وہ کون سا عمل جو اکیلا ہی انسان کو جہنمی بنا دیتا ہے ؟

ابو ابراهيم نے 'پیغام ٹی وی' میں ‏ستمبر 18, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,873
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ام احمد

    ام احمد محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 7, 2008
    پیغامات:
    1,333
    جزاک اللہ خیرا۔بہتر ہوگا کہ پوری حدیث ساته لکه دی جائے
     
  4. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,122
    جزاک اللہ خیرا
     
  5. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    (مَنْ مَاتَ وَهْوَ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ) (صحیح بخاری)(12)
    “جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ اللہ جل شانہ کے علاوہ (کسی اور کو) شریک (بناکراسے) پکارتا ہے (تو) وہ آتش جہنم میں جاگرا۔” (العياذ بالله)
     
  6. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,614
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    جزاک اللہ خیرا

    بے شک اللہ تعالی شرک کرنے والوں کو کبھی معاف نیہں کرے گا اور اُسے ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا پڑے گا
     
  8. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,692
    جزاک اللہ خیرا
    براے مہربانی حوالہ لکه دیں ......
     
  9. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ اے ابن آدم! تو نے مجھے جو پکارا اور مجھ سے امید کر رکھی ہے اس کی وجہ سے میں نے تمہارے گناہوں کو معاف کر دیا اور میں پرواہ نہیں کرتا ہوں اے ابن آدم! اگر تمہارے گناہ آسمان کی بلندی تک پہنچ جائیں پھر تم سے مجھ سے استغفار کرو تو میں تمہیں بخش دوں گا اور پروا ہ نہیں کروں گا، اے ابن آدم! اگر تم میرے پاس زمین کے برابر غلطیاں لے کر آؤ گے اور مجھ سے اس حال میں ملو گے کہ میرےساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے ہو تو میں تمہارے پاس اس کے برابر مغفرت لے کر آؤں گا۔‘‘ (ترمذی: 3540؛ صحیح سنن ترمذی: 2805)

    سورہ نساء کی ایک آیت میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِۦ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَٰلًۢا بَعِيدًا﴿116﴾
    ترجمہ: اللہ اس کے گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا (اور گناہ) جس کو چاہیے گا بخش دے گا۔ اور جس نے اللہ کے ساتھ شریک بنایا پس تحقیق دور کی گمراہی میں جا پڑا(سورۃ النساء،آیت116)

    سورہ المائدہ میں ارشاد مبارک ہے:
    إِنَّهُۥ مَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ ٱلْجَنَّةَ وَمَأْوَىٰهُ ٱلنَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍۢ﴿72﴾
    ترجمہ: جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں (سورۃ المائدہ،آیت72)

    سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

    " کیا میں تمہین سب سے برا کبیرہ گناھ نہ بتاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ تین بار دھرایا- صحابہ کرام رض نے کہا " کیوں نہیں يا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کےساتھ شریک بنانا اور والدین کی نافرمانی۔"
    ( بخاری، کتاب الشھادت، باب ما قیل شھادۃ الزور: 2654 عن ابی بکرۃ رضی اللہ عنہ)

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سگے چچا کی وفات شرک پر ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے بارے میں پوچھا گیا:

    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوطالب کو بھی کچھ فائدہ پہنچایا کیونکہ وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کرتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے لوگوں پر غضبناک ہو جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں وہ دوزخ کے اوپر کے حصہ میں ہے اور اگر میں نہ ہوتا یعنی ان کے لئے دعا نہ کرتا تو وہ دوزخ کے سب سے نچلے حصے میں ہوتے۔۔صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 510

    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کر لئے ایک دعا ہوتی ہے جو ضرور قبول کی جاتی ہے تو ہر نبی نے جلدی کی کہ اپنی اس دعا کو مانگ لیا ہے اور میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے سنبھال رکھا ہے اور اگر اللہ نے چاہا تو میری شفاعت میری امت کے ہر اس آدمی کے لئے ہوگی جو اس حال میں مر گیا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ہو۔ صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 491
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں