ماہِ صفر كے اندر ہونے والے غزوات اور اہم واقعات

ابوعکاشہ نے 'ماہِ صفر' میں ‏فروری 11, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,438
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    ان كى تعداد تو بہت زيادہ ہے ليكن بعض كو اختيار كرنا ممكن ہے:

    1 - ابن قيم رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

    پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بنفس نفيس غزوہ ابواء كيا جسے ودان بھى كہا جاتا ہے، يہ غزوہ سب سے پہلا غزوہ ہے جو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بنفس نفيس كيا، يہ غزوہ ہجرت كے بارہويں مہينہ كے آخر ميں ہوا، اور اس كا علم سفيد رنگ كا تھا جو حمزہ بن عبد المطلب رضى اللہ تعالى عنہ كے ہاتھ ميں ديا گيا، اور مدينہ كا امير سعد بن عبادہ رضى اللہ تعالى عنہ كو مقرر كيا گيا، قريش كے قافلہ كے حصول كے ليے ليے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم خاص كرمہاجرين ميں نكلے اور كچھ نہ ملا.

    اس غزوہ ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس دور ميں بنو ضمرہ كے سردار مخشى بن عمرو الضمرى سے صلح اور معاہدہ كيا كہ نہ تو وہ خود اور نہ ہى بنو ضمرہ ان كے خلاف لڑائى كرينگے، اور نہ ہى وہ ان كے خلاف كسى دشمن كى مدد كريں گے اور ان كے خلاف دشمن كى تعداد ميں اضافہ كريں گے، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنے اور ان كے مابين ايك معاہدہ لكھا، اور نبى كريم صلى اللہ وسلم مدينہ سے پندرہ راتيں باہر رہے.

    ديكھيں: زاد المعاد ( 3 / 164 - 165 ).

    2 - اور ان كا يہ بھى كہنا ہے كہ:

    اور سن تين ہجرى صفر كے مہينہ ميں عضل اور قارۃ كے كچھ لوگ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئے اور انہوں نے اپنے اسلام لانے كا ذكر كيا اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے سوال كيا كہ دينى تعليم دينے كے ليے ان كے ساتھ كسى شخص كو بھيجا جائے اور وہ انہيں قرآن كريم كى بھى تعليم دے، تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ان كے ساتھ - ابن اسحاق كے قول كے مطابق - چھ شخص روانہ كيے، اور - امام بخارى كہتے ہيں كہ - يہ دس افراد تھے اور مرثد بن ابو مرثد الغنوى كو ان كا امير بنايا ان ميں خبيب بن عدى رضى اللہ تعالى عنہ بھى تھے يہ ان كے ساتھ گئے اور جب جب الرجيع - يہ حجاز والى جانب ھذيل كا ايك چشمہ تھا - مقام پر پہنچے تو ان صحابہ كرام كے ساتھ غدارى كى اور ھذيل كو ان كے خلاف جنگ كى دعوت دى حتى كہ وہ آئے اور ان ميں سے اكثر كو قتل كر ديا اور خبيب بن عدى اور زيد بن دثنہ رضى اللہ تعالى عنہما كو قيد كر ليا اور انہيں مكہ لے جا كر فروخت كرديا ان دونوں نے بدر كى لڑائى ميں ان كے سرداروں كو قتل كيا تھا.

    ديكھيں: زاد المعاد لابن قيم ( 3 / 244 ).

    3 - اور ايك دوسرى جگہ پر رقمطراز ہيں:

    اور بالكل اسى ماہ ميں يعنى صفر چار ہجرى ميں بئر معونہ كا واقعہ پيش آيا، اس كا اختصار كچھ اس طرح ہے:

    ابو براء عامر بن مالك جو ملاعب الاسنۃ كے نام سے معروف تھا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آيا اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے اسلام كى دعوت دى ليكن اس نے اسلام قبول نہ كيا اور نہ ہى اس سے دور ہوا اور كہنے لگا اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم اگر آپ اپنے صحابہ كو اہل نجد كى طرف دعوت دينے كے ليے روانہ فرمائيں تو مجھے اميد ہے كہ وہ ان كى دعوت مان ليں گے، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرمانے لگے:

    ميں ان كے بارہ ميں اہل نجد سے خوفزدہ ہوں، تو ابو براء كہنے لگا ميں انہيں اپنى پناہ ديتا ہوں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس كے ساتھ ابن اسحاق كے قول كے مطابق چاليس اور صحيح بخارى كے مطابق ستر اشخاص روانہ كيے، صحيح بخارى والى بات ہى صحيح ہے، اور بنو ساعدہ كے ايك شخص منذر بن عمرو جو معنق ليموت كے لقب سے معروف تھا كو ان كا امير مقرر كيا، يہ لوگ مسلمانوں فضلاء اور بہتر قسم كے قراء كرام ميں سے تھے، اس كے ساتھ چل ديے جب بئر معونہ ( يہ حرہ بنو سليم اور بنو عامر كے علاقے كے درميان واقع ہے )پر پہنچے اور وہاں پڑاؤ كيا، پھر انہوں نے ام سليم كے بھائى حرام بن ملحان رضى اللہ تعالى عنہ كو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا خط دے كر اللہ كے دشمن عامر بن طفيل كے پاس روانہ كيا اس نے خط كو ديكھا تك بھى نہ اور ايك شخص كو حكم ديا جس نے حرام رضى اللہ تعالى عنہ كو پيچھے سے نيزہ دے مارا، جب حرام رضى اللہ تعالى عنہ كو نيزہ لگا اور انہوں نے خون ديكھا تو كہنے لگے: اللہ كى قسم ميں كامياب ہو گيا، پھر اللہ كے دشمن نے بنو عامر كو باقى صحابہ كرام كے ساتھ لڑنے كے ليے پكارا تو انہوں نے ابو براء كى پناہ كى بنا پر اس كى بات نہ مانى، تو اس نے بنو سليم كو لڑائى كے ليے بلايا تو عصيہ اور رعل اور ذكوان نے اس كى بات مانتے ہوئے لڑائى پر تيار ہوئے اور آكر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ كرام كو گھير ليا حتى كہ سب كو قتل كرديا صرف كعب بن زيد نجار رضى اللہ تعالى عنہ بچ گئے كيونكہ انہيں رخمى حالت ميں اٹھا ليا گيا اور يہ زندہ رہے حتى كہ جنگ خندق كے دن شہيد ہوئے.

    اور عمرو بن اميہ ضمرى اور منذر بن عقبہ بن عامر مسلمانوں كى ضروريات كے ليے نكلے ہوئے تھے ان دونوں نے لڑائى والى جگہ كے اوپر پرندوں كو گھومتے ہوئے ديكھا تو منذر بن محمد وہاں آئے اور مشركوں سے لڑتے ہوئے اپنے ساتھيوں كے ساتھ ہى قتل كر ديے گئے اور عمرو بن اميہ ضمرى كو قيد كر ليا گيا، اور جب انہوں نے بتايا كہ وہ مضر قبيلہ سے تعلق ركھتے ہيں تو عامر نے اپنى والدہ كے ذمہ غلام كى جگہ انہيں آزاد كر ديا، عمرو بن اميہ واپس پلٹ پڑے جب صدر قناۃ كى قرقرہ نامى جگہ پہنچے اور ايك درخت كے سائے تلے آرام كرنے لگے تو وہاں بنو كلاب كے دوشخص اس كے ساتھ ہى پڑاء كے ليے اتر پڑے، جب وہ دونوں سو گئے تو عمرو نے انہيں قتل كر ديا ان كے خيال ميں انہوں نے اپنے ساتھيوں كا بدلہ ليا تھا، جبكہ ان دونوں كے پاس نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى طرف سے عہد وپيمان تھا ليكن عمرو رضى اللہ تعالى عنہ كو اس كا علم نہ ہو سكا ، جب وہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس پہنچے تو جو كچھ انہوں نے كيا تھا اس كى خبر رسول كريم صلى اللہ وسلم كو دى تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    تو نے تو ايسے دو شخص قتل كيے ہيں جن كى ميں ضرور ديت ادا كرونگا.

    ديكھيں: زاد المعاد لابن قيم ( 3 / 246 - 248 ).

    4 - اور ابن قيم رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

    اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا خيبر كى جانب نكلنا محرم كے آخر ميں تھا نہ كہ محرم كے اوائل ميں اور خيبر صفر ميں فتح ہوا.

    ديكھيں: زاد المعاد ( 3 / 339-340 ).

    5 - اور ان كا يہ بھى كہنا ہے كہ:

    قطبہ بن عامر بن حديدۃ رضى اللہ تعالى عنہ كا خثعم كى جانب سريہ كے متلق فصل:

    يہ نو ( 9 ) ھجرى صفر كے مہينہ ميں ہوا، ابن سعد كہتے ہيں:

    ان كا كہنا ہے كہ: رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے قطبہ بن عامر رضى اللہ تعالى عنہ كو بيس آدميوں كے ساتھ تبالہ علاقے كى جانب قبيلہ خثعم كى طرف بھيجا اور انہيں حملہ كرنے كا حكم ديا، تو يہ سب دس اونٹوں پر بارى بارى سوارى كرتے ہوئے روانہ ہوئے اور راستے ميں ايك شخص كو پكڑا اور اس سے پوچھنے لگے تو وہ ان پر مبہم سا رہا اور اونچى آواز ميں وہاں كے رہائشيوں كو پكار نے لگا اور انہيں آگاہ كرنے لگا تو انہوں نے اسے قتل كرديا، پھر وہ ركے رہے حتى كہ وہاں كے رہائشى سو گئے تو ان پر حملہ كرديا اور بہت شديد قسم كى لڑائى ہوئى جس ميں دونوں فريقوں كے بہت سے لوگ زخمى ہوئے، اور قطبہ بن عامر رضى اللہ تعالى عنہ نے كئى ايك قتل كيے اور ان كے جانور اور عورتيں اور بكرياں مدينہ كى جانب ہانك كر لے گئے.

    اور قصہ ميں يہ بھى ہے كہ: وہ لوگ جمع ہو كر ان كا پيچھا كرنے كے ليے نكلے تو اللہ تعالى نے ان پربہت عظيم سيلاب بھيج ديا جو مسلمانوں اور ان كے مابين حائل ہو گيا تو مسلمان بكرياں اور عورتيں ہانك كے لے گئے اور وہ ديكھتے رہ گئے ان ميں مسلمانوں تك پہنچنے كى استطاعت ہى نہ رہى حتى كہ ان كى نظروں سے اوجھل ہو گئے.

    ديكھيں: زاد المعاد ( 3 / 514 ).

    6 - اور ابن قيم رحمہ اللہ تعالى عنہ كا كہنا ہے كہ:

    اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس عذرۃ كا وقد صفر نو ھجرى ميں ميں آيا جس ميں بارہ افراد شامل تھے ان ميں جمرہ بن نعمان بھى تھا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سوال كيا بھئى كون لوگ ہو تو ان ميں سے بات كرنے والے شخص نے جواب ديا: جن كو آپ ناپسند نہيں كرتے ہم قصي كے ماں جائے بھائى بنو عذرۃ ہيں، ہم وہى ہيں جنہوں نے قصي كو مضبوط كيا تھا اور خزاعۃ اور بنو بكر كو بطن مكہ سے دور كر ديا تھا، اور ہمارى رشتہ دارياں ہيں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    تمہيں خوش آمديد ميں تمہيں خوب جانتا ہوں، تو وہ سب مسلمان ہو گئے اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں شام كے فتح ہونے اور ھرقل كا اپنے ملك سے ممتنع كى جانب بھاگ جانے كى خوشخبرى دى اور انہيں نجوميوں اور كاہنوں سے سوال كرنے سے منع فرمايا، اور جو وہ ذبح كرتے تھے ان كے ان ذبائع سے روك ديا، اور انہيں بتايا كہ ان كے ذمہ صرف ( عيد الاضحى كى ) قربانى ہے، تو وہ كچھ دن دار رملہ ميں رہے اور پھر وہاں سے واپس چلے گئے.

    ديكھيں: زاد المعاد ( 3 / 657 ).
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • اعلی اعلی x 1
  2. بنت واحد

    بنت واحد محسن

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2008
    پیغامات:
    11,962
    بھت خوب
     
  3. asdf

    asdf -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏فروری 12, 2009
    پیغامات:
    34
    جزاک اللہ۔ زاد المعاد سے بہت اچھا اقتباس کیا ہے۔
     
  4. asdf

    asdf -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏فروری 12, 2009
    پیغامات:
    34
    ایک بات پوچھنا چاہوں گا۔ کچھ عرصہ قبل، زاد المعاد کا ایک اختصار شدہ ترجمہ نظروں سے گزرا تھا۔ یہ آپ وہیں سے ٹائپ کررہے ہیں یا کوئی نیا، مکمل ترجمہ آگیا ہے۔
     
  5. مجیب منصور

    مجیب منصور -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 29, 2008
    پیغامات:
    2,151
    بہت بہت جزاک اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہترین ایمانی شیئرنگ ہے
     
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,438
    وعلیکم السلام بھائی !
    جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ''زاد المعاد '' امام ابن القیم رحمہ اللہ کی سیرت پر ایک بے مثال کتاب ہے ۔اور سیرت کتابوں میں‌ اس کا ایک مقام ہے ۔

    چونکہ ''زاد المعاد '' ایک ضخیم کتاب ہے اور عام مسلمانوں کے مطالعہ میں نہیں آ سکتی تھی ۔اس لیے شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے عام مسلمانوں تک اس کو پہنچانے کے '' مختصر زادالمعاد '' کی شکل میں ترتیب دیا ۔ یہ کتاب ''وزارت اسلامی امورو اواقف و دعوت ارشاد سعودی عرب کی شائع کردہ ہے ۔ اور اس کا ترجمہ '' سعید احمد قمر الزماں اندوی '' نے کیا ہے ۔ سیرت کے موضوع پر اہل اردو کے لیے یہ ایک بہترین کتاب ہے ۔ اللہ ان کو جزائے خیر سے جنھوں نے عام مسلمانوں تک پہنچانے کے لئے اس کو اردو میں پیش کیا ۔

    اب یہ نہیں معلوم ہے کہ ''مجاہد'' بھائی نے وہیں سے لیا یا کہیں اور سے ۔ یہ وہی بہتر بتا سکتے ہیں ۔
    السلام علیکم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  7. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    جزاک اللہ خیرا.
     
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جزاک اللہ خیرا۔
     
  9. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاك الله خيرا
     
  10. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,438
    جی یہ اختصار شدہ ترجمہ میرے پاس موجود ہے ۔ میرا خیال ہے اسی سے ٹائپ کیا گیا تھا ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں