ایک انقلاب آفریں تحریر

ساجد تاج نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏جون 12, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    ایک انقلاب آفریں تحریر


    انقلاب یا ارتقاء ہمیشہ قوت ہی کے اثر سے رُونما ہوا ہے۔ اور قوت ڈھل جانے کا نام نہیں، ڈھال دینے کا نام ہے۔ مڑجانے کو قوت نہیں کہتے، موڑ دینے کو کہتے ہیں۔ دنیا میں کبھی نامردوں اور بزدلوں نےانقلاب پیدا نہیں کیا۔ جو لوگ اپنا کوئی اصول، کوئی مقصد حیات، کوئی نصب العین نہ رکھتے ہوں، جو بلند مقصد کے لئے قربانی دینے کا حوصلہ نہ رکھتے ہوں، جو خطرات و مشکلات کے مقابلے کی ہمت نہ رکھتے ہوں، جن کو دنیا میں محض آسائشیں اور سہولت ہی مطلوب ہو، جو ہر سانچے میں ڈھل جانے اور ہر دباؤ سے دب جانے والے ہوں، ایسے لوگوں کا کوئی قابل ذکر کارنامہ انسانی تاریخ میں نہیں پایا جاتا۔

    تاریخ بنانا صرف بہادر مردوں کا کام ہے۔ انہی نے اپنی جہاد اور قربانیوں سے زندگی کے دریا کا رُخ پھیرا ہے، دنیا کے خیالات بدلے ہیں، مناہجِ عمل میں انقلاب برپا کیا ہے، زمانے کے رنگ میں رنگ جانے کی بجائے زمانے کو خود اپنے رنگ میں رنگ کر چھوڑا ہے۔

    (سید ابوالاعلیٰ مودودی۔ کتاب ’’تنقیحات‘‘)۔


    رابعہ کے والدین کے گھر کاڈرائیو وے اوراس کے آس پاس کاحصہ گاڑیوں سے بھراپڑاتھا۔لگتا ہے کہ کافی لوگ آچکے ہیں رابعہ نے گاڑی سے اترتے ہوئے طارق سے کہا۔گھر کادروازہ کھلا اور رنگوں کاسیلاب امنڈ پڑا۔سب ہی رشتے دارموجود تھے ۔باتوں کی آوازیں ،کھنکتے ہوئے قہقہے اور اردوگانے سب مل کر کچھ ایسی فضا پیداکررہے تھے کہ اس وقت یہ گھر کینیڈا اور پاکستان کاحسین امتزاج معلوم ہورہاتھا۔ممی غرارے سوٹ میں ملبوس ، بہنیں ٹینا اور زوبی جینز میں ، دادی امی اور نانی اماں ساڑھیوں میں سجی ہوئی رابعہ کودیکھتے ہی اس کی طرف لپکیں ۔۔۔۔اب آرہی ہو تم ؟کہاں تھیں صبح سے ؟میںتوفون کرکرکے تھک گئی۔’’ممی سخت غصے میں تھیں‘‘۔

    (عید کا جوڑا صفحہ:۱۶)

    ہاں بھئی کمیٹی پارٹی کی رونق کاکچھ نہ پوچھو۔دوہفتے پہلے گلِ رعنا کی بیٹی نے اپنے گھر پارٹی کی تھی۔کیالڑکیوں نے ہنگامہ مچایا ہوا تھا!حالانکہ مائیں Invitedنہیں تھیں۔ مگر گل کی قریبی فرینڈز شریک تھیں۔ مجھے بھی ناز زبردستی اپنے ساتھ لے گئی تھی۔بڑا مزا آیا… مائیں بیٹیاں سب ہی مل کر انجوائے کر رہی تھیں۔میں توکہتی ہوں کہ ایک طرح سے اچھا ہی ہے ہماری لڑکیاں ماؤں کے ساتھ فری ہیں اور اس طرح باہر گوروں کے ساتھ ملنے سے بھی بازرہتی ہیں۔

    (جگمگاتے جگنو صفحہ:۸۰)

    ہاں یہ تو آپ ٹھیک کہتی ہیں۔ مگر ہماری لڑکیاں اسطرح کی پارٹیوں کے باوجود گورے کالے سبھی لڑکوں سے ملتی ہیں۔ آپ کو پتہ ہی ہوگاکہ یہ لڑکیاں سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کس طرح لڑکوں کے ساتھ رہتی ہیں …نجمہ نے کریدا۔

    (جگمگاتے جگنو صفحہ:۸۱)


    شہناز احمد آٹووا​
     
  2. المدنی

    المدنی -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 3, 2010
    پیغامات:
    315
    سمجھ نہیں آیا
     
  3. مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 23, 2012
    پیغامات:
    1,917
    عمدہ اقتباس
    یہ سب تحاریر میں نےمکمل بھی پڑھی ہوئی ہیں۔ ۔
     
  4. اُم تیمیہ

    اُم تیمیہ -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2013
    پیغامات:
    2,723
    بہت خوب ساجد بھیا۔

    کیا آج کل کی مائیں ایسے بیٹے جننے کا شوق رکھتی ہیں؟؟؟

    کیا آج کے باپ اپنے بیٹوں کی ایسی تربیت کرنا چاہتے ہیں؟؟

    کیا آج کے اساتذہ ایسی تعلیم دینا چاہتے ہیں؟؟

    کیا آج کل کے جوان عالی ہمت بننا چاہتے ہیں؟؟

    کیا آج کل انقلاب کے لئے بلٹ کی بجائے بیلٹ پیپر کا انتخاب نہیں کر لیا گیا؟؟

    کیا آج کل انقلاب کا منزل اپنی اپنی پارٹی کی حکومت لانا نہیں‌ رہ گیا؟؟

    کیا آج ہمارے عمل سے اسلامی انقلاب کا راستہ ہموار ہو رہا ہے یا ہمارے عمل سے جمہوریت کے حامی ملکوں کے ''خدا'' بن کر اسلام کے بیٹوں اور بیٹیوں کو جمہوریت کے آقاؤں کو بیچ رہے ہیں؟؟
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 13, 2013
  5. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    عمدہ اقتباس ہے بھائی جزاکم اللہ خیرا۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں