توبہ کی فضیلت

ابوعکاشہ نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏فروری 12, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    توبہ کی فضیلت
    اس سے مراد اللہ کی نافرمانیوں سے دور ہونا اور پہلے گناہوں پر ندامت اورآئندہ کے لئے یہ عزم صادق کہ یہ گناہ پھر کبھی نہ کرنا.

    اللہ تعالی فرماتا ہے :-
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِرٌ (8) سورة التحريم
    " ائے ایمان لانے والو ! اللہ کی طرف خالص (دل سے) رجوع کرو. امید ہے وہ تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں‌ باغات میں‌ ، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، داخل کرے گا."

    نیز ارشاد فرمایا :-
    وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (31) سورة النــور
    "اور ایمان لانے والو ! تم سب اللہ کی طرف توبہ (رجوع) کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ"

    ٭ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اﷲ تعالیٰ کے سامنے توبہ کا کرو ، اسلئے کہ میں دن میں سو(100) مرتبہ توبہ کرتا ہوں ۔ مسلم
    ٭ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جس شخص نے (ہر گناہ کے بعد ) استغفار کر لے، (گویا) اس نے گناہ پر اصرار نہیں کیا ۔ اگرچہ وہ ستر(70) مرتبہ (توبہ کے بعد بھی) گناہ کرے ۔
    ٭ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اس قادر ِمطلق کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ۔اگر تم اتنی خطائیں بھی کرو کہ ان خطاﺅں سے زمین و آسمان بھر جائیں پھر بھی تم اﷲ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو ، تو اﷲ تعالیٰ ضرور تمہاری خطاﺅں کو بخش دے گا ۔
    ٭ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو بھی مسلمان کوئی گناہ کرتا ہے تو اسکے گناہ لکھنے پر مقرر فرشتہ تین گھڑی (کچھ دیر )انتظار کرتا ہے ۔ اگر اس نے اس تین ساعت کے وقفہ کے کسی بھی حصہ میں اﷲ سے اپنے اس گناہ کی مغفرت مانگ لی ، تو وہ فرشتہ ( اس گنا ہ کو نہیں لکھتا اور ) قیامت کے دن اسکو اس گنا ہ پر واقف نہ کرے گا اور نہ اس پر عذاب دیا جائے گا ۔

    ٭ حدیث ِ قدسی ہے کہ
    اﷲ رب العالمین ( ابن آدم سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے ) اے آدم کی اولاد ! بےشک تو جب تک مجھ سے د ُعا مانگتا رہے گا اور (مغفرت کی ) امید رکھے گا میں تجھ کو معاف کرتا رہوں گا ، کتنے ہی گناہ کیوں نہ ہوں اور پرواہ نہ کروں گا ۔ اے ابن ِ آدم ! اگر تیرے گناہ ( زمین سے ) آسمان کی بلندی تک بھی پہونچ جائیں گے اور پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرے گا ،تو میں تیرے گناہ بخش دونگا ۔ اے اولاد ِ آدم ! اگر تو زمین بھر گناہ بھی میرے سامنے لائے گا اور پھر تو میرے سامنے اس حالت میں پیش ہوگا کہ تو نے کسی بھی چیز کو میرے ساتھ شریک نہ کیا ہو گا تو میں بھی زمین بھر مغفرت تیرے لئے ضرور لاﺅں گا ۔
    ٭ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کوئی بھی بندہ جب گناہ کر لیتا ہے اور پھر (اسی وقت نادم ہو کر ) کہتا ہے۔ اے میرے رب ! میں تو گناہ کر بیٹھا، اب تو اسکو بخش دے ۔ تو اس کا رب ( فرشتوں کے سامنے ) فرماتا ہے کہ کیا میرے اس بندہ کو یقین ہے کہ اسکا کوئی رب ہے ، جو گناہوں کو معاف بھی کرتا ہے اور ان پر پکڑ بھی کرتا ہے۔ (سن لو ) مبں نے اپنے اس بندہ کو بخش دیا ۔ پھر وہ بندہ جب تک اﷲ چاہتا ہے اس عہد پر قائم رہتا ہے۔ پھر کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ ( رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) تین مرتبہ اس بندہ کے گناہ اور توبہ کرنے کا ذکر فرمایا اور فرمایا ، پس اس طرح جو چاہے کرتا رہے ۔
    اور یہ بھی مروی ہے کہ فرشتوں‌ نے آدم علیہ السلام کو ان کی توبہ قبول ہونے پر مبارک باد دی تھی (العلوم للغزالی )

    استغفار کا طریقہ اور نمازِ توبہ
    ٭ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی آدمی جب گناہ کرتا ہے پھر وضو کرکے(دو یاچار رکعت) نماز پڑھتا ہے اور اﷲ سے توبہ استغفار کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اسے ضرور معاف فرمادےتا ہے ۔ ﴿ترمذی﴾
    ٭ کسی خاص گناہ کے سرزد ہونے پر یا عام گناہوں سے توبہ کرنے کی نیت سے وضو کرکے دو رکعت نماز ادا کرنے کے بعد نہایت خلوص دل سے اپنے گناہوں پر نادم ہو اور اﷲ تعالیٰ سے معافی مانگے اور آئندہ اس گناہ کو چھوڑ دے اور نہ کرنے کا عظم کر لے ۔ تو اﷲ رب العالمین اپنے بندہ کو معاف فرمادیتے ہیں ۔ صدق ِ دل سے معنی کا دھیان کرکے درجہ ذیل د ُعائیں اﷲ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑا کر مانگی جائیں ۔

    بخشِش و مغفرت کی دُعائیں
    ٭اَللّٰھُمَّ غفِر لِی وَ تُب عَلَیَّ ۰

    ترجمہ: اے اﷲ ! تو مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول فرما ۔

    ٭آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص یہ کلمات کہے تو اﷲ تعالیٰ اسے بخش دیتے ہیں ، خواہ میدان جہاد سے ہی بھاگا ہو ۔ دوسری روایت میں ہے کہ اگر چہ اسکے گناہ سمندر کے جھاگوں کے مانند ہوں ۔ابو د١ود،ترمذی
    اَستَغفِرُ اﷲ َالَّذِی لَا ٓ اِلٰہَ اِلاَّ ھُوَالحَیُّ القَّیُومُ وَ اَتُوبُ اِلَیہِ ۰(تین مرتبہ)
    ترجمہ:میں اﷲ سے بخشِش مانگتا ہوں اس اﷲ سے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ زندہ رہنے والا ، قائم رکھنے والا ہے ۔ اور اسکی طرف توبہ کرتا ہوں ۔ بخاری و مسلم

    ٭اَللّٰھُمَّ غفِر لِی ذُنُوبِی وَ خَطَئِی وَ عَمَدِ ی ۰
    ترجمہ: اے اﷲ ! تومیرے(تمام) گناہ بخش دے ، بلا ارادہ کئے ہوئے بھی قصدًا و عمدًا کئے ہوئے بھی ۔

    ٭اَللّٰھُمَّ غفِر لِی خَطِیئَتِی وَ جَھلِی وَ اِسرَافِی فِی اَمرِی وَ مَآ اَنتَ اَعلَمُ بِہ مِنِّی ۰
    ترجمہ: اے اﷲ ! تومیرے گناہ بخش دے ،میری نادانیوں کو اور میری اپنے کام میں بے اعتدالیوں کو اور ان تمام باتوں کو جنھیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے ۔

    ٭اَللّٰھُمَّ غفِر لِی جِدِّی وَھَزلِی وَ خَطَئِی وَ عَمَدِ ی وَ کُلَّ ذٰلِکَ عِندِی ۰
    ترجمہ: اے اﷲ ! تومیرے(تمام) گناہ بخش دے ، سچ مچ کئے ہوئے اور ہنسی دل لگی میں کئے ہوئے ، بلا ارادہ کئے ہوئے بھی قصدًا و عمدًا کئے ہوئے بھی ۔اور یہ سب مجھ سے سر زد ہوئے ہیں ۔

    ٭اَللّٰھُمَّ غفِر لِی وَارحَمنِی وَاَدخِلنِی الجَنَّةَ ۰
    ترجمہ: اے اﷲ ! تومیری مغفرت فرما دے اور مجھ پر رحم فرما اور مجھے جنت میں داخل کر دے ۔

    ٭اَ للّٰھُمَّ بَا عِد بَینِی وَ بَینَ خَطَایَایَ کَمَا بَا عَدتَّ بَینَ المَشرِقِ وَالمَغرِبِ ۔ اَللّٰھُمَّ نَقِّنِی مِنَ الخَطَا یَا کَمَا یُنَقَّی الثَّوبُ الاَبیَضُ مِنَ الدَّنَسِ اَللّٰھُمَّ اغسِل خَطَایَایَ بِالمَآئِ وَالثَّلجِ وَ البَرَدِ ۔﴿ بخاری و مسلم ،نسائی و ابن ماجہ﴾
    ترجمہ: اے اﷲ ! دوری ڈال درمیان میرے اور میرے گناہوں کے، جِس قدر کہ دور رکھا ہے آپ نے مشرق کو مغرب سے۔ یا اﷲ! صاف کردے مجھے گناہوں سے جس طرح صاف کیا جاتا ہے کپڑا سفید میل کچیل سے ۔ یا اﷲ ! دھو ڈال میرے گناہ پانی،برف اور اولوں سے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں