیا تو کسی نے کہا ہمیں‌ آپ کیا حکم فرماتے ہیں‌؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ”[FONT="Al_Mushaf"]علیکم بالامین واصحابہ وہو یشیر الی عثمان[/FONT]“ (مسند امام احمد: 345/2، رقم: 8522، والمستدرک للحاکم: 434/4، وابن ابی شیبہ: 51،50/12، ودلائل النبوۃ للقیہقی: 393/6، واتحاف الخیرۃ: 7/8)
    تم امین اور اس کے ساتھیوں‌سے وابستہ رہو اور یہ کہتے ہوئے آپ نے عثمان رضی اللہ عنہ کی اشارہ کیا۔
    امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے صحیح‌الاسناد کہا ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ نے فرمایا اس کی سند جید حسن ہے۔(البدایۃ: 201/7)
    اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے الصحیحہ (رقم: 3188)میں‌اسے درج کیا، لہذا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقا، جن میں‌حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی یقینا شامل ہیں، کے حق پر ہونے اور ان کے امانت دار ہونے کی پیشگوئی فرمائی اور ان کا ساتھ دینے کا حکم فرمایا تو اس صحیح حدیث کے برعکس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مورد الزام ٹھہرانا اور ان پر زبان طعن دراز کرنا اپنی عاقبت تباہ بربار کرنے کے مترادف ہے۔ [FONT="Al_Mushaf"]اَعَاذَنَا اللہ مِنہُ[/FONT]


    کمپوزنگ: آزاد
    [/FONT]
    [/FONT]
     
    نصر اللہ اوربابر تنویر نے اس کا شکریہ ادا کیا
  2. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    پیغامات:
    1,001
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    پیغامات:
    24,484
    جزاک اللہ خیرا وبارک فیک۔
     
  4. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    پیغامات:
    1,849
    جزاکم اللہ خیرا..

    Sent from my CHM-U01 using Tapatalk
     
  5. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    پیغامات:
    3,446
    جزاک اللہ خیر
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں