حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ

مشکٰوۃ نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏ستمبر 14, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 23, 2012
    پیغامات:
    1,917
    حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ

    انہیں قسطنطنیہ کی فصیل میں دفن کیا جائے گا


    اس جلیل القدر صحابی رضی اللہ عنہ کا نام خالد بن زید تھا اور آپ بنو نجار قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے ۔آپ کی کنیت ابو ایوب تھی اور انصار مدینہ ہونے کی وجہ سے انہیں انصاری کہا جاتا تھا۔
    مسلمانوں میں سے کون ہے جو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنیہ کی عظمت کا معترف نہ ہو ۔
    بلاشبہ اللہ تعالٰی نے شرق و غرب میں ان کا نام بلند کر دیا اور انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ہجرت کر کے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ پہنچے تو عارضی رہائش کے لئے ان ہی کے گھر کو منتخب کیا۔
    حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کرنے کی داستان ایسی دلربا ہے کہ اسے بار بار بیان کرنے اور سننے کو جی چاہتا ہے۔
    جب نبی علیہ السلام مدینہ منورہ پہنچے تو اہلیان مدینہ آپ کے ساتھ بڑی محبت سے پیش آئے ۔وہ سب آپ کے لئے چشم براہ تھے۔آپ کی آمد پر سب نے فراغ دلی کاثبوت دیا اور اپنے گھروں کے دروازے کھول دیئے تاکہ جس گھر کو آپ پسند کریں ،اس میں رہائش اختیار کرلیں ۔لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے قریب وادی قبا میں چند دن قیام کیا اور وہاں ایک مسجد تعمیر کی ۔یہ تاریخ اسلام کی وہ پہلی مسجد ہے جس کی بنیاد رسول اللہ صلی اللہ لیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے رکھی ،جو آج مسجد قباکے نام سے معروف ہے۔وادیٗ قبا میں کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد آپ نے مدینہ منورہ کا رخ کیا۔یثرب کے سردار راستے میں کھڑے آپ کا انتظار کر رہے تھے ۔ہر ایک کی یہ دلی تمنا تھی کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میزبانی کا شرف حاصل ہو۔ہر سردار آپ کی خدمت اقدس میں یہی مطالبہ کرتا کہ آپ میرے ہاں قیام کریں ۔
    آپ سب کو یہی ارشاد فرماتے:
    ‘‘میری اونٹنی کا راستہ چھوڑ دو یہ اللہ تعالٰی کی جانب سے مامور ہے۔‘‘
    اونٹنی مسلسل چلتی رہی ۔سب کی آنکھیں اسی کی طرف لگی ہوئی تھیں ۔دلوں میں ایک ہی شوق سمایا ہوا تھا کہ کسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میزبانی کا شرف حاصل ہو جائے۔جب اونٹنی ایک گھر کے سامنے سے گزر جاتی تو اس گھر والے غمگین و ناامید ہو جاتے اور اس سے اگلے گھر والوں کو امید کی کرن نظر آنے لگتی،لیکن اونٹنی مسلسل اپنے حال میں مست چلی جا رہی تھی۔لوگ بھی اس کے پیچھے رواں دواں تھے ہر ایک کے دل میں یہ شوق تھا کہ وہ اس خوش قسمت کو دیکھیں کہ جس کے نصیب میں یہ دولت آتی ہے ۔ہوا یہ کہ اونٹی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھرکےسامنے کھلی فضا میں بیٹھ گئی ۔لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نیچے نہ اترے تھوڑی ہی دیر میں وہ اٹھی اور دوبارہ چلنے لگی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی لگام تھا مے ہوئے تھے۔پھر جلدی ہی دوبارہ اسی پہلی جگہ پر آکر بیٹھ گئی۔اس موقع پر حضرت ایوب کا دل خوشی سے باغ باغ ہو گیا۔فورا ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہا اور اتنے خوش ہوئے گویا دنیاکے خزانے ہاتھ لگ گئے ۔آپ کا سامان اٹھایا ور اپنے گھر کی طرف چل دیئے۔

    حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا گھر دو منزلہ تھا ۔بالائی منزل کو خالی کر دیا گیا تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں قیام کریں ۔لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رہائش کے لئے نچلی منزل کو ترجیح دی ۔حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے آپ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رہنا پسند کیا وہیں انتظام کر دیا۔
    جب رات ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بستر پر لیٹ گئے تو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ بالائی منزل پر چلے گئے لیکن فورا خیال آیا کہ افسوس ہم کیاکر بیٹھے ! کیا ہمارے آقا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے آرام کریں گے اور ہم اوپر؟
    کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر چلیں پھریں گے ؟
    کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور وحی کے درمیان حائل ہوں گے؟
    یہ تو آپ کی خدمت اقدس میں گستاخی ہے۔ہم تو تباہ ہو جائیں گے ،دونوں میاں بیوی انتہائی پریشان تھے ۔کچھ سجھائی نہ دیتا تھا کہ اب کیا کریں ؟دلی سکون جاتا رہا ور پریشانی کے عالم میں دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھے اسی غم میں غلطاں رہے اور اس بات کا خیال رکھا کہ وہ کمرے کے درمیان میں نہ چلیں ۔
    جب صبح ہوئی تو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی علیہ السلام کی خدمت اقدس میں عرض کی ‘‘یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بخدا! آج رات ہم دونوں رات بھر جاگتے رہے ۔ایک لمحہ بھی سو نہ سکے ‘‘۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا :‘‘کیوں؟‘‘
    عرض کی:‘‘ہمارے دل میں احساس پیدا ہوا کہ ہم چھت کے اوپر ہیں اور آپ نیچے تشریف فرما ہیں ۔ہم دیوار کے ساتھ چمٹ کر بیٹھے رہے کہ اگر ہم چھت پر چلیں گے تو چھت کی مٹی آپ پر پڑے گی جو آپ کو ناگوار گزرے گی اور دوسری بات یہ ہے کہ ہم آپ اور وحی کے درمیان حائل ہوں گے ۔‘‘
    یہ باتیں سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    ‘‘ابو ایوب! غم نہ کرو۔نیچے رہنا میرے لئے آرادم دہ ہے کیوں کہ ملاقات کی غرض سے کثرت سے لوگوں کی آمدو رفت ہے۔‘‘
    حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
    ‘‘ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم مان لیا،لیکن ایک خنک رات میں ہمارا مٹکا ٹوٹ گیا اور پانی چھت پر بہہ گیا میں ا ور میری بیوی جلدی جلدی لحاف سے خشک کرنے لگے کہ کہیں یہ پانی نیچے ٹپک کر رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم تک نہ پہنچ جائے ،جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔
    میں نے عرض کی :
    ‘‘یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ،مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میں اوپر رہوں جبکہ آپ نیچے تشریف فرما ہوں ۔‘‘
    پھر میں نے رات مٹکا ٹوٹنے کا واقعہ بھی سنا دیا۔آپ نے میری التجا کو قبول فرما لیا ،آپ بالائی منزل پر جلوہ افروز ہونے میں رضا مند ہو گئے اور ہم نچلی منزل میں منتقل ہو گئے۔
    نبی علیہ السلام تقریبا سات ماہ تک حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں قیام پذیر رہے ۔اتنے میں اس خالی جگہ پر مسجد تعمیر ہو گئی ،جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی بیٹھی تھی۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان حجروں میں منتقل ہو گئے جو آپ کی رہائش کے لئے تعمیر کئے گئے تھے ۔اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان سے بے حد پیار کیا اور ہمیشہ ان کے گھر کو اپنے گھر جیسا سمجھا۔

    حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں :
    ‘‘ایک دن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے مسجد کی طرف جارہے تھے۔دھوپ بہت تیز تھی ۔راستے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے آپ سے دریافت کیا ‘‘حضرت آپ اس وقت یہاں کیسے ؟،‘‘
    فرمانے لگے ‘‘مجھے اس وقت بہت زیادہ بھوک لگی ہوئی ہے۔‘‘
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
    ‘‘بخدا! میں بھی اسی بھوک کی وجہ سے نکل آیا ہوں ۔‘‘دونوں یہ باتیں کر رہے تھے کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ادھر آ نکلے۔
    آپ نے دریافت فرمایا:
    ‘‘آ پ دونوں اس وقت یہاں کیسے کھڑے ہو؟‘‘
    دونوں نے بیک زباں عرض کی :
    ‘‘یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھوک بہت زیادہ لگی ہوئی ہے۔‘‘
    نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
    ‘‘اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ،میں بھی بھوک کی وجہ سے گھر سے نکلا ہوں ۔پھر آپ نے فرمایا میرے ساتھ آؤ‘‘، اور آپ علیہ السلام ان دونوں کو اپنے ہمراہ لے کر حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر روانہ ہو گئے۔
    حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے روزانہ کھانا محفوظ رکتھے تھے۔جب آپ تشریف نہ لاتے تو وہ اہل خانہ کو کھلا دیاجاتا۔
    جب دروازے پر پہنچے تو ام ایوب رضی اللہ عنہ نے نبی علیہ السلام اور آپ کے ساتھیوں کو خوش آمدید کہا۔
    آپ نے دریافت فرمایاکہ‘‘ابو ایوب کہاں ہے؟‘‘
    وہ گھر کے قریب ہی نخلستان میں مصروف عمل تھے ۔وہیں پر انہوں نے نبی علیہ السلام کی آواز سنی تو دوڑتے ہوئے آئے۔سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو خوش آمدید کہا اور عرض کی ‘‘حضور ! خیر تو تھی آج آپ اس وقت میرے خانہ پر تشریف نہ لائے جس وقت روزانہ تشریف لایا کرتے تھے۔؟‘‘
    آپ نے فرمایا :‘‘ہاں سچ ہے ۔آج کچھ تاخیر ہوگئی‘‘۔
    پھر حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ جلدی سے نخلستان کی طرف گئے اور کھجور کی ایک ٹہنی کاٹ لائے جس کے ساتھ خشک اور تر کھجوریں لگی ہوئی تھیں ۔
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:آپ نے یہ ٹہنی کیوں کاٹی ؟آپ صرف خشک کھجوریں چن لاتے۔‘‘
    انہوں نے کہا::یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میر ا یہ جی چاہتا ہے کہ آپ ہر طرح کی کھجوریں تنول فرمائیں ۔ابھی میں آپ کے لئے ایک جانور بھی ذبح کرتا ہوں ۔‘
    آپ نے ارشاد فرمایاـ‘‘دیکھئے دودھ دینے والا جانور ذبح نہ کرنا ۔‘‘
    حضرت ابو ایوب رضی اللہ نے بکری کا ایک بچہ پکڑا اور اسے ذبح کر دیا ۔پھر اپنی بیوی سے کہا جلدی جلدی کھانا تیار کرو ۔بیوی روٹی پکانے میں مصروف ہو گئی اور خود نصف گوشت کا سالن پکایا اور نصف گوشت خشک بھون کر تیار کیاجب کھانا تیار ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کے سامنے لگا دیا ۔سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت کا ایک ٹکڑا لیاور روٹی پر رکھ کر ارشادفرمایا:
    ‘‘ابو ایوب رضی اللہ عنہ یہ میری بیٹی فاطمہ کے پاس لے جاؤ ،کئی دن سے اسے اس طرح کا کھانا نصیب نہیں ہوا۔‘‘پھر سب نے مل کر کھانا تناول کیا۔
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے یہ نعمتیں دیکھ کر ارشاد فرمایا:‘‘روٹی ،گوشت،خشک،تر اورکچی کھجوریں ۔‘‘یہ الفاظ کہے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئےاور ارشاد فرمایا: ‘‘‘اللہ کی قسم ! جس کے قبضہ میں میری جان ہے ،یہی تو وہ نعمتیں ہیں جن کے متعلق قیامت کے دن تم سے پوچھا جائے گا۔جب تمھیں اس قسم کی کوئی نعمت ملے تو کھاتے وقت بسم اللہ کہو اور جب کھا چکو تو ان الفاظ سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔
    ‘‘الحمدللہ الذی ھو اشبعنا وانعم علینا فافضل‘‘
    ‘‘ستائش ہے اس اللہ کی جس نے ہمیں سیر کیا اور ہم پر اپنا انعام و فضل کیا۔‘‘
    بعد ازاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا :
    ‘‘کل ہمارے پاس آنا‘‘
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ جب بھی کوئی شخص آپ سے حسن سلوک سے پیش آتا تو آپ بھی اس کا بہتر بدلہ دیتے ۔لیکن حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنائی نہ دیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ کل تم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنا ہو گا۔
    تو حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کہا ‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سر آنکھوں پر۔
    دوسرے دن حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو آپ نے انہیں ایک نو عمر لونڈی دی اور فرمایا:
    ‘‘ابو ایوب! اس سے بہتر سلوک کرنا ،کیونکہ جب سے یہ ہمارے پاس ہے ،ہم نے اسے نہایت ہی نہیک اور فرمانبردار پایا ہے۔‘‘
    جب حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ واپس گھر تشریف لائے تو ان کے ساتھ وہ لونڈی بھی تھی۔
    جب اسے آپ کی بیوی ام ایوب نے دیکھا تو دریافت کیا ،ابو ایوب یہ کون ہے؟آپ نے فرمایا کہ
    ‘‘ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بطور تحفہ عنایت کی ہے ۔‘‘
    تو وہ بولیں :‘‘تحفہ عنایت کرنے والے کتنے عظیم ہیں اور تحفہ کتنا عمدہ ہے۔‘‘
    انہوں نے یہ بھی بتایا ۔
    ‘‘]رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی تلقین کی ہے۔
    بیوی نے دریافت کیا کہ‘‘ ہم کیا کریں اور کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت پر عمل کریں ؟‘‘
    آپ نے فرمایا:‘‘میرے خیال میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت پر اسی صورت میں عمل ہو سکتا ہے کہ ہم اسے آزاد کر دیں ۔‘‘
    وہ فورا بولیں :‘‘آپ نے بالکل درست سوچا ،اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق عطا فرمائے‘‘ پھر اسے آزاد کر دیا۔
    یہ تو حضرت ابو ایوب اںصاری رضی اللہ عنہ کی زندگی کا زمانہ امن میں ایک درخشاں پہلو ہے۔اگر زمانہ جنگ میں آپ کی زندگی کے بعض کارنامے ملاحظہ کریں تو آپ حیران رہ جائیں گے۔حضرت ابو ایوب انصاری زندگی بھر غازی بن کر رہے۔آپ کے متعلق یہ بات مشہور تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک سے حضرت امیر معاویہ کے عہد حکومت تک جتنی بھی جنگیں لڑی گئیں ،آپ سبھی میں شریک ہوئے ۔الا یہ کہ آپ کسی دوسرے مشن میں مشغول ہوں ۔آپ کی آخری جنگ وہ ہے جس میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کی قیادت میں ایک لشکر قسطنطنیہ روانہ کیا توا س وقت حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ عمر رسیدہ تھے ،لیکن اس کے باوجود آپ لشکر اسلام میں بخوشی شریک ہوئے اور اللہ کی راہ میں سمندر کی موجیں چیرتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔
    دشمن کے مقابلے میں ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے ۔بیماری نے ایسی شدت اختیار کی کہ آپ لڑائی میں شریک نہ ہو سکے ۔
    سپہ سالار لشکر آپ کی تیماداری کے لئے آئے اور دریافت کیا کہ‘‘ کوئی خواہش ہو تو فرمائیں ؟‘‘
    آپ نے یہ ارشاد فرمایا ‘‘ لشکر اسلام کو میرا سلام کہنا اور مجاہدین سے کہنا کہ ابو ایوب کی تمھیں وصیت ہے کہ دشمن کی سرزمین میں پیش قدمی کرتے ہوئے آخری حد تک پہنچنا اور میری لاش کو اپنے ساتھ اٹھائے لیتے جانا اور مجھے قسطنطنیہ کی دیوار کے نزدیک دفن کرنا ۔‘‘ یہ الفاظ کہے اور اللہ کو پیارے ہو گئے۔
    لشکر اسلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جلیل القدر صحابی کی تجویز منظور کرتے ہوئے دشمن پر پے در پے حملے کئے یہاں تک کہ قسطنطنیہ کی دیواروں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ،جبکہ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے جسد خاکی کو اپنے ساتھ اٹھائے ہوئے تھے،دیوار قسطنطیہ کے سائے میں ان کے لئے قبر کھود دی گئی اور بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔
    اللہ تعالٰی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ پر رحم کرے ۔آپ نے اللہ تعالٰی کی راہ میں غازی کا کردار ادا کرتے ہوئے جہاد فی سبیل اللہ کی خاطر تیزطرار گھوڑوں پراس وقت بھی سواری کی جب آپ کی عمر اسی سال تھی۔
    حضرت ابو ایوب انصاری رضی للہ عنہ کے مفصل حالات زندگی معلوم کرنے کے لئے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ کریں ۔
    ۱۔الاصابۃ ۲۹۰۔۸۹ /۲
    ۔الاستعیاب ۱۵۲/۱
    ۳۔اسد الغابہ ۱۴۳۔۱۴۴ /۵
    ۴۔تھذیب التھذیب ۹۱۔۹۰ /۱
    ۵۔تقریب التھزیب ۲۱۳/۱
    ۶۔ابن خیاط ۳۰۳۔۱۹۰۔۱۴۰۔۸۹
    ۷۔تجرید اسما الصحابۃ ۱۶۱/۱
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. وحیداحمدریاض

    وحیداحمدریاض -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏فروری 25, 2011
    پیغامات:
    1,107

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں