صحابہ سب عادل ہیں (الصحابة كلهم عدول)کا معنی و مفہوم

ابوعکاشہ نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏جون 30, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,179
    صحابہ سب عادل ہیں (الصحابة كلهم عدول)کا معنی و مفہوم
    مولانارفیق احمد سلفیؔ
    الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی خیرخلقہ محمدواٰلہ وصحبہ أجمعین ومن تبعھم بإحسان إلی یوم الدین۔ أما بعد !

    صحابہ صاد کے زبر کے ساتھ 'صَحِبَ یَصْحَبُ' کا مصدر ہے جس کے معنی ساتھ زندگی بسر کرنے کے ہیں اسی سے 'صاحب' اور 'صحابی' مشتق ہے جس کی جمع 'اصحاب' آتی ہے۔'صحابہ' جمع کے طور پر 'اصحاب' کے معنی میں بھی بکثرت استعمال ہوتا ہے۔ علامہ جوہری فرماتے ہیں:"الصحابۃ بالفتح الأصحاب وھی فی الأصل مصدر"'صحابہ' زبر کے ساتھ 'اصحاب' کے معنی میں ہے اور یہ اصلاً مصدر ہے۔

    اصطلاح میں 'صحابہ' سے مراد وہ پاک نفوس ہیں جنہیں بحالت ایمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا او ر اسی حالت میں ان کا انتقال ہوا۔
    عدول 'عدل' کی جمع ہے اور 'عدل''عدالت' سے مشتق ہے جو مصدر ہے 'عَدَلَ یَعْدِلُ' کا جس کے معنی انصاف کرنے کے ہیں۔ عدل ایسے شخص کو کہتے ہیں جس کے دین وامانت کو پسند کیا جاتا ہو اور اس کے فیصلوں میں نفسانیت جو اسے ظلم وجور کی طرف مائل کر دے آڑے نہ آتی ہو آیت کریمہ: (وَأَشْهِدُوا ذَوَيْعَدْلٍ مِّنكُمْ) (الطلاق:2) "اپنے میں سے دو عادل شخص کو گواہ بنا لو۔" میں عدل سے یہی معنی مراد ہے۔

    اور محدثین کی اصطلاح میں ایسے راوی حدیث کو عدل کہتے ہیں جو مسلمان ہو، بالغ ہو اور اسباب فسق اور مروءت کے منافی امور سے پاک ہو۔ یعنی ان تمام امور سے احتراز کرتا ہو جو عرف عام میں مذموم سمجھی جاتی ہوں۔ ابن مبارک سے پوچھا گیا کہ عدل کس کو کہیں گے تو انہوں نے فرمایا جس میں پانچ خصال پائی جائیں وہ عدل ہے۔
    ۱۔ وہ جماعت میں حاضر رہتا ہو۔
    ۲۔ شراب نہ پیتا ہو۔
    ۳۔ دینی اعتبار سے اس میں کوئی خرابی نہ ہو۔
    ۴۔ جھوٹ نہ بولتا ہو۔
    ۵۔ عقل میں کوئی فتور نہ ہو۔
    اوپر جو معانی ذکر کیے گئے ہیں وہ تمام معانی صحابۂ کرام میں بدرجۂ اتم موجود تھے۔ اللہ اور اس کے رسول اور تمام اہل ایمان کے نزدیک یہ حضرات محترم اور پسندیدہ تھے۔ شراب پیتے تھے نہ جھوٹ بولتے تھے۔ ان کے دین میں کوئی خرابی نہ تھی جو انہیں ساقط الاعتبار قرار دیتی۔
    قرآن کریم میں متعدد آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی ہیں،
    ارشاد باری ہے:
    (مُّحَمَّدٌ رَّ‌سُولُ اللَّـهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ‌ رُ‌حَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَ‌اهُمْ رُ‌كَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِ‌ضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ‌ السُّجُودِ ۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَ‌اةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ كَزَرْ‌عٍ أَخْرَ‌جَ شَطْأَهُ فَآزَرَ‌هُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّ‌اعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ‌ ۗ وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُم مَّغْفِرَ‌ةً وَأَجْرً‌ا عَظِيمًا) (الفتح:29)
    "محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں، آپس میں رحم دل ہیں، تم انہیں دیکھوگے کہ وہ رکوع اور سجدے کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں، ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے ہے، ان کی یہی مثال تورات میں ہے اور ان کی یہی مثال انجیل میں ہے۔"
    ایک دوسری جگہ ارشاد ہے:
    (وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِ‌ينَ وَالْأَنصَارِ‌ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّ‌ضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَ‌ضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِ‌ي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ‌ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ) (التوبۃ:100)
    "اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے۔"
    ایک اور جگہ ارشاد ہے:
    (وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُ‌وا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَالَّذِينَ آوَوا وَّنَصَرُ‌وا أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا ۚ لَّهُم مَّغْفِرَ‌ةٌ وَرِ‌زْقٌ كَرِ‌يمٌ) (الأنفال:74)
    "جو لوگ ایمان لائے اور ہجر ت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد پہنچائی یہی لوگ سچے مومن ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی۔"
    ان کے علاوہ اور بھی بہت سی آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے جو ہر شخص کے ظاہر وباطن سے پوری طرح آگاہ ہے ان کی تعدیل فرمائی ہے. اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی احادیث میں ان کی مدح وثناء فرمائی ہے، آپ کا ارشاد ہے:
    "لا تسبوا أحدا من أصحابي . فإن أحدكم لو أنفق مثل أحد ذهبا ، ما أدرك مد أحدهم ولا نصيفه" (متفق علیہ)
    "میرے صحابہ میں سے کسی کو بھی برا نہ کہو، اگر تم میں کا کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا آدھا مد کے خرچ کی فضیلت کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔"
    نیز آپ نے فرمایا:
    "صحابي أمان لأمتي" (صحیح مسلم)
    "میرے صحابہ میری امت کے لیے امان ہیں۔"
    جب یہ نہیں رہیں گے تو دین میں فتنہ وفساد برپا ہوگا نیز حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے جملہ حاضرین کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
    "أﻻ ﻓﻠﯿﺒﻠﻎ اﻟﺸﺎھﺪ اﻟﻐﺎﺋﺐ"
    "سن لو جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ غیرموجود لوگوں تک ہماری باتیں پہنچا دیں ۔"
    اگر یہ لوگ قابل اعتماد، ثقہ اور صادق نہ ہوتے تو ان کو تبلیغ کی یہ ذمہ داری ہرگز نہ دی جاتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انہیں یہ ذمہ داری دینا آپ کی طرف سے ان کی ثقاہت وصداقت پر مہر تصدیق ثبت کرنا ہے۔
    اللہ اور اس کے رسول کی تعدیل کے بعد ان کے لیے کسی اور تعدیل کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ اسی لیے محدثین نے 'الصحابۃ عدول' کا کلی ضابطہ اور اصول وضع کیا جس کے معنی 'صحابہ عادل ہیں' یعنی ان سے روایت حدیث میں کوئی ایسی غلطی واقع نہیں ہو سکتی جس پر عمداً جھوٹ بولنے کا اطلاق ہو اور انہیں ساقط الاعتبار قرار دے دیا جائے۔ اگر بتقاضائے بشری ان سے کوئی غلطی واقع ہوئی بھی تو وہ ایسی غلطی نہ ہوگی جو ان کی روایت کو قبول کرنے میں مانع ہو۔ علامہ ابن انباری 'الصحابۃ عدول' کے معنی کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    "المراد قبول روايتهم من غير تكلف ببحث عن أسباب العدالة وطلب التزكية، إلا إن ثبت ارتكاب قادح، ولم يثبت ذلك ولله الحمد"
    "'عدالت صحابہ' سے مراد یہ ہے کہ ان کی روایت مطلقاً قابل قبول ہے۔ ان میں اسباب عدالت کی تلاش وجستجو اور طلب تزکیہ کے تکلفات کی بالکل ضرورت نہیں، الا یہ کہ ان سے کوئی ایسی غلطی ثابت ہو جائے جو قبول روایت کے لیے قادح ہو، لیکن کوئی چیز ثابت نہیں۔"
    شاہ ولی اللہ محمد دہلوی ؒفرماتے ہیں:
    "وبالتتبع وجدنا أن جمیع الصحابۃ یعتقدون أن الکذب علی رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم أشدالذنوب ویحترزون عنہ غایۃالإحتراز"
    "تتبع سے ہم نے یہ پایا ہے کہ صحابۂ کرام یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ گھڑنا سخت گناہ ہے اور وہ سب حد درجہ اس سے احتراز کرتے تھے۔"
    علامہ آلوسی ؒ "(الأجوبة العراقية على الأسئلة الإيرانية) " میں فرماتے ہیں:
    "إنہ ما مات من ابتلی منھم بمفسق إلا تائبا عدلا ببرکۃ نورالصحبۃ"
    "ان میں سے جس سے بھی کوئی غلطی ہوئی وہ نور صحبت کی برکت سے اس وقت تک اس دنیا سے رخصت نہیں ہوا جب تک کہ وہ توبہ کرکے پاک وصاف نہ ہوگیا ہو۔"
    وہ فرماتے ہیں کہ محدثین کے نزدیک عدالت صحابہ سے یہی معنی مراد ہے۔
    ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے مزیدفرماتے ہیں:
    "لایقال إذا کانت العدالۃالتی ادعیتموھا للصحابۃ رضی اللہ عنھم بذلک المعنی یلزم من التوقف فی قبول روایۃمن وقع منہ فسق إلی أن یعلم أنھابعدالتوبۃلأن نقول بعدالإلتزام بأنہ لابدمن أن یتوب ببرکۃالصحبۃ التی ھی الإکسیرالأعظم لاإحتمال لکون روایتہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کذبا وإفتراء علیہ الصلاۃ والسلام لأن صحۃ توبتہ یقتضی تلافی
    ذلک بالأخبارعن أمرہ"
    "یہ نہ کہا جائے کہ اگر عدالت سے یہی معنی مراد ہے جس کا تم صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں دعوی کر رہے ہو تو اس سے ان لوگو ں کی روایت کے قبول کرنے میں جن سے کوئی معصیت واقع ہوئی ہو اس وقت تک کے لیے توقف لازم آتا ہے جب تک یہ نہ معلوم ہو جائے کہ ان کی یہ روایت توبہ کے بعد کی ہے، کیونکہ صحبت جو کہ ان کے لیے اکسیر اعظم کی حیثیت رکھتی ہے کی برکت سے ان کے لیے توبہ کے ضروری ہو جانے کے بعد یہ احتمال نہیں رہ جاتا کہ ان حضرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنے میں عمداً دروغ بیانی سے کام لیا ہو۔ اس لیے کہ ان کے توبہ کی صحت اس بات کی متقاضی ہے کہ ان سے جو غلطی واقع ہوئی ہے اس کی تلافی ہو چکی ہے۔"
    "
    آگے وہ مزید فرماتے ہیں:
    "وبذلک یتضح بأن المراد بالعدالۃ الثابتۃ لجمیع الصحابۃ عند المحدثین ھی تجنب تعمد الکذب فی الروایۃ والإنحراف فیھا بإرتکاب مایوجب عدم قبولھافإن الذنب علی فرض وقوعہ لای منع من قبولھا"
    "اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عدالت جو صحابہ کے لیے مسلم امر ہے اس سے مراد روایت حدیث میں ان کے عمداً جھوٹ بولنے سے احتراز کرنا اور ان تمام کجرویوں سے بچنا ہے جن سے روایت کا عدم قبول لازم آتا ہو۔ اگر بالفرض ان سے کسی غلطی کے واقع ہونے کو مان بھی لیا جائے تو یہ ایسی غلطی نہ ہوگی جو ان کی روایت کو قبول کرنے سے مانع ہو۔"
    واضح رہے کہ یہ شرف و امتیاز اس امت میں صرف صحابۂ کرام کو حاصل ہے ان کے علاوہ امت کا کوئی طبقہ ایسا نہیں جس کی عدالت کو بحث وتمحیص اور طلب تزکیہ سے بالا تر مانا جاتا ہو۔ امام الحرمین ان کے اس شرف کی تعلیل وتوجیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    "والسبب فی عدم الفحص عن عدالتھم أنھم حملۃالشریعۃ فلو ثبت توقف فی روایت ھم لا ان حصرت الشریعۃ علی عصرہ صلی اللہ علیہ وسلم ولما استرس لتسائرالأعصار"
    "ان کی عدالت کو بلاکسی بحث تمحیص کے مان لینے کی و جہ یہ ہے کہ یہ حضرات حاملین شریعت تھے۔ اگر ان کی روایت میں توقف ثابت ہو جائے تو شریعت عصر نبوی کے لیے خاص ہو جائےگی اور باقی ادوار کے لیے نہ ہوگی۔"
    اسی لیے ان کے عادل اور خیر امت ہونے کی گواہی خود باری تعالیٰ نے دی، ارشاد ہے:
    (وَكَذَلِك َجَعَلْ نَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُواْ شُهَدَاءعَلَى النَّاسِ) (البقرۃ:143)
    "اور اسی طرح ہم نے تمہیں امت وسط بنایا تاکہ تم لوگوں کے لیے گواہ ہو جاؤ۔"
    اس آیت میں 'وَسَطًا' کے معنی 'عدولاً' کے ہیں۔
    دوسری جگہ ارشاد ہے:
    (كُنتُمْ خَيْرَأُمَّةٍأُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ) (اٰل عمران:110)
    "تم خیر امت ہو جو لوگوں کے لیے برپا کی گئی ہے۔"
    ان دونوں آیتوں میں خطاب ان حضرات کو ہے جو ان آیتوں کے نزول کے وقت موجو د تھے اور یہ صحابۂ کرام ہی کا مقدس گروہ ہے ۔ 'الصحابۃ عدول' کا یہ حکم عام ہے اس میں سبھی صحابہ داخل ہیں۔ حافظ ابن عبد البر متوفی ۴۶۳ھ فرماتے ہیں:
    "أجمع أھل الحق من المسلمین علی أن الصحابة كلهم عدول "
    "مسلمانوں میں سے تمام اہل حق کا اس بات پر اجماع ہے کہ صحابہ سب کے سب عادل ہیں۔ خطیب بغدادی متوفی ۴۶۳ھ فرماتے ہیں: کتاب وسنت کے واضح دلائل کی روشنی میں صحابۂ کرام کی عدالت وپاکیزگی کا قطعی پتہ چل جاتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدیل کے بعد کسی کے تعدیل کی قطعاً کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ آگے وہ فرماتے ہیں:
    "ھذا مذھب کافۃ العلماء ومن یعتدبہ من الفقھاء""یہی سارے علماء اور ان فقہاء کا مذہب ہے جن کے قول کا اعتبار کیا جاتا ہے۔"
    مام نووی ؒ متوفی ۶۷۶ھ فرماتے ہیں:
    "الصحابۃ کلھم عدول من لبس الفتن وغیرھم بإجماع من یعتد بہ"
    "صحابہ سب کے سب عادل ہیں خواہ وہ فتنے میں شریک رہے ہوں یا نہ رہے ہوں، اس پر ان تمام لوگوں کا اجماع ہے جن کا اعتبار کیا جاتا ہے۔"
    رہے معتزلہ وغیرہ جنہوں نے بعض صحابہ کو اس حکم سے خارج مانا ہے تو ان کے قول کی کوئی حیثیت نہیں۔ علامہ سیوطیؒ فرماتے ہیں:
    "القول بالتعمیم ھو الذی صرح بہ الجمھور وھو المعتبر"
    "تعمیم ہی کے قول کی جمہور نے تصریح کی ہے اور یہی معتبر قول ہے۔"
    اخیر میں امام ابو رازی کے اس قول پر میں اپنی بات ختم کرتا ہوں، وہ فرماتے ہیں:
    "إذا رأیت الرجل ینتقص أحدا من أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فأعلم أنہ زندیق، وذلک أن الرسول حقٌ، والقرآن حقٌ، وما جاء بہ حقٌ، وإنما أدی ذلک کلہ إلینا الصحابۃ،وھولاءالزنادقۃیریدون أن یجرحواشھودنا لیبطلوا الکتاب والسنۃ،فالجرحبھم أولی"
    "جب تم کسی آدمی کو اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی کی تنقیص کرتے ہوئے دیکھو تو جان لو کہ وہ زندیق (گمراہ) ہے اور یہ اس وجہ سے کہ رسول حق ہے، قرآن حق ہے، جسے رسول لے کر آئے ہیں وہ حق ہے اور ان تمام چیزوں کو ہم تک صحابہ (رضی اللہ عنہم) نے پہنچایا ہے۔ یہ زنادقہ ہمارے گواہوں کو مجروح کر دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ کتاب وسنت کو باطل قرار دے دیں۔ لہذا صحابہ کے بجائے خود یہی لوگ جرح کے زیادہ مستحق ہیں۔"

    پروف ریڈنگ : ابوعکاشہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. dani

    dani -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,334
    جزاک اللہ خیرا ۔ اللہ آپ سب کی کوششوں میں برکت دے ۔
     
  3. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,831
    بارک اللہ فیک بھائی۔
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,121
    جزاک اللہ خیرا وبارک فیک ۔
     
  5. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,720
    جزاک اللہ خیرا
     
  6. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,919
    جزاک اللہ خیرا۔
     
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,179
    وفیک وایاک
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں