سگان اور محبان سگ

بابر تنویر نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏جون 29, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
    عجیب منطق ہے اس طبقہ فکر کی۔ غالبا درمختار میں پڑھا تھا کہ ان کی فقہ کے مطابق کتا بذات خود نجس نہیں ہے۔ بس اس کا لعاب دہن ناپاک ہے۔ اور یہ بھی کہ کتے کو گود میں اٹھا کر نماز ہوجاتی ہے۔ ویسے کوئ ان سے پوچھے کہ کون ایسا بے وقوف ہوگآ جو ایک کتے کو اٹھا کر نماز ادا کرے گآ۔ ایک یہ ہیں جو کہ کتے کو اٹھا کر نماز پڑھنے کو جائز ٹھرا رہے ہیں۔ دوسری طرف جبرئیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چارپائ کے نیچے کتے کی موجودگی کی وجہ سے آپ کے پاس تشریف نہیں لاتے۔ یہ اپنی مثال کتے سے دیتے ہیں کہ جی ہم مدینہ کے سگ ہیں یا اپنے غوث کے سگ ہیں۔
    اللہ تعالی قران پاک میں بھی کتے کی مثال دیتا ہے مگر اللہ تعالی کی آيات کو جھٹلانے والوں کے لیۓ۔ سورہ الاعراف آيت نمبر 175 تا 177 کا ترجمہ پیش کرتا ہوں۔
    اور ان لوگوں کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنائیے کہ جس کو ہم نے اپنی آیتیں دیں پھر وه ان سے بالکل ہی نکل گیا، پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا سو وه گمراه لوگوں میں شامل ہوگیا (175) اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کی بدولت بلند مرتبہ کر دیتے لیکن وه تو دنیا کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرنے لگا سو اس کی حالت کتے کی سی ہوگئی کہ اگر تو اس پر حملہ کرے تب بھی ہانپے یا اس کو چھوڑ دے تب بھی ہانپے، یہی حالت ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ سو آپ اس حال کو بیان کر دیجئے شاید وه لوگ کچھ سوچیں (176) ان لوگوں کی حالت بھی بری حالت ہے جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں اور وه اپنا نقصان کرتے ہیں ((17
    ان آیات سے ایک اور بات عیاں ہوئ کی کتے کی مثال بری ہے۔
    اسی طرح ہمارے نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کتے کی مثال برے شخص کے لیۓ ہی دی ہے۔ بخاری ، احمد، اور ترمذی کی ایک حدیث کا ترجمہ پیش کرتا ہوں۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :" ہماری مثال اس برے آدمی کی طرح نہیں ہونی چاہیۓ جو اپنے ہبہ میں رجوع کرتا ہے۔ ایسا شخص اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے کی طرف رجوع کرتا ہے
    ان آیت اور حدیث سے ہمیں معلوم ہوا کہ کسی مسلمان کو کتے کی مثل نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اور کسی مسلمان کو اپنے آپ کو کتا کہنا جائز نہیں۔۔
    یہ تو تھا قران و حدیث کا فیصلہ کہ کتا بذات خود ایک نجس جانور اور اس کی مثال بھی بری۔ مگر کیا کہین کہ شائد اس طبقہ فکر کی عقلوں پر پتھر پڑے ہوۓ ہیں یا پھر یہ اللہ تعالی کی طرف سے ان پر عذاب کی ایک شکل ہے کہ ایک تو یہ کتوں سے بے انتہاء پیار کرتے ہیں اور پھر اپنی مثال بھی کتوں سے دیتے ہیں۔ ان محبان سگ کے سگوں سے محبت کی چند مثالیں ان کی اپنی زبانی پیش کرتا ہوں۔ کتاب "مدينة الرسول" کے صفحہ 408 پر "مدینة الرسول کے سگآن محترم اور چند یادیں کے عنوان کے تحت جماعت علی شاہ کا واقعہ لکھتے ہیں۔
    " آّپ اپنے احباب کے ساتھ مدینہ کی ایک گلی میں کھڑے ہیں کہ سامنے سے ایک زخمی کتا چیختا ہوا گذرا۔ اس کتے کو کسی نے پتھر مارا تھا حضرت صاحب اس کتے کو دیکھ کر بے خود ہوگۓ۔ اس بے خودی میں سگ طیبہ کو کلاوے میں لے لیا۔ اپنی دستار سے اس کا خون صاف کیا، پھر ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے کہا:
    " اے سگ مدینہ، خدارا بارگاہ رسالت میں میری شکایت نہ کرنا"
    پھر دیر تک سگ طیبہ کو سینے سے لگا کر روتے رہے۔
    اسی طرح صفحہ 409 پر رقمطراز ہیں۔
    " 1968 کی بات ہے۔ پیر حیدر علی شاہ نے مجھے مدینہ الرسول میں یہ واقعہ سنایا۔
    ایک حاضری پر حضرت نے فرمایا:" آج مدینہ الرسول کے درویشوں کی دعوت ہے" دیگیں پکوا دی گئیں، بازار سے نۓ برتن منگوا لیۓ گۓ۔ عرض کی گئ حضور! درویشوں کی آمد کا سلسلہ کب شروع ہوگآ؟ فرمایا " یہ درویش آئیں گے نہیں، تمہیں ان کے حضور جا کر نذرانہ پش کرنا ہوگآ" فرمایا یہ روٹیاں، یہ گوشت مدینہ منورہ کے سگان محترم کو پیش کیا جاۓ۔ چنانچہ کتوں کو تلاش کر کر کے حکم کی تعمیل کی گئ۔
    اسی طرح صفحہ 409 -410 پر " سگ طیبہ کی نوازش" کے عنوان کے تحت یوں رقم طراز ہیں:
    ایک حاضری میں مدینہ منورہ سے واپسی کی ساری رات سگان مدینہ کی زیارت میں صرف کردی۔ شوق یہ تھا کہ ان کی "قدم بوسی" کرکے مدینہ سے رخصت ہوں۔ یہ بھی شوق تھا کہ سگ مدینہ کی آواز بھی ٹیپ کرلوں۔ ٹیپ لے کر گھومتا رہا، کسی سگ نے مجھے قریب نہ پھٹکنے نہ دیا۔ جو‎ں ہی کسی سگ طیبہ کو سویا ہو پایا، دور بیٹھ گيا کہ اس کی بیداری پر سلام عرض کروں گا۔ ایک کار کی آواز سے وہ بیدار ہوگيا۔ میں نے قریب جانے کی کوشش کی تو وہ نفرت سے بھاگ گیا۔ میں نے وہیں کھڑے منت سماجت کی اور کہا :
    خدا کے لیۓ قدم بوسی کا موقع دے دو صبح مدینہ چھوٹ رہا ہے پھر قسمت کی بات ہے۔
    مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ میری عاجزانہ درخواست پر وہ رک گيا۔ میں قریب ہوا، قدم بوسی کی، اس کی آواز ٹیپ کی، اور صبح کی اذان ہونے پر میں وہاں سے چلا آیا تو کم و بیش 50 قدم سگ مدینہ میرے ساتھ آیا۔ سگ طیبہ کی اس نوازش کو کبھی نہیں بھول سکتا کہ مجھے قریب جانے کا موقع دیا اور 50 قدم میرے ساتھ چل کر مجھے شرف بخشا"
    ابو الحسین نوری صوفیا میں بہت بڑا مقام رکھتے ہیں وہ کتے کی بڑی قدر کرتے تھے۔ جہاں کہیں کتا بھونکتا نظر آتا وہ فوری جواب دیتے اور پکار اٹھتے۔ ان کی پکار کیا تھی؟۔ ملاحظہ ہو
    "لبيك و سعديك" میں حاضر ہوں اور سعادت نصیب ہوں۔
    صاحب فوائد فریدیہ لکھتے ہیں:
    "حمزہ خراسانی کے کانوں میں ایک دنبے کی آواز پہنچي تو فرمایا۔ " لبیک جل شانہ (استغفراللہ)
    مولانا ابولکلام ازاد لکھتے ہیں:
    کتا زیادہ سے زیادہ انسان کے آگے جھکتا ہے۔ وہ کتے سے اشرف اور اعلی ہے۔ گھوڑا اور ہاتھی انسان کے چاکر بن جاتے ہیں کہ وہ انسان کی عظمت کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ مگر انسان کتے سے بھی بد تر اور گھوڑے اور ہاتھی سے بھی اسفل ہے کہ اپنے سے اعلی کے آگے نہیں بلکہ اپنے ہی جیسے کے سامنے یا اپنے سے بھی بد تر کے آگے جھکتا اور اوندھا ہوتا ہے۔ تم کسی کتے کو نہیں دیکھو گے کہ وہ کسی کتے کے آگے عاجزی کرے۔ لیکن یہ انسان ہی ہے کہ اپنے جیسے ایک دوسرے انسان کو چآندی اور سونے کے تخت پر بٹھاتا ہے اور پھر کتوں کی طرح اس کے آگے زمین پر لوٹتا ہے اور گرد ذلت چاٹتا ہے۔"
    میٹیھی میٹھی سنتیں یا؟ از ابن لعل دین ص نمبر 357 سے 361۔
     
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    سگان تو دور کی بات اب تو کتوں کے کتے بهی فخریه کہلواتے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,614
    بهت اچهی شیرنگ هے. جزاک الله خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,376
    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    دراصل بعض مذاہب کی بنیادہی منطق پر ہے ۔ صرف درمختار ہی کیا ، چھوٹی بڑی تمام کتابوں میں ایسی فقہ موجود ہے کہ قیامت تک ان کے وقوع پذیر ہونے کا کوئی امکان نہیں‌۔
    عجیب ۔ مدینہ میں کتوں کو مار دیا جاتا ہے ۔ہمیں آج تک مدینة الرسول کی گلیوں میں‌ کوئی کتا گھومتا نظر نہیں آیا ،معلوم نہیں انہیں کہاں سے نظرآجاتے ہیں‌۔ شاید یہ معرفت کی باتیں‌ہیں‌۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    جو کتے ڈھونڈنے جاتے ہیں انہیں کتے مل جاتے ہیں جو مسجد نبوی میں نمازیں پڑھنے جاتے ہیں وہ نمازیں پڑھ آتے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    جزاک اللہ خیرا بابر بھائی
     
  7. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    درست فرمایا رفی بھائ۔ میں ایک بات سوچ رہا تھا سگ عربی کا لفظ تو نہیں ہے۔ یہ اپنے آپ کو سگ مدینہ کیوں کہتے ہیں " کلب مدینہ" کیوں نہیں کہتے۔
    علامہ اقبال کا ایک فارسی شعر اسی کتاب سے نقل کرتا ہوں۔
    از خوے غلامی زسگاں خوار تراست-------------------من نہ دیدم کہ سگے پیش سگے سر خم کرد
    یعنی انسان غلامی میں کتوں سے بھی زیادہ ذلیل ہو گيا ہے کیونکہ میں نے کسی کتے کو دوسرے کتے کے سامنے سر جھکاتے نہیں دیکھا۔
    اپنے آپ کو کتا قرار دینے کا رواج احمد رضا بریلوی سے ہوا۔ وہ خود اور ان کے معتقدین بھی اپنے آپ کو کتے قرار دیتے تھے۔ سنيے:
    کوئ کیوں پوچھے تیری بات رضا-----------------------------تجھ سے کتے ہزار پھرتے ہیں۔ حدائق بخشش ص 43، فیضان سنت 219

    مزید سنیۓ۔
    تجھ سے در، در سے سگ اور سگ سے ہے مجھ کو نسبت----------------------------میری گردن میں بھی ہے دور کا ڈورا تیرا

    اب جب یہ خود کلب ہوۓ تو صاف ظاہر ہے ان کی اولاد بھی کلب ہی ہوگي۔ اس کا ثبوت ملاحظہ فرمایۓ۔
    ایک مرتبہ خان صاحب بریلوی کے پیر صاحب نے رکھوالی کے لیۓ اچھی نسل کے دو کتے منگواۓ تو جناب احمد رضا صاحب اپنے دونوں بیٹوں کو لیۓ اپنے پیر صاحب کے پاس حاضر ہوگۓ اور اپنے بیٹوں کی طرف اشارہ کرتے ہو‎ۓ کہنے لگے۔
    " میں آپ کی خدمت میں دو اچھی نسل کے کتے لے کر حاضر ہوا ہوں۔ انہیں قبول فرمالیجیۓ۔ (انوار رضا ص۔ 238)
    خان صاحب ایک جگہ مزید فرماتے ہیں کہ ہمیں آہ و فغاں کرنے کا طریقہ یاد ہے۔ مگر سرزمین مدینہ میں آہ فغاں کرنے سے رکاوٹ یہ ہے کہ ڈر لگتا ہے کہ کہیں اس پاک سرزمین کے سگان محترم کی سمع خراشی نہ ہوجاۓ۔
    خوف ہے سمع خراشی سگ طیبہ کہ------------------------------ورنہ کیا یاد نہیں ، نالہ و فغاں ہم کو
    اسی طرح خان صاحب کا ایک مرید اپنے پیر و شیخ احمد رضا کے سامنے عجز و نیاز کرتے ہوئے اور اپنا دامن پھیلا کر یوں پکارتا ہے۔
    میرے آقا میرے داتا! مجھے ٹکڑا مل جائے------------------------دیر سے آس لگاۓ بیٹھا ہے یہ کتا تیرا
    -------------------------------
    اس عبید رضوی پر بھی کرم کی ہو نظر------------------- بد سہی ، چور سہی ہے تو وہ کتا تیرا
    (بحوالہ مداح اعلی حضرت از ایوب رضوی ص 4-5)
    الیاس قادری تو لگتا ہے کہ سب سسے زیادہ خواہش رکھتے ہیں کہ وہ گھڑی کب آۓ گي جب وہ کتا بن سکیں گے۔ ان کی خواہش آپ بھی سن لیں:
    "مگر۔۔۔۔۔۔۔مگر سگ (کلب)مدینہ عفی عنہ اپنے اندر ایسی جراءات نہیں پاتا کہ اونچے اڑ کر محبوب کے میٹھے میٹھے گنبد پر چمٹنے کی ہمت کرسکے۔ ہاں یہ آرزو ضرور ہے کہ کاش! مدینے کے کسی محترم کتے (دوبارہ پڑھیۓ "محترم کتے") کے مبارک پاؤں کا کوئ ناخن بلکہ دم شریف (دوبارہ پڑھیۓ "دم شریف") کا آخری بال ہی بن گيا ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔" مکتوبات رضا ص۔ 36

    قارئین! آپ نے دیکھا کہ پیر الیاس قادری کے نزدیک کلب مدینہ کی دم بھی دم نہیں بلکہ "دم شریف" ہے۔

    دعوت اسلامی کے بھائیو!۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کے لیۓ ذرا غور کرو، یہ کیا مذاق ہے، یہ کیسی گستاخی ہے اور توہین ہے، یہ کوئ گستاخی جیسی گستاخی ہے۔ یہ کوئ توہین جیسی توہین ہے۔۔۔۔۔۔۔ ایک مسلمان کا کلیجہ شق نہیں ہوجاتا، قلم کانپ جاتا ہے، زبان لڑکھڑا جاتی ہے، دماغ ماؤف ہو جاتا ہے کہ الیاس قادری نے گستاخی ہی ایسی کی ہے، سوچیۓ فکر کیجیۓ کہ اس کے نزدیک مدینہ بھی "شریف" مکہ بھی "شریف" بیت اللہ بھی "شریف" حدیث رسول بھی "شریف" اور قران بھی "شریف" اور دل پر ہاتھ رکھ کے سنیۓ کہ غلیظ اور ناپاک کتے کی دم بھی "شریف"۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو القابات والے الفاظ کلام اللہ، اور کلام رسول کے لیۓ استعمال کیۓ وہیں ایک حقیر و غلیظ جانور کے گندی دم کے لیۓ؟ آخر یہ کیسا عاشقانہ انداز ہے؟ اللہ تعالی کی پناہ ایسے عشق ہے۔۔۔۔۔!
    ایک اور تقریر میں الیاس قادری صاحب اپنے آپ کو کتوں کا کتا بھی قرار دے چکے ہیں۔ یہ صرف "کلب مدینہ" ہونے پر ہی اکتفا نہیں کرتے۔ ان کا ایک شعر بھی سنیۓ
    دے دیا عطار کو مرشد ضیاء الدین سا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور سگ غوث و رضا بنایا اس کو۔

    سب کو پیدا کرنے والی تو صرف اور صرف اللہ تعالی ہی کی ذات اقدس ہے۔ مگر الیاس قادری کا عقیدہ اس سے مختلف ہے۔

    یوں تو احسان بہت ہیں جو ہو یہ بھی احسان۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے کتوں کا کتا جو بنایا یا غوث
    ان کی سگ بھری ایک اور خواہش بھی سنیۓ۔
    کاش! دشت طیبہ میں بھٹک کے مر جاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر سگان مدینہ کا بن نوالہ تر جاتا

    کسی بھائ نے مجھ سے کہا کہ کیوں ان کی ناراضگي مول لیتے ہو۔ میں نے کہا کہ بھائ بات یہ ہے کہ اگر میں تمہیں کسی ایسے نام سے پکاروں جو تم کو پسند نہیں ہے تو یقینا تم مجھ سے ناراض ہوگے۔ اور اگر میں تمہیں کسی ایسے نام یا لقب سے پکاروں جو کہ تم نے خود ہی اپنے لیۓ اختیار کیا ہو تو پھر تمہارے ناراض ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگآ ۔ یہ لقب تو انہوں نے خود اپنے لیۓ اختیار کیا ہے تو اس پر یہ مجھ کیوں ناراض ہونے لگے۔ ہاں میری یہ دعا ضرور ہے کہ یہ لوگ حقیقت کا ادراک کرلیں اور اپنی نسبت ایک نجس جانور سے کرنا چھوڑ دیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,614
    بهت زبردست. بابر بهایی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,376
    محترم بھائی ۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے شیخ اکبر ابن عربی زندیق فاجر کے عقیدہ وحدت الوجود کو مانتے ہیں، جس کا عقیدہ یہ تھا کہ نعوذ باللہ ، کائنات کی ہرچیز جن و انس ، ہرقسم کے جاندارخدا ہیں‌ یا اس کا پرتو ہیں‌ ، اس لیے یہ لوگ کتوں کے پیچھے چلتے ہیں‌۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    اور جب کتے مل جاتے ہیں تو پھر کتوں کے کتے بن جاتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    درست فرمایا بھائ عکاشہ۔ بنیادی طور پر تصوف اور صوفیاء نے اس دین کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ چاہے وہ عقیدہ وحدت الوجود ہو، وحدت الشہود ؛یا وحدت ادیان اس سب کفریہ عقائد کی شاخین تصوف سے پھوٹتی ہیں
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں