شب قدر کے ہزار مہینے ہونے کا مفہوم

ابوعکاشہ نے 'ماہِ رمضان المبارک' میں ‏جولائی 29, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,440
    شب قدر کے ہزار مہینے ہونے کا مفہوم

    شب قدر کے ہزار مہینوں سے مراد ہزار مہینے کی معینہ مدت نہیں جس کے تراسی سال اور چار مہینے بنتے ہیں ـ اہل عرب کا قاعدہ یہ تھا کہ جب انہیں بہت زیادہ مقدر یا مدت کا اظہار کرنا مقصود ہوتا تو ہزار یعنی الف کا لفظ استعمال کرتے تھے ـ کیونکہ وہ حساب نہیں جانتے تھے ـ اور ان کے ہاں گنتی کا سب بڑا عدد الف یعنی ہزار ہی تھا ـ بلکہ اس سے مراد ایک طویل زمانہ ہے ـ اس وضاحت کے بعد اس آیت کے دو مطلب بیان کیے جاتے ہیں کہ بنی نوع انسان کی خیر و بھلائی کا کام جتنا اس ایک رات مں ہوا یعنی قرآن نازل ہوا اتنا کام کسی طویل دور انسانی میں نہیں ہوا تھا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس ایک رات کی عبادت ایک طویل مدت کی عبادت سے بہتر ہے اور اس کا مطلب تائید درج ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے ـ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لیلتہ القدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کرے اس کے سابقہ گناہ معاف کردیے جائیں گئے ـ (بخاری ، کتاب الایمان ـ باب قیام لیلہ القدر من الایمان ) علاوہ ازیں بعض حضرات ہزار مہینے سے تراسی سال اور چار ماہ مراد ہی لیتے ہیں ـ ان کے نزدیک اس ایک رات کی عبادت تراسی سالوں کی عبادت سے بہتر ہے جن میں شب قدر کو شمار نہ کیا جائے ـ {تفسیر عبدالرحمن کیلانی }

    شیخ سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لیلہ القدر خیر من الف شھر یعنی قدرکی رات کی فضیلت میں ایک ہزار مہینے کے برابر ہے ـ وہ عمل جو شب قدر میں واقع ہوتا ہے ، ایک ہزار مہینے میں جو شب قدر سے خالی ہوں ـ واقع ہونے والے عمل سے بہتر ہے ـ یہ ان امور میں سے ہے جن پر خرد حیران اور عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اللہ تعالٰی نے اس ضعیف القوٰی امت کو ایسی رات سے نوازا جس کے اندر عمل ایک ہزار مہینوں کے عمل سے بڑھ کر ہے ، یہ ایک ایسے شخص کی عمر کے برابر ہے جسے اسی سال سے زیادہ طویل عمردی گئی ہو ـ القدر{تفسیرالسعدی}


    اس حوالے سے شیخ العثیمین رحمہ اللہ تفسیر میں‌لکھتے ہیں کہ ہزار مہینے سے مراد یعنی جن میں‌ شب قدر نہیں ہوتی ، اللہ تعالٰی نے اس امت کے لیے اس رات میں خیر و برکت رکھی ہے اور اس کا ثواب ہزار مہینے میں‌ کیے گئے عمل کے برابر ہے ۔ اس رات کی برتری عمل پر ثواب کی بنا پر ہے ، لہذا جس نے ایمان (توحید )خالص ثواب کی نیت کے ساتھ شب قدر گزاری ، اس کے سابقہ گناہ بخش دئیے جائیں گئے (سوائے کبیرہ گناہ کے، کیونکہ وہ توبہ کے بغیرمعاف نہیں‌ہوتے )۔

    اللہ ہمیں شب قدرعطا فرمائے اوراس رات میں کی گئی ہماری عبادات کو قبول فرمائے ۔ آمین


     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. بنت امجد

    بنت امجد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 6, 2013
    پیغامات:
    1,568
    آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,582
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    جزاک اللہ خیر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    آمین جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    949
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. بنت امجد

    بنت امجد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 6, 2013
    پیغامات:
    1,568
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,475
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,692
    آمین یا ذوالجلال والاکرام
    جزاک اللہ خیرا
     
  10. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا
     
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جزاک اللہ خیرا۔
     
  12. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں