عقیدہ توحید کی تعریف

ابوعکاشہ نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏فروری 11, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,438
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    توحید کے لغوی معنی:
    یہ واحد سے تفصیل کے وزن پر ہے.
    کہا جاتا ہے کہ "وَحّدالشئی"
    میں نے اِس چیز کو ایک بنایا اور میں اِس کے ایک ہونے کا اعتقاد رکھتا ہوں.
    واحد عربی میں ایک کو کہتے ہیں، اسی طرح احد کا مطلب بھی ایک ہے
    جس طرح اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے لئے فرمایا:
    ( قل ھو اﷲ احد ) (سورۃ اخلاص : ١)
    [ کہو! کہ وہ اﷲ ایک ہے (یعنی وہ ربوبیت ،الوھیت اور اسماء وصفات میں ایک ہے) ]
    توحید کے اصطلاحی معنی :
    اس بات کا اعتقاد رکھنا کہ اﷲ تعالیٰ ایک ہی ہے اپنے رب ہونے میں ...
    اور اپنے تمام ناموں اور صفتوں میں
    اور اِس بات کا بھی اعتقاد رکھنا کہ وہی ہم سب کا رب اور حقیقی مالک ہے کہ بس صرف وہی عبادت کیئے جانے کا مستحق ہے.
    توحید کا تصور کس صورت میں ممکن ہے؟
    جیسا کہ اوپر توحید کی تعریف بیان کی گئی ہے ،اسی نقطہ نظر کومد نظر رکھتے ہوئے یہ بات بہت اہم و ضروری ہے کہ ان اسباب کا ذکر کیا جائے جن کے بغیر نظریہ توحید کا تصور قائم نہیں ہوسکتا۔
    یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ جب تک اﷲ تعالیٰ کی وجود کو تسلیم نہ کیا جائے اس وقت تک عقیدہ توحید کے بارے میں کوئی نہیں سوچ سکتا ،
    کیونکہ اگر اﷲ تعالیٰ کی ذات ِ پاک کوہی نہ مانا جائے اور اس کے وجود کو سرے سے تسلیم ہی نہ کیا جائے تو پھر کس ذات کی ربوبیت و الوھیت کو مانا جائے گا؟
    و نیز اس کے بغیر شرک کا تصور بھی ختم ہوجاتا ہے کیونکہ شرک کا ارتکاب بھی اﷲ تعالیٰ کی ذات و صفات کی موجودگی کا اقرار کیئے بغیر ناممکن ہے.
    لہٰذا اب اشد ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ حقائق و اسباب بیان کیئے جائیں جو اﷲ تعالیٰ کی وجود کی موجودگی پر دلالت کرتے ہیں
    کیونکہ ایمان باﷲ کا اہم تقاضا یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی ذات کو مع صفات مانا جائے.

    مندرجہ ذیل سطور میں ان اسباب کا ذکر کیا جاتا ہے.اﷲ تعالیٰ کی ذات کی موجودگی پر چار چیزیں دلالت کرتی ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:

    (١) فطرت (٢) عقل (٣) شریعت (٤) حس

    (١) فطرت :
    اﷲ تعالیٰ نے انسان میں فطرت کامادہ پیدا کرکے اپنی موجودگی کی حجت اس پر قائم کردی . جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ کچھ بھی نہیں جانتا اور نہ وہ کچھ کہہ و سمجھ سکتا ہے
    جیسا کہ اﷲ خالقِ عظیم نے فرمایا:
    (واﷲ اخرجکم من بطون امھٰتکم لاتعلمون شیئاََ۔۔۔۔۔۔)
    (النحل :78 )
    (اﷲ نے تمہیں (اس حال میں) ماؤں کے پیٹ سے نکالا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔۔۔۔۔۔ )
    جب بچہ پید ہوتا ہے تو وہ فطری طور پر مسلمان ہوتا ہے
    لیکن بعد میں ان کے والدین غلط عقائد اس کے ذہن میں ڈال کر اس کو گمراہ عقیدہ کا حامل بنادیتے ہیں
    جیسا کہ خاتم النبین و امام الموحدین حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا:
    (ایسا کوئی بچہ نہیں مگر اس کی پیدائش فطرت (ایمان باﷲ) پر ہوتی ہے، پس اس کے والدین اگر یہودی ہیں تو اس کو یہودی بنا لیتے ہیں، یا اس کے والدین اگر نصرانی ہیں تو اس کو نصرانی بنا لیتے ہیں ، یا اس کے والدین مجوسی ہیں تو اس کو مجوسی (پارسی - آگ کی عبادت کرنے والے) بنا لیتے ہیں ۔
    (یہ امام بخاری کی روایت ہے)۔
    لہٰذا جو بھی انسان اﷲ تعالی کی ذات کامنکر ہے وہ نہ اﷲ تعالیٰ کو دھوکہ دیتا ہے اور نہ ہی اﷲ پر ایمان رکھنے والوں کو بلکہ وہ خود کو دھوکہ دے کر اس فطرت کا انکار کرتا ہے جو پیدائشی طور پر اس میں موجود تھی .
    اس کا نتیجہ سوائے دنیا میں ذلت و خواری اور آخرت میں رب کی تکذیب کے سبب جہنم رسید ہونے کے علاوہ کچھ نہیں.
    (٢) عقل :
    اﷲ تعالیٰ خود حکیم ہے اور عقل کی تمام خوبیاں مکمل طور پر یعنی بغیر کمی کے اس میں موجود ہیں ، اﷲ تعالیٰ تمام کمزوریوں و نقص سے پاک ہے.
    کائنات کی بڑی سے چھوٹی مخلوق پر اگر ہم نظریں ڈالیں گے تو ہمیں اﷲ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں کوئی خامی و فتور نظر نہیں آئے گا ، نہ ہی کوئی ایسی چیز کو پائیں گے جو بغیر کسی مقصد و فائدے کے پیدا کی گئی ہو.
    اﷲ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے کائنات کے ذرہ ذرہ کو پیدا فرما کر اپنی عظیم صفت یعنی حکمت کا ثبوت مخلوقات کے سامنے پیش کردیا، پھر اس بات کا چیلنج دے کر مزید اپنی طاقت کو ظاہر کیا کہ اس کی پیداکی ہوئی چیزوں میں کوئی بھی نقص دھونڈ کر دکھائے
    جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
    ( الذی خلق سبع سمٰوٰت طباقا ما تری فی خلق الرحمن من تفٰوت فارجع البصر ھل ترٰی من فطور )
    (الملک:٣ )
    (جس نے سات آسمان تہ بہ تہ پیدا کیے آپ اﷲ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں کوئی بے ربطی نہیں دیکھو گے،پس اپنی نظر لوٹاؤ(آسمان کی طرف) کیا تمہیں اس میں کوئی نقص نظر آتا ہے)
    اﷲ تعالیٰ کو ماننے والوں نے اﷲ تعالیٰ کو اس دنیا میں میں نہیں دیکھا مگر وہ ان نشانیوں و علامات سے اس کی موجودگی پر ایمان رکھتے ہیں جو اس نے پیدا کی ہیں.
    مثلاً زمین و آسمانوں کی پیدائش ، اسی طرح سورج ،چاند، ستارے، سمندر ، دن رات کا نظام، آسمان سے بارش کا برسنا پھر مردہ زمین سے سبزہ کا اگلنا، اسی طرح مرد و عورت کا جوڑا پیدا کرنا غرض بے شمار نشانیاں ہیں جس کو بیان کرنے سے اﷲ تعالی کے علاوہ ہر کوئی قاصر ہے.
    قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ نے ان چیزوں کو پیدا کرنے کا مقصد بھی یہی قرار دیا ہے کہ
    ان میں غور و تدبر کرکے عقلمند لوگ اﷲ تعالیٰ کی ذات کی معرفت حاصل کرسکتے ہیں
    جیسا کہ فرمایا:
    ( ان فی خلق السمٰوات والارض واختلاف الیل والنھار لایات لی اولی الباب٭الذین یذکرون اﷲ قیاما و قعودا و علی جنوبھم و یتفکرون فی خلق السمٰوات الارض ربنا ما خلقت ھذا باطلا سبحانک فقنا عذاب النار۔۔۔۔۔۔)
    (آل عمران:191-190 )
    [ بے شک آسمانوں و زمین کی پیدائش اور دن و رات کے بدلنے میں عقل والوں کیلئے بڑی نشانیاں ہیں
    ٭جو ذکر کرتے ہیں کھڑے ہوکر اور بیٹھ کر اور لیٹ کر اور آسمانوں و زمین کی پیدائش میں تفکر(غور وتدبر) کرتے ہیں
    (پھرغور و تدبر کرنے کے بعد کہتے ہیں)اے ہمارے پروردگار ! تو نے یہ سب کچھ بے معنی پیدا نہیں کیا توپاک ہے پس ہمیں دوزخ کی آگ سے بچا۔۔۔۔۔۔]

    مذکورہ آیت میں اﷲ تعالیٰ نے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ آسمانوں و زمین کی پیدائش اور دن کا رات میں بدلنے اور رات کا دن میں بدلنے میں انسانوں کیلئے اس بات کے بڑے ثبوت موجود ہیں کہ یہ چیزیں بغیر کسی خالق کے پیدا نہیں ہوئیں ، اسی طرح ان کی تدبیر کرنے والا بھی وہی ہے .
    زمین کو اﷲ تعالیٰ نے اس صورت میں پیدا کیا کہ وہ بچھونے کا کام بھی دیتی ہے اور اس سے انسان کی خوراک و دیگر ضروریات پوری ہوتی ہے ، پھر اس پر میخوں کی طرح پہاڑوں کو گانٹ کر مزید مضبوط بنایا تاکہ وہ ہل کر زلزلہ کی صورت اختیار نہ کرے.
    اسی طرح آسمان کو اﷲ تعالیٰ نے بغیر کسی عمد یعنی ستون کے کھڑا کرکے انسانوں کو حیرت میں ڈال دیا ،یہ چھت کا کام بھی دیتا ہے اور اس میں سورج و چاند ستارے کی موجودگی روشنی و دیگر فوائد کا سبب ہیں .
    پھر ایک نہیں سات آسمانوں کو طبقوں میں تقسیم کرکے اپنی عظیم طاقت و قدرت کا مظاہر ہ کیا.
    اب اﷲ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق آسمان میں ہوائیں چلتی ہیں پھر وہ ان ہواؤں سے بادلوں کو اکٹھا کرکے ان کو آپس میں ٹکراتا ہے جس سے بارش برستی ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک ہی زمین سے مختلف قسم و مختلف رنگ و نسل کے پھل و سبزیاں نکل کر انسانوں و جنوں کیلئے یک بار پھر چیلنج کی صورت اختیار کرجاتی ہے کہ اگر وہ خود یا ان کے پیر، ولی اور دیگر بت وغیرہ اس قسم کی نشانیاں پیش کرسکتے ہیں تو پھر کرکے دکھائیں.
    غرض اﷲ تعالیٰ نے ان عظیم مخلوقات کو پیدا کرکے اپنی عظمت و حکمت کی خوبی انسانوں و جنوں کے سامنے پیش کردی ہے.

    (٣) شریعت :
    اﷲ تعالیٰ کی ذات کی موجودگی کی دلالت کا منہ بولتا ثبوت اﷲ وحدہ لاشریک لہ کے وہ احکام ، اصول و قوانین ہیں جن میں سراسر عدل وانصاف، ہدایت ودیگر خیر و بھلائیوں کے خزانے پوشیدہ ہیں. .اﷲ تعالیٰ کی نازل کردہ آسمانی کتب و نبیوں کی سنت میں ایسے ضوابط و قواعد کے سرچشمے موجود ہیں جو عین انسانی فطرت کے تقاضے کے مطابق اور ان میں زندگی گزارنے کے وہ تمام اصول و طریقے موجود ہیں جن پر عمل کرنے سے بے شمار مسائل حل کیے جاسکتے ہیں اور کامیابی و کامرانی کا دنیاوی و آخروی سرٹفیکیٹ حاصل کیا سکتا ہے.
    لیکن جب انسان نے نفس کی خواہشات کو اپنا الہٰ بنایا اور جہالت اختیار کرکے اﷲ تعالیٰ کے نازل کردہ قوانین کو بدل کر اپنے اصولوں کو اختیار کیا تو اس کا نتیجہ سوائے خون خرابے اور فتنہ و فساد کے کچھ نہ نکلا کیونکہ انسانی اصولوں و قاعدوں میں نہ انصاف ہے اور نہ مسائل کا حل.
    تورات ،زبورو انجیل وہ آسمانی کتب ہیں جو اﷲ تعالیٰ نے انسانوں کی بھلائی و خیر خواہی کیلئے نازل کیں لیکن جب ان کتب کے ماننے والوں نے ان میں اپنی منشاء سے مفادات حاصل کرنے اور حق چھپانے کیلئے تحریفیں کر ڈالیں تو اس کا خمیازہ خود ان کو ناانصافی و ظلم اور قتل وغارت نیز چوری و ڈھاکے کی صورت میں بھگتنا پڑا.
    اسی طرح اﷲ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کو مبعوث کرکے اور ان پر اپنی آخری سچی کتاب نازل کرکے ایک بار پھر بنی آدم پراپنا فضل و کرم فرمایا.تاریخ گواہ ہے جب تک مسلمانوں نے کتاب اﷲ و سنت رسول(صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیروی کی اﷲ تعالیٰ نے ان کی وجہ دنیا کو امن و امان کا گہوارہ بنایا لیکن جب یہ دونوں چیزوں ترک کی گئیں اور غیر شرعی اصولوں کو نافذ کیا گیا تو اس کا نتیجہ ہم خود آج دیکھ رہے ہیں کہ تمام مسلمان فرقوں میں بھٹک گئے ہیں اور آپس میں قتل و غارت و ایک دوسرے پر ظلم کرنے میں مصروف ہیں.اﷲ تعالیٰ کے قانون میں ازل سے ابد تک کوئی اختلاف نہیں ہوسکتا، جیسا کہ متعدد باراس مضمون کو دہرایا۔۔۔
    ایک آیت کے آخر میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:
    ( ولن تجد لسنتۃ اﷲ تبدیلا ) (الاحزاب: 62)
    (اور آپ اﷲ کے طریقہ میں کوئی تبدیلی نہ پائیں گے).

    اسی طرح قرآن میں بھی کوئی اختلاف و تصادم موجود نہیں
    جیسا کہ فرمایا:
    ( افلا یتدبرون القرآن ولوکان من عندی غیر اﷲ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا)
    (النساء: 82)
    کیا یہ لوگ (قرآن کا انکار کرنے والے یا اس میں شک و شبہ کرنے والے) قرآن میں تدبر (غور وفکر) نہیں کرتے اگر یہ غیراﷲ کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف پاتے ۔
    اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ جو بھی قرآن پر ایمان نہیں لائے گا اور اس پر عمل نہیں کرے گا تو پھر اختلاف و تفرقہ اس کا مقدر بنے گاکیونکہ انسان کا نظریہ ایک نہیں رہتا بلکہ جب وہ جوان ہوتا ہے تو بچپن کے نظریہ کو غلط کہتا ہے ، پھر جب بڑھاپے میں پہنچ جاتا ہے تو جوانی کے نظریہ کو برا بھلا کہتا ہے .
    اسی طرح انسانوں کے اپنے بنائے گئے تمام مذہبی عقائد و زندگی گزارنے کے طور و طریقے بھی متوازن نہیں بلکہ ہر روز ان میںنت نئی تبدیلیاں کی جاری ہے جس کی وجہ سے اختلافی مسائل نے جنم لیا ہے اور تفرقہ ان کے درمیان پیدا ہو گیا ہے. لیکن اﷲ تعالیٰ کے بنائے گئے اصول اپنی جگہ پر قائم ہیںاور قیامت تک قائم رہیں گے.
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جو ایسے حکیمانہ قوانین نازل کرسکتا ہے اس کے علاوہ کوئی اور ذات نہیں جو انسان کی فطرت کے مطابق عدل و انصاف پر مبنی فیصلہ کرسکے. لہٰذا اﷲ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت خود اس بات کی گواہی ہے کہ اﷲ تعالیٰ مع ذات و صفات موجود ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیر بہت عمدہ تحریر پیش کی آپ نے
     
  3. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,873
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. شفیق سومرو

    شفیق سومرو نوآموز

    شمولیت:
    ‏مئی 21, 2016
    پیغامات:
    19
    میرے سوال کو پہلے سمجھنے کی کوشش کریں ... کوئی کہتا ہے کہ اللہ کو ماننا اصول دین ہے کوئی اسکو عقیدہ کہتا ہے..اسی طرح کوئی رسالت کے بارے میں کہتا ہے کہ اصول ہے تو کوئی عقیدہ کہتا ہے مطلب یہ terms کہاں سے آئی ہیں اور کس نے ایجاد کی ہیں کیا قرآن میں لکھا ہے کہ یہ عقیدہ ہے یہ عقیدہ نہیں کچھ اور ہے جس طرح روزہ رکھـنے کو عقیدہ کہنا نہین سننے میں آیا!!!

    Sent from my C2305 using Tapatalk
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,438
    اس میں عقیدہ کی وضاحت موجود ہے۔ اللہ کو ماننا اور رسالت دونوں اصول دین اسلام کی بنیاد ہیں ۔ اور ان پر ویسے اعتقاد رکھنا ، سچے دل سے ایمان لانا ، جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سلف صالحین لائے ، عقیدہ کہلاتا ہے ۔ اللہ کو ماننے کا مطلب توحید یعنی وہ ربوبیت ،الوھیت اور اسماء وصفات میں ایک ماننا ، اللہ کی اطاعت کرنا (کسی کو شریک کیے بغیر)عقیدہ کا ایک حصہ ہے ۔ رسالت محمد عربی ﷺ کی اطاعت (کسی کو شریک کیے بغیر) عقیدہ کا دوسر احصہ ہے ۔ یہ دونوں قرآن کریم اور حدیث رسول ﷺ سے ثابت ہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...
Similar Threads
  1. شفقت الرحمن
    جوابات:
    1
    مشاہدات:
    874
  2. شفقت الرحمن
    جوابات:
    5
    مشاہدات:
    735
  3. شفقت الرحمن
    جوابات:
    3
    مشاہدات:
    756
  4. فہد جاوید
    جوابات:
    5
    مشاہدات:
    1,393
  5. بابر تنویر
    جوابات:
    4
    مشاہدات:
    577

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں