معافی

بابر تنویر نے 'ادبی مجلس' میں ‏اکتوبر، 13, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    السلام علیکم ر حمتہ اللہ و برکاتہ،
    تو آخر میں نے اس معاف کر ہی دیا۔ اور اسے معاف کرنے میں میری ہی بھلائ تھی
    میں اپنی عمر کے ایک غالب حصے تک اسے معاف نہیں کرسکا تھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ میرے اندر سے کوئ ہر صبح پکار پکار کر کہتا تھا کہ تم اسے معاف کیوں نہیں کرتے، اسے معاف کر ہی دو اس کے ساتھ بیگم صاحبہ بھی دبے لفظوں میں کئ بار کہہ چکی تھی کہ اب اسے معاف کرہی دیں ۔ ۔ اور میرے خیال میں دین اسلام میں یہ ایک واحد چیز ہے جسے بغیر کسی قصور کے ہی معاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور اسے معاف کرنے میں انسان کی اپنی ہی بھلائ ہے۔ اور اپنا ہی بھلا ہے۔
    شائد یہ میری اپنی ہی کو کمزوری تھی جو مجھے اسے معاف رکھنے سے روک رہی تھی۔
    اور پھر آج سے تقریبا آٹھ سال پہلے سال کا آخری مہینہ آگیا اور میں نے اسے چند دنوں کے لیۓ معاف کردیا۔ حالانکہ میرے خیال میں اس معاف کرنے کا تعلق اس مہینے سے نہیں ہے۔اسے تو ہردن ہر ماہ اور ہر سال بلکہ اسکی پیدائش سے ہی معاف کرنے کا حکم ہے۔ جب میں نے اسے ذی الحج کے پہلے دس دنوں تک معاف کر دیا تو پھر دل نے یہ سوچا کہ یہ بہت اچھا موقع ہے اگر اب اسے معاف نہ کیا تو پھر شائد کبھی نہ کرسکو گے۔
    میرے خیال میں اب تک تو آپ سب یہ جان چکے ہوں گے کہ میں کس چیز کی بات کررہا ہوں؟ جی سمجھنے والے سمجھ گۓ ہوں گے میں اس کی بات کر رہا ہوں جو کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ کی ایک بہت ہی پیاری سنت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک اس سے آراستہ ہے۔ یہ مردوں کی زینت کہلاتی ہے۔ یہ ہے داڑھی کی سنت۔ جسے ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی معاف کیا اور سب مسلمانوں کو بھی اسے معاف کرنے کا حکم دیا۔

    (حدثنا قتيبة بن سعيد وأبو بكر بن أبي شيبة وزهير بن حرب. قالوا: حدثنا وكيع عن زكرياء بن أبي زائدة، عن مصعب بن شيبة ، عن طلق بن حبيب ، عن عبدالله بن الزبير ،عن عائشة؛ قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "عشر من الفطرة: قص الشارب، وإعفاء اللحية، والسواك، واستنشاق الماء، وقص الأظفار، وغسل البراجم، ونتف الإبط، وحلق العانة، وانتقاص الماء. قال زكرياء: قال مصعب: ونسيت العاشرة. إلا أن تكون المضمضة. زاد قتيبة: قال وكيع: انتقاص الماء يعني الاستنجاء.
    سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دس چیزیں فطرت میں سے ہیں۔ مونچھیں کاٹنا، داڑھی کو معاف رکھنا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ناخن کاٹنا، جوڑوں کا دھونا، بغل کے بال صاف کرنا، زیر ناف بال مونڈنا، استنجا کرنا۔" مصعب کہتے ہیں کہ میں دسویں بات بھول گیا، شاید یہ کلی کرنا ہو۔ (مسلم ، کتاب الطہارہ، حدیث 261)
    حدثنا محمد بن منهال: حدثنا يزيد بن زريع: حدثنا عمر بن محمد بن زيد، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: خالفوا المشركين: وفروا اللحى، وأحفوا الشوارب.
    ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھیوں کو وافر رکھو اور مونچھوں کو چھوٹا کرو۔ (بخاری ، کتاب اللباس، حدیث 5553)
    حدثني محمد: أخبرنا عبدة: أخبرنا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "انهكوا الشوارب، وأعفوا اللحى."
    ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مونچھوں کو پست کرو، داڑھیوں کو معاف رکھو۔ (بخاری ، کتاب اللباس، حدیث 5554)
    http://www.mubashirnazir.org/QA/000300/Q0264-Beard.htm)

    داڑھی ہمارے نبئ کریم کی سنت، داڑھی ہمارے صحابہ کی سنت اور داڑھی رکھنے کے لیۓ ایک مسلمان کے لیۓ یہی کافی ہے کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ کا حکم ہے اور بس۔ ہمارا کمزور ایمان اسے اپنے چہروں پر نہ سجانے کے لیۓ بہت سے باطل دلائل کا سہارا لیتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ یہ سوچنے سے پہلے اس بات پر غور کرلو کہ اگر نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے چہرے کو نصاری اور یہود کی طرح بغیر داڑھی کے دیکھ لیں گے تو انہیں کتنا افسوس ہوگا۔
    داڑھی سے اپنے چہرے کو مزین کرنے کے بعد مجھے دو طرح کے رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ دوستوں نے مبارک باد دی اور کہا کہ داڑھی تمہارے چہرے پر بہت سج رہی ہے ۔ چند ایک نے اس پر کچھ اچھے ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ میرے آفس کے ساتھ ہی ایک اور کمپنی کا آفس ہے اس میں کام کرنے والے اردنی نے کہا کہ یہ کیا تم نے داڑھی رکھ لی کیا مولوی بن گۓ ہو؟۔ اور کچھ عرصے کے بعد اسی شخص نے مجھے روک کر اپنی بات کی معافی مانگي اور کہا کہ یہ داڑھی تمہارے چہرے پر بہت اچھی لگ رہی ہے۔
    تو دوستو یہ تھی میرے داڑھی کو معاف کرنے اور اسے اپنے چہرے پر سجانے کی مختصر روداد۔
    اگر دیگر مجلسی بھائیوں کے پاس اس سلسلے میں مشاہدات و تجربات ہوں تو وہ بھی قارئین کی دلچسپی کے یہاں شئر کریں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  2. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,614
    جزاک اللہ خیرا، بابر بھائی. اللہ آپ کو سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر پابند رھنے کی توفیق دے. آمین
    میرے لیے بھی ذوالحجہ کا مہینہ بہت اہم ہے. پچھلے سال اللہ سے اس سلسلہ میں بہت دعائیں مانگی. اچانک کلین شیو سے داڑھی سے چہرے کو سجانا ، بہت سے وسوسے ذہن میں آتے رھے. اللہ نے اسی مہینے میں اپنے اس پر عمل کرنے کی توفیق بھی دے دی. الحمداللہ.
    جب چالیس دن بعد بچوں سے ملاقات ہوئی تو چھوٹی بیٹی نے پہچاننے سے ہی انکار کر دیا. ابتسامہ
    اب اللہ سے دعا ہے کہ میرا یہ عمل مکمل سنت کے مطابق ہو جائے. آمین کیونکہ ابھی اس میں مجھ سے کوتاہیاں ہو رہی ہیں.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ماشاءاللہ آپ دونوں بہن بھائی (میرے ) بہت اچھا لکھ رہے ہیں ۔
    ہمیں اجازت نہیں ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    سسٹر کیوں نہیں آپ کو اجازت کی ضرورت ہی نہیں۔ بلکہ ہم منتظر ہیں آپ کے مفید و معلوماتی کمنٹس کے۔

    میرے مندرجہ بالا سطر لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ بھائ اپنے تجربات بیان کریں جنہوں نے شروع ہی سے یا میری طرح بعد مین داڑھی کی سنت چہرے پر سجائ ہو۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بس اتنا کہنا تھا کہ حدیث میں جوانی کی عبادت کا درجہ زیادہ بتا یا گیا ہے ۔ میرے مشاہدے کے مطابق بڑی عمر میں شریعت کی پابندی کرنا نسبتا آسان ہو جاتا ہے ۔ تب انسان بہت حد تک خود مختار ہوتا ہے ، مستحکم زندگی ہوتی ہے زیادہ سے زیادہ شریک حیات کی مخالفت موثر ہو سکتی ہے یا معاشی مسائل کا خوف ہوتا ہے ۔
    کم عمری میں ظاہر کو بدلنا مشکل کام ہے ۔شاید اسی لیے اس کا اجر بھی زیادہ ہے ۔میرے مشاہدے میں ایسے بہت سے کم عمر لوگ آئے ہیں جنہوں نے نیکی کی جانب قدم اٹھایا لیکن ان کے بڑوں نے ان کی حوصلہ شکنی کی ۔ یا ان کے ہم عمروں نے ان کی نیکی ہی کو عیب اور طعنہ بنا کر اچھالنا شروع کر دیا ۔ کسی کی بات کیا کروں آج کل میرا اپنا دل پکے پھوڑے کی مانند دکھ رہا ہے ۔ انسان خواہ کتنا سوچے کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے لیکن
    دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں؟
    اپنے معاشرے کا دوہرا معیار دیکھ کر میں اکثر سوچتی ہوں کہ ہم مسلمان ہونے کا دعوی تو بہت کرتے ہیں ، اسلام کا پرچم واشنگٹن میں لہراتا دیکھنے کی خواہش کرتے ہیں لیکن کسی کم سن لڑکے کو داڑھی بڑھانے پر ، مسجد جانے پر یا کم عمر لڑکی کو پردہ کرنے پر طعنے کیوں دیتے ہیں؟ ہمارے یہاں ایسے فصیح و بلیغ عیب جو موجود ہیں جو نیکی اور لیاقت کو طعنہ اور عیب بنا دیتے ہیں ۔ یوں لگتا ہے شیطان اپنے ساتھیوں کو زیادہ پرکشش نعرے وحی کرتا ہے ۔ شیطان کے حامی اپنے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی بھی زیادہ کرتے ہیں ۔ ہمارے نام نہاد دین دار لوگ بس جزاک اللہ سبحان اللہ کی لپ سروس کے قائل ہیں ۔ کوئی علم پر سر دھننے کی بجائے عمل کرنا چاہے تو کہتے ہیں اعتدال اچھا ہوتا ہے ۔ یہ عمومی مشاہدات ہیں ۔ خدا کرے کہ ان گنہگار آنکھوں کو مرنے سے پہلے رویوں کا کوئی انقلاب دیکھنا نصیب ہو ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    جزاک اللہ خیرا
    بہت ہی بہترین موضوع ہے۔
    ہر انسان میں خوبی اور خامی ہوتی ہے داڑھی والا بھی بہرحال انسان ہوتا ہے۔
    اگر کوئی داڑھی رکھ کر برا عمل کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر داڑھی والا ایساہوتا ہے۔ کیا ہم اس وجہ سے نماز، حج یا روزہ چھوڑ سکتے ہیں کہ فلاں تو نمازی بھی ہے اور لوگوں کے حقوق بھی کھاتا ہے۔ ہرگز نہیں! بالکل اسی طرح داڑھی رکھ کر انسان تمام انبیاء علیھم السلام کی سنت پر عمل کرتا ہے۔
    ایک سوچنے کی بات یہ ہے کہ داڑھی کو ان اعمال میں شمار کیا گیا ہے جو فطرت پر مبنی ہے۔ یہ بالکل حقیقت ہے۔ جو انسان داڑھی رکھتا ہے وہ شیو اور بلیڈ کے چکر میں گھنٹہ باتھ روم میں نہیں‌لگاتا بس مونچھوں کو تھوڑی سی قینچی یا مشین لگا کر دو منٹ میں میں سکون میں ہوجاتا ہے جبکہ داڑھی کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کا حشر ہم خود دیکھتے ہیں کہ شیو بڑھنے کے بعد وہ لوگ بلیڈ مارنے کیلئے بے تاب ہوتے ہیں۔
    اس کے علاوہ کتنے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے داڑھیاں رکھیں تو چہرہ ان کا اور خوبصورت ہوگیا۔
    اللہ تعالی ہمیں اس سنت پر مرتے دم تک قائم رکھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 1
  7. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    سسٹر بات دراصل اس قسم کا ماحول میسر آنے کی ہے۔ جس قسم کا ماحول آپ کو کم عمری میں میسر آۓ گآ آپ کی شخصیت اسی ماحول کے سانچے میں ڈھل جاۓ گي۔ الحمد للہ مجھے اپنی شریک حیات کی جانب سے کسی مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ میں نے اپنی فیملی میں ایسی مثال بھی دیکھی کہ صاحب خانہ نے جب داڑھی رکھی تو اس کے گھر والوں کی جانب سے کہہ دیا گیا کہ آپ ہمیں ٹی وی وغیرہ دیکھنے نے منع نہیں کریں گے۔ معاشی خوف بھی ایک عنصر ہو سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں عرض کردوں کہ شائد میرے دل کے ایک کونے میں یہ خوف بھی چھپا ہوا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جتنا معاشی استحکام مجھے دین کی طرف آکے ملا اس سے پہلے نہیں ملا تھا۔
    بات صبر کے پھل کے میٹھا ہونے کی نہیں ہے۔ صبر کے اجر کی ہے۔ جب دین کی جانب آگۓ تو پھر اس سب کی توقع بھی رکھنی چاہیۓ کیونکہ ہمارا معاشرہ ابھی دین سے کافی دور ہے۔ اور جب اس معاشرے میں اصلاح کی کوشش کا ذکر آۓ گا تو کسی کو تو آگے آنا پڑے گا تو جب اس جانب آگۓ تو کس کی بھی مخالفت کو خاطر میں نہ لایۓ۔ اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہر چیز پر فوقیت رکھتا ہے۔

    بات پھر وہی ہے کہ ہم دین سے دور اور دنیا داری میں پھنسے ہوئے ہیں۔ رویوں کا انقلاب آۓ یا نہ آۓ ہمیں کوششیں جاری رکھنی ہوں گی۔ کامیابی دینا اور دلوں کو پھیرنا تو اللہ تعالی عزوجل کا کام ہے۔ تو پھر سب کچھ اسی پر چھوڑ دیجیۓ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  8. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    اللہ تعالی ہمیں سنت پر پوری ایمانداری کے ساتھ چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ہمیں ہر شیطانی وسوسے سے دور رکھے آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بعض لوگ اس ڈرسے اسے معاف نہیں کرتے کہ انہیں مولو ی کہا جانے لگے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    سبحان اللہ! یہ دراصل ہمارے معاشرے کی عام سوچ ہے۔ مولوی ہونا گویا کہ کوئ عیب ٹھرا ۔ ویسے تو ہم حب رسول کا بہت دم بھرتے ہیں لیکن سنت رسول کے مطابق داڑھی رکھتے وقت ہمارا دم نکل جاتا ہے۔
    اگر حب نبوی صرف دعوں تک نہ ہو بلکہ اس کا مظاہرہ ہم اپنی عملی زندگی میں بھی کرنا شروع ہوجائیں تو ہر پھر مسلمان ہی مولوی بن جاۓ گا ۔
     
    • متفق متفق x 1
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    اسلامی انقلابی تحریکوں والے بھی خلافت قائم کرنے کے نعرے ضرور لگاتے ہیں لیکن داڑھی چھوٹی ہی رکھتے ہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,920
    داڑھی کے بارے میں ایک بزرگ کے حوالے سے ایک لطیف واقعہ سننے میں آیا۔ چونکہ اصلا یہ مکالمہ کسی اور زبان میں ظہور پذیر ہوا لہذا اردو ترجمہ سے اس کی لطافت محسوس نہیں کی جاسکتی۔۔۔ بہرحال۔۔
    کہتے ہیں کسی شخص نے داڑھی منڈوا لی لیکن شرمندگی کے مارے منہ پر کپڑا لپیٹ کر پھر رہا تھا۔ بزرگ نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا سنت نبوی سے اعراض برتنے کی گستاخی ہوئی ہے۔ جوابا وہ بولے: تو بیٹا اس کے بجائے منہ پر 'توا' ہی مل لینا تھا!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  13. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بہت اعلی، اور کیا نستعلیق ترجمہ کیا آپ نے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  14. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    اس ہفتے میں نے اپنے طلبہ و طالبات کی حجاب نہ کرنے اور ڈاڑھی نہ رکھنے پر براہ راست خبر لی۔ اس سے پہلے گھما پھرا کر خبر لیتی تھی۔ ایک طالب علم بہت ذہین ہے لیکن حلیہ بدلنے میں سست ہے۔ کہنے لگا کہ آج لیکچر میرے بارے میں تھا۔ میں نے کہا قرآن اور حدیث ہمارے بارے میں ہیں۔ بھاگ کر کہاں جائیں گے۔ عمل نہیں کریں گے تو ہر جملہ پکڑے گا، ہر آیت اپنے خلاف لگے گی۔
     
    • متفق متفق x 3

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں