حج سے متعلق اہم فتاویٰ

ابو ابراهيم نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏اگست 26, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,872
    بسم اللہ الرحمن الرحیم​

    عنوان:
    حج سے متعلق اہم فتاویٰ​

    زبان: اردو
    مفتی: عبد العزيز بن عبد الله بن باز
    ترجمہ : ابو المکرم عبد الجلیل - سيد عتيق الرحمن كاشميري
    نظر ثانی: شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
    اصدارات: دفتر تعاون برائے دعوت وتوعية الجاليات سلطانہ رياض
    مختصر بیان: حج سےمتعلق سوالات کے یہ اہم جوابات ہیں جن کو کتابی شکل میں جمع کردیا گیا ہے تاکہ ہرمسلمان کيلئے انکا پڑھنا اوران سے استفادہ کرنا آسان ہوجائے .


    لنک:

    حج سے متعلق اہم فتاوے [ عبد العزيز بن عبد الله بن باز ] - فقہ وفتاوی - اردو - PDF
     
  2. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,872
    حج سے متعلق اہم فتاویٰ
    (ما خوذاز: فتاوى ارکان اسلا م )



    تالیف
    سماحۃ الشیخ عبد العزیزبن عبد اللہ بن باز ؒ
    سابق مفتی اعظم سعودی عرب
    جمع وترتیب
    محمدبن شایع بن عبد العزیزالشایع حفظہ اللہ


    ترجمة
    ابوالمکرم بن عبد الجلیل رحمہ اللہ - عتیق الرحمن اثری حفظہ اللہ
    مراجعة (نظرثانى)
    شفیق الرحمن ضیا ءاللہ مدنی

    نشرواشاعت
    دفترتعاون برائے دعوت وارشاد
    سلطانہ - ریاض - سعودی عرب
     
  3. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,872
    سوال 1:
    حج کے تین اقسام کون کون سے ہیں اورہرایک کی ادائیگی کا طریقہ کیا ہے؟ نیز ان تین اقسام میں سب سے افضل حج کون سا ہے؟

    جواب :
    اہل علم –رحمۃ اللہ علیہم- نے حج کی تین قسمیں بیان کی ہیں, اوران میں سے ہرقسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث سےثابت ہے-
    پہلی قسم :یہ ہے کہ صرف عمرہ کا احرام باندھے, یعنی عمرہ کی نیت کرے اور(اللہم لبیک عمرۃ ) یا (لبیک عمرۃً)یا (اللہم إنی أوجبتُ عمرۃً) کہ کرتلبیہ پکارے ,مشروع یہ ہے کہ غسل کرنے, خوشبولگانے اورضرورت ہوتومونچہ کاٹنے ,ناخن تراشنے اوربغل کے اورزیرناف کے بال صاف کرنے ,نیز اگراحرام باندھنے والا مرد ہوتو سلے ہوئے کپڑے اتارکراحرام کے کپڑے چادراورتہبند پہننے کے بعد نیت کی جائے اورمذکورہ کلمات کہے جائیں ,یہی افضل ہے-
    عورت کے لئے احرام کے تعلق سے کوئی خاص لباس نہیں, بلکہ وہ جس لباس میں چاہے احرام باندھ سکتی ہے, ہاں افضل یہ ہے کہ وہ لباس جاذب نظر,حسین وجمیل اوردیکھنے والوں کے لئے باعث فتنہ نہ ہو, یہی اسکے لئے افضل ہے –
    احرام باندھتے وقت مردیاعورت (اللہم لبیک عمرۃً) کہنے کے بعد اگریہ کہ لے کہ "اگرمجھے کوئی عذرپیش آگیا تو جس جگہ عذرپیش آئیگا میں وہیں حلال ہوجاؤں گا" یا یہ کہے کہ " اے اللہ ! میرایہ عمل قبول فرما" یا یہ کہے کہ "اے اللہ! اس عبادت کی تکمیل میں میری مدد فرما" تواسطرح کے الفاظ کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے –
    اگرمحرم نے مشروط احرام باندھا ,یعنی احرام باندھتے وقت اس نے یہ کہا کہ " اگرمجھے کوئی عذرپیش آگیاتو جس جگہ عذرپیش آئیگا میں وہیں حلال ہوجاؤں گا" یا اسی قسم کے کوئی اورالفاظ اسنے کہے, اوراسے واقعتاً کوئی ایسا عذرپیش آگیا جواتمام حج سے مانع ہے ,تووہ حلال ہوجائیگا اوراس پرکوئی چیز واجب نہیں ہوگی,کیونکہ ضباعہ بنت زبیربن عبد المطلب نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بیمارہونے کی شکایت کی ,توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "حج کرواورمشروط احرام باندھوکہ مجھے جہاں کوئی عذر پیش آجائے گا میں وہیں حلال ہوجاؤں گی" (متفق علیہ)
    لہذا اگرکوئی عورت عمرہ کے لئے مکہ آئے اوراسی طرح مشروط احرام باندھے, پھراسے حیض آجائے اورساتھ والے قافلہ کے انتظارنہ کرنے کی وجہ سے اپنے پاک ہونے تک اسکا مکہ میں قیام کرنا مشکل ہو, تواسکے لئے یہ عذرتصورکیا جائیگا اوروہ حلال ہوجائےگی – اسی طرح اگرکسی مرد کوکوئی مرض لاحق ہوگیا جواتمام عمرہ سے مانع ہے, یا اس کے علاوہ کوئی بھی عارضہ لاحق ہوگیا جس کے سبب وہ اپنا عمرہ مکمل نہیں کرسکتا ,تووہ حلال ہوجائےگا – یہی حکم حج کا بھی ہے جوحج کے مذکورہ بالا اقسام میں سے دوسری قسم ہے-
    دوسری قسم: يہ ہے کہ صرف حج کا احرام باندھے ,یعنی حج کی نیت کرے اور(اللہم لبیک حجا) یا (لبیک حجا) یا (اللہم قد اوجبتُ حجّاً) کے الفاظ کے ساتہ تلبیہ پکارے ,یہاں بھی عمرہ کی طرح مشروع کاموں ,مثلاً غسل کرنے ,خوشبو لگانے اورسلے ہوئے کپڑے اتارکراحرام کے کپڑے پہننے وغیرہ ,سے فارغ ہونے کے بعد یہ الفاظ اپنی زبان سے اداکرے گا, جیساکہ عمرہ کے بیان میں اوپرمذکورہوچکا ہے , یہی افضل ہے –
    مطلب یہ ہے کہ اس بارے میں حج کا حکم وہی ہے جوعمرہ کا ہے , کہ مسلمان مرد اورعورت احرام اس وقت باندھیں جب وہ اللہ کے مشروع کردہ کاموں سے فارغ ہوچکے ہوں , مثلاً غسل کرنا ,خوشبولگانا اوراس قسم کی دیگرضروریات جواحرام باندھنے سے پہلے مرد اورعورت کو پیش آسکتی ہیں-
    اگرضرورت ہوتو جس طرح عمرہ کے لئے مشروط احرام باندھنا مشروع ہے اسی طرح حج کے لئے احرام باندھتے وقت بھی یہ کہ سکتا ہے کہ " اگرمجھے کوئی ایسا عذرپیش آگیا جواتمام حج سے مانع ہو تو جس جگہ عذرپیش آیا میں وہیں حلال ہوجاؤں گا"
    احرام کامیقات سے باندھنا واجب ہے ,احرام باندھے بغیرمیقات سے آگے نہیں جاسکتا ,لہذا اگرکوئی نجد سے یا طائف سے یا مشرق کی طرف سے آئے تو اسے طائف کی میقات "سیل " (وادی قرن) سے احرام باندھنا ہوگا, اگرکوئی شخص میقات سے پہلے احرام باندھ لے تویہ کفایت کرجائے گا لیکن میقات سے پہلے احرام نہ باندھنا افضل ہے ,یعنی سنت یہی ہے کہ احرام پہلے نہ باندھے ,بلکہ میقات پہنچنے تک موخررکھے ,کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات ہی سے احرام باندھا تھا-
    کوئی شخص اگراپنے گھرہی سے غسل کرکے , خوشبولگا کراوردیگرمشروع کام مثلاً مونچھ کاٹنے وغیرہ سے فارغ ہوکرنکلے , یا موقع پاکرراستہ میں ان کاموں سے فارغ ہوجائے ,تویہ کفایت کرجائیگا بشرطیکہ احرام باندھنے کا وقت قریب ہو-
    جمہوراہل علم اس طرف گئے ہیں کہ احرام باندہنے سے پہلے دورکعت نماز پڑھنا مستحب ہے ,ان کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ہے جس میں آپ نے فرمایا :
    "ميرے پاس میرے رب کا فرستادہ (فرشتہ) آیا اورکہاکہ اس مبارک وادی میں نمازپڑھو اورکہو : حج کے ساتہ عمرہ بھی- یعنی حج اورعمرہ کا ایک ساتہ تلبیہ پکارو(صحیح بخاری )
    یہ واقعہ وادی ذوالحلیفہ میں پیش آیا تھا-
    نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہرکی نمازاداکرنے کے بعد احرام باندھاتھا ,اوریہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ نمازکے بعد احرام باندھنا افضل ہے-
    مذکورہ قول درست ہے, لیکن واضح رہے کہ احرام کی دورکعت نمازکی مشروعیت پرکوئی واضح دلیل یا صحیح حدیث موجود نہیں, اسلئے اگرکوئی شخص دورکعت نمازپڑھ کراحرام باندھے تو اسمیں کوئی حرج نہیں ,اوراگروضو کرکے دورکعت تحیۃ الوضوء پڑھ کراحرام باندھ لے توبھی کافی ہے-
    تیسری قسم :يہ ہے کہ حج اورعمرہ کا ایک ساتہ احرام باندہے ,یعنی حج اورعمرہ کی ایک ساتھ نیت کرے اور(اللہم لبیک عمرۃً وحجا) یا (حجا وعمرۃً) کہ کرتلبیہ پکارے ,یامیقات پرصرف عمرہ کا تلبیہ پکارے, پھرراستہ میں عمرہ کے ساتہ حج بھی شامل کرلے اورطواف شروع کرنے سے پہلے پہلے حج کا تلبیہ بھی پکارلے- اورحج کی یہ تیسری قسم "حج قران " کہلاتی ہے, جسکا مطلب حج اورعمرہ کا ایک ساتہ اداکرنا ہے, نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر"حج قران" ہی کا احرام باندھا تھا,اورعمرہ اورحج کا ایک ساتہ تلبیہ پکارا تھا ,اورہدی کے جانوراپنے ساتہ لائے تھے ,جیساکہ انس اورابن عمررضی اللہ عنہم وغیرہم کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے – اس لئے ہدی کے جانورساتھ لانے والے کے لئے "حج قران "ہی افضل ہے, البتہ جوشخص ہدی ساتہ نہ لائے اسکے لئے "حج تمتع" (یعنی عمرہ سے حلال ہونے کے بعد حج کا احرام باندھنا) افضل ہے, نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے اورطواف اورسعی سے فارغ ہونے کے بعد یہی بات طے پائی, اورجن صحابہ نے حج قران یا حج افراد کا احرام باندھا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے احرام کو عمرہ سے بدل دیں , چنانجہ انہوںنے طواف کیا ,سعی کی ,بال کٹوائے اورپہرحلال ہوگئے- اس سے ثابت ہوا کہ ہدی کا جانورساتھ نہ لانے والے کے لئے "حج تمتع " افضل ہے –
    حج قران یا افراد کا احرام باندھنے والا جب اپنے احرام کوعمرہ سے بدل دی تو وہ متمتع شمارہوگا ,جس شخص نے حج افراد یا قران کی نیت کی ہواوراسکے پاس ہدی کا جانورنہ ہوتو اسکے لئے مشروع یہ ہے کہ وہ طواف اورسعی کرکے اوربال کٹواکرحلال ہوجائے اورمتمتع بن جائے, جیساکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے کیا تھا ,نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
    " جوبات مجھے بعد میں معلوم ہوئی وہ اگرپہلے معلوم ہوجاتی تو ہدی کا جانورمیں ساتھ نہ لاتا اوراپنے احرام کو عمرہ سے بدل دیتا"
    عمرہ کرنے والااگرحج کا ارادہ نہیں رکھتا تو وہ صرف معتمرکہلائےگا ,اسے متمتع بھی کہا جاسکتا ہے جیسا کہ بعض صحابہ کے کلام میں استعمال ہوا ہے,مگرفقہاء کی اصطلاح میں ایسا شخص جو موسم حج مثلاً شوال یا ذی قعدہ میں مکہ آئے اورعمرہ کرکے وطن واپس چلاجائے معتمرہی کہلائےگا, ہاں اگروہ حج کی نیت کرکے مکہ میں ٹھرجائے تو متمتع شمارہوگا ,اسی طرح جو شخص رمضان میں یا کسی اورمہینہ میں عمرہ کے لئے مکہ آئے وہ بھی معتمرکہلائے گا,عمرہ کے معنی بیت اللہ کی زیارت کے ہیں-
    حاجی اس صورت میں متمتع کہلائےگا جب وہ رمضان کے بعد موسم حج میں عمرہ کرے اورپھرحج کی نیت سے مکہ میں ٹھرارہے اورحج کا وقت ہونے پرحج کرے, جیسا کہ اوپربیان ہوا- اسی طرح جس نے حج قران کا احرام باندھا اوراحرام کو فسخ کئے بغیر حج کے لئے احرا م ہی کی حالت میں باقی رہا, وہ بھی متمتع کہلائے گا اوروہ اللہ تعالى کے اس حکم کے ضمن میں شامل ہے :
    فَمَن تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ } (196) سورة البقرة
    پس جو شخص عمرہ کو حج سے ملاکرتمتع کرنا چاہے تو جو میسرآئے قربانی کرے-
    اس آیت سے معلوم ہوا کہ قارن کو متمتع کہا جاسکتا ہے , نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے یہاں یہی بات معروف بھی تھی , چنانچہ ابن عمررضی اللہ عنہما کی حدیث ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کوحج سے ملاکرتمتع فرمایا ہے, حالانکہ آپ نے حج قران کا احرام باندھا تھا- لیکن فقہاء کی اصطلاح میں متمتع وہ شخص ہے جوعمرہ کرکے حلال ہوجائے ,پھرمثلاً 8/ذی الحجہ کو حج کا احرام باندھ کرحج کرے , اوراگرحج اورعمرہ کا احرام ایک ساتہ باندھے اوربیچ میں عمرہ کرکے حلال نہ ہوتو قارن کہلائے گا , لیکن اگرمطلب اورحکم واضح ہو تو اصطلاح میں کوئی جگھڑا نہیں-
    قارن اورمتمتع دونوں کے احکام ایک ہیں ,چنانچہ دونوں کو ہدی قربان کرنی ہوگی, اورہدی میسرنہ ہونے کی صورت میں تین دن ایام حج میں اورسات دن وطن واپس ہوکر( کل دس دن ) روزہ رکھنا ہوگا ,اسی طرح ہرایک کو متمتع بھی کہا جاسکتا ہے ,البتہ صفا اورمروہ کے درمیان سعی کرنے میں دونوں کے احکام علیحدہ ہیں , چنانچہ جمہورعلماء کے نزدیک متمتع کو دومرتبہ سعی کرنی ہوگی ,ایک سعی طواف عمرہ کے ساتھ اوردوسری طواف حج کے ساتہ ,جیساکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے ثابت ہوتاہے , کہ جن صحابہ نے حج تمتع کیا تھا اورعمرہ کرکے حلال ہوگئے تھے انہوں نے دوبارہ سعی کی تھی ,ایک طواف عمرہ کے ساتھ اوردوسری طواف حج کے ساتھ ,اوریہی جمہوراہل علم کا مسلک ہے-
    البتہ قارن کے لئے صرف ایک سعی کافی ہے , یہ سعی اگراس نے طواف قدوم کے ساتھ کرلی تو کافی ہے , اوراگرموخرکرکے طواف حج کے ساتھ کی توبھی کافی ہے, یہی قول معتبرہے اورجمہوراہل علم کا مسلک بھی یہی ہے, یعنی متمتع کودومرتبہ سعی کرنی ہوگی اورقارن کو صرف ایک مرتبہ ,جسے وہ چاہے توطواف قدوم کے ساتہ ہی کرلے اوریہی افضل بھی ہے ,کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا ,یعنی آپ نے طواف کیا اوراسکے ساتھ ہی سعی بھی کرلی , اورآپکا یہ طواف طواف قدوم تھا ,کیونکہ آپ قارن تھے – اوراگرچاہے تو سعی کو موخرکرکے طواف حج کے ساتھ کرے ,اوریہ اللہ تعالى کی جانب سے بندوں کے لئے رحمت اورایک طرح کی آسانی ہے ,والحمد للہ-
    یہاں پرایک مسئلہ اورہے جس کے تعلق سے سوال اٹھ سکتا ہے, وہ یہ کہ متمتع اگرعمرہ کرکے سفرکرجائے توکیا دم دینا (ہدی ذبح کرنا) اس سے ساقط ہوجائےگا ؟ تواس بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے ,ابن عباس رضی اللہ عنہما کا معروف قول یہ ہے کہ متمتع سے دم دینا کسی بھی حال میں ساقط نہیں ہوگا ,خواہ وہ اپنے اہل وعیال کے پاس سفرکرجائے یاکہیں اور, کیونکہ متمتع پردم واجب ہونے کے دلائل عام ہیں- اوراہل علم کی ایک جماعت کا خیال یہ ہے کہ متمتع اگرعمرہ سے فارغ ہوکرقصرکی مسافت تک سفرکرجائے ,پھرحج کا احرام باندھ کرلوٹے تو وہ مفرد شمارہوگا اوردم دینا اس سے ساقط ہوجائے گا-
    اہل علم کی ایک تیسری جماعت اسطرف گئی ہے کہ متمتع سے دم صرف اس صورت میں ساقط ہوگا جب وہ عمرہ سے فارغ ہوکراپنے اہل وعیال کے پاس چلاجائے ,
    یہی قول حضرت عمررضی اللہ عنہ اوران کے بیٹے عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہےکہ متمتع اگرعمرہ سے فارغ ہونے کے بعد سفرکرکے اپنے اہل وعیال کے پاس چلاجائے ,پھرحج کے لئے واپس مکہ آئے , تو وہ مفرد شمارہو گا اوراسے دم نہیں دینا ہوگا ,
    لیکن اگراہل وعیال کے پاس جانے کے علاوہ کہیں اورجائے ,مثلاً عمرہ اورحج کے درمیان مدینہ چلا جائے یا جدہ یا طائف چلا جائے تو اس سفرکی وجہ سے وہ حج تمتع کے حکم سے باہرنہیں ہوگا-
    دلیل کی رو سے یہی آخری قول ہی زیادہ واضح اورصحیح معلوم ہوتا ہے ,یعنی عمرہ اورحج کے درمیان اس قسم کے سفرکی وجہ سے متمتع "حج تمتع" کے حکم سے خارج نہیں ہوگا,بلکہ وہ متمتع شمارہوگا اوراسے دم دینا ہوگا, بھلے ہی عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد اس نے مدینہ یا جدہ یا طائف کا سفرکیا ہو,

    ہاں اس صورت میں وہ مفرد مان لیا جائے گا جب وہ سفرکرکے اپنے اہل وعیال کے پاس چلا جائے اورپھرمیقات سے حج کا احرام باندھ کرمکہ لوٹے , جیساکہ حضرت عمررضی اللہ عنہ اوران کے بیٹے عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے , کیونکہ بال بچوں کے پاس سفرکرجانے سے عمرہ اورحج کے درمیان تعلق باقی نہیں رہ جاتا –

    بہرحال , احتیاط اسی میں ہے کہ اختلاف سے بجتے ہوئے ,جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سکا مسلک ہے ,ہرصورت میں دم دے ,بھلے ہی عمرہ کے بعد سفرکرکے وہ اپنے اہل وعیال کے پاس گیا ہو, اسی طرح جولوگ قصرکی مسافت تک سفرکرجانے سے دم ساقط مانتے ہیں انکے نزدیک احتیاط اسی میں ہے کہ اختلاف سے بچتے ہوئے وہ دم دے اورپوری سنت اداکرے, بصورت استطاعت یہی بہتراورافضل ہے ,اوردم دینے کی استطاعت نہ ہونے پرتین دن ایام حج میں اورسات دن وطن واپس ہوکر(کل دس دن) روزہ رکھے, جیساکہ اللہ تعالى کا ارشاد ہے :
    فَمَن تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ } (196) سورة البقرة
    پس جو شخص عمرہ کو حج سے ملا کرتمتع کرنا چاہے تو جو میسرآئے قربانی کرے-
    اللہ تعالى کا یہ ارشاد متمتع اورقارن سب کو شامل ہے , کیونکہ قارن کو بھی متمتع کہا جاتا ہے, جیساکہ اوپرمذکورہوچکاہے – واللہ ولی التوفیق-
     
  4. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,872
    سوال 2:
    ایک شخص نے حج کے کسی مہینہ مثلا ً ذی القعدہ میں عمرہ کیا, پھرمکہ سے مدینہ چلاگیا اورحج کاوقت آنے تک وہیں ٹھرارہا ,کیا ایسے شخص کے لئے حج تمتع کرنا ضروری ہے,یا اسے اختیارہے کہ حج کی تین قسموں میں سے جوچاہے اداکرلے؟

    جواب :
    ایسے شخص کے لئے حج تمتع کرنا ضروری نہیں , اب اگروہ چاہے کہ دوسرا عمرہ کرکے متمتع ہوجائے - ان لوگوں کے مسلک کے مطابق جوکہتے ہیں کہ سفرکرنے سے حج تمتع منقطع ہوجاتاہے – توایساکرسکتا ہے ,اوراس نئے عمرہ کے ساتہ وہ متمتع ہوجائیگا ,البتہ اگراس نے مدینہ منورہ سے (احرام باندھ کر) عمرہ اداکیا ,پھراسکے بعد حج کیا ,تو تمام اہل علم کے نزدیک اس پردم واجب ہوگا اوروہ متمتع مانا جائے گا – لیکن اگروہ چاہے کہ صرف حج کرکے واپس ہوجائے توایسا بھی کرسکتا ہے ,لیکن اس صورت میں یہ اختلاف ہے کہ وہ ہدی قربان کرے گا یا نہیں ؟ ویسے صحیح یہی ہے کہ اسے ہدی قربان کرنی ہوگی, کیونکہ صحیح قول کے مطابق عمرہ کے بعد مدینہ جانے سے حج تمتمع منقطع نہیں ہوتا-


    سوال 3:
    جو شخص حج یا عمرہ کا تلبیہ پکارنے کے بعد میقات سے آگے بڑھ گیا اورکوئی شرط نہیں باندھی ,پھراسےکوئی عارضہ مثلاً مرض وغیرہ لاحق ہوگیا جو حج یا عمرہ کی ادائیگی سے مانع ہے , توایسی صورت میں اسے کیا کرنا چاہئے؟

    جواب :
    ايسا شخص محصرمانا جائے گا ,اگراسنے احرام کے وقت کوئی شرط نہیں باندھی تھی ,پھراسے کوئی عارضہ پیش آگیا جوحج یا عمرہ کی تکمیل سے مانع ہے ,تو اگروہ اس امید پررک سکتا ہو کہ شاید یہ عارضہ دورہوجائے اوروہ اپنا حج یا عمرہ مکمل کرلے تورکارہےگا , اوراگراسکے لئے رکناممکن نہ ہو توصحیح مسلک کے مطابق وہ محصرشمارہوگا, اورمحصرکے متعلق اللہ تعالى کا ارشاد ہے:
    فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ } (196) سورة البقرة
    اگرتم راستے میں روک دئے جاؤ تو جو ہدی میسرہو (قربانی کرو)-
    صحیح قو ل کے مطابق "احصار" دشمن کے ذریعہ بھی ہوتا ہے اوراسکے علاوہ بھی, لہذا جوشخص راستہ میں روک دیا جائے وہ ہدی قربان کرے اورحلق یا قصرکرواکرحلال ہوجائے , محصرکا یہی حکم ہے کہ وہ جس جگہ روکا گیا ہے وہیں ایک جانورقربان کرے , خواہ وہ حدود حرم میں ہویا اس سے باہر, اوراسکا گوشت وہیں کے فقراء میں تقسیم کردے, اگروہاں فقراء نہ ہوں تووہ گوشت حرم کے فقراء کویابعض دیہات کے فقراء کو پہنچادے ,اورپھرحلق یا قصرکروا کرحلال ہوجائے, اوراگرقربانی کا جانورمیسرنہ ہو تو دس دن روزہ رکھے ,پھرحلق یا قصرکروائے اورحلال ہوجائے –

     
  5. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,872
    سوال 4:
    ایک شخص نے میقات سے احرام باندھا لیکن تلبیہ میں "لبیک عمرۃمتمتعا بہا الی الحج" کہنا بھول گیا ,توکیا حج تمتع پورا کریگا ؟ اورعمرہ سے حلا ل ہونے کے بعد جب مکہ سے حج کااحرام باندھے تو اسےکیا کرنا ہوگا؟

    جواب :
    مذكوره شخص نے احرام باندھتے وقت اگرعمرہ کی نیت کی تھی لیکن تلبیہ پکارنا بھول گیا, حالانکہ اسکی نیت عمرہ کی تھی ,تووہ تلبیہ پکارنے والوں کے حکم میں ہے, چنانچہ وہ طواف اورسعی کرے, اورقصرکرائے اورپھرحلال ہوجائے, راستہ میں اسے تلبیہ پکارنا چاہئے ,لیکن اگرنہیں پکارا تواس پرکوئی چیز واجب نہیں ,کیونکہ تلبیہ پکارنا سنت موکدہ ہے , لہذا وہ طواف کرے , سعی کرے ,قصرکرائے اوراسے عمرہ بنالے ,کیونکہ اسکی نیت عمرہ کی تھی-
    لیکن اگر اس نے احرام کے وقت حج کی نیت کی تھی , اوروقت میں گنجائش ہوتو افضل یہ ہے کہ حج کو فسخ کرکے عمرہ بنالے , اورطواف وسعی کرے, پھرقصرکراکے حلال ہوجائے ,اوراسکا حکم حج تمتع کرنے والوں کا حکم ہوگا,والحمدللہ-


    سوال5:
    كسي شخص نے اپنی ماں کی طرف سے حج کیا ,اورمیقات پراس نے حج کا تلبیہ بھی پکارا ,لیکن ماں کی طرف سےنہیں پکارا ,اسکا کیا حکم ہے؟

    جواب :
    مذكورشخص كا اراده جب اپنی ماں کی طرف سے حج کرنے کا تھا, لیکن تلبیہ کے وقت کہنا بھول گیا تو یہ حج ماں کا حج شمارہوگا,کیونکہ نیت ہی زیادہ قوی مانی جاتی ہے,
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
    "یقیناً اعمال کادارومدارنیتوں پرہے"
    لہذا جب اسکے سفرکا مقصد ماں یا باپ کی طرف سے حج کرنا تھا ,پھراحرام کے وقت ماں یاباپ کی طرف سے تلبیہ پکارنا بھول گیا ,تو ماں یا باپ یا جس کی طرف سے بھی حج کرنے کی نیت تھی اسی کا حج شمارہوگا-
     
  6. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,872
    سوال 6:
    عورت کے لئے موزے اوردستانے میں احرام باندھنا کیساہے؟ اورجس کپڑے میں وہ احرام باندھ چکی ہے کیا اسکا نکالنا جائزہے؟

    جواب:
    عورت كے موزے یا جوتے میں احرام باندھنا افضل اورزیادہ پردے کا ذریعہ ہے, اوراگرکشادہ کپڑے میں احرام باندھ لے توبھی کافی ہے, موزے پہن کراحرام باندھنے کے بعد اگرموزے اتاردے تواسمیں کوئی حرج نہیں , جس طرح کہ مرد جوتے پہن کراحرام باندھے, پھرجب چاہے جوتے اتاردے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا –

    البتہ عورت دستانے میں حرام نہیں باندھ سکتی ,کیونکہ محرم عورت کودستانے استعمال کرنے سے منع کیا گیا ,اسی طرح اسکے لئے چہرے پرنقاب جیسے برقع وغیرہ ڈالنا بھی درست نہیں, کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ,ہاں غیرمحرم (اجنبی ) مردوں کی موجودگی میں نیزطواف اورسعی کے دوران اسکے لئے چہرے پراوڑھنی ڈالنا یا پردہ کرنا ضروری ہے ,عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے ,وہ بیان کرتی ہیں کہ سوارہمارے پاس سے گزرتے تھے اورہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے , پس جب سوارہمارے سامنے پہنچتے تو ہم میں سے ہرعورت اپنے سرسے پردہ گراکرچہرہ ڈھک لیتی ,اورجب وہ ہمارے پاس سے گزرجاتے تو ہم اپنے چہرے کھول لیتیں (سنن ابی داؤد وسنن ابن ماجہ)
    مرد کے لئے احرام کی حالت میں خف (موزے) کا پہننا جائزہے ,بھلے ہی وہ ٹخنوں کے نیچے سے کٹے ہوئے نہ ہوں , جمہورکے نزدیک موزوں کا ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ دینا ضروری ہے ,لیکن صحیح بات یہ ہے کہ جوتے نہ ملنے کی صورت میں خفین (موزوں) کا ٹخنوں کے نیچے سے کاٹنا ضروری نہیں, کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ میں لوگوں کوخطبہ دیا توارشاد فرمایا :
    "جوتہبند نہ پائے وہ پائجامہ پہن لے , اورجوجوتے نہ پائے وہ خف(موزے ) پہن لے " (متفق علیہ)
    اس حدیث میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹنے کا حکم نہیں دیا, اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کاٹنے والا حکم منسوخ ہے – واللہ ولی التوفیق-
     
  7. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,872
    سوال 7:
    كيا احرام كي نيت زبان سے بول کرکی جائے گی؟اوراگرکوئی شخص دوسرے کی طرف سے حج کررہا ہوتوکس طرح نیت کرے؟

    جواب:
    نیت کی جگہ دل ہے, اوراسکا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے دل میں یہ نیت کرے کہ وہ فلاں شخص کی طرف سے ,یا اپنے بھائی کی طرف سے ,یافلاں بن فلاں کی طرف سے حج کررہا ہے, اسکے ساتہ ہی زبان سے ( اللہم لبیک حجا عن فلان )یا (لبیک عمرۃ عن فلاں) کہنا مستحب ہے ,یعنی اپنے باپ یا جس فلاں کی طرف سے حج کی نیت ہو اسکا نام لے , تاکہ دل کی نیت کو الفاظ کے ذریعہ موکد کردے, کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اورعمرہ کے الفاظ کے ساتہ نیت کی ہے, اسلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں زبان سے حج اورعمرہ کی نیت کرنا مشروع ہے, اسی طرح صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی آپ کے سکھلائے ہوئے طریقہ کے مطابق زبان سے نیت کی ہے ,چنانچہ وہ بلند آوازسے تلبیہ پکارتے تھے , سنت یہی ہے , لیکن اگرکوئی شخص بلندآواز سے نیت نہ کرے اورصرف دل کی نیت پراکتفا کرلے تو یہ بھی کافی ہے-
    دوسرے شخص کی طرف سے حج کرنے کی صورت میں آدمی اسی طرح اعمال حج ادا کرے گا جس طرح اپنی طرف سے حج کرتا ہے ,وہ اسی طرح مطلق تلبیہ پکارے گا گویا اپنی طرف سےحج کررہا ہو,فلاں یا فلاں کانام ذکرکرنے کی ضرورت نہیں, لیکن اگروہ فلاں کا نام لینا چاہے تو شروع تلبیہ میں نام لینا افضل ہے ,یعنی شروع شروع میں جب احرام باندھ رہا ہو اسوقت (لبیک حجا عن فلان )یا(لبیک عمرۃ عن فلاں) یا (لبیک عمرۃ وحجا عن فلاں) کہے گا ,اسکے بعد دیگرحجاج اورمعتمرین کی طرح بالکل اسی طرح مسلسل تلبیہ پکارتا رہے گا گویا وہ اپنی طرف سے تلبیہ پکاررہا ہو,
    "لبیک اللہم لبیک, لبیک لا شریک لہ لبیک, إن الحمد والنعمۃ لک والملک, لاشریک لک, لبیک اللہم لبیک, لبیک الہ الحق لبیک"
     
  8. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,872
    سوال 8:
    جوشخص کسی کا م سے مکہ آئے اورپھراسے حج کرنے کا موقع مل جائے ,تو کیا وہ اپنی قیامگاہ سے احرام باندھے گا یا اسے حدود حرم سے باہرجاناہوگا؟

    جواب :
    جو شخص کسی ضرورت , مثلاً کسی قریبی سے ملاقات کرنے یا کسی مریض کی تیمارداری کرنے یاتجارت کی غرض سے مکہ آئے اوراسکا حج یا عمرہ کرنے کا ارادہ نہ رہا ہو, پھراسے موقع مل جائے اوروہ حج یا عمرہ کرنا چاہے تو حج کا جس جگہ مقیم ہے وہیں سے احرام باندھے گا ,خواہ مکہ میں مقیم ہو یا مکہ کے مضافات میں – اورجب عمرہ کرنا چاہے تو اسکے لئے سنت بلکہ واجب ہے کہ حدود حرم سے باہرمقام تنعیم یا جعرانہ یا کہیں اورجاکروہاں سے عمرہ کا احرام باندھے, کیونکہ جب عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ کرنے کا ارادہ ظاہرکیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ مقام تنعیم جاکروہاں سے احرام باندھیں ,اورانکے بھائی عبد الرحمن سے فرمایا کہ وہ انہیں حدود حرم سے باہرمقام تنعیم یا کہیں اورلے جائیں- یہ مسئلہ اس شخص کے لئے ہے جو عمرہ کرنا چاہے – اور جوحج کرنا چاہے وہ جس جگہ مقیم ہے وہیں سے احرام باندھ کرتلبیہ پکارنا شروع کردے گا, خواہ وہ حدود حرم کے اندرمقیم ہو یا اس سے باہر, جیسا کہ اوپرمذکورہوا-
     
  9. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,872
    سوال 9:
    کیا احرام باندھتے وقت دورکعت نماز پڑھنی واجب ہے؟

    جواب :
    احرام کے لئے دورکعت نماز پڑھنا واجب نہیں , بلکہ اسکے مستحب ہونے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے, چنانچہ جمہورکا مسلک یہ ہے کہ احرام باندھتے وقت دورکعت نماز پڑھنا مستحب ہے ,یعنی وضوکرکے اوردورکعت نمازپڑھے ,پھراحرام باندھے, ان کی دلیل یہ ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پررسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد احرام باندھاتھا,یعنی آپ نے ظہرکی نماز ادا فرمائی اوراسکے بعد احرام باندھا, نیزآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    "ميرے پاس میرے رب کا فرستادہ (فرشتہ ) آیا اورکہا کہ اس مبارک وادی میں نماز پڑھو اورکہو: حج كے ساتہ عمرہ بھی " (یعنی حج اورعمرہ کا ایک ساتہ تلبیہ پکارو)
    مذکورہ واقعہ اورحدیث احرام کی دورکعت نماز کے مشروع ہونے کی دلیل ہے , جمہوراہل علم کا یہی مسلک ہے-
    اوربعض دیگراہل علم کا خیال یہ ہے کہ احرام کی دورکعت نماز کے بارے میں کوئی صریح دلیل موجود نہیں, کیونکہ مذکورہ بالا حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ " میرے رب کا فرستادہ(فرشتہ) آیا اورکہا کہ اس مبارک وادی میں نماز پڑھو" یہ احرام کی دورکعت نمازکے بارے میں صریح دلیل نہیں, بلکہ اس میں اس بات کا بھی احتمال ہے کہ فرض نمازوں میں سے کوئی نماز مراد ہو, اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرض نمازکے بعد احرام باندھنا احرام کی دورکعت نماز کے مشروع ہونے کی دلیل نہیں, بلکہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگرکسی شخص کونماز کے بعد حج یا عمرہ کا احرام باندھنے کا موقع ملے تویہ افضل ہے-
     
  10. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,872
    سوال 10:
    جس شخص كو احرا م كے دوران یا نمازکوجاتے ہوئے مذی یا پیشاب کے قطرے نکلنے کا احساس ہووہ کیا کرے ؟

    جواب:
    بندۂ مومن کے لئے ضروری ہے کہ جب وہ اس قسم کی بات محسوس کرے اورنمازکا وقت بھی ہو توپیشاب یا مذی سے استنجا کرکے وضوکرلے ,مذی نکلنے کی صورت میں ذکراورخصیتین کا دھلنا ضروری ہے ,البتہ پیشاب نکلنے کی صورت میں صرف ذکرکا اتنا حصہ دھلنا ہوگا جہاں تک پیشاب کے قطرے لگے ہوں, پھراگرنمازکا وقت ہوتو وضو بھی کرلے, لیکن اگرنمازکا وقت نہ ہوتو اس کام کونمازکا وقت ہونے تک موخرکردینے میں کوئی حرج نہیں ہے- واضح رہے کہ یہ سب کام محض وسوسہ کی بنیاد پرنہیں بلکہ یقین کی صورت میں کیا جائےگا ,اگربات صرف وسوسہ کی ہے تواسکا کوئی اعتبارنہیں ہوگا- تاکہ بندہ وسوسوں میں مبتلانہ رہے, کیونکہ بہت سے لوگ وسوسہ کا شکارہوتے ہیں اوریہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پیشاب یا پائخانہ کے راستہ سے کوئی چیز خارج ہوگئی ہے, حالانکہ بات ایسی نہیں ہوتی , اسلئے نفس کو وسوسوں کا عادی نہیں بنانا چاہئے ,بلکہ وسوسوں کوپس پشت ڈال دینا چاہئے تاکہ انکاشکارنہ ہو, اوراگراس طرح کا کوئی اندیشہ ہو ہی جائے تو وضو کے بعد شرمگا ہ کے ارد گرد پانی کا چھینٹا مارلے تاکہ وسوسوں کے شر سے محفوظ رہے-
     
  11. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,872
    سوال 11:
    کیا دھلنے کے لئے احرام کے کپڑے تبدیل کرنا جائزھے؟

    جواب :
    احرام کے کپڑے دھلنے میں کوئی حرج نہیں ,اسی طرح احرام کے کپڑے تبدیل کرنے اوران کی جگہ دوسرے نئے یا دھلے ہوئے کپڑے پہننے میں کوئی حرج نہیں-



    سوال 12:
    نیت کرنے اورتلبیہ پکارنے سے پہلے احرام کے کپڑے میں خوشبولگانا کیسا ہے ؟

    جواب :
    احرام کے کپڑے چادراورتہبند میں خوشبولگانا درست نہیں, ہاں بدن میں جیسے سر,داڑھی اوربغل وغیرہ میں خوشبولگانا سنت ہے, کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
    "محرم کو ئی ایسا کپڑا نہ پہنے جس میں زعفران یا ورس (کی خشبو) لگی ہو"
    اسلئے نیت کرنے اورتلبیہ پکارنے سے پہلے صرف بدن میں خوشبو لگانا سنت ہے ,کپڑوں میں نہیں, اوراگرکسی نے کپڑوں میں خوشبولگالی تو وہ انہیں دھلے بغیرنہ پہنے , یا پھرانہیں بدل کردوسرے کپڑے استعمال کرے-


    سوال 13:
    جوشخص يوم ترويه (8/ذي الحجه) سے پہلے ہی سے منى' میں موجود ہواسکا کیا حکم ہے؟ کیا احرام باندھنے کے لئی اسکا مکہ آنا ضروری ہے یا وہ منی' سے احرام باندھ لے؟

    جواب :
    جوشخص پہلے ہی سے منى' میں موجودہواسکے لئے –الحمدللہ- منى ہی سے احرام باندھ لینا مشروع ہے, اسے مکہ آنے کی ضرورت نہیں,بلکہ وقت ہونےپروہ اپنی قیامگاہ سے ہی حج کا احرام باندھ کرتلبیہ پکارنا شروع کردے گا-
     
  12. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,872
    سوال 14:
    کیا متمتع کے لئے تمتع کرنے کو کوئی متعین وقت ہے؟ اورکیا وہ یوم ترویہ( 8ذی الحجہ) سے پہلے حج کا احرام باندھ سکتا ہے ؟

    جواب :
    جی ہاں! حج تمتع کا احرام باندھنے کے لئے ایک متعین وقت ہے, اوروہ ہے شوال اورذی قعدہ کے دومہینے اورذی الحجہ کاپہلا عشرہ ,اوریہی مدت اشہرحج (حج کے مہینے ) کہلاتی ہے ,شوال شروع ہونے سے پہلے حج تمتع کا احرام نہیں باندھ سکتے ,اورنہ ہی بقرہ عید کی رات کے بعد باندھ سکتے ہیں- متمتع کے لئے افضل یہ ہے کہ پہلے عمرہ کا احرام باندھے ,تمتع کی یہی کامل صورت ہے ,لیکن اگرحج اورعمرہ کا ایک ساتہ احرام باندھ لیا توبھی متمتع کہلا ئے گا, اورقارن بھی ہوگا, اوردونوں صورتوں میں اسے دم دینا ہوگا ,
    جسے "دم تمتع" کہا جاتا ہے , اوروہ یا تو ایک کامل ذبیحہ ہو جو قربانی کے لئے درست ہو,یا اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ ہو(یعنی ایک اونٹ یا ایک گائے میں سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں) کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
    فَمَن تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ } (196) سورة البقرة
    پس جو شخص عمرہ کو حج سے ملاکرتمتع کرنا چاہے توجومیسرآئے قربانی کرے-
    اوراگردم دینے سے قاہرہے تو دس دن روزہ رکھے ,تین دن ایام حج میں اورسات دن اپنے وطن واپس آنے کے بعد, اوراس روزہ کے لئے کسی مدت کی تحدید نہیں ,جیسا کہ پہلےمذکورہوچکاہے.
    اگراس شخص نے ماہ شوال کے شروع میں عمرہ کا احرام باندھا اورعمرہ کرکے حلال ہوگیا ,تو اس عمرہ کے درمیان اورحج کا احرام باندھنےکےدرمیان کی مدت 8/ذی الحجہ تک کافی طویل ہوجاتی ہے ,اسلئے افضل یہ ہے کہ وہ 8/ذی الحجہ کو حج کا احرام باندھے ,جیساکہ صحابۂ کرام –رضی اللہ عنہم- نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے کیاتھا,چنانچہ جب صحابہ کرام حج افراد کا احرام باندھ کرآئے اوربعض صحابہ حج قران کا ,توآپ نے انہیں حکم دیا کہ( عمرہ کرکے) حلال ہوجائیں,البتہ جولوگ "ہدی" ساتھ لائے ہیں وہ اپنے اپنے احرام میں باقی رہیں, چنانچہ جن کے پاس "ہدی " کا جانورنہیں تھاانہوں نے طواف کیا ,سعی کی اورقصرکرایا اورحلال ہوگئے, اوراسطرح سے وہ متمتع بن گئے ,پھریوم ترویہ یعنی 8/ ذی الحجہ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی اپنی قیام گاہوں سے حج کا احرام باندھ لیں ,اوریہی طریقہ افضل ہے – لیکن اگرکسی نے 8/ذی الحجہ سے پہلے مثلاً یکم ذی الحجہ کو یا اس سے بھی پہلے حج کا احرا م باندھ لیا تویہ بھی کافی اوردرست ہے ,مگرافضل یہی ہے کہ 8/ذی الحجہ کو حج کا احرام باندھا جائے ,جیساکہ صحابۂ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے کیا تھا-
     
  13. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,872
    جوشخص حج يا عمره كي نيت سے یا کسی اورغرض سے مکہ آئے اوربغیراحرام باندھے میقات سے آگے بڑھ جائے اسکا کیا حکم ہے؟

    جواب :
    جوشخص حج یا عمرہ کی نیت سے مکہ آئے اوربلا احرام باندھے میقات سے آگے بڑھ جائے اسکے لئے واپس آکرمیقات سے احرام باندھنا واجب ہے ,کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا حکم دیا ہے, جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "مدينہ کے رہنے والے ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں, اورشام کے رہنے والے جحفہ سے ,اورنجد کے رہنے والے قرن منازل سے ,اوریمن کے رہنے والے یلملم سے"
    نیز ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
    "نبي صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے مقام ذوالحلیفہ کومیقات مقررفرمایا ہے, اوراہل شام کے لئے جحفہ کو ,اوراہل نجد کے لئے قرن منازل کو ,اوراہل یمن کے لئے یلملم کو, اورفرمایا کہ مذکورہ مقامات ان علاقوں کے رہنے والوں کے لئے میقات ہیں, اوران لوگوں کے لئے بھی جو وہاں کے رہنے والے نہ ہوں مگرحج یا عمرہ کے ارادہ سے وہاں سے گزریں"
    لہذا مکہ مکرمہ آنے والا اگرحج یا عمرہ کے ارادہ سے آرہا ہے تو اس پرواجب ہے کہ جس میقات سے گزرے وہاں سے احرام باندھ کرگزرے , چنانچہ اگرمدینہ منورہ کے راستہ سے آرہا ہے توذوالحلیفہ سے احرام باندھے, شام یا مصریا مغرب کے راستہ سے آرہا ہے تومقام جحفہ (موجودہ وقت میں رابغ) سے,یمن کے راستہ سے آرہا ہے تویلملم سے, اورنجد یا طائف کے راستہ سے آرہاہے تو وادی قرن, جسے "قرن منازل" اورموجودہ وقت میں "سیل" کہا جاتا ہے اوربعض لوگ اسے "وادی محرم" بھی کہتے ہیں ,وہاں سے حج ,یا عمرہ,یاحج وعمرہ کا احرام باندہے-
    جوشخص حج کے مہینوں میں مکہ آئےاسکے لئے افضل یہ ہے کہ صرف عمرہ کا احرام باندھے اورطواف ,سعی اورقصرکرکے حلال ہوجائے ,پھرجب حج کا وقت آئےتوحج کا احرام باندھے-اوراگراشہرحج کے علاوہ کسی اورمہینے مثلا رمضان یا شعبان میں میقات سے گزرے توصرف عمرہ کا احرام باندھے ,یہی مشروع ہے-
    اوراگرکسی دوسری غرض سے مکہ مکرمہ آئے,اورحج یا عمرہ کرنے کا اسکا ارادہ نہ ہو, بلکہ تجارت یا احبا ب واقارب سے ملاقات یاکسی اورغرض سے آیا ہو, تو صحیح قول کے مطابق اس پراحرام باندھنا واجب نہیں, بلکہ بلا احرام مکہ مکرمہ میں داخل ہوسکتا ہے, علماء کا یہی قول راجح ہے ,اگرچہ اسکے لئے افضل یہ ہےکہ موقع کو غنیمت جانے اورعمرہ کا احرام باندھ کرمکہ میں داخل ہواورعمرہ کرلے-
     
  14. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,872
    سوال 16:
    محرم (احرام باندھنے والے) کو اگریہ خدشہ ہوکہ وہ کسی مرض یا خوف کے سبب اپنا حج یا عمرہ پورا نہیں کرسکے گا توکیا کرے؟

    جواب :
    ایسا شخص احرام باندھتے وقت یہ کہ لے کہ اگرمجھے کوئی ایسا عارضہ پیش آگیا جو حج یا عمرہ کے پوراکرنے سے مانع ہو,توجہاں عارضہ پیش آئےگا میں وہیں حلال ہوجاؤں گا-
    کسی عارضہ مثلاً مرض وغیرہ کا خدشہ ہونے کی صورت میں مشروط احرام باندھنا سنت ہے ,کیونکہ حدیث سے ثابت ہے کہ ضباعہ بنت زبیربن عبد المطلب نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بیماری کا تذکرہ کیا تو آپ نے انہیں یہی حکم دیا کہ مشروط احرام باندھیں-



    سوال 17:
    كيا عورت کسی بھی کپڑے میں احرام باندھ سکتی ہے؟

    جواب :
    جی ہاں! عورت کسی بھی کپڑے میں احرام باندھ سکتی ہے ,اسکے لئے احرام کا کوئی لباس مخصوص نہیں, جیساکہ بعض عوام کا خیال ہے, البتہ افضل یہ ہے کہ وہ لباس خوبصورت اورجاذب نظرنہ ہوں , کیونکہ اسے مردوں کے مابین اٹھنے بیٹھنے کا اتفاق پڑے گا ,اسلئے اسکے لباس خوبصورت نہیں ہونے چاہئیں , بلکہ عام لباس جیسے ہوں جس میں فتنہ کا اندیشہ نہ ہو- ویسے اگروہ خوبصورت لباس میں احرام باندھ لے تو اسکا احرام درست ہے, مگرخوبصورت لباس سے دوررہنا ہی افضل ہے-
    مرد کے لئے دوسفید کپڑوں میں احرام باندھنا افضل ہے ,جن میں ایک تہبند اوردوسری چادر, ویسے مرد اگررنگین کپڑے میں احرام باندھ لے تو بھی کوئی حرج نہیں, رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کا سبزچادرمیں طواف کرنا ثابت ہے , اسی طرح آپ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کالا عمامہ باندھنا بھی ثابت ہے,حاصل کلام یہ ہے کہ رنگین کپڑے میں احرام باندھ لینے میں کوئی مضایقہ نہیں-
     
  15. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,872
    سوال 18:
    فضائی راستہ (ہوائی جہاز) سے آنے والے حاجی اورمعتمراحرام کب باندھیں؟

    جواب :
    فضائی راستہ (ہوائی جہاز) سے یا سمندری راستہ سے آنے والے حجاج ومعتمرین بھی خشکی کے راستہ سے آنے والوں کی طرح میقات کے پاس سے احرام باندھیں, یعنی فضا میں یا سمندرمیں جب میقات کے برابرپہنچیں تواحرام باندھیں, یا ہوائی جہازاورسمندری جہازیا کشتی کی تیزرفتاری کے پیش نظراحتیاطاً میقات سےتھوڑا پہلے ہی احرام باندھ لیں-


    سوال 19:
    جس شخص کی رہائش گاہ مکہ مکرمہ اورمیقات کے درمیان ہو وہ احرام کہاں سے باندھے ؟
    جواب:
    جس کی رہائش گاہ مکہ اورمیقات کے درمیان ہووہ اپنے گھرہی سے احرام باندھے, جیسا کہ ام سلم کے لوگ اوراہل بحرہ نیزجدہ میں رہنے والے اپنے گھروں سے احرام باندھتے ہیں, کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    " اورجولوگ میقات کے اندررہتے ہوں تووہ جہاں سے روانہ ہوں وہیں سے احرام باندھیں"
    اوردوسری روایت میں ہے:
    " وه اپنے گھروالوں کے پاس سے ہی احرام باندھیں, یہاں تک کہ مکہ والے خود مکہ سے احرام باندھیں"


    سوال 20:
    یوم ترویہ (8مذی الحجہ) کو حاجی کہاںسے احرام باندھیں؟
    جواب:
    یوم ترویہ کو حاجی صاحبان اپنی اپنی قیامگاہوں سے احرام باندھیں گے, جیساکہ حجۃ الوداع کےموقع پرصحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے مقام "ابطح" میں اپنی اپنی قیام گاہوں سے احرام باندھا تھا ,اسی طرح مکہ مکرمہ میں رہنے والے بھی اپنے گھروں سے احرام باندھیں گے, کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث گزرچکی ہے ,جس میں نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مذکورہے :
    "جولوگ میقات کے اندررہتے ہوں وہ اپنے گھروالوں کے پاس سے ہی احرام باندھیں, یہاں تک کہ اہل مکہ خود مکہ سے احرام باندھیں"(متفق علیہ)
     
  16. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,872
    سوال 21:
    ایک شخص کسی ملک سے حج کی نیت سے آیا اورجدہ ہوائی اڈہ پراترا, لیکن میقات سی احرام نہ باندھ کر جدہ شہرسے احرام باندھا,اسکا کیا حکم ہے ؟

    جواب :
    جده هوائي اڈہ پراترنے والا اگرملک شام یا مصرکا باشندہ ہے تووہ مقام "رابغ" سے احرام باندھے,یعنی کاریاکسی بھی سواری سے وہ "رابغ" اترجائے اوروہاں سے احرا م باندھ کرآئے, جدہ شہرسے احرام نہ باندھے-
    اوراگرنجد کے علاقہ سے آیا ہے اوراحرام نہیں باندھا یہاں تک کہ جدہ پہنچ گیا ,تو وہ مقام سیل یعنی وادی "قرن منازل" جائے اوروہاں سے احرام باندھے, اوراگرمیبقات واپس نہیں گیا اورجدہ ہی سے احرام باندھا تو اسے حج یا عمرہ کا نقص پوراکرنے کے لئے "دم " دینا ہوگا , اوردم جیسا کہ پہلے مذکورہوچکا ہے – یا توایک کامل بکری ہے جوقربانی کے لئے درست ہو ,اسے مکہ میں ذبح کرکے فقراء میں تقسیم کرنا ہوگا, اوریاتواونٹ یا گائے کا ساتواں (7/1) حصہ ہے-
     
  17. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,872
    سوال 22:
    ايك شخص نے حج افراد کی نیت کی, پھرمکہ پہنچ کراسنے نیت بدل کرحج تمتع کی کرلی ,چنانچہ عمرہ کیا اورپھرحلال ہوگیا ,ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہےٍ؟ نیزوہ حج کا احرام کب اورکہاں سے باندھے؟

    جواب :
    مذکورشخص نے جوکیا وہی افضل ہے ,چنانچہ محرم جب حج افراد کا یا حج قران کا احرام باندھ کرآئے تواسکے لئے افضل یہ ہے کہ اس احرام کو عمرہ سے بدل دے ,صحابۂ کرام جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتہ حج کے لئے آئے ,بعض نے حج افراد کا احرام باندھ رکھا تھا اوربعض نے حج قران کا ,اوران کے ساتہ "ہدی" کے جانوربھی نہیں تھے, توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہی حکم دیا کہ وہ اپنے احرام کو عمرہ سے بدل دیں , چنانچہ انہوں نے طواف اورسعی کی , اوربال کٹوائے اورپھرحلال ہوگئے, البتہ جس کے ساتہ "ہدی" کا جانورہو وہ اپنے سابقہ احرام میں باقی رہے, یہاں تک کہ عید کے دن (10/ذی الحجہ کو) قارن ہونے کی صورت میں حج اورعمرہ دونوں سے ایک ساتہ ,اورمفرد ہونے کی صورت میں صرف حج سے فارغ ہوکرحلال ہو-
    حاصل یہ ہےکہ جوشخص حج افراد کا یا حج قران کا احرام باندھ کرمکہ مکرمہ آئے اوراسکے پاس "ھدی" کا جانورنہ ہو,توسنت یہ ہےکہ وہ اپنے احرام کو عمرہ کے احرام سے بدل دے , اورطواف وسعی کرکے اوربال کٹواکرحلال ہوجائے ,پھرحج کے وقت حج کا احرام باندھے اوردم دے کرمتمتع بن جائے-
     
  18. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,872
    سوال 23:
    اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جس نے حج تمتع کی نیت کی تھی ,مگرمیقات پرپہنچنے کے بعد اسنے اپنی رائے بدل دی اورحج افراد کا احرام باندھ لیا, کیا اس پرہدی واجب ہے ؟

    جواب :
    مذکور شخص نے اگرمیقات پہنچنے سے پہلے حج تمتع کی نیت کی تھی , اورمیقات پرپہنچ کرنیت بدل دی اورحج افراد کا احرام باندھ لیا, تواسمیں کوئی مضایقہ نہیں ,اورنہ ہی اس شخص پرکوئی فدیہ وغیرہ ہے ,لیکن اگراسنے میقات پرپہنچ کریا میقات سے کچہ پہلے ہی حج قران کا احرام باندھ لیا ,پھراس احرام کو حج افراد کے احرام سے بدلنا چاہے ,تو ایسا کرنے کا اسے اختیارنہیں,البتہ عمرہ کے احرام سے بدلنا چاہے توایسا کرسکتا ہے , کیونکہ حج قران کے احرام کو عمرہ کے احرام سے تبدیل کیا جاسکتا ہے,لیکن حج افراد کے احرام سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا ,کیونکہ قران کے احرام کو عمرہ کے احرام سے تبدیل کرنے میں ایک مسلمان کے لئے زیادہ آسانی ہے, نیزاسلئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکا حکم دیا ہے – لہذا جوشخص میقات سے حج قران کا احرام باندھ لے پھراسے حج افراد کے احرام سے تبدیل کرنا چاہے ,توایسا نہیں کرسکتا ,البتہ عمرہ کے احرام سے تبدیل کرسکتا ہے, بلکہ یہی افضل ہے ,چنانچہ وہ طواف اورسعی کرے , بال کٹوائے اورحلال ہوجائے, پھراسکے بعد جب حج کا وقت ہو تو حج کا احرام باندھے اوراسطرح متمتع بن جائے-
     
  19. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,872
    سوال 24:
    اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جس نے حج اورعمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھا ,مگرمکہ مکرمہ پہنچ کراسکا سفرخرچ ضائع ہوگیا اوروہ دم دینے کے لائق نہیں رہا,چنانجہ اس نے نیت بدل کرحج افراد کی کرلی, کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟ اوراگریہ حج وہ کسی دوسرے کی طرف سے ( حج بدل) کررہا تھا اوراس شخص نے اسے حج تمتع کی شرط کے ساتہ بھیجا تھا, تو ایسی صورت میں وہ کیا کرے؟

    جواب:
    مذکورہ مسئلہ میں اس شخص کو نیت بدلنے کا اختیارنہیں, بھلے ہی اسکا سفرخرچ ضائع ہوگیا ,اگروہ دم دینےکی طاقت نہیں رکھتا تو الحمد للہ اسکا حل موجودہے, وہ یہ کہ دس دن روزہ رکھے, تین دن ایام حج میں اورسات دن وطن واپس آنے کے بعد ,اوراسطرح وہ حج تمتع کے احرام میں باقی رہے, نیزحج بدل کے لئے بھیجنے والے کی شرط پوری کرے,وہ اسطرح کہ عمرہ کا احرام باندھ کرطواف اورسعی کرے, بال کٹوائے اورحلال ہوجائے ,پھرحج کا احرام باندھ کرحج کرے اوردم دے, اوراگردم دینے کی طاقت نہیں تودس دن روزہ رکھے ,تین دن ایام حج میں یوم عرفہ (9/ذی الحجہ) سے پہلے پہلے, اورسات دن حج سے وطن واپس آکر, کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں حاجی کے لئے عرفہ کے دن روزہ نہ رکھنا ہی افضل ہے – آپ صلی اللہ علیہ وسلم وقوف عرفہ کے دوران روزہ سے نہیں تھے-
     
  20. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,872
    سوال 25:
    ایک شخص نے حج قران کا احرام باندھا ,لیکن عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد اسنے احرام کھول دیا ,کیا وہ متمتع شمارہوگا؟

    جواب :
    جی ہاں, حج قران کا احرام باندھنے کے بعد اگرطواف اورسعی کرنے اوربال کٹوانے کے بعد آدمی حلال ہوجائے, اورسابقہ احرام کو عمرہ کے احرام سے بدل دے ,تو وہ متمتع شمارہوگا اوراسے تمتع کا دم دینا ہوگا-


    سوال 26:
    ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جس نے حج کیا مگرنمازنہیں پڑھتا ,خواہ وہ عمدأنماز چھوڑے ہوئے ہے یامحض سستی وکاہلی میں ایسا کرتا ہے؟ اورکیا اسکا یہ حج فرض حج کے لئے کافی ہوگا؟

    جواب :
    جس نے اس حال میں حج کیا کہ وہ نماز نہیں پڑھتا,تو اگروہ نمازکی فرضیت کا منکرہے تومتفقہ طورپرکافرہے اوراسکا حج بھی درست نہیں ,اوراگرمحض سستی وکاہلی کی وجہ سے نمازچھوڑے ہوئے ہے تو اس بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے ,بعض علماءکا خیال ہے کہ اس کا حج درست ہے , اوربعض کا خیال ہے کہ یہ حج درست نہیں, لیکن صحیح بات یہی ہے کہ یہ حج درست نہیں ,کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے:
    "ہمارے اوران (کافروں) کے درمیان جوفرق ہے وہ نمازہے ,توجس نے نمازچھوڑدی اسنے کفرکیا "
    دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    "آدمي كے اورکفروشرک کے درمیا ن بس نمازچھوڑنے کا فرق ہے"
    اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ فرمان ,نمازکی فرضیت کا انکارکرنے والے اورسستی وکاہلی میں نماز چھوڑنے والے سب کو شامل ہے , واللہ ولی التوفیق-
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں