سافٹویئر چوری سے بچیے، اوپن سورس استعمال کیجیے!

عفراء نے 'سوفٹ وئیرز پر تبصرے' میں ‏اپریل 19, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,919
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    فوٹو شائن گرافک کے موضوع میں سافٹویئر چوری پر بات چھڑ گئی۔ مشکوۃ سسٹر کے سوال کا جواب لکھتے ہوئے کچھ لمبا ہو گیا تو سوچا کیوں نا اس کے لیے نیا موضوع شروع کر دیا جائے۔ تو لیجیے یہ موضوع آپکی خدمت میں حاضر ہے۔

    سوفٹویئر کی چوری سے مراد یہ ہے کہ اس کو بغیر لائسنس کے استعمال کرنا جیسے عام زندگی میں ہم کسی کی چیز اس کی اجازت کے بغیر استعمال کر لیں تو وہ چوری کہلاتا ہے۔
    سوفٹویئر دو طرح کے ہوتے ہیں ایک اوپن سورس اور دوسرا کمرشل۔
    کمرشل کو استعمال کرنے کے لیے اسکا لائسنس خریدنا پڑتا ہے اور لائسنس کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں جن سے ان کے استعمال کرنے والوں کی تعداد کا تعین کیا جاتا ہے۔ مثلاً پرسنل استعمال کا خریدیں تو وہ صرف ایک بندے کے نام ہو گا اور وہ بندہ اپنے کسی دوست کے پی سی پر انسٹال کروائے گا تو یہ غیر قانونی ہو گا۔ اسی طرح تعلیمی ادارے کے لیے لائسنس الگ ہو گا جس میں زیادہ لوگوں کے استعمال کی اجازت ہو گی۔
    لائسنس چونکہ پیسوں کا آتا ہے تو لوگ غیر قانونی طور پر ایک ہی لائسنس خرید کر اسی کی کاپیاں بناکر مفت میں آنلائن ڈاؤنلوڈ کے لیے رکھ دیتے ہیں یا پچاس ساٹھ روپے کی سی ڈی میں فروخت کرتے ہیں جس کی کمپنی کی طرف سے قطعاً اجازت نہیں ہوتی۔ اس کو پائیریسی کہتے ہیں جو کتابوں کے معاملے میں بھی کی جاتی ہے۔ ہر پراڈکٹ کی ایک مخصوص' کی' ہوتی جس کے بغیر سافٹویئر چالو نہیں ہوتا، پائیریٹڈ سافٹویئرز میں اس 'کی' کو چرا کر بہت ساری کاپیوں میں استعمال کر لیا جاتا ہے اس کو کریک کرنا بھی کہتے ہیں جس کا طریقہ تھوڑا مختلف ہے۔
    آپ کو یہ بات معلوم ہو گی کہ انتظامیہ کی طرف سے اوپن فورمز پر 'کی' یا 'کریک' شیئر کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ غیر قانونی ہوتا ہے اور دوسری صورت میں انتظامیہ کی پکڑ ہو سکتی ہے۔
    ہمارے ملک میں مجموعی طور پراس پر اتنا چیک نہیں رکھا جاتا لہذا یہ بہت عام ہے اور ہم ہر سوفٹویئر مفت میں استعمال کرنے کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کے غلط لگتا ہی نہیں۔ حالانکہ اصول اصول ہے اور مسلمانوں کو اس کی پابندی بدرجہ اولیٰ کرنی چاہیے۔
    ان میں مائیکروسافٹ، ایڈوبی وغیرہ کے جتنے پراڈکٹس ہیں وہ سب آجاتے ہیں۔ اور ہم کبھی کسی کا لائسنس نہیں خریدتے۔ جبکہ ان ممالک میں جہاں قانون کی سختی ہے وہاں مائیکروسافٹ آفس بھی عام لوگ خرید کر استعمال کرتے ہیں جو اچھا خاصا مہنگا ہوتا ہے لیکن وہاں قانون کی سختی سے پابندی کی جاتی ہے لہذا ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔
    حل: جو لوگ لائسنس خریدنے کی سکت نہیں رکھتے وہ اوپن سورس کی طرف آجاتے ہیں۔ یہ بالکل مفت ہوتے ہیں (البتہ ضروری نہیں کہ ہر اوپن سورس مفت ہو یا ہر مفت سافٹوئیر اوپن سورس ہو۔ یہ ایک خاص اصطلاح ہے جو ان سافٹوئیرز پر لاگو ہوتی ہے جن کا سورس کوڈ پبلک کے لیے مہیا کیا جاتا ہے ) اور تقریباً ان تمام کمرشل پراڈکٹس کا متبادل ان اوپن سورس میں موجود ہے۔
    مثلاً ونڈوز کمرشل ہے تو اس کا متبادل لینکس ہے۔ (تفصیلات پھر کبھی)
    ایڈوبی کے گرافکس سوفٹویئرز کے متبادل انک سکیپ، گمپ وغیرہ وغیرہ (ڈھونڈنے پر اور بھی مل جائیں گے)
    مایئکروسافٹ آفس کا متبادل لبرے آفس ہے اور ایڈٹ پیڈ لائٹ ورڈ کا اچھا متبادل ہے۔
    اسی طرح ہر چیز کا متبادل ڈھونڈنے پر مل جاتا ہے صرف ان کو فروغ دینے کی بات ہے۔ ہمیں ایک ہی لائن پر لگا دیا گیا ہے اور ہم چلتے جا رہے ہیں بدلنا نہیں چاہتے اس لیے ہمیں لگتا ہے ان کمرشل سافٹویرز کے بغیر چارہ نہیں جبکہ اب یہ صرف ایک ایسا مفروضہ بن چکا ہے جس کا حقیقت سے تعلق نہیں۔ ہم ان کا استعمال شروع کریں تو کمرشل سافٹویئرز خود ہی پیچھے چلے جائیں گے۔ یہ اوپن سورس چیزیں کمیونٹی کے لوگ ہی کمیونٹی کی فلاح کے لیے بناتے ہیں لہذا ہمیں چاہیے ہم ان کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیں۔

    ان شاء اللہ اس موضوع میں ہم آئندہ اوپن سورس سوفٹویئرز متعارف کروائیں گے آپ سب سے بھرپور شراکت کی درخواست ہے۔

    نوٹ: راقمہ یہ سب تحریر کرنے کے بعد خود بھی اسی عوام کی صف میں کھڑی ہے جو پائیریٹڈ سافٹویئر استعمال کرتے رہے ہیں! لیکن اب شعور بڑھنے پر اوپن سورس کے سفرپر گامزن ہے : )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    وعلیکم السلام ورحمۃ‌اللہ وبرکاتہ
    بالکل سسٹر صحیح کہا آپ نے۔
    دراصل ہمیں بس عادت ہوچکی ہے ایک سافٹ وئیر کو استعمال کرنے کی، مثال کے طور پر فوٹو شاپ اور کورل ڈرا وغیرہ اسلیے ہم نہیں چاہتے کہ ان کا متبادل تلاش کریں کہ ہم پہلے سے استعمال کرتے ہیں
    میں نے وینڈوز 7 پروفیشنل لیپ ٹاپ میں اصلی انسٹال کی ہے جو یونیورسٹی کی طرف سے ملی تھی جسے عام طور پر Academic لائبریری کہا جاتا ہے وہاں سے ڈاونلوڈ کی تھی۔
    لیکن میں اس معاملہ میں تھوڑا سخت ہوں :00008:
    کچھ کمپنیوں کے سافٹ وئیر کو کریک کرکے اپنا مال سمجھتا ہوں جیسے انہوں نے ہمارے وسائل پر قبضہ کررکھا ہے اور ہمارا تیل استعمال کررہے ہیں اسی طرح‌میں بھی ان کے سافٹ وئیر استعمال کررہا ہوں۔ :00001:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. ابو یاسر

    ابو یاسر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    2,413
    میں اعجاز بھائی کے نظریہ کی تائید کرتا ہوں
    مگر ان کی کمپنیوں میں مسلم بھی تو ہونگے تو ایسے میں ہمارا یہ نظریہ غلط نہ ثابت ہو؟؟؟
     
  4. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    بھائی کچھ خاص کمپنیاں جیسے ایڈوبی وغیرہ۔ خیر ہر کسی کا اپنا نظریہ ہے لیکن ان لوگوں نے بھی مسلمانوں کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ ان کے وسائل پر قبضہ کررکھاہے اور ان کے گھروں کو بلڈوزکیا گیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,919
    بھائی بہت سے لوگ ایسا کہتے ہیں اور ہمارے کچھ اساتذہ کی بھی یہ رائے ہے لیکن اگر آپ کو اپنا حق نہ ملے تو کیا یہ جائز ہو گا کہ آپ بدلہ لینے کے لیے دوسروں کا حق غصب کر لیں؟ اور کیا فرائض اور حقوق ایک دوسرے پر منحصر ہوا کرتے ہیں کہ حق نہ ملے تو فرض بھی ادا نہ کیا جائے؟
    ان سب سے قطع نظر میری رائے یہ ہے کہ جب متبادل موجود بھی ہو تو ہم کیوں نہ استعمال کریں؟؟؟ ہم ہمت ہی نہیں کرتے۔ پہلے میں خود بھی لینکس کو مشکل سمجھتی تھی لیکن ہمت کر کے انسٹال کیا تو چل پڑا۔ بلکہ اب تک جتنا آزمایا ہے ونڈوز کی نسبت بہتر چلتا ہے، بیٹری ٹائم ایکسٹینڈ ہو جاتا ہے، اور بوٹ بھی فوراً ہو جاتا ہے ونڈوز کے مقابلے میں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. ابو یاسر

    ابو یاسر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    2,413
    یہاں غالبا لینکس کی بات ہو رہی ہے
    محفل کی طرح یہاں پر بھی اگر کوئی ڈیٹیل میں (بنا لنک اور حوالے دیئے( لینکس سکھانے والا آجائے تو اہل مجلس کا کافی بھلا ہوجائے
    مگر ہاں!
    یہاں اسپون فیڈنگ ہی کرنی پڑے گی کیونکہ مجھے خود زیادہ نہیں آتی حالانکہ کئی ایک بار میں نے اوبنٹو انسٹالکیااور استعمال کیا ہے
    :(
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,071

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جزاک اللہ خیرا عفراء ، اپنا وعدہ بہت اچھی طرح پورا کیا آپ نے ۔ میں آپ سے متفق ہوں ۔ اگر شعور رکھنےوالے لوگ بات کرتے رہیں گے تو آہستہ آہستہ تبدیلی ضرور آئے گی ۔ اسی طرح مسائل کا حل بھی ممکن ہو سکے گا ۔
    لینکس میں ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ شاملہ سمیت کئی لائبریری سوفٹ وئرز نہیں چلتے ۔ اوپن آفس کے بھی کچھ ایشوز تھے اس میں انگلش میں کام کیا ہے ، عربی میں نہیں ۔ گمپ میں نے انسٹال کر لیا ہے ، کوئی اوپن سورس مووی میکر بھی بتائیں ۔
    ابویاسر بھائی یہ سکھانے والا کام آپ کیوں نہیں کرتے ؟
    Youtube لینکس کمپیوٹر آپریٹنگ سسٹم انسٹال کرنا سیکھیں (اردو میں مکمل ویڈیو گائیڈ) - URDU MAJLIS FORUM
    Ubuntu online tour
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,071
    جی ایسا ہے لیکن سب لوگوں کو اتنی خبر نہیں ہوتی ، وہ ہر سافٹوئر کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرنے لگتے ہیں اس وجہ سے مسلم سافٹوئرزکو بھی نقصان ہوتا ہے ۔ مثلا ان پیج کا سنا ہے انڈین مسلم کا ہے اور قیمت مناسب ہے لیکن پھر بھی لوگ کریک یوز کرتے ہیں ۔
     
  9. ابن قاسم

    ابن قاسم محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2011
    پیغامات:
    1,717
    عمدہ شیئرنگ
    السلام علیکم
    میں نے سنا تھا انڈین ہندو کا ہے
     
  10. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    بھائی یہ بات کنفرم ہے۔ وہ ہندو کا ہے۔ اس کا انٹرویو بھی پہلے ہوچکا ہے اور کسی زمانے میں میں نے ایک فورم پر دیکھا تھا۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں