مختصر فضائل و مسائل (حج وعمرہ)شیخ محمد منیرقمر

ابوعکاشہ نے 'ماہ ذی الحجہ اور حج' میں ‏اکتوبر، 2, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    مختصر فضائل و مسائل (حج وعمرہ)
    (قرآن کریم وصحیح احادیث کی روشنی میں‌)

    تحریر/ ابوعدنان محمد منیرقمر

    ترجمان سپریم کورٹ ''الخبر''(السعودیہ)

    نشرو توزیع

    مکتبہ کتاب وسنت ، لاہور (پاکستان)
    توحید پبلیکیشنز، بنگلور(انڈیا)

    ڈاؤن لوڈ کریں ربط

    کمپوزنگ و پروف ریڈنگ / ابوعکاشہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    فہرست ::

    مختصرفضائل و مسائل حج وعمرہ

    فضائل و برکاتِ حج و عمرہ
    فرضیتِ حج اور تارک کیلئے وعید
    مفہومِ استطاعت
    حجِ بدل
    سفرِ حج و عمرہ پر روانگی
    مواقیتِ حج و عمرہ
    احرام باندھنے کا طریقہ
    محرماتِ احرام (وہ امور جو احرام کی حالت میں منع ہیں)
    آدابِ حرمینِ شریفین
    مباحاتِ احرام(وہ امور جو احرام کی حالت میں جائز ہیں)
    آدابِ دخول مکہ و مسجدِ حرم
    مسائل واحکام اور طریقہء طواف
    مسائل و احکام اور طریقہء سعی

    مسائل واحکام و طریقہءحج
    احرامِ حج اور منیٰ کو روانگی
    مزدلفہ کو روانگی
    یومِ نحر و قربانی اور احرام اتارنا
    ایامِ تشریق اور قیام منیٰ
    بچوں کا حج وعمرہ
    طوافِ وداع

    احکام و آدابِ زیارتِ مدینہ منورہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    فضائل و برکاتِ حج و عمرہ :
    1-نماز و روزہ صرف بدنی عبادات ہیں اور زکواتہ صرف مالی ، جبکہ حج و عمرہ ، مالی و بدنی ہر قسم کی عبادات کا مجموعہ ہے (صحیح بخاری ومسلم)
    2- اسلام کے پانچ ارکان میں سے حج ایک اہم رکن ہے(صحیح بخاری ومسلم)
    3- ایمان و جہاد کے بعد حج مبرور و مقبول ترین عمل ہےـ(صحیح بخاری ومسلم)
    4-دورانِ حج اگر کسی سے کوئی شہوانی فعل اور کسی سے گناہ کا ارتکاب نہ ہو تو حاجی گناہوں سے یوں پاک ہو کر لوٹتا ہے ، جیسے آج ہی وہ پیدا ہوا ہے (صحیح بخاری ومسلم)
    5- حج مبرور کی جزاء جنت ہے (صحیح بخاری ومسلم)
    6- حج عورتوں کا جہاد ہے ـ (صحیح بخاری)
    جسمیں کوئی قتال و جنگ بھی نہیں (مسند احد، ابن ماجہ ، ابن خذیمہ ، دارقطنی ، بیہقی ، ابن ابی شیبہ )
    عورتوں کی طرح ہی بوڑھوں اور ضعیفوں کا جہاد بھی حج و عمرہ ہے (مسند احمد ، نسائی ، بیہقی ، مصنف عبدالرزاق ،مسند ابویعلیٰ ، طیاسی ، ابن ابی شیبہ)
    7- حاجی کی زندگی قابلِ رشک اور وفات قابلِ فخر ہوتی ہے کہ اگر وہ احرام کی حالت میں فوت ہو جائے تو قیامت کے دن وہ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا ـ(صحیح بخاری ومسلم)

    8- حج و عمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہوتے ہیں (نسائی ، ابن خذیمہ ، ابن حبان ، بیہقی ، مستدرک حاکم )
    9- رمضان میں کئے گئے عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے ـ (صحیح بخاری ومسلم)
    10- ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کے گناہوں کا کفارہ ہے ـ (صحیح بخاری ومسلم)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    فرضیتِ حج اور تارک کیلئے وعید
    11- وَلِلَّـهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ‌ فَإِنَّ اللَّـهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ ''(سورہ آل عمران ـ 97)اور لوگوں پر اللہ کا یہ حق(فرض ) ہے کہ جو اس کے گھر (بیت اللہ شریف ) تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہیں وہ اسکا حج کریں اور جو کوئی اسکے حکم کی پیروی سے انکار کرے ، تو اللہ تعالیٰ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے '' ـ
    نبی ﷺکا ارشاد ہے کہ: اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے ، لٰہذا تم حج کرو، ایک صحابی (اقرع بن حابیس ) نے کہا: ائے اللہ کے رسول ﷺ ! کیا ہر سال حج کریں ؟ انہوں نے تین بار یہ سوال دہرایا اور نبیﷺ خاموش رہے اور بالآخر فرمایا : اگر میں ہاں کہہ دیتا ، تو تم پر ہر سال حج فرض ہو جاتا اور تم اسکی طاقت نہ پاتے (صحیح مسلم) ـ
    حج ایک مرتبہ فرض ہے ، اس کے بعد جتنی مرتبہ کریں ، وہ نفل ہے ـ (ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ ، دارمی ، دارقطنی بیہقی ،مسنداحمد ، ابن ابی شیبہ)
    12-حج کی استطاعت حاصل ہو جائے تو اسکی ادائیگی میں جلدی کرنا ضروری ہے ـ (مسند احمد ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ، بیہقی ، معجم طبرانی کبیر ، دارمی ، مستدرک حاکم )
    13- اگر توفیق ہو تو پانچ سال میں ایک مرتبہ حج کر لینا چاہے ـ (ابن حبان ، بیہقی ، مصنف عبدالرزاق ، مسندابویعلٰی ، معجم طبرانی اوسط)
    14-استطاعت حاصل ہوجانے کے باوجود مشاغل دنیا میں مصروف رہے اوراسی حالت میں حج کئے بغیر ہی موت آجائے تو ان کے بارے میں سخت وعید آئی ہے ـ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا جی چاہتا ہے کہ طاقت کے باوجود جن لوگوں نے حج نہیں کیا، میں ان پر غیر مسلموں سے لیا جانے والا ٹیکس (جزیہ) نافذ کردوں ـ اللہ کی قسم وہ مسلمان نہیں ہیں ـ (سنن سعید بن منصور ، اخبار مکہ فاکہی ، شرح الاعتقاد لالکائی )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    مفہومِ استطاعت
    15- استطاعت کے مفہوم میں زادِ راہ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ‌ الزَّادِ التَّقْوَىٰ ۚ وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ (سورہ البقرہ ، آیت : 197 )''اور اپنے ساتھ سفر خرچ لے لیا کرو، سب سے بہتر توشہ اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے اور اے عقلمندو! مجھ سے ڈرتے رہا کرو ''اور سواری (یا مکہ آنے جانے کے اسکے اخراجات)شامل ہیں (ترمذی ، ابن ماجہ ، دارقطنی ،بیہقی ، ابن ابی شیبہ ، شرح السنہ بغوی )
    16 ـ اسی طرح اہل علم نے راستوں کے پرامن ہونے کی شرط بھی عائد کی ہے ـ (الفتح الربانی 11/142-143) اور عورتوں کے لئے ساتھ ہی کسی محرم کا ہونا بھی شرط ہے ، جو حج اور کسی بھی سفر (بخاری ومسلم ) خصوصا ایک دن اور ایک رات (بخاری ومسلم ) یا زیادہ سے زیادہ تین دنوں اور تین راتوں کے ہر سفر کے لئے شرط ہے(صحیح مسلم )
    17-استطاعت کے مفہوم میں ہی جسمانی استطاعت بھی شامل ہے ، اگر کوئی شخص پیدل تو کیا، سواری پر بھی نہ بیٹھا رہ سکتا ہو تو اس کا حج کے سفر پر نکلنا واجب نہیں (صحیح بخاری ومسلم)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    حجِ بدل
    18- ایسا ضعیف العمر یا لاغر و مریض شخص اپنی طرف سے کسی کو ''حج بدل '' کروادے ـ(صحیح بخاری ومسلم)
    19- حجِ بدل عورت و مرد کی طرف سے (صحیح بخاری ومسلم) مرد، عورت سے (صحیح بخاری) عورت ، عورت کی طرف سے (صحیح مسلم) اور مرد مرد کی طرف سے کرسکتے ہیں َ (ابوداؤد، ابن ماجہ ، ابن حبان ، ابن خذیمہ ، دارقطنی ، بیہقی ، مسند ابویعلٰی ، معجم طبرانی صغیر)
    20- حجِ بدل کرنے والے کے لئے شرط ہے کہ وہ پہلے اپنی طرف سے فریضہء حج ادا کرچکا ہوـ (ابوداؤد ، ابن ماجہ ، ابن حبان ، ابن خذیمہ ، دارقطنی ، بیہقی ، مسند ابویعلیٰ ، معجم طبرانی صغیر)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    سفرِ حج و عمرہ پر روانگی :

    21- تقویٰ و پرہیزگاری کو اختیار کریں کہ یہی بہترین زادِ راہ ہے (سورہ البقرہ:197)
    22-پورے سفرِ حج کے دوران بیہودہ و شہوانی افعال واقوال ، لڑائی ، جھگڑے اور فسق و فجور سے بچیں (سورہ البقرہ :197 (صحیح بخاری ومسلم)
    23- روانگی سے قبل خلوص نیت سے سابقہ گناہوں سے توبہ کریں (سورہ النور:31)اس طرح سابقہ گناہوں سے پلہ پاک ہو جائے گا ، (ابن ماجہ ، معجم طبرانی کبیر)
    24- اگرآپ کے ذمہ کسی کا کوئی حق یا امانت ہو تو وہ ادا کردیں (سورہ النساء :58)
    25- خلوص و للہیت اختیار کریں کہ یہ قبولیتِ عمل کی ایک شرط ہے (سورتہ البینہ :5)
    26- مالِ حلال سے حج وعمرہ کریں ، ورنہ قبولیت ناممکن ہے ( سورتہ البقرہ :172، سورتہ المؤمنون:51 و صحیح مسلم )
    27- سفرِ حج وعمرہ کے دوران خصوصا اور عام حالات میں عموما ممنوع زیب و زینت مثلا داڑھی منڈوانا (صحیح بخاری ومسلم) اور مردوں کا سونے کی انگوٹھی یا چین وغیرہ کا استعمال کرنا (صحیح بخاری ومسلم) حرام و فسق ہے ـ
    28- زندگی بھر عموما اور سفرِ حج و عمرہ میں خصوصا اپنے آپ کو اعمال کے برباد کردینے والے شرک (الانعام :98 ، الزمر:65) اور فتنہ و درد ناک عذاب کا باعث بننے اور جہنم لے جانے والی بدعات (النور: 63 و صحیح مسلم ) کی تمام الائشوں سے پاک رکھیں ـ
    29-سفرِ حج و عمرہ پر کسی بھی دن نکل سکتے ہیں ، البتہ مسنون و مستحب دن ، جمعرات (صحیح بخاری)اور صبح کا وقت (ابوداؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ ، دارمی ، بیہقی ، ابن ابی شیبہ ، مسنداحمد) یا پھر کم ازکم دوپہر و زوالِ آفتاب کا وقت ہے ـ(صحیح بخاری ومسلم)
    30- کسی موحد ، متبع سنت اور بااخلاق انسان کو اپنا رفیقِ سفر بنا لینا چاہے (صحیح بخاری)
    31- آغازِ سفر پر گھر میں دو رکعتیں پڑھنے کا صحیح احادیث سے ثبوت نہیں ملتا(ابن ابی شیبہ اور ابن عساکر وغیرہ والی مرفوع حدیث ضعیف ہے)
    سوئے حرم ازمؤلف ، تخریج : حافظ عبدالرؤف ص 110-112) البتہ ابن عمر رضی اللہ عنہ والا موقف اثر سندا صحیح ہے ، جس میں انکا سفر پر نکلنے سے پہلے مسجد میں جا کر دو رکعتیں پڑھنا ثابت ہے (ابن ابی شیبہ وحوالہء سابقہ ) سفر سے واپسی پر نبی ﷺ کا مسجد میں جا کر دو رکعتیں پڑھ کر گھر میں داخل ہونا ثابت ہے ـ (صحیح بخاری ومسلم)
    32-سفر سے واپسی آکر گھر میں دن کے وقت یا سرشام داخل ہونا چاہے (صحیح بخاری ومسلم) طویل سفر سے واپسی پر اطلاع کئے بغیر رات کواپنے گھر آنے سے نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے (صحیح بخاری ومسلم) اس میں بہت سے حکمتیں اور مصلحتیں ہیں (فتح الباری 339/9-341)
    33- گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھیں ـ
    اللہ کا نام لیکر اور اس پر توکل کر کے (گھر سے نکل رہا ہوں) اور اسکی توفیق کے بغیر نہ نیکی کرنے کی ہمت ہے اور نہ برائی سے بچنے کی طاقت(ابوداؤد، ترمذی ـ عمل الیوم واللیلہ نسائی )
    34- مسافر کو الوداع کرنے والے یہ کہیں :
    '' میں تیرے دین و امانت اور خاتمہ عمل کو اللہ کے سپردکرتا ہوں''
    (ابوداؤد، ترمذی ـ عمل الیوم واللیلہ نسائی و ابن ماجہ )
    35- مسافرجوابی دعاء یوں کرے :
    ''میں تمہیں اس ذاتِ الٰہی کے سپرد کرتا ہوں ، جسکے سپرد کی گئی کوئی چیز ضائع نہیں ہوتی ''
    (ابوداؤد، ترمذی ـ عمل الیوم واللیلہ نسائی و ابن ماجہ ، مسنداحمد و عمل الیوم واللیلہ ابن السنی )
    36-سواری پر بیٹھتے وقت یہ دعاء کریں:
    '' اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے لئے مسخر کیا ، ورنہ ہم میں اس کی طاقت نہ تھی اور ہم سب اپنے رب کیطرف ہی لوٹ کر جانے والے ہیں َ (صحیح مسلم )
    37- محض زیادہ ثواب کی نیت سے طویل سفر پیدال کر کے حج و عمرہ کرنے کے لے مکہ مکرمہ جانا من بعض الوجوہ غلط ہے ـ سواری اللہ کی نعمت ہے ـ استطاعت ہو تو اسے استعمال کرلینا چاہئیے اور یہی افضل ہے ـ
    (فقہ السنہ 1/640- فتح الباری 4/69، 79-80،11/588-589)یہی نبی ﷺ کا حکم ہے ـ(بخاری ومسلم )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    مواقیت ِ حج عمرہ:

    38- عمرہ کے لئے سال کے کسی بھی ماہ اور کسی بھی وقت احرام باندھا جا سکتا ہے ـ (الفتح الربانی ترتیب و شرح مسنداحمد الشیبانی 11/51-58) البتہ حج کے احرام کے لئے مہینے مقرر ہیں ـ
    (سورتہ البقرہ : 189-197) جو کہ شوال ، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ ہیں(صحیح بخاری تعلیقا، مسد شافعی ، مستدرک حاکم ، دارقطنی ، بیہقی ، معجم طبرانی اوسط و صغیر)
    39- حج و عمرہ کے لئے جانے والے کے احرام باندھنے کے مقامات یہ ہے : مدینہ سے ہوتے آنے والوں کے لئے ذالحلیفہ(بئرعلی) ، اہل شام اور اس راہ سے (اندلس ، الجزائر ،لیبیا ، روم ، مراکش وغیرہ سے) آنے ولوں کے لئے جحفہ (رابغ ) ، اہلِ نجد اور براستہ الریاض ـ الطائف گزرنے والوں کے لئے قرن المنازل (السیل الکبیر یا وادئ محرم) ، اہل یمن اور اس راستے سے (جنوبِ سعودیہ ، انڈونیشا ، چین ، جاوہ ، انڈیا اور پاکستان سے ) آنے والوں کے یلملم(السعدیہ) اور ان مقامات سے اندرونی جانب رہنے والوں کے لئے انکے گھر ہی میقات ہیں (صحیح بخاری ومسلم) اہل عراق اور اس راستہ سے (ایران براستہ حائل )آنے والوں کا میقات ذاتِ عرق نامی مقام ہے (صحیح مسلم ) مصر کے لئے بھی شام والوں کا ہی میقات ہے ـ (نسائی ، دارقطنی ، بیہقی ، نیز دیکھئے : فتح الباری 3/384-391 ، الفتح الربانی 11/105 و مابعد ، المرعاتہ شرح مشکواتہ 6/232 و مابعد ، فقہ السنہ )
    40-حج وعمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ جانے والا اگر احرام باندھے بغیر میقات سے گزر جائے تو واپس لوٹ کر میقات سے احرام باندھ کر جائے یا پھر اندر ہی کہیں سے احرام باندھ لے تو دَم (فدیہ کا بکرا) دے اور اس کا حج و عمرہ صحیح ہوگا(الفتح الربانی والمرعاتہ)
    41- کسی ذاتی غرض ، تجارت ، تعلیم ، علاج وغیرہ سے جائے اور حج و عمرہ کا ارادہ نہ ہو تو بلا احرامِ حدود حرم میں داخل ہوسکتاہے ـ
    42- پاک و ہند سے ہوائی جہاز سے آنے والے لوگ احرام کی چادریں اور خواتین احرام کے کپڑے پہن کر چلیں اور جہاز کے عملے کے یہ بتانے پرکہ میقات سے گزرنے لگے ہیں ، وہاں سے لبیک پکارنا شروع کردیں ـ ہوائی مسافروں کا جہاز میقات سے گزر کر جدہ آتا ہے ، لٰہذا ان کے لئے جدہ میقات نہیں ہے ـ (تنبیھات علیٰ ان جدہ لیست میقاتا للشیخ بن حمید والمرعاتہ 6/235-238)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    احرام باندھنے کا طریقہ :

    43- غسل کرکے احرام باندھنا سنت ہے (ترمزی ، ابن خذیمہ ، داقطنی، بیہقی )
    حیض والی عورتیں بھی غسل کر لیں اور احرام باندھ لیں ـ(صحیح مسلم ) کسی وجہ سے غسل نہ کرسکیں تو بھی کوئی حرج نہیں ـ(شرح مسلم نووی ، الفتح الربانی)
    44- غسل یا وضوء کر کے احرام کی نیت کرنے سے پہلے مردوں کا بدن پرخوشبو لگانا جائز ہے ، چاہے اس کا اثربعد میں دیر تک ہی کیوں نہ رہے ـ(صحیح بخاری ومسلم)
    45- مرد ، دو سفید چادریں لے لیں ، عورتیں معمول کا صاف ستھراا اور موٹا وساتر لباس ہی بطورِ احرام استعمال کرلیں ـ مرد سر کو ننگا رکھیں اور ایسا جوتا پہنیں جو ٹخنوں کو نہ ڈھانپے ـ عورتیں دستانے نہ پہنیں اور نہ ہی منہ پر نقاب باندھیں ، البتہ غیر محرم لوگوں سے سر سے کپڑا لٹکا کر پردہ کریں (ابوداؤد ، ابن ماجہ ، دارقطنی ، بیہقی ، مسنداحمد، مستدرک حاکم ، مؤطا مالک )
    46-احرام کیلئے کوئی مخصوص نماز نہیں ـ فرض ، اشراق ، ضحیٰ ، تحیتہ الوضوء یا تحیتہ المسجد کی رکعتیں پڑھ لیں وہی کافی ہیں ـ(مجموع فتاوی ابن تیمیہ 26/108-109) بعض احادیث کی رو سے جمہور علماء کے نزدیک یہ دو رکعتیں مستحب ہیں اور انکا وقت احرام باندھنے کے بعد اور لبیک پکارنا شروع کرنے سے پہلے ہے ـ (بخاری و مسلم )
    47- صرف عمرہ یا افضل ترین حجِ تمتع کا عمرہ کرنے والا دل میں نیت کرلے اور یہ الفاظ کہنا بھی ثابت ہے ـ
    اللھم لبیک عمرہ
    ائے اللہ ! میں عمرہ کے لئے حاضر ہوا ہوں ـ
    اور اگر حجِ قرن ہو تو یہ کہیں :
    اللھم لبیک حجا و عمرتہ
    ائے اللہ ! میں حج و عمرہ کے لئے حاضر ہوا ہوں
    صرف حجِ مفرد (بلاعمرہ) کرنا ہو تو یوں کہیں ـ
    اللھم لبیک حجا
    ائے اللہ ! میں حج کے لئے حاضر ہوا ہوں ـ
    48- اور اس کے بعد تلبیہ کہنا شروع کردیں جو یہ ہے :
    '' میں حاضر ہوں ، ائے میر ے رب ! میں حاضر ہوں ، میں حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں ، میں حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں ، میں حاضر ہوں ـ بیشک ہر قسم کی تعریف ، تمام نعمتیں ، ساری بادشاہی تیر ے ہی لئے ہیں ـ تیراکوئی شریک نہیں ـ (صحیح بخاری ومسلم)
    یا ساتھ ہی یہ کہتے جائیں :
    لبيك اللهم لبيك
    میں حاضر ہوں ، ائے معبودِ برحق ! میں حاضر ہوں ـ
    (نسائی ، ابن ماجہ ، بیہقی ، ابن حبان ، ابن خذیمہ ، داقطنی ، مستدرک حاکم ، مسنداحمد ، طیاسی )
    تلبیہ بلند آواز سے کہنا چاہییے ، حتٰی کہ خواتین بھی اتنی آواز سے کہیں کہ انکی ساتھی خواتین سن سکیں ، دوسرے مردوں تک ان کی آواز نہ جائے ـ(منسلک ابن تیمیہ بحوالہ مناسک الحج والعمرہ للالبانی ص 18)
    49- میقات سے عمرہ کا احرام باندھیں اور عمرہ کر کے احرام کھول دیں اور معمول کے لباس میں رہیں اور 8 ذوالحجہ (یوم ترویہ)کو پھر اپنی رہائش گاہ سے حج کا احرام باندھیں اور دس ذوالحجہ کو قربانی کے بعد کھول دیں ـ یہ حجِ تمتع ہے ، جو کہ افضل ترین حج ہے ـ (بخاری ومسلم نیزدیکھئیے نیل الاوطار 2/4/310-314، الفتح الربانی 11/95-96)
    50-میقات سے حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھیں اور عمرہ کر کے احرام نہ کھولیں اور اسی حالت میں بھی پھر 8 ذوالحجہ کو منیٰ چلے جائیں اور 10 ذوالحجہ کو قربانی کے بعد احرام کھول دیں ـ یہ حجِ قِران ہے ـ اگر قربانی کا جانور ساتھ لے لیا ہو تو پھر حجِ قِران کرنا ہی سنت ہے
    51- میقات سے حج کا احرام باندھیں ، مکہ پہنچ کر طوافِ قدوم و سعی کریں اور احرام کھولے بغیر منیٰ چلے جائیں اور تمام مناسکِ حج پورے کر کے احرام کھول دیں ـ اس حج کے ساتھ قربانی واجب نہیں ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    محرماتِ: (وہ امور جو احرام کی حات میں منع ہیں ):

    52- احرام کی حالت میں بال کٹوانا ، کاٹنا یا نوچنا حرام ہے ـ(البقرتہ :196)کسی عذر کی وجہ سے بال کٹوانے پڑیں تو اس فدیہ ہے ، جو کہ چھ مسکینوں کا کھانا یعنی تین صاع (ساڑھے چھ کلو گرام) غلہ بانٹ دو یا تین روزے رکھ لو یا پھر ایک بکرا ذبح کردوـ (صحیح مسلم)
    53- ناخن کاٹنا (مرد و زن) سلے ہوئے کپڑے پہن لینا ، جرابیں ، پہن ، سرڈھانپنا(مردوں) اور خوشبو لگانا عورتوں اور مردوں کے لئے حرام ہے (صحیح بخاری ومسلم)
    54- عورتوں کا دستانے پہننا اور نقاب (ڈھانا) باندھنا بھی منع ہے (صحیح بخاری)
    لیکن وہ سر کے کپڑے سے غیرمحرم لوگوں سے پردہ کریں ، جیساکہ امہات المؤمنین اورصحابیات رضی اللہ عنہن نے کیا تھا ـ(ابوداؤد، ابن ماجہ ، ابن خذیمہ ، دارقطنی ، بیقہی ، مسنداحمد، مستدرک حاکم ، موطا مالک)
    55- نکاح و منگنی کرنا بھی منع ہے (صحیح مسلم)
    56- جنگلی جانوروں کا شکار کرنا (المائدہ: 95-96) بھی منع ہے ـ اگر غلطی سے شکار کر بیٹھے تو فدیہ دے ـ (المائدہ: 95) نیل گائے کے بدلے پالتو گائے اور ہرن کے بدلے بکری ذبح کرے اور اگرمالی استطاعت نہ ہو ایسے جانوروں کی قیمت لگا کر اسکے برابر غلہ بنایا جائے اور پھر ہر ایک صاع (دوکلو) کے بدلے ایک روزہ رکھیں (تفسیر ابن کثیر مترجم اردو 27-22/2)
    بِجو کے شکار کے بدلے مینڈھا ہے ـ(ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن جاجہ،ابن حبان ،ابن خذیمہ ،دارقطنی ، بیہقی ، مستدرک حاکم ،مسند احمد،ابویعلیٰ)
    خرگوش کے شکار پربکری کا ایک سال سے چھوٹا بچہ (موطا مالک ، مسند شافعی ، بیہقی ) جنگلی گدھے کے شکار پر گائے (بیہقی ) کبوتر پر بکری (مسند شافعی ) لومڑی اور گوہ پر بھی بکری کا ایک سال کا بچہ فدیہ ہے(مسند شافعی)
    57-جماع (ہم بستری) ، بوس و کنار ، بدکاری و معصیت اور لڑائی جھگڑا بھی منع و حرام ہے (البقرہ:197) جماع سے حج باطل ہو جاتا ہے اور بوس و کنار سے حج باطل تو نہیں ہوتا مگر اس پر دَم ہے ـ (المغنی 3/310، الفتح الربانی 11/233-236)
    58- بلا ضرورت کنگھا کرنا مکروہ ہے ـ(شرح مسلم نووی 4/ 8/140)اور اگر واقعی ضرورت پیش آجائے تو پھر جائز ہے ـ(بخاری ومسلم)

    جاری ہے ـــــ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  11. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    آدابِ حرمینِ شریفین :

    59- حدودِ حرمین میں اگے ہوئے درخت ، گھاس اور نبتات کاٹنا ہر حال میں منع ہے ـ البتہ اِذخر نامی گھاس ، خود اُگائی ہوئی سبزیات اور سوکھے ہوئے درختوں یا گھاس پھوس کو خاٹنے کی اجازت ہے ـ (بخاری ومسلم نیز دیکھیئے المغنی 3/315،316)

    60- احرام کی حالت کی طرح حدودِ حرم میں بھی شکار کرنا منع ہے ـ البتہ مرغی و بکری وغیرہ ذبح کر سکتا ہے اور ان کا گوشت بھی کھا سکتا ہے ـ

    61- حدودِ حرم میں گری پڑی چیزوں کا اُٹھانا بھی منع ہے ـ سوائے اسکے جو اعلان کروانا (یا دفتر مفقودات میں جمع کروانا )چاہتا ہوں ـ (بخاری و مسلم)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  12. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    مباحاتِ احرام : (وہ امور جو احرام کی حالت میں جائز ہیں ):

    62- غسلِ جنابت کے جواز پر تو تمام علماء امت کا اجماع ہے ـ(فتح الباری 4/55-56، الفتح الربانی 11/210-213) اور محض ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے بھی جائز ہے ـ (بخاری و مسلم ) سر کودونوں ہاتھوں سے مَل کردھو سکتے ہیں ـ(بخاری ومسلم) دورانِ غسل اگر سر یا بدن کا کوئی بال خود بخود ٹوٹ کر گر جائے تو بھی کوئی حرج نہیں ـ (الفتح الربانی 11/213 ، فتاویٰ ابن تیمیہ 26/116) اسکے لئے کوئی بھی صابن استعمال کرسکتے ہیں ، البتہ احناف کے نزدیک اس صابن کا خوشبودار نہ ہونا ضروری ہے ـ(الفقہ علی المذاہب الاربعہ 1/650-651 ، فقہ السنہ 1/666) سر دھوتے یا نہاتے وقت اگر پانی میں غوطہ لگانے سر ڈھک جائے تواسمین کوئی حرج نہیں(مسند شافعی و سنن کبریٰ بیہقی ) بوقت ضرورت احرام کا کوئی کپڑا بھ بدلا یا دھویا جا سکتا ہے (دارقطنی ، بیہقی ، المحلیٰ ابن حزم)
    63- چھتری ، کپڑے ، خیمے ، درخت یا گاڑی کے چھت وغیرہ کے نیچے سائے میں بیٹھنا جائز ہے (بخاری ومسلم ، نیز دیکھئے فتاویٰ ابن تیمیہ 26/112، فقہ السنہ 1/667-669)
    64- بوقتِ ضرورت آنکھوں میں سُرمہ یا کوئی دوا لگانا بھی روا ہے (صحیح مسلم ) محض زینت کے لئے سُرمہ لگانا مناسب تو نہیں ، لیکن اس پر کوئی فدیہ بھی نہیں ـ (المغنی 3/295)
    65- مچھلی وغیرہ کا سمندری شکار کرنا اور اس کا گوشت کھانا جائز ہے ـ (سورتہ المائدہ :96)
    66- بلاقصد وارادہ عورت سے چُھو جانے میں کوئی مضایقہ نہیں ـ (الفتح الربانی 11/236) البتہ شہوت کے ساتھ چُھونا اور بوس و کنار کرنا حرام ہے ، جسکی تفصیل محرماتِ احرام میں گزری ہے ـ
    67- موذی جانوروں ، سیاہ و سفید کوے ، چیل ، بِچھو ، چوہے اور کانٹے والے پاگل کتے کو (احرام کی حالت اور حرم میں بھی ) مارنا جائز ہے ـ (بخاری ومسلم ) شیر ، چیتا ، پھیڑیا بھیڑ بھی مارسکتے ہیں (مستدرک حاکم ، نیز دیکھئے فتح الباری 4/36-39) عام گھریلو کا لال کوا اس حکم سے خارج ہے (فتح الباری 4/38، فقہ السنہ 10/271) مکھی ، مچھر ، کھٹمل ، چیچڑی ، چیونٹی اور جوئیں نکال کر پھینک سکتا ہے اور ماردے تو بھی کوئی حرج نہیں ، البتہ مارنے سے پھینکنا اچھا ہے ـ (المحلی ابن حزم 7/245 ، فتاویٰ ابن تیمیہ 26/118 ، فقہ السنہ 670/1)
    68- احرام کی حالت میں سر کا ڈھانپنا تو منع ہے ، جیسا کہ محرمات میں ذکر ہوا ہے ، البتہ منہ ڈھانپ سکتے ہیں ـ(فتح الباری 4/54-55) ، شرح مسلم نووی 8/126-129) ، فقہ السنہ 1/666)
    69- پچھنے اور سینگی لگوانا یا فصد کروانا جائز ہے ـ(بخاری و مسلم ) سریا جسم کے کسی حصے کو احتیاط کے ساتھ خراش سکتا ہے ـ (بخاری تعلیقا ، موطا مالک و بیہقی موصولا) اس کے باوجود اگر کوئی بار گرجاتا ہے تو کوئی حرج نہیں ( مجموعہ رسائل کبریٰ ابن تیمیہ 2/368 بحوالہ حجتہ النبی ﷺ للا لبانی ص 27)
    70-بیلٹ ، گھڑی ، عینک لگانا ، پرس باندھنا اور آئینہ دیکھنا ، چادر کو گرہ لگانا ، عورت کا کوئی بھی زیور پہننا اور مرد کا چاندی کی انگوٹھی پہن لینا جائز ہے ـ(بخاری ، مؤطا امام مالک ، محلی ابن حزم نیز دیکھئے فقہ السنہ 1/668)
    71- پھول یا کسی بوٹی کی خوش بو ، دانت داڑھ نکلوانا ، مرہم پٹی کروانا ، ٹوٹے ہوئے ناخن کو اتار کر پھینکنا قابل مواخذہ نہیں ہے ـ (بخاری ، مؤطا امام مالک ، بیہقی ، محلٰی ، نیز دیکھئیے فقہ السنہ 1/667) بوقتِ ضرورت سر پر کچھ اٹھا لینے سے سر ڈھک جائے تو کوئی حرج نہیں (فقہ السنہ 1/666)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  13. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    آدابِ دخول مکہ و مسجدِ حرم:

    72-مکن ہو تو دخولِ مکہ سے قبل کہیں غسل کریں ، دن کو شہرِ مکہ میں داخل ہوں ، اس دن سے پہلی رات مقامِ ذی طویٰ(آبارِ زاہد) پرگزاریں ـ(بخاری و مسلم ) مکہ میں بالائی جانب (ثنیہ کداء یا ثنیہ علیاء) سے داخل ہوں اور مکہ زیریں جانب سے نکلیں (بخاری ومسلم)اگر ممکن نہ ہوتو کسی بھی راستہ سے داخل ہو سکتے ہیں ـ(ابوداؤد ، ابن ماجہ ، دارمی ، بیہقی ، ابن خذیمہ ، مسند احمد ، مستدرک حاکم )
    73- باب السلام سے ہوتے ہوئے باب بنی شیبہ کے راستے مسجد حرام میں داخل ہوں (ابن خذیمہ ، بیہقی ، مستدرک حاکم ) مسجد حرام میں داخلے کے وقت بھی دایاں قدم پہلے اندر رکھیں (بیہقی و مستدرک حاکم) اور یہ دعاء کریں ـ
    '' ائے اللہ ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و رحمتیں نازل فرماـ ائے اللہ ! میرے لئے رحمتوں کے دروازے کھول دے ـ (صحیح مسلم )
    74- بیت اللہ شریف (کعبہ شریف ) پر نظر پڑے تو اس وقت کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تو کوئی دعاء ثابت نہیں اور جو مشہور ہے ، وہ ضعیف ہے ـ البتہ عمرِفاروق اور سعد بن مسیب رضی اللہ عنہما یہ دعاء کیا کرتے تھے :
    ''ائے اللہ ! تو سلام ہے اور تجھی سے سلامتی ہے ـ ائے ہمارے رب ! ہمیں سلامتی کے ساتھ زندہ رکھا ـ (ابن ابی شیبہ ، بیہقی ، اخبارمکہ ازرقی ، کتاب الام شافعی )
    75- کعبہ شریف کو دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دونوں ہاتھوں کواٹھانا تو صحیح حدیث سے ثابت نہیں ـ البتہ مصنف ابن ابی شیبہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح سند سے مروی ہے کہ وہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھایا کرتے تھے ـ (مناسک الحج والعمرہ للالبانی رحمہ اللہ ص 20)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  14. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    مسائل و احکام اور طریقہء طواف:

    76 – مسجدِ حرام کا تحیہ طواف ہے ، لٰہذا یہاں داخل ہوتے ہی تحیتہ المسجد کی دو رکعتیں نہ پڑھیں بلکہ طواف شروع کردیں ـ ہاں اگر کوئی فرض نماز رہتی ہے تو وہ پہلے پڑھ لیں ـ (المغنی 3/333، فقہ السنہ 1/693)
    77- طواف کے لئے طہارت و وضوء شرط ہے ـ (بخاری و مسلم ) حیض و نفاس کی حالت میں طواف نہ کیا جائے ـ (بخاری و سلم )
    78- سب سے پہلے حجراسود کے سامنے آئیں اور بسم اللہ واللہ اکبر کہتے ہوئے بوسہ دیں اور طواف شروع کریں (بخاری ومسلم) اور اگر بوسہ نہ دے سکیں تو ہاتھ یا چھڑی لگا کراسے بوسہ دے لیں ـ (بخاری و مسلم ) اور اگر یہ بھی ممکن نہ تو دور سے ہی تکبیر کہتے ہوئے اشارہ کریں اور طواف کردیں ـ(صحیح بخاری و مسلم ) صرف اشارے کی شکل میں ہاتھ کو بوسہ دینا ثابت نہیں ہے ـ یہ عمل طواف کے ساتوں چکروں میں سات مرتبہ دہرائیں ـ (ابوداؤد ، نسائی ، ابن خذیمہ ، بیہقی ، مسنداحمد ، مستدرک حاکم)
    یہاں دھکم پیل اور زور آزمائی جائز نہیں اور بوسہ دینے کے لیے کمزوروں کو تکلیف نہیں دینی چاہیے ـ (مسند احمد، بیہقی ، مصنف عبدالرزاق ،کتاب الامام شافعی )
    79- طواف میں ہر چکر میں رکنِ یمانی کو بوشہ دینا ثابت نہیں نہ اشارہ کرنا ـ اگر ممکن ہو تو صرف ہاتھ سے چُھو نا روا ہے ـ(نیل الاوطار شوکانی 3/5/42-43، مناسک الحج و العمرہ للالبانی ص 22)
    80- صرف پہلے طواف کے ساتوں ہی چکرو ں میں مردوں کے لئے اضطباع(دایاں کندھا ننگا کرنا ) اور ان میں سے صرف پہے تین چکروں میں رمل چال(آہستہ آہستہ دوڑنا) ضروری ہے (ابوداؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ ، دارمی ، بیہقی ، مسنداحمد ، معجم طبرانی کبیر)رمل سنتِ رسول ہے ـ (بخاری ومسلم) مگر عموما اس میں لاپرواہی کی جاتی ہےـ
    81- حجرِ اسود اور بابِ کعبہ کی درمیانی دیوار '' ملترم ''کے ساتھ چمٹنا، اس پر چہرہ ، سینہ ، ہاتھ اور بازو لگانا اور دعائیں کرنا مسنون عمل ہے ( ابوداؤد ، ابن ماجہ ، دارقطنی ، بیہقی ، مسنداحمد ، مصنف عبدالرزاق) اس کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں ، البتہ صحابہ کرا رضی اللہ عنہم دخولِ مکہ کے وقت یعنی طواف کے ساتھ ہی کسی وقت کر لیتے تھےـ( مناسک الحج والعمرہ ص 23)
    82- طواف حطیم (حجرِ اسماعیل علیہ السلام کا نیم دائرہ ) کے باہر سے گزرکر کرنا چاہیے ـ (صحیح بخاری ) تاکہ پورے بیت اللہ کا طواف ہو جسکا کا حکم ہے ـ (الحج :29)
    83- حجرِ اسود، رکنِ ایمانی اور ملتزم کے سوا پورے بیت اللہ (کعبہ شریف) کے کسی بھی حصہ کو بوسہ دینا یا چُھونا یا اشارہ کرنا ثابت نہیں ہے ـ (بخاوی و مسلم نیز دیکھیئے : مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ 26/97 ، مناسک الحج والعمرہ ص 22)
    84- دوران ِ طواف بلا ضرورت لا یعنی گفتگو نہ کریں ، کیونکہ طواف بھی نماز ہی ہے ـ البتہ اسمیں جائز گفتگو حلال ہے ـ(ترمذی ، نسائی ، ابن حبان، ابن خذیمہ ، دارمی ، معجم طبرانی کبیر ، مسند احمد، مستدرک حاکم )
    85- رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے درمیانی حصہ میں یہ دعا ء کریں:
    '' ائے ہمارے رب ! ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے ''(البقرہ :202)
    (ابوداؤد ، مسند احمد، مصف عبدالرزاق ، ابن ابی شیبہ ، ابن حبان ، ابن خذیمہ ، بیہقی ، مستدرک حاکم ) باقی سارے چکر اور ساتوں ہی چکروں میں قرآنِ کریم اور صحیح احادیث سے ثابت شدہ کوئی بھی دعا ء کریں ، چاہے اپنی اپنی زبان میں دعائیں مانگیں کوئی حرج نہیں (ابن تیمیہ بحوالہ مناسک الحج و العمرہ ص 23) اور سات چکروں کے لئے الگ الگ جو سات دعائیں تجویز کی گئی ہیں ، ان کے '' چکر"میں نہیں آنا چاہیے ـ
    86- بیت اللہ کے جتنا قریب ہو کر طواف کریں اتناہی افضل ہے ، البتہ بھیڑ کی وجہ سے جہاں بھی ممکن ہو کر لیں ، پوری مسجدِحرام (اور اسکی سب منزلوں ) میں طواف صحیح و جائز ہے ـ(التحقیق والایضاح للشیخ ابن باز ص 31)
    87- اگر طواف کے چکروں میں شک ہوجائ تو تھوڑی تعداد پر اعتماد کر کے باقی تعداد کو پورا کر لیں ـ (حوالہ سابقہ)
    88-پیدل طواف افضل ہے ، مگر کسی ضرورت و مجبوری کے تحت سوارہو کر بھی جائز ہے ـ (صحیح بخاری و مسلم)
    89- طواف کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے اور نہ ہی طواف والی دو رکعتوں کا کوئی وقتِ کراہت ہے ، وہ بھی ہر وقت پڑھی جا سکتی ہے ـ(ابوداؤد، ترمذی ، نسائی، ابن ماجہ ، ابن خذیمہ ، دارقطننی ، بیہقی ، مسنداحمد ، ابویعلٰی ، مستدرک حاکم)ـ
    90- استحاضہ(عورت کا خون قطرہ آتے رہنا ) بواسیر ، سلسلِ بول اور سلسلِ ریح (ہوا کی بیمار ی والے طواف و نماز ادا کرسکتے ہیں (صحیح بخاری و مسلم نیز دیکھئیے فقہ السنہ 1/696)
    91- دورانِ طواف نماز کا وقت ہو جائے یا بول وبزار کی حاجت ہو جائے تو اپنی نماز سے فارغ ہو کر جہاں سے طواف چھوڑ تھا وہیں سے شروع کر لیں ـ ( بخاری ع فتح الباری 3/ 484 المغنی 3/ 355 ، فقہ السنہ 1/698)
    92- طواف کے ساتھ چکروں سے فارغ ہو کر مقامِ ابراہیم علیہ السلام پر آجائیں اور یہ پڑھیں :
    اور مقام ابراہیم علیہ السلام کوجائے نماز بناؤ(البقرہ: 125)
    مقامِ ابراہیم کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان رکھ کر (صحیح مسلم) دو رکعت نماز پڑھیں ـ (صحیح بخاری ومسلم) اگر اژدہام کی وجہ سے ایسا ممکن نہ تو پھر سارے حرم کہیں بھی یہ دو رکعتیں پڑھی جا سکتی ہیں ـ اگر بھول جائیں تو حرم یا خارج از حرم کہیں بھی ان کی قضاءبھی ممکن ہے ـ(فتح الباری 3/487) پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ یا ایھا الکافرون اور دوسری میں قل ھو اللہ احد پڑھنا مسنون ہے (ابن ماجہ ، نسائی ،بیہقی )
    ایک حدیث میں پہلی رکعت میں الاخلاص اور دوسری میں الکافرون آیا ہے ـ (مسلم ) مگر قرآنی ترتیب کے مطابق پہلی حدیث ہی ہے ـ یہ دو رکعتیں پڑھ کر وہیں بیٹھے بیٹھے خوب دعاء کریں ـ
    93- اب آبِ زمزم پئیں ، بشرطیکہ روزہ نہ ہو اور اپنے سر پر بھی پانی ڈالیں (مسند احمد)
    ایک حدیث میں چہرہ دھونے کا ذکر بھی ہے ، مگر وہ روایت ضعیف ہے ـ (اخبار مکہ فاکہی ، تخریج سوئے حرم ص 289) پورا وضوء کرنے بلکہ نہانے اور اسمیں کفن و نقدی بھگونے والے اپنی اداؤں پر ذرا غور کریں ـ آبِ زمزم مریضوں کو پلانا اور ان پر چھڑکنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ـ(تاریخ کبیر امام بخاری ، ترمذی ، مسند ایو یعلٰی ، مستدرک حاکم ، بیہقی)
    94- زمزم پی کر پھر حجراسود کا استلام(حسب موقع بوسہ ، چُھونا یا اشارہ ) کریں تاکہ طواف کا اول آخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح اسلام پر ہی ہو ـ اور پھر بابِ صفا کے راستے سے صفا کی طرف نکل جائیں ـ (صحیح مسلم )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  15. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    مسائل و احکام اور طریقہ ء سعی :

    95- سعی کا آغاز کرنے کے لئے صفا پہاڑی کے اوپر تک چلے جانا مسنون و افضل ہے ـ وہاں یہ آیت پڑھیں ـ
    '' بیشک صفاو مروہ اللہ کے شعائر و نشانیوں میں سے ہیں '' البقرہ :158''
    اور ساتھ یہ بھی کہیں ـ
    میں بھی وہیں سے سعی شروع کرتا ہوں جہاں سے اللہ نے (تذکرہ ) شروع فرمایا ہے (صحیح مسلم )
    صفا پر قبلہ رو کھڑے ہو کر تین مرتبہ اللہ اکبر ، اللہ اکبر ، اللہ اکبر ، کہیں اور پھر تین مرتبہ ہی یہ ذکرِ الہی دہرائیں :
    '' اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ، اسکا کوئی شریک نہیں ـ بادشاہی اور تمام تعریفیں اسی کے لئے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ـ''
    اور یہ بھی ـ
    '' اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اکیلے نے تمام سرکش جماعتوں کو شکست دی ـ (صحیح مسلم )
    96- اب یہاں اپنے لئے خوب دعائیں کریں اور صفا سے نیچے مروہ کی جانب اترنا شروع کردیں اور جب سبز ستونوں کے وسط می پہنچیں تو آہستہ آہستہ دوڑیں یہاں تک کہ اگلے سبز ستون آجائیں ، پھر آہستہ چلنے لگیں اور مروہ تک پہنچ جائیں ـ (صحیح مسلم)
    97-صفا و مروہ کی سعی کے دوران بھی طواف کی طرح صرف ایک دعا ہی مرفوعا ضعیف مگر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے صحیح سند سے ثابت ہے ، جو یہ ہے :
    '' ائے میرے رب ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما ، تو غالب اور صاحبِ کرم ہے '' (مصنف ابن ابی شیبہ ، بیہقی ، طبرانی اوسط)
    صفا کی طرح ہی مروہ کے بھی اوپر چڑھ جائیں اور وہاں بھی صفا والاذکر اور دعائیں کریں (صحیح مسلم ) صفا سے مروہ تک ایک اور مروہ سے صفا تک دو اور اسی طرح سات چکر مروہ پر مکمل ہونگے ـ طواف اور سعی کے چکروں میں فرق یہ ہے ـ( صحیح مسلم نیز دیکھیئے شرح نووی 4/8/178 ، الفتح الربانی 83-82/21)
    98- صفا و مردہ کی موجود صورتِ حال میں حیض و نفاس والی عورت کاسعی کرنا مناسب نہیں لگتا ـ کیونکہ یہ ساری جگہ ہی حرم میں شامل لگتی ہے ـ بہرحال اصل مسئلہ یہ ہے کہ صفا و مروہ کی سعی کے لئے طہارت و وضوء شرط نہیں ہے ـ (صحیح مسلم) گویا باوضوء افضل ہے ، مگر بلاوضوء بھی جائز ہے ـ
    99- طواف کی طرح ہی سعی بھی پیدا ہی افضل ہے ، مگر بوقت ضرورت سواری کا استعمال بھی جائز ہے ـ (بخاری ومسلم)
    100- سعی مکمل کرکے مروہ سے باہرنکل جائیں اور صرف عمرہ یا حجِ تمتع کا عمرہ کرنے والے سر منڈوالیں یا سارے کے بال ہلکے کروالیں ـ صرف چند جگہوں سے قینچی سے بال کاٹ لینا جائز نہیں ہے ـ عورتیں چوٹی کے بال پکڑ کر انگلی کے پورے کے برابر کاٹ لیں ـ اسکے ساتھ ہی احرام کھول دیں ، آپکا عمرہ مکمل ہوا ـ
    101- اگر کوئی قربانی ساتھ لایا ہے اورحجِ قران کر رہا ہے تو وہ عمرہ مکمل کر لے بال نہ کٹوائے ، نہ احرام کھولے ، بلکہ بدستور احرام میں ہی رہے ـ وہ یومِ نحر کو ہی قربانی کے بعد احرام کھولیں گے (بخاری و مسلم ) البتہ اگر کوئی قربانی ساتھ نہ لایا ہو اور قِران کی نیت کرلی ہوتو اسے عمرہ کر کے قربانی کی نیت سے فسخ کردینی اور تمتع کی نیت کرلینی چاہییے اور بال کٹوا کر احرام کھول دینا چاہیے ، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا حکم فرمایا تھا ـ (بخاری و مسلم )
    102- اگر کسی عورت نے عمرہ کا احرام باندھا اور طواف سے پہلے حیض آگیا یا زچگی ہو گئی تو وہ پاک ہونے تک طواف و سعی نہ کرے ـ خون بند ہونے کے بعد غسل کر کے طواف وغیرہ کرے اور اگر 8 ذوالحج تک بھی پاک نہ تو منیٰ چلی جائے اسطرح اس کا یہ ''حج قِران '' ہوجائے گا ـ (التحقیق والایضاح ص 34) ایسی عورت اور ہرقارن کے لئے صرف ایک ہی طواف و سعی حج و عمرہ دونوں کے لئے کافی ہے (بخاری ومسلم ) اور اگر ایسی کوئی عورت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرح تنعیم (مسجد عائشہ) سے عمرہ بھی کر لیتی ہے تو اسکے لئے مثال موجود ہے ـ (بخاری ومسلم ) ـ یہ صرف ایسے لوگوں کیلئے ہے ـ اس سے ''چھوٹاعمرہ '' کی لائینیں لگا دینا ثابت نہیں ہوتا ـ اور نہ ہی ایک سفر میں بکثرت عمرے سلف امت سے ثابت ہیں ـ(زاد المعاد 2/170)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  16. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    مسائل و احکام اور طریقہء حج

    احرامِ حج اور منیٰ کو روانگی!

    103- 8 ذوالحج (یوم ترویہ) کو اپنی رہائش گاہ سے غسل کر کے بدن کو خوشبو لگا کر (لبیک حجا اور پھر تلبیہ کہتے ہوئے ) حج کا احرا باندھی اور منیٰ کو روانہ ہو جائیں (بخاری ومسلم) اور نمازِ ظہر وعصر ، مغرب و عشاء اور اگلے دن کی فجر وہیں پڑھیں(صحیح مسلم) یہاں ظہر وعصر اور عشاء قصر کر کے پڑھنا سنت ہے اور اس میں مقامی و آفاقی حجاج میں کوئی فرق نہیں (التحقیق والایضاح ص 27) اگر کثرتِ حجاج اور اژدھام کی وجہ سے کسی کو منیٰ میں جگہ نہیں ملتی اور وہ منیٰ کے آخری حصے کے ساتھ ہی مگر منیٰ سے باہر خیمہ لگالیتا ہے تو اس کا حج صحیح ہے ، کیونکہ عذر کی وجہ سے منیٰ میں نہ رہ سکنے کی ، نبی ﷺ نے بکریاں چرانے والوں اور اپنے چچا عباسؓ کو پانی پلانے کی وجہ سے رخصت دے دی تھی ـ(فتویٰ شیخ العثیمین ، مجلہ الدعوتہ الریاض شمارہ 1828، 24/ ذالقعدہ 1422ھ ، 7 فروری 2002)
    104- 9 ذوالحج (یومِ عرفہ) کو سورج نکلنے کے بعد میدانِ عرفات کی طرف روانہ ہوں (مسلم)ممکن ہو تو منیٰ سے پہلے وادئ نمرہ میں جائیں اور زوالِ آفتاب تک وہیں رہیں (صحیح مسلم) اور زوال کے بعد ساتھ ہی اگلی وادئ عرنہ میں چلے جائیں ، جہاں آجکل مسجدِ نمرہ بنائی گئی ہے ـ وہاں نمازِ ظہرو عصرکی دو دو رکعتیں (قصر) ایک آذان اور دو اقامتوں کے ساتھ ظہر کے وقت جمع تقدیم سے پڑھیں اور پھر عرفات چلے جائیں (صحیح مسلم) اور اگر یہ ممکن نہ ہوتو سیدھے عرفات ہی چلے جائیں ـ
    105- نبی ﷺ نے جبلِ رحمت کے دامن میں وقوف فرمایا ـ اسکے اوپر نہیں چڑھے (صحیح مسلم ) اور فرمایا کہ '' میں نے یہاں وقوف کیا ہے ـ البتہ سارا میدانِ عرفات ہی جائے وقوف ہے ''(صحیح مسلم) حاجیوں کے لئے یومِ عرفہ کا روزہ جائز نہیں ـ(بخاری ومسلم) میدانِ عرفات میں یہ دن ذکر اور دعائیں کرنے میں گزاریں ـ دعاؤں کے لئے نبیﷺ نے دونوں ہاتھ سینے تک (بیہقی ، مسند احمد ، اخبارِ مکہ فاکہی) اٹھائے تھے ـ(نسائی ، ابن خذیہ ، مسند احمد ، معجم طبرانی کبیر)
    106''کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالٰی یومِ عرفہ سے زیادہ اپنے بندوں کو جہنم سے رہائی دے ـــ ''(صحیح مسلم)''اس دن اللہ تعالٰی آسمانِ دنیا پر نازل ہوتا ہے اور فرشتوں کے سامنے اہلِ عرفات پرفخر کرتا ہے ـــ ــ اور فرشتوں کو گواہ بنا کر کہتا ہے : میں نے ان سے کو بخش دیا ـ ''(شرح السنہ بغوی ، مسند ابویعلی ، صحیح ابن خذیمہ و ابن حبان ، مسنداحمد)
    107- ایک دعاء کو یومِ عرفہ کے لئے نبی ﷺ نے منتخب فرمایا جو یہ ہے ـ :
    '' اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، تمام بادشاہی اور ہر طرح کی حمد و ثناء اسی کے لئے ہے اور وہ ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے (ترمذی ، مسنداحمد ، مؤطا امام مالک ، بیہقی ، شرح السنہ ، مصنف عبدالرزاق وابن شیبہ ) غرض یہ سارا دن قرآن و سنت سےثابت شدہ مسنون اذکارِ دعاؤں اور اللہ سے اپنی حاجتیں طلب کرنے میں گزارنا چاہیئے ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  17. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    مزدلفہ کو روانگی :

    108 غروبِ آفتاب کے بعد میدانِ عرفات سے (مغرب کی نماز پڑھے بغیر ) تلبیہ و تکبیرات کہتے ہوئے مزدلفہ کی طرف روانہ ہوجائیں ، اور مزدلفہ میں مغرب و عشاء جمع تاخیراور قصر سے پڑھیں ، ایک آذان اور دونوں کے لئے الگ الگ اقامت کہیں(صحیح مسلم) اور دونوں نمازوں کی پانچ فرض رکعتوں کے سوا نبیﷺ کا وہاں کچھ بھی پڑھنا ثابت نہیں ـ (صحیح بخاری ) علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کے مطابق اس دن نبیﷺ نے نمازِ تہجد بھی نہیں پڑھی (حجتہ النبی ﷺ للالبانی ص 76) صبح نمازِ فجر کے بعدمشعر الحرام کے پاس یا مزدلفہ میں کہیں بھی ذکر و دعا میں مشغول رہی اور روشنی خوب پھیل جانے مگرطلوعِ آفتاب سے تھوڑا پہلے منیٰ کو روانہ ہوجائیں(صحیح مسلم) روانگی سے قبل اور فجرکے بعد جمرہ عقبہ پر رمی کے لئے سات یا کم و بیش کنکریاں چن سکتے ہیں (صحیح مسلم) اور اگلے دنوں میں روزانہ اکیس کنکریاں منیٰ سے لیکر رمی کرلینا بھی جائز ہے ( التحقیق والایضاح ص 42)
    109- صرف خواتین اور ضعیف لوگوں کو اجازت ہے کہ وہ آدھی رات کے بعد مزدلفہ سے منیٰ جاسکتے ہیں ـ (بخاری ومسلم) مگرجمرہ عقبہ کہ رمی طلوع آفتاب کے بعد ہی کرنا ہوگی ـ(ابوداؤد، نسائی ، ابن ماجہ ، بیہقی ، طیالسی ، مسنداحمد)
    110- مزدلقہ منیٰ کے مابین وادیء محسر بھی آتی ہے ـ جو کہ منی کا ہی حصہ ہے جہاں ابراہہ اور اس کے لشکر کو اللہ نے ابابیلوں سے تباہ کروایا تھا ـ وہاں سے گزرتے وقت تیز تیز نکل جائیں (صحیح مسلم ) تعجب ہے کہ بعض لوگ وہاں سوئے ہوئے دیکھے گئے ہیں َ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  18. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    یوم نحر و قربانی اور احرام اتارنا :

    111- 10 ذوالج (یومِ نحر) کو سب سے پہلے جمرہ عقبہ (بڑے جمرہ ) پررَمی کریں ، جو موٹے چنے سے ذرا بڑی سات کنکریوں سے ہوگی ـ کنکریاں ایک ایک کرکے ماریں اور ہر کنکری مارتے وقت اللہ اکبر کہیں(صحیح مسلم) جمرات پر بڑے بڑے کنکر و پتھر اور جوتے مارنا روا نہیں ہے ، اس جمرہ کے پاس کھڑے ہو کر دعا ء کرنا ثابت نہیں (موطا امام مالک ) اس جمرہ عقبہ رَمی کرنے کے ساتھ ہی تلبیہ کہنا بند کردیں(بخاری ومسلم)
    112- منیٰ میں موجود حجاج کو نمازِ عید پڑھنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ انکی رمی ہی عید کے قائم مقام ہوتی ہے ـ (فتوویٰ ابن تیمیہ 26/170-171)
    113- رمی جمرہ کے بعد قربانی کریں (صحیح مسلم) یہ حجِ تمتع (البقرہ:196)اورحجِ قران والوں کے کے لئے واجب ہے ـ اور حج مفرد والوں پرقربانی واجب تو نہیں لیکن کرلیں توکارِ ثواب ہے (بخاری مسلم) اونٹ اور گائے میں سات سات حاجی شریک ہو سکتے ہیں (صحیح مسلم ) البتہ عام مسلمان جب منی کے علاوہ عید الاضحیٰ پر قربانی کریں تو اونٹ میں دس گھر شرکت کرسکتے ہیں ـ (ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، ابن خذیمہ ، ابن حبان ، معجم طبرانی کبیر ، بیہقی ، مستدرک حاکم)
    114- قربانی کا مسنون وقت جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد شروع ہوتا ہے اور چار دنوں یوم نحر وایام تشریق (10،11م12،13) تک رہتا ہے ـ(صحیح ابن حبان ، دارقطنی ، بیہقی ، مسند احمد ، مسند بزار)
    115- قربانی کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ جانور کو قبلہ رو کر کے (بائیں پہلو پر لٹائیں اور اسکے دائیں پہلو پر اپنا پاؤں رکھیں(بخاری ومسلم) اور چھری چلادیں ـ
    116- اونٹ کو نحر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسکا اگلا بایاں پاؤں اسکے گھنٹے سے باندھ کر اسے تین ٹانگوں پر کھڑا رہنے دیں (بخاری و مسلم)
    اور اسے قبلہ رو کرلیں( بخاری تعلیقا ، موطا امام مالک وسنن کبریٰ ، بیہقی موصولا ) اور اسکی گردن کو پیچھے کی طرف موڑ کر اسکی رَسی اسکی دُم سے باندھ دیتے اور ذبح و نحر کی دعائیں کرتے ہوئے اس کے قدموں کی جڑوں اور گردن کے آغاز میں موجود گڑھے میں خنجر یا برچھا ماردیں ـ وہ جلدی ہی گرجائے گا ـ قرآن کریم میں ان کے اسی طرح زمین پر لگ جانے کا ذکر ہے ـ (الحج: 36) مستحب تو یہی طریقہ نحر ہے ـ البتہ اسے بیٹھے بیٹھے ذبح کرنا بھی جائز ہے ـ(نزھتہ الطالبین و عمدتہ المفتین للنووی 3/307)
    117- قربان کو نحر یا ذبح کرتے وقت یہ اذکار و دعائیں پڑھیں :
    بسم اللہ واللہ اکبر(صحیح مسلم)
    اللہ کے نام سے ، اور اللہ سب سے بڑا ہے ـ
    اللھم ان ھذا منک ولک
    ائے اللہ ! یہ توفیق سے ملا اورتیری رضاء کے لئے ہے ـ (صحیح مسلم )
    اللھم تقبل منی(صحیح مسلم )
    ائے اللہ ! اسے قبول فرما !
    118- قربانی کا گوشت خود بھی کھانا چاہیے (الحج:36) یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ـ (صحیح مسلم)
    119- اگرقربانی دینے کی طاقت نہ ہوتو تین روزہ ایامِ حج (ایامِ تشریق میں[صحیح بخاری] یا اس کے بعد مکہ) میں اور سات واپس گھر جا کر رکھیں ـ (سورتہ البقرہ :196)
    120- قربانی کے بعد سرمنڈوالیں یا بال چھوٹے کروالیں(الفتح:27) البتہ سرمنڈوانا افضل ہے (بخاری ومسلم)عورتیں کے لئے سرمنڈوانا نہیں ہے ـ(ابوداؤد، دارمی ، دارقطنی ، بیہقی ، معجم طبرانی کبیر)وہ اپنی چوٹی کے بالوں کو اکٹھا کرکے آخر سے تمام بالوں کو انگلی کے پورے کے برابر (تقریبا پون انچ)کاٹ لیں (المغنی ابن قدامہ 3/ 395)ناخن بھی کاٹ لیں تو بہتر ہے ـ(زادالمعاد2/270)
    121- بال کٹوانے کے بعد احرام کھول دیں اور خوشبووغیرہ لگائیں (بخاری و مسلم) یہ ''تحلیلِ اول'' ہے ـ اب میاں بیوی کے تعلقات کے سوا تمام پابندیاں ختم ہو گئیں ـ
    122- جو لوگ قربانی کے لئے کوپن لئے ہوئے ہوں وہ جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد بال کٹوائیں اور احرام کھول لیں ـ
    123- 10 ذوالحج کو ہی سب سے اہم کام اور حج کا رکنِ اعظم '' طواف افاضہ ''(طوافِ حج یا طوافِ زیارت) کر لیں تو یہی مسنون ہے (بخاری و مسلم) اگر بیماری یا حیض وغیرہ کے عذر کی وجہ سے 10 ذوالحج کو ممکن نہ ہو تو ایامِ تشریق(11،12،13) میں کر لیں ـ ورنہ جب مجبوری زائل ہو تب ہی سہی اور اس تاخیر پرکوئی فدیہ و کفارہ بھی نہیں ( المغنی 3/396 ،بلوغ الامانی ترتیب وشرح مسنداحمد الشیبانی 205-204/12)
    124- طواف میں احرام، رمل اور اضطباع نہیں ہے (ابوداؤد ، ابن ماجہ ، ابن خذیمہ ، مستدرک حاکم ) حجِ تمتع کرنے والوں کے لئے اس طواف کے بعد صفا و مررہ کے مابین سعی بھی ضروری ہے اور قِران ومفرد والوں کےلئے طوافِ قدوم یا طوافِ عمرہ کے ساتھ کی گئی سعی ہی کافی ہے (ترمذی ، ابن ماجہ ، ابن خذیمہ ، اب حبان، بیہقی ) طواف سے فارغ ہو کر مقامِ ابراہیم پر دو رکعتیں پڑھیں( صحیح بخاری تعلیقا ، مصنف عبدالرزاق و ابن شیبہ موصولا) اس طواف و سعی کے بعد حاجی '' تحللِ ثانی '' یا ''تحللِ کلی'' حاصل ہوجاتا ہے اور میاں بیوی تعلقات سمیت تمام پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں(بخاری ومسلم)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  19. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    ایامِ تشریق اور قیامِ منیٰ:

    125ـ طوافِ افاضہ کے بعد واپس منیٰ لوٹ جائیں اور ایامِ تشریق کی راتیں منیٰ میں ہی گزاریں (ابوداؤد، ابن خذیمہ ، ابن حبان ، دارقطنی ، بیہقی ، مسنداحمد ، مستدرک حاکم) ان ایام کے دوران مکہ جانا اور زیارت و طوافِ کعبہ کرنا نبی ﷺ سے ثابت ہے ـ(صحیح بخاری تعلیقا ، معجم طبرانی کبیر ، بیہقی )
    126- ان دنوں میں تمام نمازیں ان کے اوقات پر مگر قصر کرکے باجماعات ادا کریں (بخاری ومسلم )
    127- 11،12،13 ذوالحج کو زوالِ آفتاب کے بعد تینوں جمرات کو سات سات کنکریوں سے رمی کرنا مسنون ہے (ترمذی ، ابن ماجہ ) صحابہ کا عمل بھی یہی تھا ( بخاری شریف) پہلے چھوٹے پر رمی کریں اور فارغ ہو کر ایک طرف ہوجائیں اور قبلہ رو ہو کر دعاء مانگیں ، ایسے ہی درمیانے پر کریں ، البتہ بڑے کے پاس دعاء ثابت نہیں ـ (صحیح بخاری )
    128-اگر کوئی صرف 11-12 کو رمی کرنے پر اکتفاء کرتا ہے تو اس کے لئے جائز ہے ـ (البقرہ:203)12 ذوالحج کی رمی کر کے مغرب سے پہلے پہلے اپنی جگہ سے روانہ ہوجائیں اور اگر وہیں مغرب ہوگئی تو پھر اگلے دن 13 ذوالحج کی رمی کرنا ضروری ہوجائے گاـ (مؤطا امام مالک) احناف اور جمہور علماء کا یہی مسلک ہے ـ (مؤطا امام محد مع التعلیق الممجد ص 233 ، المجوع للنووی 1283/8 المغنی 3/407)
    129- بچوں ، بوڑھوں ، بیماروں اور عورتو کے لئے اگر خود جا کر رمی کرنے کی گنجائش نہ ہو تو وہ اپنا وکیل مقرر کرسکتے ہیں اس سلسلہ میں بعض ضعیف احادیث بھی ترمذی ، ابن ماجہ ، مسنداحد ،مصنف ابن ابی شیبہ ، معجم طبرانی اوسط میں ہیں ـ (نیل اولاطار حوالہ سابقہ ، فقہ السنہ 1/735 ، المغنی 3/1286 التحقیق والا ایضاح ص 50 ) وکیل پہلے خو اپنی سات کنکریاں ایک ایک کرکے مارے ، پھر مؤکلین کی بھی اسی طرح مارے ، مٹھی بھر کنکریاں پھینک دیں تو یہ رمی شمار نہیں ہوگی (المغنی 3/286)
    130- ایامِ تشریق کی راتیں منیٰ میں گزارنا واجب ہے (ابوداؤد ، ابن خذیمہ ،، ابن حبان ، دارقطنی ، بیہقی ، مسنداحد ، مستدرک حاکم نیز دیکھئے نیل اولاطار شوکانی 3/5/80) البتہ بکریاں اور اونٹ چرانے والوں (اصحابِ سنن ، ابن حبان ، ابن خذیمہ ، دارمی ، مسنداحمد، مستدرک حاکم ، مؤطا امام مالک) اور حجاج کو پانی پلانے کی ذمہ داری نبھانے والوں(عباس رضی اللہ عنہ ) کو نبی ﷺ نے راتین منیٰ میں نہ گزارنے کی رخصت دے دی تھی (بخاری ومسلم )
    131- اگر کسی نے اس واجب کو بلاعذرِ شرعی ترک کردیا تو اسے بعض آئمہ (مالک ، شافعی ، اور ایک روایت میں امام احمد) کے نزدیک دم دینا پڑے گا جبکہ امام احمد کی مشہور روایت اور احناف کی نزدیک ترکِ قیامِ منٰی پر فدیہ نہیں ہے (نیل اولاطار 3/5/80) لیکن انہیں رمی کرنا ہوگی ، ایسے لوگ ایک دن بکریاں چرائیں اور ایک دن میں دونوں کی اکٹھی کنکریاں مارلیں (اصحابِ سنن ، ابن حبان ، ابن خذیمہ ، مسنداحد، مستدرک حاکم ، دارمی ـ مؤطا مالک)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  20. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    بچوں کا حج و عمرہ:

    132- بچوں کا حج صحیح ہے اور اس کا ثواب بچوں کے علاوہ انہیں حج کروانے والوں (والدین) کو بھی ہوتا ہے (صحیح مسلم) عہد نبوی ﷺ اور دورِ خلفاء رضی اللہ عنہم میں سات سال اور کم و بیش عمر کے نابالغ بچوں کو حج کروانے کے کئی واقعات کتبِ حدیث میں موجود ہیں (بخاری ومسلم ) ان کا یہ حج نفلی شمار ہو گا اور بالغ ہونے پر اگر اللہ نے توفیق دے کر حج فرض کردیا تو وہ فرض اداکرنا ہوگاـ (المحلی ابن حزم 7/276،نیل الاوطار /2/4/294)
    133- میقات پر احرام سے لیکر تمام مناسک انہیں اپنے ساتھ ساتھ پورے کروائیں ، سوائے رمی کے ، یہ آپ خود انکی طرف سے کردیں ـ ناسمجھ بچوں سے احرام کے آداب پورے کروائیں ـ انہیں خوشبو لگائیں ، انکے بال یا ناخن نہ کاٹیں اور اگر وہ کسی معاملہ میں کوئی کمی بیشی کردیتے ہیں تو ان پر کوئی دم یا گناہ نہیں ـ (المحلی 7/276-277، المرعاتہ 6/200-203) سمجھدار بچے کو احرام باندھیں اور ناسمجھ بچے کو معمول کے لباد میں رکھ کر انہیں (خواتین کی طرح) اسے احرام کے حکم میں داخل کردیا جائے لیکن افضل واحواط احرام باندھنا ہی ہے ـ(فتح الباری 4/71-73، شرح مسلم نووی، المغنی ، بدایتہ المجتہد ابن رشد 1/253 ، المرعاتہ6/201، سبل السلام 1/2/181، التحقیق والا ایضاح ابن باز ص 23 ، تحفتہ الاحوذی 3/472-274 ، الفتح الربانی 11/30-31)
    134- تمتع اورقِران کرنے والے بچوں کی طرف سے بھی قربانی واجب ہے ـ (الشرح الصغیر للدردیر2/8- حاشیہ الدسوقی ، المرعاتہ 6/202)

    طوافِ وداع
    135- مکہ مکرمہ سے اپنے شہر یا ملک جانے سے پہلے طوافِ وداع واجب ہے ـ البتہ حیض والی عورت یہ طواف کئے بغیر مکہ سے روانہ ہو سکتی ہے ـ (بخاری ومسلم) طوافِ وداع میں نہ رمل ہے اور نہ احرام ہے ، نہ اضطباع اور نہ ہی اسکے ساتھ سعی ہے ـ طواف کریں ، دو رکعتیں پڑھیں اور روانہ ہو جائیں ـ حرم شریف سے الٹے پاؤں باہر نکلنا سراسر خانہ ساز فعل ہے ـ (مناسک الحج والعمرہ للالباننی ص 43)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں