ابابیل حقیقی پرندہ ہے یا خیالی؟

عائشہ نے 'معلومات عامہ' میں ‏اگست 31, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,269
    جی یہ لفظ استعمال تو ہوا ہے لیکن یہ کسی خاص پرندے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ اسم جمع ہے ، ابابیل پرندوں کے گروہ کو کہتے ہیں ۔ جیسے لفظ امت ہے ۔ امت کا مطلب گروہ یا قوم ہے ۔ جب ہم اس کے ساتھ لفظ اسلام یا مسلم لگا کر امت مسلمہ یا امت اسلام کہہ لیتے ہیں تو تب یہ صرف مسلمان قوم کی بات ہوتی ہے ۔ ورنہ اس کا مطلب لوگوں یا جانوروں کا کوئی گروہ ہو سکتا ہے ۔ اسی طرح لفظ حزب ہے ۔ جس کا مطلب بھی گروہ ہے ۔ قرآن میں حزب اللہ یعنی اللہ کا گروہ اور حزب الشیطان یعنی شیطان کا گروہ کی ترکیب استعمال ہوئی ہے بالکل اسی طرح طیرا ابابیل کا مطلب ہے پرندوں کا گروہ ، اسی طرح اردو میں بکریوں کا ریوڑ، بھیڑوں کا گلہ استعمال ہوتا ہے ۔ جس میں ریوڑ اور گلہ اسم جمع ہے ۔
    اس لیے اس کو پرندے کا نام سمجھنا ایک ایسی علمی غلطی ہے جو عربی نہ جاننے کے باعث لوگ کرتے ہیں ۔ اہل اردو نے مزید آگے بڑھ کر اس اسم جمع کی جمع
    ابابیلیں بنا کر اسے عام استعمال کرنا شروع کر دیا ہے جو غلط ہے ۔ اس کے علاوہ بعض ملحد قسم کے لوگ اہل ایمان کا مذاق اڑانے کے لیے یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ ابابیل خیالی پرندہ ہے جس کا وجود سائنسی لحاظ سے کہیں ثابت نہیں ۔جواب میں بعض کم علم جذباتی لوگ ڈائنوسار کے زمانے کے پرندوں کے حوالے دے دے کر ہلکان ہوتے ہیں ۔ وہ سوچتے ہیں کہ اگر وہ قرآن میں مذکور پرندے کا وجود ثابت نہ کر پائے تو ایمان کو بہت خطرہ ہو جائے گا ۔ حالاں کہ انہیں چاہیے کہ اہل علم سے رجوع کریں جیسا کہ قرآن مجید کا حکم ہے : فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون۔
    اور جب آپ اہل علم کے پاس جائیں تو ان کا جواب یہ ہے کہ ابابیل پرندہ ہی نہیں ۔ لہذا یہ اعتراض ہی فضول ہے کہ سائنسی لحاظ سے اس کا وجود ممکن ہے یا نہیں ۔ قرآن مجید نے تو بس اتنا کہا ہے کہ پرندوں کے غول تھے جو کنکریاں لے کر آئے اور فوج پر برسا دیں ۔ سائنسی لحاظ سے اس میں کچھ محال ہے ہی نہیں ۔
    اسی لیے ہمیں قرآن مجید میں علم کے بغیر بات کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اہل علم سے پوچھ لینے کا حکم دیا گیا ہے ۔
    اس تھریڈ کا مقصد یہی تھا کہ ان سب باتوں کی تصحیح کی جائے اور جو لوگ بغیر علم کے ان بحثوں میں لگے ہیں ان کو احساس دلایا جائے کہ علم کے بغیر نری جذباتیت سے مباحثے جیتے نہیں جاتے ۔اہل علم کو حقارت سے مولوی کہہ کہہ کر ان کی اہمیت گھٹانے کی جتنی بھی کوشش کر لی جائے علم انہی اللہ کے ولیوں کے پاس ہے ۔
    یہ سب باتیں قرآنی تفاسیر ، اور علوم القرآن کی کتابوں میں پہلے ہی موجود ہیں لیکن انٹرنیٹ پر سرچ کی شوقین مخلوق ، کتابیں کم ہی پڑھتی ہے ۔ بس جلدی سے لنک چاہیے جو پیسٹ کر دیا جائے ، پھرا نہیں مشکل کاموں کی عادت نہیں ، ہر چیز آسان چاہیے ۔ سوچا آسان عوامی سوال و جواب میں یہ بحث محفوظ ہو جائے ۔ شاید کبھی "سرچ" کو "ریسرچ" کہنے والوں کے کام آجائے ۔ : )
    اس کی مزید تفصیل کے لیے میں ان شاءاللہ مولانا عبدالرحمن کیلانی کی کتاب سے اقتباس پیش کروں گی ۔
     
  2. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,736
    جزاک اللہ خیرا

    یقینا ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب کسی کو اس بارے میں بتائیں گے تو کم عقل والے تو مذاق ہی بنائیں گے لیکن اگر مطالعہ کر کے اور صحیح حوالوں کے ساتھ تو یقینا بات سمجھانے اور بات کرنے میں آسانی ہو گی
     
  3. فرینڈ

    فرینڈ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 30, 2008
    پیغامات:
    10,713
    میرے خیال سے تو ابابیل حقیقی پرندہ ہے، کیونکہ اس کا ذکر قرآن میں واضح طور پر موجود ہے۔
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,269
    ایک عدد "ابابیل" جو ہم نے فیس بک سے پکڑی۔ املا قابل دید ہے۔
    [​IMG]
    [​IMG]
     
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  5. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,273
    میرا خیال ہے کہ اسی قبیل سے تعلق رکھتے ہیں، جو کہ درخت کو بھی صحابی قرار دے دیتے ہیں

    جی اس صفحہ کے سرسری جائزے کا موقع ملا۔ املا کے حوالے سے نہایت تہی دامنی کا شکار ہیں۔ مثلا "ابو ھریزہ" " حجرے اسود" "اویس کرنی" وغیرہ
     
    Last edited: ‏اکتوبر، 15, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں