بابر تنویر بھائی سے ہوئی مُلاقات کا احوال سنیں

ساجد تاج نے 'مجلسِ تعارف' میں ‏اپریل 16, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,720
    [​IMG]


    [​IMG]

    بابر تنویر بھائی سے ہوئی مُلاقات کا احوال سنیں

    [​IMG]



    السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ:-



    اُمید کرتا ہوں کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے اللہ تعالی سے دُعا ہے کہ وہ آپ سب کو ہمیشہ خیریت سے ہی رکھے آمین اور آپ سب کو ہر
    بیماری سے دور کرے اور آپ کی زندگی خوشیوں کا گہوارہ بن جائے۔


    آخر وہ دن آ ہی گیا ، ہمارے مُلاقاتوں کے احوالوں میں مزید ایک احوال شامل ہو گیا ، جب ہماری مُلاقات مجلس ایک بہت خاص رُکن بابر تنویر ہمارے گھر تشریف لائے، بابر تنویر بھائی اور خادم خلق (زید بھائی) جو کہ پاکستان آرہے تھے اس کی اطلاع ابو ابراہیم بھائی ایک تھریڈ میں دے دی تھی۔ جس کا لنک میں نے نیچے دے دیا ہے۔

    اردو مجلس کے دو بھائی اور ان کے لئے دعایئں - URDU MAJLIS FORUM

    جب بابر بھائی پاکستان پہنچے تو میری اُن سے بات ہو گئی تھی جس پر انہوں نے بتایا کہ وہ اسی ہفتے میں جو پیچھے گزر چُکا ہے لاہور آجائیں گے ، بُدھ کی شام مغرب کے وقت یعنی کہ 10-04-2013 کو بابر تنویر بھائی کی کال آئی اور انہوں نے بتایا کہ وہ ابھی ابھی لاہور جوہر ٹائون کے علاقے میں پہنچ چُکے ہیں اور پہنچتے ساتھ ہی انہوں نے مجھے فون کر کے آگاہ کر دیا۔ بہرحال بھائی نے لاہور پہچنے سے پہلے ہی اپنے سارے شیڈول کے بارے میں بتا دیا کہ انہوں نے کس دن کہاں کہاں جانا ہے اس لیے ہمارے اتوار کے سوا کوئی آپشن نہ بچتی تھی تو میں نے بابر بھائی سے اتوار کا دن فائنل کیا اور وہ بھی دوپہر کا کیونکہ بابر بھائی اتوار کی شام کو ڈسکہ جانا تھا اس لیے پلان اتوار کے دن دوپہر کے کھانےکا بنا۔

    مجلس میں موجود لاہوریوں بھائیوں کے سیل فون پر میسج سینڈ کر دیئے اتوار کے دن دوپہر کا کھانا وہ میرے گھر پر کھائیں، اور دوسری اطلاع میں نے ابوابراہیم بھائی کے تھریڈ میں پوسٹ کی شکل میں لگا دی تھی۔ نعیم یونس بھائی کا سب سے پہلے میسج آیا جس پر انہوں نے انتہائی خوشی کا مظاہرہ کیا مگر جب نیچے پڑھا تو لکھا کہ میں نے شاید نہ آسکوں کیونکہ انہیں اپنی والدہ سے ملنے جانا تھا انہوں نے معذرت کر لی اور انہیں افسوس بھی ہے کہ وہ اس مُلاقات میں شریک نہ ہوسکے۔ محمد آصف بھائی کو بھی بتا دیا گیا اور انہوں نے حامی بھر لی ، پھر عبدالقہار محسن بھائی کا بھی میسج آیا کہ میں ان شاءاللہ ضرور آئوں گا۔ اُس وقت اہل الحدیث بھائی کی طرف سے کوئی جواب موصول نہ ہوا۔

    جمعرات کو میری کسی بھائی سے بات نہ ہوئی اور نہ ہی جمعے والے دن ، ہفتے کو میں نے تمام بھائیوں کو کال کر کے دوبارہ یاددہانی کروائی کہ آپ لوگوں نے آنا ہے اور وقت پر آنا ہے۔ اہل الحدیث بھائی سے بھی فون پر رابطہ ہوا تو پتہ چلا کہ بیمار ہیں اس لیے انہوں نے معذرت کی کہ وہ نہیں آسکیں گے ، آصف بھائی نے بھی کہا کہ انہیں یاد ہے لیکن جب میں محسن بھائی کو کال کی کہ آپ نے آنا ہے بابر تنویر آرہے ہیں تو وقت پر پہنچ جائیں تو محسن بھائی چونک گئے کہ بابر بھائی بھی آرہے ہیں آپ نے مجھے بتایا ہی نہیں لو جی یہ بات سُن کر میں ہنسا کہ آپ کو پتہ ہی نہیں کہ ہم کیوں مُلاقات کے لیے اکٹھے ہورہے ہیں۔ محسن بھائی کویقینا نہیں پتہ تھا کہ وہ آج کل اپنی جاب کے ساتھ مزید پی ایچ ڈی کی پڑھائی کو جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اُن کے پاس وقت کی قلت پائی جاتی ہے۔ بہرحال ایک محسن نے یقین دہانی کر دی کہ وہ ضرور آئیں گے۔

    دن گزرتے گزرتے اور مُلاقات کے لیئے انتظارکرتے کرتے آخر کار اتوار کا دن بھی آہی گیا، ساڑھے دس بجے مجلس پر میں نے پوسٹ لگا دی کہ ٹھیک ڈیڑھ گھنٹے بعد بابر تنویر بھائی ہمارے گھرہوں۔ مجلس پر ایک گھنٹہ گزارا تو 12 بجے اپنی تیاری وغیرہ شروع کر دی مطلب کھانے پینے کا انتظام وغیرہ۔ جب 12 بج 20 منٹ ہوئے تو میں نے آصف بھائی کو کال کی کہ جناب گھر سے نکلے بھی ہیں کہ نہیں کیونکہ محسن بھائی نے آصف بھائی کو پِک کرتے ہوئے میری طرف آنا تھا ، جب آصف بھائی نے فون اٹھایا تو بھائی صاحب نے جواب کہ ہم تو آپ کے گھر پر آنے کے لیے قبرستان کے آگے سے گزر رہے ہیں میں دھنگ رہ گیا کہ یہ بھائی لوگ تو وقت سے 10 منٹ پہلے پہنچ گئے میں نے کہا کہ قبرستان میں کیا کر رہے ہیں تو جواب ملا کہ کیا کریں آپ کے گھر پر آنے کے لیے قبرستان سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ بات سُن کر میں ہنس پڑا ، آپ لوگ پریشان نہ ہوں آصف بھائی کہ کہنے کا مطلب یہ ہے ہم جس سوسائٹی میں رہتے ہیں وہاں انٹر ہوتے ہی پہلے لیفٹ سائیڈ پر ایک بڑا قبرستان ہے پھر آگے جا کر گھروں کا اور مارکیٹ کا حجوم دکھائی دیتا ہے۔

    میں گھر کے دروازے کے باہر آکر کھڑا ہو گیا تو کچھ لمحوں بعد ہمارے دو بھائی موٹر سائیکل پر مجھے نظر آئے لہذا ان کو خوش آمدید دور سے سمائلز دے کر کہہ دیا تھا ہاہاہاہاہاہا
    ماشاءاللہ گرم جوشی سے بھائیوں کے ساتھ مُلاقات ہوئی تو میں نے بتایا کہ بابر بھائی ابھی نہیں آئے چلیں اُن کو فون کرتا ہوں کہ وہ کہاں ہیں، بابر بھائی کی طبیعت کچھ خراب تھی ، گلہ خراب ، نزلہ زکام اور کچھ بخار بھی تھا اس لیے مجھے ڈر یہ بھی تھا کہ کہیں یہ مُلاقات خواب نہ بن جائے لیکن اللہ تعالی سے اُمید تھی کہ وہ ہماری مُلاقات کو ضرور کروائے گا ، جب فون کیا تو بابر بھائی سے پوچھا کہ آپ کہاں ہیں آپ کے دو بھائی یہاں پہنچ چُکے ہیں اور اب آپ کا انتظارہے تو بابر بھائی نے کہا کہ ہم تو اہل الحدیث بھائی کے گھر ہیں اور یہاں سے بس نکل رہے ہیں یہ سننا ہی تھا کہ ہم چونک گئے کہ اہل الحدیث بھیا تو ہم سے بازی لے گئے ، کوئی بات نہیں بھائی اس بار بازی آپ کی ہوئی پر اگلی بار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابتسامہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بابر بھائی نے کہا کہ ہم بس نکلتے ہیں اور آپ کی طرف آتے ہیں۔ ہم نے کہا کہ ہم انتظار کر رہے ہیں آپ کا۔ بابر بھائی نے کہا کہ ساجد بھائی مہمان آتا اپنی مرضی سے ہے اور جاتا میزبان کی مرضی ہے میں نے کہ یہاں بھی آپ کا انتظار کیا جارہا ہے بہرحال بھائی نے بتایا کہ وہ بس نکل رہے ہیں۔

    میں نے عبدالقہار محسن اور محمد آصف مغل بھائی کو ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور سب سے پہلے اُن دو بھائیوں کو مس کیا جو اس مُلاقات میں شریک نہ ہو سکے۔ بھائیوں سے باتوں کا سلسلہ بڑھا تو مجھے کچھ احادیث کے بارے میں پوچھنا تو میں نے گھر میں بخاری شریف کی کتاب نکال کر بھائیوں سے پوچھا تو محمد آصف بھائی اور محسن بھائی نے بہت تفصیل سے مجھے وہ معلومات دیں جن کے بارے میں مجھے قطعا علم نہ تھا لیکن مزید جان کر اور معلومات میں اضافہ کر کے بہت خوشی محسوس ہوئی۔

    باتیں کرتے کرتے جب گھڑی کی طرف نظر گئی تو نماز کا وقت ہو چُکا تھا اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا کہ عبدالقہار محسن بھائی نے کہہ دیا کہ جب تک بابر بھائی نہیں آتے کیوں نہ ہم نماز پڑھ آئیں میں نے کہا کہ چلیں لیکن ایک بار پھر فون کر کے پوچھ لیتے ہیں میں ٹھیک 1 بج کر 10 منٹ پر دوبارہ فون کیا تو بھائی نے پھر کہا کہ ہم اب نکل گئے ہیں میں نے کہا کہ چلیں ٹھیک ہے آپ جائیں ۔ ہم نے سوچا کہ بابر بھائی کے آنے سے پہلے ہم نماز پڑھ کر واپس آجائیں گے ، بہرحال میں نے گاڑی نکالی اور دونوں بھائیوں کو لے کر اپنے گھر کے پاس موجود مسجد پر چلا گیا جو کہ ہمارے گھر شاید 1 کلو میٹر دو ہو گی ، گاڑی لاک کرنے کے بعد بھائی وغیرہ وضو کرنے کے لیے گئے تو مجھے میری سیل کی گھنٹی بجی میں نے دیکھا تو بابر بھائی کا فون تھا ، جب بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ میں سہارا گروپ والے پلازہ کے پاس کھڑا ہوں میں دھنگ رہ گیا کہ بھائی 5 منٹ سے پہلے ہی ہمارے علاقے تشریف لے آئے وائوووووو۔ بہرحال جہاں بھائی کھڑے تھے وہ مسجد سے تقریبا آدھا کلو میڑ دور تھا۔ میں نے بھائی کو راستہ سمجھایا اور کہا کہ میں باہر کھڑا اُن کا انتظار کر رہا ہوں آپ جائیں ۔ بابر بھائی نے مجھے اپنی گاڑی کا نمبر بتا دیا، ٹھیک ایک یا دو منٹ بعد ایک وائٹ گاڑی نظر آئی جو کہ مسجد کے پاس آکر آہستہ ہوئی تو میں نے دور ہی سے اندازہ لگا لیا کہ یہ بابر بھائی کی ہی گاڑی ہے، میں اندازہ ٹھیک نکلا بھائی کی مسجد کی پارکنگ میں لگ رہی تھی اور میں نے دور سے ہی اشارہ کر دیا تو بابر بھائی کی نظر بھی مجھ پر پڑ گئی اور انہوں نے ہاتھ سے اشارہ کر دیا۔

    بابر بھائی گاڑی سے باہر نکلے اور میں اُن کی گاڑی کی طرف روانہ ہو گیا ، بھائی پاس آئے تو اُن کو دیکھ کر خوشی کی انتہا نہ رہی ، ماشاءاللہ سفید لباس ، سفید داڑھی والے ہمارے بابر بھائی ایک الگ شخصیت ہی کے مالک لگ رہے تھے، سلام دُعا ہوئی اور گلے بھی ملے حال چال پوچھنے کے بعد میں نے بتایا کہ باقی بھائی یہیں موجود ہیں مسجد میں آئیں نماز پڑھ لیتے ہیں۔ بابر بھائی اور میں مسجد میں داخل ہوئے میں وضو کرنے لگ گیا جب جماعت والے ہال میں پہنچا تو بابر بھائی اور آصف بھائی نظر نہ آئے ، لیکن سامنے محسن بھائی نظر آئے اُن کو بتایا کہ بابر مسجد میں ہی موجود ہیں ، بہرحال کچھ منٹ نظریں دوڑاتا رہا کہ بابر بھائی گئے کہاں اور اسی کام پر محسن بھائی بھی لگ گئے ، کچھ منٹ بعد میری نظر جب پہلے صف پر پڑی تو بابر بھائی وہاں موجود تھے میں نے محسن بھائی کو اشارےسے بتایا کہ وہ بابر بھائی ہیں ، اور آصف بلکل سائیڈ پر ایک کونے میں سنتیں ادا کر رہے تھے۔

    پھر باجماعت نماز ادا کی بھائیوں نے ، نماز سے فارغ ہونے کے بعد جب میں نے نظر مسجد کے ہال کے چاروں طرف گھمائی تو محسن بھائی کے علاوہ پھر مجھے کوئی دوسرا بھائی نظر نہ آیا ، جب ہال کو اچھی طرح دیکھ لیا تو محسن بھائی نے کہا کہ چلیں باہر دیکھ لیتے ہیں کہیں بھائی لوگ باہر ہی نہ ہوں، ہم مسجد سے باہر نکلے جب مسجد کے صحن پر پہنچے تو باہر بابر بھائی بینچ پو بیٹھے ہوئے ہمارا انتظار کر رہے تھے اور مزید نظر دور گئی تو محمد آصف بھائی دور گاڑی کے پاس چھائوں میں کھڑے ہوئے نظر آئے ، میں نے دور سے ہی آصف بھائی کو ہاتھ کا اشارہ کیا تو بھائی مسجد کی طرف واپس آنے لگے، ہمیں باہر نکلتا دیکھ کر بابر بھائی اُٹھ کھڑے ہوئے اور میں محسن بھائی کا تعارف کروایا بعد میں پاس آتے ہوئے آصف بھائی کی اشارہ کیا بابر بھائی کو کہ یہ آصف بھائی ہیں۔ گلے ملنے اور حال چال پوچھنے کے بعد ہم لوگ اپنی اپنی گاڑی کی طرف روانہ ہوئے ، محمد آصف بھائی اور محسن بھائی کو میں نے بابر بھائی کے ساتھ بٹھا دیا اور خود رستہ بتانے کے لیے گاڑی آگے لے گیا ، گھر پہنچنے کے بعد گھر کے باہر لگی بیل کو خوب بجایا مگر کوئی دروازہ نہ کھولنے آیا تو اچانک ذہن نے کام کیا کہ میں تو پاکستان میں ہوں اس لیے مجھے پتہ ہونا چاہیے کہ لائٹ نہیں ہوتی پاکستان میں ہاہاہاہا۔ بہرحال دروازہ پر دستک دی تو پاپا باہر آئے سب سے پہلے بابر بھائی کا تعارف کروایا پاپا سے ، پھر محسن بھائی کا اور پھر آصف بھائی کا ، پھر بھائیوں کو لے کر ہم گھر کے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے۔

    باتوں کا سلسلہ شروع ہوا تو میں پانی لے کر آیا ، میں جانتا تھا کہ بابر بھائی کو بخار ہے اس لیے زیادہ ٹھنڈا پانی نہیں لایا ، پانی پکڑاتے ہی میں نے کہا کہ بھائی زیادہ ٹھنڈا نہیں ہے ، بابر بھائی نے کہا کہ پھر ٹھیک ہے۔ پھر میں باہر کھانے کا دیکھنے گیا کہ کتنی دیر میں بنے گا ، تب بھائیوں میں گفتگو کا سلسلہ جاری تھا ، واپس آنے پر کسی ایک موضوع پر بات چل رہی تھی موضوع کچھ اس طرح سے تھا کہ ہمیں ہمیشہ سامنے والے انسان کا مائنڈ پڑھنا چاہیے کہ اُس کا مینٹل لیول کیا ہے اُس کے مطابق اُس سے بات کی جائے ماشاءاللہ کافی اچھی اچھی رائے سننے کو ملی بھائیوں سے، پھر بابر بھائی سے میں کچھ سعودی حالات کے بارے میں پوچھا تو بھائی جان نے ہمیں الف سے ے تک تمام حالات سے آگاہ کیا۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد میری مسز کا میسج آیا کہ کھانا لگا دوں تو میں نے بھائیوں سے کہا کہ ڈرائنگ روم میں جہاں ہم بیٹھے تھے وہیں کھانا لگا دوں میں ٹیبلز کے اوپر تو محسن بھائی بولے کہ کیوں نہ زمین پر بیٹھ کر کھا لیا جائے سارے بھائیوب نے حامی بھری تو میں تمام ٹیبلز سائیڈ پر کر دیں ایک ٹیبل کے لیے رستہ نہیں بن رہا تھا تو محسن بھائی نے کہا کہ اس ٹیبل کو صوفے کے پیچھے کر دیتےہیں تو آصف بھائی فورا بولے کہ محسن بھائی ساجد بھائی کو ٹیبل پکڑا دیتےہیں تو وہ خودی رکھ دیں گے ، دونوں بھائیوں نے ٹیبل اٹھا کر میرے آگے کی تو میں ہنس کر انہیں دیکھتے ہوئے بولا کہ بھائی جان میں اکیلا اس ٹیبل کو صوفے میں کیسے رکھوں جبکہ میں خود صوفے کے پیچھے کھڑا ہوں ہاہاہاہاہا بہرحال آصف بھائی کے ہاتھ سے ٹیبل پکڑی تو محسن کی مدد سے وہ ٹیبل صوفے کے پیچھے رکھ دی۔

    کھانے کے لیے سٹیپ بائے سٹیپ برتن لاتا گیا اور کارپٹ پر برتنوں کو سجاتا گیا ، سارے بھائی بیٹھ گئے اور بابر بھائی نے کہا بسم اللہ کریں، لہذا کھانا شروع کیا گیا۔ اب مینیو کے بارے میں لکھنا ہے یا نہیں ، اویں منہ میں پانی نہ آئے سب کے ہاہاہاہا چھڈو جی۔ میں ابھی کھانا کھانے کے لیے بیٹھا ہی تھا کہ مجھے یاد آیا کہ روٹیاں ابھی تک نہیں آئیں، یہ سوچنا ہی تھا کہ میں فورا اٹھا اور بازار کی طرف گیا ، روٹیاں لے کر فورا واپس آیا اور بھائیوں کے آگے رکھیں ، کھانا کھاتے کھاتے نعیم بھائی اور اہل الحدیث کا ذکر بھی ہوا ، تو آصف بھائی نے کہا کہ میں اُن کی کمی کو پورا کر دیتا ہوں اُن کے حصے کا میں کھا لیتا ہوں اگر اس سے بات نہ بنے تو اُن کے لیے پیک کر دیں تو میں نے کہا کہ نعیم بھائی کا یہی جُرمانہ ہے کہ اُن کے لیے کھانا نہ بھیجا جائے ہمممممممممم۔ کھانا کھاتے وقت میں نے کئی بار بھائی سے کہا کہ آپ فلاں چیز بھی لیں ، وہ بھی لیں یہ بھی لیں تو بابر بھائی نے کہا کہ فکر مت کریں ہم نے جو کھانا ہو گا ہم لے لیں گے ہم کھانے پینے میں تکلف نہیں کرتے ، تب نعیم بھائی کی پھر یاد آئی کہ نعیم کہتے ہیں کہ کھانے پینے میں تکلف نہیں کرنا چاہیے تو بابر بھائی نے کہا کہ یقینا کھانے میں تکلف کیسا۔

    کھانا کھانے کے بعد سب سے پہلے بابر بھائی اُٹھے ، پھر آصف بھائی اور پھر محسن بھائی اور ہم جناب بیٹھے بوتل پیتے رہے ہاہاہاہا۔ بہرحال کھانے کے فارغ ہونے کے بعد برتنوں کو سمیٹا گیا اور یکے دیگرے بعد تمام برتنوں کو میں باہر لے گیا ، بھائیوں میں ابھی باتوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا ہی تھا تو میں نے آئس کریم لے آیا، سب سے پہلا کپ میں نے بابر بھائی کو دیا اور پھر وہی لفظ دہرائے کہ بھائی یہ ٹھنڈی نہیں ہے اور یہ سپیشل آپ کے لیے ہی ہے تو بھائی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ بھائی آئس کریم بھی گرم لائے ہو اب یہ کہنا کہ اس میں شوگر نہیں ہے ، یہ بات سُن کر سارے بھائی ہنس پڑے۔ آئس کریم کے دوران پھر بہت سی باتیں ہوئیں جو کہ ہم کیوں بتائیں اتنا کچھ لکھ دیا ہے اگر میں نے سارا کچھ خودی لکھ دیا تو باقی بھائی کیا لکھیں گے ، محسن بھائی ، آصف بھائی اور بابر بھائی اتنا احوال بہت ہے کیا ؟ ہن تاڈی سب دی واری۔

    رُکو رُکو بھائیوں ذرا اینڈ تو کر لوں

    کچھ دیر بیٹھنے کے بعد بابر بھائی نے کہا کہ اب اجازت دیں میں نے کہا کہ مجھے اجازت دینے والی آواز سنائی نہیں دے رہی ، بقول بابر بھائی کے مہمان آتا اپنی مرضی سے اور جاتا میزبان کی مرضی سے ہے ، تو بھائی نے کہا کہ ہم کہاں سنیں گے آپ کی مجھے جانا تو ہے ہی، ہم نے کہاں زیادہ اصرار کرنا تھا کیونکہ بھائی نے ابھی پھر لانگ ڈرائیو یعنی ڈسکہ جانا تھا اور بھائی کی طبیعت بھی ٹھیک نہ تھی۔ لہذا جانے کی اجازت دے ہی دی ہم نے ۔ گھر سے باہر نکلے تو دوبارہ گلے مل کر الوداع کہا بابر بھائی کو، پھر بعد میں محسن بھائی اور آصف بھائی نے بھی جانے کی اجازت مانگی۔

    یہ تھی ایک چھوٹییییییییییییییییییییییی سی مُلاقات کا احوال۔

    یہ مُلاقات اللہ تعالی کی رضا کے لیے تھی اور بہت پیاری مُلاقات تھی ، اردو مجلس کے بھائیوں کے ساتھ ہونے والی مُلاقات ہمیشہ میرے لیے یادگار رہی ہے۔ اللہ تعالی اردو مجلس کے بھائیوں صدا خوش رکھے آمین۔


    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  2. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,311
    ماشاء اللہ
    اللہ مالک الملک آپ سب کو خوش و خرم رکھے آمین
    ہم بھی بابر بھائی سے ملنے کے متمنی ہیں اور ان شاء اللہ ضرور ملیں گے اور بیت اللہ میں ملیں گے ان شاء اللہ
     
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,325
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بہت خوب
    پتہ نہیں میری ساجد بھائی سے کب ملاقات ہوگی۔ میں تو پاکستان جاتا بھی کم ہوں۔ ابھی تین سال ہونے والے ہیں پاکستان نہیں گیا۔
    اور اگر جاوں بھی تو لاہور تو کبھی جانا بھی نہیں ہوتا۔۔۔۔۔
     
  4. مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 23, 2012
    پیغامات:
    1,917
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ماشاء اللہ
    بہت خوب!
    آمین
     
  5. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,463
    آمین
    اللہ مالک الملک آپ سب کو خوش و خرم رکھے آمین
     
  6. گمنام

    گمنام رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏اپریل 6, 2013
    پیغامات:
    12
    ماشاءاللہ کیا دلچسپ ملاقات کا احوال لکھا ہے آپ نے
     
  7. سپہ سالار

    سپہ سالار -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 21, 2007
    پیغامات:
    2,019
    ماشاء اللہ، اللہ آپ لوگوں کی زندگیوں‌میں برکت عطا فرمائے۔ آمین
     
  8. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,863
    اعجاز بھائی خواب میں ملاقات تو ہوئی تھی -
     
  9. Ishauq

    Ishauq محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,575
    بہت خوب ، ماشااللہ
     
  10. ام مطیع الرحمن

    ام مطیع الرحمن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2013
    پیغامات:
    1,550
    اللہ تعالی سب بھائیوں کو ایسے ہی سدا ہنستا مسکراتا رکھے۔
    جزاک اللہ خیر ۔بہت اچھا لکھا۔۔۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں