اﷲ نے دعوت الیٰ اﷲ کا مکلف کیا ہے

عیسیٰ ڈیپر نے 'سیرتِ اسلامی' میں ‏مئی 21, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عیسیٰ ڈیپر

    عیسیٰ ڈیپر -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 15, 2011
    پیغامات:
    165
    اﷲ نے دعوت الیٰ اﷲ کا مکلف کیا ہے ہمیں اپنی تمام طاقت دعوت دین میں کھپا دینی چاہئے ڈاکٹر عبدالحفیظ سموں

    دعو ت الی اﷲ کو اﷲ نے جہاد کبیر قرار دیا ‘ ایسے انبیاء آئے جنھوں نے تلوار نہیں اٹھائی لیکن ایسا کوئی نبی نہیں گزرا جس نے دعوت الی اﷲ کا کام نہ کیا ہو

    جہاد بالسیف اجتماعی طور پر باقاعدہ نظام کے تحت ہو تا ہے، بغیر شرائط پوری کئے جہاد کرنے سے اصلاح نہیں فساد برپا ہو تا ہے جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں

    اسلامی انقلاب کے لیے انبیاء کے منہج پرقائم رہنے کی ضرورت ہے ، حکومت پر قبضہ کرلینے سے معاشرے تبدیل نہیں ہوتے،انبیاء سب سے پہلے معاشرے کو اندر سے تبدیل کر تے تھے

    افراد اور معاشرے کی اصلاح ہو گی تو اسلامی تعلیمات اور اسلامی قوانین کو قبول بھی کیا جائیگا، ایک مؤحد تنظیم بھی موجودہ حالات میں بر اقتدار آجائے تو وہ اچھا رزلت نہیں دے سکے گی

    ہمیں ایسا اقتدار نہیں چاہے جسکے ہوتے ہوئے شرک جاری رہے ، ایسی حکومت قبول نہیں جسکی و جہ سے آدمی مسئول ہو، ہم محض تاخیر کی وجہ سے شارٹ کٹ مارنے کے بھی قائل نہیں

    اﷲ کے فضل اندرون سندھ ایک ہزار سے زائد مساجد قائم ہو چکی ہیں، ہر جگہ توحید و سنت کی دعوت دی جا رہی ہے ، جمعیت اہلحدیث سندھ کے ناظم اعلیٰ کا حدیبیہ اخبار کے لیے خصوصی انٹرویو

    بدین (خصوصی انٹرویو) جمعیت اہلحدیث سندھ کے ناظم اعلیٰ ممتاز عالم دین و محقق متعدد کتابوں کے مصنف ڈاکٹر عبد الحفیظ سموں نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں اﷲ نے ہمیں جس کام کا مکلف کیا ہے وہ دعوت الی اﷲ ہے ہمیں اپنی تمام طاقت اس میں کھپا دینی چاہئے۔ تمام اہلحدیث ہمارے بھائی ہیں تنظیمی اختلافات کی وجہ سے کسی کو خارج از اسلام نہیں کیا جا سکتا۔ اختلافات کو مل بیٹھ کر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انسان ہونے کے ناطے ہمارے اندر کمزوریاں ہیں لیکن جمعیت اہلحدیث سندھ کے منہج میں کوئی جھول نہیں۔ اتحاد کے لیے عقیدے و منہج کی قربانی نہیں دے سکتے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے بدین میں واقع اپنی رہائش گاہ میں حدیبیہ اخؓار کے چیف ایڈیٹر سید عامر نجیب کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا اس موقع پر مولانا عبد الوکیل ناصر ، مولانا نعمان اصغر، ایم مزمل صدیقی اور فرحان حمزہ بھی موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ پہلا جہاد دعوت الی اﷲ ہے جیسا کہ قرآن میں اﷲ نے فرمایا وجا ھد ھم بہ جھاداً کبیراً انھوں نے کہاکہ تمام انبیاء نے پہلے یہ ہی جہاد کیا ایسے انبیاء آئے جنھوں نے تلوار نہیں اٹھائی لیکن ایسا کوئی نبیؐ نہیں آیا جس نے دعوت الیٰ اﷲ کا کام نہ کیا ہو۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اﷲ نے ہمیں جس کام کا مکلف کیا ہے وہ دعوت الی اﷲ ہے۔ دعوت دینکے حوالے سے ہمارے ملک پاکستان میں مکمل آزادی ہے یہ آزادی آپ کو کسی دوسرے ملک میں نظر نہیں آئیگی۔ آپ اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر دعوت الی اﷲ کا کام کریں آپ کو کوئی نہیں روکتا۔ دعوت کے یہ مواقع اﷲ کی عنایت ہے اسے ضائع نہیں کرنا چاہئے اور ہمیں اپنی تمام طاقت دعوت و تبلیغ کے کام میں کھپا دینی چاہئے۔ ڈاکٹر عبد الحفیظ سموںنے مزید کہا کہ جہاد بالسیف انفرادی طور پر نہیں ہو تا یہ اجتماعی طور پر باقاعدہ نظام کے تحت ہو تا ہے۔ جوکوئی بغیر نظام سے اس سر انجام دینے کی کوشش کریگا اس کے اس عمل سے اصلاح نہیں فساد برپا ہو گا جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں ۔ ہمارے نوجوان جذباتی ہو کر اس راستے پر قدم رکھ دیتے ہیں پھر حکومت انکے خلاف کریک ڈائون کر تی ہے جو قوت کفار کے خلاف استعمال ہونی چاہئے تھی وہ اپنے لوگوں کے خلا ف استعمال ہو تی ہے سلاف کا منہج اس معاملے میں حدیث رسولؐ کے مطابق سیدنا ابن عمر ؓ سے متعلق روایت صحیح سند کے ساتھ طبرانی کبیر میں موجود ہے کہ حجاج بن یوسف کوئی غلط بات کر رہا تھا۔ سیدنا ابن عمر ؓ نے کہا پہلے میں نے سوچا اسے درست کروں پھر میں نے سوچا کہ اﷲ کے نبیؐ کا فرمان ہے کہ’’ خود کو ذلیل نہ کرو یعنی کسی ایسی چیز سے نہ ٹکرانا جس کا مقابلہ نہ کر سکو اور ذلیل ہوجائو۔‘‘ ڈاکٹر عبد الحفیظ سموں نے کہا کہ ہر جگہ اقدام بھی مسئلے کا حل نہیں کہیں خاموشی بھی مسائل کا حل ہو تی ہے پیچھے ہٹنا بھی مسائل کا حل ہو تا ہے۔ اﷲ کے رسول صلی اﷲعلیہ وسلم حدیبیہ کے موقع پر پیچھے ہٹ گئے۔ اس سوال کے جواب میں کہ جمعیت اہلحدیث سندھ میں جماعتی تعصب کچھ زیادہ نہیں ؟بڑ ھ گیا ؟ڈاکٹر عبد الحفیظ سموں نے کہا کہ سیدھی سی بات ہے جب آپ کسی تنظیم سے وابستہ ہیں تو اسی بنیاد پر کہ میری تنظیم صحیح ہے اگر دوسری تنظیم بھی صحیح تو الگ ہونے کی ضرورت ہی نہ ہو ۔ جمعیت اہلحدیث سندھ کی بنیاد شاہ بدیع الدین شاہ راشدی رحمۃ اﷲ علیہ نے بالکل اخلاص نیت کے ساتھ خالصتاً سلفی منہج پر رکھی تھی۔ میں اپنی تقاریر میں کہتا ہوں ہمار ے اندر عملی کو تاہیاں ممکن ہے ہو سکتی ہیں انسان ہیں لیکن جمعیت اہلحدیث کے منہج میں کوئی جھول نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم اتحاد کے لیے عقیدے و منہج کی قربانی دینے کے لیے ہر گز تیار نہیں البتہ جو اہلحدیث ہیں وہ کسی بھی سلفی جماعت میں ہیں ہمارے بھائی ہیں۔ ہمیں ان سے قطعی نفرت نہیں ۔ اختلافات اصولی ہیں تعصب کی بنیاد پر نہیں ہیں۔ وہ چیزیں جنھیں ہم قرآن و حدیث اور منہج سلف کے خلاف سمجھتے ہیں ساتھی انھیں دو ر کر دیں تو ساتھ ملکر کام بھی ہو سکتا ہے ۔ میں اس بات کا قطعی حامی نہیں کہ تنظیمی اختلاف یا اجتہادی غلطیوں کی بنیاد پر ہونے والے اختلافات پر فتویٰ بازی کی جائے اپنے بھائی کو خارج از اسلام قررا دیکر اس سے برادرانہ تعلق توڑ لیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ اس قسم کے فتوے بازی کی جرأت انھیں کو ہوتی ہے جن کا علم کم ہے۔ سلف کا قول ہے کہ آدمی میں جتنا علم کم ہو تا ہے اتنا ہی وہ فتوے دینے میں جری اور غیر ذمہ دار ہو تا ہے۔ علم آدمی کو ذمہ دار بنا تا ہے اور سطحی فتوے دینے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اس لیے میں تنظیمی اختلافات کی بنیاد پر سنگین فتوے بازی کی مذمت کر تا ہوں اہلحدیثوں میں جو بھی تنظیمی نوعیت کے اختلافات ہیں انھیں مل بیٹھ کر حل کرنا چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں جمعیت اہلحدیث سندھ کے ناظم اعلیٰ نے کہا کہ اسلامی انقلاب اور اصلاحی تبدیلی کے لیے بھی ہمیں انبیاء کے منہج پر کار بند رہنے کی ضرورت ہے۔ حکومت پر قبضہ کر لینے سے معاشرے تبدیل نہیں ہوتے۔ براہ راست حکومت پر قبضہ یہ انبیاء کی ترجیح نہیں رہا۔ انبیاء سب سے پہلے معاشرے کے اندر تبدیلی لاتے ہیں افراد اور معاشرے کی اصلاح ہو گی تو اسلامی تعلیمات اور اسلامی قوانین کو قبول بھی کیا جائیگا۔ لیکن ایک ایسے معاشرے میں جہاں لوگ ہی اصلاح یافتہ نہ ہوں وہاں دیندار عالم بھی حکمران بن جائے تو اسکے نتائج نہیں نکلیں گے۔ اس طریقہ ٔ جدوجہد کو محض اسلئے ترک کرنا کہ یہ طویل راستہ ہے یہ بیوقوفی، جہالت اور دین سے لا علمی ہے۔ اگر آپ صحیح راستے پر ہیں منزل واضح ہے تو مایوس نہیں ہونا چاہئے اﷲ کے انبیاء سے بڑھ کرکوئی حکیم نہیں ہو سکتا۔ انبیاء نے توحید کو کھول کھول کر بیان کیا لوگ انکے دشمن ہو گئے اﷲ کے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ایک ایسے نبیؐ کو دیکھا جسکا ایک بھی امتی نہ تھا۔ اصل میں انبیاء نے جاہلانہ ماحول سے سمجھوتہ نہیں کیا اور اپنی دعوت اور منہج پر قائم رہے جنکا کوئی امتی نہیں تھا وہ بھی اﷲ کے ہاں کامیاب تھے کیونکہ انسان کے بس میں کوشش کرنا ہے صحیح راستے پر گامزن رہنا ہے نتیجہ اﷲ کے ہاتھ میں ہے۔ ڈاکٹر عبد الحفیظ سموں نے کہا ہے کہ ابن خلدون نے اپنے مقدمے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ سیدنا علی ؓ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ ابو بکر ؓ و عمر ؓ کے دور میں جو امن اور خوشحالی تھی وہ آج نہیں سیدنا علی ؓ نے جواب دیا کہ ’’ جب ابو بکر ؓ و عمر ؓ حکمران تھے تو رعایا مجھ جیسی تھی اور میں جب حکمران بنا تو رعایا تم جیسی ہے ‘‘ اس سے پتہ چلا کہ حکمران کتنا ہی نیک اور متقی کیوں نہ ہو معاشرہ بگڑا ہوا ہو گا وہ کچھ اچھا رزلٹ نہیں دے سکتا اگر مؤحد تنظیم بھی موجودہ معاشرتی صورتحال میں بر سر اقتدار آجائے تو وہ ایک پکی قبر کو بھی ہاتھ نہیں لگا سکتی حالانکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انقلاب کے بعد پہلا حکم ہی یہ دیا کہ پکی قبر کو گرا دواسلئے ہمیں ایسا اقتدار نہیں چاہئے جسکے ہوتے ہوئے شرک جاری رہے ایسی حکومت قبول نہیں جسکی وجہ سے آدمی اﷲ کے ہاں مسئول ہو ہم محض تاخیر کی وجہ سے شارٹ کٹ مارنے کے بھی قائل ہیں۔ جمعیت اہلحدیث سندھ کی دعوتی پیش رفت کے بارے میں بتاتے ہوئے ڈاکٹر عبد الحفیظ سموں نے کہا کہ اﷲ کے فضل و کرم سے سندھ میں ہماری کم و بیش ایک ہزار مساجد قائم ہو چکی ہیں ہر جگہ توحید و سنت کی دعوت دی جا رہی ہے اﷲ کے بندے شرک و بدعات کی گمراہی سے نکل نکل کر توحید و سنت کی طرف آرہے ہیں انھوں نے کہا کہ آج سے بیس سال پہلے بدین میں اہلحدیث کی دو مساجد ہوا کرتی تھیں آج الحمد ﷲ اسی شہر کے اندر14 مساجد ہیں حیدر آباد میں سات آٹھ مساجد تھیں آج 50 سے زائد مساجد قائم ہو چکی ہیں ۔ ایسے علاقے جہاں لوگ اہلحدیث کا نام لینا پسند نہیں کر تے تھے وہاں نہ صرف مساجد قائم ہیں بلکہ لوگ اہلحدیث سے مانوس ہو چکے ہیں اب لوگ رفع الیدین کرتے دیکھ کر حیران نہیں ہوتے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں