مختصر فضائل و مسائل (حج وعمرہ)شیخ محمد منیرقمر

ابوعکاشہ نے 'ماہ ذی الحجہ اور حج' میں ‏اکتوبر، 2, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,216
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    مختصر فضائل و مسائل (حج وعمرہ)
    (قرآن کریم وصحیح احادیث کی روشنی میں‌)

    تحریر/ ابوعدنان محمد منیرقمر

    ترجمان سپریم کورٹ ''الخبر''(السعودیہ)

    نشرو توزیع

    مکتبہ کتاب وسنت ، لاہور (پاکستان)
    توحید پبلیکیشنز، بنگلور(انڈیا)

    ڈاؤن لوڈ کریں ربط

    کمپوزنگ و پروف ریڈنگ / ابوعکاشہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,216
    فہرست ::

    مختصرفضائل و مسائل حج وعمرہ

    فضائل و برکاتِ حج و عمرہ
    فرضیتِ حج اور تارک کیلئے وعید
    مفہومِ استطاعت
    حجِ بدل
    سفرِ حج و عمرہ پر روانگی
    مواقیتِ حج و عمرہ
    احرام باندھنے کا طریقہ
    محرماتِ احرام (وہ امور جو احرام کی حالت میں منع ہیں)
    آدابِ حرمینِ شریفین
    مباحاتِ احرام(وہ امور جو احرام کی حالت میں جائز ہیں)
    آدابِ دخول مکہ و مسجدِ حرم
    مسائل واحکام اور طریقہء طواف
    مسائل و احکام اور طریقہء سعی

    مسائل واحکام و طریقہءحج
    احرامِ حج اور منیٰ کو روانگی
    مزدلفہ کو روانگی
    یومِ نحر و قربانی اور احرام اتارنا
    ایامِ تشریق اور قیام منیٰ
    بچوں کا حج وعمرہ
    طوافِ وداع

    احکام و آدابِ زیارتِ مدینہ منورہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,216
    فضائل و برکاتِ حج و عمرہ :
    1-نماز و روزہ صرف بدنی عبادات ہیں اور زکواتہ صرف مالی ، جبکہ حج و عمرہ ، مالی و بدنی ہر قسم کی عبادات کا مجموعہ ہے (صحیح بخاری ومسلم)
    2- اسلام کے پانچ ارکان میں سے حج ایک اہم رکن ہے(صحیح بخاری ومسلم)
    3- ایمان و جہاد کے بعد حج مبرور و مقبول ترین عمل ہےـ(صحیح بخاری ومسلم)
    4-دورانِ حج اگر کسی سے کوئی شہوانی فعل اور کسی سے گناہ کا ارتکاب نہ ہو تو حاجی گناہوں سے یوں پاک ہو کر لوٹتا ہے ، جیسے آج ہی وہ پیدا ہوا ہے (صحیح بخاری ومسلم)
    5- حج مبرور کی جزاء جنت ہے (صحیح بخاری ومسلم)
    6- حج عورتوں کا جہاد ہے ـ (صحیح بخاری)
    جسمیں کوئی قتال و جنگ بھی نہیں (مسند احد، ابن ماجہ ، ابن خذیمہ ، دارقطنی ، بیہقی ، ابن ابی شیبہ )
    عورتوں کی طرح ہی بوڑھوں اور ضعیفوں کا جہاد بھی حج و عمرہ ہے (مسند احمد ، نسائی ، بیہقی ، مصنف عبدالرزاق ،مسند ابویعلیٰ ، طیاسی ، ابن ابی شیبہ)
    7- حاجی کی زندگی قابلِ رشک اور وفات قابلِ فخر ہوتی ہے کہ اگر وہ احرام کی حالت میں فوت ہو جائے تو قیامت کے دن وہ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا ـ(صحیح بخاری ومسلم)

    8- حج و عمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہوتے ہیں (نسائی ، ابن خذیمہ ، ابن حبان ، بیہقی ، مستدرک حاکم )
    9- رمضان میں کئے گئے عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے ـ (صحیح بخاری ومسلم)
    10- ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کے گناہوں کا کفارہ ہے ـ (صحیح بخاری ومسلم)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,216
    فرضیتِ حج اور تارک کیلئے وعید
    11- وَلِلَّـهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ‌ فَإِنَّ اللَّـهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ ''(سورہ آل عمران ـ 97)اور لوگوں پر اللہ کا یہ حق(فرض ) ہے کہ جو اس کے گھر (بیت اللہ شریف ) تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہیں وہ اسکا حج کریں اور جو کوئی اسکے حکم کی پیروی سے انکار کرے ، تو اللہ تعالیٰ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے '' ـ
    نبی ﷺکا ارشاد ہے کہ: اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے ، لٰہذا تم حج کرو، ایک صحابی (اقرع بن حابیس ) نے کہا: ائے اللہ کے رسول ﷺ ! کیا ہر سال حج کریں ؟ انہوں نے تین بار یہ سوال دہرایا اور نبیﷺ خاموش رہے اور بالآخر فرمایا : اگر میں ہاں کہہ دیتا ، تو تم پر ہر سال حج فرض ہو جاتا اور تم اسکی طاقت نہ پاتے (صحیح مسلم) ـ
    حج ایک مرتبہ فرض ہے ، اس کے بعد جتنی مرتبہ کریں ، وہ نفل ہے ـ (ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ ، دارمی ، دارقطنی بیہقی ،مسنداحمد ، ابن ابی شیبہ)
    12-حج کی استطاعت حاصل ہو جائے تو اسکی ادائیگی میں جلدی کرنا ضروری ہے ـ (مسند احمد ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ، بیہقی ، معجم طبرانی کبیر ، دارمی ، مستدرک حاکم )
    13- اگر توفیق ہو تو پانچ سال میں ایک مرتبہ حج کر لینا چاہے ـ (ابن حبان ، بیہقی ، مصنف عبدالرزاق ، مسندابویعلٰی ، معجم طبرانی اوسط)
    14-استطاعت حاصل ہوجانے کے باوجود مشاغل دنیا میں مصروف رہے اوراسی حالت میں حج کئے بغیر ہی موت آجائے تو ان کے بارے میں سخت وعید آئی ہے ـ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا جی چاہتا ہے کہ طاقت کے باوجود جن لوگوں نے حج نہیں کیا، میں ان پر غیر مسلموں سے لیا جانے والا ٹیکس (جزیہ) نافذ کردوں ـ اللہ کی قسم وہ مسلمان نہیں ہیں ـ (سنن سعید بن منصور ، اخبار مکہ فاکہی ، شرح الاعتقاد لالکائی )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,216
    مفہومِ استطاعت
    15- استطاعت کے مفہوم میں زادِ راہ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ‌ الزَّادِ التَّقْوَىٰ ۚ وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ (سورہ البقرہ ، آیت : 197 )''اور اپنے ساتھ سفر خرچ لے لیا کرو، سب سے بہتر توشہ اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے اور اے عقلمندو! مجھ سے ڈرتے رہا کرو ''اور سواری (یا مکہ آنے جانے کے اسکے اخراجات)شامل ہیں (ترمذی ، ابن ماجہ ، دارقطنی ،بیہقی ، ابن ابی شیبہ ، شرح السنہ بغوی )
    16 ـ اسی طرح اہل علم نے راستوں کے پرامن ہونے کی شرط بھی عائد کی ہے ـ (الفتح الربانی 11/142-143) اور عورتوں کے لئے ساتھ ہی کسی محرم کا ہونا بھی شرط ہے ، جو حج اور کسی بھی سفر (بخاری ومسلم ) خصوصا ایک دن اور ایک رات (بخاری ومسلم ) یا زیادہ سے زیادہ تین دنوں اور تین راتوں کے ہر سفر کے لئے شرط ہے(صحیح مسلم )
    17-استطاعت کے مفہوم میں ہی جسمانی استطاعت بھی شامل ہے ، اگر کوئی شخص پیدل تو کیا، سواری پر بھی نہ بیٹھا رہ سکتا ہو تو اس کا حج کے سفر پر نکلنا واجب نہیں (صحیح بخاری ومسلم)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,216
    حجِ بدل
    18- ایسا ضعیف العمر یا لاغر و مریض شخص اپنی طرف سے کسی کو ''حج بدل '' کروادے ـ(صحیح بخاری ومسلم)
    19- حجِ بدل عورت و مرد کی طرف سے (صحیح بخاری ومسلم) مرد، عورت سے (صحیح بخاری) عورت ، عورت کی طرف سے (صحیح مسلم) اور مرد مرد کی طرف سے کرسکتے ہیں َ (ابوداؤد، ابن ماجہ ، ابن حبان ، ابن خذیمہ ، دارقطنی ، بیہقی ، مسند ابویعلٰی ، معجم طبرانی صغیر)
    20- حجِ بدل کرنے والے کے لئے شرط ہے کہ وہ پہلے اپنی طرف سے فریضہء حج ادا کرچکا ہوـ (ابوداؤد ، ابن ماجہ ، ابن حبان ، ابن خذیمہ ، دارقطنی ، بیہقی ، مسند ابویعلیٰ ، معجم طبرانی صغیر)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,216
    سفرِ حج و عمرہ پر روانگی :

    21- تقویٰ و پرہیزگاری کو اختیار کریں کہ یہی بہترین زادِ راہ ہے (سورہ البقرہ:197)
    22-پورے سفرِ حج کے دوران بیہودہ و شہوانی افعال واقوال ، لڑائی ، جھگڑے اور فسق و فجور سے بچیں (سورہ البقرہ :197 (صحیح بخاری ومسلم)
    23- روانگی سے قبل خلوص نیت سے سابقہ گناہوں سے توبہ کریں (سورہ النور:31)اس طرح سابقہ گناہوں سے پلہ پاک ہو جائے گا ، (ابن ماجہ ، معجم طبرانی کبیر)
    24- اگرآپ کے ذمہ کسی کا کوئی حق یا امانت ہو تو وہ ادا کردیں (سورہ النساء :58)
    25- خلوص و للہیت اختیار کریں کہ یہ قبولیتِ عمل کی ایک شرط ہے (سورتہ البینہ :5)
    26- مالِ حلال سے حج وعمرہ کریں ، ورنہ قبولیت ناممکن ہے ( سورتہ البقرہ :172، سورتہ المؤمنون:51 و صحیح مسلم )
    27- سفرِ حج وعمرہ کے دوران خصوصا اور عام حالات میں عموما ممنوع زیب و زینت مثلا داڑھی منڈوانا (صحیح بخاری ومسلم) اور مردوں کا سونے کی انگوٹھی یا چین وغیرہ کا استعمال کرنا (صحیح بخاری ومسلم) حرام و فسق ہے ـ
    28- زندگی بھر عموما اور سفرِ حج و عمرہ میں خصوصا اپنے آپ کو اعمال کے برباد کردینے والے شرک (الانعام :98 ، الزمر:65) اور فتنہ و درد ناک عذاب کا باعث بننے اور جہنم لے جانے والی بدعات (النور: 63 و صحیح مسلم ) کی تمام الائشوں سے پاک رکھیں ـ
    29-سفرِ حج و عمرہ پر کسی بھی دن نکل سکتے ہیں ، البتہ مسنون و مستحب دن ، جمعرات (صحیح بخاری)اور صبح کا وقت (ابوداؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ ، دارمی ، بیہقی ، ابن ابی شیبہ ، مسنداحمد) یا پھر کم ازکم دوپہر و زوالِ آفتاب کا وقت ہے ـ(صحیح بخاری ومسلم)
    30- کسی موحد ، متبع سنت اور بااخلاق انسان کو اپنا رفیقِ سفر بنا لینا چاہے (صحیح بخاری)
    31- آغازِ سفر پر گھر میں دو رکعتیں پڑھنے کا صحیح احادیث سے ثبوت نہیں ملتا(ابن ابی شیبہ اور ابن عساکر وغیرہ والی مرفوع حدیث ضعیف ہے)
    سوئے حرم ازمؤلف ، تخریج : حافظ عبدالرؤف ص 110-112) البتہ ابن عمر رضی اللہ عنہ والا موقف اثر سندا صحیح ہے ، جس میں انکا سفر پر نکلنے سے پہلے مسجد میں جا کر دو رکعتیں پڑھنا ثابت ہے (ابن ابی شیبہ وحوالہء سابقہ ) سفر سے واپسی پر نبی ﷺ کا مسجد میں جا کر دو رکعتیں پڑھ کر گھر میں داخل ہونا ثابت ہے ـ (صحیح بخاری ومسلم)
    32-سفر سے واپسی آکر گھر میں دن کے وقت یا سرشام داخل ہونا چاہے (صحیح بخاری ومسلم) طویل سفر سے واپسی پر اطلاع کئے بغیر رات کواپنے گھر آنے سے نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے (صحیح بخاری ومسلم) اس میں بہت سے حکمتیں اور مصلحتیں ہیں (فتح الباری 339/9-341)
    33- گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھیں ـ
    اللہ کا نام لیکر اور اس پر توکل کر کے (گھر سے نکل رہا ہوں) اور اسکی توفیق کے بغیر نہ نیکی کرنے کی ہمت ہے اور نہ برائی سے بچنے کی طاقت(ابوداؤد، ترمذی ـ عمل الیوم واللیلہ نسائی )
    34- مسافر کو الوداع کرنے والے یہ کہیں :
    '' میں تیرے دین و امانت اور خاتمہ عمل کو اللہ کے سپردکرتا ہوں''
    (ابوداؤد، ترمذی ـ عمل الیوم واللیلہ نسائی و ابن ماجہ )
    35- مسافرجوابی دعاء یوں کرے :
    ''میں تمہیں اس ذاتِ الٰہی کے سپرد کرتا ہوں ، جسکے سپرد کی گئی کوئی چیز ضائع نہیں ہوتی ''
    (ابوداؤد، ترمذی ـ عمل الیوم واللیلہ نسائی و ابن ماجہ ، مسنداحمد و عمل الیوم واللیلہ ابن السنی )
    36-سواری پر بیٹھتے وقت یہ دعاء کریں:
    '' اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے لئے مسخر کیا ، ورنہ ہم میں اس کی طاقت نہ تھی اور ہم سب اپنے رب کیطرف ہی لوٹ کر جانے والے ہیں َ (صحیح مسلم )
    37- محض زیادہ ثواب کی نیت سے طویل سفر پیدال کر کے حج و عمرہ کرنے کے لے مکہ مکرمہ جانا من بعض الوجوہ غلط ہے ـ سواری اللہ کی نعمت ہے ـ استطاعت ہو تو اسے استعمال کرلینا چاہئیے اور یہی افضل ہے ـ
    (فقہ السنہ 1/640- فتح الباری 4/69، 79-80،11/588-589)یہی نبی ﷺ کا حکم ہے ـ(بخاری ومسلم )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,216
    مواقیت ِ حج عمرہ:

    38- عمرہ کے لئے سال کے کسی بھی ماہ اور کسی بھی وقت احرام باندھا جا سکتا ہے ـ (الفتح الربانی ترتیب و شرح مسنداحمد الشیبانی 11/51-58) البتہ حج کے احرام کے لئے مہینے مقرر ہیں ـ
    (سورتہ البقرہ : 189-197) جو کہ شوال ، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ ہیں(صحیح بخاری تعلیقا، مسد شافعی ، مستدرک حاکم ، دارقطنی ، بیہقی ، معجم طبرانی اوسط و صغیر)
    39- حج و عمرہ کے لئے جانے والے کے احرام باندھنے کے مقامات یہ ہے : مدینہ سے ہوتے آنے والوں کے لئے ذالحلیفہ(بئرعلی) ، اہل شام اور اس راہ سے (اندلس ، الجزائر ،لیبیا ، روم ، مراکش وغیرہ سے) آنے ولوں کے لئے جحفہ (رابغ ) ، اہلِ نجد اور براستہ الریاض ـ الطائف گزرنے والوں کے لئے قرن المنازل (السیل الکبیر یا وادئ محرم) ، اہل یمن اور اس راستے سے (جنوبِ سعودیہ ، انڈونیشا ، چین ، جاوہ ، انڈیا اور پاکستان سے ) آنے والوں کے یلملم(السعدیہ) اور ان مقامات سے اندرونی جانب رہنے والوں کے لئے انکے گھر ہی میقات ہیں (صحیح بخاری ومسلم) اہل عراق اور اس راستہ سے (ایران براستہ حائل )آنے والوں کا میقات ذاتِ عرق نامی مقام ہے (صحیح مسلم ) مصر کے لئے بھی شام والوں کا ہی میقات ہے ـ (نسائی ، دارقطنی ، بیہقی ، نیز دیکھئے : فتح الباری 3/384-391 ، الفتح الربانی 11/105 و مابعد ، المرعاتہ شرح مشکواتہ 6/232 و مابعد ، فقہ السنہ )
    40-حج وعمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ جانے والا اگر احرام باندھے بغیر میقات سے گزر جائے تو واپس لوٹ کر میقات سے احرام باندھ کر جائے یا پھر اندر ہی کہیں سے احرام باندھ لے تو دَم (فدیہ کا بکرا) دے اور اس کا حج و عمرہ صحیح ہوگا(الفتح الربانی والمرعاتہ)
    41- کسی ذاتی غرض ، تجارت ، تعلیم ، علاج وغیرہ سے جائے اور حج و عمرہ کا ارادہ نہ ہو تو بلا احرامِ حدود حرم میں داخل ہوسکتاہے ـ
    42- پاک و ہند سے ہوائی جہاز سے آنے والے لوگ احرام کی چادریں اور خواتین احرام کے کپڑے پہن کر چلیں اور جہاز کے عملے کے یہ بتانے پرکہ میقات سے گزرنے لگے ہیں ، وہاں سے لبیک پکارنا شروع کردیں ـ ہوائی مسافروں کا جہاز میقات سے گزر کر جدہ آتا ہے ، لٰہذا ان کے لئے جدہ میقات نہیں ہے ـ (تنبیھات علیٰ ان جدہ لیست میقاتا للشیخ بن حمید والمرعاتہ 6/235-238)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,216
    احرام باندھنے کا طریقہ :

    43- غسل کرکے احرام باندھنا سنت ہے (ترمزی ، ابن خذیمہ ، داقطنی، بیہقی )
    حیض والی عورتیں بھی غسل کر لیں اور احرام باندھ لیں ـ(صحیح مسلم ) کسی وجہ سے غسل نہ کرسکیں تو بھی کوئی حرج نہیں ـ(شرح مسلم نووی ، الفتح الربانی)
    44- غسل یا وضوء کر کے احرام کی نیت کرنے سے پہلے مردوں کا بدن پرخوشبو لگانا جائز ہے ، چاہے اس کا اثربعد میں دیر تک ہی کیوں نہ رہے ـ(صحیح بخاری ومسلم)
    45- مرد ، دو سفید چادریں لے لیں ، عورتیں معمول کا صاف ستھراا اور موٹا وساتر لباس ہی بطورِ احرام استعمال کرلیں ـ مرد سر کو ننگا رکھیں اور ایسا جوتا پہنیں جو ٹخنوں کو نہ ڈھانپے ـ عورتیں دستانے نہ پہنیں اور نہ ہی منہ پر نقاب باندھیں ، البتہ غیر محرم لوگوں سے سر سے کپڑا لٹکا کر پردہ کریں (ابوداؤد ، ابن ماجہ ، دارقطنی ، بیہقی ، مسنداحمد، مستدرک حاکم ، مؤطا مالک )
    46-احرام کیلئے کوئی مخصوص نماز نہیں ـ فرض ، اشراق ، ضحیٰ ، تحیتہ الوضوء یا تحیتہ المسجد کی رکعتیں پڑھ لیں وہی کافی ہیں ـ(مجموع فتاوی ابن تیمیہ 26/108-109) بعض احادیث کی رو سے جمہور علماء کے نزدیک یہ دو رکعتیں مستحب ہیں اور انکا وقت احرام باندھنے کے بعد اور لبیک پکارنا شروع کرنے سے پہلے ہے ـ (بخاری و مسلم )
    47- صرف عمرہ یا افضل ترین حجِ تمتع کا عمرہ کرنے والا دل میں نیت کرلے اور یہ الفاظ کہنا بھی ثابت ہے ـ
    اللھم لبیک عمرہ
    ائے اللہ ! میں عمرہ کے لئے حاضر ہوا ہوں ـ
    اور اگر حجِ قرن ہو تو یہ کہیں :
    اللھم لبیک حجا و عمرتہ
    ائے اللہ ! میں حج و عمرہ کے لئے حاضر ہوا ہوں
    صرف حجِ مفرد (بلاعمرہ) کرنا ہو تو یوں کہیں ـ
    اللھم لبیک حجا
    ائے اللہ ! میں حج کے لئے حاضر ہوا ہوں ـ
    48- اور اس کے بعد تلبیہ کہنا شروع کردیں جو یہ ہے :
    '' میں حاضر ہوں ، ائے میر ے رب ! میں حاضر ہوں ، میں حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں ، میں حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں ، میں حاضر ہوں ـ بیشک ہر قسم کی تعریف ، تمام نعمتیں ، ساری بادشاہی تیر ے ہی لئے ہیں ـ تیراکوئی شریک نہیں ـ (صحیح بخاری ومسلم)
    یا ساتھ ہی یہ کہتے جائیں :
    لبيك اللهم لبيك
    میں حاضر ہوں ، ائے معبودِ برحق ! میں حاضر ہوں ـ
    (نسائی ، ابن ماجہ ، بیہقی ، ابن حبان ، ابن خذیمہ ، داقطنی ، مستدرک حاکم ، مسنداحمد ، طیاسی )
    تلبیہ بلند آواز سے کہنا چاہییے ، حتٰی کہ خواتین بھی اتنی آواز سے کہیں کہ انکی ساتھی خواتین سن سکیں ، دوسرے مردوں تک ان کی آواز نہ جائے ـ(منسلک ابن تیمیہ بحوالہ مناسک الحج والعمرہ للالبانی ص 18)
    49- میقات سے عمرہ کا احرام باندھیں اور عمرہ کر کے احرام کھول دیں اور معمول کے لباس میں رہیں اور 8 ذوالحجہ (یوم ترویہ)کو پھر اپنی رہائش گاہ سے حج کا احرام باندھیں اور دس ذوالحجہ کو قربانی کے بعد کھول دیں ـ یہ حجِ تمتع ہے ، جو کہ افضل ترین حج ہے ـ (بخاری ومسلم نیزدیکھئیے نیل الاوطار 2/4/310-314، الفتح الربانی 11/95-96)
    50-میقات سے حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھیں اور عمرہ کر کے احرام نہ کھولیں اور اسی حالت میں بھی پھر 8 ذوالحجہ کو منیٰ چلے جائیں اور 10 ذوالحجہ کو قربانی کے بعد احرام کھول دیں ـ یہ حجِ قِران ہے ـ اگر قربانی کا جانور ساتھ لے لیا ہو تو پھر حجِ قِران کرنا ہی سنت ہے
    51- میقات سے حج کا احرام باندھیں ، مکہ پہنچ کر طوافِ قدوم و سعی کریں اور احرام کھولے بغیر منیٰ چلے جائیں اور تمام مناسکِ حج پورے کر کے احرام کھول دیں ـ اس حج کے ساتھ قربانی واجب نہیں ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,216
    محرماتِ: (وہ امور جو احرام کی حات میں منع ہیں ):

    52- احرام کی حالت میں بال کٹوانا ، کاٹنا یا نوچنا حرام ہے ـ(البقرتہ :196)کسی عذر کی وجہ سے بال کٹوانے پڑیں تو اس فدیہ ہے ، جو کہ چھ مسکینوں کا کھانا یعنی تین صاع (ساڑھے چھ کلو گرام) غلہ بانٹ دو یا تین روزے رکھ لو یا پھر ایک بکرا ذبح کردوـ (صحیح مسلم)
    53- ناخن کاٹنا (مرد و زن) سلے ہوئے کپڑے پہن لینا ، جرابیں ، پہن ، سرڈھانپنا(مردوں) اور خوشبو لگانا عورتوں اور مردوں کے لئے حرام ہے (صحیح بخاری ومسلم)
    54- عورتوں کا دستانے پہننا اور نقاب (ڈھانا) باندھنا بھی منع ہے (صحیح بخاری)
    لیکن وہ سر کے کپڑے سے غیرمحرم لوگوں سے پردہ کریں ، جیساکہ امہات المؤمنین اورصحابیات رضی اللہ عنہن نے کیا تھا ـ(ابوداؤد، ابن ماجہ ، ابن خذیمہ ، دارقطنی ، بیقہی ، مسنداحمد، مستدرک حاکم ، موطا مالک)
    55- نکاح و منگنی کرنا بھی منع ہے (صحیح مسلم)
    56- جنگلی جانوروں کا شکار کرنا (المائدہ: 95-96) بھی منع ہے ـ اگر غلطی سے شکار کر بیٹھے تو فدیہ دے ـ (المائدہ: 95) نیل گائے کے بدلے پالتو گائے اور ہرن کے بدلے بکری ذبح کرے اور اگرمالی استطاعت نہ ہو ایسے جانوروں کی قیمت لگا کر اسکے برابر غلہ بنایا جائے اور پھر ہر ایک صاع (دوکلو) کے بدلے ایک روزہ رکھیں (تفسیر ابن کثیر مترجم اردو 27-22/2)
    بِجو کے شکار کے بدلے مینڈھا ہے ـ(ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن جاجہ،ابن حبان ،ابن خذیمہ ،دارقطنی ، بیہقی ، مستدرک حاکم ،مسند احمد،ابویعلیٰ)
    خرگوش کے شکار پربکری کا ایک سال سے چھوٹا بچہ (موطا مالک ، مسند شافعی ، بیہقی ) جنگلی گدھے کے شکار پر گائے (بیہقی ) کبوتر پر بکری (مسند شافعی ) لومڑی اور گوہ پر بھی بکری کا ایک سال کا بچہ فدیہ ہے(مسند شافعی)
    57-جماع (ہم بستری) ، بوس و کنار ، بدکاری و معصیت اور لڑائی جھگڑا بھی منع و حرام ہے (البقرہ:197) جماع سے حج باطل ہو جاتا ہے اور بوس و کنار سے حج باطل تو نہیں ہوتا مگر اس پر دَم ہے ـ (المغنی 3/310، الفتح الربانی 11/233-236)
    58- بلا ضرورت کنگھا کرنا مکروہ ہے ـ(شرح مسلم نووی 4/ 8/140)اور اگر واقعی ضرورت پیش آجائے تو پھر جائز ہے ـ(بخاری ومسلم)

    جاری ہے ـــــ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں