ماہ صفر کا آخری بدھ اور احمد رضا بریلوی کا فتوٰی

ابوعکاشہ نے 'ماہِ صفر' میں ‏فروری 16, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    بسم اللہ الرحمن الرحیم


    السلام علیکم !
    صفر کے آخری بدھ کی نسبت یہ مشہور ہے کہ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیماری سے صحت ملی ۔انھوں نے غسل صحت فرمایا اور سیروسیاحت کے لیے شہر سے باہر تشریف لے گئے تھے ۔ اس لیے بعض لوگ سنت نبوی سمجھتے ہوئے آخری بدھ کو کو کاروبار بند کر کے خوبصورت کپڑے پہن کے سیروسیاحت کے لیے نکل جاتے ہیں۔ پارکوں اور کھیتوں میں سیروسیاحت کے بعد جب وہ گھر لوٹتے ہیں تو شیرنی حلوہ پوڑیاں یا گندم کو ابال کر بچوں اور غرباء میں تقسیم کرتے ہیں ۔یہ بھائی ان کاموں کو ثواب سمجھ کر کرتے ہیں اور اپنے تئیں اسے محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ ساری بات من گھڑت اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں کیونکہ ان دنوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض نے شدت اختیار کی تھی اور پھر اسی بیماری کی وجہ سے ربیع الاول میں آپ اس دارفانی سے کوچ کر گئے تھے۔

    ماہ صفر کے اس آخری بدھ سے متعلقہ اس سیروسیاحت کے متعلق آئیے احمد رضاخان فاضل بریلوی کے فتوٰی کو پڑھ لیتے ہیں ۔

    احمد رضاخان فاضل بریلوی کا فتوٰی

    ‌‌مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علماء دین اس امر میں کہ ماہ صفر کے آخری چارشنبہ (بدھ)کے متعلق عوام میں مشہور ہے کہ اس روز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض سے صحت پائی تھی بنا بریں اس روزکھانا تقسیم کرتے ہیں اور جنگل کی سیر کوجاتے ہیں۔۔۔۔ مختلف جگہوں پر مختلف معمولات ہیں کہیں اس روز کو نجس و نامبارک جان کرپرانے پرتن گلی میں توڑ ڈالتے ہیں اور تعویز،چھلہ چاندی اس روز کی صحت بخشی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریضوں کو استعمال کراتے ہیں یہ جملہ امور شریعت میں ثابت ہیں کے نہیں ؟
    جواب :
    " آخری چارشنبہ (بدھ) کی کوئی اصل نہیں نہ ہی اس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحت پانے کا کوئی ثبوت ہے۔بلکہ مرض اقدس جس میں وفات مبارک ہوئی اس کی ابتدا اسی دن سے بتائی جاتی ہے اور اسے نجس سمجھ کرمٹی کے برتنوں کو توڑدینا گناہ اور اضاعت مال ہے ۔ بہرحال یہ سب باتیں بلکل بے اصل اور بے معنی ہیں “

    احکام شریعت حصہ دوم صفحہ 193،194

    احمد رضا خان کے اس فتوے سے معلوم ہوا کہ صفر کے آخری بدھ کو سیروسیاحت کے لیے خاص کر لینا اور اسے ثواب سمجھ کر درجات کی بلندی کے لیے مختلف عملیات کرنا درست نہیں ۔آپ نے سیاحت کرنی ہے تو روزانہ کریں اس کے صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں نہ کریں تو بھی کوئی بات نہیں ۔ہاں اسے کسی خاص دن ثواب کی نیت سے شریعت سمجھ کرکرنا درست نہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیر!
     
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    وعلیکم السلام
    بہت شکریہ بھائی۔ آپ نے نہایت ہی اچھے وقت پر اس کی طرف نشاندہی کی ہے۔ اللہ آپ کوخوش رکھے۔ آمین
     
  4. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,923
    جزاک اللہ خیرا.
     
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    جزاك الله خيرا وبارك فيك بہت مفيد موضوع ۔
     
  6. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,582
    وعلیکم السلام

    جزاك الله خيرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں