تفسیر السعدی کی نمایاں اور امتیازی خصوصیات

ابوعکاشہ نے 'تفسیر قرآن کریم' میں ‏جولائی 2, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,362
    تفسیر السعدی کی نمایاں اور امتیازی خصوصیات

    بشکریہ (تفسیر السعدی کاتعارف ، دارالسلام ریاض )

    مؤلف شیخ عبدالرحمن بن ناصر السعدی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
    آئمہ تفسیر رحمہ اللہ علیھم نے قرآن کریم کی بہت سی تفاسیر لکھی ہیں ، ان میں سے کچھ تفاسیر بہت طویل اور ضخیم ہیں اور ان کے اکثر مباحث مقصد سے ہٹے ہیں ، کچھ تفاسیر انتہائی مختصر ہیں جن میں مفہوم مراد سے قطع نظر صرف لغوی الفاظ کی توضیح و تشریح پر اکتفا کیا گیا ہے ، حالانکہ اس سلسلے میں مناسب یہ ہے کہ معانی کو مقصد بنایا جائے اور الفاظ ان معانی کے حصول کا وسیلہ ہیں ـ اس لیے سیاق کلام میں غور کیا جائے تو اس کا مقصد سیاق کیا ہے ، پھر دیگر مقامات پر اسکی نظائر کے ساتھ تقابل کیا جائے ، تب معلوم ہوگاکہ اس کا مقصد سیاق تمام مخلوق کی ہدایت ہے ، خواہ وہ عالم ہوں یا جاہل ، شہری ہو یا بدوی ، پس آیات کے اسالیب میں غور و فکر کے ساتھ ساتھ نزول قرآن کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلم کے احوال آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم اور دشمنوں کے ساتھ آپ کی سیریت کا علم سب سے بڑا ذریعہ ہے جو معرفت معانی اور فہم مرادکے حصول میں مدد دیتا ہے ، خاص طور پر جب اس کے ساتھ مختلف علوم عربیہ کو شامل کر لیا جائے ـ (تو فہم قرآن آسان تر ہوجاتا ہے )
    جسے ان امور کی توفیق عطا کردی گئی ہو ، تو اس کے سامنے قرآن میں تدبر و تفہم اس کے الفاظ و معانی اور ان کے لوازم منطوق و مفہوم کے اعتبار سے ان کی دلالت پر بکثرت غور و فکر کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا ـ پس جب وہ اس بارے میں پوری کوشش کرتا ہے ـ تو رب تعالٰی اپنےبندے سے زیادہ کریم ہے ، وہ اپنے بندے پر علوم قرآن کے ایسے امور منکشف کرتا ہے جنہیں وہ اکتسابی طور پر حاصل نہیں کرسکتا ـ
    اللہ تعالٰی نے مجھ پر اور میرے بھائیوں پر احسان فرمایا اور ہمارے احوال کی مناسبت سے ہمیں اپنی کتاب عزیز میں مشغول رہنے کی توفیق سے نوازا ـ میں چاہتا ہوں کہ حسب توفیق کتاب اللہ کی تفسیر لکھوں جو فہم قرآن کے حصول کے خواہشمندوں کے لیے یاددہانی ، بصیرت کے متلاشیوں کے لیے ذریعہ بصیرت اور اصحاب سلوک کے لیے معونت ہواور اس کے ضائع ہونے کے ڈر سے میں اس کو ضبط تحریر میں لے آیا ہوں ـ
    اس تفسیر میں میرا مقصد معنی مقصود کے ساتھ کچھ نہیں اور اس معنی کے حصول کے لیے میں الفاظ کی تحلیل اور ان کے عقدہ کشائی میں مشغول نہیں ہوا ، کیونکہ اس میدان میں مفسرین کی کاوشوں نے بعد میں آنے والوں کو بے نیاز کردیا ہے ـ اللہ تعالٰی ان کو تمام مسلمانوں کی طرف سے جزائے خیر سے نوازے ـ
    میں اللہ تعالٰی سے امید کرتا ہوں ، اور وہی میرا سہار ہے کہ وہ میرے مقصد کے حصول کومیرے لیے آسان کرے گا ، ، کیونکہ اگر اللہ تعالٰی اس مقصد کے حصول کو آسان نہ بنائے تو اس کو حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں ـ اگر اللہ تعالٰی مدد نہ فرمائے تو بندے کے پاس اپنی آرزؤں تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ نہیں اور میں اللہ تعالٰی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اس کاوش کو اپنی رضا کے حصول کا ذریعہ بنائے اور اس کے نفع کو عام کرے ،، وہ بڑا سخی اور کریم ہے ـ
    اللھم صلی علی محمد وآلہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیر ا


    فضيلة الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں ـ
    الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على نبينا محمد وعلى آله وأصحابه ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين أما بعد:.
    ہمارے شیخ عبدالرحمن بن ناصر سعدی رحمہ اللہ کی تفسیر جو کہ ''(تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان)'' کے نام سے موسوم ہے ، بہترین تفاسیر میں شمار ہوتی ہے ، کیونکہ اس کی بہت سی امتیازی خصوصیت ہیں ـ
    1- اس کی عبارت بہت آسان اور واضح ہے جسے راسخ اہلِ علم اور کم علم رکھنے والے حضرات بھی آسانی سے سمجھ لیتے ہیں ـ
    2-حشو اور تطویل سے اجتناب کیا گیا ہے جس میں وقت کے ضیاع اور ذہنی انتشار کے سوا کوئی فائدہ نہیں ـ
    3-خلافیات کے ذکر سے گریز کیا گیا ہے ، البتہ اگراختلاف قوی ہے اور اس کو بیان کرنے کی ضرورت ہے تو اس کاذکر کیا گیا ہے ، قاری کے لحاظ سے یہ امتیازی خصوصیت بہت اہم ہے ، کیونکہ اس طرح کسی ایک چیز پر اس کا فہم جم جاتا ہے ـ
    4- اس میں صفات الہی کی آیات کے ضمن میں سلف کے منہج کو اختیار کیا گیا ہے چنانچہ اس میں کسی قسم کی تحریف ہے نہ کوئی ایسی تاویل ہی ہے جو کلامِ الہی سے اللہ تعالٰی کی مراد کی مخالف ہو ، اس لیے یہ تفسیر عقیدہ کو واضح اور راسخ کرنے کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے ـ
    5- آیات جن احکام و فوائد پر دلالت کرتی ہیں ، ان میں نہایت دقیق استنباط کیا گیا ہے ، بعض آیات میں یہ استنباط نمایاں نظرآتا ہے ، مثلا سورہ '' المائدہ '' میں آیت ''وضو ''جہاں انہوں نے پچاس احکام مستنبط کیے ہیں اور اسی طرح سورہ '' ص '' میں سیدنا داؤد اور سیدنا سلیمان علیہ السلام کے قصہ میں باریک بینی سے استنباط کیا ہے ـ
    6-یہ کتاب ، تفسیر اور اخلاق فاضلہ کے ضمن میں تربیت کی کتاب جیسا کہ سورہ '' الاعراف '' 199/7میں اللہ تعالٰی کے ارشاد ){خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ} .
    '' ائے نبی درگزر کرنے کا رویہ اختیار کیجئے ، معروف کاموں کا حکم دیجئے اور جاہلوں سے کنارہ کیجئے'' ـ میں واضح ہے ـ بنابریں ہر اس شخص کو '' جو کتبِ تفاسیر کا دلداہ ہے مشورہ دیتا ہوں کہ اس کا کتب خانہ اس بلند پایہ تفسیر سے خالی نہ ـ میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اس (عظیم تفسیر ) کے مؤلف اور قارئین کو نفع پہنچائے ـ
    إنه كريم جواد وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وأصحابه ومن تبعهم بإحسان.

    كتبه محمد الصالح العثيمين
    في 15/ رمضان 1416 هـ

    فضیلة الشیخ عبد الله بن عبد العزيز بن عقيل حفظ اللہ

    الحمد لله الذي أنزل على عبده الكتاب ولم يجعل له عوجا. وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله صلى الله عليه وعلى آله وأصحابه وسلم تسليما كثيرا.
    اللہ تعالی نے اپنی رحمت اور حکمت سے ہر چیز کو کھول کھول کر بیان کرنے کے لیے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اسے اس امت کے لیے ہدایت و برہان قرار دیا ، نیز اسے ذکر و تلاوت اور ہر قسم کی رہنمائی کے لیے نہایت آسان نمایا وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ [القمر:17] ، اس عظیم کتاب کو فصیح و بلیغ عربی زبان میں نازل فرمایا ، پھر اس کی حفاظت و توضیح کریں اور اس کے الفاظ و معانی کو لوگوں تک پہنچائیں ، تاکہ اس طرح ہدایت کا اتمام اور حجت قائم ہو ، ــ علماء نے اپنے اپنے علم کے مطابق قرآن عظیم کی بہت سی تفاسیر لکھی ہیں ، اس میں بعض نے قرآن کے ذریعے سے قرآن کی تفسیر لکھی ، بعض نے احادیث و آثار کے ذریعے سے قرآن کی تفسیر کی ، بعض نے لغت عرب اور اسکی انواع کو ذریعہ تفسیر بنایا ، اور ان میں سے بعض نے مفسرین نے صرف احکام کی آیات ہی پراپنی توجہ کو مذکور رکھا ـ
    ہمارے شیخ علامہ عبدالرحمن بن ناصر سعدی رحمہ اللہ کو تفسیر قرآن میں حظ وافر عطا ہوا تھا اور یہ انہی کی تفسیر تھی جو ''(تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان) '' کے نام سے موسوم ہوئی ـ کیونکہ اس تفسیر کی عبارات بہت آسان اور اشارات بہت واضح ہیں ـ جناب موصوف نے اسے نہایت خوبصورت متنوع پیرائے میں لکھا ہے ، جس میں کوئی پوشیدہ معنی ہے نہ ابہام ـ وہ آیت کے معنی مقصود کو ایسے مختصر اور مفید کلام کے ذریعے سے بیان کرتے ہیں ،جو آیت کے معانی اور احکام کا خواہ یہ منطوق ہوں یا مفہوم کسی طوالت کے بغیر مکمل احاطہ کرتا ہے ـ
    وہ ایسے قصے اسرائیلیات اور اقوال نقل نہیں کرتے جو ان کے مقصد کو نظر سے اوجھل کردیں ـ نہ وہ مختلف اعراب ہی بیان کرتے ہیں ، سوائے نہایت شاز و نادر صورت کے جبکہ اس پر آیت کا معنی موقوف ہو ، بلکہ ان کی توجہ ایسی عبارت کے ذریعے سے آیت کے معنی مقصود پر مرتکز رہتی ہے ، جسے پڑھنے والا سمجھ لیتا ہے ـ وہ جب بھی کوئی علمی نکتہ بیان کرتے ہیں وہ درحقیقت اتنا آسان ہوتا ہے کہ محض اس کے الفاظ پڑھ کر اس کے معانی سمجھ میں آجاتے ہیں ، انہوں نے عقیدہ سلف '' توجہ الی اللہ '' احکام شریعت کے استنباط قواعد اصول اور فقہی فوائد وغیرہ کو راسخ کرنے کا اہتمام کیا ہے ، جو دیگر تفاسیر میں نہیں ملتے ، نیز انہوں نے صفات الہیہ کی تفسیر کو عقیدہ سلف کے تقاضوں کے مطابق بیان کیا ہے ، بعض مفسرین کے برعکس جو ان آیات کی تاویل کرتے ہیں ـ
    وصلی اللہ علی نبینا محمد وآلہ وصحبہ وسلم

    27\9\1416 هـ
    وكتبه الفقير إلى الله
    عبد الله بن عبد العزيز بن عقيل

    اسلوبِ تفسیر مؤلف کے قلم سے

    یہ جان لیجیے کہ میرا طریق تفسیر یہ ہے کہ ہر آیت کا جو مفہوم میرے ذہن میں آتا ہے ، میں اسے پیش کردیتا ہوں اور جب وہی آیت دوبارہ سامنے آتی ہے تو میں‌اپنے پہلے پیش کردہ مفہوم اور نکات کو کافی نہیں‌سمجھتا بلکہ (اس موقع کی مناسبت سے )نئے پہلوؤں کا اضافہ کرتا ہوں ۔ کیونکہ اللہ تعالٰی نے قرآن مجید کی ایک خصوصیت '' مثانی '' بھی بیان فرمائی ہے ۔ یعنی اس میں قصص ، احکام اور اقوام عالم کے عبرت آموز واقعات کا باربار بیان ہوتا ہے ۔ ان عظیم حکمتوں کی وجہ سے یہ تمام مقامات مفید اور نافع ہیں ۔ اللہ تعالٰی نے اس کتاب میں‌ہر جگہ غور و فکر کی دعوت دی ہے کیونکہ اس میں علوم و معارف اور ظاہر و باطن کی درستی اور تمام معاملات کی اصلاح بھی موجود ہے ۔ (مؤلف)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    جزاک اللہ خیر
     
  4. طارق راحیل

    طارق راحیل -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2009
    پیغامات:
    352
    کیا یہ آڈیوز کی شکل میں موجود ہے اردو زبان میں؟
    اگر ہے تو اس کا ربط دیجئے
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,362
    تفسیر ابن کثیر، شمائل محمدیہ یہاں آڈیو میں موجود ہیں.
    https://urdubooksaudio.com/

    بشکریہ @ابو ابراهيم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. طارق راحیل

    طارق راحیل -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2009
    پیغامات:
    352
    جزاک اللہ خیراً و احسن کثیراً
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں